🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
29-07-1443 ᴴ | 03-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ عالم برزخ کیا ہے ؟ आ़लमे बर्ज़ख़ क्या है ?
30-07-1443 ᴴ | 04-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
30-07-1443 ᴴ | 04-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
#فیضان_حضرت_امام_شافعی ❶
فیضان امام شافعی رضی اللہ عنہ
فیضان امام شافعی رضی اللہ عنہ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
#فیضان_ماہ_شعبان_المعظم ❶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کےلیے کھلے رہتے ہیں ۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاٶں میں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے ۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے ۔ ان خاص لمحوں ، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب ، شعبان ، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے ۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا ۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں ، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ 141)(فضائل الایام والشہور صفحہ 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ)
شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے
(1) اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔
(2) اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔
(3) اسی مبارک مہینہ میں مسجد ضرار کو نذرِآتش کیاگیا ۔
(4) اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا ۔
(5) اسی مبارک مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔
(6) اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کا فیصلہ ہوا ۔
(7) اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ ﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے ۔ (عجائب المخلوقات صفحہ نمبر 47،چشتی)(فضائل الایام والشہور ، صفحہ نمبر 405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ (الجامع الصغیر حدیث 4889 صفحہ 301)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں ۔
’غنیۃ الطالبین‘ میں ہے : لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے : {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے ۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے ، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے ۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شَعبانُ المعظم کی فضیلت و اہمیت ، نوافل اور عبادات شب برات حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/302309095338470/
محترم قارئینِ کرام : اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم ہے ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں ۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے ۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت کی رحمت و بخشش کے دروازے یوں تو ہر وقت ہر کسی کےلیے کھلے رہتے ہیں ۔ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰه (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو) کی فضاٶں میں رحمت الٰہی کا دریا ہمہ وقت موجزن رہتا ہے۔ اس کی رحمت کا سائبان ہر وقت اپنے بندوں پر سایہ فگن رہتا ہے اور مخلوق کو اپنے سایہ عاطفت میں لیے رکھنا اسی ہستی کی شانِ کریمانہ ہے ۔ اس غفّار، رحمن و رحیم پروردگار نے اپنی اس ناتواں مخلوق پر مزید کرم فرمانے اور اپنے گناہ گار بندوں کی لغزشوں اور خطائوں کی بخشش و مغفرت اور مقربین بارگاہ کو اپنے انعامات سے مزید نوازنے کے لیے بعض نسبتوں کی وجہ سے کچھ ساعتوں کو خصوصی برکت و فضیلت عطا فرمائی جن میں اس کی رحمت و مغفرت اور عطائوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے اور جنہیں وہ خاص قبولیت کے شرف سے نوازتا ہے ۔ ان خاص لمحوں ، خاص ایام اور خاص مہینوں میں جن کو یہ فضیلت حاصل ہے ربّ کائنات کی رحمت کی برسات معمول سے بڑھ جاتی ہے۔ ان خصوصی ساعتوں میں ماہِ شعبان کو خاص اہمیت و فضیلت حاصل ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب ، شعبان ، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے ۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ قرار دیا ۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں ، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں ۔ اسی لیے شعبان کو ’اَلْمُکَفِّر‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہا جاتا ہے کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ 141)(فضائل الایام والشہور صفحہ 404، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ)
شعبان المعظّم میں مندرجہ ذیل مشہور واقعات ہوئے
(1) اس مہینہ کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی ﷲ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی ۔
(2) اسی مہینہ کی پندرہویں تاریخ کو شب برأت یعنی لیلۂ مبارک ہے جس میں اُمّت مسلمہ کے بہت افراد کی مغفرت ہوتی ہے ۔
(3) اسی مبارک مہینہ میں مسجد ضرار کو نذرِآتش کیاگیا ۔
(4) اسی مبارک مہینہ میں جھوٹامدعی نبوت مسیلمہ کذاب واصلِ جہنم ہوا ۔
(5) اسی مبارک مہینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا ۔
(6) اسی مبارک مہینہ میں قرآنِ مجید کے نزول کا فیصلہ ہوا ۔
(7) اسی ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم ہوا ۔ ابتداء اسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر ﷲ تعالیٰ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی مرضی کے مطابق کعبۂ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا ۔ اس وقت سے ہمیشہ تک مسلمان کعبۃ ﷲ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے تھے ۔ (عجائب المخلوقات صفحہ نمبر 47،چشتی)(فضائل الایام والشہور ، صفحہ نمبر 405، مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد، پنجاب)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان المبارک ﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے ۔ (الجامع الصغیر حدیث 4889 صفحہ 301)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : شعبان کو شعبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں احترام رمضان کی وجہ سے بہت سی نیکیاں پھیلتی ہیں اور رمضان کو رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں بہت سے گناہ جلا دیے جاتے ہیں ۔
’غنیۃ الطالبین‘ میں ہے : لفظ شعبان پانچ حرفوں کا مجموعہ ہے : {ش، ع، ب، الف اور ن} ’شین‘ شرف سے، ’عین‘ علو، عظمت (بلندی) سے، ’باء‘ بِر (نیکی اور تقویٰ) سے، ’الف‘ اُلفت (اور محبت) سے اور ’نون‘ نور سے ماخوذ ہے ۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو یہ چار چیزیں عطا ہوتی ہیں ۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور برکات کا نزول ہوتا ہے ، گناہ گار چھوڑ دیے جاتے ہیں اور برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور مخلوق میں سب سے افضل اور بہترین ہستی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ بے کس پناہ میں کثرت سے ہدیہ درود و سلام بھیجا جاتا ہے ۔
❤1