This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور مجوسی قرض دار🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے اس مجوسی کے گھر کی طرف گئے۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی۔
یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے۔
وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی۔
امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں(دیوار کی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔
*(تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)*
*قرض کی ادائیگی کے لئے دعا:*
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمایئے۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘
یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے۔
*(ترمذی، احادیث شتی،۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور مجوسی قرض دار🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے اس مجوسی کے گھر کی طرف گئے۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی۔
یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے۔
وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی۔
امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں(دیوار کی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔
*(تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)*
*قرض کی ادائیگی کے لئے دعا:*
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمایئے۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘
یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے۔
*(ترمذی، احادیث شتی،۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚امام اعظم افضل ہیں یا غوث اعظم📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کہ بارگاہ میں عرض ہیکہ امام اعظم افضل ہیں یا غوث اعظم ؟
جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔
*سائل: محمد رضا برکاتی نیپـال*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ*
*📝الجواب ⇩*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے سوال ہوا کہ امام اعظم ابو حنیفہ افضل ہیں حضرت غوث اعظم پر یا عکس اس کا ؟ تو جواب میں امام احمد رضا یوں گویا ہوئے کہ " امام عبد الوہاب شعرانی میزان الشریعہ الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ
*" الامام ابو حنیفة رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سئل عن الاسود والعطا وعلقمة ایهم افضل فقال وﷲ ما نحن باهل ان نذکرهم فکیف نفاضل بینهم "*
یعنی ایک روز امام اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا امام علقمہ و امام اسود شاگردان حضرت سیدنا عبد ﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہم میں کون افضل تھا ؟ فرمایا " ہم ان کے ذکر کرنے کے قابل نہیں نہ کہ ان میں ایک کو دوسرے سے افضل بتائیں ۔ حضرت امام رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد تواضعاً تھا اور یہاں قطعاً حقیقت امر ہے، حاشا ﷲ ! ہمارے منہ اس قابل نہیں کہ حضور سیدنا امام اعظم یا حضور سیدنا غوث اعظم رضی ﷲ عنہما کا نام پاک اپنی زبان سے لیں ، یہ بھی رحمت الٰہیہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوبوں کے ذکر کی اجازت دی ہے ، ہم کس منہ سے ان میں تفاصل بیان کریں وہ ہماری شریعت کے امام اور یہ ہماری طریقت کے امام ۔
اور یہاں اسی میزان میں انہیں امام شعرانی کا یہ قول
*" اعتقادنا ان أكابر الصحابة و التابعين و الائمة المجتهدين كان مقامهم اكبر من مقام باقى الأولياء بيقين "*
وارد ہے کہ حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ بلا شبہ واصلان عین الشریعة الکبری کے سرداروں میں سے ہیں اور اس کے واصلوں کو یہی امام شعرانی اسی میزان میں فرماتے ہیں کہ
*" من أشرف على عين الشريعة الاولى يشارك المجتهدين فى الاغتراف من عین الشریعة فانه ما ثم احدحق له قدم الولایة الحمدیة الا و یصیر یاخذ احکام شرعه صلی الله علیه وسلم من حیث اخذھا المجتھدون و ینفك عنه التقلید لجمیع العلماء الا لرسول الله صلی الله تعالیٰ علیه وسلم ثم ان نفد عن احد من الاولیاء انه کان شافعیا او حنفیا مثلاً فذلك قبل ان یصل مقام الکمال "*
یعنی جو عین شریعت کے چشمہ صافی پر پہنچ جاتا ہےتو وہ اس نہر حقیقت سے چلو لینے میں مجتہدین کا شریک و سہیم ہوتا ہے اور جو شخص ولایت محمدیہ کے درجے اعظمی پر فائز ہو جاتا ہے وہ وہیں سے احکام حاصل کرتا ہے جہاں سے ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام علمائے امت کی تقلید سے آزادی ہے اور بعض اولیاء کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ حنفی یا شافعی تھے وغیرہ تو یہ ان حضرات کے مقام کمال تک پہنچنے سے پہلے کی بات ہے ۔
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ محی الدین ہیں احیاء دین کے لئے قائم کئے گئے اور مذہب حنبلی اسلام کا ربع ہے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا جعلتک ربع الاسلام ہم نے تمہیں اسلام کا چہارم کیا ۔ یہ مذہب قریب اندراس تھا لہذا اس کے احیاء کے لئے اس پر افتاء فرماتے ہاں حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے حضرات عالیہ امام مالک اور امام شافعی و امام احمد من بعدہم من الائمہ الکرام رضی اللہ تعالی عنہ پر فضل تابعیت ہے تابعیت امام تابعی ہیں *" رای انسا رضی اللہ تعالی عنہ "* اور باقی حضرات میں کوئی تابعی نہیں *" وما وقع من علی القاری فی المرقاہ من تابعہ الامام مالک رضی اللہ تعالی عنہ فسہو ظاہر لا یلتفت الیہ* اور ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالی علیہ سے مرقات میں جو یہ سہو واقع ہوا کہ حضرت امام مالک تابعی ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ قابل التفات نہیں گدائے قادری عرض کرتا ہے "
صحابیت ہوئی پہر تابعیت بس آگے قادری منزل ہے یا غوث
ہزاروں تابعی سے تو فزوں ہاں وہ طبقہ مجملا فاضل ہے یا غوث "
*( 📚فتاوی رضویہ ج 11 ص 32 : رضا اکیڈمی ممبئی )*
*واللہ اعلم بالصواب*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*+917666456313*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مولانا تاج محمد صاحب قبلہ اترولہ*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*📚امام اعظم افضل ہیں یا غوث اعظم📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کہ بارگاہ میں عرض ہیکہ امام اعظم افضل ہیں یا غوث اعظم ؟
جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔
*سائل: محمد رضا برکاتی نیپـال*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ*
*📝الجواب ⇩*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے سوال ہوا کہ امام اعظم ابو حنیفہ افضل ہیں حضرت غوث اعظم پر یا عکس اس کا ؟ تو جواب میں امام احمد رضا یوں گویا ہوئے کہ " امام عبد الوہاب شعرانی میزان الشریعہ الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ
*" الامام ابو حنیفة رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سئل عن الاسود والعطا وعلقمة ایهم افضل فقال وﷲ ما نحن باهل ان نذکرهم فکیف نفاضل بینهم "*
یعنی ایک روز امام اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا امام علقمہ و امام اسود شاگردان حضرت سیدنا عبد ﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہم میں کون افضل تھا ؟ فرمایا " ہم ان کے ذکر کرنے کے قابل نہیں نہ کہ ان میں ایک کو دوسرے سے افضل بتائیں ۔ حضرت امام رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد تواضعاً تھا اور یہاں قطعاً حقیقت امر ہے، حاشا ﷲ ! ہمارے منہ اس قابل نہیں کہ حضور سیدنا امام اعظم یا حضور سیدنا غوث اعظم رضی ﷲ عنہما کا نام پاک اپنی زبان سے لیں ، یہ بھی رحمت الٰہیہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوبوں کے ذکر کی اجازت دی ہے ، ہم کس منہ سے ان میں تفاصل بیان کریں وہ ہماری شریعت کے امام اور یہ ہماری طریقت کے امام ۔
اور یہاں اسی میزان میں انہیں امام شعرانی کا یہ قول
*" اعتقادنا ان أكابر الصحابة و التابعين و الائمة المجتهدين كان مقامهم اكبر من مقام باقى الأولياء بيقين "*
وارد ہے کہ حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ بلا شبہ واصلان عین الشریعة الکبری کے سرداروں میں سے ہیں اور اس کے واصلوں کو یہی امام شعرانی اسی میزان میں فرماتے ہیں کہ
*" من أشرف على عين الشريعة الاولى يشارك المجتهدين فى الاغتراف من عین الشریعة فانه ما ثم احدحق له قدم الولایة الحمدیة الا و یصیر یاخذ احکام شرعه صلی الله علیه وسلم من حیث اخذھا المجتھدون و ینفك عنه التقلید لجمیع العلماء الا لرسول الله صلی الله تعالیٰ علیه وسلم ثم ان نفد عن احد من الاولیاء انه کان شافعیا او حنفیا مثلاً فذلك قبل ان یصل مقام الکمال "*
یعنی جو عین شریعت کے چشمہ صافی پر پہنچ جاتا ہےتو وہ اس نہر حقیقت سے چلو لینے میں مجتہدین کا شریک و سہیم ہوتا ہے اور جو شخص ولایت محمدیہ کے درجے اعظمی پر فائز ہو جاتا ہے وہ وہیں سے احکام حاصل کرتا ہے جہاں سے ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام علمائے امت کی تقلید سے آزادی ہے اور بعض اولیاء کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ حنفی یا شافعی تھے وغیرہ تو یہ ان حضرات کے مقام کمال تک پہنچنے سے پہلے کی بات ہے ۔
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ محی الدین ہیں احیاء دین کے لئے قائم کئے گئے اور مذہب حنبلی اسلام کا ربع ہے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا جعلتک ربع الاسلام ہم نے تمہیں اسلام کا چہارم کیا ۔ یہ مذہب قریب اندراس تھا لہذا اس کے احیاء کے لئے اس پر افتاء فرماتے ہاں حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے حضرات عالیہ امام مالک اور امام شافعی و امام احمد من بعدہم من الائمہ الکرام رضی اللہ تعالی عنہ پر فضل تابعیت ہے تابعیت امام تابعی ہیں *" رای انسا رضی اللہ تعالی عنہ "* اور باقی حضرات میں کوئی تابعی نہیں *" وما وقع من علی القاری فی المرقاہ من تابعہ الامام مالک رضی اللہ تعالی عنہ فسہو ظاہر لا یلتفت الیہ* اور ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالی علیہ سے مرقات میں جو یہ سہو واقع ہوا کہ حضرت امام مالک تابعی ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ قابل التفات نہیں گدائے قادری عرض کرتا ہے "
صحابیت ہوئی پہر تابعیت بس آگے قادری منزل ہے یا غوث
ہزاروں تابعی سے تو فزوں ہاں وہ طبقہ مجملا فاضل ہے یا غوث "
*( 📚فتاوی رضویہ ج 11 ص 32 : رضا اکیڈمی ممبئی )*
*واللہ اعلم بالصواب*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏻شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*+917666456313*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مولانا تاج محمد صاحب قبلہ اترولہ*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
👍1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚کیا حنفی مقتدی شافعی، مالکی، حنبلی امام کی اقتداء کر سکتا ہے📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماءاکرام ومفتیان عظام کے بارگاہ میں عریضہ پیش کرتے ہیں ہماری رہنمائ فرمائں امام ابو حنیفہ کے اقتدا کرنے والے کی نماز
؟ امام شافع یا پھر امام حمبل یا امام مالک کے اقتدا کرنے والو کے پیچھے نماز ہو گی یا نہیں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
سائل؛ عاشق حسین
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الجواب بعون الوھاب؛*
اگر شافعی امام کوئی ایسا کام کرے مذہب حنفی کے مطابق ناقض وضو ہو یا مفسد نماز ہو جیسے منہ بھر قے ہوئے یا غیر سبیلین سے خون وغیرہ نکل کر بہنے کے بعد وضو نہ کیا یا ماء مستعمل سے وضو کیا یا وضو میں چوتھائی سر سے کم مسح کیا صاحب ترتیب ہوکر یاد ہوتے ہوئے اور وقت میں وسعت کے با وجود قضا پڑھے یا کوئی فرض ایک بار پڑھکر اسی فرض نماز کی امامت کررہا ہو تو شافعی امام کی اقتداء درست نہیں ہے
*(📘جیسا کہ غنیہ ص480 میں ہے)*
*اما الاقتداء بالمخالف فی الفروع کالشافعی فیجوز ما یعلم منہ ما یفسدالصلوۃ علی الاعتقادی المقتدی علیہ الاجماع)*
اور اگر شافعی امام مسائل حنفیہ کی رعایت کرتا ہے تو اسکے پیچھے حنفیوں کی نماز پڑھنا درست ہے بشرطیکہ مذہبی وغیرہ اور وجہ مانع امامت نہ ہو
*(📕جیسا کہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 480 میں کبری سے ہے)*
*ان علم الاحتیاط منہ فی مذھبنا فلا کراھۃ فی الاقتداء بہ*
مگر حنفیوں کو رفع یدین میں اسکی اتباع کرنا مکروہ ہے اور شافعی امام جب کہ وتر دوسلام سے پڑھے تو حنفیوں کو اقتداء درست نہیں جیسا کہ
*(📙در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 448 میں ہے)*
*صح الاقتداء فیہ الشافعی لم یفصلہ بسلام لا ان فصلہ علی الاصح اھ تلخیصاً)*
*(📘فتاوی فیض الرسول جلد اول ص260)*
*واللہ تعالٰی اعلم*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛ دارالعلوم شہید اعظم دولھا پور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک ضلع گونڈہ یوپی*
*رابطہ؛📞9918562794)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*📚کیا حنفی مقتدی شافعی، مالکی، حنبلی امام کی اقتداء کر سکتا ہے📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماءاکرام ومفتیان عظام کے بارگاہ میں عریضہ پیش کرتے ہیں ہماری رہنمائ فرمائں امام ابو حنیفہ کے اقتدا کرنے والے کی نماز
؟ امام شافع یا پھر امام حمبل یا امام مالک کے اقتدا کرنے والو کے پیچھے نماز ہو گی یا نہیں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
سائل؛ عاشق حسین
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الجواب بعون الوھاب؛*
اگر شافعی امام کوئی ایسا کام کرے مذہب حنفی کے مطابق ناقض وضو ہو یا مفسد نماز ہو جیسے منہ بھر قے ہوئے یا غیر سبیلین سے خون وغیرہ نکل کر بہنے کے بعد وضو نہ کیا یا ماء مستعمل سے وضو کیا یا وضو میں چوتھائی سر سے کم مسح کیا صاحب ترتیب ہوکر یاد ہوتے ہوئے اور وقت میں وسعت کے با وجود قضا پڑھے یا کوئی فرض ایک بار پڑھکر اسی فرض نماز کی امامت کررہا ہو تو شافعی امام کی اقتداء درست نہیں ہے
*(📘جیسا کہ غنیہ ص480 میں ہے)*
*اما الاقتداء بالمخالف فی الفروع کالشافعی فیجوز ما یعلم منہ ما یفسدالصلوۃ علی الاعتقادی المقتدی علیہ الاجماع)*
اور اگر شافعی امام مسائل حنفیہ کی رعایت کرتا ہے تو اسکے پیچھے حنفیوں کی نماز پڑھنا درست ہے بشرطیکہ مذہبی وغیرہ اور وجہ مانع امامت نہ ہو
*(📕جیسا کہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 480 میں کبری سے ہے)*
*ان علم الاحتیاط منہ فی مذھبنا فلا کراھۃ فی الاقتداء بہ*
مگر حنفیوں کو رفع یدین میں اسکی اتباع کرنا مکروہ ہے اور شافعی امام جب کہ وتر دوسلام سے پڑھے تو حنفیوں کو اقتداء درست نہیں جیسا کہ
*(📙در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 448 میں ہے)*
*صح الاقتداء فیہ الشافعی لم یفصلہ بسلام لا ان فصلہ علی الاصح اھ تلخیصاً)*
*(📘فتاوی فیض الرسول جلد اول ص260)*
*واللہ تعالٰی اعلم*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛ دارالعلوم شہید اعظم دولھا پور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک ضلع گونڈہ یوپی*
*رابطہ؛📞9918562794)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯سیدنا حماد بن امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* شیخ حماد علیہ الرحمہ۔
*کنیت:* ابو اسمٰعیل۔
*سلسلہ نسب اسطرح ہے:* شیخ حماد بن امام الائمہ سراج الامۃ امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
*سیرت و خصائص:* آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور پرہیز گار تھے۔ حدیث و فقہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے ہوئی۔ فقہ میں یہاں تک کمال مہارت پیدا کرلی تھی کہ اپنے والد ماجد ہی کے زمانے میں فتوے دیا کرتے تھے۔ آپ کا شمار امام ابو یوسف، امام محمد، امام زفر، حسن بن زیادہ ( علیہم الرحمہ) کے طبقے میں ہوتا تھا، اور تدوین کتب ِفقہ میں ان کے معاون و مددگار تھے۔ جب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو آپ کے قبضے میں سونے چاندی کے بہت سے ودائع اور امانتیں ترکہ میں آئیں۔ جن کے مالک مفقود تھے۔ آپ نے ان سب کو قاضی کے پاس لے جاکر سپرد کردیا۔ قاضی صاحب نے بہت دفعہ کہا کہ آپ بڑے امین ہیں، اپنے ہی پاس رہنے دیں، مگر آپ نے امانتیں قبول نہ فرمائیں۔ آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل نے تفقہ کیا اور کامل ہوئے۔
قاسم بن معین کی وفات کے بعد آپ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
*وصال:* 2/ ذیقعدہ 176ھ میں انتقال فرمایا۔ "قطبِ دنیا" آپ کا مادۂ تاریخ ِوفات ہے۔
*(حدائق الحنفیہ)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯سیدنا حماد بن امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسمِ گرامی:* شیخ حماد علیہ الرحمہ۔
*کنیت:* ابو اسمٰعیل۔
*سلسلہ نسب اسطرح ہے:* شیخ حماد بن امام الائمہ سراج الامۃ امامِ اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔
*سیرت و خصائص:* آپ بہت بڑے عابد و زاہد اور پرہیز گار تھے۔ حدیث و فقہ کی تحصیل و تکمیل اپنے والد ماجد سے ہوئی۔ فقہ میں یہاں تک کمال مہارت پیدا کرلی تھی کہ اپنے والد ماجد ہی کے زمانے میں فتوے دیا کرتے تھے۔ آپ کا شمار امام ابو یوسف، امام محمد، امام زفر، حسن بن زیادہ ( علیہم الرحمہ) کے طبقے میں ہوتا تھا، اور تدوین کتب ِفقہ میں ان کے معاون و مددگار تھے۔ جب حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو آپ کے قبضے میں سونے چاندی کے بہت سے ودائع اور امانتیں ترکہ میں آئیں۔ جن کے مالک مفقود تھے۔ آپ نے ان سب کو قاضی کے پاس لے جاکر سپرد کردیا۔ قاضی صاحب نے بہت دفعہ کہا کہ آپ بڑے امین ہیں، اپنے ہی پاس رہنے دیں، مگر آپ نے امانتیں قبول نہ فرمائیں۔ آپ سے آپ کے بیٹے اسمٰعیل نے تفقہ کیا اور کامل ہوئے۔
قاسم بن معین کی وفات کے بعد آپ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے۔
*وصال:* 2/ ذیقعدہ 176ھ میں انتقال فرمایا۔ "قطبِ دنیا" آپ کا مادۂ تاریخ ِوفات ہے۔
*(حدائق الحنفیہ)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* نعمان۔
*لقب:* امام اعظم، سراج الامۃ، کاشف الغمہ۔
*سلسلہ نسب اسطرح ہے:* حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان بن ثابت بن قیس بن یزد گرد بن بن شہر یار بن پرویز بن نوشیرواں عادل۔
*(حدائق الحنفیہ:42/خزینۃ الاصفیاء:90)*
*ابوحنیفہ کنیت کی وجہ تسمیہ:* ابوحنیفہ کا مطلب ہے صاحبِ ملتِ حنفیہ، اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قسم کے باطل سے اعراض کرکے دین حق کو اختیار کرنے والا۔ اس غرض سے یہ کنیت اختیار کی ورنہ "حنفیہ " نام کی آپ کوئی صاحبزادی نہیں تھی۔ آپ کا خاندان عجم کے معزز شرفاء سے تعلق رکھتا ہے۔ امام صاحب کے پوتے اسمعیل بن حماد کہتے ہیں:
"نحن من ابناء فارس الاحرار"
*(تہذیب ،ج۱۰،ص ۴۰۱)*
آپ کے دادا نے اسلام قبول کیا جن کا اسلامی نام نعمان رکھا گیا، انہوں نے کوفہ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے بیٹے ثابت پیدا ہوئے جنہیں لے کر وہ بارگاہ مرتضوی میں پہنچے تو حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ نے ثابت اور ان کی ذریت کے حق میں برکت کی دعا فرمائی:
"ذھب ثابت الی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ وھو صغیر فدعا لہ بالبرکۃ فیہ وفی ذریتہ"
امام صاحب کے پوتے اسماعیل بن حماد کہتے ہیں :
"نحن نرجوان یکون اللہ تعالٰی قداستجاب ذٰلک لعلی فینا"
ہمیں امید ہے کہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کی دعا کو قبو ل فرما یا۔
*(وفیات الاعیان،ج۳،ص۲۰۱)*
*بشارت نبویﷺ:* حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ہم حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے، اس مجلس میں سورۂ جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپ نے اس سورۂ کی آیت "وآخرین منھم لما یلحقو ابھم" کی تلاوت فرمائی تو حاضرین میں سے کسی نے پوچھا حضور یہ دوسرے کون ہیں جو ابھی تک ہم سے نہیں ملے حضور نے جواب میں سکوت فرمایا۔ جب بار بار سوال کیا گیا تو حضرت سلمان فارسی کے کندھے پردست اقدس رکھ کر فرمایا:
"لوکان الایمان عند الثریالنہ رجال من ھؤ لاء"
اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضروری تلاش کریں گے۔
*(صحیح البخاری:4615/صحیح مسلم:2546)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 80 ھ، کو "کوفہ" عراق میں ہوئی۔
*تحصیلِ علم:* حضرت امام اعظم نے اس شہر میں آنکھ کھولی تھی جس کے ذرے ذرے سے علم و عرفان کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ آپ ابتدائی تعلیم کے بعد کاروبار میں بیس سال کی عمر تک مصروف رہے لیکن قدر نے آپ کا فروغ علم کے لیے پیدا کیا تھا اور عظیم علمی کام لینا مقصود تھا۔ امام شعبی کی ہدایت پر علم دین کی طرف متوجہ ہوئے۔ابتداء میں ادب و انشاء اور کلام کی تعلیم حاصل کی کچھ دنوں بعد فقیہ وقت امام حماد کے حلقہ درس سے وابستہ ہوکر فقہ، حدیث اور تفسیر کادرس لیا اور ذوق علم کی تسکین کے لیے مکہ مدینہ اور بصرہ کے متعدد سفر کیے حرمین شریفین میں کافی دنوں تک قیام کیا جو علماء و مشایخ کے عظیم مرکز تھے اور ایام حج میں تمام بالادو امصار اسلامی کے علماء کا یہاں اجتماع ہوتا تھا ان مقامات پر تابعین و مشائخ حدیث سے سماع حدیث کرتے رہے آپ نے تقریباً چار ہزار مشائخ سے کسب علم فرمایا۔
*شرفِ تابعیت:* حضرت امام صاحب رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی تھی کہ آپ نےاس مبارک زمانہ میں آنکھ کھولی جسم میں رسول اللہﷺ کے جمال جہاں آراء کی زیارت کرنے والے کئی حضرات حیات تھے۔ ان کی زیارت کرکے شرف تابعیت سے مشرف ہوئے، اور ان سے کسب علم کرکے بشارت نبوی کے مصداق ٹھرے۔
آپ نے جن صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زیارت کی ان کےاسماء گرامی یہ ہیں:
حضرت انس بن مالک،حضرت عبداللہ بن انیس،حضرت عبداللہ بن حارث،حضرت عبداللہ بن اوفیٰ،حضرت عامر بن واثلہ،حضرت معقل بن یسار،جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن انس، علیہم الرحمۃ والرضوان۔
*(امام اعظم کا محدثانہ مقام:72)*
*سیرت و خصائص:* امام الائمہ، کاشف الغمہ، سراج ہذہ الامۃ، امام الاعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ۔
امام اعظم نے جس ذوق شوق کے ساتھ علو م اسلامی کی تحصیل کی وہ اپنے وقت کے بے نظیر فقیہ، مجتہد، امام الحدیث اور عبقری عالم بن گئے۔ قدرت نے ان کی ذات میں بے شمار صوری و معنوی خوبیاں جمع کر دی تھیں اور وہ بلا ریب رسول اللہ ﷺکے سچےجانشین تھے۔آپ متقی، صاف و بے داغ کردار کےحامل،اور پرہیز گار عالم و فقیہ تھے۔ انہوں نے علم کو بصیرت، فہم و فراست اور تقویٰ کے ذریعہ اس طرح کھول کر بیان کیا جیسا کسی اور نے نہیں کیا۔
*(عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمان)*
امام عبداللہ بن داؤد فرماتے ہیں: لا یتکلم فی ابی حنیفۃ الا احد رجلین اما حاسد لعلمہ واما جاھل بالعلم لایعرف قدر حملتہ’’
ابو حنیفہ پر ردوقدح کرنے والا یا تو ان کے علم سے حسد کرنے والا ہے یا علم کے مرتبہ سے جاہل ہے وہ علم کے حاملوں کی قدر سے بے خبر ہے۔
*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*نام و نسب:*
*اسم گرامی:* نعمان۔
*لقب:* امام اعظم، سراج الامۃ، کاشف الغمہ۔
*سلسلہ نسب اسطرح ہے:* حضرت امام اعظم نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان بن ثابت بن قیس بن یزد گرد بن بن شہر یار بن پرویز بن نوشیرواں عادل۔
*(حدائق الحنفیہ:42/خزینۃ الاصفیاء:90)*
*ابوحنیفہ کنیت کی وجہ تسمیہ:* ابوحنیفہ کا مطلب ہے صاحبِ ملتِ حنفیہ، اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر قسم کے باطل سے اعراض کرکے دین حق کو اختیار کرنے والا۔ اس غرض سے یہ کنیت اختیار کی ورنہ "حنفیہ " نام کی آپ کوئی صاحبزادی نہیں تھی۔ آپ کا خاندان عجم کے معزز شرفاء سے تعلق رکھتا ہے۔ امام صاحب کے پوتے اسمعیل بن حماد کہتے ہیں:
"نحن من ابناء فارس الاحرار"
*(تہذیب ،ج۱۰،ص ۴۰۱)*
آپ کے دادا نے اسلام قبول کیا جن کا اسلامی نام نعمان رکھا گیا، انہوں نے کوفہ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ان کے بیٹے ثابت پیدا ہوئے جنہیں لے کر وہ بارگاہ مرتضوی میں پہنچے تو حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ نے ثابت اور ان کی ذریت کے حق میں برکت کی دعا فرمائی:
"ذھب ثابت الی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ وھو صغیر فدعا لہ بالبرکۃ فیہ وفی ذریتہ"
امام صاحب کے پوتے اسماعیل بن حماد کہتے ہیں :
"نحن نرجوان یکون اللہ تعالٰی قداستجاب ذٰلک لعلی فینا"
ہمیں امید ہے کہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کی دعا کو قبو ل فرما یا۔
*(وفیات الاعیان،ج۳،ص۲۰۱)*
*بشارت نبویﷺ:* حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ہم حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے، اس مجلس میں سورۂ جمعہ نازل ہوئی۔ جب آپ نے اس سورۂ کی آیت "وآخرین منھم لما یلحقو ابھم" کی تلاوت فرمائی تو حاضرین میں سے کسی نے پوچھا حضور یہ دوسرے کون ہیں جو ابھی تک ہم سے نہیں ملے حضور نے جواب میں سکوت فرمایا۔ جب بار بار سوال کیا گیا تو حضرت سلمان فارسی کے کندھے پردست اقدس رکھ کر فرمایا:
"لوکان الایمان عند الثریالنہ رجال من ھؤ لاء"
اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضروری تلاش کریں گے۔
*(صحیح البخاری:4615/صحیح مسلم:2546)*
*تاریخِ ولادت:* آپ کی ولادت باسعادت 80 ھ، کو "کوفہ" عراق میں ہوئی۔
