🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امام_اعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304245425144837/
محترم قارئینِ کرام : کوفہ (عراق) وہ مبارک شہر ہےجسےستّر اصحابِِ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک تین سوصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے شرفِ قیام بخشا ۔ (طبقات کبریٰ، 6/89)

آسمانِ ہدایت کے ان چمکتے دمکتے ستاروں نے کوفہ کو علم و عرفان کا عظیم مرکز بنایا ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اِسے کنز الایمان (ایمان کا خزانہ) اور قبۃُ الاسلام (اسلام کی نشانی) جیسے عظیم الشان القابات سے نوازا گیا ۔

جب 80 ہجری میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس وقت شہر کوفہ میں ایسی ایسی ہستیاں موجود تھیں جن میں ہر ایک آسمانِ علم پر آفتاب بن کر ایک عالم کو منوّر کر رہا تھا ۔ (طبقات کبریٰ، 6/86، اخبار ابی حنیفۃ صفحہ 17)

نام و نسب : آپ کا نام نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان کوفی تیمی ہے۔(اخبار ابی حنیفہ واصحابہ صفحہ ١٦،چشتی)

ولادت : آپ کی ولادت کے تعلق سے تین روایتیں ملتی ہیں:٦١ھ،٧٠ھ اور ٨٠ھ ۔لیکن اکثر مؤرخین کا قول یہ ہے کہ آپ کی ولادت ٨٠ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں ہوئی۔(الخیرات الحسان، فصل ٣ صفحہ ٥٩)

تعلیم و تربیت : امام اعظم کوفہ ہی میں پروان چڑھے،جب ہوش سنبھالا تو خاندانی پیشہ تجارت میں مشغول ہوگئے،اسی دوران کوفہ کے مشہور امام حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی،انھوں نے آپ کی ذہانت وفطانت کو پہچان لیا اور آپ کو علم کی تحصیل اور علما کی مجلسوں میں شریک ہونے کی ترغیب دلائی،ابتداءً آپ نے علم کلام کی طرف توجہ فرمائی اور اس میں کمال حاصل کرلیا،ایک مدت تک بحث ومناظرہ میں مشغول رہنے کے بعد آپ کو یہ احساس ہوا کہ عوام ، خواص ، علما،حکام،قضاۃ اور زہاد کو سب سے زیادہ فقہ کی ضرورت ہے؛چناں چہ آپ نے علم کلام سے توجہ ہٹالی،آپ کے اس خیال کو اس واقعہ سے مزید تقویت ملی کہ ایک دن آپ کے پاس ایک عورت آئی اور پوچھا کہ سنت طریقے پر طلاق دینے کی کیا صورت ہے؟آپ خود نہ بتاسکے اور اس سے کہا کہ حضرت حماد سے پوچھ لو،وہ جو بتائیں گے مجھے بھی بتادینا،چناں چہ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔امام اعظم کو اس واقعہ سے بڑی غیرت آئی اور آپ امام حماد کے حلقۂ درس میں شریک ہوگئے۔(الخیرات الحسان فصل ٣ صفحہ٧١)

علم حدیث کےلیے سفر : آپ نے علم حدیث کے حصول کے لیے تین مقامات کا بطورِ خاص سفر کیا ۔ آپ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ میں حاصل کیا کیوں کہ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ علم حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔ گویا آپ علم حدیث کے گھر میں پیدا ہوئے، وہیں پڑھا، کوفہ کے سب سے بڑے علم کے وارث امام اعظم خود بنے ۔
دوسرا مقام حرمین شریفین کا تھا۔ جہاں سے آپ نے احادیث اخذ کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا ۔

اساتذہ و شیوخ : آپ نے تقریبًا 4 ہزار مشایخ سے علم حاصل کیا،جیسا کہ علامہ ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں : ھم کثیرون،لایسع ھذا المختصر ذکرھم،وقد ذکر منھم الامام أبوحفص الکبیر أربعة آلاف شیخ،وقال غیره:له أربعة آلاف شیخ من التابعين،فما بالك بغیرھم ۔ (الخیرات الحسان، فصل ٧ صفحہ ٧٩،چشتی)
ترجمہ : آپ کے شیوخ بہت ہیں،یہ مختصر ان کے ذکر کی گنجائش نہیں رکھتا،امام ابوحفص کبیر نے چار ہزار مشایخ کا ذکر کیا ہے،دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ چار ہزار تو تابعین میں سے ہیں،تو غیر تابعین کتنے ہوں گے؟
آپ کے بعض اساتذہ کے اسما درج ذیل ہیں :
(١)حضرت حماد بن سلیمان(٢)حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر(٣)حضرت اسماعیل بن عبدالمالک(٤)حضرت ابوہند حارث بن عبدالرحمٰن ہمدانی(٥)حضرت حسن بن عبید اللّٰه رضی اللّٰه عنھم اجمعین۔(تبییض الصحیفه صفحہ ١٩)

تدریس : آپ کے استاذ گرامی حضرت حماد بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ان کی مسند تدریس پر ان کے صاحبزادے متمکن ہوئے،لیکن فقہ وافتا میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے تلامذہ کو تشفی نہ مل پاتی،لہٰذا ابوبکر نہشلی سے گزارش کی گئی تو انھوں نے انکار کر دیا،پھر حضرت ابوبردہ سے درخواست کی گئی تو انھوں نے بھی قبول نہ کیا،پھر سارے تلامذہ نے مل کر امام اعظم سے التماس کیا تو آپ نے ان کی بات مان لی اور فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ علم مٹ جائے۔چناں چہ آپ نے اپنے استاذ گرامی کی مسند تدریس کو رونق بخشی،جب یہ خبر لوگوں میں عام ہوئی تو ہر طرف سے تشنگان علم آپ کے حلقہ تدریس میں جمع ہونے لگے ۔ (مناقب اعظم صفحہ نمبر ٨٣،چشتی)

تلامذہ : آپ رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں :
(١) امام ابو یوسف(٢)امام محمد بن حسن شیبانی(٣)امام حماد بن ابو حنیفہ(٤)امام زفر بن ہذیل(٥)امام عبد ﷲ بن مبارک (٦)امام وکیع بن جراح(٧)امام داؤد بن نصیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ۔

علاوہ ازیں قرآن حکیم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح البخاری کے مؤلف امام محمد بن اسماعیل بخاری اور دیگر بڑے بڑے محدثین کرام رحمہم ﷲ آپ کے شاگردوں کے شاگرد تھے ۔

تصانیف : آپ کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں :

(١)الفقه الأکبر(٢)الفقه الأبسط(٣)العالم والمتعلم(٤)رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتّی(٥)وصية الامام أبي حنيفة.(ملتقطا،نزھۃ القاری،ج:١،ص:١٨٤)

آپ کا علمی مقام : آپ کا علمی ، فقہی اور اجتہادی مقام بہت ارفع و اعلیٰ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کی علمی رفعت وعظمت کی بشارت دی ہے،جیسا کہ امام ابونعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف”حلیۃ الاولیاء” میں درج ذیل حدیث نقل کرتے ہیں : عن أبی ھریرۃ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم:لوکان العلم منوطا بالثریا لتناوله رجال من أبناء فارس ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر علم ثریا ستارے کے پاس بھی ہوتا تو فارس کے کچھ افراد اس کو وہاں سے بھی حاصل کرلیتے ۔

امام جلال الدین سیوطی نے اس طرح کی بہت سی روایتیں جمع کیں ہیں اور فرمایا کہ ان احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام اعظم کے بارے میں بشارت دی ہے۔اجلۂ محدثین کے نزدیک بھی اس حدیث کے مصداق امام اعظم ہیں ۔

آپ کی عقل مبارک : سید نا بکر بن جیش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل زمانہ کی عقلوں کو جمع کیا جائے ، تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عقل سب پر غالب آجائے۔( الخیرات الحسان صفحہ ٦٢،چشتی)

طریقۂ اجتہاد و استنباط

آپ رضی اللہ عنہ اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان فرماتے ہیں : میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اللہ سے اخذ کرتا ہوں، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لے لیتا ہوں ، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں ۔

وصال پر ملال : بغداد شریف میں ٢ شعبان المعظم ١٥٠ ہجری میں آپ کا انتقال ہوا ۔ مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ پہلی بار نمازِ جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار کا مجمع تھا، اس پر بھی آنے والوں کا سلسلہ قائم تھا یہاں تک کہ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔(الخیرات الحسان فصل ٣٢ صفحہ ١٥٣)

امامِ اعظم کانام نُعمان اور کُنْیَت ابُوحنیفہ ہے ۔ آپ نے ابتداء میں قرآن پاک حفظ کیا پھر 4000 علما و محدّثین کرام علیہم الرحمہ سے علمِ دین حاصل کرتے کرتے ایسے جلیل القدر فقیہ و محدِّث بن گئے کہ ہر طرف آپ رضی اللہ عنہ کے چرچے ہو گئے ۔ (تھذیب الاسماء،2/501،چشتی)(المناقب للکردری، 1/37تا53،چشتی)(عقودالجمان، صفحہ 187)

آپ رضی اللہ عنہ نےصَحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مُلاقات کا شَرَف حاصل فرمایا ، جن میں سے حضرت سیّدنا انس بن مالک ، حضرت سیّدنا عبداللہ بن اوفیٰ ، حضرت سیّدنا سہل بن سعد ساعدی اور حضرت سیّدنا ابوالطفیل عامر بن واصلہ رضی اللہ عنہم کا نام سرفہرست ہے ۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ کو تابعی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ (شرح مسند ابی حنیفۃ لملاعلی قاری صفحہ 581)

القاب،امام اعظم ، امام الائمہ سراج الامہ ، رئیس الفقہاء والمجتہدین ، سیدالاولیاء والمحدثین ۔ آپ کے دادا اہل کابل سے تھے ۔ سلسلہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے ۔ نعمان بن ثابت بن مرزبان زوطی بن ثابت بن یزدگرد بن شہریاربن پرویز بن نوشیرواں ۔

شرح تحفہ نصائح کے بیان کے مطابق آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم علی نبینا علیہ الصلوۃ والتسلیم تک پہونچتاہے اوریہاں آکر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ کا نسب مل جاتاہے ۔

خطیب بغدادی نے سیدنا حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت اسمعیل بن حماد سے نقل کیا ہے کہ میں اسمعیل بن حماد بن نعمان بن مرزبان ازاولاد فرس احرارہوں ۔ اللہ کی قسم ! ہم پر کبھی غلامی نہیں آئی ۔ میرے دادا حضرت ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ۸۰ ھ میں ہوئی ، ان کے والد حضرت ثابت چھوٹی عمر میں حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی خدمت میں حاضر کئے گئے ، آپ نے ان کے اور ان کی اولاد کےلیے برکت کی دعا کی ۔ اور ہم اللہ سے امید رکھتے ہیں کہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی دعاہمارے حق میں قبول کرلی گئی ہے ۔ (تاریخ بغداد للخطیب۔ ۱۲/۳۲۶،چشتی)
😁1
اس روایت سے ثابت کہ آپ کی ولا دت ۸۰ ھ میں ہوئی ۔ دوسری روایت جو حضرت امام ابویوسف سے ہے اس میں ۷۷ھ ہے ۔ علامہ کوثری نے ۷۰ھ کو دلائل و قرائن سے ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ ۸۷ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گئے اور وہاں حضرت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی اور حدیث سنی ۔ اسی ۷۰ھ کو ابن حبان علیہ الرحمہ نے بھی صحیح بتایا ہے ۔

معتمد قول یہ ہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فارسی النسل ہیں اور غلامی کا دھبہ آپ کے آباء میں کسی پر نہیں لگا ، مورخوں نے غیر عرب پر موالی کا استعمال کیا ہے بلکہ عرب میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ پردیسی یا کمزور فرد کسی بااثر شخص یا قبیلہ کی حمایت و پناہ حاصل کرلیتا تھا ۔ لہٰذا جبکہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے جد امجد جب عراق آئے توآپ نے بھی ایسا ہی کیا ۔

امام طحاوی علیہ الرحمہ شرح مشکل الآثار میں راوی کہ حضرت عبداللہ بن یزید کہتے ہیں ، میں امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ، تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں ایسا شخص ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جس پر اسلام کے ذریعہ احسان فرمایا ، یعنی نو مسلم ۔ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یوں نہ کہو ، بلکہ ان قبائل میں سے کسی سے تعلق پیدا کرلو پھر تمہاری نسبت بھی ان کی طرف ہوگی ، میں خود بھی ایساہی تھا ۔ (مشکل الآثار للطحاوی ۔ ۴/۵۴،چشتی)

مولی صرف غلام ہی کو نہیں کہا جاتا ، بلکہ ولاء اسلام ، ولاء حلف ، اور ولاء لزوم کو بھی ولاء کہتے ہیں اور ان تعلق والوں کو بھی موالی کہاجاتاہے ۔ امام بخاری ولاء اسلام کی وجہ سے جعفی ہیں ۔امام مالک ولاء حلف کی وجہ سے تیمی ۔ اور مقسم کو ولاء لزوم یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک عرصہ تک رہنے کی وجہ سے مولی ابن عباس کہاجاتا ہے ۔ (مقدمہ ابن صلاح)

کنیت کی وضاحت : آپ کی کنیت ابوحنیفہ کے سلسلہ میں متعدد اقوال ہیں ۔

چونکہ اہل عرب دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اورکوفہ کی جامع مسجد میں وقف کی چار سو دواتیں طلبہ کےلیے ہمیشہ وقف رہتی تھیں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا حلقۂ درس وسیع تھا اور آپ کے ہر شاگرد کے پاس علیحدہ دوات رہتی تھی ، لہذا آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا ۔

صاحب ملت حنیفہ ، یعنی ادیان باطلہ سے اعراض کرکے حق کی طرف پورے طور پر مائل رہنے والا ۔

ماء مستعمل کو آپ نے طہارت میں استعمال کرنے کےلیے جائز قرار نہیں دیا تو آپ کے متبعین نے ٹوٹیوں کا استعمال شروع کیا ، چونکہ ٹوٹی کو حنیفہ کہتے ہیں لہذا آپ کا نام ابوحنیفہ پڑ گیا ۔ (سوانح امام اعظم ابو حنیفہ مولانا ابو الحسن زید فاروقی صفحہ ۶۰،چشتی)

وجہ تسمیہ ۔ وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ نعمان لغت عرب میں خون کو کہتے ہیں جس پر مدارِ حیات ہے ۔ نیک فالی کے طور پر یہ نام رکھا گیا ۔ آپ نے شریعت اسلامیہ کے وہ اصول مرتب کیے جو مقبول خلائق ہو ئے اور شریعت مطہرہ کی ہمہ گیری کا ذریعہ بنے ۔ یہاں تک کہ امام شافعی قدس سرہ نے بھی آپ کی علمی شوکت وفقہی جلالت شان کو دیکھ کر فرمایا : الناس فی الفقہ عیال ابی حنیفۃ ۔
فقہ میں سب لوگ ابو حنیفہ کے محتاج ہیں ۔

نعمان گل لالہ کی ایک قسم کانام بھی ہے ۔ اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور خوشبو نہایت روح پرور ہوتی ہے ، چنانچہ آپ کے اجتہاد اور استنباط سے بھی فقہ اسلامی اطراف عالم میں مہک اٹھی ۔

(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304245425144837/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امام_اعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304266415142738/
محترم قارئینِ کرام : غیرمقلد وہابی حضرات کی طرف سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ امام اعظم اور ابو حنیفہ کیوں کہتے ہو اس اعتراض کا جواب پیشِ خدمت ہے :

حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اصل نام نعما ن ہے ، کنیت ابو حنیفہ اور لقب امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ۔مسانیدِ امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعداد انتیس (29) ہے ۔ ذیل میں امامِ اعظم سے مروی اِن انتیس مسانید کے نام درج کئے جا رہے ہیں :

1۔ مسند امام حماد رحمہ اللہ بن ابی حنیفہ رحمہ اللہ (متوفی 176ھ)
2۔ مسند امام قاضی ابو یوسف یعقوب رحمہ اللہ بن ابراہیم انصاری (متوفی 182ھ)
3/4۔ مسند و آثار امام محمد رحمہ اللہ بن حسن شیبانی (متوفی 189ھ)
5۔ مسند امام حسن رحمہ اللہ بن زیاد اللؤلؤی (متوفی 204ھ)
6۔ مسند امام محمد رحمہ اللہ بن مخلد الدوری (متوفی 331ھ)
7۔ مسند امام حافظ احمد رحمہ اللہ بن محمد بن سعید المعروف ابنِ عقدہ (متوفی 332ھ)
8۔ مسند امام ابو القاسم عبد اﷲ رحمہ اللہ بن محمد ابن ابی العوام سعدی (متوفی 335ھ)
9۔ مسند امام عمر رحمہ اللہ بن حسن اشنانی (متوفی 339ھ)
10۔ مسند امام ابو محمد عبد اﷲ رحمہ اللہ بن محمد بن یعقوب حارثی بخاری (متوفی 340ھ)
11۔ مسند امام حافظ ابو احمد عبد اﷲ رحمہ اللہ بن عدی جرجانی (متوفی 365ھ)
12۔ مسند امام ابو الحسین محمد رحمہ اللہ بن مظفر بن موسیٰ (متوفی 379ھ)
13۔ مسند امام طلحہ رحمہ اللہ بن محمد بن جعفر (متوفی 380ھ)
14۔ مسند امام محمد رحمہ اللہ بن ابراہیم بن علی بن زاذان اصبھانی مقری (متوفی 381ھ)
15۔ مسند امام ابو الحسن علی رحمہ اللہ بن عمر بن احمد بغدادی المعروف دار قطنی (متوفی 385ھ)
16۔ مسند امام ابو الحفص عمر رحمہ اللہ بن احمد بن عثمان المعروف ابنِ شاہین (متوفی 385ھ)
17۔ مسند امام ابو عبد اللہ محمد رحمہ اللہ بن اسحاق بن محمد بن یحییٰ بن مندہ (متوفی 395ھ)
18۔ مسند امام حافظ ابو نعیم احمد رحمہ اللہ بن عبد اﷲ اصبھانی (متوفی 430ھ)
19۔ مسند امام حافظ ابو بکر احمد رحمہ اللہ بن محمد بن خالد خلی کلاعی (متوفی 432ھ)
20۔ مسند امام ابو الحسن علی رحمہ اللہ بن محمد بن حبیب بصری ماوردی شافعی (متوفی 450ھ)
21۔ مسند امام ابو بکر احمد رحمہ اللہ بن علی خطیب بغدادی (متوفی 463ھ)
22۔ مسند امام ابو اسماعیل عبد اللہ رحمہ اللہ بن محمد انصاری ہروی (متوفی 481ھ)
23۔ مسند امام حافظ ابو عبد اﷲ محمد رحمہ اللہ بن حسین بن محمد بن خسرو بلخی (متوفی 522ھ)
24۔ مسند امام ابو بکر محمد رحمہ اللہ بن عبد الباقی بن محمد انصاری (متوفی 535ھ)
25۔ مسند امام ابو القاسم علی رحمہ اللہ بن حسن بن ھبۃ اللہ ابنِ عساکر دمشقی (متوفی 571ھ)
26۔ مسند امام علی رحمہ اللہ بن احمد بن مکی رازی (متوفی 598ھ)
27۔ مسند امام ابو علی حسن رحمہ اللہ بن محمد بن محمد بکری (متوفی 656ھ)
28۔ مسند امام شمس الدین محمد رحمہ اللہ بن عبد الرحمن سخاوی شافعی (متوفی 902ھ)
29۔ مسند امام ابو المھدی عیسیٰ رحمہ اللہ بن محمد بن احمد جعفری ثعالبی (متوفی 1082ھ)

بعض لوگ آج کل امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام اور لقب دونوں پر اعتراض کرتے ہیں ،ان مخالفین کے عام طور پر دو بڑے اعتراضات سامنے آتے ہیں :
1 .. حنیفہ امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کا نام ہے اور کہتے ہیں یہ کتنا کمزور مذہب ہے، جس میں نسبت لڑکی کی طرف کی جارہی ہو ۔

2 .. دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سب سے بڑے امام تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہیں آپ لوگ ابو حنیفہ کو امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں کہتے ہیں ۔

اعتراض کا جواب : ان لوگوں کے ان اعتراضات کو دیکھ کر ان کی جہا لت کا پتا چل جاتا ہے ،ان لوگوں کو نہ ہمارے امام کی تاریخ کا علم ہے، نہ ان لوگوں کا عربیت سے کوئی تعلق ہے، اگر ان لوگوں کو ہمارے امام کی تاریخ کا علم ہوتا یا ان کا عربیت سے کچھ تعلق ہوتا تو اس قسم کے اعتراضات کبھی نہ کرتے ۔

جہاں تک ہمارے امام کی تاریخ کا تعلق ہے تو اس کا علم اس لیئے نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا صرف ایک ہی بیٹا تھا ، جس کا نام حماد تھا، اس کے علاوہ امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نہ کوئی بیٹا تھا نہ کوئی بیٹی ۔ یہ کتنا بڑا الزام ہے کہ امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کا نام حنیفہ تھا، جس کی وجہ سے ابو حنیفہ کو ماننے والے ان کی نسبت لڑکی کی طرف کر رہے ہیں؟! اگلی بات یہ ہے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو حنیفہ کیوں ہے؟ تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ کنیت دو قسم کی ہوتی ہے ۔۱۔کنیت نسبی۔۲۔کنیت وصفی ۔کنیت نسبی کا معنی یہ ہے کہ باپ کی بیٹے کی طرف نسبت کیے جانے کی وجہ سے وہ باپ کی کنیت ہو جاتی ہے، جیسے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم ہے تو چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کا نام
قاسم تھا ،پس قاسم کی نسبت محمد صلی الله علیہ وسلم کی طرف ہونے کی وجہ سے حضور صلی الله علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم نسبی ہے ۔

اور دوسری قسم کنیت وصفی اس کا معنی یہ ہے کہ یہ کنیت اولاد کی طرف نسبت کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ کسی مخصوص وصف کی وجہ سے ہوتی ہے جو صرف اسی شخص میں نمایاں ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ وصف اس شخص کی کنیت کی حیثیت اختیار کرجاتا ہے ،اب کنیت وصفی کو بھی مثال سے سمجھ لیں، جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا نام عبدالله بن ابی قحافہ ہے ابوبکر ان کی کنیت ہے ان کے بیٹے کا نام بکر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کو ابوبکر کہا جاتا ہو بلکہ بکر عربی زبان میں پہل کرنے والے کو کہتے ہیں، جب حضورصلی الله علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے ان کی تصدیق کر نے والے حضرت عبد اللہ بن ابی قحافہ تھے، جب حضور صلی الله علیہ وسلم نے دولت مانگی تو ساری دولت دینے میں حضرت عبد اللہ بن ابی قحافہ نے پہل کی جب حضورصلی الله علیہ وسلم نے کنواری لڑکی نکاح کے لیے مانگی تو پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم مکہ سے مدینہ گئے تو ہجرت میں پہل حضرت عبد اللہ بن أبی قحافہ نے کی ۔

جب حضور غزوء احد میں گئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرماگئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے مصلی پر کھڑے ہونے میں پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی، جب حضورصلی الله علیہ وسلم اپنے مزار تشریف لے گئے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے مزار میں سب سے پہل عبد اللہ بن ابی قحافہ نے کی یہاں تک کے جب پیغمبر خداصلی الله علیہ وسلم جنت میں جائیں گے تو ان کے ساتھ سب سے پہلے جانے والا عبد اللہ بن ابی قحافہ ہی ہوگا، غرض یہ کہ ہر کام میں پہل کی،اسی لیے ان کی کنیت ابو بکر پڑگئی ،اس وجہ سے نہیں کہ ان کے بیٹے کا نام بکر تھا، بلکہ ان کی اس صفت کی وجہ سے کہ ہر کام میں وہ پہل کرتے تھے ۔

اسی طرح حضرت علی رضی الله عنہ کی کنیت ابو تراب ہے۔ تراب ان کے بیٹے کا نام نہیں تھا تو ان کی کنیت ابو تراب کیسے پڑگئی ؟ وہ اس طرح کہ حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کے گھر تشریف لے گئے، دروازے پر دستک دی اور فرمایا علی ہیں؟ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا موجود نہیں۔ تو حضور علیہ السلام مسجد نبوی میں تشریف لے گئے، دیکھا کہ حضرت علی مسجد میں مٹی پر لیٹے ہوئے ہیں اور جسم مبارک کو مٹی لگی ہوئی ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :قم یا ابا التراب !اے مٹی والے اٹھ جا۔ حضورصلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو کہا ابو التراب۔ تراب نہ حضرت علی کے بیٹے کا نام ہے اور نہ بیٹی کا تو یہ کنیت وصفی ہوئی نہ کہ نسبی۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کا نام عبد الرحمن بن صخر ہے ،ابو ہریرہ ان کی کنیت ہے ،ایک مرتبہ آپ رضی الله عنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کی آستین کا دامن کھلا ہوا تھا، جس میں بلی کا بچہ تھا، عربی زبان میں ہریرہ بلی کے بچے کو کہاجاتا ہے تو ابو ہریرہ عبدالرحمن بن صخر کی کنیت بن گئی اب یہ کنیت وصفی ہوئی نہ کہ نسبی اسی طرح ابو حنیفہ بھی کنیت وصفی ہے نہ کہ نسبی اب امام میں آخر وہ کو نسا وصف تھا جس کی بنیاد پر انہیں ابو حنیفہ کہا جاتا ہے، وہ یہ کہ حنیفہ کا ایک معنی عربی زبان میں دوات کے ہیں اور امام صاحب کی مجلس میں بیٹھنے والے ہر وقت قلم ودوات لے کر امام صاحب کے علوم کو مرتب کرتے تھے ، اتنے علوم مرتب کیے کہ ان کی وجہ سے کنیت ابو حنیفہ بن گئی اور حنیفہ کا ایک معنی خالص کا آتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ﴿ واتبع ملة ابراہیم حنیفا﴾ابراہیم علیہ السلام خالص دین والے تھے ،باطل سے بالکل الگ تھے ،امام اعظم نے اس شریعت کو مرتب کیا، جو بالکل خالص ہے، اسی وجہ سے کنیت ابو حنیفہ بن گئی، ابو حنیفہ کا معنی ہوا دین خالص کو مرتب کرنے والا اور جو لوگ کہتے ہیں حنیفہ امام اعظم کی بیٹی کا نام ہے تو ان کے پاس نہ تاریخ کا علم ہے اور نہ عربیت کا ۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی تھی ہی نہیں ایک ہی بیٹا تھا جسے اپنے شیخ حماد رحمہ اللہ کے ہم نام رکھا . اگر کوئی ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حنیفہ سے مراد امام صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی لیتا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ میں کیا بکر ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا نام ہے ابو ہریرہ میں کیا حضرت ابو ہریرہ کی بیٹی ہریرہ تھی، کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابو تراب کہا جاتا ہے تو کیا تراب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کوئی بیٹا تھا ہرگز نہیں ۔

کنیت دو طرح کی ہوتی ہیں

1. ایک نسبی ایک وصفی

2. دوسری نسبی
اگراپنی اولاد کی طرح نسبت ہوتو کنیت نسبی کہلاتی ہے . اگر کسی وصف کی طرف ہو تو وصفی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کنیت کی وجہ بکر کے معنی پہل کرنا، موسم کا پہلا پھل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ہر چیزوں میں پہل کرنے والے تھے ایمان لانے میں مال خرچ کرنے میں وغیرہ پہلے ایمان لانے والے اسلام کا پہلا پھل کہا جاسکتا ہے . لوگ عبد اللہ بن ابو قحافہ نہیں جانتے ابوبکر سب جانتے ہیں.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ معنی لفظی بلی کا باپ بلی کے بچہ کو آستین میں لے کر آئے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا : ابوہریرہ بلی والے ۔ یہ جملہ حضرت عبدالرحمن بن صخرہ کو پسند آیا اور لوگ عبد الرحمن بن صخرہ کوئی نہیں جانتا ابو ہریرہ سب جانتا ہے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا ابی تراب اے مٹی والے ، اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ کا نام ہے نعمان بن ثابت مگر وصف سے مشہور ہوئے. حنیفہ کا ایک معنی دوات ابو حنیفہ دوات والا امام صاحب نے اتنا لکھا کہ نام ہی ہو گیا دوات والا یعنی ابو حنیفہ، حنیفہ کا دوسرا معنی خالص دین امام صاحب نے قرآن و حدیث سے پورے دین کو سب سے پہلے لکھوایا اسی بنا پر کہا گیا ابو حنیفہ خالص دین لکھوانےوالا ۔ ان کنیة ابوحنیفہ مونث حنیف وھوالناسک اوالمسلم لان الحنیف المیل.والمسلم مائل الی الدین المحق قیل سبب تکنیة بذالک ملازمتہ للدواة حنفیة بلغة العراق وقيل كانت له بنت تسمي بذالك ورد بانه لايعلم له ولد ذكز ولا انثي غير حماد ۔ (خیرات الحسان صفحہ نمبر ۴۵،چشتی)

ایک اہم نکتہ : ابو بکر کا نام، جو کہ عبد اللہ ہے، لوگ اس کو اتنا نہیں جانتے جتنا ان کی کنیت ابو بکر کو جانتے ہیں۔ اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ کا نام نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے جسے لوگ نہیں جانتے، بلکہ ان کی کنیت یعنی ابو حنیفہ کو نام سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مشن ابو بکر کا تھا اور ایک مشن ابو حنیفہ کا تھا، ابو بکر کا مشن دین پھیلانا تھا اور ابو حنیفہ کا مشن دین لکھوانا تھا، اللہ تبارک و تعالیٰ کو ان دونوں کا مشن اتنا پسند آیا کہ ان کا نام عبداللہ اور نعمان پردہ خفا میں چلا گیا اور ان کا مشن قیامت تک زندہ رہا ،اس نکتہ کے ذکر کرنے کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مخالف ابو حنیفہ کہہ کر مخالفت کرے گا ،ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کا مخالف ابو بکر کہہ کر مخالفت کرے گا: تھوڑی سی تو شرم کرنی چاہیے، ابو حنیفہ بھی کہتے ہو مخالفت بھی کرتے ہوا ؟ ابو بکر بھی کہتے ہو مخالفت بھی کرتے ہو ؟ اس کا مطلب تو ایسے ہے جیسا کہ اللہ کے نبی کا نام محمدصلی الله علیہ وسلم ہے جس کی بار بار تعریف کی گئی ہے اب جو کہتا ہے میں محمد کو نہیں مانتا یا جو محمد سے مخالفت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس شخص کو نہیں مانتا جس کی تعریف خود رب ذوالجلال نے کی ہے، اسی طرح جو ابو حنیفہ کی مخالفت کرتا ہے اس کا مطلب بھی یہ ہے کہ جس نے دین خالص کو مرتب کیا میں اس کو نہیں مانتا اور اس کی مخالفت کرتا ہوں ۔

دوسرا اعتراض اور اس کا جواب : آپ حنفی لوگ ابو حنیفہ کو امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں کہتے ہو ؟ اس کا جواب میں چند مثالوں سے دینا چاہتا ہوں ، وہ یہ کہ سب سے بڑے صدیق یعنی سچے تو اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں تو پھر ابو بکر صدیق اکبر کیوں کہا جاتا ہے ؟اسی طرح سب سے بڑے فاروق یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والے تو اللہ کا نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں تو پھر عمررضی الله عنہ کو فاروق کیوں کہتے ہو؟سب سے بڑا بہادر تو اللہ کا نبی ہے تو پھر حضرت علی کو حید ر کرار کیوں کہتے ہو؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابو حنیفہ حضورصلی الله علیہ وسلم سے بھی بڑے امام ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ائمہ فقہاء میں سب سے بڑے امام ابو حنیفہ ہیں، اسی طرح صدیق اکبر صحابہ کی جماعت میں ابو بکر ہیں اور فاروق بین الحق و الباطل عمر ہیں ۔بڑے بہادر صحابی حضرت علی ہیں اور انبیاء کی جماعت کے سب سے بڑے امام اللہ کے نبی محمد صلی الله علیہ وسلم ہیں، آج کے غیر مقلد ین کا نفرنسیں کرتے ہیں اور اس کا نام رکھتے ہیں امام اعظم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اور کہتے ہیں کہ امام اعظم اللہ کے نبی صلی الله علیہ وسلم ہیں اور یہ حنفی مسلک والے ابو حنیفہ کو امام اعظم کہتے ہیں، یہ حنفی شرک فی الرسالت کرتے ہیں، یہ مشرک ہیں، اب بیچارے ان پڑ ھ کے پاس دلیل نہیں ہوتی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ واقع میں یہ توصحیح بات کرتے ہیں، حنفیوں کی یہ بات تو بالکل غلط ہے اور اسی لیے وہ غیر مقلدین کے چنگل میں پھنستے ہیں ،یہ بات خوب سمجھ لیجیے کہ غیر مقلد دلیل کم دیتے ہیں اور ڈھکوسلے زیادہ مانگتے ہیں، دلیل اور ڈھکو سلہ سمجھانے کے لیے میں ایک مثال ذکر کرنا چاہتا ہوں ،وہ یہ کہ ایک بابا جی گھوڑا گاڑی چلا رہے تھے مین روڈ پر اور ان کے پیچھے F.S.C کا ایک اسٹوڈنٹ بائیک پہ آرہا تھا اچانک باباجی
نے گھوڑا گاڑی کو دائیں طرف موڑ دیا ، دونوں ٹکرا گئے، اس نوجوان کو غصہ آگیا اور اس نے بابا جی سے کہا ۔اگر آپ کو گھوڑا گاڑی موڑنی تھی تو کم از کم اشارہ تو دیتے ؟ ! باباجی کہنے لگے آپ کو یہ اتنا بڑا روڈ نظر نہیں آرہا تھا جو میرے پیچھے آگئے تو نوجوان خاموش ہو گیا ؟ کیوں کہ کالج میں اسٹوڈنٹ نے اصول پڑھے ، ڈھکوسلے نہیں پڑھے اسی طرح آج کے ان پڑھ یا کالج کے اسٹوڈنٹ وغیرہ غیر مقلد ین کے ڈھکوسلوں کی وجہ سے دلیل نہ ہونے کی صورت میں خاموش ہو جاتے ہیں اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حنفیوں کے پاس دلائل نہیں ہیں حالاں کہ ایسا نہیں ہے ، بلکہ وہ ڈھوکوسلے مانگتے ہیں اورہمارے پاس ڈھکوسلے نہیں ، بلکہ دلائل ہیں، اگر غیر مقلد ین دلیل کی بنیاد پر بات کریں تو قریب ہے کہ سارے غیر مقلدین حنفی بن جائیں ،لیکن وہ ایسا کرتے نہیں ۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے :

واذ أتتک مذمتی من ناقص
فھی الشھادة لی بأنی کامل
ترجمہ : اگر کسی ناقص العقل کی جانب سے میری مذمت آپ کے پاس پہنچے تو یہی کافی ہے میری حقیقت جاننے کے لیئے کہ میں کامل ہوں ۔

امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام اعظم کا یہ لقب دینے والے وہ علماء جو حنفی نہیں ہیں کیونکہ اگر اس بارے میں حنفی علماء کی تحریریں لی جاتی تو غیر مقلدین کہتے کہ انہوں نے محبت میں غلو کیا ہے اورحنفی ہونے کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امام اعظم لکھ دی اہے ۔

سمعانی نے انساب میں امام شافعی کے ذکر میں لکھا ہے : لعلہ مات فی یومھا الامام الاعظم ابوحنیفۃ رضی اللہ عنہ الوافی بالوفیات میں ہے ۔

ابوحنیفہ جماعۃ منہم الامام الاعظم صاحب المذہب اسمہ النعمانتاریخ الدولۃ الرسولیہ جوابوالحسن علی بن حسن الخزرجی الزبیدی الیمنی متوفی812کی تصنیف ہے اس میں وہ لکھتے ہیں القاضی موفق الدین علی بن عثمان المطیب قاضیا علی مذہب الامام الاعظم رحمہ اللہ ۔

حافظ ذہبی اپنی مشہور عالم تصنیف تذکرۃ الحفاظ میں امام ابوحنیفہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ابوحنیفہ الامام الاعظم ،فقیہ العراق،نعمان بن ثابت بن زوطا التیمی ۔ (تذکرۃ الحفاظ/جلد نمبر 2،چشتی)

مشہور محدث محمد بن رستم بن قباد الحارثی البدخشی نے تراجم الحفاظ میں امام ابوحنیفہ کے بارے میں لکھاہے۔ النعمان بن ثابت الکوفی الامام الاعظم احمد الائمۃ الاربعۃ المتبوعین ۔

محمد علی بن محمد علان بن ابراہیم الصدیقی العلوی الشافعی اپنی کتاب الفتوحات الربانیہ علی الاذکار النوویہ میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔ الامام ابوحنیفہ ہوالامام الاعظم والعلم المفرد المکرم امام الائمۃ عبدالوہاب شعرانی اپنی کتاب میزان الکبریٰ میں امام ابوحنیفہ سے مخالفین کے پھیلائے گئے شبہات کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

فاولھم تبریا من کل رای یخالف ظاہرالشریعۃ الامام الاعظم ابوحنیفہ النعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ ، خلاف مایضیفہ الیہ بعض المتعصبین ویافضحۃ یوم القیامۃ من الامام
ایسا نہیں ہے کہ صرف امام ابوحنیفہ کو ہی لوگوں نے امام اعظم کے لقب سے پکاراہو ۔
ابن قیم نے امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے تعلق سے کہانونیہ میں کہاہے۔
ھذاالذی نصت علیہ اَئمہ ال اسلام اہل العلم والعرفان
وہوالذی قصدالبخاری الرضی لکن تقاصر قاصر الاذہان
عن فھمہ کتقاصر الافہام عن قول الامام الاعظم الشیبانی
اب پتہ نہیں امام اعظم کے لقب پر یہ سوچنے والے کہ امام اعظم تورسول پاک ہیں اس بارے میں کیاکہیں گے۔ہمیں بھی جواب کا انتظار رہے گا۔
امام اعظم کے لقب سے ملقب ہونے کی وجہ۔
اس بارے میں یہ بات سب جانتے ہیں کہ فقہ میں کوئی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشارک اورہم رتبہ نہیں ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی کہا ہے کہ الناس عیال علی فقہ ابی حنیفہ ۔ انہی سے یہ دوسرا قول بھی منقول ہے کہ جو فقہ میں رسوخ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ابوحنیفہ کی فقہ کی جانب توجہ کرے ۔ ویسے دیکھا جائے تو ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے امام شافعی امام محمد کے شاگرد ہونے کی وجہ اورامام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورامام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ہونے کی وجہ سے یہ بات متحقق ہے کہ ائمہ اربعہ میں سے دوامام امام ابوحنیفہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ جیسا کہ علی طنطاوی نے ذکر یات میں ذکر کیا ہے : قال الشيخ علي الطنطاوي رحمہ اللہ في كتابه الذكريات الجزء السابع صفحہ 118 ، الشافعي قرا على محمد (يقصد ابن الحسن) كتبہ الفقہيۃ فكان شبہ تلميذ لہ واحمد تلميذ الشافعي فمن ھنا كان ابو حنيفہ الامام الاعظم انتھى كلامہ رحمہ اللہ ۔
لیکن اس کے علاوہ بھی امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے امام اعظم سے متصف ہونے کی دوسری وجوہات بھی ہیں جن کو علماء نے ذکر کیا ہے ۔ ان میں سے ایک توجیہ تویہ ہے کہ حنیفہ نے صاحبین یعنی امام ابوبوسف اورامام محمد بن حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے امام ابوحنیفہ کو ممتاز اور جداگانہ تشخص کیلئے ان کو امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا
لقب دیا ۔ جیسا کہ علماء احناف پر لکھی گئی کتابوں سے واضح ہوتا ہے ۔

(مزید حصّہ سوم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304266415142738/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امام_اعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ سوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304412815128098/
محترم قارئینِ کرام : جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ کے لقب سے ظاہر ہے کہ آپ تمام ائمہ کے مقابلے میں سب سے بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں ۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا پایہ بہت بلند ہے ۔ آپ نے فقہ کی تعلیم اپنے استاد حماد بن ابی سلیمان سے حاصل کی ۔ آپ کے اساتذہ کا سب سے پہلا طبقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں آپ اس اعتبار سے منفرد ہیں کہ آپ تابعی ہیں ۔ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علمِ حدیث حاصل کیا ۔ آپ کے علاوہ امام مالک سمیت ائمہ حدیث اور ائمہ فقہ علیہم الرحمہ میں کوئی امام بھی تابعی نہیں آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی براہِ راست زیارت کی اور ان سے احادیث نبوی کا سماع کیا ۔

امام اعظم رضی اللہ عنہ نے علم حدیث کے حصول کےلیے تین مقامات کا بطورِ خاص سفر کیا ۔ آپ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ میں حاصل کیا کیونکہ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ علم حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا ۔ گویا آپ علم حدیث کے گھر میں پیدا ہوئے، وہیں پڑھا، کوفہ کے سب سے بڑے علم کے وارث امام اعظم رضی اللہ عنہ خود بنے ۔

دوسرا مقام حرمین شریفین کا تھا ۔ جہاں سے آپ نے احادیث اخذ کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا۔ امام ابو حنیفہ نے تقریبًا 4 ہزار اساتذہ سے علم حاصل کیا ۔

ایک مرتبہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کے مابین جھگڑا پیدا ہو گیا ۔ ہر گروہ اپنے امام کی فضیلت کا دعویدار تھا ۔ حضرت امام ابو عبد ﷲ رحمۃ ﷲ علیہ نے دونوں کے درمیان فیصلہ کیا اور اصحابِ شافعی سے فرمایا : پہلے تم اپنے امام کے اساتذہ گنو جب گنے گئے تو 80 تھے ۔ پھر انہوں نے احناف سے فرمایا : اب تم اپنے امام کے اساتذہ گنو جب انہوں نے شمار کیے تو معلوم ہوا وہ چار ہزار تھے ۔ اس طرح اساتذہ کے عدد نے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا ۔ آپ فقہ اور حدیث دونوں میدانوں میں امام الائمہ تھے ۔

حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے ۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں :

1۔ امام ابو یوسف رحمۃ ﷲ علیہ

2۔ امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ ﷲ علیہ

3۔ امام حماد بن ابی حنیفہ رحمۃ ﷲ علیہ

4۔ امام زفر بن ہذیل رحمۃ ﷲ علیہ

5۔ امام عبد ﷲ بن مبارک رحمۃ ﷲ علیہ

6۔ امام وکیع بن جراح رحمۃ ﷲ علیہ

7۔ امام داؤد بن نصیر رحمۃ ﷲ علیہ

قرآن حکیم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح البخاری کے مؤلف امام محمد بن اسماعیل بخاری اور دیگر بڑے بڑے محدثین کرام رحمہم ﷲ آپ کے شاگردوں کے شاگرد تھے ۔

آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے ۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی ۔ آپ نے اپنی عمر مبارک میں 7 ہزار مرتبہ ختم قرآن کیا ۔ 40 سال تک ایک وضو سے پانچوں نمازیں پڑھیں ، رات کے دو نفلوں میں پورا قرآن حکیم ختم کرنے والے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ دن کو علم پھیلاتے اور رات کو عبادت کرتے ، ان کی حیات مبارکہ کے لاتعداد گوشے ہیں ۔ ائمہ حدیث آپ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک طرف آپ علم کے سمندر ہیں اور دوسری طرف زہد و تقویٰ اور طہارت کے پہاڑ ہیں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان کرتے ہیں : میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب ﷲ سے اخذ کرتا ہوں ، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے لیتا ہوں ، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی ، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں ۔

آپ کے اجتہادی مسائل تقریبًا بارہ سو سال سے تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتوں میں آپ رضی اللہ عنہ ہی کے مسائل ، قانون سلطنت تھے اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپ ہی کے مذہب کا پیرو کار ہے ۔

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تصانیف :

امام اعظم نے کلام وعقائد ،فقہ واصول اورآداب واخلاق پر کتابیں تصنیف فرماکر اس میدان میں اولیت حاصل کی ہے ۔ امام اعظم کے سلسلہ میں ہردور میں کچھ لوگ غلط فہمی کا شکار رہے ہیں اورآج بھی یہ مرض بعض لوگوں میں موجود ہے ۔فقہ حنفی کو بالعموم حدیث سے تہی دامن اورقیاس ورائے پراسکی بنا سمجھی جاتی ہے جوسراسر خلاف واقع ہے۔اس حقیقت کو تفصیل سے جاننے کیلئے بڑے بڑے علماء فن کے رشحات قلم ملاحظہ کریں جن میں امام یوسف بن عبدالھادی حنبلی ،امام سیوطی شافعی ، امام ابن حجر مکی شافعی ،امام محمد صالحی شافعی وغیرہم جیسے اکابر نے اسی
طرح کی پھیلائی گئی غلط فہمی کے ازالہ کیلئے کتابیں تصنیف فرمائیں ۔علم حدیث میں امام اعظم کو بعض ایسی خصوصیات حاصل ہیں جن میں کوئی دوسرامحدث شریک نہیں ۔

امام اعظم کی مرویات کے مجموعے چار قسم کے شمار کئے گئے ہیں جیسا کہ شیخ محمد امین نے وضاحت سے ’’مسانید الامام ابی حنیفہ ‘‘ میں لکھا ہے ۔

کتاب الآثار ۔مسند امام ابو حنیفہ ۔ اربعینات ۔وحدانیات ۔

متقدمین میں تصنیف وتالیف کا طریقہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے لائق وقابل فخر تلامذہ کو املا کراتے ،یاخود تلامذہ درس میں خاص چیزیں ضبط تحریر میں لے آتے ،اسکے بعد راوی کی حیثیت سے ان تمام معلومات کو جمع کرکے روایت کرتے اورشیخ کی طرف منسوب فرماتے تھے ۔

کتاب الآثار ۔ امام اعظم نے علم حدیث وآثار پر مشتمل کتاب الآثار ،یونہی تصنیف فرمائی ، آپ نے اپنے مقرر کردہ اصول وشرائط کے مطابق چالیس ہزار احادیث کے ذخیرہ سے اس مجموعہ کا انتخاب کرکے املا کرایا ۔قدرے تفصیل گذر چکی ہے ۔ کتاب میں مرفوع ،موقوف ، اورمقطوع سب طرح کی احادیث ہیں ۔ کتاب الآثار کے راوی آپکے متعددتلامذہ ہیں جنکی طرف منسوب ہوکر علیحدہ علیحدہ نام سے معروف ہیں اور مرویات کی تعداد میں بھی حذف واضافہ ہے ۔

عام طور سے چند نسخے مشہور ہیں: ۔

۱۔ کتاب الآثار بروایت امام ابویوسف ۔

۲۔ کتاب الآثار بروایت امام محمد ۔

۳۔ کتاب الآثار بروایت امام حماد بن امام اعظم ۔

۴۔ کتاب الآثار بروایت حفص بن غیاث ۔

۵۔ کتاب الآثار بروایت امام زفر (یہ سنن زفر کے نام سے بھی معروف ہوئی )

۶۔ کتاب الآثار بروایت امام حسن بن زیاد

ان میں بھی زیادہ شہرت امام محمد کے نسخہ کو حاصل ہوئی ۔

امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں :۔

روی الآثار عن نبل ثقات ۔غزارالعلم مشیخۃ حصیفۃ۔

امام اعظم نے الآثار ،کوثقہ اورمعززلوگوں سے روایت کیا ہے جو وسیع العلم اورعمدہ مشائخ تھے ۔

علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں ۔

والموجود من حدیث ابی حنیفۃ مفرداانما ھوکتاب الآثار التی رواہ محمد بن الحسن ۔

اور اس وقت امام اعظم کی احادیث میں سے کتاب الآثار موجود ہے جسے امام محمد بن حسن نے روایت کیا ہے ۔ اس میں مرفوع احادیث ۱۲۲ ہیں ۔

امام ابویوسف کا نسخہ زیادہ روایات پر مشتمل ہے ،امام عبدالقادر حنفی نے امام ابویوسف کے صاحبزادے یوسف کے ترجمہ میں لکھا ہے:۔

روی کتا ب الآثار عن ابی حنیفۃ وھو مجلد ضخم ۔

یوسف بن ابویوسف نے اپنے والد کے واسطہ سے امام اعظم ابو حنیفہ سے کتاب الآثار کو روایت کیا ہے جو ایک ضخیم جلد ہے ، اس میں ایک ہزار ستر (۱۰۷۰) احادیث ہیں ۔

مسند امام ابوحنیفہ : یہ کتاب امام اعظم کی طرف منسوب ہے ،اسکی حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جن شیوخ سے احادیث کو روایت کیا ہے بعد میں محدثین نے ہرہر شیخ کی مرویات کو علیحدہ کرکے مسانید کو مرتب کیا ۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہاجاسکتاہے کہ آپ نے تدوین فقہ اوردرس کے وقت تلامذہ کو مسائل شرعیہ بیان فرماتے ہوئے جو دلائل بصورت روایت بیان فرمائے تھے ان روایات کو آپکے تلامذہ یابعد کے محدثین نے جمع کرکے مسند کانام دیدیا ۔ان مسانید اورمجموعوں کی تعداد حسب ذیل ہے ۔

۱۔ مسندالامام مرتب امام حماد بن ابی حنیفہ

۲۔ مسندالامام مرتب امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری

۳۔ مسندالامام مرتب امام محمد بن حسن الشیبانی

۴۔ مسندالامام مرتب امام حسن بن زیاد ثولوی

۵۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو محمد عبداللہ بن یعقوب الحارث البخاری

۶۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو القاسم طلحہ بن محمد بن جعفر الشاہد

۷۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالحسین محمد بن مظہر بن موسی

۸۔ مسندالامام مرتب حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانی

۹۔ مسندالامام مرتب الشیخ الثقۃ ابوبکر محمد بن عبدالباخی الانصاری

۱۰۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو احمد عبداللہ بن عدی الجرجانی

۱۱۔ مسندالامام مرتب حافظ عمربن حسن الاشنانی

۱۲۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوبکر احمدبن محمد بن خالد الکلاعی

۱۳۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوعبداللہ حسین بن محمد بن خسروالبلخی

۱۴۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو القاسم عبداللہ بن محمد السعدی

۱۵۔ مسندالامام مرتب حافظ عبداللہ بن مخلد بن حفص البغدادی

۱۶۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالحسن علی بن عمربن احمد الدارقطنی

۱۷۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوحفص عمر بن احمد المعروف بابن شاہین

۱۸۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالخیر شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاوی

۱۹۔ مسندالامام مرتب حافظ شیخ الحرمین عیسی المغربی المالکی

۲۰۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالفضل محمدبن طاہر القیسرانی

۲۱۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالعباس احمد الہمدانی المعروف بابن عقدہ

۲۲۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوبکر محمد بن ابراہیم الاصفہانی المعروف بابن المقری

۲۳۔ مسندالامام مرتب حافظ ابو اسمعیل عبداللہ بن محمد الانصاری الحنفی

۲۴۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالحسن عمربن حسن الاشنانی

۲۵۔ مسندالامام مرتب حافظ ابوالقاسم علی بن حسن المعروف بابن عساکر الدمشقی ۔
ان علاوہ کچھ مسانید وہ بھی ہیں جنکو مندرجہ بالا مسانید میں سے کسی میں مدغم کردیاگیا

ہے ۔مثلا ابن عقدہ کی مسند میں ان چار حضرات کی مسانید کا تذکرہ ہے اور یہ ایک ہزار سے زیادہ احادیث پر مشتمل ہے۔

۱۔ حمزہ بن حبیب التیمی الکوفی

۲۔ محمد بن مسروق الکندی الکوفی

۳۔ اسمعیل بن حماد بن امام ابو حنیفہ

۴۔ حسین بن علی

پھر یہ کہ جامع مسانید امام اعظم جس کو علامہ ابو المؤید محمد بن محمود بن محمد الخوارزمی نے ابواب فقہ کی ترتیب پر مرتب کیا تھا اس میں کتاب الآثار کے نسخے بھی شامل ہیں اگر انکو علیحدہ شمار کیا جائے تو پھر اس عنوان سند کے تحت آنے والی مسانید کی تعداد اکتیس ہوگی جبکہ جامع المسانید میں صرف پندرہ مسانید ہیں اور انکی بھی تلخیص کی گئی ہے مکرراسناد کو حذف کردیاہے یہ مجموعہ چالیس ابواب پر مشتمل ہے اور کل روایات کی تعداد ۱۷۱۰ ہے ۔

مرفوع روایات ۹۱۶

غیر مرفوع ۷۹۴

پانچ یا چھ واسطوں والی روایات بہت کم اور نادر ہیں ،عام روایات کا تعلق رباعیات ، ثلاثیات ،ثنائیات اوروحدانیات سے ہے ۔

علامہ خوارزمی نے اس مجموعہ مسند کے لکھنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ،کہ میں نے ملک شام میں بعض جاہلوں سے سنا کہ حضرت امام اعظم کی روایت حدیث کم تھی ۔ایک جاہل نے تو یہانتک کہاکہ امام شافعی کی مسند بھی ہے اورامام احمد کی مسند بھی ہے ،اورامام مالک نے تو خود مؤطالکھی ۔لیکن امام ابو حنیفہ کا کچھ بھی نہیں ۔

یہ سنکر میری حمیت دینی نے مجھکو مجبورکیا کہ میں آپکی ۱۵ مسانید وآثار سے ایک مسند مرتب کروں ،لہذا ابواب فقہیہ پر میں نے اسکو مرتب کرکے پیش کیاہے ۔(سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۳۴۸)

کتاب الآثار ،جامع المسانید اوردیگر مسانید کی تعداد کے اجمالی تعارف کے بعد یہ بات اب حیز خفا میں نہیں رہ جاتی کہ اما م اعظم کی محفوظ مرویات کتنی ہونگی ،امام مالک اورامام شافعی کی مرویات سے اگر زیادہ تسلیم نہیں کی جاسکیں توکم بھی نہیں ہیں ،بلکہ مجموعی تعداد کے غالب ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہوناچاہیئے ۔

امام اعظم کی مسانید کی کثرت سے کوئی اس مغالطہ کا شکار نہ ہو کہ پھر اس میں رطب ویابس سب طرح کی روایات ہونگی ۔ہم نے عرض کیاکہ اول تو مرویات میں امام اعظم قدس سرہ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان واسطے بہت کم ہوتے ہیں ۔اور جوواسطے مذکور ہوتے ہیں انکی حیثیت وعلوشان کا اندازہ اس سے کیجئے کہ :۔

امام عبدالوہاب شعرانی میزان الشریعۃ الکبری میں فرماتے ہیں ۔

وقد من اللہ علی بمطالعۃ مسانید الامام ابی حنیفۃ الثلاثۃ فرأیئہ لایروی حدیثا الاعن اخبار التابعین العدول الثقات الذین ھم من خیرالقرون بشہادۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کالاسود وعلقمۃ وعطاء وعکرمۃ ومجاہد ومکحول والحسن البصری واضرابھم رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ۔بینہ وبین رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عدول ثقات اعلام اخیار لیس فیہم کذاب ولامنہم بکذب ۔(میز ان الشریعۃ الکبری ۱/۶۸)

اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ میں نے امام اعظم کی مسانید ثلاثہ کو مطالعہ کیا۔ میں نے ان میں دیکھا کہ امام اعظم ثقہ اور صادق تابعین کے سوا کسی سے روایت نہیں کرتے جن کے حق میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خیرالقرون ہونے کی شہادت دی ،جیسے اسود ،علقمہ عطاء ،عکرمہ ، مجاہد ،مکحول اور حسن بصری وغیرہم ۔لہذا امام اعظم اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان تمام راوی عدول ، ثقہ اور مشہور اخیار میں سے ہیں جنکی طرف کذب کی نسبت بھی نہیں کی جاسکتی اور نہ وہ کذاب ہیں ۔

اربعینات : امام اعظم کی مرویات سے متعلق بعض حضرات نے اربعین بھی تحریر فرمائی ہیں مثلاً :

الاربعین من روایات نعمان سیدالمجتہدین ۔(مولانا محمد ادریس نگرامی)

الاربعین۔ (شیخ حسن محمد بن شاہ محمد ہندی)

وحدانیات :۔ امام اعظم کی وہ روایات جن میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک صرف ایک وسطہ ہو ان روایات کو بھی ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس سلسلہ میں بعض تفصیلات حسب ذیل ہیں :۔

۱۔ جزء مارواہ ابوحنیفۃ عن الصحابۃ۔

جامع ابومعشر عبدالکریم بن عبدالصمد شافعی ۔

امام سیوطی نے اس رسالہ کو تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہ میں شامل کردیا ہے ، چنداحادیث قارئین ملاحظہ فرماچکے ۔

۲۔ الاختصار والترجیح للمذہب الصحیح۔

امام ابن جوزی کے پوتے یوسف نے اس کتاب میں بعض روایات نقل فرمائی ہیں ۔

دوسرے ائمہ نے بھی اس سلسلہ میں روایات جمع کی ہیں ۔مثلا:۔

۱۔ ابو حامد محمد بن ہارون حضرمی

۲۔ ابوبکر عبدالرحمن بن محمد سرخسی

۳۔ ابوالحسین علی بن احمد بن عیسی نہفقی

ان تینوں حضرات کے اجزاء وحدانیات کو ابو عبداللہ محمد دمشقی حنفی المعروف بابن طولون م ۹۵۳،نے اپنی سند سے کتاب الفہرست الاوسط میں روایت کیا ۔

نیز علامہ ابن حجر عسقلانی نے اپنی سند سے المعجم المفہرس میں

علامہ خوارزمی نے جامع المسانید کے مقدمہ میں
ابوعبداللہ صیمری نے فضائل ابی حنیفہ واخبارہ میں روایت کیاہے ۔

البتہ بعض حضرات نے ان وحدانیات پر تنقید بھی کی ہے ،تواسکے لئے ملاعلی قاری ،امام عینی اورامام سیوطی کی تصریحات ملاحظہ کیجئے ،ان تمام حضرات نے حقیقت واضح کردی ہے ۔

امام اعظم کی فن حدیث میں عظمت وجلالت شان ان تمام تفصیلات سے ظاہر وباہر ہے لیکن بعض لوگوں کو اب بھی یہ شبہ ہے کہ جب اتنے عظیم محدث تھے تو روایات اب بھی اس حیثیت کی نہیں ،محدث اعظم واکبر ہونے کا تقاضہ تو یہ تھا کہ لاکھوں احادیث آ پ کو یاد ہونا چاہیئے تھیں جیساکہ دوسرے محدثین کے بارے میں منقول ہے ۔تو اس سلسلہ میں علامہ غلام رسول سعیدی کی محققانہ بحث ملاحظہ کریں جس سے حقیقت واضح ہوجا ئے گی ۔لکھتے ہیں :۔

چونکہ بعض اہل اہوایہ کہتے ہیں کہ امام اعظم کو صرف سترہ حدیثیں یاد تھیں ۔اس لئے ہم ذرا تفصیل سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ امام اعظم کے پاس احادیث کا وافر ذخیرہ تھا۔ حضرت ملاعلی قاری امام محمد بن سماعہ کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔

ان الامام ذکر فی تصانیفہ بضع وسبعین الف حدیث وانتخب الآثار من اربعین الف حدیث ۔

امام ابوحنیفہ نے اپنی تصانیف میں ستر ہزار سے زائد احادیث بیان کی ہیں اور چالیس ہزار احادیث سے کتاب الآثار کا انتخاب کیا ہے ۔

اور صدر الائمہ امام موفق بن احمد تحریر فرماتے ہیں :

وانتخب ابوحنیفۃ الاثار من اربعین الف حدیث ۔

امام ابو حنیفہ نے کتاب الاثار کا انتخاب چالیس ہزار حدیثوں سے کیا ہے ۔

ان حوالوں سے امام اعظم کا جو علم حدیث میں تبحر ظاہر ہورہاہے وہ محتاج بیاں نہیں ہے ۔

ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ سترہزار احادیث کو بیان کرنا اور کتاب الآثار کا چالیس ہزار حدیثوں سے انتخاب کرنا چنداں کمال کی بات نہیں ہے ۔ امام بخاری کو ایک لاکھ احادیث صحیحہ اور دولاکھ احادیث غیر صحیحہ یاد تھیں اور انہوں نے صحیح بخاری کا انتخاب چھ لاکھ حدیثوں سے کیا تھا پس فن حدیث میں امام بخاری کے مقابلہ میں امام اعظم کا مقام بہت کم معلوم ہوتا ہے ۔ اسکے جواب میں گزارش ہے کہ احادیث کی کثرت اور قلت درحقیقت طرق اور اسانید کی قلت اور کثرت سے عبارت ہے ۔ایک متن حدیث اگر سو مختلف طرق اور سندوں سے روایت کیا جائے تو محدثین کی اصطلاح میں ان کو سو احادیث قرار دیا جائے گاحالانکہ ان تما م حدیثو ں کا متن واحد ہوگا ۔منکرین حدیث انکار حدیث کے سلسلے میںیہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ تمام کتب حدیث کی روایات کو اگر جمع کیا جائے تو یہ تعداد کروڑوں کے لگ بھگ ہوگی اور حضور کی پور ی رسالت کی زند گی کی شب وروز پر انکو تقسیم کیاجائے تو احادیث حضور کی حیات مبارکہ سے بڑھ جا ئیں گی ۔پس اس صورت میں احادیث کی صحت کیونکر قابل تسلیم ہوگی ۔ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ روایا ت کی یہ کثرت دراصل اسانید کی کثرت ہے ورنہ نفس احادیث کی تعداد چار ہزارچارسو سے زیادہ نہیں ہے ۔

چنانچہ علامہ امیر یمانی لکھتے ہیں : ان جملۃ الاحادیث المسندۃ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یعنی الصحیحۃ بلاتکرار اربعۃ الاف واربع مائۃ ۔
بلاشبہ وہ تمام مسند احادیث صحیحہ جو بلا تکرار حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مروی ہیں ان کی تعداد چار ہزار چار سو ہے ۔

امام اعظم رضی اللہ عنہ کی ولادت ۸۰ھ ہے اور امام بخاری ۱۹۴ھ میں پید اہوئے اور ان کے درمیان ایک سو چودہ سال کا طویل عرصہ ہے اور ظاہر ہے اس عرصہ میں بکثرت احادیث شائع ہو چکی تھیں اور ایک ایک حدیث کو سیکڑوں بلکہ ہزاروں اشخا ص نے روایت کرنا شروع کردیاتھا ۔امام اعظم کے زمانہ میں راویوں کا اتنا شیوع اور عموم تھا نہیں ، اس لئے امام اعظم اور امام بخاری کے درمیان جو روایت کی تعداد کا فرق ہے وہ در اصل اسانید کی تعداد کا فرق ہے ، نفس روایت نہیں ہے ورنہ اگر نفس احادیث کا لحاظ کیا جائے تو امام اعظم کی مرویات امام بخاری سے کہیں زیادہ ہیں ۔

اس زمانہ میں احادیث نبویہ جس قدر اسانید کے ساتھ مل سکتی تھیں امام اعظم نے ان تمام طرق واسانید کے ساتھ ان احادیث کو حاصل کرلیا تھا اورحدیث واثر کسی صحیح سند کے ساتھ موجود نہ تھے مگر امام اعظم کا علم ا نہیں شامل تھا ۔وہ اپنے زمانے کے تمام محدثین پر ادر اک حدیث میںفائق اور غالب تھے۔ چنانچہ امام اعظم کے معاصر اور مشہور محدث امام مسعر بن کدام فرماتے ہیں : ۔

طلبت مع ابی حنیفۃ الحدیث فغلبت واخذ نا فی الزہد فبرع علینا وطلبنا معہ الفقہ فجاء منہ ماترون۔

میں نے امام ابو حنیفہ کے ساتھ حدیث کی تحصیل کی لیکن وہ ہم سب پر غالب رہے اور زہد میں مشغول ہوئے تو وہ اس میں سب سے بڑھ کرتھے اور فقہ میں ان کا مقام تو تم جانتے ہی ہو ۔

نیزمحدث بشربن موسی اپنے استاد امام عبدالرحمن مقری سے روایت کرتے ہیں :۔

وکان اذاحدث عن ابی حنیفۃ قال حدثنا شاہنشاہ ۔

امام مقری جب امام ابوحنیفہ سے روایت کرتے تو کہتے کہ ہم سے شہنشاہ نے حدیث بیان کی۔
ان حوالوں سے ظاہر ہوگیا کہ امام اعظم اپنے معاصرین محدثین کے درمیان فن حدیث میں تمام پر فائق اور غالب تھے ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی کوئی حدیث ان کی نگاہ سے اوجھل نہ تھی ،یہی وجہ ہے کہ ان کے تلامذہ انہیں حدیث میں حاکم اور شہنشاہ تسلیم کرتے تھے ۔اصطلاح حدیث میں حاکم اس شخص کو کہتے ہیں جو حضور کی تمام مرویات پر متناًوسنداً دسترس رکھتاہو ،مراتب محدثین میں یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے اور امام اعظم اس منصب پر یقیناً فائز تھے۔ کیونکہ جو شخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے بھی ناواقف ہو وہ حیات انسانی کے تمام شعبوں کے لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایات کے مطابق جامع دستور نہیں بناسکتا ۔

امام اعظم کے محدثانہ مقام پرا یک شبہ کاازالہ: ۔ گزشتہ سطور میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بلاتکراراحادیث مرویہ کی تعداد چارہزار چار سو ہے اور امام حسن بن زیادکے بیان کے مطابق امام اعظم نے جو احادیث بلاتکرار بیان فرمائی ہیں انکی تعداد چار ہزار ہے۔ پس امام اعظم کے بارے میں حاکمیت اور حدیث میں ہمہ دانی کا دعوی کیسے صھیح ہوگا ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ چار ہزار احادیث کے بیان کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی چار سو حدیثوں کا امام اعظم کو علم بھی نہ ہو کیونکہ حسن بن زیاد کی حکایت میں بیان کی نفی ہے علم کی نہیں ۔‘

خیال رہے امام اعظم نے فقہی تصنیفات میں ان احادیث کا بیان کیا ہے جن سے مسائل مستنبط ہوتے ہیں اور جن کے ذریعہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امت کیلئے عمل کا ایک راستہ متعین فرمایا ہے جنہیں عرف عام میں سنن سے تعبیر کیاجاتا ہے لیکن حدیث کا مفہوم سنت سے عام ہے کیونکہ احادیث کے مفہوم میں وہ روایات بھی شامل ہیں جن میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حلیہ مبارکہ، آپ کی قلبی واردات ،خصوصیات ، گذشتہ امتوں کے قصص اور مستقبل کی پیش گوئیاں موجود ہیں اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی احادیث سنت کے قبیل سے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ احکام ومسائل کیلئے ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

پس امام اعظم نے جن چارہزار احادیث کو مسائل کے تحت بیان فرمایاہے وہ از قبیل سنن ہیں اور جن چارسو احادیث کو امام اعظم نے بیان نہیں فرمایا وہ ان روایات پر محمول ہیں

جواحکام سے متعلق نہیں ہیں لیکن یہاں بیان کی نفی ہے علم کی نہیں ۔‘

فن حدیث میں امام اعظم کا فیضان :۔امام اعظم علم حدیث میں جس عظیم مہارت کے حامل اور جلیل القدر مرتبہ پر فائز تھے اس کالازمی نتیجہ یہ تھا کہ تشنگان علم حدیث کا انبوہ کثیر آپ کے حلقہ ٔ درس میں سماع حدیث کیلئے حاضر ہوتا۔

حافظ ابن عبدالبر امام وکیع کے ترجمے میں لکھتے ہیں :۔

وکان یحفظ حدیثہ کلہ وکان قد سمع من ابی حنیفۃ کثیرا ،۔

وکیع بن جراح کو امام اعظم کی سب حدیثیں یادتھیں اور انہوں نے امام اعظم سے احادیث کا بہت زیادہ سماع کیا تھا ۔

امام مکی بن ابراہیم ،امام اعظم ابوحنیفہ کے شاگرد اورامام بخاری کے استاذ تھے اور امام بخاری نے اپنی صحیح میں بائیس ثلاثیات صرف امام مکی بن ابراہیم کی سند سے روایت کی ہیں ۔ امام صدر الائمہ موفق بن احمد مکی ان کے بارے میں لکھتے ہیں :۔

ولزم اباحنیفۃ رحمہ اللہ وسمع منہ الحدیث ۔

انہوں نے اپنے اوپر سماع حدیث کیلئے ابوحنیفہ کے درس کو لازم کرلیا تھا ۔

اس سے معلوم ہو اکہ امام بخاری کو اپنی صحیح میں عالی سند کے ساتھ ثلاثیات درج کرنے کا جو شرف حاصل ہواہے وہ دراصل امام اعظم کے تلامذہ کا صدقہ ہے اور یہ صرف ایک مکی بن ابراہیم کی بات نہیں ہے ۔امام بخاری کی اسانید میں اکثر شیوخ حنفی ہیں ان حوالوں سے یہ آفتاب سے زیادہ روشن ہوگیاکہ امام اعظم علم حدیث میں مرجع خلائق تھے ،ائمہ فن نے آپ سے حدیث کاسماع کیا اور جن شیوخ کے وجود سے صحاح ستہ کی عمارت قائم ہے ان میں سے اکثر حضرات آپ کے علم حدیث میں بالواسطہ یابلا واسطہ شاگرد ہیں ۔

فقیہ عصر شارح بخاری علیہ رحمۃ الباری تقلیل روایت کا موازنہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔

ہمیں یہ تسلیم ہے کہ جس شان کے محدث تھے اس کے لحاظ سے روایت کم ہے ۔مگر یہ ایساالزام ہے کہ امام بخاری جیسے محدث پر بھی عائد ہے ۔انہیں چھ لاکھ احادیث یاد تھیں جن میں ایک لاکھ صحیح یاد تھیں ۔مگر بخاری میں کتنی احادیث ہیں ۔غور کیجئے ایک لاکھ صحیح احادیث میں سے صرف ڈھائی ہزار سے کچھ زیادہ ہیں ۔کیا یہ تقلیل روایت نہیں ہے ؟ ۔

پھر محدثین کی کوشش صرف احادیث جمع کرنا اور پھیلانا تھا ۔مگر حضرت امام اعظم کا منصب ان سب سے بہت بلند اور بہت اہم اوربہت مشکل تھا ۔وہ امت مسلمہ کی آسانی کیلئے قرآن وحدیث واقوال صحابہ سے منقح مسائل اعتقادیہ وعملیہ کااستنباط اور انکو جمع کرنا تھا ۔مسائل کا استنباط کتنا مشکل ہے ۔اس میں مصروفیت اور پھر عوام وخواص کو ان کے حوادث پر احکام بتانے کی مشغولیت نے اتنا موقع نہ دیا کہ وہ اپنی شان کے لائق بکثرت روایت کرتے ۔