🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1443 ᴴ | 03-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عالم برزخ کیا ہے ؟ आ़लमे बर्ज़ख़ क्या है ?
30-07-1443 ᴴ | 04-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-07-1443 ᴴ | 04-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_حضرت_امام_شافعی ❶
فیضان امام شافعی رضی اللہ عنہ
فیضان امام شافعی رضی اللہ عنہ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کےلیے کھلے رہتے ہیں ۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاٶں میں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے ۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے ۔ ان خاص لمحوں ، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب ، شعبان ، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے ۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا ۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں ، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ 141)(فضائل الایام والشہور صفحہ 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ)
شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے
(1) اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔
(2) اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔
(3) اسی مبارک مہینہ میں مسجد ضرار کو نذرِآتش کیاگیا ۔
(4) اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا ۔
(5) اسی مبارک مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔
(6) اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کا فیصلہ ہوا ۔
(7) اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ ﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے ۔ (عجائب المخلوقات صفحہ نمبر 47،چشتی)(فضائل الایام والشہور ، صفحہ نمبر 405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ (الجامع الصغیر حدیث 4889 صفحہ 301)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں ۔
’غنیۃ الطالبین‘ میں ہے : لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے : {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے ۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے ، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کےلیے کھلے رہتے ہیں ۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاٶں میں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے ۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے ۔ ان خاص لمحوں ، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب ، شعبان ، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے ۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا ۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں ، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ 141)(فضائل الایام والشہور صفحہ 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ)
شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے
(1) اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔
(2) اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔
(3) اسی مبارک مہینہ میں مسجد ضرار کو نذرِآتش کیاگیا ۔
(4) اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا ۔
(5) اسی مبارک مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔
(6) اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کا فیصلہ ہوا ۔
(7) اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ ﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے ۔ (عجائب المخلوقات صفحہ نمبر 47،چشتی)(فضائل الایام والشہور ، صفحہ نمبر 405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ (الجامع الصغیر حدیث 4889 صفحہ 301)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں ۔
’غنیۃ الطالبین‘ میں ہے : لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے : {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے ۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے ، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے ۔
❤1
آیت درود و سلام کا شانِ نزول
امام قسطلانی نے ’المواہب اللدنیہ‘ میں ایک لطیف بات کہی ہے فرماتے ہیں : إِنَّ شَهْرَ شَعْبَان شَهْرُ الصَّلَاةِ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، لِاَنَّ آيَةَ الصَّلَاةِ يَعْنِي: اِنَّ اﷲَ وَمَلٰئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ۔ (الأحزاب، 33/ 56) نَزَلَتْ فِيْهِ ۔
ترجمہ : بے شک شعبان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے ، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی ۔ (قسطلانی المواهب اللدنية 2/ 650،چشتی)
یہ آیت ماہِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے لہٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ ۔
ترجمہ : ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے ۔ (کنزالعمال، 8/ 217، رقم: 23685،چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماہِ رجب کی آمد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یوں فرمایا کرتے : اَللّٰهُمَّ، بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما ۔ (المعجم الاوسط، رقم 3939)
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماہِ شعبان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کثرت سے روزے رکھتے ۔ کَانَ اَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ ﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم اَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَانَ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 6/ 188، رقم: 25589،چشتی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے افضل روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : صَوْمُ شَعْبَانَ تَعْظِيْمًا لِرَمَضَانَ ۔
ترجمہ : شعبان کے روزے رمضان کی تعظیم و قدر کیلیے ہیں ۔(بيهقی، السنن الکبری، 4/ 305، رقم: 8300)
ماہِ شعبان کی اہمیت و فضیلت کا اس امر سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مہینے میں بندوں کے اَعمال ﷲ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔
حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں ۔ (اس کی کیا وجہ ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ذٰلِکَ شَهْرٌ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِيْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ۔
ترجمہ : یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں ۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں ۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں ۔ (نسائی، السنن، کتاب الصيام، 4/ 201، رقم: 2357،چشتی)
اس حدیث مبارکہ میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس ماہ کی فضیلت کا ایک راز یہ بتا دیا کہ شعبان میں ہمارے اَعمال ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ۔ جو شخص اس مہینے میں جتنے زیادہ اعمال صالحہ بجا لاتا ہے، زیادہ عبادات کرتا ہے ، روزے رکھتا ہے ، صدقات و خیرات کرتا ہے ۔ اسے اتنی ہی ﷲ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت نصیب ہوتی ہے اور اسی قدر بارگاہِ الٰہی سے قرب اور مقبولیت نصیب ہوتی ہے ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
امام قسطلانی نے ’المواہب اللدنیہ‘ میں ایک لطیف بات کہی ہے فرماتے ہیں : إِنَّ شَهْرَ شَعْبَان شَهْرُ الصَّلَاةِ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم، لِاَنَّ آيَةَ الصَّلَاةِ يَعْنِي: اِنَّ اﷲَ وَمَلٰئِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ۔ (الأحزاب، 33/ 56) نَزَلَتْ فِيْهِ ۔
ترجمہ : بے شک شعبان نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر درود و سلام بھیجنے کا مہینہ بھی ہے ، اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں درود و سلام کی آیت نازل ہوئی ۔ (قسطلانی المواهب اللدنية 2/ 650،چشتی)
یہ آیت ماہِ شعبان میں نازل ہوئی تو شعبان کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے درود و سلام کے ساتھ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش و مغفرت اور توبہ کے ساتھ بھی ہے لہٰذا اس ماہ اور شب برات کی عبادت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ سے بھی قربت نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی قرب نصیب ہوتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شعبان کو اپنا مہینہ قرار دیا اور اس ماہ کی حرمت و تعظیم کو اپنی حرمت و تعظیم قرار دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے اور دیگر اَعمال صالحہ بجالاتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اﷲِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِي، شَعْبَانُ الْمُطَهِّرُ وَرَمَضَانُ الْمُکَفِّرُ ۔
ترجمہ : ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ، اور ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے، شعبان (گناہوں سے) پاک کرنے والا ہے اور رمضان (گناہوں کو) ختم کر دینے والا مہینہ ہے ۔ (کنزالعمال، 8/ 217، رقم: 23685،چشتی)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ماہِ رجب کی آمد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم یوں فرمایا کرتے : اَللّٰهُمَّ، بَارِکْ لَنَا فِي رَجَبٍ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکتیں نازل فرما اور رمضان ہمیں نصیب فرما ۔ (المعجم الاوسط، رقم 3939)
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ماہِ شعبان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کثرت سے روزے رکھتے ۔ کَانَ اَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ ﷲِ صلیٰ الله عليه وآله وسلم اَنْ يَصُوْمَهُ شَعْبَانَ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے ۔ (احمد بن حنبل، المسند، 6/ 188، رقم: 25589،چشتی)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے افضل روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : صَوْمُ شَعْبَانَ تَعْظِيْمًا لِرَمَضَانَ ۔
ترجمہ : شعبان کے روزے رمضان کی تعظیم و قدر کیلیے ہیں ۔(بيهقی، السنن الکبری، 4/ 305، رقم: 8300)
ماہِ شعبان کی اہمیت و فضیلت کا اس امر سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس مہینے میں بندوں کے اَعمال ﷲ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔
حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں آپ کو سب مہینوں سے زیادہ شعبان المعظم کے مہینے میں روزے رکھتے دیکھتا ہوں ۔ (اس کی کیا وجہ ہے ؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : ذٰلِکَ شَهْرٌ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيْهِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِيْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ۔
ترجمہ : یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں ۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں ۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزہ سے ہوں ۔ (نسائی، السنن، کتاب الصيام، 4/ 201، رقم: 2357،چشتی)
اس حدیث مبارکہ میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس ماہ کی فضیلت کا ایک راز یہ بتا دیا کہ شعبان میں ہمارے اَعمال ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ۔ جو شخص اس مہینے میں جتنے زیادہ اعمال صالحہ بجا لاتا ہے، زیادہ عبادات کرتا ہے ، روزے رکھتا ہے ، صدقات و خیرات کرتا ہے ۔ اسے اتنی ہی ﷲ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت نصیب ہوتی ہے اور اسی قدر بارگاہِ الٰہی سے قرب اور مقبولیت نصیب ہوتی ہے ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
❤1👍1
فیضان ماہ شعبان المعظم ❶
https://t.me/islaamic_Knowledge/26735
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
https://t.me/islaamic_Knowledge/26735
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
❤1
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم ❷
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302450298657683/
محترم قارئینِ کرام : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شعبان کا چاند دیکھنے کے بعد قرآن کریم کی تلاوت میں لگ جاتے ، اپنے مالوں کی زکوۃ نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین لوگ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے پر قادر ہوسکیں ، حکمران قیدیوں کو بلاکر اگر حد کے نفاذ کا مسئلہ ہوتا تو حد نافذ کر دیتے ورنہ اُن کو آزاد کر دیتے ، تاجر حضرات اپنے حساب و کتاب اور لین کی ادائیگی سے فارغ ہونے کی کوشش میں لگ جاتے تاکہ ہلالِ رمضان دیکھ کر اپنے آپ کو عبادت کےلیے وقف کرسکیں ۔ (غنیۃ الطالبین :1/341)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اِس مہینے کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے ، چنانچہ فرمایا : شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ شَعْبَانُ شَهْرِيْ وَرَمَضَانُ شَهْرُ اللهِ ۔ (کنز العمّال :35172،چشتی)
اِس کے بابرکت ہونے کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ دعاء ہی کافی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعاء مانگی ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء پڑھا کرتے تھے : اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمااور اور ہمیں (بخیر و عافیت) رمضان المبارک تک پہنچا دیجئے ۔(شعب الایمان :3534)
شعبان گناہوں سے پاک ہونے کا مہینہ ہے : اِرشادِ نبوی ہے : رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کا اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے ، شعبان کا مہینہ پاک کرنے والا اور رمضان کا مہینہ گناہوں کو مٹانے والا ہے ۔ شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِيْ ، وَشَعْبَانُ الْمُطَهِّر ، وَ رَمَضَانُ الْمُكَفِّرُ ۔ (أخرجہ ابن عساکر فی التاریخ:72/155)
شعبان کے مہینے میں روزہ دار کے لیے خیرِ کثیرہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : شعبان کو ”شعبان“ اِس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں روزہ رکھنے والےکے لئے بہت سی خیریں اور بھلائیاں (شاخوں کی طرح) پھوٹتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ جنت میں جاپہنچتا ہے ۔ إِنَّمَا سُمِّيَ شَعْبَانُ لِأَنَّه يَتَشَعَّبُ فِيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ لِلصَّائِمِ فِيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ۔( کنز العمّال :35173،چشتی)
شعبان کے مہینے میں اعمال کی پیشی : اِس مہینے میں اعمال کی پیشی ہوتی ہے ، چنانچہ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں: رجب اور رمضان کے درمیان جو شعبان کا مہینہ ہے ، (عام طور پر) لوگ اُس سے غفلت کا شکار ہ ہوتے ہیں ، حالآنکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔ شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشَهْرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يُرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالُ الْعِبَاد ۔ (شعب الایمان :3540)
ماہِ شعبان کے اعمال اس مہینے سے متعلق دو طرح کے کام ہیں :
(1) قابلِ عمل یعنی کرنے کے کام ۔
(2) قابلِ ترک یعنی چھوڑنے کے کام ۔
قابلِ عمل کام : یعنی وہ کام جن کو اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور وہ سنت سے ثابت ہیں ۔ ایسے کام درج ذیل ہیں : ⬇
شعبان کے مہینے کا چاند دیکھنے کا اہتمام : اِسلامی مہینوں کی حفاظت اور اُن کی صحیح تاریخوں کا یاد رکھنا فرض کفایہ ہے ، کیونکہ اُن پر بہت سے شرعی احکام موقوف ہیں ، چنانچہ حج کا صحیح تاریخوں میں اداء کرنا ، رمضان المبارک کے روزوں اور زکوۃ کی ادائیگی اور اس کے علاوہ کئی شرعی امور قمری تاریخوں پر موقوف ہیں ، لہٰذا مسلمانوں کو قمری مہینوں کو یاد رکھنا چاہیئے اور چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے ، اور شعبان کے بعد چونکہ رمضان المبارک کا عظیم مہینہ آرہا ہوتا ہے اِس لئے ہلالِ شعبان کو اور بھی زیادہ اہتمام اور شوق سے دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شعبان کا چاند بڑے اہتمام سے دیکھا کرتے تھے، چنانچہ روایت میں آتا ہے،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہلالِ شعبان کی جتنی حفاظت کرتے تھے اتنی کسی اور مہینے کی نہ کرتے تھے۔كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ۔(دار قطنی:2149)
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302450298657683/
محترم قارئینِ کرام : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شعبان کا چاند دیکھنے کے بعد قرآن کریم کی تلاوت میں لگ جاتے ، اپنے مالوں کی زکوۃ نکالتے تاکہ کمزور اور مسکین لوگ رمضان المبارک میں روزہ رکھنے پر قادر ہوسکیں ، حکمران قیدیوں کو بلاکر اگر حد کے نفاذ کا مسئلہ ہوتا تو حد نافذ کر دیتے ورنہ اُن کو آزاد کر دیتے ، تاجر حضرات اپنے حساب و کتاب اور لین کی ادائیگی سے فارغ ہونے کی کوشش میں لگ جاتے تاکہ ہلالِ رمضان دیکھ کر اپنے آپ کو عبادت کےلیے وقف کرسکیں ۔ (غنیۃ الطالبین :1/341)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اِس مہینے کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے ، چنانچہ فرمایا : شعبان میرا مہینہ اور رمضان اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ شَعْبَانُ شَهْرِيْ وَرَمَضَانُ شَهْرُ اللهِ ۔ (کنز العمّال :35172،چشتی)
اِس کے بابرکت ہونے کےلیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ دعاء ہی کافی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعاء مانگی ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء پڑھا کرتے تھے : اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ ۔
ترجمہ : اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمااور اور ہمیں (بخیر و عافیت) رمضان المبارک تک پہنچا دیجئے ۔(شعب الایمان :3534)
شعبان گناہوں سے پاک ہونے کا مہینہ ہے : اِرشادِ نبوی ہے : رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کا اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے ، شعبان کا مہینہ پاک کرنے والا اور رمضان کا مہینہ گناہوں کو مٹانے والا ہے ۔ شَهْرُ رَمَضَانَ شَهْرُ اللهِ، وَشَهْرُ شَعْبَانَ شَهْرِيْ ، وَشَعْبَانُ الْمُطَهِّر ، وَ رَمَضَانُ الْمُكَفِّرُ ۔ (أخرجہ ابن عساکر فی التاریخ:72/155)
شعبان کے مہینے میں روزہ دار کے لیے خیرِ کثیرہے : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : شعبان کو ”شعبان“ اِس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں روزہ رکھنے والےکے لئے بہت سی خیریں اور بھلائیاں (شاخوں کی طرح) پھوٹتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ جنت میں جاپہنچتا ہے ۔ إِنَّمَا سُمِّيَ شَعْبَانُ لِأَنَّه يَتَشَعَّبُ فِيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ لِلصَّائِمِ فِيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ۔( کنز العمّال :35173،چشتی)
شعبان کے مہینے میں اعمال کی پیشی : اِس مہینے میں اعمال کی پیشی ہوتی ہے ، چنانچہ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں: رجب اور رمضان کے درمیان جو شعبان کا مہینہ ہے ، (عام طور پر) لوگ اُس سے غفلت کا شکار ہ ہوتے ہیں ، حالآنکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں ۔ شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشَهْرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يُرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالُ الْعِبَاد ۔ (شعب الایمان :3540)
ماہِ شعبان کے اعمال اس مہینے سے متعلق دو طرح کے کام ہیں :
(1) قابلِ عمل یعنی کرنے کے کام ۔
(2) قابلِ ترک یعنی چھوڑنے کے کام ۔
قابلِ عمل کام : یعنی وہ کام جن کو اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور وہ سنت سے ثابت ہیں ۔ ایسے کام درج ذیل ہیں : ⬇
شعبان کے مہینے کا چاند دیکھنے کا اہتمام : اِسلامی مہینوں کی حفاظت اور اُن کی صحیح تاریخوں کا یاد رکھنا فرض کفایہ ہے ، کیونکہ اُن پر بہت سے شرعی احکام موقوف ہیں ، چنانچہ حج کا صحیح تاریخوں میں اداء کرنا ، رمضان المبارک کے روزوں اور زکوۃ کی ادائیگی اور اس کے علاوہ کئی شرعی امور قمری تاریخوں پر موقوف ہیں ، لہٰذا مسلمانوں کو قمری مہینوں کو یاد رکھنا چاہیئے اور چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے ، اور شعبان کے بعد چونکہ رمضان المبارک کا عظیم مہینہ آرہا ہوتا ہے اِس لئے ہلالِ شعبان کو اور بھی زیادہ اہتمام اور شوق سے دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ، یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شعبان کا چاند بڑے اہتمام سے دیکھا کرتے تھے، چنانچہ روایت میں آتا ہے،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہلالِ شعبان کی جتنی حفاظت کرتے تھے اتنی کسی اور مہینے کی نہ کرتے تھے۔كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ۔(دار قطنی:2149)
❤1
شعبان کے مہینے میں برکت کی دعاء : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رجب کا مہینہ داخل ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعاء پڑھا کرتے تھے : ”اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبَ، وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ“ اے اللہ ! رجب اور شعبان کے مہینے میں ہمیں برکت عطا فرمااور اور ہمیں (بخیر و عافیت) رمضان المبارک تک پہنچادیجئے ۔ (شعب الایمان :3534،چشتی)
شعبان کے مہینے میں روزوں کی کثرت : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روزہ رکھنے کے لئے تمام مہینوں میں شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ محبوب تھا، آپ یہ چاہتے تھے کہ روزہ رکھتے رکھتے اُسے رمضان کے ساتھ ملادیں۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ:كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ۔(سنن ابوداؤد:2431)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ مَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ۔(مسلم:1156)۔(بخاری :1969)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوائے چند قلیل ایام کے شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے ۔ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا۔(مسلم:1156،چشتی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے۔لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ۔(مسلم:1156)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ رمضان المبارک کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ آپ نے اِرشاد فرمایا : وہ روزہ جو رمضان کی تعظیم میں شعبان کے مہینے میں رکھا جائے۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ: «شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ»۔(ترمذی:663)
ایک حدیث میں رمضان کے بعد محرم کے روزے کو سب سے افضل کہا گیا ہے ۔ (ترمذی:438)
دونوں میں کوئی تعارض نہیں ، اِس لیے کہ رمضان کے بعد مرتبہ کے اعتبار سے مطلقاً دیکھا جائے تو حدیث کے مطابق محرّم ہی کا روزہ افضل ہے ، لیکن جب اِستقبالِ رمضان کی تعظیم کا اعتبار کیا جائے تو شعبان سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔ اور رمضان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے آنے سے قبل ہی روزہ رکھ کر نفس کو بھوک و پیاس برداشت کرنے کا عادی بنایا جائے تاکہ اچانک سے ماہِ رمضان شروع ہوجانے سے طبیعت پر بوجھ نہ ہو اور کوئی بات خلافِ ادب سرزد نہ ہو ۔
شعبان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت روزے رکھنے کی وجہ : اِس کی وجہ یہ تھی ، جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ اِس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کی پیشی ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ روزے کی حالت میں اعمال کی پیشی ہو۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کے مہینے میں مَیں آپ کو اتنے روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں جتنا کہ کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا ، اِس کی کیا وجہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : رجب اور رمضان کے درمیان جو شعبان کا مہینہ ہے ،(عام طور پر) لوگ اُس سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں ، حالآنکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کےحضور پیش کیے جاتے ہیں ، تو مَیں یہ چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اِس حالت میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزے سے ہوں۔عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَاكَ تَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا لَا أَرَاكَ تَصُومُ فِي شَهْرٍ مثل مَا تَصُومُ فِيهِ، قَالَ:أَيُّ شَهْرٍ؟، قُلْتُ: شَعْبَانُ، قَالَ:شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشُهِرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يَرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالَ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لَا يُرْفَعَ عَمَلِي إِلَّا وَأَنَا صَائِمٌ ۔ (شعب الایمان :3540،چشتی)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے خطبہ دیتے اور فرماتے : تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے پس تم اُس کے لئے تیاری کرواور اُس میں اپنی نیتوں کو درست کرلو ۔كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ رَمَضَانَ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ فَشَمِّرُوْا لَهُ وَأَحْسِنُوْا نِيَّاتِكُمْ فِيْهِ۔(کنز العمال عن الدّیلمی: 24269)
شعبان کے مہینے میں روزوں کی کثرت : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روزہ رکھنے کے لئے تمام مہینوں میں شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ محبوب تھا، آپ یہ چاہتے تھے کہ روزہ رکھتے رکھتے اُسے رمضان کے ساتھ ملادیں۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ:كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شَعْبَانُ، ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ۔(سنن ابوداؤد:2431)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا ۔ مَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ۔(مسلم:1156)۔(بخاری :1969)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوائے چند قلیل ایام کے شعبان کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے ۔ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا۔(مسلم:1156،چشتی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے۔لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنَ السَّنَةِ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ۔(مسلم:1156)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ رمضان المبارک کے بعد کون سا روزہ افضل ہے ؟ آپ نے اِرشاد فرمایا : وہ روزہ جو رمضان کی تعظیم میں شعبان کے مہینے میں رکھا جائے۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ: «شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ»۔(ترمذی:663)
ایک حدیث میں رمضان کے بعد محرم کے روزے کو سب سے افضل کہا گیا ہے ۔ (ترمذی:438)
دونوں میں کوئی تعارض نہیں ، اِس لیے کہ رمضان کے بعد مرتبہ کے اعتبار سے مطلقاً دیکھا جائے تو حدیث کے مطابق محرّم ہی کا روزہ افضل ہے ، لیکن جب اِستقبالِ رمضان کی تعظیم کا اعتبار کیا جائے تو شعبان سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔ اور رمضان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے آنے سے قبل ہی روزہ رکھ کر نفس کو بھوک و پیاس برداشت کرنے کا عادی بنایا جائے تاکہ اچانک سے ماہِ رمضان شروع ہوجانے سے طبیعت پر بوجھ نہ ہو اور کوئی بات خلافِ ادب سرزد نہ ہو ۔
شعبان کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بکثرت روزے رکھنے کی وجہ : اِس کی وجہ یہ تھی ، جیسا کہ ایک حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ اِس مہینے میں اللہ تعالیٰ کے حضور اعمال کی پیشی ہوتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ روزے کی حالت میں اعمال کی پیشی ہو۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان کے مہینے میں مَیں آپ کو اتنے روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں جتنا کہ کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا ، اِس کی کیا وجہ ہے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : رجب اور رمضان کے درمیان جو شعبان کا مہینہ ہے ،(عام طور پر) لوگ اُس سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں ، حالآنکہ اس مہینے میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کےحضور پیش کیے جاتے ہیں ، تو مَیں یہ چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اِس حالت میں اُٹھائے جائیں کہ میں روزے سے ہوں۔عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَرَاكَ تَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا لَا أَرَاكَ تَصُومُ فِي شَهْرٍ مثل مَا تَصُومُ فِيهِ، قَالَ:أَيُّ شَهْرٍ؟، قُلْتُ: شَعْبَانُ، قَالَ:شَعْبَانُ بَيْنَ رَجَبٍ وَشُهِرِ رَمَضَانَ، يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، يَرْفَعُ فِيهِ أَعْمَالَ الْعِبَادِ، فَأُحِبُّ أَنْ لَا يُرْفَعَ عَمَلِي إِلَّا وَأَنَا صَائِمٌ ۔ (شعب الایمان :3540،چشتی)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے خطبہ دیتے اور فرماتے : تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے پس تم اُس کے لئے تیاری کرواور اُس میں اپنی نیتوں کو درست کرلو ۔كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ رَمَضَانَ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ فَشَمِّرُوْا لَهُ وَأَحْسِنُوْا نِيَّاتِكُمْ فِيْهِ۔(کنز العمال عن الدّیلمی: 24269)
❤1