🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
علی بن ہاشم نے کہا: ابوحنیفہ علم کا خزانہ تھے ، جومسائل بڑوں پر مشکل ہوتے آپ پرآسان ہوتے ۔

امام ابودائود نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحم فرمائے مالک پر وہ امام تھے ،اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ابوحنیفہ پر وہ امام تھے ۔

یحیی بن سعید قطان نے کہا: امام ابوحنیفہ کی رائے سے بہتر کسی کی رائے نہیں ،

خارجہ بن مصعب نے کہا : فقہاء میں ابوحنیفہ مثل چکی کے پاٹ کے محور ہیں ،یاایک ماہر صراف کے مانند ہیں جوسونے کو پرکھتا ہے ۔

عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں : میں نے حسن بن عمارہ کودیکھا کہ وہ امام ابوحنیفہ کی رکاب پکڑے ہوئے کہہ رہے تھے : قسم بخدا! میں نے فقہ میں تم سے اچھا بولنے والا صبرکرنے والااورتم سے بڑھکر حاضر جواب نہیں دیکھا ،بیشک تمہارے دور میں جس نے فقہ میں لب کشائی کی تم اسکے بلا قیل وقال آقاہو ۔جو لوگ آپ پر طعن کرتے ہیں وہ حسدکی بناپر کرتے ہیں ۔

ابومطیع نے بیان کیاکہ میں ایک دن کوفہ کی جامع مسجد میں بیٹھا ہواتھا کہ آپکے پاس مقاتل بن حیان ،حماد بن سلمہ ،امام جعفر صادق اوردوسرے علماء آئے اورانہوں نے امام ابوحنیفہ سے کہا : ہم کویہ بات پہونچی ہے کہ آپ دین میں کثرت سے قیاس کرتے ہیں ۔اسکی وجہ سے ہم کو آپکی عاقبت کا اندیشہ ہے ،کیونکہ ابتداء جس نے قیاس کیا ہے وہ ابلیس ہے ۔امام ابوحنیفہ نے ان حضرات سے بحث کی اور یہ بحث صبح سے زوال تک جاری رہی اوروہ دن جمعہ کا تھا۔

حضرت امام نے اپنا مذہب بیان کیا کہ اولاًکتاب اللہ پر عمل کرنا یوں پھر سنت پر ،اور پھر حضرات صحابہ کے فیصلوں پر ،اور جس پر ان حضرات کا اتفاق ہوتاہے اسکومقدم رکھتا ہوں اوراسکے بعد قیاس کرتا ہوں ۔یہ سنکر حضرات علماء کھڑ ے ہوئے اورانہوں نے حضرت امام کے سراور گھٹنوں کوبوسہ دیا اورکہا: آپ علماء کے سردارہیں اورہم نے جو کچھ برائیاں کی ہیں اپنی لاعلمی کی وجہ سے کی ہیں ۔آپ اسکو معاف کردیں ۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری اورآپ سب کی مغفرت فرمائے ۔آمین ۔

امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :میں امام اوزاعی سے ملنے ملک شام آیا اور بیروت میں ان سے ملا۔انہوں نے مجھ سے کہا اے خراسانی !یہ بدعتی کون ہے جوکوفہ میں نکلا ہے اور اسکی کنیت ابوحنیفہ ہے ،میں اپنی قیام گاہ پر آیا اورامام ابوحنیفہ کی کتابوں میں مصروف ہوا ،چندمسائل اخذکرکے پہونچا،میرے ہاتھ میں تحریردیکھ کر پوچھا کیاہے ،میں نے پیش کیا ،تحریر پڑھ کر بو لے ،یہ نعمان بن ثابت کون ہیں ؟میں نے کہا: ایک شیخ ہیں جن سے عراق میں میری ملاقات ہوئی ۔فرمایا: یہ مشائخ میں زیادہ دانشمند ہیں ۔ان سے علم میں اضافہ کرو ،میں نے ان سے کہا : یہ

ہی وہ ابوحنیفہ ہی جن سے آپ نے مجھے روکا تھا ۔

امام اعظم سے اسکے بعد مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی ،مسائل میں گفتگوہوئی ،جب ان سے میری ملاقات دوبارہ ہوئی توامام اوزاعی فرماتے تھے ،اب مجھے انکے کثرت علم وعقلمندی پررشک ہوتاہے۔میں انکے متعلق کھلی غلطی پرتھا ،میں اللہ سے استغفار کرتاہوں ۔

مدینہ منورہ میں حضرت امام باقر سے ملاقات ہوئی ،ایک صاحب نے تعارف کرایا ، فرمایا: اچھاآپ وہی ہیں جو قیاس کرکے میرے جد کریم کی احادیث ردکرتے ہیں ۔عرض کیا : معاذاللہ ،کون ردکرسکتاہے ۔حضور اگراجازت دیں توکچھ عرض کروں ۔اجازت کے بعد عرض کیا: ۔

حضور مرد ضعیف ہے یا عورت ؟ارشاد فرمایا: عورت ۔

عرض کیا:۔

وراثت میں مرد کاحصہ زیادہ ہے یاعورت کا ؟

فرمایا:۔ مردکا۔

عرض کیا:۔

میں قیاس سے حکم کرتا توعورت کومرد کا دوناحصہ دینے کاحکم دیتا ۔

پھر عرض کیا: ۔

نماز افضل ہے یاروزہ ؟

فرمایا:۔ نماز ۔

عرض کیا :۔

قیاس یہ چاہتاہے کہ حائضہ پر نماز کی قضابدرجہٗ اولی ہونی چاہیئے ،اگر قیاس سے حکم کرتاتو یہ حکم دیتاکہ حائضہ نما زکی قضاکرے ۔

پھر عرض کیا:۔

منی کی ناپاکی شدید ترہے یاپیشاب کی ؟

فرمایا:۔ پیشاب کی ۔

عرض کیا:۔

قیاس کرتا توپیشاب کے بعد غسل کا حکم بدرجۂ اولی دیتا۔

اس پر امام باقر اتنا خوش ہوئے کہ اٹھکر پیشانی چوم لی ۔اسکے بعد ایک مدت تک حضرت امام باقر کی خدمت میں رہکر فقہ وحدیث کی تعلیم حاصل کی ۔

امام جعفر صادق نے فرمایا : یہ ابوحنیفہ ہیں اور اپنے شہر کے سب سے بڑے فقیہ ہیں ۔

یہ ائمہ وقت اوراساطین ملت توامام اعظم کے علم وفن اورفضل وکمال پرکھلے دل سے شہادت پیش کرتے ہیں اورآج کے کچھ نام نہاد مجتہدین وقت نہایت بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے کہتے پھرتے اور کتابوں میں لکھتے ہیں : امام ابوحنیفہ کا حشر عابدین میں تو ہو سکتا ہے لیکن علماء وائمہ میں نہیں ہوگا ۔ نعوذباللہ من ذلک ۔

(مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304412815128098/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امام_اعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تابعی ہیں
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304181115151268/
محترم قارئینِ کرام : تابعي اس شخص كو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ہو ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص42)

اصول حدیث میں جمہورمحدثین اورفقہاء علیہم الرّحمہ نے تابعی کی تعریف یہی کی ہے اس نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کودیکھا ہو ، ہاں کچھ علمائ کی شاذ رائے یہ ضرور ہے کہ وہ صحابی کی طویل صحبت اٹھائے یاروایت کرے ۔ الکمال فی اسمائ الرجال ، للمزی، تہذیب الکمال للحافظ الذہبی ، یاحافظ ذہبی کی سیرت پر لکھی گئی کوئی بھی کتاب حافظ ابن حجر کی تہذیب التہذیب سب میں اس بات کا ذکرملے گاکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس کو دیکھاہے اور اورجب جمہور محدثین اورفقہاء کے نزدیک محض دیکھنے سے ہی تابعیت ثابت ہوتی ہے تواس لحاظ سے وہ تابعی ہیں ۔ جیساکہ حافظ زین الدین عراقی اورحافظ ابن حجر کے فتوی اورجواب سے بھی ظاہر ہوتاہے جوکہ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تبییض الصحیفہ میں ذکر کیا ہے ۔

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ''سیر أعلام النبلاء''(٦/٣٩٠) میں خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "تاریخ بغداد" کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابی رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب وہ کوفہ آئے تھے تو انہیں دیکھا تھا ۔

علاّمہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 463ھ) لکھتے ہیں کہ : حضرت نعمان بن ثابت ، ابو حینفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا ہے اور عطاء بن ابی رباح سے (روایات وغیرہ کو) سنا ہے ۔ (بحوالہ : تاریخ بغداد ، جلد 13 ، صفحہ 323 ،چشتی)

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تابعی ہونے پر ان آئمہ محدثین علیہم الرّحمہ نے لکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تابعی ہیں ۔ (ابو نعیم،مسند ابی حنیفۃ 186)(موفق، مسند ابی حنیفۃ 25:1)(قزوینی، الےدوین فی اخبار قزوین 153:3)(ذھبھی ، تذکرۃالحافظ 168:1)(ابن عبدالبر، جامع بیان العلم و فضللہ 101:1)(ابن ندیم، الفھرست 255)(ابن جوزی، العل المتنا ھیۃ 136:1)(سیوطی، تبییض الصحیۃ بمنا قب ابی حنیفۃ 34)(خطیب بغدادی، تاریخ بغداد 324:13)(سمعانی، الانساب 37:3)(ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الموک والامم 129:8)(ابن حلکان، وفیات الدعیان 406:5)(ذھبی، سیراعلام انبلاء 391:6)(ذھبی، الکاشف فی معرفۃ من لہ رویۃ فی الکتب السنۃ 322:2،چشتی)(ذھبی، مناقب الام ابی حنیفۃ وصاحبہ ابی یوسف و محمد بن الحسن :7)(صفدی، الوافی بالوفیات 89:27)(یافعی، مرآۃ الجنان والیقظان 310:1)(ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ 107:10)(زین الدیدین عراقی، التقییدو الایضاح :332،چشتی)(عسقلانی، تھذیب التھذیب 401:10)(بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البحاری کتاب البیوع،باب مایکرہ من الحلف فی البیع 206:11)(بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البحاری کتاب الحج، باب متی یحل المعتمر 128: 10،چشتی)(بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البحاری کتاب الزکاۃ، باب صلوۃ الامام ودعائہ الصاحب الصدقۃ 95:9)(سخاوی، فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للعراقی 337:3)(سیوطی، طبقات الحفاظ 80:1 رقم 152)(قسطلانی، ارشاد الساری صحیح البخاری کتاب الوضوء باب من لم یرالوضوءالدمن المخرجین)(قسطلانی، ارشاد الساری صحیح البخاری کتاب الصلوۃ، باب الصوۃ فی الثوب الواحد 390:1)(دیار بکری، تاریخ الخمیس فی مناقب الامام اعظم ابی حینفۃ : 32)(ابن حجر مکی، الخیرات الحسان فی مناقب الامام اعظم ابی حینفۃ النعمان : 32)(ابن حجر ھیتمی، الخیرات الحسان:33)(ابن عماد، شذرات الذھب فی اخبار من ذھب 227:1)۔

حافظ المزی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات بہتر (٧٢) صحابہِ کرام سے ہوئی ہے ۔ (معجم المصنفین : ٢/٢٣)

حافظ ذہبی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ٧٤٨ھ) اپنی كتاب "تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں : ١/١٦٨" میں پانچویں طبقہ کے حفاظِ حدیث میں امام صاحب کا ذکر "ابو حنيفة الإمام الأعظم" کے عنوان سے کرتے ہیں : مولدہ سنۃ ثمانین رای انس بن مالک غیرمرۃ لماقدم علیہم الکوفۃ ۔
ترجمہ : حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کی پیدائش سنہ ٨٠ھ میں ہوئی ، آپ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (٩٣ھ) کوجب وہ کوفہ گئے توکئی دفعہ دیکھا ۔
آگے لکھتے ہیں : وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن هرمز الاعرج وعدى بن ثابت وسلمة بن كهيل وابي جعفر محمد بن علي وقتادة وعمرو بن دينار وابي اسحاق وخلق كثير..... وحدث عنه وكيع ويزيد بن هارون وسعد بن الصلت وابوعاصم وعبد الرزاق وعبيد الله بن موسى وابو نعيم وابو عبد الرحمن المقرى وبشر كثير، وكان اماما ورعا عالماً عاملاً متعبدا کبیرالشان ۔
ترجمہ : امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے عطاء، نافع ، عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج، سلمہ بن کہیل، ابی جعفر، محمدبن علی، قتادہ، عمرو بن دینار، ابی اسحاق اور بہت سے لوگوں سے حدیث روایت کی ہے اور ابوحنیفہ سے وکیع، یزید بن ہارون، سعد بن صلت، ابوعاصم، عبدالرزاق، عبیداللہ بن موسیٰ، ابونعیم، ابوعبدالرحمن المقری اور خلق کثیر نے روایت لی ہے اور ابوحنیفہ امام تھے اور زاہد پرہیزگار عالم، عامل، متقی اور بڑی شان والے تھے ۔

قرآن و حدیث کی فقہ (سمجھ) میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت

حضرت ضرار بن صرد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ، مجھ سے حضرت یزید بن ہارون نے پوچھا کہ سب سے زیادہ فقہ (سمجھ) والا امام ثوری رضی اللہ عنہ ہیں یا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ ؟ تو انہوں نے کہا کہ : ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ (حدیث میں) افقه (سب سے زیادہ فقیہ) ہیں اور سفیان رضی اللہ عنہ (ثوری) تو سب سے زیادہ حافظ ہیں حدیث میں ۔

حضرت عبدللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقہ (سمجھ) رکھنے والے تھے ۔

حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کو لازم پکڑے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے عیال (محتاج) ہیں ۔

محدثین کے ذکر میں اسی کتاب میں آگے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔
ترجمہ : بے شک ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ (حديث میں) امام تھے ۔ (تذكرة الحفاظ، دار الكتب العلمية : صفحة نمبر ١٦٨، جلد نمبر١، طبقه ٥، بيان : أبو حنيفة إمامِ أعظم،چشتی)

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بشارت نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسورہ جمعہ (کی یہ آیت) نازل ہوئی ’’اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تزکیہ و تعلیم کے لئے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے۔ ‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول ﷲ ! وہ کون حضرات ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد نہ فرمایا تو میں نے تین مرتبہ دریافت کیا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے درمیان موجود تھے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس حضرت سلمان رضی اللہ عنہ (کے کندھوں) پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، 16 / 298، کتاب : التفسير / الجمعة، باب : قوله : وآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ : 3، 4 / 1858، الرقم : 4615، ومسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضل فارس، 4 / 1972، الرقم : 2546، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في فضل العجم، 5 / 725، الرقم : 3942،چشتی،وفي کتاب : تفسير القرآن عن رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : وَمِنْ سُورَةِ محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 384، الرقم : 3260. 3261، وفي باب : ومِنْ سَوْرةِ الجُمَعَةِ، 5 / 413، الرقم : 3310، وابن حبان في الصحيح، 16 / 298، الرقم : 7308، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 367، الرقم : 7060، وأبونعيم في حلية الأولياء، 6 / 64، والعسقلاني في فتح الباري، 8 / 642، الرقم : 4615، والحسيني في البيان والتعريف، 2 / 170، الرقم : 1399، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4 / 364، الرقم : 4797، والطبراني في جامع البيان، 28 / 96، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 18 / 93)

حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب " تنییض الصحیفۃ میں امام اعظم کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے بارے میں عنوان باندھا ہے جس میں انھوں نے لکھا ھے کہ " اس حدیث میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بشارت دی گئی ہے ۔ (تبییض الصحیفۃ بمناقب ابی حنیفۃ 33:31)

امام ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب " الخیرات الحسان " میں باب باندھا ہے جیس کا عنوان ہے " امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حق میں وارد ہونے والی حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خوش خبری" امام ہیتمی نے اس باب کے ابتدائیہ میں امام جلال الدین سیوطی کی درج بالا تحقیق درج کرکے لکھا ہے کہ " یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث پاک سے امام ابو حنیفہ مراد ہیں کیونکہ آپ کے زمانے میں اہل فارس سے کوئی شخض بھی آپ کے مبلغ علم اور آپ کے شاگردوں کے درجہ علم تک نہیں پہنچا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 24،چشتی)
اس حدیث کے اولین مصداق صرف امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔کیونکہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اہل فارس سے کوئی بھی آپ کے علم وفضل تک نہ پہونچ سکا ۔ (تذکرۃ المحدثین صفحہ نمبر ٤٨)

غیر مقلد وھابی حضرات کے امام نواب صدیق حسن خاں بھوپالوی کو بھی اس امر کا اعتراف کرناپڑا ۔ لکھتے ہیں : ہم امام دراں داخل ست ۔ ترجمہ : امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس حدیث کے مصداق ہیں ۔ ( اتحاف النبلائ ٢٢٤ )

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و دیگر محدثین علیہم الرّحمہ کی اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیلئے یہ بشارت نہ تھی کہ آیت میں ،لمایلحقوبہم ،کے بارے میں سوال تھا اورجواب میں آئندہ لوگوں کی نشاندھی کی جارہی ہے ، لہٰذا وہ لوگ غلط فہمی کا شکارہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حدیث تو حضرت سلمان فارسی کیلئے تھی اوراحناف نے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر چسپاں کردی ۔ غور کریں کہ یہ دیانت سے کتنی بعید بات ہے ۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے شرف ملاقات بھی حاصل تھا ، آپ کے تمام انصاف پسند تذکرہ نگار اور مناقب نویس اس بات پر متفق ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو ائمہ اربعہ علیہم الرّحمہ میں کسی کو حاصل نہیں ۔ بلکہ بعض نے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کابھی ذکر کیا ہے ۔

علامہ ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو پایا ۔ آپ کی ولادت ٨٠ھ میں ہوئی ، اس وقت کوفہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت تھی ۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ٨٨ھ کے بعد ہواہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرہ میں موجود تھے اور 95ھ میں وصال فرمایا ۔ آپ نے انکو دیکھا ہے ۔ ان حضرات کے سوا دوسرے بلاد میں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی موجود تھے ۔ جیسے :حضرت واثلہ بن اسقع شام میں ۔وصال ٨٥ھ ۔ حضرت سہل بن سعد مدینہ میں ۔وصال ٨٨ھ ۔ حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ مکہ میں ۔وصال ١١٠ھ ۔ یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آخری ہیں جنکا وصال دوسری صدی میں ہوا ۔اور امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٩٣ھ میں انکو حج بیت اللہ کے موقع پر دیکھا ۔

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے خود امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا کہ : میں 93 ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گیا ،اس وقت میری عمر سولہ سال کی تھی ۔میں نے ایک بوڑھے شخص کودیکھا کہ ان پر لوگوں کا ہجوم تھا ،میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ بوڑھے شخص کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابی ہیں اور ان کا نام عبد اللہ بن حارث بن جز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، پھر میں نے دریافت کیا کہ ان کے پاس کیا ہے ؟ میرے والد نے کہا : ان کے پاس وہ حدیثیں ہیں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔ میں نے کہا : مجھے بھی ان کے پاس لے چلئے تاکہ میں بھی حدیث شریف سن لوں ، چنانچہ وہ مجھ سے آگے بڑھے اور لوگوں کو چیرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ میں ان کے قریب پہونچ گیا اور میں نے ان سے سنا کہ آپ کہہ رہے تھے ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من ثفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ وھمہ ورزقہ من حیث لایحسبہ ۔ (الخیرات الحسان،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے دین کی سمجھ حاصل کرلی اس کی فکروں کا علاج اللہ تعالیٰ کرتاہے اوراس کو اس طرح پر روزی دیتاہے کہ کسی کو شان و گمان بھی نہیں ہوتا۔علامہ کوثری کی صراحت کے مطابق پہلا حج ٨٧ھ میں سترہ سال کی عمر میں کیا ،اور دوسرا '٩٦'ھ میں ٢٦سال کی عمرمیں ۔ اور متعدد صحابہ کرام سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔ درمختار میں بیس اور خلاصہ اکمال میں چھبیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملاقات ہونا بیان کی گئی ہے ۔ بہر حال اتنی بات متحقق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملاقات ہوئی اور آپ بلاشبہ تابعی ہیں اوراس شرف میں اپنے معاصرین واقران مثلا امام سفیان ثوری ،امام اوزاعی ،امام مالک،اور امام لیث بن سعد پر آپ کو فضیلت حاصل ہے ۔ (قلائد العقیان)

لہذا آپ کی تابعیت کا ثبوت ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔ بلکہ آپ کی تابعیت کے ساتھ یہ امر بھی متحقق ہے کہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے احادیث کا سماع کیا اورروایت کیاہے ۔ تو یہ وصف بھی بلاشبہ آپ کی عظیم خصوصیت ہے ۔ بعض محدثین ومورخین نے اس سلسلہ میں اختلاف بھی کیا ہے لیکن منصف مزاج لوگ خاموش نہیں رہے ، لہذا احناف کی طرح شوافع نے بھی اس حقیقت کو واضح کردیا ہے ۔
علامہ عینی حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی صحابی رسول کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ھواحد من راٰہ ابوحنیفۃ من الصحابۃ وروی عنہ ولا یلتفت الی قول المنکر المتعصب وکان عمر ابی حنیفۃ حینئذ سبع سنین وھو سن التمییز ہذاعلی الصحیح ان مولد ابی حنیفۃ سنۃ ثمانین وعلی قول من قا ل سنۃ سبعین یکون عمر ہ حینئذ سبع عشرۃ سنۃ ویستبعدجدا ان یکون صحابی مقیما ببلدۃ وفی اہلہا من لارأہ واصحابہ اخبر بحالہ وہم ثقاۃ فی انفسہم ۔ (الفوائد المہمہ علامہ عمر بن عبدالوہاب عرضی شافعی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)
ترجمہ : عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ہیں جن کی امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیارت کی اور ان سے روایت کی قطع نظر کرتے ہوئے منکر متعصب کے قول سے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اس وقت سات سال کی تھی کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ کی ولادت 80 ھ میں ہوئی اور بعض اقوال کی بنا پر اس وقت آپکی عمر سترہ سال کی تھی۔ بہر حال سات سال عمر بھی فہم وشعور کاسن ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک صحابی کسی شہر میں رہتے ہوں اور شہر کے رہنے والوں میں ایسا شخص ہو جس نے اس صحابی کو نہ دیکھا ہو۔ اس بحث میں امام اعظم کی تلامذہ کی بات ہی معتبر ہے کیونکہ وہ ان کے احوال سے زیادہ واقف ہیں اور ثقہ بھی ہیں ۔ (الفوائد المہمہ علامہ عمر بن عبدالوہاب عرضی شافعی رحمۃ اللہ علیہ)

ملاعلی قاری امام کردری علیہما الرّحمہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں : قال الکردری جماعۃ من المحدثین انکر واملاقاتہ مع الصحابۃ واصحابہ اثبتوہ بالاسانید الصحاح الحسان وہم اعرف باحوالہ منہم والمثبت العدل اولی من النافی ۔
ترجمہ : امام کردری فرماتے ہیں کہ محدثین کی ایک جماعت نے امام اعظم کی صحابہ کرام سے ملاقات کا انکار کیا ہے اور انکے شاگردوں نے اس بات کو صحیح اور حسن سندوں کے ساتھ ثابت کیا ۔ (مرآۃ الجنان امام یافعی شافعی رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور ثبوت روایت نفی سے بہتر ہے ۔

مشہور محدث شیخ محمد طاہر ہندی نے کرمانی کے حوالہ سے لکھا ہے : واصحابہ یقولون انہ لقی جماعۃ من الصحابۃ وروی عنہم ۔ (تذکرۃ الحفاظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ملاقات کی ہے اور ان سے سماع حدیث بھی کیا ہے ۔

امام ابو معشر عبدالکریم بن عبدالصمد طبری شافعی نے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مرویات میں ایک مستقل رسالہ لکھا اور اس میں روایات مع سند بیان فرمائیں ۔ نیز ان کو حسن وقوی بتایا ۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات کو تبییض الصحیفہ میں نقل کیا ہے جن کی تفصیل یوں ہے ۔ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ حدیث پچاس طرق سے مجھے معلوم ہے اور صحیح ہے ۔ (تہذیب التہذیب)

حضرت امام ابو یوسف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : الدال علی الخیر کفاعلۃ ۔ (الکاشف) ۔ اس معنی کی حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔

حضرت امام ابو یوسف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورانہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : نیکی کی رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کے مثل ہے ۔ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : ان اللہ یحب اغاثۃ اللہفان ۔(تہذیب الکمال) ۔ضیاء مقدسی نے مختارہ میں اسکو صحیح کہا ۔

حضرت امام ابویوسف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا : بیشک اللہ تعالیٰ مصیبت زدہ کی دست گیری کو پسند فرماتاہے ۔عن یحی بن قاسم عن ابی حنیفۃ سمعت عبداللہ بن ابی اوفی یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : من بنی للہ مسجدا ولو کمفحص قطاۃ بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ۔ (جامع الاصول،چشتی) ۔ امام سیوطی فرماتے ہیں ،اس حدیث کا متن صحیح بلکہ متواتر ہے ۔

حضرت یحیی بن قاسم حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا کہ انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے اللہ کی رضا کیلئے سنگ خوار کے گڑھے کے برابر بھی مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس
کیلئے جنت میں گھر بنائے گا ۔عن اسمعیل بن عیاش عن ابی حنیفۃ عن واثلۃ بن اسقع ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال :دع مایریبک الی مالا یریبک ۔ (احیاء العلوم) ، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصحیح فرمائی ۔

حضرت اسمعیل بن عیاش حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شک وشبہ کی چیزوں کو چھوڑ کر ان چیزوں کو اختیار کرو جو شکوک وشبہات سے بالاتر ہیں ۔

ان تمام تفصیلات کی روشنی میں یہ بات ثابت ومتحقق ہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رویت وروایت دونوں سے مشرف ہوئے ۔یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ امام اعظم کے بعض سوانح نگا راپنی صاف گوئی اور غیر جانب داری کا ثبوت دیتے ہوئے وہ باتیں بھی لکھ گئے ہیں جن سے تعصب کا اظہار ہوتاہے ۔ان کے پیچھے حقائق تو کیا ہوتے دیانت سے بھی کام نہیں لیا گیا ۔اس سلسلہ میں علامہ غلام رسول سعیدی کی تصنیف تذکرۃ المحدثین سے ایک طویل اقتباس ملاحظہ ہو لکھتے ہیں : شبلی نعمانی نے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کے انکار پر کچھ عقلی وجوہات بھی پیش کئے ہیں لکھتے ہیں ۔ میرے نزدیک اس کی ایک اور وجہ ہے ۔ محدثین میں باہم اختلاف ہے کہ حدیث سیکھنے کیلئے کم از کم کتنی عمرشرط ہے ؟ اس امر میں ارباب کوفہ سب سے زیادہ احتیاط کرتے تھے یعنی بیس برس سے کم عمر کا شخص حدیث کی درسگاہ میں شامل نہیں ہوسکتا تھا ، ان کے نزدیک چونکہ حدیثیں بالمعنی روایت کی گئی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ طالب علم پوری عمر کو پہنچ چکا ہوورنہ مطالب کو سمجھنے اوراس کے اداکرنے میں غلطی کا احتمال ہے ،غالباً یہی قید تھی جس نے امام ابوحنیفہ کو ایسے بڑے شرف سے محروم رکھا ۔

(1) ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اہل کوفہ کایہ قاعدہ کہ سماع حدیث کیلئے کم ازکم بیس سال عمر درکار ہے ، کونسی یقینی روایت سے ثابت ہے ؟ امام صاحب کی مرویات صحابہ کیلئے جب یقینی اورصحیح روایت کامطالبہ کیاجاتاہے تواہل کوفہ کے اس قاعدہ کو بغیر کسی یقینی اور صحیح روایت کے کیسے مان لیا گیا ؟

(2) یہ قاعدہ خود خلاف حدیث ہے کیونکہ صحیح بخاری میں امام بخاری نے متی یصح سماع الصغیر کاباب قائم کیا ہے اس کے تحت ذکرفرمایاہے کہ محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پانچ سال کی عمر میں سنی ہوئی حدیث کو روایت کیاہے ،اس کے علاوہ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے وقت چھ اورسات سال تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت تیرہ سال تھی ،اور یہ حضرات آپ کے وصال سے کئی سال پہلے کی سنی ہوئی احادیث کی روایت کرتے تھے ۔ پس روایت حدیث کیلئے بیس سال عمرکی قید لگانا طریقہ صحابہ کے مخالف ہے اور کوفہ کے ارباب علم وفضل اوردیانت دار حضرات کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے اتنی جلدی صحابہ کی روش کو چھوڑدیاہوگا ۔

(3) برتقدیر تسلیم گزارش یہ ہے کہ اہل کوفہ نے یہ قاعدہ کب وضع کیا ،اس بات کی کہیں وضاحت نہیں ملتی ۔اغلب اورقرین قیاس یہی ہے کہ جب علم حدیث کی تحصیل کاچرچا عام ہوگیا اور کثرت سے درس گاہیں قائم ہوگئیں اوروسیع پیمانے پر آثار وسنن کی اشاعت ہونے لگی ،اس وقت اہل کوفہ نے اس قید کی ضرورت کو محسوس کیاہوگا تاکہ ہرکہ ومہ حدیث کی روایت کرنا شروع نہ کردے ،یہ کسی طرح بھی باور نہیں کیاجاسکتا کہ عہد صحابہ میں ہی کوفہ کے اندر باقاعدہ درس گاہیں بن گئیں اوران میں داخلہ کیلئے قوانین اورعمر کا تعین بھی ہوگیا تھا ۔

(4) اگریہ مان بھی لیاجائے کہ ٨٠ھ ہی میں کوفہ کے اندر باقاعدہ درسگاہیں قائم ہوگئی تھیں اوران کے ضوابط اورقوانین بھی وضع کئے جاچکے تھے توان درس گاہوں کے اساتذہ سے سماع حدیث کیلئے بیس برس کی قید فرض کی جاسکتی ہے مگر یہ حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفی وغیرہ ان درس گاہوں میں اساتذہ تو مقررتھےنہیں کہ ان سے سماع حدیث بھی بیس سال کی عمر میں کیا جاتا ۔

(5) بیس برس کی قید اگر ہوتی بھی توکوفہ کی درس گاہوں کے لئے اگر کوفہ کاکوئی رہنے والا بصرہ جاکر سماع حدیث کرے تویہ قید اس پر کیسے اثر انداز ہوگی ؟ حضرت انس بصرہ میں رہتے تھے اورامام اعظم ان کی زندگی میں بارہابصرہ گئے اور ان کی آپس میں ملاقات بھی ثابت ہے توکیوں نہ امام صاحب نے ان سے روایت حدیث کی ہوگی ۔

(6) اگر بیس سال عمر کی قید کو بالعموم بھی فرض کرلیا جائے توبھی یہ کسی طور قرین قیاس نہیں ہے کہ حضرات صحابہ کرام جن کا وجود مسعود نوادرروزگار اور مغتنمات عصر میں سے تھا ان سےاز راہ تبرک وتشرف احادیث کے سماع کیلئے بھی کوئی شخص اس انتظار میں بیٹھا رہے گا کہ میری عمر بیس سال کو پہنچ لے تومیں ان سے جاکر
ملاقات اور سماع حدیث کروں ۔حضرت انس کے وصال کے وقت امام اعظم کی عمر پندرہ برس تھی اورامام کردری فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں امام اعظم بیس سے زائد مرتبہ بصرہ تشریف لے گئے ۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ امام اعظم پندرہ برس تک کی عمر میں بصرہ جاتے رہے ہوں اور حضرت انس سے مل کر اوران سے سماع حدیث کرکے نہ آئے ہوں ،راوی اورمروی عنہ میں معاصرت بھی ثابت ہوجائے توامام مسلم کے نزدیک روایت مقبول ہوتی ہے ۔ یہاں معاصرت کے بجائے ملاقات کے بیس سے زیادہ قرائن موجود ہیں پھر بھی قبول کرنے میں تامل کیا جارہا ہے ۔

محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ العزیز کہ ہم نے اصول روایت اورقرائن عقلیہ کی روشنی میں اس امر کو آفتاب سے زیادہ روشن کردیا ہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت حدیث کا شرف حاصل تھا اوراس سلسلے میں جتنے اعتراضاف کئے جاتے ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو کرلی ہے ۔ اس کے باوجود بھی ہم نے جو کچھ لکھا وہ ہماری تحقیق ہے ہم اسے منوانے کیلئے ہرگزاصرار نہیں کرتے ۔ (تہذیب الاسماء واللغات نووی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذہ

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کثیر شیوخ واساتذہ سے علم حدیث حاصل کیا ،ان میں سے بعض کے اسماء یہ ہیں ۔

عطاء بن ابی رباح ،حماد بن ابی سلیمان ،سلیمان بن مہران اعمش ،امام عامر شعبی ، عکرمہ مولی ابن عباس ،ابن شہاب زہری ،نافع مولی بن عمر ،یحیی بن سعید انصاری ،عدی بن ثابت انصاری ، ابوسفیان بصری ،ہشام بن عروہ ،سعید بن مسروق، علقمہ بن مرثد ،حکم بن عیینہ ، ابواسحاق بن سبیعی ،سلمہ بن کہیل ،ابوجعفر محمد بن علی ، عاصم بن ابی النجود ،علی بن اقمر ،عطیہ بن سعید عوفی ، عبدالکریم ابوامیہ ،زیاد بن علاقہ ۔سلیمان مولی ام المومنین میمونہ ،سالم بن عبداللہ ، علیہم الرّحمہ ۔

چونکہ احادیث فقہ کی بنیاد ہیں اور کتاب اللہ کے معانی ومطالب کے فہم کی بھی اساس ہیں لہذا امام اعظم نے حدیث کی تحصیل میں بھی انتھک کوشش فرمائی ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ حدیث کادرس شباب پرتھا ۔تمام بلاد اسلامیہ میں اس کا درس زور وشور سے جاری تھا اورکوفہ تو اس خصوص میں ممتاز تھا ۔کوفہ کا یہ وصف خصوصی امام بخاری کے زمانہ میں بھی اس عروج پرتھا کہ خودامام بخاری فرماتے ہیں ،میں کوفہ اتنی بار حصول حدیث کیلئے گیا کہ شمار نہیں کرسکتا۔

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حصول حدیث کا آغاز بھی کوفہ ہی سے کیا ۔ کوفہ میں کوئی ایسا محدث نہ تھا جس سے آپ نے حدیث اخذ نہ کی ہو ۔ابوالمحاسن شافعی نے فرمایا :۔ تر انوے وہ مشائخ ہیں جو کوفے میں قیام فرماتھے یاکوفے تشریف لائے جن سے امام اعظم نے حدیث اخذ کی ۔ان میں اکثر تابعی تھے ۔ بعض مشائخ کی تفصیل یہ ہے ۔

امام عامر شعبی :۔انہوں نے پانچسو صحابہ کرام کا زمانہ پایا ،خود فرماتے تھے کہ بیس سال ہوئے میرے کان میں کوئی حدیث ایسی نہ پڑی جسکا علم مجھے پہلے سے نہ ہو ۔ امام اعظم نے ان سے اخذحدیث فرمائی ۔

امام شعبہ : انہیں دوہزار حدیثیں یادتھیں ،سفیان ثوری نے انہیں امیرالمومنین فی الحدیث کہا ،امام شافعی نے فرمایا : شعبہ نہ ہوتے توعراق میں حدیث اتنی عام نہ ہوتی ۔امام شعبہ کو امام اعظم سے قلبی لگاؤ تھا ،فرماتے تھے ،جس طرح مجھے یہ یقین ہے کہ آفتاب روشن ہے اسی طرح یقین سے کہتاہوں کہ علم اورابو حنیفہ ہمنشیں ہیں ۔

امام اعمش : ۔مشہور تابعی ہیں شعبہ وسفیان ثوری کے استاذ ہیں ،حضرت انس اورعبداللہ بن ابی اوفی سے ملاقات ہے ۔ امام اعظم آپ سے حدیث پڑھتے تھے اسی دوران انہوں نے آپ سے مناسک حج لکھوائے ۔واقعہ یوں ہے کہ امام اعمش سے کسی نے کچھ مسائل دریافت کئے ۔انہوں نے امام اعظم سے پوچھا ۔آپ کیاکہتے ہیں ؟ حضرت امام اعظم نے ان سب کے حکم بیان فرمائے ۔امام اعمش نے پوچھا کہاں سے یہ کہتے ہو ۔فرمایا۔آپ ہی کی بیان کردہ احادیث سے اور ان احادیث کو مع سندوں کے بیان کردیا ۔امام اعمش نے فرمایا ۔ بس بس ،میں نے آپ سے جتنی حدیثیں سودن میں بیان کیں آپ نے وہ سب ایک دن میں سناڈالیں ۔میں نہیں جانتا تھا کہ آپ ان احادیث میں یہ عمل کرتے ہیں ۔

یامعشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایہا الرجل اخذت بکلاالطرفین۔

اے گروہ فقہاء !تم طبیب ہواور ہم محدثین عطار اورآپ نے دونوں کو حاصل کرلیا ۔

امام حماد :۔امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم استاذ حدیث وفقہ ہیں اور حضرت انس سے حدیث سنی تھی بڑے بڑے ائمہ تابعین سے ان کو شرف تلمذ حاصل تھا ۔

سلمہ بن کہیل :۔تابعی جلیل ہیں ،بہت سے صحابہ کرام سے روایت کی ۔کثیرالروایت اور صحیح الروایت تھے ۔

ابواسحاق سبیعی ۔ علی بن مدینی نے کہا انکے شیوخ حدیث کی تعداد تین سو ہے ۔ان میں اڑتیس صحابہ کرام ہیں ۔ عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر ، عبد اللہ بن زبیر، نعمان بن بشیر ،زید بن ارقم سرفہرست ہیں۔
کوفہ کے علاوہ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ میں آپ نے ایک زمانہ تک علم حدیث حاصل فرمایا: چونکہ آپ نے پچپن حج کئے اس لئے ہرسال حرمین شریفین زادھما اللہ شرفا وتعظیما میں حاضری کا موقع ملتاتھا اور آپ اس موقع پر دنیا ئے اسلام سے آنے والے مشائخ سے اکتساب علم کرتے ۔

مکہ معظمہ میں حضرت عطاء بن ابی رباح سرتاج محدثین تھے ،دوسرے صحابہ کرام کی صحبت کا شرف حاصل تھا ۔ محدث ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم مجتہد وفقیہ تھے ۔ حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ عطاء کے ہوتے ہوئے میرے پاس کیوں آتے ہیں ۔ ایام حج میں اعلان عام ہوجاتا کہ عطاء کے علاوہ کوئی فتوی نہ دے ۔ اساطین محدثین امام اوزاعی ،امام زہری ، امام عمروبن دینار انکے شاگردتھے۔ امام اعظم نے اپنی خداداد ذہانت وفطانت سے آپ کی بارگاہ میں وہ مقبولیت حاصل کرلی تھی آپ کو قریب سے قریب تر بٹھاتے ۔ تقریباً بیس سال خدمت میں حج بیت اللہ کے موقع پر حاضر ہوتے رہے ۔

حضرت عکرمہ کا قیام بھی مکہ مکرمہ میں تھا ، یہ جلیل القدر صحابہ کے تلمیذ ہیں۔ حضرت علی،حضرت ابوہریرہ ، ابوقتادہ ، ابن عمر اورابن عباس کے تلمیذ خاص ہیں ۔ستر مشاہیر ائمہ تابعین انکے تلامذہ میں داخل ہیں ۔امام اعظم نے ان سے بھی حدیث کی تعلیم حاصل کی۔

مدینہ طیبہ میں سلیمان مولی ام المومنین میمونہ اورسالم بن عبداللہ سے احادیث سنیں ۔

ان کے علاوہ دوسرے حضرات سے بھی اکتساب علم کیا ۔

بصرہ کے تمام مشاہیر سے اخذ علم فرمایا ،یہ شہر حضرت انس بن مالک کی وجہ سے مرکز حدیث بن گیا تھا۔ امام اعظم کی آمد ورفت یہاں کثرت سے تھی ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپکی ملاقات بصرہ میں بھی ہوئی اورآپ جب کوفہ تشریف لائے اس وقت بھی ۔ غرضکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو حصول حدیث میں وہ شرف حاصل ہے جو دیگر ائمہ کو نہیں ، آپ کے مشائخ میں صحابہ کرام سے لیکر کبار تابعین اورمشاہیر محدثین تک ایک عظیم جماعت داخل ہے اور آپ کے مشائخ کی تعداد چارہزار تک بیان کی گئی ہے ۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے تلامذہ : آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علم حدیث وفقہ حاصل کرنے والے بے شمار ہیں ، چند مشاہیر کے اسماء اس طرح ہیں ۔امام ابو یوسف ،امام محمد بن حسن شیبانی ،امام حماد بن ابی حنیفہ ، امام مالک ،امام عبداللہ بن مبارک ،امام زفربن ہذیل ،امام داؤد طائی ،فضیل بن عیاض ،ابراہیم بن ادہم ،بشربن الحارث حافی ، ابوسعید یحی بن زکریاکوفی ہمدانی ،علی بن مسہر کوفی ، حفص بن غیاث ،حسن بن زناد ، مسعر بن کدام ،نوح بن درا ج نخعی ،ابراہیم بن طہران ،اسحاق بن یوسف ازرق ،اسد بن عمر وقاضی ،عبدالرزاق ،ابونعیم ،حمزہ بن حبیب الزیات ،ابو یحیی حمانی ،عیسی بن یونس ،یزید بن زریع ،وکیع بن جراح ، ہیثم، حکام بن یعلی رازی ،خارجہ بن مصعب ،عبدالحمید بن ابی داؤد ، مصعب بن مقدام ،یحیی بن یمان ،لیث بن سعد ،ابو عصمہ بن مریم ،ابو عبدالرحمن مقری ،ابوعاصم علیہم الرّحمہ ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304181115151268/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*امت کا چراغ*

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلی سوادِ اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

اسلام حدود عرب کو پار کرتا ہوا اہل عجم کے دلوں میں جگہ بنا رہا تھا..... ایک طرف نو مسلموں کی تعداد بڑھ رہی تھی ، تو دوسری جانب قدیم مسلمانوں کی نئی پیڑھی جوان ہوچکی تھی.... دونوں ہی قسم کے افراد کما حقہ قرآن وحدیث سے اخذ مسائل کی صلاحیت سے محروم تھے....(الا ماشاء اللہ)
کس آیت کا کیا مفہوم ہے ، کتنے مسائل نکلتے ہیں ؟ یہ بتانے والے صحابہ بھی ایک کرکے رخصت ہو رہے تھے.... ایسے ماحول میں اہل عجم کی قسمت کا سورج طلوع ہوا..... سرزمین عرب سے ظاہر ہونے والے دین کی تعبیر وتشریح کے لئے مبدأ قدرت نے ثابت بن نعمان کوفی کا گھر منتخب فرمایا ، اور ان کے گھر پر ایک سعادت مند بچے کی پیدائش ہوئی
یہ مبارک زمانہ 80 ھ کا تھا ،اور رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ بقید حیات تھے..... یعنی بہترین زمانوں میں دوسرا زمانہ ابھی باقی تھا..... ادھر جناب ثابت کا نور نظر علم وفن کی منزلیں طے کر رہا تھا..... فیاضی قدرت سے اعلی درجہ کی ذہانت پائی تھی..... دن ہفتوں ، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے ہوئے گزرتے رہے یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے جناب ثابت کا بیٹا *نعمان* ایک خوب رو جوان کی شکل اختیار کر گیا....ابتدائی تعلیم کے بعد آبائی پیشے تجارت کو اختیار کرکے خوب نام کمایا..... مگر قدرت نے اس نوجوان کو محض تجارت کے لئے نہیں پیدا کیا تھا....اس لئے لامحالہ اس نوجوان کو حصول علم کی جانب راغب ہونا ہی تھا....تحصیل علم کی جانب رغبت کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے ، اوائل جوانی میں ایک اچھے تاجر کی شناخت رکھتے تھے..... ایک دن راستے میں محدث وقت حضرت عامر شعبی مل گئے ، پوچھا اے جوان ! کہاں جارہے ہو؟
عرض کی فلاں تاجر کے پاس، حضرت عامر شعبی نے کہا میں سمجھا تم علما کے پاس جارہے ہو.....عرض کی، میرا علما کے پاس جانا ذرا کم ہی ہوتا ہے ،
اتنا سن کر جناب شعبی نے فرمایا:
*"غفلت میں نہ پڑو ، خود کو تحصیل علم میں لگاؤ ، علما کی مجلسوں میں جایا کرو ، میں تم میں بیدار مغزی اور کھوج لگانے کا مادہ دیکھتا ہوں"*
اتنا سنتے ہی دل کی دنیا میں ایک تلاطم برپا ہوگیا...... بازار ، تجارت کی محبت دل سے نکل گئی اور کسب علم کا جذبہ ایسا بیدار ہوا کہ سب کچھ چھوڑ کر راہ علم کو اختیار کیا...تحصیل علم کا جنون وجذبہ اس قدر تھا کہ آپ کے مشائخ واساتذہ کی تعداد قریب چار ہزار بتائی جاتی ہے !!!

طویل عرصے تک حصول علم کے بعد یہ نوجوان جب منظر عام پر آیا تو
آنکھوں میں علم کی گہرائی ، پیشانی پر وراثت نبوی کا تاج زریں ، دل میں خدمت کتاب وسنت کا جذبہ بے کراں، موجیں مار رہا تھا....
یہی جذبہ اس نوجوان کو آل رسول ، فاطمی پھول سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ سیادت میں لے گیا...... علم وفن ، فکرو شعور کی دولت تو پہلے ہی سے موجود تھی ، اب ایک بزرگ کی صحبت ملی تو اثر سہ آتشہ ہوگیا ، علم وفن ، شعور و ادراک ، دقت نظر ، فکر وآگہی ، اور خدمت کتاب وسنت کے جذبے سے سرشار یہ خوش بخت نوجوان جب عملی دنیا میں وارد ہوا تو ہر چہار جانب ایک دھوم مچ گئی..... نعمان بن ثابت کا آفتاب علم نصف النہار پر چمکا...... کتاب وسنت سے اخذِ مسائل کے قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے..... عوام الناس کے لئے عمل کرنا آسان ہوتا گیا..... کشاں کشاں طلبائے اسلام اس آفتاب علم کے ارد گرد جمع ہوتے گئے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک علمی کہکشاں بن گئی..... اب متبحر علما کی ایک بڑی جماعت موجود تھی ، جس کے افراد اجتہادی صلاحیتوں سے مالامال تھے..... فضل خداوندی شامل حال تھا ، عنایت مصطفیٰ قدم بقدم نگہبان تھی...مصطفیٰ جان رحمت کی اس بشارت کا وقت قریب آرہا تھا جو آپ نے فرمایا تھا
*" اگر علم ثریا ستارے پر بھی پہنچ جائے گا تو فارس کے بیٹے اسے اتار لائیں گے"*
ایسا ہی ہوا ، اس حدیث کا فرد کامل بن کر جناب ثابت کے گھر پیدا ہونے والے نعمان بن ثابت نے اپنے خداداد علم سے زمانے کو منور کر دیا.....تیس سال تک آپ کے علم سے طالبان علوم نبویہ فیض یاب ہوتے رہے ، فیض رسانی کا یہ عالم تھا کہ آپ کی خصوصی تعلیم وتربیت سے ہزاروں فقیہ پیدا ہوئے..... علامہ کردری کی روایت کے مطابق آٹھ سو(800) ایسے شاگرد گزرے ہیں جو فقہا ومحدثین کی صف میں نمایاں ہیں.... بقیہ عام شاگردوں کی تعداد اس پر مستزاد !!!
امام بخاری کے استاذ امام مکی بن ابراہیم اسی بارگاہ کے شاگرد تھے ، یعنی امام بخاری کی خدمتِ حدیث اسی بارگاہ کا فیضان ہے.......آپ کے شاگردوں میں وقت کے جید ترین علما شامل تھے ، ان افراد میں بھی آپ نے انتہائی مخصوص افراد کو لیکر تدوین فقہ کی مجلس تشکیل دی ، جس کے قریب 50 ارکان کے نام کتب سیر میں درج ہیں ان عظیم المرتبت ائمہ میں امام ابو یوسف،امام زفر، امام محمد بن حسن شیبانی، اور علی بن مسہر کوفی جیسے افراد شامل ہیں.....علم وفن اور فقہ اسلامی کی بے مثال خدمت نے آپ کی شہرت کو چہار دانگ عالم میں
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
پھیلا دیا ، اور
*جو نوجوان کل تک نعمان بن ثابت کے نام سے جانا جاتا تھا وہ علمی دنیا کا "امام اعظم" بن چکا تھا.....*
جس کی درس گاہ کی شہرت زمانے میں تھی.... جس کی بارگاہ میں ہر لاینحل مسئلے کا جواب موجود تھا !!
صحبت صحابہ کی برکت سے تابعیت کا تاج زریں مل ہی چکا تھا..... اس اعزاز کی برکت سے اقوال قرآن و حدیث میں منشا خدا ورسول سمجھنے کا جو ملکہ حاصل ہوا وہ صحبت صحابہ کی برکتوں کا نتیجہ تھی !!

آخر کار اس خواب کی تعبیر ظاہر ہوئی جو آپ نے دیکھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف سے مٹی نکال رہے ہیں.... یہ خواب دیکھ کر بے حد پریشان ہوئے اور ایک عزیز کے ذریعے امام محمد بن سیرین سے اس کی تعبیر معلوم فرمائی تو انہوں نے فرمایا :
*"ھٰذا رجل ینبش اخبار النبی صلی اللہ علیہ وسلم"*
یہ شخص اپنے علم وفضل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے مسائل کا استخراج اور نئے امور کی عقدہ کشائی کرے گا....
ایسا ہی ہوا سیدنا امام اعظم نے اپنے علم وفن سے پوری کائنات کو روشن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کو اس احسن انداز میں دنیا کے سامنے ظاہر کیا کہ
*امام شافعی پکار اٹھے:*
*"جو بھی علم فقہ حاصل کرنا چاہے وہ امام اعظم ابو حنیفہ کی شاگردی اختیار کرے"*
خطیب بغدادی نے یوں خراج عقیدت پیش کیا:
*"روئے زمین کے سب سے بڑے عالم امام اعظم ابو حنیفہ ہیں"*

آج امام اعظم کے دبستان فقہ سے فیض حاصل کرنے والے اہل ایمان کل تعداد کے دو تہائی ہیں.جو نسبت ابو حنیفہ سے حنفی کہلاتے ہیں..... ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش ، افغانستان ، عراق ،مصر ،بر اعظم افریقہ ، تیونس ، الجزائر ،امریکہ ،یوروپ ،روس ، ترکستان ،ترکی ، آذربائیجان ، آرمینیہ ، اور عرب ممالک میں بھی امام اعظم ابو حنیفہ کے دبستان سے فیض یاب ہونے والے سب سے بڑی تعداد میں ہیں.
آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
ان فی امتی رجلا اسمه النعمان وکنیته ابو حنیفة ھو سراج امتي ، هو سراج امتي هو سراج امتي ...
میری امت میں ایک شخص ہوگا جس کا نام نعمان ، کنیت ابو حنیفہ ہوگی ، وہ میری امت کا چراغ ہوگا !!!

آئیے آج امام اعظم کے یوم وصال کو یوم امام اعظم کے طور پر منائیں اور اپنے امام کے حضور عقیدتوں کا نذرانہ پیش کریں.....

نہ کیوں کریں ناز اہل سنت، کہ تم سے چمکا نصیبِ امت
سراجِ امت ملا ہو تم سا، امام اعظم ابو حنیفہ

مؤرخہ 2 شعبان المعظم 1441ھ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ سے والہانہ محبت

*مشہور محدث ، شاگرد امام اعظم ابو حنیفہ، استاذ امام احمد بن حنبل و محمد بن یحیی ذہلی، مسندالعراق ،ایک لاکھ حدیثوں کے حافظ حضرت علی بن عاصم واسطی علیہ الرحمہ*

کو امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت علیہ الرحمہ سے روحانی تعلق اور والہانہ محبت تھی
آپ پر جب بھی بے چینی طاری ہوتی
آپ کے شاگرد امام اعظم کا ذکر خیر شروع کردیتے
پھر آپ امام اعظم کے ذکر جمیل میں ایسے مشغول ہوتے کہ آپ پر چھائی بے چینی دور ہوجاتی ، آپ چست ہوجاتے اور پھر درس حدیث میں مشغول ہوجاتے تھے

آپ کے بیٹے عاصم بن علی بن عاصم واسطی بھی خلیفہ معتصم باللہ کے دور کے بہت بڑے محدث گزرے ہیں
آپ کے حلقہ درس حدیث میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد لوگ شامل ہوتے تھے اور آپ کے درس میں ہارون نامی بلند آواز شخص کھجور کے درخت پر چڑھ کر شیخ صاحب کی تقریر کو آگے پہچایا کرتے تھے

اللہ کریم ان محدثین کا صدقہ عطا فرمائے اور امام اعظم کی سچی محبت نصیب فرمائے

(اولیاء رجال الحدیث ۔١٧٣)

#محمد_ساجد_مدنی
Date 20-9-2020
👍1
امام اعظم ابو حنیفہ سے والہانہ محبت
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور مجوسی قرض دار🕯*


📬 امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:
’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے اس مجوسی کے گھر کی طرف گئے۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی۔
یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے۔
وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی۔
امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں(دیوار کی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ 
*(تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)*

*قرض کی ادائیگی کے لئے دعا:*
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمایئے۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ 
یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے۔
*(ترمذی، احادیث شتی،۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)*


*المرتب📝 شمـــس تبـــریز نـــوری امجـــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 966551830750+📲*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚امام اعظم افضل ہیں یا غوث اعظم📚*


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کہ بارگاہ میں عرض ہیکہ امام اعظم افضل ہیں یا غوث اعظم ؟
جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا۔

*سائل: محمد رضا برکاتی نیپـال*


*وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ*

*📝الجواب ⇩*
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا سے سوال ہوا کہ امام اعظم ابو حنیفہ افضل ہیں حضرت غوث اعظم پر یا عکس اس کا ؟ تو جواب میں امام احمد رضا یوں گویا ہوئے کہ " امام عبد الوہاب شعرانی میزان الشریعہ الکبریٰ میں فرماتے ہیں کہ
*" الامام ابو حنیفة رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سئل عن الاسود والعطا وعلقمة ایهم افضل فقال وﷲ ما نحن باهل ان نذکرهم فکیف نفاضل بینهم "*
یعنی ایک روز امام اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے سوال ہوا امام علقمہ و امام اسود شاگردان حضرت سیدنا عبد ﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہم میں کون افضل تھا ؟ فرمایا " ہم ان کے ذکر کرنے کے قابل نہیں نہ کہ ان میں ایک کو دوسرے سے افضل بتائیں ۔ حضرت امام رضی ﷲ عنہ کا یہ ارشاد تواضعاً تھا اور یہاں قطعاً حقیقت امر ہے، حاشا ﷲ ! ہمارے منہ اس قابل نہیں کہ حضور سیدنا امام اعظم یا حضور سیدنا غوث اعظم رضی ﷲ عنہما کا نام پاک اپنی زبان سے لیں ، یہ بھی رحمت الٰہیہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوبوں کے ذکر کی اجازت دی ہے ، ہم کس منہ سے ان میں تفاصل بیان کریں وہ ہماری شریعت کے امام اور یہ ہماری طریقت کے امام ۔
اور یہاں اسی میزان میں انہیں امام شعرانی کا یہ قول
*" اعتقادنا ان أكابر الصحابة و التابعين و الائمة المجتهدين كان مقامهم اكبر من مقام باقى الأولياء بيقين "*
وارد ہے کہ حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ بلا شبہ واصلان عین الشریعة الکبری کے سرداروں میں سے ہیں اور اس کے واصلوں کو یہی امام شعرانی اسی میزان میں فرماتے ہیں کہ
*" من أشرف على عين الشريعة الاولى يشارك المجتهدين فى الاغتراف من عین الشریعة فانه ما ثم احدحق له قدم الولایة الحمدیة الا و یصیر یاخذ احکام شرعه صلی الله علیه وسلم من حیث اخذھا المجتھدون و ینفك عنه التقلید لجمیع العلماء الا لرسول الله صلی الله تعالیٰ علیه وسلم ثم ان نفد عن احد من الاولیاء انه کان شافعیا او حنفیا مثلاً فذلك قبل ان یصل مقام الکمال "*
یعنی جو عین شریعت کے چشمہ صافی پر پہنچ جاتا ہےتو وہ اس نہر حقیقت سے چلو لینے میں مجتہدین کا شریک و سہیم ہوتا ہے اور جو شخص ولایت محمدیہ کے درجے اعظمی پر فائز ہو جاتا ہے وہ وہیں سے احکام حاصل کرتا ہے جہاں سے ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ تعالی علیہم اجمعین اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام علمائے امت کی تقلید سے آزادی ہے اور بعض اولیاء کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ حنفی یا شافعی تھے وغیرہ تو یہ ان حضرات کے مقام کمال تک پہنچنے سے پہلے کی بات ہے ۔
حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ محی الدین ہیں احیاء دین کے لئے قائم کئے گئے اور مذہب حنبلی اسلام کا ربع ہے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا جعلتک ربع الاسلام ہم نے تمہیں اسلام کا چہارم کیا ۔ یہ مذہب قریب اندراس تھا لہذا اس کے احیاء کے لئے اس پر افتاء فرماتے ہاں حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے حضرات عالیہ امام مالک اور امام شافعی و امام احمد من بعدہم من الائمہ الکرام رضی اللہ تعالی عنہ پر فضل تابعیت ہے تابعیت امام تابعی ہیں *" رای انسا رضی اللہ تعالی عنہ "* اور باقی حضرات میں کوئی تابعی نہیں *" وما وقع من علی القاری فی المرقاہ من تابعہ الامام مالک رضی اللہ تعالی عنہ فسہو ظاہر لا یلتفت الیہ* اور ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالی علیہ سے مرقات میں جو یہ سہو واقع ہوا کہ حضرت امام مالک تابعی ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ قابل التفات نہیں گدائے قادری عرض کرتا ہے "
صحابیت ہوئی پہر تابعیت بس آگے قادری منزل ہے یا غوث
ہزاروں تابعی سے تو فزوں ہاں وہ طبقہ مجملا فاضل ہے یا غوث "
*( 📚فتاوی رضویہ ج 11 ص 32 : رضا اکیڈمی ممبئی )*

*واللہ اعلم بالصواب*



*✍🏻شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*+917666456313*

*الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مولانا تاج محمد صاحب قبلہ اترولہ*
👍1