*تحصیلِ علم:* حضرت امام اعظم نے اس شہر میں آنکھ کھولی تھی جس کے ذرے ذرے سے علم و عرفان کی کرنیں پھوٹتی تھیں۔ آپ ابتدائی تعلیم کے بعد کاروبار میں بیس سال کی عمر تک مصروف رہے لیکن قدر نے آپ کا فروغ علم کے لیے پیدا کیا تھا اور عظیم علمی کام لینا مقصود تھا۔ امام شعبی کی ہدایت پر علم دین کی طرف متوجہ ہوئے۔ابتداء میں ادب و انشاء اور کلام کی تعلیم حاصل کی کچھ دنوں بعد فقیہ وقت امام حماد کے حلقہ درس سے وابستہ ہوکر فقہ، حدیث اور تفسیر کادرس لیا اور ذوق علم کی تسکین کے لیے مکہ مدینہ اور بصرہ کے متعدد سفر کیے حرمین شریفین میں کافی دنوں تک قیام کیا جو علماء و مشایخ کے عظیم مرکز تھے اور ایام حج میں تمام بالادو امصار اسلامی کے علماء کا یہاں اجتماع ہوتا تھا ان مقامات پر تابعین و مشائخ حدیث سے سماع حدیث کرتے رہے آپ نے تقریباً چار ہزار مشائخ سے کسب علم فرمایا۔
*شرفِ تابعیت:* حضرت امام صاحب رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی تھی کہ آپ نےاس مبارک زمانہ میں آنکھ کھولی جسم میں رسول اللہﷺ کے جمال جہاں آراء کی زیارت کرنے والے کئی حضرات حیات تھے۔ ان کی زیارت کرکے شرف تابعیت سے مشرف ہوئے، اور ان سے کسب علم کرکے بشارت نبوی کے مصداق ٹھرے۔
آپ نے جن صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زیارت کی ان کےاسماء گرامی یہ ہیں:
حضرت انس بن مالک،حضرت عبداللہ بن انیس،حضرت عبداللہ بن حارث،حضرت عبداللہ بن اوفیٰ،حضرت عامر بن واثلہ،حضرت معقل بن یسار،جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن انس، علیہم الرحمۃ والرضوان۔
*(امام اعظم کا محدثانہ مقام:72)*
*سیرت و خصائص:* امام الائمہ، کاشف الغمہ، سراج ہذہ الامۃ، امام الاعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ۔
امام اعظم نے جس ذوق شوق کے ساتھ علو م اسلامی کی تحصیل کی وہ اپنے وقت کے بے نظیر فقیہ، مجتہد، امام الحدیث اور عبقری عالم بن گئے۔ قدرت نے ان کی ذات میں بے شمار صوری و معنوی خوبیاں جمع کر دی تھیں اور وہ بلا ریب رسول اللہ ﷺکے سچےجانشین تھے۔آپ متقی، صاف و بے داغ کردار کےحامل،اور پرہیز گار عالم و فقیہ تھے۔ انہوں نے علم کو بصیرت، فہم و فراست اور تقویٰ کے ذریعہ اس طرح کھول کر بیان کیا جیسا کسی اور نے نہیں کیا۔
*(عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ النعمان)*
امام عبداللہ بن داؤد فرماتے ہیں: لا یتکلم فی ابی حنیفۃ الا احد رجلین اما حاسد لعلمہ واما جاھل بالعلم لایعرف قدر حملتہ’’
ابو حنیفہ پر ردوقدح کرنے والا یا تو ان کے علم سے حسد کرنے والا ہے یا علم کے مرتبہ سے جاہل ہے وہ علم کے حاملوں کی قدر سے بے خبر ہے۔
*
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
(اخبار ابی حنیفۃ،ص۵۴)*
امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرمایا کرتے تھے:
جو آدمی فقہ ماہر ہونا چاہیے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہوگا یہ بھی فرمایا کہ میں ابو حنیفہ سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں جانتا اور لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے عیال ہیں، جس نے امام ابوحنیفہ کی کتابیں نہیں دیکھیں وہ علم میں ماہر نہیں ہوسکتا اور نہ فقیہ ہو سکتا ہے۔
*(عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ لنعمان)*
*روضۂ اقدس سے سلام کا جواب:* جب امام صاحب رضی اللہ عنہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا: السلام علیک یا رسول اللہ
تو جواب ملا:
علیک السلام یا امام المسلمین۔
*(خزینۃ الاصفیاء:91)*
حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رضی ﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے: کہ میں نے پیغمبرِ خدا ﷺ کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا: یارسول اللہﷺ !میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا: علم ابوحنیفہ کے پاس۔
خواجہ محمد پارسا نے فصولِ ستہ میں لکھا ہے:
کہ امام اعظم کا وجود حضور ﷺ کے معجزات میں سے ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اس مذہب پر گامزن ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک اسی دین پر حکم چلایا کریں گے۔
قطب العالم حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب راحت القلوب میں لکھتے ہیں:
کہ جناب امام ابوحنیفہ جب آخری مرتبہ حج بیت اللہ کوتشریف لے گئے تو رات کے وقت کعبۃ اللہ کا دروازہ پکڑ کر ایک پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف قرآن ختم کردیا، پھر دوسرے پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف دوسرا ختم کیا۔ پھر کہا:
ما عرفناک حق معرفتک وما عبدناک حق عبادتک۔
غیب سے آواز آئی: ابوحنیفہ تم نے پہچان لیا، جیسے کہ پہچاننے کا حق ہے اور میری تم نے عبادت کردی جیسا کہ حق ہوتا ہے، ہم تمہیں اور تیرے مقلدین کو بخش دیں گے۔ (ایضاً:91)
*زہد و تقویٰ:* حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ علم و فضل کی بے اندازہ دولت کے ساتھ عمل صالح اور اخلاق حسنہ کا مثالی پیکر تھے ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اتباع سنت میں گزرتا ، شریعت اسلامی کی نزاکتوں کا پورا خیال رکھتے۔ خدا ترسی اور ورع و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے، ترہیب کی آیتوں پربے اختیار آنسو جاری ہوجاتے۔ ایک بار " والساعۃ ادھیٰ وامر" پر پہنچے تو اسی کو رات بھر دہراتے اور روتے رہے۔ قرآن مجید کی تلاوت سے غیر معمولی شغف تھا۔ امام صاحب جس جگہ سے گرفتار کر کے بغداد بھیجے گئے اس جگہ سات ہزار مرتبہ قرآن شریف ختم کیا۔
مشہور محدث حفص بن عبدالرحمان فرماتے ہیں:
کہ امام ابو حنیفہ نے تیس سال تک ایک رات میں پورا قرآن پڑھ کر قیام لیل فرمایا تیس سال برابر روزے رکھے۔ قاضی ِبغداد حسن بن عمارہ نے وفات کے بعد آپ کو غسل دیا اور فرمایا تم پر اللہ رحم فرمائے، تین سال سے افطار نہیں کیا اور چالیس سال سے رات کو کروٹ نہ لی ہم میں تم سب سے زیادہ فقیہ تھے اور سب سے زیادہ عبادت گذار تھے اور ہم میں سب سے زیادہ بھلائی کی خصلتوں کو جمع کرنے والے تھے اور جب دفن ہوئے تو بھلائی اور سنت کے ساتھ دفن ہوئے۔
*(حیاتِ محدثین:25)*
حضرت امام عبدالعزیز بن ابی رواد فرماتے ہیں:
آپ سے محبت اہل سنت کی علامت ، اور آپ سے بغض اہل بدعت کی علامت ہے۔
*(سیر اعلام النبلاء:ج 6،ص 536)*
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کے تمام انواع و اقسام پر اجتہادی نوعیت سے کام کیا ہے۔ بصیرت افروز راہنما اصول قائم کیے ہیں اور محض روایتی انداز سے سماع حدیث کرنے والوں کو عقل و آگہی کی روشنی دی ہے، ان کے حلقہ درس میں شریک ہو کر نہ جانے کتنے افراد دنیائے علم و فضل میں اَمر ہوگئے۔ان کے تلامذۃ کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ذروں کو اٹھایا تو رشک ماہتاب بنادیا، یہ حنفی سلسلہ کی کڑیاں تھیں جو احادیث رسول سے قرناً فقرناً ائمہ و مشائخ کے سینوں کو منور کرتی چلی گئیں۔سلام ہو اس امام پر جس نے جھلملاتے چراغون کو سورج کی توانائیاں بخشیں،آفرین ہو اس کی فکرِ صائب پر جس نے اسلامی علوم کو رعنائیاں دیں،آج دینی علوم کے تمام شعبوں میں انہیں کے فیض کے دھارے بہہ رہے ہیں ۔جب تک علم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔جب تک درس گاہوں میں فقہ و حدیث کا چرچا رہے گازمانہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو سلام کرتا رہے گا۔
*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 2/شعبان المعظم 150ھ کو ہوا۔آپ کا مزار "اعظمیہ" عراق میں منبعِ فیوض وبرکات ہے۔
*(سیرت امام اعظم:93/ علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)*
*ماخذومراجع:* حدائق الحنفیہ۔ تذکرۃ المحدثین۔ حیات المحدثین، خزینۃ الاصفیاء۔ امام اعظم کا محدثانہ مقام۔ وفیات الاعیان۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
امام شافعی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرمایا کرتے تھے:
جو آدمی فقہ ماہر ہونا چاہیے وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج ہوگا یہ بھی فرمایا کہ میں ابو حنیفہ سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں جانتا اور لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے عیال ہیں، جس نے امام ابوحنیفہ کی کتابیں نہیں دیکھیں وہ علم میں ماہر نہیں ہوسکتا اور نہ فقیہ ہو سکتا ہے۔
*(عقود الجمان فی مناقب ابی حنیفۃ لنعمان)*
*روضۂ اقدس سے سلام کا جواب:* جب امام صاحب رضی اللہ عنہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا: السلام علیک یا رسول اللہ
تو جواب ملا:
علیک السلام یا امام المسلمین۔
*(خزینۃ الاصفیاء:91)*
حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رضی ﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے: کہ میں نے پیغمبرِ خدا ﷺ کو خواب میں دیکھا تو عرض کیا: یارسول اللہﷺ !میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ فرمایا: علم ابوحنیفہ کے پاس۔
خواجہ محمد پارسا نے فصولِ ستہ میں لکھا ہے:
کہ امام اعظم کا وجود حضور ﷺ کے معجزات میں سے ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ اس مذہب پر گامزن ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک اسی دین پر حکم چلایا کریں گے۔
قطب العالم حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب راحت القلوب میں لکھتے ہیں:
کہ جناب امام ابوحنیفہ جب آخری مرتبہ حج بیت اللہ کوتشریف لے گئے تو رات کے وقت کعبۃ اللہ کا دروازہ پکڑ کر ایک پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف قرآن ختم کردیا، پھر دوسرے پاؤں پر کھڑے رہے اور نصف دوسرا ختم کیا۔ پھر کہا:
ما عرفناک حق معرفتک وما عبدناک حق عبادتک۔
غیب سے آواز آئی: ابوحنیفہ تم نے پہچان لیا، جیسے کہ پہچاننے کا حق ہے اور میری تم نے عبادت کردی جیسا کہ حق ہوتا ہے، ہم تمہیں اور تیرے مقلدین کو بخش دیں گے۔ (ایضاً:91)
*زہد و تقویٰ:* حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ علم و فضل کی بے اندازہ دولت کے ساتھ عمل صالح اور اخلاق حسنہ کا مثالی پیکر تھے ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اتباع سنت میں گزرتا ، شریعت اسلامی کی نزاکتوں کا پورا خیال رکھتے۔ خدا ترسی اور ورع و تقویٰ کا یہ حال تھا کہ پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہتے، ترہیب کی آیتوں پربے اختیار آنسو جاری ہوجاتے۔ ایک بار " والساعۃ ادھیٰ وامر" پر پہنچے تو اسی کو رات بھر دہراتے اور روتے رہے۔ قرآن مجید کی تلاوت سے غیر معمولی شغف تھا۔ امام صاحب جس جگہ سے گرفتار کر کے بغداد بھیجے گئے اس جگہ سات ہزار مرتبہ قرآن شریف ختم کیا۔
مشہور محدث حفص بن عبدالرحمان فرماتے ہیں:
کہ امام ابو حنیفہ نے تیس سال تک ایک رات میں پورا قرآن پڑھ کر قیام لیل فرمایا تیس سال برابر روزے رکھے۔ قاضی ِبغداد حسن بن عمارہ نے وفات کے بعد آپ کو غسل دیا اور فرمایا تم پر اللہ رحم فرمائے، تین سال سے افطار نہیں کیا اور چالیس سال سے رات کو کروٹ نہ لی ہم میں تم سب سے زیادہ فقیہ تھے اور سب سے زیادہ عبادت گذار تھے اور ہم میں سب سے زیادہ بھلائی کی خصلتوں کو جمع کرنے والے تھے اور جب دفن ہوئے تو بھلائی اور سنت کے ساتھ دفن ہوئے۔
*(حیاتِ محدثین:25)*
حضرت امام عبدالعزیز بن ابی رواد فرماتے ہیں:
آپ سے محبت اہل سنت کی علامت ، اور آپ سے بغض اہل بدعت کی علامت ہے۔
*(سیر اعلام النبلاء:ج 6،ص 536)*
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے حدیث کے تمام انواع و اقسام پر اجتہادی نوعیت سے کام کیا ہے۔ بصیرت افروز راہنما اصول قائم کیے ہیں اور محض روایتی انداز سے سماع حدیث کرنے والوں کو عقل و آگہی کی روشنی دی ہے، ان کے حلقہ درس میں شریک ہو کر نہ جانے کتنے افراد دنیائے علم و فضل میں اَمر ہوگئے۔ان کے تلامذۃ کی عظمت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ذروں کو اٹھایا تو رشک ماہتاب بنادیا، یہ حنفی سلسلہ کی کڑیاں تھیں جو احادیث رسول سے قرناً فقرناً ائمہ و مشائخ کے سینوں کو منور کرتی چلی گئیں۔سلام ہو اس امام پر جس نے جھلملاتے چراغون کو سورج کی توانائیاں بخشیں،آفرین ہو اس کی فکرِ صائب پر جس نے اسلامی علوم کو رعنائیاں دیں،آج دینی علوم کے تمام شعبوں میں انہیں کے فیض کے دھارے بہہ رہے ہیں ۔جب تک علم کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔جب تک درس گاہوں میں فقہ و حدیث کا چرچا رہے گازمانہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو سلام کرتا رہے گا۔
*تاریخِ وصال:* آپ کا وصال 2/شعبان المعظم 150ھ کو ہوا۔آپ کا مزار "اعظمیہ" عراق میں منبعِ فیوض وبرکات ہے۔
*(سیرت امام اعظم:93/ علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ)*
*ماخذومراجع:* حدائق الحنفیہ۔ تذکرۃ المحدثین۔ حیات المحدثین، خزینۃ الاصفیاء۔ امام اعظم کا محدثانہ مقام۔ وفیات الاعیان۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محــمد یـوسـف رضــا رضــوی امجــدی 📱919604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
امام الائمہ سراج الامۃ کاشف الغمہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
کے حوالےسے تقریباً 60 آنلائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ
https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1
آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت
فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت
رَضِیَ الــلّٰــهُ تَـبَـارَڪَ وَ تَــعَــالیٰ عَـنۡـہۡ
کے حوالےسے تقریباً 60 آنلائن کتب
مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کرنے کا طریقہ
https://www.ataunnabi.com/search?q=%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85+%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85&m=1
آپ تابعی بزرگ – مجتہد - محدث
اور عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت
فقہ حنفی کے بانی – اور کـروڑوں
حنفیوں کے امام ہیں!! سـبحان اللہ
❤1
فہرستِ کتب 📚 مع لِنکس ↶
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
اماماعظم ابوحنیفہ رضیاللہعنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10404
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10405
مسند امام اعـظم 📚¹⁵
✍ امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10274
فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
✍حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10213
کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
✍حضرت اماماعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10225
شان و عظمت | سیرت و سوانح
حضرت نعمان بن ثابت المعروف:
اماماعظم ابوحنیفہ رضیاللہعنہ
Qist ❶ Book ⁰¹To³⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10404
Qist ❷ Book ³¹To⁵⁰
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10405
مسند امام اعـظم 📚¹⁵
✍ امام اعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10274
فقہ اکبر 📚¹² فقه الاکبر
✍حضرت امام اعظم ابوحنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10213
کتاب الآثار 📚⁶ کتاب الاٰثار
✍حضرت اماماعظم ابو حنیفہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/10225
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
01-08-1443 ᴴ | 05-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
02-08-1443 ᴴ | 06-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤2