🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ پنجم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147075942769748&id=100024020582996
شب برأت کی اہمیت و فضیلت احادیث کی روشنی میں : ماہ شعبان کی پندرہویں رات کوشب برأت کہاجاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے اورقطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کوشب برأت کہتے ہیں‘ اس رات کو لیلتہ المبارکہ یعنی برکتوں والی رات لیلتہ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلتہ الرحمة رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہاجاتا ہے ۔

جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یساررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں’’لیلتہ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے افضل کوئی رات نہیں‘‘ ۔ (لطائف المعارف صفحہ 145)

جس طرح مسلمانوں کےلیے زمین میں دوعیدیں ہیں اسی طرح فرشتوں کے لئے آسمان میں دوعیدیں ہیں ایک شب برأت اوردوسری شب قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اورعیدالاضحی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات کواس لئے ہیں کہ وہ رات کوسوتے نہیں جب کہ آدمی سوتے ہیں اس لئے ان کی عیدیں دن کو ہیں ۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ 449)

تقسیم امور کی رات

ارشادباری تعالیٰ ہوا’’قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتاراہے‘ بے شک ہم ڈرسنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیاجاتا ہے ہرحکمت والا کام ۔ (سورہ الدخان: 2-4)

’’اس رات سے مرادشب قدر ہے یا شب برأت‘‘ ۔ (خزائن العرفان)

ان آیات کی تفسیر میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ’’لیلة مبارکہ‘‘ سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے۔اس رات میں زندہ رہنے والے ‘فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشی نہیں ہوتی۔ اس روایت کوابن جریر‘ابن منذر اورابن ابی حاتم نے بھی لکھا ہے‘اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ نمبر 194،چشتی)

علامہ قرطبی مالکی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوح محفوظ سے نقل کرنے کاآغاز شب برأت سے ہوتا ہے اوراختتام لیلتہ القدر میں ہوتاہے ۔ (الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 128)

یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر ان شب میں ان کے لکھے جانے کا کیامطلب ہے ؟
جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ میں تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کر کے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہوکہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ فرمائیے ۔ ارشادہوا آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اورجتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اوراس رات میں لوگوں کے(سال بھرکے)اعمال اٹھائے جاتے ہیں اوراس میں لوگوں کامقررہ رزق اتاراجاتاہے ۔ (مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ ملک الموت کوایک فہرست دے کر حکم فرماتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں ان کی روحوں کو آئندہ سال مقررہ وقتوں پر قبض کرنا ‘ تواس شب میں لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ کوئی باغوں میں درخت لگانے کی فکر میں ہوتا ہے کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے‘ کوئی کوٹھی بنگلہ بنوا رہا ہوتا ہے حالانکہ ان کے نام مردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہوتے ہیں ۔ (مصنف عبدالرزاق‘جلد 4 صفحہ 317،چشتی)(ماثبت من السنہ صفحہ193)

حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کانام مردوں کی فہرست میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔(الجامع لاحکام القرآن جلد 16 صفحہ 126،چشتی)(شعب الایمان بیہقی جلد 3 صفحہ 386)

چونکہ یہ رات گزشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے واالی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میںعبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کاباعث ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے ۔

شب برأت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے بے شمار لوگوں کی بخشش فرمادیتا ہے اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔ :
1
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کواپنے پاس نہ پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کارسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے میں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گرہوتا ہے اور قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (ترمذی جلد 1 صفحہ 156،چشتی)(سنن ابن ماجہ صفحہ 100)(مسند احمد جلد 6 صفحہ 238)(مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 1 صفحہ 237)(شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 379)
شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پاک اتنی زیادہ اسناد سے مروی ہے کہ درجہ صحت کوپہنچ گئی ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ’’شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور اس شب میں ہرکسی کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور بغض رکھنے والے کے ۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 380،چشتی)

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں اپنے رحم وکرم سے تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔
سنن ابن ماجہ صفحہ 101)(شعب الایمان جلد 3 صفحہ 382)(مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277)
حضرت ابوہریرہ ‘حضرت معاذ بن جبل‘ حضرت ابوثعلبة اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی ایسا ہی مضمون مروی ہے ۔ (مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 65)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا’’شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دو اشخاص کے سوا سب مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ایک کینہ پرور اوردوسرا کسی کوناحق قتل کرنے والا ۔ (مسند احمد جلد 2 صفحہ 176)(مشکوۃ جلد1صفحہ278)

امام بیہقی نے شعب الایمان جلد نمبر3صفحہ 384 میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ان لوگوں کابھی ذکر ہے: رشتے ناتے توڑنے والا ، بطور تکبر ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا ‘ ماں باپ کانافرمان ‘ شراب نوشی کرنے والے ۔

غنیتہ الطالبین صفحہ 449 پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میںان لوگوں کابھی ذکر ہے جادوگر‘کاہن ‘سودخور اوربدلہ کار‘یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی‘ پس ایسے لوگوں کوچاہئے کہ اپنے اپنے گناہوں سے جلد ازجلد سچی توبہ کرلیں تاکہ یہ بھی شب برأت کی رحمتوں اوربخشش ومغفرت کے حق دارہوجائیں ۔

ارشادباری تعالیٰ ہوا : اے ایمان والو ! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے ۔ (التحریم 8)

یعنی توبہ ایسی ہونی چاہئے جس کااثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اوراس کی زندگی گناہوں سے پاک اورعبادتوں سے معمور ہو جائے ‘ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم توبتہ النصوح کسے کہتے ہیں ارشاد ہوا بندہ اپنے گناہ پر سخت نادم اور شرمسار ہو ‘ پھر بارگاہ الہٰی میں گڑ گڑا کر مغفرت مانگے اور گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کرے تو جس طرح دودھ دوبارہ تھنوں میں داخل نہیں ہوسکتا اسی طرح اس بندے سے یہ گناہ کبھی سرزدنہ ہوگا ۔

رحمت کی رات

شب برأت فرشتوں کو بعض امور دیے جانے اورمسلمانوں کی مغفرت کی رات ہے اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ رب کریم کی رحمتوں کے نزول کی اور دعاٶں کے قبول ہونے کی رات ہے ۔

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کاارشاد ہے‘جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کے گناہ بخش دوں‘ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتاہے۔وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔سوائے بدکارعورت اورمشرک کے ۔ (شعب الایمان للبیہقی‘ جلد 3صفحہ383)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ‘ہے کوئی مغفرت کاطلب کرنے والاکہ میں اسے بخش دوں‘ ہے کوئی رزاق مانگنے والاکہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ
1
میں اسے مصیبت سے نجات دوں‘یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتارہتاہے ۔ (سنن ابن ماجہ صفحہ 100،چشتی)(شعب الایمان للبیہقی جلد 3 صفحہ 378)(مشکوۃ جلد 1صفحہ 278)

یہ ندا ہر رات میں ہوتی ہے لیکن رات کے آخری حصے میں جیسا کہ اس سے پہلے حدیث پاک تحریرکی گئی شب برأت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یہ ندا غروب آفتاب ہی سے شروع ہو جاتی ہے گویا صالحین اور شب بیدار مومنوں کےلیے تو ہر رات شب برأت ہے مگریہ رات خطا کاروں کےلیے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں اور رب کریم سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں‘ اس شب رحمت خداوند ہر پیاسے کو سیراب کر دینا چاہتی ہے اور ہر منگتے کی جھولی گوہر مراد سے بھر دینے پر مائل ہوتی ہے‘ بقول اقبال‘ رحمت الہٰی یہ ندا کرتی ہے ۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسی راہرو منزل ہی نہیں

شب برأت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود بھی شب بیداری کی اور دوسروں کوبھی شب بیداری کی تلقین فرمائی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان عالیشان اوپر مذکور ہوا کہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو شب بیداری کرو اور دن کو روزہ رکھو ‘ اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علماءِ اہلسنّت اور عوام اہلسنّت کا ہمیشہ یہ معمول رہا ہے کہ اس رات میں شب بیداری کااہتمام کرتے چلے آئے ہیں ۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلاً حضرت خالدبن معدان‘حضرت مکحول‘حضرت لقمان بن عامر اورحضرت اسحٰق بن راہویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہوکر شعبان کی پندرہویں شب میں شب بیداری کرتے تھے اوررات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ 202،چشتی)(لطائف المعارف صفحہ 144)

علامہ ابن الحاج مالکی رحمة اللہ علیہ شب برأت کے متعلق رقمطراز ہیں’’ اور کوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت والی ہے‘ ہمارے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کی بہت تعظیم کرتے اوراس کے آنے سے قبل اس کےلیے تیاری کرتے تھے ۔ پھرجب یہ رات آتی تو وہ خوش و جذبہ سے اس کا استقبال کرتے اور مستعدی کے ساتھ اس رات میں عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہمارے اسلاف شعائر اللہ کا بہت احترام کیا کرتے تھے ۔ (المدخل جلد 1 صفحہ 392)

مذکورہ بالاحوالوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مقدس رات میں مسجد میں جمع ہو کر عبادات میں مشغول رہنا اور اس رات شب بیداری کا اہتمام کرنا تابعین کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ رہا ہے ‘ شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں اب جوشخص شعبان کی پندرہویں رات میں شب بیداری کرے تویہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے ‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کایہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شب برأت میں آپ مسلمانوں کی دعائے مغفرت کےلیے قبرستان تشریف لے گئے تھے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ205)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیارت قبورکی ایک بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس سے موت یاد آتی ہے اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے ۔ شب برأت میں زیارت قبور کا واضح مقصد یہی ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کویاد رکھیں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو ‘ یہی شب بیداری کا اصل مقصد ہے ۔

اس سلسلے میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان افروز واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں منقول ہے کہ جب آپ شب برأت میں گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کاچہرہ یوں دکھائی دیتا تھا جس طرح کسی کو قبر میں دفن کرنے کے بعد باہر نکالا گیا ہو ۔ آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم میری مثال ایسی ہے جیسے کسی کی کشتی سمندر میں ٹوٹ چکی ہو اور وہ ڈوب رہا ہو اور بچنے کی کوئی امید نہ ہو ‘ پوچھا گیا آپ کی ایسی حالت کیوں ہے ؟ فرمایا میرے گناہ یقینی ہیں‘ لیکن اپنی نیکیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے قبول کی جائیں گی یا پھر رد کر دی جائیں گی ۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ 250،چشتی)

اللہ اکبر نیک و متقی لوگوں کایہ حال ہے جو ہر رات شب بیداری کرتے ہیں اور تمام دن اطاعت الہٰی میں گزارتے ہیں جب کہ اس کے بر عکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اس مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت و دعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو و لعب میں مبتلا ہو جاتی ہیں آتش بازی پٹاخے اور دیگر ناجائز امور میں مبتلا ہو کر وہ اس مبارک رات کا تقدس پامال کرتے ہیں‘ حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کیلئے خطرہ ہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کےلیے بھی خطرے کا باعث بنتے ہیں ‘ ایسے لوگ ’’ مال برباد اور گناہ لازم ‘‘ کا مصداق ہیں ۔
1
ہمیں چاہیے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور بچوں کو سمجھائیں کہ ایسے لغو کاموں سے اللہ تعالیٰ اور ا س کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوتے ہیں‘ مجدد برحق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ‘ آتشبازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے ‘ بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے ‘ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا ‘ ارشا ہوا ’’ اور فضول نہ اڑابے شک (مال) اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ ۔ (سورہ بنی اسرائیل)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441،چشتی)
ایک اور روایت میں فرمایا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ‘‘ ۔ (بخاری مسلم ‘ مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441)
آپ ہی سے مروی ہے کہ سرکاردعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ188)

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’ جن لوگوں کی روحیں قبض کرنی ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہ شعبان میں ملک الموت کودی جاتی ہے اس لیے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرا نام اس وقت فہرست میں لکھا جائے جب کہ میں روزے کی حالت میں ہوں ‘‘ یہ حدیث پہلے مذکور ہوچکی ہے کہ مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کو تیار کی جاتی ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دار لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوقت کتابت (شب) اللہ تعالیٰ روزہ کی برکت کو جاری رکھتا ہے ۔ (ماثبت من السنہ صفحہ192) ۔

(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147075942769748&id=100024020582996
1
فیضان ماہ شعبان المعظم ❺
https://t.me/islaamic_Knowledge/26763
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ پنجم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147075942769748&id=100024020582996
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ ششم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147237359420273&id=100024020582996
شبِ برات کی اہمیت و فضیلت اور احادیث کو ضعیف کہنے والوں کو جواب : شب برات کے متعلق دس (10) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ہیں ۔ اللہ رب العزت نے بعض دنوں کو عام دنوں پرفضیلت دی ہے ، یومِ جمعہ کو ہفتہ کے تمام ایام پر ، ماہ رمضان کو تمام مہینوں پر ، قبولیت کی ساعت کو تمام ساعتوں پر ، لیلۃ القدر کو تمام راتوں پر ۔

احادیثِ مبارکہ سے اس بابرکت رات کی جو فضیلت و خصوصیت ثابت ہے اس سے مسلمانوں کے اندر اس رات اتباع و اطاعت اور کثرتِ عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرنے کی ترغیب ملتی ہے ۔

احادیث مبارکہ میں ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ یعنی شعبان کی 15ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے ، اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کردیتا ہے ۔

جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس کی فضیلت میں روایت موجود ہیں لہٰذا اس رات کی فضیلت و اہمیت کو رد نہیں کیا جاسکتا ان میں سے چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں :

شب برات میں تمام لوگوں کی بخشش مگر کچھ لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی

پندرہ شعبان کی رات یعنی شبِ برات کو اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔ (سِلسِلہ الاحادیث صحیحہ صفحہ نمبر 135 محدث الوہابیہ شیخ ناصر البانی لکھتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے)

مکمل حدیث پاک یہ ہے : عَنْ اَبِیْ مُوسیٰ الاشْعَرِیِّ عَنْ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اِنَّ اللّٰہَ لَیَطَّلِعُ فی لَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِہ اِلاَّ لِمُشْرِکٍ او مُشَاحِنٍ ۔ (سنن ابن ماجہ ص۹۹)(شعب الایمان للبیہقی ۳/۳۸۲)
ترجمہ : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نظر فرماتا ہے نصف شعبان کی رات میں ، پس اپنی تمام مخلوق کی مغفرت فرمادیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے ۔

”مشاحن“ کی ایک تفسیر اس شخص سے بھی کی گئی ہے جو مسلمانوں کی جماعت سے الگ راہ اپنائے ۔ (مسند اسحاق بن راہویہ ۳/۹۸۱، حاشیہ ابن ماجہ ص۹۹) حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کی روایت میں ”زانیہ“ بھی آیا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت میں ”رشتہ داری توڑنے والا، ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکانے والا ، ماں باپ کا نافرمان اور شراب کا عادی“ بھی آیا ہے اور بعض روایات میں عشّار، ساحر، کاہن، عرّاف اور طبلہ بجانے والا بھی آیا ہے ۔ گویا احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ عام مغفرت کی اس مبارک رات میں چودہ (14) قسم کے آدمیوں کی مغفرت نہیں ہوتی ؛ لہٰذا ان لوگوں کو اپنے احوال کی اصلاح کرنی چاہیے : (1) مشرک، کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو (2) بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی سے کینہ اور دشمنی رکھنے والا (3) اہل حق کی جماعت سے الگ رہنے والا (4) زانی وزانیہ (5) رشتے داری توڑنے والا (6) ٹخنوں سے نیچے اپنا کپڑا لٹکانے والا (7) ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا (8) شراب یا کسی دوسری چیز کے ذریعے نشہ کرنے والا (9) اپنا یا کسی دوسرے کا قاتل (10) جبراً ٹیکس وصول کرنے والا (11) جادوگر (12) ہاتھوں کے نشانات وغیرہ دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے والا (13) ستاروں کو دیکھ کر یا فال کے ذریعے خبر دینے والا (14) طبلہ اور باجا بجانے والا ۔ (شعب الایمان ۳/۳۸۲، ۳۸۳)(الترغیب والترہیب ۲/۷۳،چشتی)(مظاہر حق جدیث ۲/۲۲۱، ۲۲۲)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تلاش میں میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کیا تمھیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تمھارے ساتھ زیادتی کریں گے میں عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بال سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ (ترمذی جلد صفحہ 156)(ابن ماجہ صفحہ 100،چشتی)(مسند احمد جلد 6 صفحہ 238)(مشکو جلد صفحہ 277)(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 1 صفحہ 237)(شعب الایمان للبقیہی جلد 3 صفحہ 379)
1
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ماہ رمضان کے علاوہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روز رکھتے نہیں دیکھا ۔ (بخاری مسلم مشکوۃ جلد 1 صفحہ 441) ۔ ایک اور روایت میں فرمایا ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چند دن چھوڑ کر پورے ماہ شعبان کے روزے رکھتے تھے ۔
آپ ہی مروی ہے کہ سرکار عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے ۔ (ماثبت من السنہ ، صفحہ 188)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا’’ کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے ؟‘‘ میں نےعرض کی کی یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آپ فرمایئے ۔ ارشاد ہوا کہ ’’آئندہ سال میں جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کے (سال بھر کے) اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کو مقررہ رزق اتاراجاتا ہے ۔ (مشکوۃ جلد 1 صفحہ 277

ایک روایت کے مطابق حضرت مولا علی کرم ﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا، ’’جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس کی رات کو قیام کیا کرو اور اس کے دن روزہ رکھا کرو، بے شک ﷲ تعالیٰ اس رات اپنے حسبِ حال غروب آفتاب کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ۔ (ابن ماجه، السنن، 1: 444، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی ليلة النصف من شعبان، رقم: 1388،چشتی)

محترم قارئینِ کرام : اس شب میں نفلی عبادت جس قدر ہوسکے وہ اس رات میں انجام دی جائے، نفل نمازیں پڑھیں قرآن کریم تلاوت کریں ، تسبیح کریں دعائیں کریں یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں ۔

جب کہ اس کے برعکس بعض لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اسی مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت ودعا میں مشغول ہونے کے بجائے مزید لہو ولعب میں مبتلا ہوجاتے ہیں آتش بازی اور پٹاخے اور دیگر نا جائز امور میں مبتلا ہوکر وہ اس مبارک رات کا تقدس پامال کرتے ہیں ، حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کا خطرہ ہیں بلکہ اردگرد کے لوگوں کی جان کی بازی کیلئے بھی خطرے کا باعث بنتا ہے ، ایسے لوگ ’‘مال برباد گناہ لازم ‘ کا مصداق ہیں ۔ ہمیں چاہیئے کہ ایسے گناہ سے خود بھی بچیں اور دوسروں کا بھی بچائیں ، حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، آتشبازی بے شک حرام ہے اس میں مال کا ضیاع ہے ۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا ہے ارشاد ہوا ’’اور فضول نہ اڑا بے شک مال اڑانے والے شیطان کے بھائی ہیں’’ (بنی اسرائیل) (فتاویٰ رضویہ) ۔ ان احادیث سے جس طرح اس مبارک رات کے بیش بہا فضائل و برکات معلوم ہوئے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کےلیے اس رات کی بے پناہ فضیلت ہے ، اس رات مسلمانوں کو چاہیئے اپنے گناہوں سے توبہ استغفار کے لئے اللہ عزّ و جل کے حضور سر بسجود ہوں اور دعائیں کریں ۔

شب برات کی احادیث کو ضعیف کہنے والوں کو جواب

محترم قارئینِ کرام : ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ لوگ ضعیف حدیث کو من گھڑت کے معنی میں لیتے ہیں اور اسکو حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ جملے بھی کانوں میں پڑتے رہتے ہیں کہ بھائی فلاں مسئلہ میں تمام احادیث ضعیف ہیں ا س لیے چھوڑو اس پر عمل کرنا، افسوس ہوتا ہے لوگ بغیر علم کے احادیث پر تبصرہ ایسے کرجاتے ہیں جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں کسی راہ چلتے کی بات ہے یا اخبار میں چھپی کسی کی بات ہے ۔

ضروری وضاحت ضعیف نا کہ من گھڑت

پہلی بات یہ کہ ضعیف حدیث بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے یہ لازمی من گھڑت نہیں ہوتی بلکہ راوی میں کچھ کمیوں ، کمزوریوں کی وجہ سے اسکو ضعیف کہا جاتا ہے ، یہ بحرحال ممکن ہوتا ہے کہ اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو اس لیے اسکو بالکل چھوڑا نہیں جاتا بلکہ فضائل کے باب میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ علماء نے اس لفظ 'ضعیف' کی مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں مثلا یہ وہ حدیث کہلاتی ہے جومنکر اور باطل نہ ہو اور اس کےراوی متہم بالکذب نہ ہو، اس حدیث کے خلاف کوئی صحیح حدیث نہ ہو ۔ ایسی حدیث جس میں حدیث صحیح وحسن کی شرائط نہ پائی جائیں، اس میں ایسے اسباب ہوں جو کسی حدیث کوضعیف قرار دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں، اس کے راوی غیرعادل یامتہم بالکذب، یامستورالحال ہوں ، یہ متعدد طرق سے مروی بھی نہ ہو ۔ (اعلاء السنن ، احکام القرآن للجصاص)

کیا اس حدیث کا ضعف ختم ہوسکتا ہے ؟
1
اگرحدیث ضعیف کئی سندوں سے مروی ہو اور ضعف کی بنیاد راوی کا فسق یا کذب نہ ہو تواس کی وجہ سے وہ ضعف سے نکل جاتی ہے اور اسے قوی ومعتبر اور لائق عمل قرار دیا جاتا ہے، محدثین کی اصطلاح میں اس کو "حسن لغیرہ" کہتے ہیں، حافظ بن حجر رحمہ اللہ کی تفصیل کے مطابق یہ حدیث مقبول ومعتبر کی چار اقسام میں سے ایک ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ حسن لغیرہ بھی اصل میں ضعیف ہی ہے؛ مگرکسی قوت پہنچانے والے امر کی وجہ سے اس میں حسن پیدا ہو جاتاہے ۔ (فتح المغیث:۳۵/۳۶)
اسی طرح اگر حدیث نص قرآنی ہویاقولِ صحابی ہو یاشریعت کےکسی قاعدہ وضابطہ کے مطابق ہو تو اسکا ضعف نکل جاتا ہے ۔ (نزھۃ النظر صفحہ نمبر ۲۹،چشتی)

ضعیف حدیث کی اقسام

ضعیف روایات کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر ایک کے ضعف میں راویوں کی کمزوری کی شدت یا کمی کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے ۔ مشہور قسمیں ضعیف، متوسط ضعیف، شدید ضعیف اور موضوع ہیں۔ موضوع یعنی گھڑی ہوئی حدیث۔ یہ ضعیف حدیث کا کم ترین درجہ ہے ۔

ضعیف حدیث پر عمل

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے حدیثِ ضعیف پر عمل کرنے کی تین شرطیں بیان کی ہیں ۔ ایک یہ کہ حدیث شدید ضعیف نہ ہو مطلب اسکا راوی جھوٹا اور دروغ گوئی میں مشہور نہ ہو اور نہ فحش غلطیوں کا مرتکب ہو۔ دوسری اس پر عمل کرنا اسلام کے ثابت اور مقرر ومعروف قواعد کے خلاف نہ ہو ۔ تیسری یہ کہ عمل کرتے ہوئے اسے صحیح حدیث کی طرح قبول نہ کیا جائے بلکہ اس بناء پر عمل کیا جائے کہ ممکن ہے کہ حقیقت میں اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہو ۔ (اعلاء السنن:۱/۵۸)

جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ عقائد کے ثبوت کے لیے مشہور یامتواتر حدیث ضروری ہے ، حدیث ضعیف اور خبرواحد اثبات عقائد کےلیے کافی نہیں ہے ، ضعیف حدیث اور فضائل کے متعلق لکھتے ہوئے علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد مذاہب کو نقل کیا ہے، جن میں سے ایک امام مسلم اور دیگرمحدثین علیہم الرّحمہ اور ابنِ حزم کا ہے کہ ضعیف حدیث کسی بھی باب میں حجت نہیں بن سکتی ، چاہے وہ فضائل کا باب ہی کیوں نہ ہو ۔ (نووی علی مسلم :۱/۶۰،چشتی)

دوسرا مذہب جس کو علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کا مذہب کہہ کر بیان کیاہے اور حافظ ابنِ حجر مکی اور ملا علی قاری نے بھی جسے جمہور کا اجماعی مسلک قرار دیا ہے کہ فضائل کے باب میں حدیث ضعیف پر عمل کرنا جائز ہے ۔ (الفتاویٰ الحدیثیہ :۱۱۰)

آئمہ حدیث میں عبداللہ بن مبارک ، عبدالرحمن بن مہدی ، امام احمد وغیرہ سے بھی یہی نقل کیا گیا ہے ۔ (اصول امام احمد بن حنبل:۲۷۴)

شیخ تقی الدین تحریر فرماتے ہیں کہ یہ گنجائش اس لیے ہے کہ اگرایسی حدیث نفس الامر اور واقع میں صحیح ہے تواس پر عمل کرنا اس کا حق تھا اور اگرواقع میں صحیح نہ تھی توبھی فضائل کے باب میں اس پر عمل کرنے کی وجہ سے دین میں کوئی فساد لازم نہیں آئےگا، اس لیے کہ یہ صورت تحلیل وتحریم اور کسی کے حق سے متعلق نہیں ہے اور پھریہ جواز مطلق نہیں ہے؛ بلکہ ماقبل میں ذکرکردہ شرائط کے ساتھ ہے ۔ (شرح الکوکب المنیر:۲/۵۷۱)

ضعیف احادیث اور اقوال صحابہ

امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ و امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ضعیف حدیث کے بالمقابل فتاویٰ اور اقوالِ صحابہ کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین درس رسالت کے چراغ ہیں ، ان کا ہرقول وعمل سنت کے مطابق ہوا کرتا تھا ، ان کے کلام سے کلام رسالت کی بومہکتی ہے اور انھوں نے دین کوپہلو رسالت میں رہ کر جتنا سمجھا اور سیکھا ہے دوسرا ان کی خاک تک بھی نہیں پہنچ سکتا، ان کے اقوال وافعال میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے اورحدیث ضعیف کی صحت وعدم صحت مشتبہ ہے ؛ لہٰذا صحابہ کرام کے فتاویٰ واقوال کو ضعیف حدیث پر ترجیح دی گئی ۔

شب برات کے متعلق ضعیف احادیث

مشہور دیوبندی عالم جناب مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے شب برات کی احادیث کے متعلق لکھا کہ : " شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماء نے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے ، لیکن حضرات محدثین اور فقہاء کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہو جائے تو اس کی کمزوری دور ہوجاتی ہے ، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے ۔ امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور ، تبع تابعین رضی اللہ عنہم کا دور ، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ،
1
لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اس کو بدعت کہنا، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے ، اس رات میں عبادت کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے اور اس کی خصوصی اہمیت ہے ۔ اس پیرہ گراف سے تین باتیں واضح ہورہی ہیں ۔
1 : شب برات کے متعلق احادیث ضعیف لیکن کئی سندوں سے مروی ہیں ایسی حدیث کے متعلق اوپر بیان کیا جاچکا ۔
2 : یہ احادیث نا عقائد کے باب میں استعمال ہورہی ہیں اور نا شریعت کے کسی حکم کے خلاف ہیں ۔
3 : اس رات کی فضیلت کے متعلق نہ صرف اقوال صحابہ بلکہ اعمال صحابہ بھی موجود ہیں ۔ ایسی احادیث کا انکار کرنا یا ان سے ثابت فضیلت کا انکار کرنا دونوں باتیں زیادتی ہی ہے ۔ (رسالہ شبِ براء ت کی حقیقت از مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی) ۔

(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147237359420273&id=100024020582996
1
فیضان ماہ شعبان المعظم ❻
https://t.me/islaamic_Knowledge/26769
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ ششم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147237359420273&id=100024020582996
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ ہفتم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147328309411178&id=100024020582996
فضائل شب برات اور احادیث شب برات پر اعتراض کا تحقیقی جواب : شب برات کو احادیث مبارکہ میں ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ یعنی شعبان کی 15 ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے ۔ اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کر دیتا ہے ۔

نزاعی مسئلہ میں قرآن و سنت کی طرف رجوع کا حکم

شریعتِ اسلامیہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ دین کے جس معاملے میں بھی تنازع ہو جائے تو اُسے کتاب اللہ عز و جلّ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹایا جائیں پھر اگر دونوں کا یا کسی ایک کا اس مسئلہ کے جواز میں حکم ثابت ہو جائے تو شرعی طور پر اس کی اتباع کرنا واجب ہے اور مخالف ہونے کی صورت میں چھوڑنا ضروری ہے ۔

(1) اللہ رب العزت نے قرآن میں متعدد مقامات پر اس کو صراحت سے بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً ۔ (القرآن، النساء، 4 : 59)
ترجمہ : اے ایمان والو ! ﷲ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ امر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے(حتمی فیصلہ کےلیے) ﷲ اور رسول کی طرف لوٹا دو اگر تم ﷲ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے ۔

(2) اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا ۔ (القرآن، النساء، 4 : 65)
ترجمہ : پس (اے حبیب ﷺ) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنا لیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ۔

(3) اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کو ایک مقام پر یوں بیان فرمایا : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ.(القرآن، الانفال، 8 : 20)
ترجمہ : اے ایمان والو! تم ﷲ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے رو گردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو ۔

(4) ایک جگہ اطاعت خدا اور رسول کو یوں بیان کیا گیا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ۔ (القرآن، محمد، 47 : 33)
ترجمہ : اے ایمان والو ! ﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال (اپنی نادانی یا نافرمانی) سے ضائع نہ کرو ۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر بکثرت آیات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نزاعی اور اختلافی مسائل صرف انہی دو بارگاہوں سے حل ہو سکتے ہیں اور بندوں کی دنیاوی اور اخروی بھلائی صرف انہی سے وابستہ ہیں ۔ لہٰذا شب برات کی شرعی حیثیت جاننے کےلیے ہم انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس حوالے سے مروی احادیث مبارکہ کی حجیت اور ثقاہت کا جائزہ لیتے ہیں ۔

شب برات کی فضیلت اور اس میں اہتمامِ عبادت پر احادیثِ مبارکہ کا تحقیقی مطالعہ

امت مسلمہ کے جمیع مکاتبِ فکر کے فقہاء و علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو مسئلہ بھی قرآن و سنت دونوں یا صرف قرآن یا سنت سے ثابت ہو جائے اس پر عمل واجب ہوتا ہے۔ وہ احادیث جو اس رات کی فضیلت کو اجاگر کرتی ہیں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں ان میں حضرات سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، معاذ بن جبل، ابوہریرہ، ابو ثعلبہ الخشنی، عوف بن مالک، ابو موسیٰ اشعری اور عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم کے نام شامل ہیں۔ سلف صالحین اور اکابر علماء کے احوال سے پتہ چلتا ہے کہ اس رات کو عبادت کرنا ان کے معمولات میں سے تھا۔ لیکن بعض لوگ اس رات عبادت، ذکر اور وعظ و نصیحت پر مشتمل محافل منعقد کرنے کو بدعت ضلالۃ کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے جو سراسر احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ذیل میں شب برات کی فضیلت اور اس میں اہتمام عبادت کا احادیث مبارکہ کی روشنی میں جائزہ لیا جاتا ہے، اس کے ساتھ اِن احادیث مبارکہ کی اسانید کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کی ثقاہت بھی واضح کی جائے گی اِن شاء اللہ ۔
1
(1) سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حدثنا عمرو بن مالک ، قال : حدثنا عبد ﷲ بن وهب ، قال : حدثنا عمرو بن الحارث، قال : حدثني عبد الملک بن عبد الملک، عن مصعب بن أبی ذئب، عن القاسم بن محمد، عن أبيه أو عمه، عن أبی بکر رضی الله عنه قال: قال رسول ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ ﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ مُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ لِأَخِيْهِ ۔
ترجمہ : جب ماہِ شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو ﷲ تبارک وتعالی آسمانِ دنیا پر (اپنے حسب حال) نزول فرماتا ہے پس وہ مشرک اور اپنے بھائی سے عداوت رکھنے والے کے سوا اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے ۔
بزار اپنی المسند، 1: 206، رقم: 80 میں اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : ہم اس حدیث کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی صرف اسی طریق سے جانتے ہیں اور یہ حدیث حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ سے بھی مروی ہے۔ سب سے اعلیٰ اسناد سے حضرت ابو بکر روایت کرتے ہیں اگرچہ اس اِسناد میں کچھ ہو، پس ابوبکر کی جلالت نے اسے حسین بنا دیا ہے ۔ اگرچہ عبد الملک بن عبدالملک معروف راوی نہیں ہے ، مزید فرماتے ہیں : وقد روی هذا الحديث أهل العلم ونقلوه و احتملوه فذکرنا لذالک ۔
ترجمہ : ہلِ علم نے اس حدیث کو روایت کیا ہے، نقل کیا ہے اور اس پر اعتماد کیا ہے لہٰذا ہم نے اس کو ذکر کیا ۔

امام ابوبکر احمد بن عمرو المعروف بزار کی تاریخِ وفات 292ھ ہے ۔ ان کے اس قول سے معلوم ہوا کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت و خصوصیت تسلیم کرنا اور اس کو بیان کرنا اہل علم کا ابتدائی اَدوار سے طریقہ رہا ہے ۔ لہٰذا موجودہ دور میں کوئی شخص بھی اگر شبِ برات کی غیر معمولی فضیلت کا انکار کرتا ہے تو درحقیقت وہ احادیث مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ناواقفیت کی بناء پر ایسا کر رہا ہوتا ہے ۔

ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8 : 65 میں کہا ہے کہ عبدالملک بن عبدالملک کو ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہے اور اس کو ضعیف نہیں کہا (جو اس کے حجت ہونے پر دلالت کرتا ہے) جبکہ اس کے باقی رواۃ ثقہ ہیں ۔

(2) سیدنا علی بن ابی طالب ص سے مروی حدیث ۔ حضرت علی کرم ﷲ وجہہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا کَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا فَإِنَّ ﷲَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًی فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا کَذَا؟ أَلَا کَذَا؟ حَتَّی يَطْلُعَ الْفَجْرُ ۔
ترجمہ : جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس کی رات کو قیام کیا کرو اور اس کے دن روزہ رکھا کرو، بے شک ﷲ تعالیٰ اس رات اپنے حسبِ حال غروب آفتاب کے وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کوئی رزق طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کوئی بیماری میں مبتلا تو نہیں ہے کہ میں اسے عافیت دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں؟ کیا کوئی ویسا نہیں؟ یہاں تک کہ طلوعِ فجر ہو جاتی ہے ۔ (ابن ماجه السنن ، 1: 444، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء فی ليلة النصف من شعبان، رقم: 1388،چشتی) ۔ اس حدیث میں ’’ابن ابی سبرۃ‘‘ کے علاوہ تمام رواۃ ثقہ ہیں ۔

(3) ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے مروی حدیث ۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (بستر مبارک پر) نہ پایا پس میں آپ کی تلاش میں باہر نکلی تو دیکھا کہ آپ آسمان کی طرف اپنا سر اٹھائے ہوئے جنت البقیع میں تشریف فرما ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے ڈر ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کرے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گمان ہوا کہ آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ﷲَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِأَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ کَلْبٍ ۔
ترجمہ : یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ (اپنی شان کے لائق) شعبان کی پندرہویں رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، پس وہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 6 : 238)

حجاج بن اَرطاۃ کو محدّثین نے مدلس کہا ہے لیکن اس سے حدیث لینا جائز قرار دیا ہے۔(معرفة الثقات، 1 : 284، چشتی)
1
سیوطی نے اس کو بعض رواۃ سے احادیث لینے کی بناء پر حافظ شمار کیا ہے۔(طبقات الحفاظ، 1: 88)

یحییٰ بن ابی کثیر کوعجلی اور ابنِ حبان نے ثقہ اور ایوب نے زہری کے بعد اہل مدینہ میں سے حدیث کو سب سے زیادہ جاننے والا یحییٰ کو قرار دیا ہے۔ عروہ بن زبیر سے اس کی سماعت پر اختلاف کیا گیا ہے ۔ یحییٰ بن معین نے اس کی سماعت کو عروہ سے ثابت کیا ہے۔(جامع التحصيل، 1: 299)

اہلِ اصول اور فقہاء کرام نے ایک متفقہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ : المثبت مقدم علی النافی.’’مثبت، منفی پر مقدم ہوتا ہے ۔ (ابن دقيق العيد، شرح عمدة الأحکام، 1: 230،چشتی)(عسقلانی، فتح الباری، 1: 27)

لہٰذا ابنِ معین کے قول پر عمل کرتے ہوئے یحییٰ کی سماعت کو عروہ سے درست کہا جائے گا ۔

اس حدیثِ پاک کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے شبِ برات میں عبادت کرنا اور قبرستان جانا ثابت ہوا ۔

(4) حضرت عبد ﷲ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے مروی حدیث ۔ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ ﷲِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ ﷲِ بْنِ عَمْرٍو رضی الله عنه أَنَّ رَسُولَ ﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: يَطَّلِعُ ﷲُ عَزَّوَجَلَّ إِلَی خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ ۔
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ اپنے بندوں کو معاف کر دیتا ہے سوائے دو لوگوں کے : سخت کینہ رکھنے والا اور قاتل ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 2 : 176، رقم : 63533) ۔ امام منذری نے الترغیب والترھیب، 3 : 308 میں کہا ہے کہ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے لَیِّن (قلیل ضعف) سے روایت کیا ہے ۔

امام ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8 : 65 میں کہا ہے کہ اس روایت میں ابن لہیعۃ ہے جو کہ لین الحدیث ہے ۔

عبداللہ بن لہیعۃ بن عقبہ المصری کو سیوطی نے طبقات الحفاظ، 1 : 107 میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ امام احمد وغیرہ نے اسے ثقہ اور یحییٰ بن سعید القطان وغیرہ نے ضعیف کہا ہے ۔

محدّثینِ کرام اس حدیث کے بقیہ رواۃ کے بارے میں فرماتے ہیں :

(1) حسن بن موسی تابعی ہے۔ یحییٰ بن معین، علی بن مدینی اور ابنِ حبان نے انہیں ثقہ شمار کیا ہے۔(عسقلانی تهذيب التهذيب، 2 : 279)

(2) حیی بن عبد اللہ ثقہ ہے۔(ابن حبان، الثقات، 6: 236)

(3) ابو عبدالرحمن عبداللہ بن یزید الحبلی شامی تابعی ثقہ ہے۔(عجلی، معرفة الثقات، 2: 66)

(5) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ أخبرنا محمد بن المعافی العابد بصيدا وابن قتيبة وغيره قالوا: حدثنا هشام بن خالد الأزرق قال حدثنا أبو خليد عتبة بن حماد عن الأوزاعی وابن ثوبان عن أبيه عن مکحول عن مالک بن يخامر عن معاذ بن جبل عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم قال: يَطَّلِعُ ﷲُ إِلٰی خَلْقِهِ فِی لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إلَّا لِمُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ماہِ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے، پس وہ مشرک اور بغض رکھنے والے کے سوا اپنی تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے ۔ (ابن حبان، الصحيح، 12: 481، رقم: 5665)(طبرانی، المعجم ا لأوسط، 7: 36، رقم: 6776)(طبرانی، المعجم الکبير، 20: 108 رقم: 215) ۔ امام ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں کہا ہے کہ اس روایت کو طبرانی نے المعجم الکبیر اور الاوسط میں روایت کیا ہے اور اِن کے رجال ثقہ ہیں ۔

(1)مالک بن یخامر السکسکی تابعی ثقہ ہے ، انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف، معاذ بن جبل اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے اور ان سے مکحول شامی نے روایت کیا ہے ۔(مزی، تهذيب الکمال، 27: 167)

(2) ابو عبداللہ مکحول شامی ثقہ ہے۔(عسقلانی، تقريب التهذيب، 1: 545) ۔ اس حدیث مبارکہ کی ثقاہت سے پہلی حدیث بھی قوی ہو گئی ہے اور اس کا ضعف ختم ہو گیا ہے ۔

(6) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ ان ہی الفاظ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يَغْفِرُ ﷲُ لعباده إلَّا لِمُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : جب ماہِ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے اوربغض رکھنے والے کے سوا اپنے تمام بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے ۔
1
بزار، المسند، 2: 435۔ 36 4، امام ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں کہا ہے کہ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن کو میں نہیں جانتا، اس کے باقی رُواۃ ثقہ ہیں ۔

(7) حضرت ابو ثعلبہ الخشنی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حدثنا أحمد بن نضر العسکری ثنا محمد بن آدم المصيصی ثنا المحاربي عن الأحوص بن حکيم عن حبيب بن صهيب عن مکحول عن أبي ثعلبة أن النبي صلی الله عليه وآله وسلم قال: يَطْلُعُ ﷲُ عَلٰی عِبَادِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَيُمْهِلُ الْکَافِرِيْنَ، وَيَدَعُ أهْلَ الْحِقْدِ بِحِقْدِهِمْ حَتَّی يَدَعُوْهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر مطلع ہوتا ہے، پس وہ مومنوں کی مغفرت فرماتا ہے اور کافروں کو مہلت دیتا ہے اور وہ اہل حسد کو ان کے حسد میں چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے ترک کر دیں ۔ (طبرانی، المعجم الکبير، 22: 223، رقم: 590)(ابن ابی عاصم، السنة، 1: 223، رقم: 511) ۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں اس کے ایک راوی احوص بن حکیم کو ضعیف کہا ہے ۔ شیخ محمد ناصر الدین البانی (غیر مقلدین کے امام) نے اپنی کتاب ’’ظلال الجنۃ فی تخریج السنۃ لابن ابی عاصم، 1: 223 ‘‘ میں اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے ، اور احوص بن حکیم جو کہ ضعیف الحفظ ہے کہ سوا تمام رواۃ ثقہ ہیں جیسا کہ ’’التقریب‘‘ میں ہے۔ پس اس کی مثل سے استشہاد کیا جائے گا کیونکہ وہ اپنے بعد وغیرہا کے طریق کے سبب قوی ہو جاتا ہے ۔

دار قطنی نے احوص بن حکیم کے بارے میں کہا ہے کہ ’’اس پر اس صورت میں اعتبار کیا جائے گا جب کوئی ثقہ راوی اس سے روایت کرے۔‘‘ اور ابن عدی نے کہا ہے کہ’’اس سے بہت سی روایات مروی ہیں اور وہ ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث لکھی جاتی ہیں اور ثقہ رواۃ کی ایک جماعت نے اس سے حدیث لی ہے اور اس میں کوئی منکر چیز نہیں ہے جس کا وہ رد کرتے مگر یہ کہ وہ ایسی اسانید بیان کریں جن کی اتباع نہیں کی جا سکتی۔(مزی، تهذيب الکمال، 2: 293. 294، چشتی)

(8) حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : يَطْلُعُ ﷲُ عَلَی خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ کُلَّهُمْ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : ماہِ شعبان کی نصف شب (یعنی پندرہویں رات) کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے، پس وہ شرک کرنے والے اور کینہ رکھنے والے کے سوا ہر ایک کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔

(1) بزار، المسند، 7: 186، رقم: 2754، ہیثمی نے مجمع الزوائد، 8: 65 میں کہا ہے کہ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے، احمد بن صالح نے اسے ثقہ اور جمہور ائمہ نے ضعیف کہا ہے اور ابن لہیعۃ کمزور راوی ہے باقی اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

(2) ابنِ شاہین نے تاریخ اسماء الثقات، 1: 147 میں عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا ذکر کیا ہے اور یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ اس سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ اس میں ضعف ہے ۔

(9) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ﷲَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ ۔
ترجمہ : بے شک اللہ رب العزت ماہ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) کو (اپنی مخلوق کی طرف) متوجہ ہوتا ہے، سو وہ مشرک اور کینہ پرور کے سوا اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے ۔(ابن ماجه، کتاب اقامة الصلاة والسنة فيها، باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان، 1 : 445، رقم : 1390، چشتی)

(1) امام ابنِ ماجہ کی بیان کردہ یہ روایت مرفوع منقطع ہے کیونکہ اس میں ضحاک بن عبدالرحمن بلا واسطہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے حدیث نہیں لیتے۔ لیکن یہی حدیث ابن ماجہ نے اور ہبۃ ﷲ بن حسن لالکائی نے شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ، 3 : 447، رقم : 763 میں ذکر کی ہے جس کے مطابق: ابنِ لہیعۃ نے زبیر بن مسلم، انہوں نے ضحاک، انہوں نے اپنے والد عبدالرحمن بن عزرب اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے ۔

(2) مزی نے تہذیب الکمال، 9 : 308، رقم : 1964 میں یہی حدیث ایک بہت اعلیٰ سند سعید بن عفیر سے ابنِ لہیعۃ انہوں نے زبیر بن سلیم کے واسطہ سے بیان کی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے صحیح مرفوع متصل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔
1
(10) حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَإِذَا مُنَادٍ : هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأغْفِرَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأعْطِيَهُ ؟ فَـلَا يَسْألُ أحَدٌ إَلَّا أعْطِيَ إِلَّا زَانِيَةٌ بِفَرْجِهَا أوْ مُشْرِکٌ ۔
ترجمہ : جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو منادی ندا دیتا ہے : کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اسے عطا کروں؟ پس زانیہ اور مشرک کے سوا ہر سوال کرنے والے کو عطا کر دیا جاتا ہے ۔ (بيهقی، شعب ا لإيمان، 3: 383، رقم: 3836، چشتی)

اس بحث کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے

(1) تمام احادیثِ مبارکہ سے شبِ برات کی فضیلت اور خصوصیت اجاگر ہوتی ہے اور اس شک و شبہ کا قلع قمع ہوتا ہے کہ اس باب میں تمام احادیث ضعیف ہیں۔ ہر حدیث کے ضعیف راوی پر سیر حاصل گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوا ہے کہ تمام احادیث ایک دوسرے سے تقویت پا کر حسن کے درجے پر فائز ہیں ۔

(2) سب سے اہم بات یہ ہے کہ شب برات پر احادیث کو روایت کرنے والے صحابہ کرام ث کی سطح تک تعداد حد تواتر تک پہنچتی ہے لہٰذا اتنے صحابہ کا کسی مسئلہ پر احادیث روایت کرنا ان کی حجیت اور قطعیت کو ثابت کرتا ہے ۔

(3) اگر بعض احادیث ضعیف بھی ہوں تو محدّثین کرام نے خود اس بات کی تصریح کی ہے کہ ضعیف احادیث متعدد طرق سے تقویت پا کر حسن کے درجے پر فائز ہوتی ہیں ۔

(4) تیسرا اہم قاعدہ محدّثین نے اپنی کتابوں میں یہ درج کیا کہ فضائل میں بالاتفاق ضعیف روایات بھی قابل قبول ہو جاتی ہیں، جبکہ شب برات پر احادیثِ حسنہ مروی ہیں ۔

شب برات میں اہتمام عبادت پر سلف صالحین کی آراء اور معمول

1 حضرت علی، حضرت عائشہ صدیقہ اور عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہم سے مروی مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور امر سے اس کی حجیت ثابت ہے ۔

(2) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں رمضان کے علاوہ باقی تمام مہینوں سے بڑھ کر عبادت کرتے تھے، لہذا شبِ برات کو اس سے کس طرح خارج کیا جا سکتا ہے ؟ بلکہ یہ رات دوسری راتوں کی نسبت عبادت کی زیادہ مستحق ہے ۔

(3) حضرت عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہما فرماتے ہیں : خمس ليال لا ترد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، و أول ليلة من رجب، و ليلة النصف من شعبان، و ليلتی العيدين ۔
ترجمہ : پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتیں: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، دونوں عیدوں کی راتیں ۔ (عبد الرزاق، المصنف، 4: 317، رقم: 7927)

(4) غیر مقلدین کے پسندیدہ امام علامہ ابنِ تیمیہ نے اس رات میں عبادت اور قیام پر لکھا ہے : سئل ابن تيمية عن صلاة نصف شعبان؟ فأجاب : إذا صلی الانسان ليلة النصف وحده أو فی جماعة خاصة کما کان يفعل طوائف من السلف فهو أحسن ۔
ترجمہ : ابنِ تیمیہ سے نصف شعبان میں نفلی نماز ادا کرنے کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: جب کوئی بھی انسان نصف شعبان کی رات کو اکیلا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھے جیسا کہ سلف میں سے بہت سارے گروہ اس کا اہتمام کرتے تھے تو یہ بہت خوب ہے ۔ (مجموع فتاوی ابن تيميه، 23: 131،چشتی)

(5) حافظ ابنِ رجب حنبلی لکھتے ہیں : شعبان کی 15ویں شب کو اہلِ شام کے تابعین خالد بن معدان، لقمان بن عامر اور ان کے علاوہ دیگر اِس رات کی تعظیم کرتے اور اس میں بے حد عبادت کرتے۔ وہ اِس رات مسجد میں قیام کرتے۔ اس پر امام اسحاق بن راہویہ نے ان کی موافقت کی ہے اور کہا ہے کہ اس رات کو مساجد میں قیام کرنا بدعت نہیں ہے ۔ (لطائف المعارف: 263 ، چشتی)

شب برات پر اتنی کثیر تعداد میں مروی احادیث صرف اس لیئے نہیں ہیں کہ کوئی بھی بندہ مؤمن فقط ان کا مطالعہ کر کے انہیں قصے ، کہانیاں سمجھتے ہوئے صرفِ نظر کر دے ، بلکہ ان احادیث کے بیان کا مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے مولا خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کرے جو کہ اس رات اور اس جیسی دیگر روحانی راتوں میں عبادت سے باسہولت میسر ہو سکتا ہے ۔ اِن با برکت راتوں میں رحمتِ الٰہی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور اپنے گناہگار بندوں کی بخشش و مغفرت کے لیئے بے قرار ہوتی ہے لہٰذا اس رات میں قیام کرنا ، کثرت سے تلاوتِ قرآن ، ذکر ، عبادت اور دعا کرنا مستحب ہے اور یہ اعمال احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہیں ۔ اس لیے جو شخص بھی اب اس شب کو یا اس میں عبادت کو بدعتِ ضلالۃ کہتا ہے وہ درحقیقت احادیثِ صحیحہ اور اعمالِ سلف صالحین کا منکر ہے اور فقط ہوائے نفس کی اتباع اور اطاعت میں مشغول ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حق کی راہ پر گامزن ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
1
فیضان ماہ شعبان المعظم ❼
https://t.me/islaamic_Knowledge/26775
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ ہفتم
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1147328309411178&id=100024020582996
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شبِ براءت اور آتش بازی
Shab E Barat Aur Atish Bazi


میرابچپن اور جوانی کے ابتدائی ایام باب المدینہ (کراچی) کے اولڈ سٹی ایریا میں گزرے، ہمارے ہاں یہ بات مشہور تھی کہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں رات  پٹاخوں کی رات ہے۔ جب یہ رات آتی تو نوجوان ایک دوسرے کو یہ کہتے کہ ”پٹاخوں کی رات آگئی، پٹاخوں کی رات آگئی۔“ میں دیکھتا تھا کہ کئی جگہوں پر شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کا چاند نظر آتے ہی آتش گیر مادہ، بارود، پٹاخے اور آتش بازی کادیگرسامان پسِ پردہ سجا کر رکھا جاتا جسے خرید کر بچےبے دریغ استعمال کرتے۔ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں رات آنے سے قبل  ہی ماں باپ بچوں کو یہ سامان خریدنے کے لئے رقم دیتے اور کچھ خود ہی خرید کر لے آتے۔ جب یہ رات شروع ہوتی تو چاروں طرف سے آتش بازی اور پٹاخے پھوڑنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔

اسی ماحول میں ایک وقت گزارا، پھر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے غالباً 1991ء میں  دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول میسر آیا، مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد پتا چلا کہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کی پندرہویں شب  پٹاخے کی رات نہیں بلکہ جہنم کی آگ سے براءت (چھٹکارے) کی رات ہے۔ اس طرح کے فرامینِ مصطفےٰ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) سے بھی آگاہی ہوئی:(1) میرے پاس جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام) آئے اور کہا یہ شَعْبَانکی پندرَہویں رات ہے، اس میں اللہ تعالیٰ جہنّم سے اِتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بَنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر مشرِک اور عداوت (دشمنی) والے اور رِشتہ کاٹنے والے اور (تکبُّرکے ساتھ ٹَخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے والے اور والِدَین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نَظَرِ رَحْمت نہیں فرماتا۔ (شعب الایمان، 3/383، حدیث: 3873) (2)جب پندَرَہ شَعْبَانکی رات آئے تو اس میں قِیام (یعنی عبادت) کرو اور دن میں روزہ رکھو۔ بے شک اللہ تعالیٰ غُرُوبِ آفتاب سے آسمانِ دنیا پر خاص تجلّی فرماتا اور کہتا ہے:ہے کوئی مجھ سے مغفِرت طَلَب کرنے والا کہ اُسے بَخْش دوں! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کہ اُسے روزی دوں! ہے کوئی مُصیبت زدہ کہ اُسے عافِیَّت عطا کروں! ہے کوئی ایسا! ہے کوئی ایسا! اور یہ اُس وَقْت تک فرماتا ہے کہ فَجْرطُلُوع ہو جائے۔(ابنِ ماجہ، 2/160، حدیث:1388) اِنہی فضائل کی وجہ سے شب براءت کے موقع پر اکثر مساجِد میں شب بیداری  کا اِہتمام کیا جاتا ہے۔عاشقانِ رسول عبادت کے ساتھ ساتھ ایسے پسندیدہ کام بھی کرتے ہیں مثلاً قراٰن خوانی کرنا، اپنے مرحومین اور دیگر مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کے لئے کھانا کھلانا، قبرستان حاضرہونااور فاتحہ پڑھنا ،  فقرا و مساکین کی مدد کرنا وغیرہ۔ ان نیک اعمال سے  ایمان کوتقویت ملتی ، قلبی و روحانی سکون ملتااور آخرت کی تیاری کا سامان ہوتا ہے۔

شبِ براءت کیسے گزاریں؟

شبِ بَرَاءَ ت میں اعمال نامے تبدیل ہوتے ہیں اس لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں 14 شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کوبھی روزہ رکھاجاتاہے تاکہ اَعمال نامے کے آخری دن بھی روزہ ہو۔ 14شعبان کومساجدمیں عصر کی نمازباجماعت پڑھ کر وَہیں نفل اعتکاف کیا جاتاہے تاکہ اعمال نامہ تبدیل ہو نے کے آخر ی لمحات میں مسجِد کی حاضِری، اعتکاف اور انتظارِ نماز وغیرہ کا ثواب لکھا جائے۔ غروبِِ آفتاب کے بعدروزہ افطارکیا جاتاہے ۔نمازِمغرب باجماعت اداکرنے کے بعدچھ نوافل پڑھے جاتےہیں۔ سورۂ یٰسٓکی تلاوت کی جاتی ہے  اور دعائے نصف شعبان بھی پڑھی جاتی ہے یوں شب براءت کا آغازہی نیکیوں سے کیا جاتا ہے۔(ان نوافل کوادا کرنے کا طریقہ امیرِ اہلِ سنت کے رسالے ”آقا کا مہینا“ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) سے پڑھ لیجئے اسی میں دعائے نصف شعبان بھی ہے) اس کے بعد عاشقانِ رسول کھانا کھاتے ہیں نمازِ عشاء باجماعت ادا کی جاتی ہے، پھر اجتماعِ ذکر ونعت کا آغاز ہوجاتا ہے، میرے شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ”مدنی مذاکرہ“ فرماتے ہیں، مبلغینِ دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات کرتے ہیں، اجتماع کے اختتام پر پندرہ شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کے روزے کے لئے سَحری کا اہتمام کیا جاتا ہے، شرکائے اجتماعات نمازوں کی پابندی اور سنتوں بھری زندگی گزارنے کے عزم کے ساتھ گھروں کو جاتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شب براءت بڑی عظمتوں اور برکتوں والی رات ہے مگر افسوس! صد افسوس! آج بھی ہمارے معاشرے میں شب براءت کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے  کی وجہ سے مسلمانوں کی ایک تعداد اس رات کو غفلت بلکہ  گناہوں میں گزارتی اور اس کی برکتوں سے محروم ہوجاتی ہے، جس میں آخرت کا سخت نقصان ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیاوی نقصانات کا بھی سامناہوتاہے  جس کا  اندازہ اخبارات کی مندرجہ ذیل خبروں سے لگایا جاسکتاہے: ٭10مئی 2016ء مرکزالاولیا (لاہور،پاکستان) ایک بچے نے ماچس پٹاخہ چلا کر ہمسائے کے گھر پھینک دیا ،جس سے گھر میں آگ لگنے سے لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کرتباہ ہو
1