🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-08-1443 ᴴ | 05-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-08-1443 ᴴ | 06-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
imam Aazam Abu Hanifa
فہرستِ کتب 📚 مع لِنکس ↶
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
اماماعظم ابوحنیفہ رضیاللہعنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32136
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32137
مسند امام اعـظم 📚¹⁵
✍ امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31984
فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
✍حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31896
کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
✍حضرت اماماعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31917
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
کے حوالےسے تقریباً 60 آنلائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ
https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1
آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت
فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/25485
فہرستِ کتب 📚 مع لِنکس ↶
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
اماماعظم ابوحنیفہ رضیاللہعنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32136
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/32137
مسند امام اعـظم 📚¹⁵
✍ امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31984
فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
✍حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31896
کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
✍حضرت اماماعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/31917
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
کے حوالےسے تقریباً 60 آنلائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ
https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1
آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت
فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ٹیلی گرام پر سرچ کرنے کا طريقہ
https://t.me/Al_Ashhar_Academy_Urdu/25485
❤2
Forwarded from چینل صدائے حق
*یاد رہے! مجتہد ابوحنیفہ نعمان دو ہیں ایک ہمارے امام اور ایک شیعہ*
یہ پوسٹ اس لیے لکھا تاکہ سنی شیعہ میں امتیاز رہے اور ہم نامی کے مغالطے سے آپ بچے ہیں
*اچھا لگے تو دعا دیں*
کچھ ایسی گندی عبارتیں ہیں جسے غیر مقلدین اور شیعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ عبارتیں شیعہ عالم ابوحنیفہ نعمان کی ہیں
ایک مسئلہ ہے '' لف حریر ''
*سوال''* اگر کوئی شخص اپنے ذکر کو ریشمی رومال یا اس کے مثل کسی اور چیز سے لپیٹ لے کہ جس وجہ سے مرد عورت کی شرمگاہ میں بوقت جماع مَس نہ پایا جائے اور اسی طرح عورت کی شرمگاہ کشادہ ہونے یا مرد کا ذکر بہت باریک ہونے کی صورت میں مَس نہ پایا جائے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں؟
*جواب''* غسل کا لازم ہونا مضبوط دکھائی دیتا ہے اور ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ محارم کے ساتھ ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ہے
📚 حوالہ ذخیرۃ المعاد
ذخیرۃ المعاد کی مذکورہ عبارت پر محشی نے لکھا کہ یہ اہلسنت کے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے فرمایا
*سنی امام ابوحنیفہ نعمان اور شیعہ ابوحنیفہ نعمان کا تعارف*
ہمارے امام یعنی امام اعظم رضی اللہ عنہ کا نام
نعمان بن ثابت بن زوطی ہیں جو انتہائی معروف ہیں آپ 80 ہجری میں پیدا ہوئے اور 150 ھجری میں وصال فرمایا
*شیعہ ابوحنیفہ نعمان*
کے بارے میں شیعہ کی مشہور کتاب مجالس المومنین جلد اول ص 538 اور الکنی الالقاب اول ص 57 میں ہے کہ
تاریخ ابن خلکان اور ابن کثیر شامی میں تحریر ہے کہ اس ابوحنیفہ شیعی یہ مشہور معروف آدمی تھا علم فقہ اور دین و بزرگی میں اس مقام پر فائز تھا کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں ہو سکتا در اصل یہ شیعی ابوحنیفہ مالکی المذہب تھا اور پھر مذہب امامیہ کی طرف منتقل ہوگیا اس کی بہت سی تصانیف ہیں مثلاً '' کتاب اختلاف' اصول المذاہب' کتاب اختیار در فقہ '' کتاب الدعوۃ العبیدین' اس کا نام نعمان بن محمد القاضی تھا اہلبیت کے مناقب میں ہزاروں صفحات لکھے اس کی کچھ تصنیفات میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل اور امام شافعی و مالکی وغیرہ کا رد بلیغ ہے
اسکی تصنیف میں اختلاف الفقہاء نامی کتاب ہے جس میں اس نے اہلبیت کے مذہب کی پر زور حمایت کی ہے
شیعہ کی دوسری کتاب اعیان الشیعہ جلد اول ص 44 مطبوعہ مصر میں ہے کہ ابوحنیفہ بن محمد مصری فاطمی عقیدہ والوں کا قاضی تھا ابن خلکان نے کہا یہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر اسے چھوڑ مزہب امامیہ میں آگیا اس کی کتاب'' الاخبار '' اور دوسری کتاب '' الاقتصاد '' فقہ کے موضوع پر ہیں '' وحائم الاسلام '' نامی کتاب اس یعنی (ابوحنیفہ نعمان شیعہ) نے فن حدیث پر لکھی ہے
*تو یاد رکھیں*
1)ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی کوفی ہیں جبکہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان مصری ہے
2) یہ فاطمی مسلک کے لوگوں کا قاضی تھا جبکہ ہمارے ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے عہدہ قضا قبول ہی نہیں کیا
3) یہ شیعہ ابوحنیفہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر امامی ہو گیا جبکہ میرے ابوحنیفہ نعمان رضی اللہ عنہ خود ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہوئے
4) اس نے مذہب امامیہ کی تائید اور امام اعظم کوفی دیگر ائمہ کی تردید کی
5) یہ فاطمی خلیفہ معز الدین کے ساتھ مصر آیا اور 363ھ میں فوت ہوا جبکہ میرے امام نہ خلیفہ کے ساتھ مصر آئے اور نہ ہی ان کا وصال اس سن میں ہوا بلکہ اس سے پہلے وصال کر گیے
6) یہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان بن محمد مصری ہے جبکہ میرے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی مصری نہیں کوفی ہیں
تو وہ عبارت جسے شیعہ مکار نے امام اعظم ابوحنیفہ جو حنفیوں کے امام ہیں کی طرف منسوب کیا درحقیقت وہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان کی عبارت ہے
جس کے رو سے ثابت ہوا کہ شیعہ اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ اگر ریشمی کپڑا لپیٹ کر ہمبستری کریں تو وہ جائز ہے
بحوالہ '' میزان الکتب محقق اسلام علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ پاکستان
*جیو اور جینے دو*
نوٹ *خبر دار مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا تو عوام کی عدالت میں سخت سزا خدا کی بارگاہ میں عذاب کے مستحق ہوں گے*
📝 *حسن نوری گونڈوی*
+918485880123
خطیب و امام نورانی مسجد بیگم کالونی اجین ایم پی
یہ پوسٹ اس لیے لکھا تاکہ سنی شیعہ میں امتیاز رہے اور ہم نامی کے مغالطے سے آپ بچے ہیں
*اچھا لگے تو دعا دیں*
کچھ ایسی گندی عبارتیں ہیں جسے غیر مقلدین اور شیعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ وہ عبارتیں شیعہ عالم ابوحنیفہ نعمان کی ہیں
ایک مسئلہ ہے '' لف حریر ''
*سوال''* اگر کوئی شخص اپنے ذکر کو ریشمی رومال یا اس کے مثل کسی اور چیز سے لپیٹ لے کہ جس وجہ سے مرد عورت کی شرمگاہ میں بوقت جماع مَس نہ پایا جائے اور اسی طرح عورت کی شرمگاہ کشادہ ہونے یا مرد کا ذکر بہت باریک ہونے کی صورت میں مَس نہ پایا جائے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں؟
*جواب''* غسل کا لازم ہونا مضبوط دکھائی دیتا ہے اور ابوحنیفہ سے منقول ہے کہ محارم کے ساتھ ریشم لپیٹ کر جماع کرنا جائز ہے
📚 حوالہ ذخیرۃ المعاد
ذخیرۃ المعاد کی مذکورہ عبارت پر محشی نے لکھا کہ یہ اہلسنت کے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے فرمایا
*سنی امام ابوحنیفہ نعمان اور شیعہ ابوحنیفہ نعمان کا تعارف*
ہمارے امام یعنی امام اعظم رضی اللہ عنہ کا نام
نعمان بن ثابت بن زوطی ہیں جو انتہائی معروف ہیں آپ 80 ہجری میں پیدا ہوئے اور 150 ھجری میں وصال فرمایا
*شیعہ ابوحنیفہ نعمان*
کے بارے میں شیعہ کی مشہور کتاب مجالس المومنین جلد اول ص 538 اور الکنی الالقاب اول ص 57 میں ہے کہ
تاریخ ابن خلکان اور ابن کثیر شامی میں تحریر ہے کہ اس ابوحنیفہ شیعی یہ مشہور معروف آدمی تھا علم فقہ اور دین و بزرگی میں اس مقام پر فائز تھا کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں ہو سکتا در اصل یہ شیعی ابوحنیفہ مالکی المذہب تھا اور پھر مذہب امامیہ کی طرف منتقل ہوگیا اس کی بہت سی تصانیف ہیں مثلاً '' کتاب اختلاف' اصول المذاہب' کتاب اختیار در فقہ '' کتاب الدعوۃ العبیدین' اس کا نام نعمان بن محمد القاضی تھا اہلبیت کے مناقب میں ہزاروں صفحات لکھے اس کی کچھ تصنیفات میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل اور امام شافعی و مالکی وغیرہ کا رد بلیغ ہے
اسکی تصنیف میں اختلاف الفقہاء نامی کتاب ہے جس میں اس نے اہلبیت کے مذہب کی پر زور حمایت کی ہے
شیعہ کی دوسری کتاب اعیان الشیعہ جلد اول ص 44 مطبوعہ مصر میں ہے کہ ابوحنیفہ بن محمد مصری فاطمی عقیدہ والوں کا قاضی تھا ابن خلکان نے کہا یہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر اسے چھوڑ مزہب امامیہ میں آگیا اس کی کتاب'' الاخبار '' اور دوسری کتاب '' الاقتصاد '' فقہ کے موضوع پر ہیں '' وحائم الاسلام '' نامی کتاب اس یعنی (ابوحنیفہ نعمان شیعہ) نے فن حدیث پر لکھی ہے
*تو یاد رکھیں*
1)ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی کوفی ہیں جبکہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان مصری ہے
2) یہ فاطمی مسلک کے لوگوں کا قاضی تھا جبکہ ہمارے ابوحنیفہ نعمان بن ثابت نے عہدہ قضا قبول ہی نہیں کیا
3) یہ شیعہ ابوحنیفہ پہلے مالکی المذہب تھا پھر امامی ہو گیا جبکہ میرے ابوحنیفہ نعمان رضی اللہ عنہ خود ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہوئے
4) اس نے مذہب امامیہ کی تائید اور امام اعظم کوفی دیگر ائمہ کی تردید کی
5) یہ فاطمی خلیفہ معز الدین کے ساتھ مصر آیا اور 363ھ میں فوت ہوا جبکہ میرے امام نہ خلیفہ کے ساتھ مصر آئے اور نہ ہی ان کا وصال اس سن میں ہوا بلکہ اس سے پہلے وصال کر گیے
6) یہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان بن محمد مصری ہے جبکہ میرے امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت بن زوطی مصری نہیں کوفی ہیں
تو وہ عبارت جسے شیعہ مکار نے امام اعظم ابوحنیفہ جو حنفیوں کے امام ہیں کی طرف منسوب کیا درحقیقت وہ شیعہ ابوحنیفہ نعمان کی عبارت ہے
جس کے رو سے ثابت ہوا کہ شیعہ اپنی ماں بہن بیٹی کے ساتھ اگر ریشمی کپڑا لپیٹ کر ہمبستری کریں تو وہ جائز ہے
بحوالہ '' میزان الکتب محقق اسلام علامہ محمد علی نقشبندی علیہ الرحمہ پاکستان
*جیو اور جینے دو*
نوٹ *خبر دار مضمون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا تو عوام کی عدالت میں سخت سزا خدا کی بارگاہ میں عذاب کے مستحق ہوں گے*
📝 *حسن نوری گونڈوی*
+918485880123
خطیب و امام نورانی مسجد بیگم کالونی اجین ایم پی
❤2
Forwarded from چینل صدائے حق
پوری دنیا میں سب سے زیادہ مشہور مذہب سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا ہے
اسی طرح پوری دنیا سب سے زیادہ مشہور قرات
سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کا ہے
اور روایت
سیدنا امام حفص رضی اللہ عنہ کی
اور طرق
سیدنا امام شاطبی رضی اللہ عنہ کی
اور اسی طرح ساری دنیا میں سب سے زیادہ ماتریدی ہیں یعنی پَیرو
سیدنا امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہ
اور ان حضرات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ملاحظہ فرمائیں
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے قرات سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ سے سیکھی
اور امام حفص رضی اللہ عنہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے ساتھ تجارت کیا کرتے تھے اور سیدنا امام ماتریدی حنفی المذہب ہیں
تو جان لیں کہ ہم مذہبا حنفی ہیں
مسلکا ماتریدی
اور قرات امام عاصم بروایت حفص بطریق امام شاطبی کرتے ہیں
📝 حسن نوری گونڈوی
8485880123
اسی طرح پوری دنیا سب سے زیادہ مشہور قرات
سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کا ہے
اور روایت
سیدنا امام حفص رضی اللہ عنہ کی
اور طرق
سیدنا امام شاطبی رضی اللہ عنہ کی
اور اسی طرح ساری دنیا میں سب سے زیادہ ماتریدی ہیں یعنی پَیرو
سیدنا امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہ
اور ان حضرات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ملاحظہ فرمائیں
سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے قرات سیدنا امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ سے سیکھی
اور امام حفص رضی اللہ عنہ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ کے ساتھ تجارت کیا کرتے تھے اور سیدنا امام ماتریدی حنفی المذہب ہیں
تو جان لیں کہ ہم مذہبا حنفی ہیں
مسلکا ماتریدی
اور قرات امام عاصم بروایت حفص بطریق امام شاطبی کرتے ہیں
📝 حسن نوری گونڈوی
8485880123
❤3
#فیضان_حضرت_امام_اعظم ❹
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ چہارم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304765965092783/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : 96 ہجری کو 16 سال کی عمر میں والد گرامی (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حج کیا ، اس دوران میں نے ایک شیخ کو دیکھا جن کے ارد گرد لو گ جمع تھے ، میں نے والدِ محترم سے عرض کی : یہ ہستی کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے عرض کی : ان کے پاس کون سی چیز ہے ؟ فرمایا : ان کے پاس نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہوئی احادیثِ مبارکہ ہیں ۔ یہ سُن کر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور صحابی رسول سے براہِ راست ایک حدیث پاک سننے کا شرف حاصل کیا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ ، صفحہ 18)
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری و باطنی حسن وجمال سے نوازا تھا ۔ آپ کا قَد دَرمیانہ اور چہرہ نہایت حسین تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ عمدہ لباس اور جوتے استعمال فرماتے ، کثرت سے خوشبو استعمال فرماتے اور یہی خوشبو آپ کی تشریف آوری کا پتہ دیتی ۔ آپ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے کلمات پھول کی پتیوں سے زیادہ نرم ہوتے اورلفظوں کی مٹھاس کانوں میں رَس گھول دیتی ، آپ کو کبھی غیبت کرتے نہیں سنا گیا ۔
ایک مرتبہ حضرت ابن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے حَضْرت سُفْیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ علیہ سے آپ کے اِس وصف کا تذکرہ یوں کیا : امامِ اعظم ابُوحنیفہ رضی اللہ عنہ غیبت سے اتنے دُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دُشْمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سُنا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ ننبر 42،چشتی)
آپ رضی اللہ عنہ رضائے الٰہی کو ہر شئی پر ترجیح دیتے ۔ (تہذیب الاسماء، 2/503، 506)(اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص42)
آپ رضی اللہ عنہ علما و مشائخ کی اعانت پر زرِّ کثیر خرچ فرماتے ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ 42)
آپ رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر شاگرد امام ابوىوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : امام اعظم رضی اللہ عنہ 20 سال تک میری اور میرے اہل و عیال کى کفالت فرماتے رہے ۔ (الخیرات الحسان ، صفحہ 57،چشتی)
آپ کسى کو کچھ عطا فرماتے اور وہ اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتا تو اس سے فرماتے : اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرو کیونکہ یہ رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا ہے ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ زہد و تقویٰ کے جامع ، والدہ کے فرمانبردار ، امانت و دیانت میں یکتا ، پڑوسیوں سےحسنِ سلوک میں بے مثال تھے ، بے نظیر سخاوت اورمسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی جیسے کئی اوصاف نے آپ کی ذات کو نمایاں کر دیا تھا ۔ (اخبار الامام اعظم ابی حنیفہ صفحہ 41 تا 49 ، 63)(تبییض الصحیفۃ صفحہ 131)
آپ رضی اللہ عنہ کے حسنِ اخلاق سے متعلق حَضْرت بُکَیْر بن مَعْرُوْف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نےاُمَّتِ مصطفےٰ میں امام ابُو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ حُسْنِ اَخْلاق والا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 56،چشت)
حضرت شفیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چُھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پُکارا ، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نے راستہ کیوں بدل دیا ؟ اور کیوں چھپ گئے ؟ اس نے عرض کی : میں آپ کا مقروض ہوں ، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں ، آپ سے شرماتا ہوں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے ، جاؤ ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
عبادت و ریاضت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ دن بھر علمِ دین کی اِشاعت ، ساری رات عبادت و رِیاضت میں بَسر فرماتے ۔ آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے ، تیس سال تک ایک رَکعَت میں قراٰنِ پاک خَتْم کرتے رہے ، چالیس سال تک عِشا کے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی ، ہر دن اور رات میں قراٰن پاک ختم فرماتے ، رمضان المبارک میں 62 قراٰن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک خَتْم کیے ۔(الخیرات الحسان صفحہ 50)
آپ نے 1500 درہم خرچ کرکے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھا جسے آپ روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور اس کی حکمت یہ ارشاد فرماتے : اللہ تعایٰ کےلیے زِینت اختیار کرنا ، لوگوں کےلیے زِینت اختیار کرنے سے بہتر ہے ۔ (تفسیرروح البیان ،3/154)
رات میں ادا کی جانے والی اِن نمازوں میں خوب اشک باری فرماتے ، اس گریہ و زاری کا اثر آپ رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارکہ پر واضح نظر آتا ۔ (اخبارا بی حنیفۃ و اصحابہ صفحہ 47)(الخیرات الحسان صفحہ 54)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ چہارم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304765965092783/
محترم قارئینِ کرام : امام اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : 96 ہجری کو 16 سال کی عمر میں والد گرامی (حضرت ثابت رضی اللہ عنہ) کے ساتھ حج کیا ، اس دوران میں نے ایک شیخ کو دیکھا جن کے ارد گرد لو گ جمع تھے ، میں نے والدِ محترم سے عرض کی : یہ ہستی کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے عرض کی : ان کے پاس کون سی چیز ہے ؟ فرمایا : ان کے پاس نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہوئی احادیثِ مبارکہ ہیں ۔ یہ سُن کر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور صحابی رسول سے براہِ راست ایک حدیث پاک سننے کا شرف حاصل کیا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ ، صفحہ 18)
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ظاہری و باطنی حسن وجمال سے نوازا تھا ۔ آپ کا قَد دَرمیانہ اور چہرہ نہایت حسین تھا ۔ آپ رضی اللہ عنہ عمدہ لباس اور جوتے استعمال فرماتے ، کثرت سے خوشبو استعمال فرماتے اور یہی خوشبو آپ کی تشریف آوری کا پتہ دیتی ۔ آپ کی زبانِ مبارک سے ادا ہونے والے کلمات پھول کی پتیوں سے زیادہ نرم ہوتے اورلفظوں کی مٹھاس کانوں میں رَس گھول دیتی ، آپ کو کبھی غیبت کرتے نہیں سنا گیا ۔
ایک مرتبہ حضرت ابن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے حَضْرت سُفْیان ثوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ علیہ سے آپ کے اِس وصف کا تذکرہ یوں کیا : امامِ اعظم ابُوحنیفہ رضی اللہ عنہ غیبت سے اتنے دُور رہتے ہیں کہ میں نے کبھی ان کو دُشْمن کی غیبت کرتے ہوئے بھی نہیں سُنا ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ ننبر 42،چشتی)
آپ رضی اللہ عنہ رضائے الٰہی کو ہر شئی پر ترجیح دیتے ۔ (تہذیب الاسماء، 2/503، 506)(اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ، ص42)
آپ رضی اللہ عنہ علما و مشائخ کی اعانت پر زرِّ کثیر خرچ فرماتے ۔ (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ صفحہ 42)
آپ رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر شاگرد امام ابوىوسف رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : امام اعظم رضی اللہ عنہ 20 سال تک میری اور میرے اہل و عیال کى کفالت فرماتے رہے ۔ (الخیرات الحسان ، صفحہ 57،چشتی)
آپ کسى کو کچھ عطا فرماتے اور وہ اس پر آپ کا شکریہ ادا کرتا تو اس سے فرماتے : اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرو کیونکہ یہ رزق اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا ہے ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
امامِ اعظم رضی اللہ عنہ زہد و تقویٰ کے جامع ، والدہ کے فرمانبردار ، امانت و دیانت میں یکتا ، پڑوسیوں سےحسنِ سلوک میں بے مثال تھے ، بے نظیر سخاوت اورمسلمانوں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی جیسے کئی اوصاف نے آپ کی ذات کو نمایاں کر دیا تھا ۔ (اخبار الامام اعظم ابی حنیفہ صفحہ 41 تا 49 ، 63)(تبییض الصحیفۃ صفحہ 131)
آپ رضی اللہ عنہ کے حسنِ اخلاق سے متعلق حَضْرت بُکَیْر بن مَعْرُوْف رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نےاُمَّتِ مصطفےٰ میں امام ابُو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ حُسْنِ اَخْلاق والا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 56،چشت)
حضرت شفیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چُھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پُکارا ، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نے راستہ کیوں بدل دیا ؟ اور کیوں چھپ گئے ؟ اس نے عرض کی : میں آپ کا مقروض ہوں ، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں ، آپ سے شرماتا ہوں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے ، جاؤ ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 57)
عبادت و ریاضت امامِ اعظم رضی اللہ عنہ دن بھر علمِ دین کی اِشاعت ، ساری رات عبادت و رِیاضت میں بَسر فرماتے ۔ آپ نے مسلسل تیس سال روزے رکھے ، تیس سال تک ایک رَکعَت میں قراٰنِ پاک خَتْم کرتے رہے ، چالیس سال تک عِشا کے وُضُو سے فجر کی نَماز ادا کی ، ہر دن اور رات میں قراٰن پاک ختم فرماتے ، رمضان المبارک میں 62 قراٰن ختم فرماتے اور جس مقام پر آپ کی وفات ہوئی اُس مقام پر آپ نے سات ہزاربار قراٰنِ پاک خَتْم کیے ۔(الخیرات الحسان صفحہ 50)
آپ نے 1500 درہم خرچ کرکے ایک قیمتی لباس سلوا رکھا تھا جسے آپ روزانہ رات کے وقت زیبِ تن فرماتے اور اس کی حکمت یہ ارشاد فرماتے : اللہ تعایٰ کےلیے زِینت اختیار کرنا ، لوگوں کےلیے زِینت اختیار کرنے سے بہتر ہے ۔ (تفسیرروح البیان ،3/154)
رات میں ادا کی جانے والی اِن نمازوں میں خوب اشک باری فرماتے ، اس گریہ و زاری کا اثر آپ رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارکہ پر واضح نظر آتا ۔ (اخبارا بی حنیفۃ و اصحابہ صفحہ 47)(الخیرات الحسان صفحہ 54)
❤1
آپ نے حُصُولِ رزقِ حلَال کےلیے تجارت کا پیشہ اختیار فرمایا اور لوگوں سے بھلائی اور شَرعی اُصُولوں کی پاسداری کا عملی مظاہرہ کر کے قیامت تک کے تاجروں کےلیے ایک روشن مثال قائم فرمائی ۔ (تاریخ بغداد، 13/356)
علمِ فقہ کی تدوین ، ابوابِِ فقہ کی ترتیب اور دنیا بھر میں فقہ حنفی کی پذیرائی آپ کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے ۔ (الخیرات الحسان صحہ 43)
وصال ومدفن 150 ہجری کو عہدۂ قضا قبول نہ کرنے کی پاداش میں آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ آپ کے جنازے میں تقریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی ۔
لاکھوں شافعیوں کے امام حضرت سیّدنا امام شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے بغداد میں قیام کے دوران ایک معمول کا ذکر یوں فرمایا : میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے برکت حاصِل کرتا ہوں ، جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رَکعَت پڑھ کر ان کی قَبْرِمبارک کے پاس آتا ہوں اور اُس کے پاس اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے ۔ آج بھی بغداد شریف میں آپ کا مزارِ فائضُالاَنْوار مَرجَعِ خَلائِق ہے ۔(مناقب الامام الاعظم 2/216)(سیراعلام النبلاء، 6/537)(اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ صدحہ نمبر 94،چشتی)(الخیرات الحسان صفحہ 94)
اسلامی معاشرہ میں تصوف روز اول سے مو جود ہے اور ان شا ء اللہ رہتی دنیا تک پوری آب و تاب کے ساتھ مطلع حیات پر جگمگا تا رہے گا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ تصوف اسلام کی خالص ترین اور پاکیزہ ترین تعبیر ہے سچا تصوف انسان کو حقیقت کا راستہ دکھا تاہے اللہ ورسول کے راستے کا علم عطا کرتا ہے،صوفیا کا تعلق اسلام کے دور اول سے ہی ہے، اسی سلسلے میں سید الطا ئفہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان ہے کہ:’’ ہمارے طریقے کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے اور ہر وہ طریق جو کتاب و سنت کے خلاف ہو باطل اور مردود ہے۔ ‘‘ آپ کا یہ بھی فرمان ہے’’جس شخص نے حد یث نہیں سنی اور فقہا کے پاس نہیں بیٹھا اور با ادب حضرا ت سے ادب نہیں سیکھا وہ اپنے پیروں کاروں کو بگاڑ دیگا۔ ‘‘ جب تک انسان علم سے آشنا نہیں ہو گا تواللہ و رسول کے احکام کی پیر وی کیسے کرے گا اور اسلامی زندگی کے آداب کو کیسے جا نے گا اسی لئے رب تبا رک وتعالیٰ کا فر مان عالیشان ہے۔ فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ ا لذِّ کْرِاِ نْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوُنَ(القرآن،سورہ نحل ۱۶، آیت۴۳) تر جمہ: تو اے لو گو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں ۔ (کنزالا یمان) علم ہی کی بنیاد پرانسان اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اسکی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور دین اسلا م میں اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے، حلال و حرام میں امتیاز برت سکتا ہے۔ اسی لئے قر آن کریم بھی بتا رہا ہیقُلْ ھَلْ یَسْتَوِی ا لَّذِ یْنَ یَعْلَمُوْ نَ وَ الَّذِ یْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (القرآن،سورہ زمر۳۹،آیت۹)تر جمہ: تم فر ما ؤ کیا برابر ہیں جاننے والے(یعنی علم والے) اور انجان(یعنی ان پڑھ)۔ (کنزالایمان) جا ننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے اللہ جسے چا ہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَا للّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَا للّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (القرآن،سورہ بقر۲، آیت۱۰۵)تر جمہ: اور اللہ اپنی ر حمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (کنزالایمان)اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے ہر زمانہ ہر دور میں اللہ اپنے نیک بندوں کو علم وفضل کی د ولت سے نواز کر لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے انھیں نیک بندوں میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں (ابوحنیفہ : رحمتہ اللہ علیہ:۶۹۹۔ ۷۶۷ء۔ ۸۰۔ ۱۵۰ھ) آپ سنی حنفی فقہ اسلامی کے بانی تھے آپ ایک تابعی، عالم دین تھے، مجتہد اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کر نے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔
امام اعظم کے مناقب وبشارت:امام ا عظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے فضا ئل ومناقب میں بڑے بڑے بزر گوں نے کتا بیں لکھیں ہیں مشہور مفسر قرآن( جنکی تفسیر تمام مکاتب فکر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) تفسیر جلالین شریف کے مصنف علامہ جلال الد ین سیوطی (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ)(تبیض الصحیفۃ فی منا قب الا مام ابی حنیفہ،چشتی) میں بہت خوب صورت باتیں لکھی ہیں جوپڑ ھنے سے تعلق رکھتی ہیں اہل علم ضرور پڑھیں ،آپ کانام نعمان بن ثابت زوتا اور کنیت ابو حنیفہ تھی۔ آپ امام اعظم کے لقب سے یاد کئے جا تے ہیں آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مر تبے پر فائز ہیں ۔ اسلامی فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کا پایا بہت بلند ہے، آپ نہایت ذہین، ا نتہائی قوی حافظہ (memory) کے ما لک تھے آپ کا زہدو تقویٰ، فہم وفراست اور حکمت ودانائی بہت مشہور تھی، امام اعظم ابو حنیفہ دن میں علم دین پھیلا تے اور رات میں اللہ کی عبادت کرتے انکی حیات مبارکہ کے لا تعداد گوشے ہیں ، ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں تو دوسری طرف زہدو تقویٰ وطہارت کے پہاڑ
علمِ فقہ کی تدوین ، ابوابِِ فقہ کی ترتیب اور دنیا بھر میں فقہ حنفی کی پذیرائی آپ کی امتیازی خصوصیات میں شامل ہے ۔ (الخیرات الحسان صحہ 43)
وصال ومدفن 150 ہجری کو عہدۂ قضا قبول نہ کرنے کی پاداش میں آپ رضی اللہ عنہ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا ۔ آپ کے جنازے میں تقریباً پچاس ہزار افراد نے شرکت کی ۔
لاکھوں شافعیوں کے امام حضرت سیّدنا امام شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے بغداد میں قیام کے دوران ایک معمول کا ذکر یوں فرمایا : میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے برکت حاصِل کرتا ہوں ، جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو دو رَکعَت پڑھ کر ان کی قَبْرِمبارک کے پاس آتا ہوں اور اُس کے پاس اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتا ہوں تو میری حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے ۔ آج بھی بغداد شریف میں آپ کا مزارِ فائضُالاَنْوار مَرجَعِ خَلائِق ہے ۔(مناقب الامام الاعظم 2/216)(سیراعلام النبلاء، 6/537)(اخبار ابی حنیفۃ و اصحابہ صدحہ نمبر 94،چشتی)(الخیرات الحسان صفحہ 94)
اسلامی معاشرہ میں تصوف روز اول سے مو جود ہے اور ان شا ء اللہ رہتی دنیا تک پوری آب و تاب کے ساتھ مطلع حیات پر جگمگا تا رہے گا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ تصوف اسلام کی خالص ترین اور پاکیزہ ترین تعبیر ہے سچا تصوف انسان کو حقیقت کا راستہ دکھا تاہے اللہ ورسول کے راستے کا علم عطا کرتا ہے،صوفیا کا تعلق اسلام کے دور اول سے ہی ہے، اسی سلسلے میں سید الطا ئفہ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ فرمان ہے کہ:’’ ہمارے طریقے کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے اور ہر وہ طریق جو کتاب و سنت کے خلاف ہو باطل اور مردود ہے۔ ‘‘ آپ کا یہ بھی فرمان ہے’’جس شخص نے حد یث نہیں سنی اور فقہا کے پاس نہیں بیٹھا اور با ادب حضرا ت سے ادب نہیں سیکھا وہ اپنے پیروں کاروں کو بگاڑ دیگا۔ ‘‘ جب تک انسان علم سے آشنا نہیں ہو گا تواللہ و رسول کے احکام کی پیر وی کیسے کرے گا اور اسلامی زندگی کے آداب کو کیسے جا نے گا اسی لئے رب تبا رک وتعالیٰ کا فر مان عالیشان ہے۔ فَسْءَلُوْٓا اَھْلَ ا لذِّ کْرِاِ نْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوُنَ(القرآن،سورہ نحل ۱۶، آیت۴۳) تر جمہ: تو اے لو گو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں ۔ (کنزالا یمان) علم ہی کی بنیاد پرانسان اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اسکی خوشنودی حاصل کر سکتا ہے اور دین اسلا م میں اچھے برے کی تمیز کر سکتا ہے، حلال و حرام میں امتیاز برت سکتا ہے۔ اسی لئے قر آن کریم بھی بتا رہا ہیقُلْ ھَلْ یَسْتَوِی ا لَّذِ یْنَ یَعْلَمُوْ نَ وَ الَّذِ یْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ (القرآن،سورہ زمر۳۹،آیت۹)تر جمہ: تم فر ما ؤ کیا برابر ہیں جاننے والے(یعنی علم والے) اور انجان(یعنی ان پڑھ)۔ (کنزالایمان) جا ننے والا اور نہ جاننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے اللہ جسے چا ہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وَا للّٰہُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآءُ وَا للّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (القرآن،سورہ بقر۲، آیت۱۰۵)تر جمہ: اور اللہ اپنی ر حمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (کنزالایمان)اللہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے ہر زمانہ ہر دور میں اللہ اپنے نیک بندوں کو علم وفضل کی د ولت سے نواز کر لوگوں کی ہدایت کے لیے چن لیتا ہے انھیں نیک بندوں میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں (ابوحنیفہ : رحمتہ اللہ علیہ:۶۹۹۔ ۷۶۷ء۔ ۸۰۔ ۱۵۰ھ) آپ سنی حنفی فقہ اسلامی کے بانی تھے آپ ایک تابعی، عالم دین تھے، مجتہد اور اسلامی قانون کے اولین تدوین کر نے والوں میں شامل تھے۔ آپ کے ماننے والوں کو حنفی کہا جاتا ہے۔
امام اعظم کے مناقب وبشارت:امام ا عظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے فضا ئل ومناقب میں بڑے بڑے بزر گوں نے کتا بیں لکھیں ہیں مشہور مفسر قرآن( جنکی تفسیر تمام مکاتب فکر کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے) تفسیر جلالین شریف کے مصنف علامہ جلال الد ین سیوطی (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ)(تبیض الصحیفۃ فی منا قب الا مام ابی حنیفہ،چشتی) میں بہت خوب صورت باتیں لکھی ہیں جوپڑ ھنے سے تعلق رکھتی ہیں اہل علم ضرور پڑھیں ،آپ کانام نعمان بن ثابت زوتا اور کنیت ابو حنیفہ تھی۔ آپ امام اعظم کے لقب سے یاد کئے جا تے ہیں آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مر تبے پر فائز ہیں ۔ اسلامی فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہ کا پایا بہت بلند ہے، آپ نہایت ذہین، ا نتہائی قوی حافظہ (memory) کے ما لک تھے آپ کا زہدو تقویٰ، فہم وفراست اور حکمت ودانائی بہت مشہور تھی، امام اعظم ابو حنیفہ دن میں علم دین پھیلا تے اور رات میں اللہ کی عبادت کرتے انکی حیات مبارکہ کے لا تعداد گوشے ہیں ، ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں تو دوسری طرف زہدو تقویٰ وطہارت کے پہاڑ
❤1