بزار، المسند، 2: 435۔ 36 4، امام ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں کہا ہے کہ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن کو میں نہیں جانتا، اس کے باقی رُواۃ ثقہ ہیں ۔
(7) حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حدثنا أحمد بن نضر العسکری ثنا محمد بن آدم المصيصی ثنا المحاربي عن الأحوص بن حکيم عن حبيب بن صهيب عن مکحول عن أبي ثعلبة أن النبي صلی الله عليه وآله وسلم قال: يَطْلُعُ ﷲُ عَلٰی عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَيُمْهِلُ الْکَافِرِيْنَ، وَيَدَعُ أهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّی يَدَعُوْهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر مطلع ہوتا ہے، پس وہ مومنوں کی مغفرت فرماتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے اور وہ اہل حسد کو ان کے حسد میں چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دیں ۔ (طبرانی، المعجم الکبير، 22: 223، رقم: 590)(ابن ابی عاصم، السنة، 1: 223، رقم: 511) ۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں اس کے ایک راوی احوص بن حکیم کو ضعیف کہا ہے ۔ شیخ محمد ناصر الدین البانی (غیر مقلدین کے امام) نے اپنی کتاب ’’ظلال الجنۃ فی تخریج السنۃ لابن ابی عاصم، 1: 223 ‘‘ میں اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے ، اور احوص بن حکیم جو کہ ضعیف الحفظ ہے کہ سوا تمام رواۃ ثقہ ہیں جیسا کہ ’’التقریب‘‘ میں ہے۔ پس اس کی مثل سے استشہاد کیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے بعد وغیرہا کے طریق کے سبب قوی ہو جاتا ہے ۔
دار قطنی نے احوص بن حکیم کے بارے میں کہا ہے کہ ’’اس پر اس صورت میں اعتبار کیا جائے گا جب کوئی ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔‘‘ اور ابن عدی نے کہا ہے کہ’’اس سے بہت سی روایات مروی ہیں اور وہ ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث لکھی جاتی ہیں اور ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے اس سے حدیث لی ہے اور اس میں کوئی منکر چیز نہیں ہے جس کا وہ رد کرتے مگر یہ کہ وہ ایسی اسانید بیان کریں جن کی اتباع نہیں کی جا سکتی۔(مزی، تهذيب الکمال، 2: 293. 294، چشتی)
(8) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يَطْلُعُ ﷲُ عَلَی خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ کُلَّهُمْ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے، پس وہ شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے سوا ہر ایک کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔
(1) بزار، المسند، 7: 186، رقم: 2754، ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں کہا ہے کہ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے، احمد بن صالح نے اسے ثقہ اور جمہور ائمہ نے ضعیف کہا ہے اور ابن لہیعۃ کمزور راوی ہے باقی اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
(2) ابنِ شاہین نے تاریخ اسماء الثقات، 1: 147 میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا ذکر کیا ہے اور یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ اس سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ اس میں ضعف ہے ۔
(9) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ﷲَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : بے شک اللہ رب العزت ماہ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو (اپنی مخلوق کی طرف) متوجہ ہوتا ہے، سو وہ مشرک اور کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے ۔(ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان، 1 : 445، رقم : 1390، چشتی)
(1) امام ابنِ ماجہ کی بیان کردہ یہ روایت مرفوع منقطع ہے کیونکہ اس میں ضحاک بن عبدالرحمن بلا واسطہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث نہیں لیتے۔ لیکن یہی حدیث ابن ماجہ نے اور ہبۃ ﷲ بن حسن لالکائی نے شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، 3 : 447، رقم : 763 میں ذکر کی ہے جس کے مطابق: ابنِ لہیعۃ نے زبیر بن مسلم، انہوں نے ضحاک، انہوں نے اپنے والد عبدالرحمن بن عزرب اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے ۔
(2) مزی نے تہذیب الکمال، 9 : 308، رقم : 1964 میں یہی حدیث ایک بہت اعلیٰ سند سعید بن عفیر سے ابنِ لہیعۃ انہوں نے زبیر بن سلیم کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے صحیح مرفوع متصل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔
(7) حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حدثنا أحمد بن نضر العسکری ثنا محمد بن آدم المصيصی ثنا المحاربي عن الأحوص بن حکيم عن حبيب بن صهيب عن مکحول عن أبي ثعلبة أن النبي صلی الله عليه وآله وسلم قال: يَطْلُعُ ﷲُ عَلٰی عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَيُمْهِلُ الْکَافِرِيْنَ، وَيَدَعُ أهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّی يَدَعُوْهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر مطلع ہوتا ہے، پس وہ مومنوں کی مغفرت فرماتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے اور وہ اہل حسد کو ان کے حسد میں چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دیں ۔ (طبرانی، المعجم الکبير، 22: 223، رقم: 590)(ابن ابی عاصم، السنة، 1: 223، رقم: 511) ۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں اس کے ایک راوی احوص بن حکیم کو ضعیف کہا ہے ۔ شیخ محمد ناصر الدین البانی (غیر مقلدین کے امام) نے اپنی کتاب ’’ظلال الجنۃ فی تخریج السنۃ لابن ابی عاصم، 1: 223 ‘‘ میں اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے ، اور احوص بن حکیم جو کہ ضعیف الحفظ ہے کہ سوا تمام رواۃ ثقہ ہیں جیسا کہ ’’التقریب‘‘ میں ہے۔ پس اس کی مثل سے استشہاد کیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے بعد وغیرہا کے طریق کے سبب قوی ہو جاتا ہے ۔
دار قطنی نے احوص بن حکیم کے بارے میں کہا ہے کہ ’’اس پر اس صورت میں اعتبار کیا جائے گا جب کوئی ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔‘‘ اور ابن عدی نے کہا ہے کہ’’اس سے بہت سی روایات مروی ہیں اور وہ ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث لکھی جاتی ہیں اور ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے اس سے حدیث لی ہے اور اس میں کوئی منکر چیز نہیں ہے جس کا وہ رد کرتے مگر یہ کہ وہ ایسی اسانید بیان کریں جن کی اتباع نہیں کی جا سکتی۔(مزی، تهذيب الکمال، 2: 293. 294، چشتی)
(8) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يَطْلُعُ ﷲُ عَلَی خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ کُلَّهُمْ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے، پس وہ شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے سوا ہر ایک کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔
(1) بزار، المسند، 7: 186، رقم: 2754، ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں کہا ہے کہ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے، احمد بن صالح نے اسے ثقہ اور جمہور ائمہ نے ضعیف کہا ہے اور ابن لہیعۃ کمزور راوی ہے باقی اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
(2) ابنِ شاہین نے تاریخ اسماء الثقات، 1: 147 میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا ذکر کیا ہے اور یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ اس سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ اس میں ضعف ہے ۔
(9) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ﷲَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : بے شک اللہ رب العزت ماہ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو (اپنی مخلوق کی طرف) متوجہ ہوتا ہے، سو وہ مشرک اور کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے ۔(ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان، 1 : 445، رقم : 1390، چشتی)
(1) امام ابنِ ماجہ کی بیان کردہ یہ روایت مرفوع منقطع ہے کیونکہ اس میں ضحاک بن عبدالرحمن بلا واسطہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث نہیں لیتے۔ لیکن یہی حدیث ابن ماجہ نے اور ہبۃ ﷲ بن حسن لالکائی نے شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، 3 : 447، رقم : 763 میں ذکر کی ہے جس کے مطابق: ابنِ لہیعۃ نے زبیر بن مسلم، انہوں نے ضحاک، انہوں نے اپنے والد عبدالرحمن بن عزرب اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے ۔
(2) مزی نے تہذیب الکمال، 9 : 308، رقم : 1964 میں یہی حدیث ایک بہت اعلیٰ سند سعید بن عفیر سے ابنِ لہیعۃ انہوں نے زبیر بن سلیم کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے صحیح مرفوع متصل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔
❤1
(10) حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِذَا مُنَادٍ : هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأغْفِرَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأعْطِيَهُ ؟ فَـلَا يَسْألُ أحَدٌ إَلَّا أعْطِيَ إِلَّا زَانِيَةٌ بِفَرْجِهَا أوْ مُشْرِکٌ ۔
ترجمہ : جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو منادی ندا دیتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں؟ پس زانیہ اور مشرک کے سوا ہر سوال کرنے والے کو عطا کر دیا جاتا ہے ۔ (بيهقی، شعب ا لإيمان، 3: 383، رقم: 3836، چشتی)
اس بحث کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے
(1) تمام احادیثِ مبارکہ سے شبِ برات کی فضیلت اور خصوصیت اجاگر ہوتی ہے اور اس شک و شبہ کا قلع قمع ہوتا ہے کہ اس باب میں تمام احادیث ضعیف ہیں۔ ہر حدیث کے ضعیف راوی پر سیر حاصل گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوا ہے کہ تمام احادیث ایک دوسرے سے تقویت پا کر حسن کے درجے پر فائز ہیں ۔
(2) سب سے اہم بات یہ ہے کہ شب برات پر احادیث کو روایت کرنے والے صحابہ کرام ث کی سطح تک تعداد حد تواتر تک پہنچتی ہے لہٰذا اتنے صحابہ کا کسی مسئلہ پر احادیث روایت کرنا ان کی حجیت اور قطعیت کو ثابت کرتا ہے ۔
(3) اگر بعض احادیث ضعیف بھی ہوں تو محدّثین کرام نے خود اس بات کی تصریح کی ہے کہ ضعیف احادیث متعدد طرق سے تقویت پا کر حسن کے درجے پر فائز ہوتی ہیں ۔
(4) تیسرا اہم قاعدہ محدّثین نے اپنی کتابوں میں یہ درج کیا کہ فضائل میں بالاتفاق ضعیف روایات بھی قابل قبول ہو جاتی ہیں، جبکہ شب برات پر احادیثِ حسنہ مروی ہیں ۔
شب برات میں اہتمام عبادت پر سلف صالحین کی آراء اور معمول
1 حضرت علی، حضرت عائشہ صدیقہ اور عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم سے مروی مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور امر سے اس کی حجیت ثابت ہے ۔
(2) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں سے بڑھ کر عبادت کرتے تھے، لہذا شبِ برات کو اس سے کس طرح خارج کیا جا سکتا ہے ؟ بلکہ یہ رات دوسری راتوں کی نسبت عبادت کی زیادہ مستحق ہے ۔
(3) حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں : خمس ليال لا ترد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، و أول ليلة من رجب، و ليلة النصف من شعبان، و ليلتی العيدين ۔
ترجمہ : پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتیں: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، دونوں عیدوں کی راتیں ۔ (عبد الرزاق، المصنف، 4: 317، رقم: 7927)
(4) غیر مقلدین کے پسندیدہ امام علامہ ابنِ تیمیہ نے اس رات میں عبادت اور قیام پر لکھا ہے : سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب : إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن ۔
ترجمہ : ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے ۔ (مجموع فتاوی ابن تيميه، 23: 131،چشتی)
(5) حافظ ابنِ رجب حنبلی لکھتے ہیں : شعبان کی 15ویں شب کو اہلِ شام کے تابعین خالد بن معدان، لقمان بن عامر اور ان کے علاوہ دیگر اِس رات کی تعظیم کرتے اور اس میں بے حد عبادت کرتے۔ وہ اِس رات مسجد میں قیام کرتے۔ اس پر امام اسحاق بن راہویہ نے ان کی موافقت کی ہے اور کہا ہے کہ اس رات کو مساجد میں قیام کرنا بدعت نہیں ہے ۔ (لطائف المعارف: 263 ، چشتی)
شب برات پر اتنی کثیر تعداد میں مروی احادیث صرف اس لیئے نہیں ہیں کہ کوئی بھی بندہ مؤمن فقط ان کا مطالعہ کر کے انہیں قصے ، کہانیاں سمجھتے ہوئے صرفِ نظر کر دے ، بلکہ ان احادیث کے بیان کا مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے مولا خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کرے جو کہ اس رات اور اس جیسی دیگر روحانی راتوں میں عبادت سے باسہولت میسر ہو سکتا ہے ۔ اِن با برکت راتوں میں رحمتِ الٰہی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور اپنے گناہگار بندوں کی بخشش و مغفرت کے لیئے بے قرار ہوتی ہے لہٰذا اس رات میں قیام کرنا ، کثرت سے تلاوتِ قرآن ، ذکر ، عبادت اور دعا کرنا مستحب ہے اور یہ اعمال احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہیں ۔ اس لیے جو شخص بھی اب اس شب کو یا اس میں عبادت کو بدعتِ ضلالۃ کہتا ہے وہ درحقیقت احادیثِ صحیحہ اور اعمالِ سلف صالحین کا منکر ہے اور فقط ہوائے نفس کی اتباع اور اطاعت میں مشغول ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حق کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
ترجمہ : جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو منادی ندا دیتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں؟ پس زانیہ اور مشرک کے سوا ہر سوال کرنے والے کو عطا کر دیا جاتا ہے ۔ (بيهقی، شعب ا لإيمان، 3: 383، رقم: 3836، چشتی)
اس بحث کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے
(1) تمام احادیثِ مبارکہ سے شبِ برات کی فضیلت اور خصوصیت اجاگر ہوتی ہے اور اس شک و شبہ کا قلع قمع ہوتا ہے کہ اس باب میں تمام احادیث ضعیف ہیں۔ ہر حدیث کے ضعیف راوی پر سیر حاصل گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوا ہے کہ تمام احادیث ایک دوسرے سے تقویت پا کر حسن کے درجے پر فائز ہیں ۔
(2) سب سے اہم بات یہ ہے کہ شب برات پر احادیث کو روایت کرنے والے صحابہ کرام ث کی سطح تک تعداد حد تواتر تک پہنچتی ہے لہٰذا اتنے صحابہ کا کسی مسئلہ پر احادیث روایت کرنا ان کی حجیت اور قطعیت کو ثابت کرتا ہے ۔
(3) اگر بعض احادیث ضعیف بھی ہوں تو محدّثین کرام نے خود اس بات کی تصریح کی ہے کہ ضعیف احادیث متعدد طرق سے تقویت پا کر حسن کے درجے پر فائز ہوتی ہیں ۔
(4) تیسرا اہم قاعدہ محدّثین نے اپنی کتابوں میں یہ درج کیا کہ فضائل میں بالاتفاق ضعیف روایات بھی قابل قبول ہو جاتی ہیں، جبکہ شب برات پر احادیثِ حسنہ مروی ہیں ۔
شب برات میں اہتمام عبادت پر سلف صالحین کی آراء اور معمول
1 حضرت علی، حضرت عائشہ صدیقہ اور عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم سے مروی مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور امر سے اس کی حجیت ثابت ہے ۔
(2) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں سے بڑھ کر عبادت کرتے تھے، لہذا شبِ برات کو اس سے کس طرح خارج کیا جا سکتا ہے ؟ بلکہ یہ رات دوسری راتوں کی نسبت عبادت کی زیادہ مستحق ہے ۔
(3) حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں : خمس ليال لا ترد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، و أول ليلة من رجب، و ليلة النصف من شعبان، و ليلتی العيدين ۔
ترجمہ : پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتیں: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، دونوں عیدوں کی راتیں ۔ (عبد الرزاق، المصنف، 4: 317، رقم: 7927)
(4) غیر مقلدین کے پسندیدہ امام علامہ ابنِ تیمیہ نے اس رات میں عبادت اور قیام پر لکھا ہے : سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب : إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن ۔
ترجمہ : ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے ۔ (مجموع فتاوی ابن تيميه، 23: 131،چشتی)
(5) حافظ ابنِ رجب حنبلی لکھتے ہیں : شعبان کی 15ویں شب کو اہلِ شام کے تابعین خالد بن معدان، لقمان بن عامر اور ان کے علاوہ دیگر اِس رات کی تعظیم کرتے اور اس میں بے حد عبادت کرتے۔ وہ اِس رات مسجد میں قیام کرتے۔ اس پر امام اسحاق بن راہویہ نے ان کی موافقت کی ہے اور کہا ہے کہ اس رات کو مساجد میں قیام کرنا بدعت نہیں ہے ۔ (لطائف المعارف: 263 ، چشتی)
شب برات پر اتنی کثیر تعداد میں مروی احادیث صرف اس لیئے نہیں ہیں کہ کوئی بھی بندہ مؤمن فقط ان کا مطالعہ کر کے انہیں قصے ، کہانیاں سمجھتے ہوئے صرفِ نظر کر دے ، بلکہ ان احادیث کے بیان کا مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے مولا خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کرے جو کہ اس رات اور اس جیسی دیگر روحانی راتوں میں عبادت سے باسہولت میسر ہو سکتا ہے ۔ اِن با برکت راتوں میں رحمتِ الٰہی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور اپنے گناہگار بندوں کی بخشش و مغفرت کے لیئے بے قرار ہوتی ہے لہٰذا اس رات میں قیام کرنا ، کثرت سے تلاوتِ قرآن ، ذکر ، عبادت اور دعا کرنا مستحب ہے اور یہ اعمال احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہیں ۔ اس لیے جو شخص بھی اب اس شب کو یا اس میں عبادت کو بدعتِ ضلالۃ کہتا ہے وہ درحقیقت احادیثِ صحیحہ اور اعمالِ سلف صالحین کا منکر ہے اور فقط ہوائے نفس کی اتباع اور اطاعت میں مشغول ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حق کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
❤1
فیضان ماہ شعبان المعظم ❼
https://t.me/islaamic_Knowledge/26775
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ ہفتم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147328309411178&id=100024020582996
https://t.me/islaamic_Knowledge/26775
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ ہفتم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147328309411178&id=100024020582996
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم ❽
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شبِ براءت اور آتش بازی
Shab E Barat Aur Atish Bazi
میرابچپن اور جوانی کے ابتدائی ایام باب المدینہ (کراچی) کے اولڈ سٹی ایریا میں گزرے، ہمارے ہاں یہ بات مشہور تھی کہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں رات پٹاخوں کی رات ہے۔ جب یہ رات آتی تو نوجوان ایک دوسرے کو یہ کہتے کہ ”پٹاخوں کی رات آگئی، پٹاخوں کی رات آگئی۔“ میں دیکھتا تھا کہ کئی جگہوں پر شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کا چاند نظر آتے ہی آتش گیر مادہ، بارود، پٹاخے اور آتش بازی کادیگرسامان پسِ پردہ سجا کر رکھا جاتا جسے خرید کر بچےبے دریغ استعمال کرتے۔ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں رات آنے سے قبل ہی ماں باپ بچوں کو یہ سامان خریدنے کے لئے رقم دیتے اور کچھ خود ہی خرید کر لے آتے۔ جب یہ رات شروع ہوتی تو چاروں طرف سے آتش بازی اور پٹاخے پھوڑنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔
اسی ماحول میں ایک وقت گزارا، پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے غالباً 1991ء میں دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آیا، مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد پتا چلا کہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں شب پٹاخے کی رات نہیں بلکہ جہنم کی آگ سے براءت (چھٹکارے) کی رات ہے۔ اس طرح کے فرامینِ مصطفےٰ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے بھی آگاہی ہوئی:(1) میرے پاس جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) آئے اور کہا یہ شَعْبَانکی پندرَہویں رات ہے، اس میں اللہ تعالیٰ جہنّم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بَنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر مشرِک اور عداوت (دشمنی) والے اور رِشتہ کاٹنے والے اور (تکبُّرکے ساتھ ٹَخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے والے اور والِدَین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نَظَرِ رَحْمت نہیں فرماتا۔ (شعب الایمان، 3/383، حدیث: 3873) (2)جب پندَرَہ شَعْبَانکی رات آئے تو اس میں قِیام (یعنی عبادت) کرو اور دن میں روزہ رکھو۔ بے شک اللہ تعالیٰ غُرُوبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا اور کہتا ہے:ہے کوئی مجھ سے مغفِرت طَلَب کرنے والا کہ اُسے بَخْش دوں! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی دوں! ہے کوئی مُصیبت زدہ کہ اُسے عافِیَّت عطا کروں! ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا! اور یہ اُس وَقْت تک فرماتا ہے کہ فَجْرطُلُوع ہو جائے۔(ابنِ ماجہ، 2/160، حدیث:1388) اِنہی فضائل کی وجہ سے شب براءت کے موقع پر اکثر مساجِد میں شب بیداری کا اِہتمام کیا جاتا ہے۔عاشقانِ رسول عبادت کے ساتھ ساتھ ایسے پسندیدہ کام بھی کرتے ہیں مثلاً قراٰن خوانی کرنا، اپنے مرحومین اور دیگر مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کھانا کھلانا، قبرستان حاضرہونااور فاتحہ پڑھنا ، فقرا و مساکین کی مدد کرنا وغیرہ۔ ان نیک اعمال سے ایمان کوتقویت ملتی ، قلبی و روحانی سکون ملتااور آخرت کی تیاری کا سامان ہوتا ہے۔
شبِ براءت کیسے گزاریں؟
شبِ بَرَاءَ ت میں اعمال نامے تبدیل ہوتے ہیں اس لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں 14 شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کوبھی روزہ رکھاجاتاہے تاکہ اَعمال نامے کے آخری دن بھی روزہ ہو۔ 14شعبان کومساجدمیں عصر کی نمازباجماعت پڑھ کر وَہیں نفل اعتکاف کیا جاتاہے تاکہ اعمال نامہ تبدیل ہو نے کے آخر ی لمحات میں مسجِد کی حاضِری، اعتکاف اور انتظارِ نماز وغیرہ کا ثواب لکھا جائے۔ غروبِِ آفتاب کے بعدروزہ افطارکیا جاتاہے ۔نمازِمغرب باجماعت اداکرنے کے بعدچھ نوافل پڑھے جاتےہیں۔ سورۂ یٰسٓکی تلاوت کی جاتی ہے اور دعائے نصف شعبان بھی پڑھی جاتی ہے یوں شب براءت کا آغازہی نیکیوں سے کیا جاتا ہے۔(ان نوافل کوادا کرنے کا طریقہ امیرِ اہلِ سنت کے رسالے ”آقا کا مہینا“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) سے پڑھ لیجئے اسی میں دعائے نصف شعبان بھی ہے) اس کے بعد عاشقانِ رسول کھانا کھاتے ہیں نمازِ عشاء باجماعت ادا کی جاتی ہے، پھر اجتماعِ ذکر ونعت کا آغاز ہوجاتا ہے، میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ”مدنی مذاکرہ“ فرماتے ہیں، مبلغینِ دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات کرتے ہیں، اجتماع کے اختتام پر پندرہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے روزے کے لئے سَحری کا اہتمام کیا جاتا ہے، شرکائے اجتماعات نمازوں کی پابندی اور سنتوں بھری زندگی گزارنے کے عزم کے ساتھ گھروں کو جاتے ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شب براءت بڑی عظمتوں اور برکتوں والی رات ہے مگر افسوس! صد افسوس! آج بھی ہمارے معاشرے میں شب براءت کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک تعداد اس رات کو غفلت بلکہ گناہوں میں گزارتی اور اس کی برکتوں سے محروم ہوجاتی ہے، جس میں آخرت کا سخت نقصان ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیاوی نقصانات کا بھی سامناہوتاہے جس کا اندازہ اخبارات کی مندرجہ ذیل خبروں سے لگایا جاسکتاہے: ٭10مئی 2016ء مرکزالاولیا (لاہور،پاکستان) ایک بچے نے ماچس پٹاخہ چلا کر ہمسائے کے گھر پھینک دیا ،جس سے گھر میں آگ لگنے سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کرتباہ ہو
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شبِ براءت اور آتش بازی
Shab E Barat Aur Atish Bazi
میرابچپن اور جوانی کے ابتدائی ایام باب المدینہ (کراچی) کے اولڈ سٹی ایریا میں گزرے، ہمارے ہاں یہ بات مشہور تھی کہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں رات پٹاخوں کی رات ہے۔ جب یہ رات آتی تو نوجوان ایک دوسرے کو یہ کہتے کہ ”پٹاخوں کی رات آگئی، پٹاخوں کی رات آگئی۔“ میں دیکھتا تھا کہ کئی جگہوں پر شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کا چاند نظر آتے ہی آتش گیر مادہ، بارود، پٹاخے اور آتش بازی کادیگرسامان پسِ پردہ سجا کر رکھا جاتا جسے خرید کر بچےبے دریغ استعمال کرتے۔ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں رات آنے سے قبل ہی ماں باپ بچوں کو یہ سامان خریدنے کے لئے رقم دیتے اور کچھ خود ہی خرید کر لے آتے۔ جب یہ رات شروع ہوتی تو چاروں طرف سے آتش بازی اور پٹاخے پھوڑنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔
اسی ماحول میں ایک وقت گزارا، پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے غالباً 1991ء میں دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آیا، مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد پتا چلا کہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں شب پٹاخے کی رات نہیں بلکہ جہنم کی آگ سے براءت (چھٹکارے) کی رات ہے۔ اس طرح کے فرامینِ مصطفےٰ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے بھی آگاہی ہوئی:(1) میرے پاس جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) آئے اور کہا یہ شَعْبَانکی پندرَہویں رات ہے، اس میں اللہ تعالیٰ جہنّم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بَنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر مشرِک اور عداوت (دشمنی) والے اور رِشتہ کاٹنے والے اور (تکبُّرکے ساتھ ٹَخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے والے اور والِدَین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نَظَرِ رَحْمت نہیں فرماتا۔ (شعب الایمان، 3/383، حدیث: 3873) (2)جب پندَرَہ شَعْبَانکی رات آئے تو اس میں قِیام (یعنی عبادت) کرو اور دن میں روزہ رکھو۔ بے شک اللہ تعالیٰ غُرُوبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا اور کہتا ہے:ہے کوئی مجھ سے مغفِرت طَلَب کرنے والا کہ اُسے بَخْش دوں! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی دوں! ہے کوئی مُصیبت زدہ کہ اُسے عافِیَّت عطا کروں! ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا! اور یہ اُس وَقْت تک فرماتا ہے کہ فَجْرطُلُوع ہو جائے۔(ابنِ ماجہ، 2/160، حدیث:1388) اِنہی فضائل کی وجہ سے شب براءت کے موقع پر اکثر مساجِد میں شب بیداری کا اِہتمام کیا جاتا ہے۔عاشقانِ رسول عبادت کے ساتھ ساتھ ایسے پسندیدہ کام بھی کرتے ہیں مثلاً قراٰن خوانی کرنا، اپنے مرحومین اور دیگر مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کھانا کھلانا، قبرستان حاضرہونااور فاتحہ پڑھنا ، فقرا و مساکین کی مدد کرنا وغیرہ۔ ان نیک اعمال سے ایمان کوتقویت ملتی ، قلبی و روحانی سکون ملتااور آخرت کی تیاری کا سامان ہوتا ہے۔
شبِ براءت کیسے گزاریں؟
شبِ بَرَاءَ ت میں اعمال نامے تبدیل ہوتے ہیں اس لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں 14 شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کوبھی روزہ رکھاجاتاہے تاکہ اَعمال نامے کے آخری دن بھی روزہ ہو۔ 14شعبان کومساجدمیں عصر کی نمازباجماعت پڑھ کر وَہیں نفل اعتکاف کیا جاتاہے تاکہ اعمال نامہ تبدیل ہو نے کے آخر ی لمحات میں مسجِد کی حاضِری، اعتکاف اور انتظارِ نماز وغیرہ کا ثواب لکھا جائے۔ غروبِِ آفتاب کے بعدروزہ افطارکیا جاتاہے ۔نمازِمغرب باجماعت اداکرنے کے بعدچھ نوافل پڑھے جاتےہیں۔ سورۂ یٰسٓکی تلاوت کی جاتی ہے اور دعائے نصف شعبان بھی پڑھی جاتی ہے یوں شب براءت کا آغازہی نیکیوں سے کیا جاتا ہے۔(ان نوافل کوادا کرنے کا طریقہ امیرِ اہلِ سنت کے رسالے ”آقا کا مہینا“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) سے پڑھ لیجئے اسی میں دعائے نصف شعبان بھی ہے) اس کے بعد عاشقانِ رسول کھانا کھاتے ہیں نمازِ عشاء باجماعت ادا کی جاتی ہے، پھر اجتماعِ ذکر ونعت کا آغاز ہوجاتا ہے، میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ”مدنی مذاکرہ“ فرماتے ہیں، مبلغینِ دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات کرتے ہیں، اجتماع کے اختتام پر پندرہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے روزے کے لئے سَحری کا اہتمام کیا جاتا ہے، شرکائے اجتماعات نمازوں کی پابندی اور سنتوں بھری زندگی گزارنے کے عزم کے ساتھ گھروں کو جاتے ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شب براءت بڑی عظمتوں اور برکتوں والی رات ہے مگر افسوس! صد افسوس! آج بھی ہمارے معاشرے میں شب براءت کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک تعداد اس رات کو غفلت بلکہ گناہوں میں گزارتی اور اس کی برکتوں سے محروم ہوجاتی ہے، جس میں آخرت کا سخت نقصان ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیاوی نقصانات کا بھی سامناہوتاہے جس کا اندازہ اخبارات کی مندرجہ ذیل خبروں سے لگایا جاسکتاہے: ٭10مئی 2016ء مرکزالاولیا (لاہور،پاکستان) ایک بچے نے ماچس پٹاخہ چلا کر ہمسائے کے گھر پھینک دیا ،جس سے گھر میں آگ لگنے سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کرتباہ ہو
❤1
گیا۔ ٭23مئی 2016ء رانی پور(باب الاسلام سندھ،پاکستان) میں پٹاخوں سے بجلی کی تاریں جل گئیں۔ ٭تھل ( پاکستان) ماچس پٹاخے سے جھگی میں آگ لگ گئی، 5 سالہ بچہ آگ سے جھلس کر جاں بحق ہو گیا۔ ٭ 07 فروری 2010ءیوپی ہند کے علاقے سلطانپور میں پٹاخوں سے چھپر میں آگ لگ گئی اور ایک ہی خاندان کے 14 افراد زندہ جل گئے۔ ٭12نومبر 2015ء کٹیہار، ہند میں پٹاخوں سے دوگھروں میں آگ لگ گئی،جس سے دونوں گھر جل کر راکھ ہوگئے۔
پٹاخوں کے علاوہ اب تو دنیا بھر میں آتش بازی کا ایک عجیب وغریب سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دنیا بھر میں آتش بازی کا مظاہرہ کرنے کے لئے کی جانے والی سالانہ خرید و فروخت کی رقم کا مجموعی طور پر تخمینہ سامنے لایا جائے تو کروڑوں ڈالر(اربوں روپے) بنے گا۔دنیابھر میں آتش بازی کے واقعات میں سالانہ سینکڑوں افراد ہلاک اور کئی لاکھ زخمی ہوجاتے ہیں۔یہ واقعات مختلف قومی و مذہبی تہواروں اور سالِ نَو کے جشن پر کی جانی والی آتش بازی کے دوران پیش آتے ہیں۔ چند اخباری رپورٹس ملاحظہ فرمائیے: ٭یکم جنوری 2005ءارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں آتش بازی کے نتیجے میں آگ لگ گئی، کم از کم 200 افراد جل کر ہلاک اور400سے زائد شدید زخمی ہو گئے٭2002ءبرطانیہ میں نیو ایئر نائٹ کی آتش بازی نے 1362 افراد کو متأثر کیا ، متعدد لوگ اپنے اعضا سے محروم ہوئے، چالیس گھروں کو آگ لگی، 500 گاڑیاں تباہ، 4825 جانور جل کر مرگئے ٭2004ء پیراگوئے میں آتش بازی کے سبب 400افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے٭ نیدرلینڈ کے ایک شہر میں آتش بازی کی فیکٹری میں 900 کلو دھماکے دار مواد پھٹنے سے 23 افراد ہلاک جبکہ 947 زخمی ہوگئے۔دھماکے سے 100 ایکڑ اراضی تک بڑی تباہی ہوئی، 15 گلیوں پر مشتمل 1500 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، جبکہ 400 گھر مکمل تباہ ہوگئے ۔ تباہی کے سبب 1250 افراد بے گھر ہو گئے۔ نقصان کا تخمینہ(اندازہ) 454 ملین یورو ، یعنی 50 کروڑ 94 لاکھ 56 ہزار ڈالرز لگایا گیا ہے۔
آتش بازی کا شرعی حکم
امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ”آتش بازی جس طرح شادیوں اور شبِ براءت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جُرم ہے کہ اس میں تضییعِ مال(مال کو ضائع کرنا) ہے، قرآنِ مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا: قال اللہ تعالٰی﴿وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)﴾(پ15،بنی اسراءیل:26-27)
(ترجمۂ کنزالایمان: اور فضول نہ اڑا، بیشک اُڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے ) شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے)(فتاوی رضویہ،ج23، ص279)
آتش بازی کاموجِدکون؟
آتش بازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ نمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اُس نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تو اسکے آدمیوں نے آگ کے اناربھر کر اُن میں آگ لگا کر حضر ت خلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کی طر ف پھینکے۔(اسلامی زندگی، ص77)
اِس لئے خودبھی اس سے بچئے اوراپنے بچوں کوبھی بچائیے۔ میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے کہ خدارااپنے حال پر رحم فرمائیے، دنیا وآخرت کے نقصانات سے بچنے کے لئے اپنے اندرتبدیلی لائیے۔آنے والی شبِ براءَت کے مبارک لمحات کو پٹاخوں اور آتش بازی میں برباد کرنے کے بجائے عبادت میں گزارئیےاوردن کا روزہ بھی رکھئے۔ اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطافرمائے ۔امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
پٹاخوں کے علاوہ اب تو دنیا بھر میں آتش بازی کا ایک عجیب وغریب سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ دنیا بھر میں آتش بازی کا مظاہرہ کرنے کے لئے کی جانے والی سالانہ خرید و فروخت کی رقم کا مجموعی طور پر تخمینہ سامنے لایا جائے تو کروڑوں ڈالر(اربوں روپے) بنے گا۔دنیابھر میں آتش بازی کے واقعات میں سالانہ سینکڑوں افراد ہلاک اور کئی لاکھ زخمی ہوجاتے ہیں۔یہ واقعات مختلف قومی و مذہبی تہواروں اور سالِ نَو کے جشن پر کی جانی والی آتش بازی کے دوران پیش آتے ہیں۔ چند اخباری رپورٹس ملاحظہ فرمائیے: ٭یکم جنوری 2005ءارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس میں آتش بازی کے نتیجے میں آگ لگ گئی، کم از کم 200 افراد جل کر ہلاک اور400سے زائد شدید زخمی ہو گئے٭2002ءبرطانیہ میں نیو ایئر نائٹ کی آتش بازی نے 1362 افراد کو متأثر کیا ، متعدد لوگ اپنے اعضا سے محروم ہوئے، چالیس گھروں کو آگ لگی، 500 گاڑیاں تباہ، 4825 جانور جل کر مرگئے ٭2004ء پیراگوئے میں آتش بازی کے سبب 400افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے٭ نیدرلینڈ کے ایک شہر میں آتش بازی کی فیکٹری میں 900 کلو دھماکے دار مواد پھٹنے سے 23 افراد ہلاک جبکہ 947 زخمی ہوگئے۔دھماکے سے 100 ایکڑ اراضی تک بڑی تباہی ہوئی، 15 گلیوں پر مشتمل 1500 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، جبکہ 400 گھر مکمل تباہ ہوگئے ۔ تباہی کے سبب 1250 افراد بے گھر ہو گئے۔ نقصان کا تخمینہ(اندازہ) 454 ملین یورو ، یعنی 50 کروڑ 94 لاکھ 56 ہزار ڈالرز لگایا گیا ہے۔
آتش بازی کا شرعی حکم
امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ”آتش بازی جس طرح شادیوں اور شبِ براءت میں رائج ہے بیشک حرام اور پورا جُرم ہے کہ اس میں تضییعِ مال(مال کو ضائع کرنا) ہے، قرآنِ مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا: قال اللہ تعالٰی﴿وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)﴾(پ15،بنی اسراءیل:26-27)
(ترجمۂ کنزالایمان: اور فضول نہ اڑا، بیشک اُڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے ) شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے)(فتاوی رضویہ،ج23، ص279)
آتش بازی کاموجِدکون؟
آتش بازی کے متعلق مشہور یہ ہے کہ نمرود بادشاہ نے ایجاد کی جبکہ اُس نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہوگئی تو اسکے آدمیوں نے آگ کے اناربھر کر اُن میں آگ لگا کر حضر ت خلیلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام کی طر ف پھینکے۔(اسلامی زندگی، ص77)
اِس لئے خودبھی اس سے بچئے اوراپنے بچوں کوبھی بچائیے۔ میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے کہ خدارااپنے حال پر رحم فرمائیے، دنیا وآخرت کے نقصانات سے بچنے کے لئے اپنے اندرتبدیلی لائیے۔آنے والی شبِ براءَت کے مبارک لمحات کو پٹاخوں اور آتش بازی میں برباد کرنے کے بجائے عبادت میں گزارئیےاوردن کا روزہ بھی رکھئے۔ اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطافرمائے ۔امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
❤1
فیضان ماہ شعبان المعظم ❽
https://t.me/islaamic_Knowledge/26783
شبِ براءت اور آتش بازی
Shab E Barat Aur Atish Bazi
https://t.me/islaamic_Knowledge/26783
شبِ براءت اور آتش بازی
Shab E Barat Aur Atish Bazi
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 #فیضان_شعبان_المعظم ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عالم اسلام کو ماہ شعبان مبارک ہو!
پیارے آقا کا مہینہ مبارک ہو 💐🌹
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب
पाँच महीनों का चाँद देखना वाजिब
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب
کفایہ ہے :- ❶ شعبان ❷ رمضان
❸ شوال ❹ ذیقعدہ ❺ ذی الحجہ
بہار شریعت جلد¹ حصہ⁵ ص: ⁹⁷⁴
شعبان المکرم کی تاریخی حیثیت
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
عالم اسلام کو ماہ شعبان مبارک ہو!
پیارے آقا کا مہینہ مبارک ہو 💐🌹
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب
पाँच महीनों का चाँद देखना वाजिब
پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب
کفایہ ہے :- ❶ شعبان ❷ رمضان
❸ شوال ❹ ذیقعدہ ❺ ذی الحجہ
بہار شریعت جلد¹ حصہ⁵ ص: ⁹⁷⁴
شعبان المکرم کی تاریخی حیثیت
❤1
🌹 #فیضان_شعبان_المعظم ❷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
درود پاک اور روزوں کی کثرت
رمضان کے روزے شعبان میں...
آقا کا مہینہ شعبان المعظم ...
Mahe Shaban Mubarak Ho
Aaqa Ka Maheena Shaban
شعبان میرا مہینہ ہے 🌹
آقا کا مہینہ شعبان المعظم
شعبان میرا اور رمضان اللہ کا
آیت درود کا نزول شعبان میں
تلاوت قرآن کرنے والوں کا مہینہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
درود پاک اور روزوں کی کثرت
رمضان کے روزے شعبان میں...
آقا کا مہینہ شعبان المعظم ...
Mahe Shaban Mubarak Ho
Aaqa Ka Maheena Shaban
شعبان میرا مہینہ ہے 🌹
آقا کا مہینہ شعبان المعظم
شعبان میرا اور رمضان اللہ کا
آیت درود کا نزول شعبان میں
تلاوت قرآن کرنے والوں کا مہینہ
❤1