🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع اس مسئلہ کے بارے میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھتے ہوئے تلاوت سجدہ کی جگہ آجائے تو تو بھی سجدہ کرنا چاہیے یا نہیں ؟ جواب عنایت فرمائیں ۔
سائل : امید علی راجستھان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* قرآن مجید چونکہ الفاظ و معانی دونوں کا نام ہے اس لئے مکمل آیت کا ترجمہ پڑھنے اور سننے پر بھی سجدہ تلاوت کرنا واجب ہوگا ہاں اگر اس کی تفسیر یا مفہوم سنے تو اس وقت سجدہ نہیں کرنا ہوگا جیسا کہ در مختار میں ہے کہ " و السماع شرط فی حق غير التالی و لو بالفارسية إذا أخبر " اھ اور رد المحتار میں ہے کہ " ( قوله إذا أخبر ) أی بأنها آية سجدة سواء فهمها أو لا و هذا عند الإمام و عندهما إن علم السامع أنه يقرأ القرآن لزمته و إلا فلا بحر " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 2 ص 105: کتاب الصلاۃ ، باب سجود التلاوۃ ، دار الکتب العلمیہ بیروت ) اور مراقی الفلاح میں ہے کہ " و یجب علی من تلا آیة و لو بالفارسیة ( قوله و لو بالفارسیة ) اتفاقاً فھم أو لم یفھم لکونھا قرآناً من وجه " اھ ( مراقی الفلاح ص 96 : باب سجود التلاوۃ ) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " إذَا قَرَأَ آيَةَ السَّجْدَةِ بِالْفَارِسِيَّةِ فَعَلَيْهِ وَ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا السَّجْدَةُ فَهَمَّ السَّامِعُ أَوَّلًا إذَا أَخْبَرَ السَّامِعُ أَنَّهُ قَرَأَ آيَةَ السَّجْدَةِ وَ عِنْدَهُمَا إنْ كَانَ السَّامِعُ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَلْزَمُهُ وَ إِلَّا فَلَا ، كَذَا فِی الْخُلَاصَةِ ، وَ قِيلَ : تَجِبُ بِالْإِجْمَاعِ هُوَ الصَّحِيحُ ، كَذَا فِی مُحِيطِ السَّرخسی " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 133 : کتاب الصلاۃ ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " فارسی یا کسی اور زبان میں آیت سجدہ کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے نامعلوم ہو تو بتا دیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہو تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیت سجدہ ہونا بتایا گیا ہو " اھ (بہار شریعت ج 1 ص 730 سجدۂ تلاوت کا بیان )

واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام
جو قرآن پاک کی جھوٹی قسم کھائے اس کے لیے کیا حکم ہے اور جھوٹی قسم کا کفارہ کیا ہے
سائل : محمد رفیق رضوی شیرانی اشفاقیہ بک ڈپو جامع مسجد ڈیگانہ ناگور راجستھان 9783769707
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* قرآن کریم کی جھوٹی قسم کھانا حرام و ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے ، اگر کسی شخص نے جان بوجھ کر قرآن کریم کی جھوٹی قسم کھائی ہے ، تو اُس کے لیے توبہ و استغفار ضروری ہے جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے کہ " عن عمران بن حصین رضي اللّٰه عنه قال : قال النبى صلی اللّٰه علیه وسلم: من حلف علی یمین مصبورة کاذباً ، فلیتبوأ بوجهه مقعدہ من النار " اھ ( سنن ابی داؤد ج 2 ص 106 : باب التغلیظ في الیمین الفاجرة ) اور کتاب الآثار میں ہے کہ " الیمین یمینان : یمین تکفر ، و یمین فیها الاستغفار ، فالیمین التي تکفر فالرجل یقول : واللّٰه ! لأفعلن ، والتي فیها الأستغفار ، فالذي یقول : واللّٰه لقد فعلت " اھ ( کتاب الأثا ر ص 141 : باب من حلف وهو مظلوم ، مطبوعہ کراچی ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " ولا یقسم بغیر اللّٰه تعالیٰ کالنبى و القرآن و الکعبة ، قال الکمال : ولا یخفی أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینًا " اھ (در المختار مع رد المحتار ج 5 ص 484 : کتاب الأیمان ، مطلب فی القرآن مطبوعہ زکریا / کذا فی فتح القدیر ج 5 ص 69 : باب ما یکون یمینًا و ما لا یکون یمینًا / مجمع الأنہر ج 2 ص 286 کتاب الأیمان ، مطبوعہ کوئٹہ ) اور تنویر الابصار مع در المختار میں ہے کہ " وهى غموس ، تغمسه فى الإثم ثم النار ، وهى کبیرة مطلقًا إن حلف علی کاذب عمدًا ، کو اللّٰه ما فعلت کذا عالماً بفعله یأثم بها فتلزمه التوبة " اھ ( تنویر الأبصار مع الدر المختار ج 5 ص 474 : کتاب الأیمان ، مطلب فی حکم الحلف بغیرہ تعالیٰ مطبوعہ زکریا ) البتہ اس طرح کی قسموں میں کوئی کفارہ نہیں ہوتا ، صرف توبہ واستغفار ہے لہٰذا آپ سچی پکی توبہ اور استغفار کریں اور آئندہ جھوٹی قسم کھانے سے سخت پرہیز کریں قوله : ویأثم بھا أي : إثما عظیماً کما فی الحاوی القدسي " اھ ۔ قوله : ( فتلزمه التوبہ ) إذ لا کفارة فی الغموس یرتفع بھا الإثم فتعینت التوبة للتخلص منه " اھ ( در مختار مع رد المحتار ج 5 ص 486 : کتاب الایمان ، دار الکتب العلمیہ بیروت )

واللہ اعلم باالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#دینی_معلومات #اسلامک_نالج
#جامعۃ_الرضا 🌹 پوسٹ نمبر⁶⁶
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
📇 مرکز الدراسات الاسلامیہ
جامعۃ الرضا بریلی شریف UP
1