🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
طرح کی پھیلائی گئی غلط فہمی کے ازالہ کیلئے کتابیں تصنیف فرمائیں ۔علم حدیث میں امام اعظم کو بعض ایسی خصوصیات حاصل ہیں جن میں کوئی دوسرامحدث شریک نہیں ۔

امام اعظم کی مرویات کے مجموعے چار قسم کے شمار کئے گئے ہیں جیسا کہ شیخ محمد امین نے وضاحت سے ’’مسانید الامام ابی حنیفہ ‘‘ میں لکھا ہے ۔

کتاب الآثار ۔مسند امام ابو حنیفہ ۔ اربعینات ۔وحدانیات ۔

متقدمین میں تصنیف وتالیف کا طریقہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے لائق وقابل فخر تلامذہ کو املا کراتے ،یاخود تلامذہ درس میں خاص چیزیں ضبط تحریر میں لے آتے ،اسکے بعد راوی کی حیثیت سے ان تمام معلومات کو جمع کرکے روایت کرتے اورشیخ کی طرف منسوب فرماتے تھے ۔

کتاب الآثار ۔ امام اعظم نے علم حدیث وآثار پر مشتمل کتاب الآثار ،یونہی تصنیف فرمائی ، آپ نے اپنے مقرر کردہ اصول وشرائط کے مطابق چالیس ہزار احادیث کے ذخیرہ سے اس مجموعہ کا انتخاب کرکے املا کرایا ۔قدرے تفصیل گذر چکی ہے ۔ کتاب میں مرفوع ،موقوف ، اورمقطوع سب طرح کی احادیث ہیں ۔ کتاب الآثار کے راوی آپکے متعددتلامذہ ہیں جنکی طرف منسوب ہوکر علیحدہ علیحدہ نام سے معروف ہیں اور مرویات کی تعداد میں بھی حذف واضافہ ہے ۔

عام طور سے چند نسخے مشہور ہیں: ۔

۱۔ کتاب الآثار بروایت امام ابویوسف ۔

۲۔ کتاب الآثار بروایت امام محمد ۔

۳۔ کتاب الآثار بروایت امام حماد بن امام اعظم ۔

۴۔ کتاب الآثار بروایت حفص بن غیاث ۔

۵۔ کتاب الآثار بروایت امام زفر (یہ سنن زفر کے نام سے بھی معروف ہوئی )

۶۔ کتاب الآثار بروایت امام حسن بن زیاد

ان میں بھی زیادہ شہرت امام محمد کے نسخہ کو حاصل ہوئی ۔

امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :۔

روی الآثار عن نبل ثقات ۔غزارالعلم مشیخۃ حصیفۃ۔

امام اعظم نے الآثار ،کوثقہ اورمعززلوگوں سے روایت کیا ہے جو وسیع العلم اورعمدہ مشائخ تھے ۔

علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ۔

والموجود من حدیث ابی حنیفۃ مفرداانما ھوکتاب الآثار التی رواہ محمد بن الحسن ۔

اور اس وقت امام اعظم کی احادیث میں سے کتاب الآثار موجود ہے جسے امام محمد بن حسن نے روایت کیا ہے ۔ اس میں مرفوع احادیث ۱۲۲ ہیں ۔

امام ابویوسف کا نسخہ زیادہ روایات پر مشتمل ہے ،امام عبدالقادر حنفی نے امام ابویوسف کے صاحبزادے یوسف کے ترجمہ میں لکھا ہے:۔

روی کتا ب الآثار عن ابی حنیفۃ وھو مجلد ضخم ۔

یوسف بن ابویوسف نے اپنے والد کے واسطہ سے امام اعظم ابو حنیفہ سے کتاب الآثار کو روایت کیا ہے جو ایک ضخیم جلد ہے ، اس میں ایک ہزار ستر (۱۰۷۰) احادیث ہیں ۔

مسند امام ابوحنیفہ : یہ کتاب امام اعظم کی طرف منسوب ہے ،اسکی حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جن شیوخ سے احادیث کو روایت کیا ہے بعد میں محدثین نے ہرہر شیخ کی مرویات کو علیحدہ کرکے مسانید کو مرتب کیا ۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہاجاسکتاہے کہ آپ نے تدوین فقہ اوردرس کے وقت تلامذہ کو مسائل شرعیہ بیان فرماتے ہوئے جو دلائل بصورت روایت بیان فرمائے تھے ان روایات کو آپکے تلامذہ یابعد کے محدثین نے جمع کرکے مسند کانام دیدیا ۔ان مسانید اورمجموعوں کی تعداد حسب ذیل ہے ۔

۱۔ مسندالامام مرتب امام حماد بن ابی حنیفہ

۲۔ مسندالامام مرتب امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری

۳۔ مسندالامام مرتب امام محمد بن حسن الشیبانی

۴۔ مسندالامام مرتب امام حسن بن زیاد ثولوی

۵۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو محمد عبداللہ بن یعقوب الحارث البخاری

۶۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو القاسم طلحہ بن محمد بن جعفر الشاہد

۷۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالحسین محمد بن مظہر بن موسی

۸۔ مسندالامام مرتب حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانی

۹۔ مسندالامام مرتب الشیخ الثقۃ ابوبکر محمد بن عبدالباخی الانصاری

۱۰۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی

۱۱۔ مسندالامام مرتب حافظ عمربن حسن الاشنانی

۱۲۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوبکر احمدبن محمد بن خالد الکلاعی

۱۳۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوعبداللہ حسین بن محمد بن خسروالبلخی

۱۴۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو القاسم عبداللہ بن محمد السعدی

۱۵۔ مسندالامام مرتب حافظ عبداللہ بن مخلد بن حفص البغدادی

۱۶۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالحسن علی بن عمربن احمد الدارقطنی

۱۷۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوحفص عمر بن احمد المعروف بابن شاہین

۱۸۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالخیر شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاوی

۱۹۔ مسندالامام مرتب حافظ شیخ الحرمین عیسی المغربی المالکی

۲۰۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالفضل محمدبن طاہر القیسرانی

۲۱۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالعباس احمد الہمدانی المعروف بابن عقدہ

۲۲۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوبکر محمد بن ابراہیم الاصفہانی المعروف بابن المقری

۲۳۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو اسمعیل عبداللہ بن محمد الانصاری الحنفی

۲۴۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالحسن عمربن حسن الاشنانی

۲۵۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالقاسم علی بن حسن المعروف بابن عساکر الدمشقی ۔
ان علاوہ کچھ مسانید وہ بھی ہیں جنکو مندرجہ بالا مسانید میں سے کسی میں مدغم کردیاگیا

ہے ۔مثلا ابن عقدہ کی مسند میں ان چار حضرات کی مسانید کا تذکرہ ہے اور یہ ایک ہزار سے زیادہ احادیث پر مشتمل ہے۔

۱۔ حمزہ بن حبیب التیمی الکوفی

۲۔ محمد بن مسروق الکندی الکوفی

۳۔ اسمعیل بن حماد بن امام ابو حنیفہ

۴۔ حسین بن علی

پھر یہ کہ جامع مسانید امام اعظم جس کو علامہ ابو المؤید محمد بن محمود بن محمد الخوارزمی نے ابواب فقہ کی ترتیب پر مرتب کیا تھا اس میں کتاب الآثار کے نسخے بھی شامل ہیں اگر انکو علیحدہ شمار کیا جائے تو پھر اس عنوان سند کے تحت آنے والی مسانید کی تعداد اکتیس ہوگی جبکہ جامع المسانید میں صرف پندرہ مسانید ہیں اور انکی بھی تلخیص کی گئی ہے مکرراسناد کو حذف کردیاہے یہ مجموعہ چالیس ابواب پر مشتمل ہے اور کل روایات کی تعداد ۱۷۱۰ ہے ۔

مرفوع روایات ۹۱۶

غیر مرفوع ۷۹۴

پانچ یا چھ واسطوں والی روایات بہت کم اور نادر ہیں ،عام روایات کا تعلق رباعیات ، ثلاثیات ،ثنائیات اوروحدانیات سے ہے ۔

علامہ خوارزمی نے اس مجموعہ مسند کے لکھنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ،کہ میں نے ملک شام میں بعض جاہلوں سے سنا کہ حضرت امام اعظم کی روایت حدیث کم تھی ۔ایک جاہل نے تو یہانتک کہاکہ امام شافعی کی مسند بھی ہے اورامام احمد کی مسند بھی ہے ،اورامام مالک نے تو خود مؤطالکھی ۔لیکن امام ابو حنیفہ کا کچھ بھی نہیں ۔

یہ سنکر میری حمیت دینی نے مجھکو مجبورکیا کہ میں آپکی ۱۵ مسانید وآثار سے ایک مسند مرتب کروں ،لہذا ابواب فقہیہ پر میں نے اسکو مرتب کرکے پیش کیاہے ۔(سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۳۴۸)

کتاب الآثار ،جامع المسانید اوردیگر مسانید کی تعداد کے اجمالی تعارف کے بعد یہ بات اب حیز خفا میں نہیں رہ جاتی کہ اما م اعظم کی محفوظ مرویات کتنی ہونگی ،امام مالک اورامام شافعی کی مرویات سے اگر زیادہ تسلیم نہیں کی جاسکیں توکم بھی نہیں ہیں ،بلکہ مجموعی تعداد کے غالب ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوناچاہیئے ۔

امام اعظم کی مسانید کی کثرت سے کوئی اس مغالطہ کا شکار نہ ہو کہ پھر اس میں رطب ویابس سب طرح کی روایات ہونگی ۔ہم نے عرض کیاکہ اول تو مرویات میں امام اعظم قدس سرہ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان واسطے بہت کم ہوتے ہیں ۔اور جوواسطے مذکور ہوتے ہیں انکی حیثیت وعلوشان کا اندازہ اس سے کیجئے کہ :۔

امام عبدالوہاب شعرانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں ۔

وقد من اللہ علی بمطالعۃ مسانید الامام ابی حنیفۃ الثلاثۃ فرأیئہ لایروی حدیثا الاعن اخبار التابعین العدول الثقات الذین ھم من خیرالقرون بشہادۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کالاسود وعلقمۃ وعطاء وعکرمۃ ومجاہد ومکحول والحسن البصری واضرابھم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔بینہ وبین رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عدول ثقات اعلام اخیار لیس فیہم کذاب ولامنہم بکذب ۔(میز ان الشریعۃ الکبری ۱/۶۸)

اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ میں نے امام اعظم کی مسانید ثلاثہ کو مطالعہ کیا۔ میں نے ان میں دیکھا کہ امام اعظم ثقہ اور صادق تابعین کے سوا کسی سے روایت نہیں کرتے جن کے حق میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خیرالقرون ہونے کی شہادت دی ،جیسے اسود ،علقمہ عطاء ،عکرمہ ، مجاہد ،مکحول اور حسن بصری وغیرہم ۔لہذا امام اعظم اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان تمام راوی عدول ، ثقہ اور مشہور اخیار میں سے ہیں جنکی طرف کذب کی نسبت بھی نہیں کی جاسکتی اور نہ وہ کذاب ہیں ۔

اربعینات : امام اعظم کی مرویات سے متعلق بعض حضرات نے اربعین بھی تحریر فرمائی ہیں مثلاً :

الاربعین من روایات نعمان سیدالمجتہدین ۔(مولانا محمد ادریس نگرامی)

الاربعین۔ (شیخ حسن محمد بن شاہ محمد ہندی)

وحدانیات :۔ امام اعظم کی وہ روایات جن میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک صرف ایک وسطہ ہو ان روایات کو بھی ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس سلسلہ میں بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں :۔

۱۔ جزء مارواہ ابوحنیفۃ عن الصحابۃ۔

جامع ابومعشر عبدالکریم بن عبدالصمد شافعی ۔

امام سیوطی نے اس رسالہ کو تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ میں شامل کردیا ہے ، چنداحادیث قارئین ملاحظہ فرماچکے ۔

۲۔ الاختصار والترجیح للمذہب الصحیح۔

امام ابن جوزی کے پوتے یوسف نے اس کتاب میں بعض روایات نقل فرمائی ہیں ۔

دوسرے ائمہ نے بھی اس سلسلہ میں روایات جمع کی ہیں ۔مثلا:۔

۱۔ ابو حامد محمد بن ہارون حضرمی

۲۔ ابوبکر عبدالرحمن بن محمد سرخسی

۳۔ ابوالحسین علی بن احمد بن عیسی نہفقی

ان تینوں حضرات کے اجزاء وحدانیات کو ابو عبداللہ محمد دمشقی حنفی المعروف بابن طولون م ۹۵۳،نے اپنی سند سے کتاب الفہرست الاوسط میں روایت کیا ۔

نیز علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی سند سے المعجم المفہرس میں

علامہ خوارزمی نے جامع المسانید کے مقدمہ میں
ابوعبداللہ صیمری نے فضائل ابی حنیفہ واخبارہ میں روایت کیاہے ۔

البتہ بعض حضرات نے ان وحدانیات پر تنقید بھی کی ہے ،تواسکے لئے ملاعلی قاری ،امام عینی اورامام سیوطی کی تصریحات ملاحظہ کیجئے ،ان تمام حضرات نے حقیقت واضح کردی ہے ۔

امام اعظم کی فن حدیث میں عظمت وجلالت شان ان تمام تفصیلات سے ظاہر وباہر ہے لیکن بعض لوگوں کو اب بھی یہ شبہ ہے کہ جب اتنے عظیم محدث تھے تو روایات اب بھی اس حیثیت کی نہیں ،محدث اعظم واکبر ہونے کا تقاضہ تو یہ تھا کہ لاکھوں احادیث آ پ کو یاد ہونا چاہیئے تھیں جیساکہ دوسرے محدثین کے بارے میں منقول ہے ۔تو اس سلسلہ میں علامہ غلام رسول سعیدی کی محققانہ بحث ملاحظہ کریں جس سے حقیقت واضح ہوجا ئے گی ۔لکھتے ہیں :۔

چونکہ بعض اہل اہوایہ کہتے ہیں کہ امام اعظم کو صرف سترہ حدیثیں یاد تھیں ۔اس لئے ہم ذرا تفصیل سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ امام اعظم کے پاس احادیث کا وافر ذخیرہ تھا۔ حضرت ملاعلی قاری امام محمد بن سماعہ کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔

ان الامام ذکر فی تصانیفہ بضع وسبعین الف حدیث وانتخب الآثار من اربعین الف حدیث ۔

امام ابوحنیفہ نے اپنی تصانیف میں ستر ہزار سے زائد احادیث بیان کی ہیں اور چالیس ہزار احادیث سے کتاب الآثار کا انتخاب کیا ہے ۔

اور صدر الائمہ امام موفق بن احمد تحریر فرماتے ہیں :

وانتخب ابوحنیفۃ الاثار من اربعین الف حدیث ۔

امام ابو حنیفہ نے کتاب الاثار کا انتخاب چالیس ہزار حدیثوں سے کیا ہے ۔

ان حوالوں سے امام اعظم کا جو علم حدیث میں تبحر ظاہر ہورہاہے وہ محتاج بیاں نہیں ہے ۔

ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ سترہزار احادیث کو بیان کرنا اور کتاب الآثار کا چالیس ہزار حدیثوں سے انتخاب کرنا چنداں کمال کی بات نہیں ہے ۔ امام بخاری کو ایک لاکھ احادیث صحیحہ اور دولاکھ احادیث غیر صحیحہ یاد تھیں اور انہوں نے صحیح بخاری کا انتخاب چھ لاکھ حدیثوں سے کیا تھا پس فن حدیث میں امام بخاری کے مقابلہ میں امام اعظم کا مقام بہت کم معلوم ہوتا ہے ۔ اسکے جواب میں گزارش ہے کہ احادیث کی کثرت اور قلت درحقیقت طرق اور اسانید کی قلت اور کثرت سے عبارت ہے ۔ایک متن حدیث اگر سو مختلف طرق اور سندوں سے روایت کیا جائے تو محدثین کی اصطلاح میں ان کو سو احادیث قرار دیا جائے گاحالانکہ ان تما م حدیثو ں کا متن واحد ہوگا ۔منکرین حدیث انکار حدیث کے سلسلے میںیہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ تمام کتب حدیث کی روایات کو اگر جمع کیا جائے تو یہ تعداد کروڑوں کے لگ بھگ ہوگی اور حضور کی پور ی رسالت کی زند گی کی شب وروز پر انکو تقسیم کیاجائے تو احادیث حضور کی حیات مبارکہ سے بڑھ جا ئیں گی ۔پس اس صورت میں احادیث کی صحت کیونکر قابل تسلیم ہوگی ۔ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ روایا ت کی یہ کثرت دراصل اسانید کی کثرت ہے ورنہ نفس احادیث کی تعداد چار ہزارچارسو سے زیادہ نہیں ہے ۔

چنانچہ علامہ امیر یمانی لکھتے ہیں : ان جملۃ الاحادیث المسندۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یعنی الصحیحۃ بلاتکرار اربعۃ الاف واربع مائۃ ۔
بلاشبہ وہ تمام مسند احادیث صحیحہ جو بلا تکرار حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مروی ہیں ان کی تعداد چار ہزار چار سو ہے ۔

امام اعظم رضی اللہ عنہ کی ولادت ۸۰ھ ہے اور امام بخاری ۱۹۴ھ میں پید اہوئے اور ان کے درمیان ایک سو چودہ سال کا طویل عرصہ ہے اور ظاہر ہے اس عرصہ میں بکثرت احادیث شائع ہو چکی تھیں اور ایک ایک حدیث کو سیکڑوں بلکہ ہزاروں اشخا ص نے روایت کرنا شروع کردیاتھا ۔امام اعظم کے زمانہ میں راویوں کا اتنا شیوع اور عموم تھا نہیں ، اس لئے امام اعظم اور امام بخاری کے درمیان جو روایت کی تعداد کا فرق ہے وہ در اصل اسانید کی تعداد کا فرق ہے ، نفس روایت نہیں ہے ورنہ اگر نفس احادیث کا لحاظ کیا جائے تو امام اعظم کی مرویات امام بخاری سے کہیں زیادہ ہیں ۔

اس زمانہ میں احادیث نبویہ جس قدر اسانید کے ساتھ مل سکتی تھیں امام اعظم نے ان تمام طرق واسانید کے ساتھ ان احادیث کو حاصل کرلیا تھا اورحدیث واثر کسی صحیح سند کے ساتھ موجود نہ تھے مگر امام اعظم کا علم ا نہیں شامل تھا ۔وہ اپنے زمانے کے تمام محدثین پر ادر اک حدیث میںفائق اور غالب تھے۔ چنانچہ امام اعظم کے معاصر اور مشہور محدث امام مسعر بن کدام فرماتے ہیں : ۔

طلبت مع ابی حنیفۃ الحدیث فغلبت واخذ نا فی الزہد فبرع علینا وطلبنا معہ الفقہ فجاء منہ ماترون۔

میں نے امام ابو حنیفہ کے ساتھ حدیث کی تحصیل کی لیکن وہ ہم سب پر غالب رہے اور زہد میں مشغول ہوئے تو وہ اس میں سب سے بڑھ کرتھے اور فقہ میں ان کا مقام تو تم جانتے ہی ہو ۔

نیزمحدث بشربن موسی اپنے استاد امام عبدالرحمن مقری سے روایت کرتے ہیں :۔

وکان اذاحدث عن ابی حنیفۃ قال حدثنا شاہنشاہ ۔

امام مقری جب امام ابوحنیفہ سے روایت کرتے تو کہتے کہ ہم سے شہنشاہ نے حدیث بیان کی۔
ان حوالوں سے ظاہر ہوگیا کہ امام اعظم اپنے معاصرین محدثین کے درمیان فن حدیث میں تمام پر فائق اور غالب تھے ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ان کی نگاہ سے اوجھل نہ تھی ،یہی وجہ ہے کہ ان کے تلامذہ انہیں حدیث میں حاکم اور شہنشاہ تسلیم کرتے تھے ۔اصطلاح حدیث میں حاکم اس شخص کو کہتے ہیں جو حضور کی تمام مرویات پر متناًوسنداً دسترس رکھتاہو ،مراتب محدثین میں یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے اور امام اعظم اس منصب پر یقیناً فائز تھے۔ کیونکہ جو شخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے بھی ناواقف ہو وہ حیات انسانی کے تمام شعبوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایات کے مطابق جامع دستور نہیں بناسکتا ۔

امام اعظم کے محدثانہ مقام پرا یک شبہ کاازالہ: ۔ گزشتہ سطور میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بلاتکراراحادیث مرویہ کی تعداد چارہزار چار سو ہے اور امام حسن بن زیادکے بیان کے مطابق امام اعظم نے جو احادیث بلاتکرار بیان فرمائی ہیں انکی تعداد چار ہزار ہے۔ پس امام اعظم کے بارے میں حاکمیت اور حدیث میں ہمہ دانی کا دعوی کیسے صھیح ہوگا ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ چار ہزار احادیث کے بیان کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی چار سو حدیثوں کا امام اعظم کو علم بھی نہ ہو کیونکہ حسن بن زیاد کی حکایت میں بیان کی نفی ہے علم کی نہیں ۔‘

خیال رہے امام اعظم نے فقہی تصنیفات میں ان احادیث کا بیان کیا ہے جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں اور جن کے ذریعہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امت کیلئے عمل کا ایک راستہ متعین فرمایا ہے جنہیں عرف عام میں سنن سے تعبیر کیاجاتا ہے لیکن حدیث کا مفہوم سنت سے عام ہے کیونکہ احادیث کے مفہوم میں وہ روایات بھی شامل ہیں جن میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ، آپ کی قلبی واردات ،خصوصیات ، گذشتہ امتوں کے قصص اور مستقبل کی پیش گوئیاں موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی احادیث سنت کے قبیل سے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ احکام ومسائل کیلئے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

پس امام اعظم نے جن چارہزار احادیث کو مسائل کے تحت بیان فرمایاہے وہ از قبیل سنن ہیں اور جن چارسو احادیث کو امام اعظم نے بیان نہیں فرمایا وہ ان روایات پر محمول ہیں

جواحکام سے متعلق نہیں ہیں لیکن یہاں بیان کی نفی ہے علم کی نہیں ۔‘

فن حدیث میں امام اعظم کا فیضان :۔امام اعظم علم حدیث میں جس عظیم مہارت کے حامل اور جلیل القدر مرتبہ پر فائز تھے اس کالازمی نتیجہ یہ تھا کہ تشنگان علم حدیث کا انبوہ کثیر آپ کے حلقہ ٔ درس میں سماع حدیث کیلئے حاضر ہوتا۔

حافظ ابن عبدالبر امام وکیع کے ترجمے میں لکھتے ہیں :۔

وکان یحفظ حدیثہ کلہ وکان قد سمع من ابی حنیفۃ کثیرا ،۔

وکیع بن جراح کو امام اعظم کی سب حدیثیں یادتھیں اور انہوں نے امام اعظم سے احادیث کا بہت زیادہ سماع کیا تھا ۔

امام مکی بن ابراہیم ،امام اعظم ابوحنیفہ کے شاگرد اورامام بخاری کے استاذ تھے اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں بائیس ثلاثیات صرف امام مکی بن ابراہیم کی سند سے روایت کی ہیں ۔ امام صدر الائمہ موفق بن احمد مکی ان کے بارے میں لکھتے ہیں :۔

ولزم اباحنیفۃ رحمہ اللہ وسمع منہ الحدیث ۔

انہوں نے اپنے اوپر سماع حدیث کیلئے ابوحنیفہ کے درس کو لازم کرلیا تھا ۔

اس سے معلوم ہو اکہ امام بخاری کو اپنی صحیح میں عالی سند کے ساتھ ثلاثیات درج کرنے کا جو شرف حاصل ہواہے وہ دراصل امام اعظم کے تلامذہ کا صدقہ ہے اور یہ صرف ایک مکی بن ابراہیم کی بات نہیں ہے ۔امام بخاری کی اسانید میں اکثر شیوخ حنفی ہیں ان حوالوں سے یہ آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیاکہ امام اعظم علم حدیث میں مرجع خلائق تھے ،ائمہ فن نے آپ سے حدیث کاسماع کیا اور جن شیوخ کے وجود سے صحاح ستہ کی عمارت قائم ہے ان میں سے اکثر حضرات آپ کے علم حدیث میں بالواسطہ یابلا واسطہ شاگرد ہیں ۔

فقیہ عصر شارح بخاری علیہ رحمۃ الباری تقلیل روایت کا موازنہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔

ہمیں یہ تسلیم ہے کہ جس شان کے محدث تھے اس کے لحاظ سے روایت کم ہے ۔مگر یہ ایساالزام ہے کہ امام بخاری جیسے محدث پر بھی عائد ہے ۔انہیں چھ لاکھ احادیث یاد تھیں جن میں ایک لاکھ صحیح یاد تھیں ۔مگر بخاری میں کتنی احادیث ہیں ۔غور کیجئے ایک لاکھ صحیح احادیث میں سے صرف ڈھائی ہزار سے کچھ زیادہ ہیں ۔کیا یہ تقلیل روایت نہیں ہے ؟ ۔

پھر محدثین کی کوشش صرف احادیث جمع کرنا اور پھیلانا تھا ۔مگر حضرت امام اعظم کا منصب ان سب سے بہت بلند اور بہت اہم اوربہت مشکل تھا ۔وہ امت مسلمہ کی آسانی کیلئے قرآن وحدیث واقوال صحابہ سے منقح مسائل اعتقادیہ وعملیہ کااستنباط اور انکو جمع کرنا تھا ۔مسائل کا استنباط کتنا مشکل ہے ۔اس میں مصروفیت اور پھر عوام وخواص کو ان کے حوادث پر احکام بتانے کی مشغولیت نے اتنا موقع نہ دیا کہ وہ اپنی شان کے لائق بکثرت روایت کرتے ۔
ایک وجہ قلت روایت کی یہ بھی ہے کہ آپ نے روایت حدیث کیلئے نہایت سخت اصول وضع کئے تھے ،اور استدلال واستنباط مسائل میں مزید احتیاط سے کام لیتے ،نتیجہ کے طور پر روایت کم فرمائی ۔

چند اصول یہ ہیں :۔

۱۔ سماعت سے لیکر روایت تک حدیث راوی کے ذہن میں محفوظ رہے ۔

۲۔ صحابہ وفقہاء تابعین کے سواکسی کی روایت بالمعنی مقبول نہیں ۔

۳۔ صحابہ سے ایک جماعت اتقیاء نے روایت کیاہو۔

۴۔ عمومی احکام میں وہ روایت چند صحابہ سے آئی ہو ۔

۵۔ اسلام کے کسی مسلم اصول کے مخالف نہ ہو ۔

۶۔ قرآن پر زیادت یاتخصیص کرنے والی خبرواحد غیر مقبول ہے ۔

۷۔ صراحت قرآن کے مخالف خبر واحد بھی غیر مقبول ہے ۔

۸۔ سنت مشہور ہ کے خلاف خبر واحد بھی غیر مقبول ہے ۔

۹۔ راوی کا عمل روایت کے خلاف ہو جب بھی غیر مقبول ۔

۱۰۔ ایک واقعہ کے دوراوی ہوں ،ایک کی طرف سے امر زائد منقول ہو اور دوسرا نفی بلادلیل کرے تو یہ نفی مقبول نہیں ۔

۱۱۔ حدیث میں حکم عام کے مقابل حدیث میں حکم خاص مقبول نہیں ۔

۱۲۔ صحابہ کی ایک جماعت کے عمل کے خلاف خبر واحد قولی یاعملی مقبول نہیں ۔

۱۳۔ کسی واقعہ کے مشاہدہ کے بارے میں متعارض روایات میں قریب سے مشاہدہ کرنے والے کی روایت مقبول ہوگی ۔

۱۴۔ قلت وسائط اور کثرت تفقہ کے اعتبار سے راویوں کی متعارض روایات میں کثرت تفقہ کو ترجیح ہوگی ۔

۱۵۔ حدودوکفارات میں خبر واحد غیر مقبول ۔

۱۶۔ جس حدیث میں بعض اسلاف پر طعن ہووہ بھی مقبول نہیں ۔

واضح رہے کہ احادیث کو محفوظ کرنا پہلی منزل ہے ،پھر انکو روایت کرنا اور اشاعت دوسرا درجہ ۔ اور آخری منزل ان احادیث سے مسائل اعتقادیہ وعملیہ کا استنباط ہے ۔اس منزل میں آکر غایت احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے ۔ امام اعظم نے کتنی روایات محفوظ کی تھیں آپ پڑھ چکے کہ اس وقت کی تمام مرویات آپ کے پیش نظر تھیں ۔پھر ان سب کو روایت نہ کرنے کی وجہ استنباط واستخراج مسائل میں مشغولی تھی جیساکہ گذرگیا ۔

اب آخری منزل جو خاص احتیاط کی تھی اسکے سبب تمام روایات صحائف میں ثبت نہ ہوسکیں کہ ان کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔جو معمول بہا تھیں ان کو املا کرایا اور انہیں سے تدوین فقہ میں کام لیا ۔

فقہ حنفی میں بظاہر جو تقلیل روایت نظر آتی ہے اس کی ایک وجہ اور بھی ہے ،وہ یہ کہ امام اعظم نے جو مسائل شرعیہ بیان فرمائے انکو لوگ ہرجگہ محض امام اعظم کا قول سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ۔بلکہ کثیر مقامات پر ایساہے کہ احادیث بصورت مسائل ذکر کی گئی ہیں ۔امام اعظم نے احادیث وآثار کو حسب موقع بصورت افتاء ومسائل نقل فرمایا ہے جس سے بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ کہنے والے کا خود اپنا قول ہے حالانکہ وہ کسی روایت سے حاصل شدہ حکم ہوتاہے حتی کہ بعض اوقات بعینہ روایت کے الفاظ کے ساتھ ہوتاہے ۔

امام اعظم کا یہ طریقہ خود اپنا نہیں تھا بلکہ ان بعض اکابر صحابہ کا تھا جو روایت حدیث میں غایت احتیاط سے کام لیتے تھے ،وہ ہر جگہ صریح طور پر حضور کی طرف نسبت کرنے سے احتراز کرتے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف کسی قول کی صراحۃً نسبت کرنے میں ان کی نظر حضور کے اس فرمان کی طرف رہتی تھی کہ:۔

من کذب علی متعمدا فلیتبوأ مقعدہ من النار۔

جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ باندھا اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنایا ۔

لہذا کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے شعوری یا غیر شعوری طور پر انتساب میں کوتاہی ہوجائے اور ہم اس وعید شدید کے سزاوار ٹھہریں ۔امیر المومنین حضرت عمر فارق اعظم اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس سلسلہ میں سر فہرست رہے ہیں جن کے واقعات آپ نے ابتداء مضمون میں ملاحظہ فرمائے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد حضرت عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں ہرجمعرات کی شام بلاناغہ حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوتا لیکن میں نے کبھی آپ کی زبان سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ حضور نے یہ فرمایا۔

ایک شام ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ،کہتے ہیں ! یہ الفاظ کہتے ہی وہ جھک گئے میں نے ان کی طرف دیکھا تو کھڑے تھے ،ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے ،آنکھوں سے سیل اشک رواں تھا اور گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ۔یہ آپ کی غایت احتیاط کا مظاہرہ تھا۔

اس وجہ سے آپ کے تلامذہ میں بھی یہ طریقہ رائج رہا کہ اکثر احادیث بصورت مسائل بیان فرماتے اور وقت ضرورت ہی حضور کی طرف نسبت کرتے تھے ،کوفہ میں مقیم محدثین وفقہاء بالواسطہ یابلاواسطہ آپ کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں جیسا کہ آپ پڑھ چکے ،امام اعظم کا سلسلہ سند حدیث وفقہ بھی آپ تک پہونچتا ہے لہذا جواحتیاط پہلے سے چلی آرہی تھی اسکو امام اعظم نے بھی اپنایا ہے اور بعض لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ امام ابوحنیفہ احادیث سے کم اور اپنی رائے سے زیادہ کام لیتے اور فتوی دیتے ہیں ۔

کلمات الثنا: ۔امام اعظم کی جلالت شان اورعلمی وعملی کمالات کو آپکے معاصرین واقران ۔
محدثین وفقہاء ،مشائخ وصوفیاء ،تلامذہ واساتذہ سب نے تسلیم کیا اوربیک زبان بے شمار حضرات نے آپکی برتری وفضیلت کا اعتراف کیا ہے ۔حدیث وفقہ دونوں میں آپکی علو شان کی گواہی دینے میں بڑے بڑوں نے بھی کبھی کوئی جھجک محسوس نہیں کی ،چند حضرات کے تاثرات ملاحظہ کیجئے ۔

امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :۔

انکی مجلس میں بڑوں کو چھوٹا دیکھتا ،انکی مجلس میں اپنے آ پ کو جتنا کم رتبہ دیکھتا کسی کی مجلس میں نہ دیکھتا ،اگراسکا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیںگے کہ میں افراط سے کام لے رہاہوں تومیں ابو حنیفہ پر کسی کو مقدم نہیں کرتا ۔

نیزفرمایا:۔

امام اعظم کی نسبت تم لوگ کیسے کہتے ہو کہ وہ حدیث نہیں جانتے تھے ، ابوحنیفہ کی رائے مت کہو حدیث کی تفسیر کہو ۔اگرابو حنیفہ تابعین کے زمانہ میں ہوتے توتابعین بھی انکے محتاج ہوتے ۔آپ علم حاصل کرنے میں بہت سخت تھے وہی کہتے تھے جو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے ،احادیث ناسخ ومنسوخ کے بہت ماہر تھے ۔آپ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں

میں سے ایک نشانی تھے ۔

اگراللہ تعالیٰ نے امام اعظم اورسفیان ثوری کے ذریعہ میری دستگیری نہ کی ہو تی تو میں عام آدمیوں میں سے ہوتا ۔میں نے ان میں دیکھا کہ ہردن شرافت اور خیر کا اضافہ ہوتا ۔

سفیان بن عیینہ نے کہا : ابوحنیفہ اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم ہیں ،میری آنکھوں نے ان کامثل نہیں دیکھا ۔

مکی بن ابراہیم استاذ امام بخاری فرماتے ہیں ۔امام ابوحنیفہ اپنے زمانے کے اعلم علماء تھے ۔

امام مالک سے امام شافعی نے متعدد محدثین کا حال پوچھا ،اخیر میں امام ابوحنیفہ کو دریافت کیا توفرمایا : سبحان اللہ !وہ عجیب ہستی کے مالک تھے ،میں نے انکا مثل نہیں دیکھا ۔

سعید بن عروبہ نے کہا : ہم نے جو متفرق طور پر مختلف مقامات سے حاصل کیا وہ سب آپ میں مجتمع تھا ۔

خلف بن ایوب نے کہا :اللہ عزوجل کی طرف سے علم حضور کو ملا ،اور حضور نے صحابہ کو ، صحابہ نے تابعین کو اورتابعین سے امام اعظم اور آپ کے اصحاب کو ،حق یہ ہی ہے خواہ اس پر کوئی راضی ہو یاناراض ۔

اسرائیل بن یونس نے کہا: اس زمانے میں لوگ جن جن چیزوں کے محتاج ہیں امام ابوحنیفہ ان سب کو سب سے زیادہ جانتے تھے ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کے پوتے حضرت قاسم فرماتے : امام ابوحنیفہ کی مجلس سے زیادہ فیض رساں اور کوئی مجلس نہیں ۔

حفص بن غیاث نے کہا : امام ابوحنیفہ جیسا ان احادیث کا عالم میں نے نہ دیکھا جواحکام میں صحیح اور مفید ہوں ۔

مسعربن کدام کہتے تھے :مجھے صرف دوآدمیوں پر رشک آتاہے ،ابو حنیفہ پر ان کی فقہ کی وجہ سے ،اور حسن بن صالح پر ان کے زہد کی وجہ سے ۔

ابوعلقمہ نے کہا: میں نے اپنے شیوخ سے سنی ہوئی حدیثوں کو امام ابوحنیفہ پر پیش کیا توانہوں نے ہرایک کا ضروری حال بیان کیا ،اب مجھے افسوس ہے کہ کل حدیثیں کیوں نہیں سنادیں ۔

امام ابویوسف فرماتے : میں نے ابوحنیفہ سے بڑھ کر حدیث کے معانی اور فقہی نکات جاننے والا کوئی شخص نہیں دیکھا ۔جس مسئلہ میں غوروخوض کرتا تو امام اعظم کا نظریہ اخروی نجات سے زیادہ قریب تھا ۔میں آپ کیلئے اپنے والد سے پہلے دعا مانگتا ہوں۔

ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں :امام سفیان امام اعظم کیلئے کھڑے ہوتے تو میں نے تعظیم کی وجہ پوچھی ۔فرمایا: وہ علم میں ذی مرتبہ شخص ہیں ،اگر میں ان کے علم کے لئے نہ اٹھتا تو انکے سن وسال کی وجہ سے اٹھتا ،اگراس وجہ سے نہیں تو انکی فقہ کی وجہ سے اٹھتا ،اور اس کے لئے بھی نہیں تو تقوی کی وجہ سے اٹھتا ۔

امام شافعی فرماتے : تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ کے محتاج میں ،امام ابوحنیفہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو فقہ میں موافقت حق عطاکی گئی ۔

امام یحیی بن معین نے کہا : جب لوگ امام اعظم کے مرتبہ کو نہ پاسکے تو حسد کرنے لگے ۔

امام شعبہ نے وصال امام اعظم پر فرمایا : اہل کوفہ سے علم کے نور کی روشنی بجھ گئی ،اب اہل کوفہ ان کا مثل نہ دیکھ سکیں گے ۔

دائود طائی نے کہا : ہروہ علم جو امام ابوحنیفہ کے علم سے نہیں وہ اس علم والے کے لئے آفت ہے ۔

ابن جریج نے وصال امام اعظم پر فرمایا : کیسا عظیم علم ہاتھ چلاگیا ۔

یزید بن ہارون فرماتے ہیں : امام ابوحنیفہ متقی ،پرہیز گار ،زاہد ،عالم ،زبان کے سچے اور

اپنے زمانہ کے سب سے بڑے حافظ تھے ،میں نے انکے معاصرین پائے سب کویہ ہی کہتے سنا : ابو حنیفہ سے بڑا فقیہ نہیں دیکھا ۔

فضیل بن عیاض نے فرمایا : ابو حنیفہ ایک فقیہ شخص تھے اور فقہ میں معروف ،انکی رات عبادت میں گذرتی ،بات کم کرتے ،ہاں جب مسئلہ حلال وحرام کا آتاتو حق بیان فرماتے ،صحیح حدیث ہوتی توا س کی پیروی کرتے خواہ صحابہ وتابعین سے ہو ورنہ قیاس کرتے اور اچھا قیاس کرتے ۔

ابن شبرمہ نے کہا: عورتیں عاجز ہوگئیں کہ نعمان کا مثل جنیں ۔

عبدالرزاق بن ہمام کہتے ہیں : ابوحنیفہ سے زیادہ علم والاکبھی کسی کو نہیں دیکھا ۔

امام زفر نے فرمایا : امام ابوحنیفہ جب تکلم فرماتے توہم یہ سمجھتے کہ فرشتہ ان کو تلقین کررہاہے ۔
علی بن ہاشم نے کہا: ابوحنیفہ علم کا خزانہ تھے ، جومسائل بڑوں پر مشکل ہوتے آپ پرآسان ہوتے ۔

امام ابودائود نے فرمایا: اللہ تعالیٰ رحم فرمائے مالک پر وہ امام تھے ،اللہ تعالیٰ رحم فرمائے ابوحنیفہ پر وہ امام تھے ۔

یحیی بن سعید قطان نے کہا: امام ابوحنیفہ کی رائے سے بہتر کسی کی رائے نہیں ،

خارجہ بن مصعب نے کہا : فقہاء میں ابوحنیفہ مثل چکی کے پاٹ کے محور ہیں ،یاایک ماہر صراف کے مانند ہیں جوسونے کو پرکھتا ہے ۔

عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں : میں نے حسن بن عمارہ کودیکھا کہ وہ امام ابوحنیفہ کی رکاب پکڑے ہوئے کہہ رہے تھے : قسم بخدا! میں نے فقہ میں تم سے اچھا بولنے والا صبرکرنے والااورتم سے بڑھکر حاضر جواب نہیں دیکھا ،بیشک تمہارے دور میں جس نے فقہ میں لب کشائی کی تم اسکے بلا قیل وقال آقاہو ۔جو لوگ آپ پر طعن کرتے ہیں وہ حسدکی بناپر کرتے ہیں ۔

ابومطیع نے بیان کیاکہ میں ایک دن کوفہ کی جامع مسجد میں بیٹھا ہواتھا کہ آپکے پاس مقاتل بن حیان ،حماد بن سلمہ ،امام جعفر صادق اوردوسرے علماء آئے اورانہوں نے امام ابوحنیفہ سے کہا : ہم کویہ بات پہونچی ہے کہ آپ دین میں کثرت سے قیاس کرتے ہیں ۔اسکی وجہ سے ہم کو آپکی عاقبت کا اندیشہ ہے ،کیونکہ ابتداء جس نے قیاس کیا ہے وہ ابلیس ہے ۔امام ابوحنیفہ نے ان حضرات سے بحث کی اور یہ بحث صبح سے زوال تک جاری رہی اوروہ دن جمعہ کا تھا۔

حضرت امام نے اپنا مذہب بیان کیا کہ اولاًکتاب اللہ پر عمل کرنا یوں پھر سنت پر ،اور پھر حضرات صحابہ کے فیصلوں پر ،اور جس پر ان حضرات کا اتفاق ہوتاہے اسکومقدم رکھتا ہوں اوراسکے بعد قیاس کرتا ہوں ۔یہ سنکر حضرات علماء کھڑ ے ہوئے اورانہوں نے حضرت امام کے سراور گھٹنوں کوبوسہ دیا اورکہا: آپ علماء کے سردارہیں اورہم نے جو کچھ برائیاں کی ہیں اپنی لاعلمی کی وجہ سے کی ہیں ۔آپ اسکو معاف کردیں ۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری اورآپ سب کی مغفرت فرمائے ۔آمین ۔

امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :میں امام اوزاعی سے ملنے ملک شام آیا اور بیروت میں ان سے ملا۔انہوں نے مجھ سے کہا اے خراسانی !یہ بدعتی کون ہے جوکوفہ میں نکلا ہے اور اسکی کنیت ابوحنیفہ ہے ،میں اپنی قیام گاہ پر آیا اورامام ابوحنیفہ کی کتابوں میں مصروف ہوا ،چندمسائل اخذکرکے پہونچا،میرے ہاتھ میں تحریردیکھ کر پوچھا کیاہے ،میں نے پیش کیا ،تحریر پڑھ کر بو لے ،یہ نعمان بن ثابت کون ہیں ؟میں نے کہا: ایک شیخ ہیں جن سے عراق میں میری ملاقات ہوئی ۔فرمایا: یہ مشائخ میں زیادہ دانشمند ہیں ۔ان سے علم میں اضافہ کرو ،میں نے ان سے کہا : یہ

ہی وہ ابوحنیفہ ہی جن سے آپ نے مجھے روکا تھا ۔

امام اعظم سے اسکے بعد مکہ مکرمہ میں ملاقات ہوئی ،مسائل میں گفتگوہوئی ،جب ان سے میری ملاقات دوبارہ ہوئی توامام اوزاعی فرماتے تھے ،اب مجھے انکے کثرت علم وعقلمندی پررشک ہوتاہے۔میں انکے متعلق کھلی غلطی پرتھا ،میں اللہ سے استغفار کرتاہوں ۔

مدینہ منورہ میں حضرت امام باقر سے ملاقات ہوئی ،ایک صاحب نے تعارف کرایا ، فرمایا: اچھاآپ وہی ہیں جو قیاس کرکے میرے جد کریم کی احادیث ردکرتے ہیں ۔عرض کیا : معاذاللہ ،کون ردکرسکتاہے ۔حضور اگراجازت دیں توکچھ عرض کروں ۔اجازت کے بعد عرض کیا: ۔

حضور مرد ضعیف ہے یا عورت ؟ارشاد فرمایا: عورت ۔

عرض کیا:۔

وراثت میں مرد کاحصہ زیادہ ہے یاعورت کا ؟

فرمایا:۔ مردکا۔

عرض کیا:۔

میں قیاس سے حکم کرتا توعورت کومرد کا دوناحصہ دینے کاحکم دیتا ۔

پھر عرض کیا: ۔

نماز افضل ہے یاروزہ ؟

فرمایا:۔ نماز ۔

عرض کیا :۔

قیاس یہ چاہتاہے کہ حائضہ پر نماز کی قضابدرجہٗ اولی ہونی چاہیئے ،اگر قیاس سے حکم کرتاتو یہ حکم دیتاکہ حائضہ نما زکی قضاکرے ۔

پھر عرض کیا:۔

منی کی ناپاکی شدید ترہے یاپیشاب کی ؟

فرمایا:۔ پیشاب کی ۔

عرض کیا:۔

قیاس کرتا توپیشاب کے بعد غسل کا حکم بدرجۂ اولی دیتا۔

اس پر امام باقر اتنا خوش ہوئے کہ اٹھکر پیشانی چوم لی ۔اسکے بعد ایک مدت تک حضرت امام باقر کی خدمت میں رہکر فقہ وحدیث کی تعلیم حاصل کی ۔

امام جعفر صادق نے فرمایا : یہ ابوحنیفہ ہیں اور اپنے شہر کے سب سے بڑے فقیہ ہیں ۔

یہ ائمہ وقت اوراساطین ملت توامام اعظم کے علم وفن اورفضل وکمال پرکھلے دل سے شہادت پیش کرتے ہیں اورآج کے کچھ نام نہاد مجتہدین وقت نہایت بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے کہتے پھرتے اور کتابوں میں لکھتے ہیں : امام ابوحنیفہ کا حشر عابدین میں تو ہو سکتا ہے لیکن علماء وائمہ میں نہیں ہوگا ۔ نعوذباللہ من ذلک ۔

(مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304412815128098/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امام_اعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تابعی ہیں
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304181115151268/
محترم قارئینِ کرام : تابعي اس شخص كو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی ہو ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص42)

اصول حدیث میں جمہورمحدثین اورفقہاء علیہم الرّحمہ نے تابعی کی تعریف یہی کی ہے اس نے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کودیکھا ہو ، ہاں کچھ علمائ کی شاذ رائے یہ ضرور ہے کہ وہ صحابی کی طویل صحبت اٹھائے یاروایت کرے ۔ الکمال فی اسمائ الرجال ، للمزی، تہذیب الکمال للحافظ الذہبی ، یاحافظ ذہبی کی سیرت پر لکھی گئی کوئی بھی کتاب حافظ ابن حجر کی تہذیب التہذیب سب میں اس بات کا ذکرملے گاکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس کو دیکھاہے اور اورجب جمہور محدثین اورفقہاء کے نزدیک محض دیکھنے سے ہی تابعیت ثابت ہوتی ہے تواس لحاظ سے وہ تابعی ہیں ۔ جیساکہ حافظ زین الدین عراقی اورحافظ ابن حجر کے فتوی اورجواب سے بھی ظاہر ہوتاہے جوکہ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تبییض الصحیفہ میں ذکر کیا ہے ۔

امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ''سیر أعلام النبلاء''(٦/٣٩٠) میں خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "تاریخ بغداد" کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابی رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب وہ کوفہ آئے تھے تو انہیں دیکھا تھا ۔

علاّمہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 463ھ) لکھتے ہیں کہ : حضرت نعمان بن ثابت ، ابو حینفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا ہے اور عطاء بن ابی رباح سے (روایات وغیرہ کو) سنا ہے ۔ (بحوالہ : تاریخ بغداد ، جلد 13 ، صفحہ 323 ،چشتی)

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تابعی ہونے پر ان آئمہ محدثین علیہم الرّحمہ نے لکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تابعی ہیں ۔ (ابو نعیم،مسند ابی حنیفۃ 186)(موفق، مسند ابی حنیفۃ 25:1)(قزوینی، الےدوین فی اخبار قزوین 153:3)(ذھبھی ، تذکرۃالحافظ 168:1)(ابن عبدالبر، جامع بیان العلم و فضللہ 101:1)(ابن ندیم، الفھرست 255)(ابن جوزی، العل المتنا ھیۃ 136:1)(سیوطی، تبییض الصحیۃ بمنا قب ابی حنیفۃ 34)(خطیب بغدادی، تاریخ بغداد 324:13)(سمعانی، الانساب 37:3)(ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الموک والامم 129:8)(ابن حلکان، وفیات الدعیان 406:5)(ذھبی، سیراعلام انبلاء 391:6)(ذھبی، الکاشف فی معرفۃ من لہ رویۃ فی الکتب السنۃ 322:2،چشتی)(ذھبی، مناقب الام ابی حنیفۃ وصاحبہ ابی یوسف و محمد بن الحسن :7)(صفدی، الوافی بالوفیات 89:27)(یافعی، مرآۃ الجنان والیقظان 310:1)(ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ 107:10)(زین الدیدین عراقی، التقییدو الایضاح :332،چشتی)(عسقلانی، تھذیب التھذیب 401:10)(بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البحاری کتاب البیوع،باب مایکرہ من الحلف فی البیع 206:11)(بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البحاری کتاب الحج، باب متی یحل المعتمر 128: 10،چشتی)(بدرالدین عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح البحاری کتاب الزکاۃ، باب صلوۃ الامام ودعائہ الصاحب الصدقۃ 95:9)(سخاوی، فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث للعراقی 337:3)(سیوطی، طبقات الحفاظ 80:1 رقم 152)(قسطلانی، ارشاد الساری صحیح البخاری کتاب الوضوء باب من لم یرالوضوءالدمن المخرجین)(قسطلانی، ارشاد الساری صحیح البخاری کتاب الصلوۃ، باب الصوۃ فی الثوب الواحد 390:1)(دیار بکری، تاریخ الخمیس فی مناقب الامام اعظم ابی حینفۃ : 32)(ابن حجر مکی، الخیرات الحسان فی مناقب الامام اعظم ابی حینفۃ النعمان : 32)(ابن حجر ھیتمی، الخیرات الحسان:33)(ابن عماد، شذرات الذھب فی اخبار من ذھب 227:1)۔

حافظ المزی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات بہتر (٧٢) صحابہِ کرام سے ہوئی ہے ۔ (معجم المصنفین : ٢/٢٣)

حافظ ذہبی الشافعی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی ٧٤٨ھ) اپنی كتاب "تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں : ١/١٦٨" میں پانچویں طبقہ کے حفاظِ حدیث میں امام صاحب کا ذکر "ابو حنيفة الإمام الأعظم" کے عنوان سے کرتے ہیں : مولدہ سنۃ ثمانین رای انس بن مالک غیرمرۃ لماقدم علیہم الکوفۃ ۔
ترجمہ : حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کی پیدائش سنہ ٨٠ھ میں ہوئی ، آپ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (٩٣ھ) کوجب وہ کوفہ گئے توکئی دفعہ دیکھا ۔
آگے لکھتے ہیں : وحدث عن عطاء ونافع وعبد الرحمن بن هرمز الاعرج وعدى بن ثابت وسلمة بن كهيل وابي جعفر محمد بن علي وقتادة وعمرو بن دينار وابي اسحاق وخلق كثير..... وحدث عنه وكيع ويزيد بن هارون وسعد بن الصلت وابوعاصم وعبد الرزاق وعبيد الله بن موسى وابو نعيم وابو عبد الرحمن المقرى وبشر كثير، وكان اماما ورعا عالماً عاملاً متعبدا کبیرالشان ۔
ترجمہ : امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ نے عطاء، نافع ، عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج، سلمہ بن کہیل، ابی جعفر، محمدبن علی، قتادہ، عمرو بن دینار، ابی اسحاق اور بہت سے لوگوں سے حدیث روایت کی ہے اور ابوحنیفہ سے وکیع، یزید بن ہارون، سعد بن صلت، ابوعاصم، عبدالرزاق، عبیداللہ بن موسیٰ، ابونعیم، ابوعبدالرحمن المقری اور خلق کثیر نے روایت لی ہے اور ابوحنیفہ امام تھے اور زاہد پرہیزگار عالم، عامل، متقی اور بڑی شان والے تھے ۔

قرآن و حدیث کی فقہ (سمجھ) میں امام اعظم رضی اللہ عنہ کی عظمت

حضرت ضرار بن صرد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ، مجھ سے حضرت یزید بن ہارون نے پوچھا کہ سب سے زیادہ فقہ (سمجھ) والا امام ثوری رضی اللہ عنہ ہیں یا امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ ؟ تو انہوں نے کہا کہ : ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ (حدیث میں) افقه (سب سے زیادہ فقیہ) ہیں اور سفیان رضی اللہ عنہ (ثوری) تو سب سے زیادہ حافظ ہیں حدیث میں ۔

حضرت عبدللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ فقہ (سمجھ) رکھنے والے تھے ۔

حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کو لازم پکڑے کیونکہ تمام لوگ فقہ میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے عیال (محتاج) ہیں ۔

محدثین کے ذکر میں اسی کتاب میں آگے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "ان ابا حنیفۃ کان اماما"۔
ترجمہ : بے شک ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ (حديث میں) امام تھے ۔ (تذكرة الحفاظ، دار الكتب العلمية : صفحة نمبر ١٦٨، جلد نمبر١، طبقه ٥، بيان : أبو حنيفة إمامِ أعظم،چشتی)

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بشارت نبوی صلی اللہ علیہ وسلّم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرسورہ جمعہ (کی یہ آیت) نازل ہوئی ’’اور اِن میں سے دوسرے لوگوں میں بھی (اِس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تزکیہ و تعلیم کے لئے بھیجا ہے) جو ابھی اِن لوگوں سے نہیں ملے۔ ‘‘ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یارسول ﷲ ! وہ کون حضرات ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد نہ فرمایا تو میں نے تین مرتبہ دریافت کیا اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے درمیان موجود تھے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دستِ اقدس حضرت سلمان رضی اللہ عنہ (کے کندھوں) پر رکھ کر فرمایا : اگر ایمان ثریا (یعنی آسمان دنیا کے سب سے اونچے مقام) کے قریب بھی ہوا تو ان (فارسیوں) میں سے کچھ لوگ یا ایک آدمی (راوی کو شک ہے) اسے وہاں سے بھی حاصل کر لے گا ۔ (أخرجه البخاري في الصحيح، 16 / 298، کتاب : التفسير / الجمعة، باب : قوله : وآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ : 3، 4 / 1858، الرقم : 4615، ومسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضل فارس، 4 / 1972، الرقم : 2546، والترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : في فضل العجم، 5 / 725، الرقم : 3942،چشتی،وفي کتاب : تفسير القرآن عن رسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : وَمِنْ سُورَةِ محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 384، الرقم : 3260. 3261، وفي باب : ومِنْ سَوْرةِ الجُمَعَةِ، 5 / 413، الرقم : 3310، وابن حبان في الصحيح، 16 / 298، الرقم : 7308، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 367، الرقم : 7060، وأبونعيم في حلية الأولياء، 6 / 64، والعسقلاني في فتح الباري، 8 / 642، الرقم : 4615، والحسيني في البيان والتعريف، 2 / 170، الرقم : 1399، وابن کثير في تفسير القرآن العظيم، 4 / 364، الرقم : 4797، والطبراني في جامع البيان، 28 / 96، والقرطبي في الجامع لأحکام القرآن، 18 / 93)

حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب " تنییض الصحیفۃ میں امام اعظم کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے بارے میں عنوان باندھا ہے جس میں انھوں نے لکھا ھے کہ " اس حدیث میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بشارت دی گئی ہے ۔ (تبییض الصحیفۃ بمناقب ابی حنیفۃ 33:31)

امام ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب " الخیرات الحسان " میں باب باندھا ہے جیس کا عنوان ہے " امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے حق میں وارد ہونے والی حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خوش خبری" امام ہیتمی نے اس باب کے ابتدائیہ میں امام جلال الدین سیوطی کی درج بالا تحقیق درج کرکے لکھا ہے کہ " یقیناً اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حدیث پاک سے امام ابو حنیفہ مراد ہیں کیونکہ آپ کے زمانے میں اہل فارس سے کوئی شخض بھی آپ کے مبلغ علم اور آپ کے شاگردوں کے درجہ علم تک نہیں پہنچا ۔ (الخیرات الحسان صفحہ 24،چشتی)
اس حدیث کے اولین مصداق صرف امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔کیونکہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اہل فارس سے کوئی بھی آپ کے علم وفضل تک نہ پہونچ سکا ۔ (تذکرۃ المحدثین صفحہ نمبر ٤٨)

غیر مقلد وھابی حضرات کے امام نواب صدیق حسن خاں بھوپالوی کو بھی اس امر کا اعتراف کرناپڑا ۔ لکھتے ہیں : ہم امام دراں داخل ست ۔ ترجمہ : امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس حدیث کے مصداق ہیں ۔ ( اتحاف النبلائ ٢٢٤ )

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و دیگر محدثین علیہم الرّحمہ کی اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیلئے یہ بشارت نہ تھی کہ آیت میں ،لمایلحقوبہم ،کے بارے میں سوال تھا اورجواب میں آئندہ لوگوں کی نشاندھی کی جارہی ہے ، لہٰذا وہ لوگ غلط فہمی کا شکارہیں جو یہ کہتے ہیں کہ حدیث تو حضرت سلمان فارسی کیلئے تھی اوراحناف نے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر چسپاں کردی ۔ غور کریں کہ یہ دیانت سے کتنی بعید بات ہے ۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے شرف ملاقات بھی حاصل تھا ، آپ کے تمام انصاف پسند تذکرہ نگار اور مناقب نویس اس بات پر متفق ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو ائمہ اربعہ علیہم الرّحمہ میں کسی کو حاصل نہیں ۔ بلکہ بعض نے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کابھی ذکر کیا ہے ۔

علامہ ابن حجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو پایا ۔ آپ کی ولادت ٨٠ھ میں ہوئی ، اس وقت کوفہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت تھی ۔ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ٨٨ھ کے بعد ہواہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرہ میں موجود تھے اور 95ھ میں وصال فرمایا ۔ آپ نے انکو دیکھا ہے ۔ ان حضرات کے سوا دوسرے بلاد میں دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی موجود تھے ۔ جیسے :حضرت واثلہ بن اسقع شام میں ۔وصال ٨٥ھ ۔ حضرت سہل بن سعد مدینہ میں ۔وصال ٨٨ھ ۔ حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ مکہ میں ۔وصال ١١٠ھ ۔ یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں آخری ہیں جنکا وصال دوسری صدی میں ہوا ۔اور امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٩٣ھ میں انکو حج بیت اللہ کے موقع پر دیکھا ۔

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے خود امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا کہ : میں 93 ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گیا ،اس وقت میری عمر سولہ سال کی تھی ۔میں نے ایک بوڑھے شخص کودیکھا کہ ان پر لوگوں کا ہجوم تھا ،میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ بوڑھے شخص کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابی ہیں اور ان کا نام عبد اللہ بن حارث بن جز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ، پھر میں نے دریافت کیا کہ ان کے پاس کیا ہے ؟ میرے والد نے کہا : ان کے پاس وہ حدیثیں ہیں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔ میں نے کہا : مجھے بھی ان کے پاس لے چلئے تاکہ میں بھی حدیث شریف سن لوں ، چنانچہ وہ مجھ سے آگے بڑھے اور لوگوں کو چیرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ میں ان کے قریب پہونچ گیا اور میں نے ان سے سنا کہ آپ کہہ رہے تھے ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من ثفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ وھمہ ورزقہ من حیث لایحسبہ ۔ (الخیرات الحسان،چشتی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے دین کی سمجھ حاصل کرلی اس کی فکروں کا علاج اللہ تعالیٰ کرتاہے اوراس کو اس طرح پر روزی دیتاہے کہ کسی کو شان و گمان بھی نہیں ہوتا۔علامہ کوثری کی صراحت کے مطابق پہلا حج ٨٧ھ میں سترہ سال کی عمر میں کیا ،اور دوسرا '٩٦'ھ میں ٢٦سال کی عمرمیں ۔ اور متعدد صحابہ کرام سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔ درمختار میں بیس اور خلاصہ اکمال میں چھبیس صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملاقات ہونا بیان کی گئی ہے ۔ بہر حال اتنی بات متحقق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ملاقات ہوئی اور آپ بلاشبہ تابعی ہیں اوراس شرف میں اپنے معاصرین واقران مثلا امام سفیان ثوری ،امام اوزاعی ،امام مالک،اور امام لیث بن سعد پر آپ کو فضیلت حاصل ہے ۔ (قلائد العقیان)

لہذا آپ کی تابعیت کا ثبوت ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔ بلکہ آپ کی تابعیت کے ساتھ یہ امر بھی متحقق ہے کہ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے احادیث کا سماع کیا اورروایت کیاہے ۔ تو یہ وصف بھی بلاشبہ آپ کی عظیم خصوصیت ہے ۔ بعض محدثین ومورخین نے اس سلسلہ میں اختلاف بھی کیا ہے لیکن منصف مزاج لوگ خاموش نہیں رہے ، لہذا احناف کی طرح شوافع نے بھی اس حقیقت کو واضح کردیا ہے ۔
علامہ عینی حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی صحابی رسول کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ھواحد من راٰہ ابوحنیفۃ من الصحابۃ وروی عنہ ولا یلتفت الی قول المنکر المتعصب وکان عمر ابی حنیفۃ حینئذ سبع سنین وھو سن التمییز ہذاعلی الصحیح ان مولد ابی حنیفۃ سنۃ ثمانین وعلی قول من قا ل سنۃ سبعین یکون عمر ہ حینئذ سبع عشرۃ سنۃ ویستبعدجدا ان یکون صحابی مقیما ببلدۃ وفی اہلہا من لارأہ واصحابہ اخبر بحالہ وہم ثقاۃ فی انفسہم ۔ (الفوائد المہمہ علامہ عمر بن عبدالوہاب عرضی شافعی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)
ترجمہ : عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ہیں جن کی امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیارت کی اور ان سے روایت کی قطع نظر کرتے ہوئے منکر متعصب کے قول سے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر اس وقت سات سال کی تھی کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ کی ولادت 80 ھ میں ہوئی اور بعض اقوال کی بنا پر اس وقت آپکی عمر سترہ سال کی تھی۔ بہر حال سات سال عمر بھی فہم وشعور کاسن ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک صحابی کسی شہر میں رہتے ہوں اور شہر کے رہنے والوں میں ایسا شخص ہو جس نے اس صحابی کو نہ دیکھا ہو۔ اس بحث میں امام اعظم کی تلامذہ کی بات ہی معتبر ہے کیونکہ وہ ان کے احوال سے زیادہ واقف ہیں اور ثقہ بھی ہیں ۔ (الفوائد المہمہ علامہ عمر بن عبدالوہاب عرضی شافعی رحمۃ اللہ علیہ)

ملاعلی قاری امام کردری علیہما الرّحمہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں : قال الکردری جماعۃ من المحدثین انکر واملاقاتہ مع الصحابۃ واصحابہ اثبتوہ بالاسانید الصحاح الحسان وہم اعرف باحوالہ منہم والمثبت العدل اولی من النافی ۔
ترجمہ : امام کردری فرماتے ہیں کہ محدثین کی ایک جماعت نے امام اعظم کی صحابہ کرام سے ملاقات کا انکار کیا ہے اور انکے شاگردوں نے اس بات کو صحیح اور حسن سندوں کے ساتھ ثابت کیا ۔ (مرآۃ الجنان امام یافعی شافعی رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور ثبوت روایت نفی سے بہتر ہے ۔

مشہور محدث شیخ محمد طاہر ہندی نے کرمانی کے حوالہ سے لکھا ہے : واصحابہ یقولون انہ لقی جماعۃ من الصحابۃ وروی عنہم ۔ (تذکرۃ الحفاظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد کہتے ہیں کہ آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے ملاقات کی ہے اور ان سے سماع حدیث بھی کیا ہے ۔

امام ابو معشر عبدالکریم بن عبدالصمد طبری شافعی نے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مرویات میں ایک مستقل رسالہ لکھا اور اس میں روایات مع سند بیان فرمائیں ۔ نیز ان کو حسن وقوی بتایا ۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات کو تبییض الصحیفہ میں نقل کیا ہے جن کی تفصیل یوں ہے ۔ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ حدیث پچاس طرق سے مجھے معلوم ہے اور صحیح ہے ۔ (تہذیب التہذیب)

حضرت امام ابو یوسف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : الدال علی الخیر کفاعلۃ ۔ (الکاشف) ۔ اس معنی کی حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔

حضرت امام ابو یوسف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورانہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : نیکی کی رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کے مثل ہے ۔ عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : ان اللہ یحب اغاثۃ اللہفان ۔(تہذیب الکمال) ۔ضیاء مقدسی نے مختارہ میں اسکو صحیح کہا ۔

حضرت امام ابویوسف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا : بیشک اللہ تعالیٰ مصیبت زدہ کی دست گیری کو پسند فرماتاہے ۔عن یحی بن قاسم عن ابی حنیفۃ سمعت عبداللہ بن ابی اوفی یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : من بنی للہ مسجدا ولو کمفحص قطاۃ بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ۔ (جامع الاصول،چشتی) ۔ امام سیوطی فرماتے ہیں ،اس حدیث کا متن صحیح بلکہ متواتر ہے ۔

حضرت یحیی بن قاسم حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا کہ انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے اللہ کی رضا کیلئے سنگ خوار کے گڑھے کے برابر بھی مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس
کیلئے جنت میں گھر بنائے گا ۔عن اسمعیل بن عیاش عن ابی حنیفۃ عن واثلۃ بن اسقع ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال :دع مایریبک الی مالا یریبک ۔ (احیاء العلوم) ، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصحیح فرمائی ۔

حضرت اسمعیل بن عیاش حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شک وشبہ کی چیزوں کو چھوڑ کر ان چیزوں کو اختیار کرو جو شکوک وشبہات سے بالاتر ہیں ۔

ان تمام تفصیلات کی روشنی میں یہ بات ثابت ومتحقق ہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رویت وروایت دونوں سے مشرف ہوئے ۔یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ امام اعظم کے بعض سوانح نگا راپنی صاف گوئی اور غیر جانب داری کا ثبوت دیتے ہوئے وہ باتیں بھی لکھ گئے ہیں جن سے تعصب کا اظہار ہوتاہے ۔ان کے پیچھے حقائق تو کیا ہوتے دیانت سے بھی کام نہیں لیا گیا ۔اس سلسلہ میں علامہ غلام رسول سعیدی کی تصنیف تذکرۃ المحدثین سے ایک طویل اقتباس ملاحظہ ہو لکھتے ہیں : شبلی نعمانی نے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کے انکار پر کچھ عقلی وجوہات بھی پیش کئے ہیں لکھتے ہیں ۔ میرے نزدیک اس کی ایک اور وجہ ہے ۔ محدثین میں باہم اختلاف ہے کہ حدیث سیکھنے کیلئے کم از کم کتنی عمرشرط ہے ؟ اس امر میں ارباب کوفہ سب سے زیادہ احتیاط کرتے تھے یعنی بیس برس سے کم عمر کا شخص حدیث کی درسگاہ میں شامل نہیں ہوسکتا تھا ، ان کے نزدیک چونکہ حدیثیں بالمعنی روایت کی گئی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ طالب علم پوری عمر کو پہنچ چکا ہوورنہ مطالب کو سمجھنے اوراس کے اداکرنے میں غلطی کا احتمال ہے ،غالباً یہی قید تھی جس نے امام ابوحنیفہ کو ایسے بڑے شرف سے محروم رکھا ۔

(1) ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اہل کوفہ کایہ قاعدہ کہ سماع حدیث کیلئے کم ازکم بیس سال عمر درکار ہے ، کونسی یقینی روایت سے ثابت ہے ؟ امام صاحب کی مرویات صحابہ کیلئے جب یقینی اورصحیح روایت کامطالبہ کیاجاتاہے تواہل کوفہ کے اس قاعدہ کو بغیر کسی یقینی اور صحیح روایت کے کیسے مان لیا گیا ؟

(2) یہ قاعدہ خود خلاف حدیث ہے کیونکہ صحیح بخاری میں امام بخاری نے متی یصح سماع الصغیر کاباب قائم کیا ہے اس کے تحت ذکرفرمایاہے کہ محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پانچ سال کی عمر میں سنی ہوئی حدیث کو روایت کیاہے ،اس کے علاوہ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے وقت چھ اورسات سال تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے وقت تیرہ سال تھی ،اور یہ حضرات آپ کے وصال سے کئی سال پہلے کی سنی ہوئی احادیث کی روایت کرتے تھے ۔ پس روایت حدیث کیلئے بیس سال عمرکی قید لگانا طریقہ صحابہ کے مخالف ہے اور کوفہ کے ارباب علم وفضل اوردیانت دار حضرات کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے اتنی جلدی صحابہ کی روش کو چھوڑدیاہوگا ۔

(3) برتقدیر تسلیم گزارش یہ ہے کہ اہل کوفہ نے یہ قاعدہ کب وضع کیا ،اس بات کی کہیں وضاحت نہیں ملتی ۔اغلب اورقرین قیاس یہی ہے کہ جب علم حدیث کی تحصیل کاچرچا عام ہوگیا اور کثرت سے درس گاہیں قائم ہوگئیں اوروسیع پیمانے پر آثار وسنن کی اشاعت ہونے لگی ،اس وقت اہل کوفہ نے اس قید کی ضرورت کو محسوس کیاہوگا تاکہ ہرکہ ومہ حدیث کی روایت کرنا شروع نہ کردے ،یہ کسی طرح بھی باور نہیں کیاجاسکتا کہ عہد صحابہ میں ہی کوفہ کے اندر باقاعدہ درس گاہیں بن گئیں اوران میں داخلہ کیلئے قوانین اورعمر کا تعین بھی ہوگیا تھا ۔

(4) اگریہ مان بھی لیاجائے کہ ٨٠ھ ہی میں کوفہ کے اندر باقاعدہ درسگاہیں قائم ہوگئی تھیں اوران کے ضوابط اورقوانین بھی وضع کئے جاچکے تھے توان درس گاہوں کے اساتذہ سے سماع حدیث کیلئے بیس برس کی قید فرض کی جاسکتی ہے مگر یہ حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفی وغیرہ ان درس گاہوں میں اساتذہ تو مقررتھےنہیں کہ ان سے سماع حدیث بھی بیس سال کی عمر میں کیا جاتا ۔

(5) بیس برس کی قید اگر ہوتی بھی توکوفہ کی درس گاہوں کے لئے اگر کوفہ کاکوئی رہنے والا بصرہ جاکر سماع حدیث کرے تویہ قید اس پر کیسے اثر انداز ہوگی ؟ حضرت انس بصرہ میں رہتے تھے اورامام اعظم ان کی زندگی میں بارہابصرہ گئے اور ان کی آپس میں ملاقات بھی ثابت ہے توکیوں نہ امام صاحب نے ان سے روایت حدیث کی ہوگی ۔

(6) اگر بیس سال عمر کی قید کو بالعموم بھی فرض کرلیا جائے توبھی یہ کسی طور قرین قیاس نہیں ہے کہ حضرات صحابہ کرام جن کا وجود مسعود نوادرروزگار اور مغتنمات عصر میں سے تھا ان سےاز راہ تبرک وتشرف احادیث کے سماع کیلئے بھی کوئی شخص اس انتظار میں بیٹھا رہے گا کہ میری عمر بیس سال کو پہنچ لے تومیں ان سے جاکر
ملاقات اور سماع حدیث کروں ۔حضرت انس کے وصال کے وقت امام اعظم کی عمر پندرہ برس تھی اورامام کردری فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں امام اعظم بیس سے زائد مرتبہ بصرہ تشریف لے گئے ۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ امام اعظم پندرہ برس تک کی عمر میں بصرہ جاتے رہے ہوں اور حضرت انس سے مل کر اوران سے سماع حدیث کرکے نہ آئے ہوں ،راوی اورمروی عنہ میں معاصرت بھی ثابت ہوجائے توامام مسلم کے نزدیک روایت مقبول ہوتی ہے ۔ یہاں معاصرت کے بجائے ملاقات کے بیس سے زیادہ قرائن موجود ہیں پھر بھی قبول کرنے میں تامل کیا جارہا ہے ۔

محترم قارئینِ کرام : الحمد للہ العزیز کہ ہم نے اصول روایت اورقرائن عقلیہ کی روشنی میں اس امر کو آفتاب سے زیادہ روشن کردیا ہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت حدیث کا شرف حاصل تھا اوراس سلسلے میں جتنے اعتراضاف کئے جاتے ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو کرلی ہے ۔ اس کے باوجود بھی ہم نے جو کچھ لکھا وہ ہماری تحقیق ہے ہم اسے منوانے کیلئے ہرگزاصرار نہیں کرتے ۔ (تہذیب الاسماء واللغات نووی رحمۃ اللہ علیہ،چشتی)

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اساتذہ

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کثیر شیوخ واساتذہ سے علم حدیث حاصل کیا ،ان میں سے بعض کے اسماء یہ ہیں ۔

عطاء بن ابی رباح ،حماد بن ابی سلیمان ،سلیمان بن مہران اعمش ،امام عامر شعبی ، عکرمہ مولی ابن عباس ،ابن شہاب زہری ،نافع مولی بن عمر ،یحیی بن سعید انصاری ،عدی بن ثابت انصاری ، ابوسفیان بصری ،ہشام بن عروہ ،سعید بن مسروق، علقمہ بن مرثد ،حکم بن عیینہ ، ابواسحاق بن سبیعی ،سلمہ بن کہیل ،ابوجعفر محمد بن علی ، عاصم بن ابی النجود ،علی بن اقمر ،عطیہ بن سعید عوفی ، عبدالکریم ابوامیہ ،زیاد بن علاقہ ۔سلیمان مولی ام المومنین میمونہ ،سالم بن عبداللہ ، علیہم الرّحمہ ۔

چونکہ احادیث فقہ کی بنیاد ہیں اور کتاب اللہ کے معانی ومطالب کے فہم کی بھی اساس ہیں لہذا امام اعظم نے حدیث کی تحصیل میں بھی انتھک کوشش فرمائی ۔یہ وہ زمانہ تھا کہ حدیث کادرس شباب پرتھا ۔تمام بلاد اسلامیہ میں اس کا درس زور وشور سے جاری تھا اورکوفہ تو اس خصوص میں ممتاز تھا ۔کوفہ کا یہ وصف خصوصی امام بخاری کے زمانہ میں بھی اس عروج پرتھا کہ خودامام بخاری فرماتے ہیں ،میں کوفہ اتنی بار حصول حدیث کیلئے گیا کہ شمار نہیں کرسکتا۔

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حصول حدیث کا آغاز بھی کوفہ ہی سے کیا ۔ کوفہ میں کوئی ایسا محدث نہ تھا جس سے آپ نے حدیث اخذ نہ کی ہو ۔ابوالمحاسن شافعی نے فرمایا :۔ تر انوے وہ مشائخ ہیں جو کوفے میں قیام فرماتھے یاکوفے تشریف لائے جن سے امام اعظم نے حدیث اخذ کی ۔ان میں اکثر تابعی تھے ۔ بعض مشائخ کی تفصیل یہ ہے ۔

امام عامر شعبی :۔انہوں نے پانچسو صحابہ کرام کا زمانہ پایا ،خود فرماتے تھے کہ بیس سال ہوئے میرے کان میں کوئی حدیث ایسی نہ پڑی جسکا علم مجھے پہلے سے نہ ہو ۔ امام اعظم نے ان سے اخذحدیث فرمائی ۔

امام شعبہ : انہیں دوہزار حدیثیں یادتھیں ،سفیان ثوری نے انہیں امیرالمومنین فی الحدیث کہا ،امام شافعی نے فرمایا : شعبہ نہ ہوتے توعراق میں حدیث اتنی عام نہ ہوتی ۔امام شعبہ کو امام اعظم سے قلبی لگاؤ تھا ،فرماتے تھے ،جس طرح مجھے یہ یقین ہے کہ آفتاب روشن ہے اسی طرح یقین سے کہتاہوں کہ علم اورابو حنیفہ ہمنشیں ہیں ۔

امام اعمش : ۔مشہور تابعی ہیں شعبہ وسفیان ثوری کے استاذ ہیں ،حضرت انس اورعبداللہ بن ابی اوفی سے ملاقات ہے ۔ امام اعظم آپ سے حدیث پڑھتے تھے اسی دوران انہوں نے آپ سے مناسک حج لکھوائے ۔واقعہ یوں ہے کہ امام اعمش سے کسی نے کچھ مسائل دریافت کئے ۔انہوں نے امام اعظم سے پوچھا ۔آپ کیاکہتے ہیں ؟ حضرت امام اعظم نے ان سب کے حکم بیان فرمائے ۔امام اعمش نے پوچھا کہاں سے یہ کہتے ہو ۔فرمایا۔آپ ہی کی بیان کردہ احادیث سے اور ان احادیث کو مع سندوں کے بیان کردیا ۔امام اعمش نے فرمایا ۔ بس بس ،میں نے آپ سے جتنی حدیثیں سودن میں بیان کیں آپ نے وہ سب ایک دن میں سناڈالیں ۔میں نہیں جانتا تھا کہ آپ ان احادیث میں یہ عمل کرتے ہیں ۔

یامعشر الفقہاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایہا الرجل اخذت بکلاالطرفین۔

اے گروہ فقہاء !تم طبیب ہواور ہم محدثین عطار اورآپ نے دونوں کو حاصل کرلیا ۔

امام حماد :۔امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عظیم استاذ حدیث وفقہ ہیں اور حضرت انس سے حدیث سنی تھی بڑے بڑے ائمہ تابعین سے ان کو شرف تلمذ حاصل تھا ۔

سلمہ بن کہیل :۔تابعی جلیل ہیں ،بہت سے صحابہ کرام سے روایت کی ۔کثیرالروایت اور صحیح الروایت تھے ۔

ابواسحاق سبیعی ۔ علی بن مدینی نے کہا انکے شیوخ حدیث کی تعداد تین سو ہے ۔ان میں اڑتیس صحابہ کرام ہیں ۔ عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر ، عبد اللہ بن زبیر، نعمان بن بشیر ،زید بن ارقم سرفہرست ہیں۔
کوفہ کے علاوہ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ میں آپ نے ایک زمانہ تک علم حدیث حاصل فرمایا: چونکہ آپ نے پچپن حج کئے اس لئے ہرسال حرمین شریفین زادھما اللہ شرفا وتعظیما میں حاضری کا موقع ملتاتھا اور آپ اس موقع پر دنیا ئے اسلام سے آنے والے مشائخ سے اکتساب علم کرتے ۔

مکہ معظمہ میں حضرت عطاء بن ابی رباح سرتاج محدثین تھے ،دوسرے صحابہ کرام کی صحبت کا شرف حاصل تھا ۔ محدث ہونے کے ساتھ ساتھ عظیم مجتہد وفقیہ تھے ۔ حضرت ابن عمر فرماتے تھے کہ عطاء کے ہوتے ہوئے میرے پاس کیوں آتے ہیں ۔ ایام حج میں اعلان عام ہوجاتا کہ عطاء کے علاوہ کوئی فتوی نہ دے ۔ اساطین محدثین امام اوزاعی ،امام زہری ، امام عمروبن دینار انکے شاگردتھے۔ امام اعظم نے اپنی خداداد ذہانت وفطانت سے آپ کی بارگاہ میں وہ مقبولیت حاصل کرلی تھی آپ کو قریب سے قریب تر بٹھاتے ۔ تقریباً بیس سال خدمت میں حج بیت اللہ کے موقع پر حاضر ہوتے رہے ۔

حضرت عکرمہ کا قیام بھی مکہ مکرمہ میں تھا ، یہ جلیل القدر صحابہ کے تلمیذ ہیں۔ حضرت علی،حضرت ابوہریرہ ، ابوقتادہ ، ابن عمر اورابن عباس کے تلمیذ خاص ہیں ۔ستر مشاہیر ائمہ تابعین انکے تلامذہ میں داخل ہیں ۔امام اعظم نے ان سے بھی حدیث کی تعلیم حاصل کی۔

مدینہ طیبہ میں سلیمان مولی ام المومنین میمونہ اورسالم بن عبداللہ سے احادیث سنیں ۔

ان کے علاوہ دوسرے حضرات سے بھی اکتساب علم کیا ۔

بصرہ کے تمام مشاہیر سے اخذ علم فرمایا ،یہ شہر حضرت انس بن مالک کی وجہ سے مرکز حدیث بن گیا تھا۔ امام اعظم کی آمد ورفت یہاں کثرت سے تھی ۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپکی ملاقات بصرہ میں بھی ہوئی اورآپ جب کوفہ تشریف لائے اس وقت بھی ۔ غرضکہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو حصول حدیث میں وہ شرف حاصل ہے جو دیگر ائمہ کو نہیں ، آپ کے مشائخ میں صحابہ کرام سے لیکر کبار تابعین اورمشاہیر محدثین تک ایک عظیم جماعت داخل ہے اور آپ کے مشائخ کی تعداد چارہزار تک بیان کی گئی ہے ۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے تلامذہ : آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علم حدیث وفقہ حاصل کرنے والے بے شمار ہیں ، چند مشاہیر کے اسماء اس طرح ہیں ۔امام ابو یوسف ،امام محمد بن حسن شیبانی ،امام حماد بن ابی حنیفہ ، امام مالک ،امام عبداللہ بن مبارک ،امام زفربن ہذیل ،امام داؤد طائی ،فضیل بن عیاض ،ابراہیم بن ادہم ،بشربن الحارث حافی ، ابوسعید یحی بن زکریاکوفی ہمدانی ،علی بن مسہر کوفی ، حفص بن غیاث ،حسن بن زناد ، مسعر بن کدام ،نوح بن درا ج نخعی ،ابراہیم بن طہران ،اسحاق بن یوسف ازرق ،اسد بن عمر وقاضی ،عبدالرزاق ،ابونعیم ،حمزہ بن حبیب الزیات ،ابو یحیی حمانی ،عیسی بن یونس ،یزید بن زریع ،وکیع بن جراح ، ہیثم، حکام بن یعلی رازی ،خارجہ بن مصعب ،عبدالحمید بن ابی داؤد ، مصعب بن مقدام ،یحیی بن یمان ،لیث بن سعد ،ابو عصمہ بن مریم ،ابو عبدالرحمن مقری ،ابوعاصم علیہم الرّحمہ ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304181115151268/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
*امت کا چراغ*

غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیر اعلی سوادِ اعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com

اسلام حدود عرب کو پار کرتا ہوا اہل عجم کے دلوں میں جگہ بنا رہا تھا..... ایک طرف نو مسلموں کی تعداد بڑھ رہی تھی ، تو دوسری جانب قدیم مسلمانوں کی نئی پیڑھی جوان ہوچکی تھی.... دونوں ہی قسم کے افراد کما حقہ قرآن وحدیث سے اخذ مسائل کی صلاحیت سے محروم تھے....(الا ماشاء اللہ)
کس آیت کا کیا مفہوم ہے ، کتنے مسائل نکلتے ہیں ؟ یہ بتانے والے صحابہ بھی ایک کرکے رخصت ہو رہے تھے.... ایسے ماحول میں اہل عجم کی قسمت کا سورج طلوع ہوا..... سرزمین عرب سے ظاہر ہونے والے دین کی تعبیر وتشریح کے لئے مبدأ قدرت نے ثابت بن نعمان کوفی کا گھر منتخب فرمایا ، اور ان کے گھر پر ایک سعادت مند بچے کی پیدائش ہوئی
یہ مبارک زمانہ 80 ھ کا تھا ،اور رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ بقید حیات تھے..... یعنی بہترین زمانوں میں دوسرا زمانہ ابھی باقی تھا..... ادھر جناب ثابت کا نور نظر علم وفن کی منزلیں طے کر رہا تھا..... فیاضی قدرت سے اعلی درجہ کی ذہانت پائی تھی..... دن ہفتوں ، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں کا سفر طے کرتے ہوئے گزرتے رہے یہاں تک کہ دیکھتے ہی دیکھتے جناب ثابت کا بیٹا *نعمان* ایک خوب رو جوان کی شکل اختیار کر گیا....ابتدائی تعلیم کے بعد آبائی پیشے تجارت کو اختیار کرکے خوب نام کمایا..... مگر قدرت نے اس نوجوان کو محض تجارت کے لئے نہیں پیدا کیا تھا....اس لئے لامحالہ اس نوجوان کو حصول علم کی جانب راغب ہونا ہی تھا....تحصیل علم کی جانب رغبت کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے ، اوائل جوانی میں ایک اچھے تاجر کی شناخت رکھتے تھے..... ایک دن راستے میں محدث وقت حضرت عامر شعبی مل گئے ، پوچھا اے جوان ! کہاں جارہے ہو؟
عرض کی فلاں تاجر کے پاس، حضرت عامر شعبی نے کہا میں سمجھا تم علما کے پاس جارہے ہو.....عرض کی، میرا علما کے پاس جانا ذرا کم ہی ہوتا ہے ،
اتنا سن کر جناب شعبی نے فرمایا:
*"غفلت میں نہ پڑو ، خود کو تحصیل علم میں لگاؤ ، علما کی مجلسوں میں جایا کرو ، میں تم میں بیدار مغزی اور کھوج لگانے کا مادہ دیکھتا ہوں"*
اتنا سنتے ہی دل کی دنیا میں ایک تلاطم برپا ہوگیا...... بازار ، تجارت کی محبت دل سے نکل گئی اور کسب علم کا جذبہ ایسا بیدار ہوا کہ سب کچھ چھوڑ کر راہ علم کو اختیار کیا...تحصیل علم کا جنون وجذبہ اس قدر تھا کہ آپ کے مشائخ واساتذہ کی تعداد قریب چار ہزار بتائی جاتی ہے !!!

طویل عرصے تک حصول علم کے بعد یہ نوجوان جب منظر عام پر آیا تو
آنکھوں میں علم کی گہرائی ، پیشانی پر وراثت نبوی کا تاج زریں ، دل میں خدمت کتاب وسنت کا جذبہ بے کراں، موجیں مار رہا تھا....
یہی جذبہ اس نوجوان کو آل رسول ، فاطمی پھول سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ سیادت میں لے گیا...... علم وفن ، فکرو شعور کی دولت تو پہلے ہی سے موجود تھی ، اب ایک بزرگ کی صحبت ملی تو اثر سہ آتشہ ہوگیا ، علم وفن ، شعور و ادراک ، دقت نظر ، فکر وآگہی ، اور خدمت کتاب وسنت کے جذبے سے سرشار یہ خوش بخت نوجوان جب عملی دنیا میں وارد ہوا تو ہر چہار جانب ایک دھوم مچ گئی..... نعمان بن ثابت کا آفتاب علم نصف النہار پر چمکا...... کتاب وسنت سے اخذِ مسائل کے قواعد و ضوابط مقرر کئے گئے..... عوام الناس کے لئے عمل کرنا آسان ہوتا گیا..... کشاں کشاں طلبائے اسلام اس آفتاب علم کے ارد گرد جمع ہوتے گئے ، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک علمی کہکشاں بن گئی..... اب متبحر علما کی ایک بڑی جماعت موجود تھی ، جس کے افراد اجتہادی صلاحیتوں سے مالامال تھے..... فضل خداوندی شامل حال تھا ، عنایت مصطفیٰ قدم بقدم نگہبان تھی...مصطفیٰ جان رحمت کی اس بشارت کا وقت قریب آرہا تھا جو آپ نے فرمایا تھا
*" اگر علم ثریا ستارے پر بھی پہنچ جائے گا تو فارس کے بیٹے اسے اتار لائیں گے"*
ایسا ہی ہوا ، اس حدیث کا فرد کامل بن کر جناب ثابت کے گھر پیدا ہونے والے نعمان بن ثابت نے اپنے خداداد علم سے زمانے کو منور کر دیا.....تیس سال تک آپ کے علم سے طالبان علوم نبویہ فیض یاب ہوتے رہے ، فیض رسانی کا یہ عالم تھا کہ آپ کی خصوصی تعلیم وتربیت سے ہزاروں فقیہ پیدا ہوئے..... علامہ کردری کی روایت کے مطابق آٹھ سو(800) ایسے شاگرد گزرے ہیں جو فقہا ومحدثین کی صف میں نمایاں ہیں.... بقیہ عام شاگردوں کی تعداد اس پر مستزاد !!!
امام بخاری کے استاذ امام مکی بن ابراہیم اسی بارگاہ کے شاگرد تھے ، یعنی امام بخاری کی خدمتِ حدیث اسی بارگاہ کا فیضان ہے.......آپ کے شاگردوں میں وقت کے جید ترین علما شامل تھے ، ان افراد میں بھی آپ نے انتہائی مخصوص افراد کو لیکر تدوین فقہ کی مجلس تشکیل دی ، جس کے قریب 50 ارکان کے نام کتب سیر میں درج ہیں ان عظیم المرتبت ائمہ میں امام ابو یوسف،امام زفر، امام محمد بن حسن شیبانی، اور علی بن مسہر کوفی جیسے افراد شامل ہیں.....علم وفن اور فقہ اسلامی کی بے مثال خدمت نے آپ کی شہرت کو چہار دانگ عالم میں
Forwarded from Ghulam Mustafa Naimi
پھیلا دیا ، اور
*جو نوجوان کل تک نعمان بن ثابت کے نام سے جانا جاتا تھا وہ علمی دنیا کا "امام اعظم" بن چکا تھا.....*
جس کی درس گاہ کی شہرت زمانے میں تھی.... جس کی بارگاہ میں ہر لاینحل مسئلے کا جواب موجود تھا !!
صحبت صحابہ کی برکت سے تابعیت کا تاج زریں مل ہی چکا تھا..... اس اعزاز کی برکت سے اقوال قرآن و حدیث میں منشا خدا ورسول سمجھنے کا جو ملکہ حاصل ہوا وہ صحبت صحابہ کی برکتوں کا نتیجہ تھی !!

آخر کار اس خواب کی تعبیر ظاہر ہوئی جو آپ نے دیکھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف سے مٹی نکال رہے ہیں.... یہ خواب دیکھ کر بے حد پریشان ہوئے اور ایک عزیز کے ذریعے امام محمد بن سیرین سے اس کی تعبیر معلوم فرمائی تو انہوں نے فرمایا :
*"ھٰذا رجل ینبش اخبار النبی صلی اللہ علیہ وسلم"*
یہ شخص اپنے علم وفضل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے مسائل کا استخراج اور نئے امور کی عقدہ کشائی کرے گا....
ایسا ہی ہوا سیدنا امام اعظم نے اپنے علم وفن سے پوری کائنات کو روشن کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کو اس احسن انداز میں دنیا کے سامنے ظاہر کیا کہ
*امام شافعی پکار اٹھے:*
*"جو بھی علم فقہ حاصل کرنا چاہے وہ امام اعظم ابو حنیفہ کی شاگردی اختیار کرے"*
خطیب بغدادی نے یوں خراج عقیدت پیش کیا:
*"روئے زمین کے سب سے بڑے عالم امام اعظم ابو حنیفہ ہیں"*

آج امام اعظم کے دبستان فقہ سے فیض حاصل کرنے والے اہل ایمان کل تعداد کے دو تہائی ہیں.جو نسبت ابو حنیفہ سے حنفی کہلاتے ہیں..... ہندوستان ، پاکستان، بنگلہ دیش ، افغانستان ، عراق ،مصر ،بر اعظم افریقہ ، تیونس ، الجزائر ،امریکہ ،یوروپ ،روس ، ترکستان ،ترکی ، آذربائیجان ، آرمینیہ ، اور عرب ممالک میں بھی امام اعظم ابو حنیفہ کے دبستان سے فیض یاب ہونے والے سب سے بڑی تعداد میں ہیں.
آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
ان فی امتی رجلا اسمه النعمان وکنیته ابو حنیفة ھو سراج امتي ، هو سراج امتي هو سراج امتي ...
میری امت میں ایک شخص ہوگا جس کا نام نعمان ، کنیت ابو حنیفہ ہوگی ، وہ میری امت کا چراغ ہوگا !!!

آئیے آج امام اعظم کے یوم وصال کو یوم امام اعظم کے طور پر منائیں اور اپنے امام کے حضور عقیدتوں کا نذرانہ پیش کریں.....

نہ کیوں کریں ناز اہل سنت، کہ تم سے چمکا نصیبِ امت
سراجِ امت ملا ہو تم سا، امام اعظم ابو حنیفہ

مؤرخہ 2 شعبان المعظم 1441ھ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM