🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امام_اعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/304245425144837/
محترم قارئینِ کرام : کوفہ (عراق) وہ مبارک شہر ہےجسےستّر اصحابِِ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک تین سوصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے شرفِ قیام بخشا ۔ (طبقات کبریٰ، 6/89)

آسمانِ ہدایت کے ان چمکتے دمکتے ستاروں نے کوفہ کو علم و عرفان کا عظیم مرکز بنایا ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اِسے کنز الایمان (ایمان کا خزانہ) اور قبۃُ الاسلام (اسلام کی نشانی) جیسے عظیم الشان القابات سے نوازا گیا ۔

جب 80 ہجری میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس وقت شہر کوفہ میں ایسی ایسی ہستیاں موجود تھیں جن میں ہر ایک آسمانِ علم پر آفتاب بن کر ایک عالم کو منوّر کر رہا تھا ۔ (طبقات کبریٰ، 6/86، اخبار ابی حنیفۃ صفحہ 17)

نام و نسب : آپ کا نام نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان کوفی تیمی ہے۔(اخبار ابی حنیفہ واصحابہ صفحہ ١٦،چشتی)

ولادت : آپ کی ولادت کے تعلق سے تین روایتیں ملتی ہیں:٦١ھ،٧٠ھ اور ٨٠ھ ۔لیکن اکثر مؤرخین کا قول یہ ہے کہ آپ کی ولادت ٨٠ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں ہوئی۔(الخیرات الحسان، فصل ٣ صفحہ ٥٩)

تعلیم و تربیت : امام اعظم کوفہ ہی میں پروان چڑھے،جب ہوش سنبھالا تو خاندانی پیشہ تجارت میں مشغول ہوگئے،اسی دوران کوفہ کے مشہور امام حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی،انھوں نے آپ کی ذہانت وفطانت کو پہچان لیا اور آپ کو علم کی تحصیل اور علما کی مجلسوں میں شریک ہونے کی ترغیب دلائی،ابتداءً آپ نے علم کلام کی طرف توجہ فرمائی اور اس میں کمال حاصل کرلیا،ایک مدت تک بحث ومناظرہ میں مشغول رہنے کے بعد آپ کو یہ احساس ہوا کہ عوام ، خواص ، علما،حکام،قضاۃ اور زہاد کو سب سے زیادہ فقہ کی ضرورت ہے؛چناں چہ آپ نے علم کلام سے توجہ ہٹالی،آپ کے اس خیال کو اس واقعہ سے مزید تقویت ملی کہ ایک دن آپ کے پاس ایک عورت آئی اور پوچھا کہ سنت طریقے پر طلاق دینے کی کیا صورت ہے؟آپ خود نہ بتاسکے اور اس سے کہا کہ حضرت حماد سے پوچھ لو،وہ جو بتائیں گے مجھے بھی بتادینا،چناں چہ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔امام اعظم کو اس واقعہ سے بڑی غیرت آئی اور آپ امام حماد کے حلقۂ درس میں شریک ہوگئے۔(الخیرات الحسان فصل ٣ صفحہ٧١)

علم حدیث کےلیے سفر : آپ نے علم حدیث کے حصول کے لیے تین مقامات کا بطورِ خاص سفر کیا ۔ آپ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ میں حاصل کیا کیوں کہ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ علم حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔ گویا آپ علم حدیث کے گھر میں پیدا ہوئے، وہیں پڑھا، کوفہ کے سب سے بڑے علم کے وارث امام اعظم خود بنے ۔
دوسرا مقام حرمین شریفین کا تھا۔ جہاں سے آپ نے احادیث اخذ کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا ۔

اساتذہ و شیوخ : آپ نے تقریبًا 4 ہزار مشایخ سے علم حاصل کیا،جیسا کہ علامہ ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں : ھم کثیرون،لایسع ھذا المختصر ذکرھم،وقد ذکر منھم الامام أبوحفص الکبیر أربعة آلاف شیخ،وقال غیره:له أربعة آلاف شیخ من التابعين،فما بالك بغیرھم ۔ (الخیرات الحسان، فصل ٧ صفحہ ٧٩،چشتی)
ترجمہ : آپ کے شیوخ بہت ہیں،یہ مختصر ان کے ذکر کی گنجائش نہیں رکھتا،امام ابوحفص کبیر نے چار ہزار مشایخ کا ذکر کیا ہے،دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ چار ہزار تو تابعین میں سے ہیں،تو غیر تابعین کتنے ہوں گے؟
آپ کے بعض اساتذہ کے اسما درج ذیل ہیں :
(١)حضرت حماد بن سلیمان(٢)حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر(٣)حضرت اسماعیل بن عبدالمالک(٤)حضرت ابوہند حارث بن عبدالرحمٰن ہمدانی(٥)حضرت حسن بن عبید اللّٰه رضی اللّٰه عنھم اجمعین۔(تبییض الصحیفه صفحہ ١٩)

تدریس : آپ کے استاذ گرامی حضرت حماد بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ان کی مسند تدریس پر ان کے صاحبزادے متمکن ہوئے،لیکن فقہ وافتا میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے تلامذہ کو تشفی نہ مل پاتی،لہٰذا ابوبکر نہشلی سے گزارش کی گئی تو انھوں نے انکار کر دیا،پھر حضرت ابوبردہ سے درخواست کی گئی تو انھوں نے بھی قبول نہ کیا،پھر سارے تلامذہ نے مل کر امام اعظم سے التماس کیا تو آپ نے ان کی بات مان لی اور فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ علم مٹ جائے۔چناں چہ آپ نے اپنے استاذ گرامی کی مسند تدریس کو رونق بخشی،جب یہ خبر لوگوں میں عام ہوئی تو ہر طرف سے تشنگان علم آپ کے حلقہ تدریس میں جمع ہونے لگے ۔ (مناقب اعظم صفحہ نمبر ٨٣،چشتی)

تلامذہ : آپ رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں :