🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
مستثنی منہ میں اصل معنی میں مستثنی سے موافقت ہے۔”مارأیت الا زیدا“ کی تقدیر میں اصل ”ما رأیت انسانا الا زیدا“ ہے۔امام فخر الاسلام علی بن محمد البزدوی (المتوفی ۲۸۴ھ) رقم فرما ہیں:ان المستثنی منہ إنما یثبت علی وفق المستثنی فیما استثنی من النفی کما قال فی الجامع أن کان فی الدار لا زید فعبدی حران المستثنی منہ بنوادم ولو قال الاحمار کان المستثنی منہ الحیوان لان المستثنی حیوان ولو قال الامتاع کان المستثنی منہ کل شیء۔ (اصول البزدوی ص۲۶۲)

(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

امام شمس الائمۃ سرخسی کے کلمات بھی ایسے ہی ہیں، فرمایا:الاصل فی الاستثناء من النفی أن المستثنی منہ فی معنی المستثنی، وعلی ہذا بنی علماؤنا مسائل:فی الجامع:إذا قال إن کان فی ہذہ الدار إلا رجل فعبدہ حر، فإذا فی الدار سوی الرجل دابۃ أو ثوب لم یحنث، وإن کان فیہا سوی الرجل امرأۃ أو صبی حنث۔ولو کان قال إلا حمارا فإذا فیہا حیوان آخر سوی الحمار یحنث، وإن کان فیہا ثوب سوی الحمار لم یحنث، وإن کان قال إلا ثوب فأی شیئ یکون فی الدار سوی الثوب مما ہو مقصود بالامساک فی الدور یحنث، فعرفنا أن المستثنی منہ فی معنی المستثنی۔ (اصول السرخسی ج۲ص۷۶۱، ۸۶۱)

ان کلمات سے ملتے جلتے کلمات لا تعداد کتبِ اصول میں درج ہیں لیکن ان امامان جلیلان رضی اللہ تعالی عنھما کی شہادت کے بعد کسی دوسری شہادت کی حاجت نہیں۔لہذا ”لا الا فی صمام واحد“ کی تقدیر ”لا یحل لہ الاتیان فی اصمتھا الا فی صمام واحد“ یا اس کی مثل ہونی چاہیئے۔

اور اب اس کلام کی دلالت خوب واضح ہو چکی ہے کہ کلام عورت کے بدن کے سوراخوں سے متعلق ہے اور ان میں سے ایک سوراخ کے علاوہ کوئی دوسرا سوراخ حلال نہیں۔لہذا عورت کی دبر، منہ، عورت کی فرج کے علاوہ بدن کے کسی بھی سوراخ میں مرد کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس میں اپنا آلۂ تناسل داخل کرے۔پس اگر کان یا ناک میں ادخال متصور ہو تو ان کا حکم بھی منہ اور دبر والا ہی ہوگا……رہی تفخیذ وتبطین وغیرھما تو ان میں ”ایلاج فی صمام“ یعنی ”سوراخِ بدن میں مباشرت“ نہ ہونے کی وجہ سے کلماتِ بالا ان سے مانع نہیں۔

بہر حال کلمات مذکورہ بالا سے واضح ہو چکا کہ مرد کا اپنی بیوی کے منہ میں اپنا آلہئ مردمی ڈالنا حرام ہے اور یوں سوالِ ثانی کے جزء اول کا جواب آگیا۔ذیل میں مذکور کلام سے سوالِ ثانی کے جزء ثانی کے جواب کے ساتھ ساتھ حکمِ بالا کی تائید تقویت بھی ہوتی ہے اور سوالِ اول کے جواب میں ہم نے جو صورتیں ذکر کیں، ان میں سے جزء اخیر کا جواب بھی مستفاد ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مرد کا اپنا آلہئ مردمی عورت کے منہ میں ڈالنا، جماع سے قبل شہوت کی حالت میں مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کو چوسنا اور چاٹنا اور یوں ہی اس حالت میں مخرج سے اجتناب کیے بغیر ایک دوسرے کے اندامِ نہانی کا بوسہ لینا مکروہ وحرام ہے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ: ہمبستری سے پہلے اکٹھے ہونے کی صورت میں مرد اور عورت کی شرمگاہوں سے مذی اور قذی نکلتی ہے جو ناپاک ہے۔پس اگر مرد اور عورت مخرج سے اجتناب کیے بغیر ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں، یا مرد اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چاٹے یاعورت اپنے شوہر کے آلہئ مردمی کو چوسے، یا اس حالت میں مرد اپنا آلہئ تناسل عورت کے منہ میں ڈالے تو ہر ایک کا دہن وزبان ناپاکی سے لتھڑیں گے……بلکہ بہت ممکن کہ وہ ناپاکی لعاب کے ساتھ مل کر حلق سے نیچے اتر جائے……حالانکہ ناپاکی سے اجتناب واجب اور اس کو کھانے پینے کی حرمت ثابت، لہذا ان افعالِ شنیعہ سے بچنا واجب اور ان کا ارتکاب حرام ٹھہرا۔

ہمبستری سے پہلے مرد اور عورت کے مقاماتِ مخصوصہ سے مذی اور قذی کے نکلنے میں تو شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔یہی وجہ ہے کہ مباشرتِ فاحشہ کوناقض وضوء شمار کیا گیا ہے۔علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی رقمطراز ہیں:لانھا لاتخلو عن خروج مذی غالبا وھو کالمتحقق فی مقام وجوب الاحتیاط اقامۃ للسبب الظاہر مقام الامر الباطن۔(رد المحتار ج۱ص۷۰۴)

(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

رہا مذی کا ناپاک ہونا تو اس کا قدرے بیان سوالِ اول کے جواب میں گزرا۔

رہی یہ بات کہ ”ایسی حالت میں مخرج سے اجتناب کیے بغیر مرد اور عورت ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں یا چوسیں یا چاٹیں یا مرد اپنا ذَکر بیوی کے منہ میں ڈالے تو ان کے دہن وزبان مذی سے لتھڑیں گے اور قریب کہ وہ مذی لعاب سے مل کر شوہر وبیوی کے پیٹ میں داخل ہوجائے“……تو یہ امر میری نگاہ میں بدیہیات سے ہے اور پر امید ہوں کہ اس کا انکار نہ کرے گا مگر جاہل یا معاند۔

ہاں یہ مقدمہ باقی ہے کہ نجاسات سے اجتناب واجب اور ان کو کھانا پینا حرام ہے۔

نجاست سے اجتناب کے وجوب کے بیان کے لیے وہ حدیث کافی، جوحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:عامۃ عذاب القبر من البول فاستنزھوا من البول۔ (مسند البزار حدیث رقم ۷۰۹۴)
اورحضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:استنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبر منہ۔(سنن الدارقطنی حدیث رقم ۴۶۴)

جب بدن کے عام اعضاء کو نجاست سے نہ بچانا حرام اور موجبِ عذاب قبر ہو سکتا ہے تو دہن ولسان تو بدن کے اکرم اعضاء سے ہیں، انہیں یوں نجاسات پہ پیش کرنا اور ناپاکی سے لتھڑنا کیسے حلال ہو سکتا ہے؟

واضح رہے کہ خاص حالتِ جماع میں بھی نجاستوں سے پرہیز لازم ہے الا آنکہ عذر ہو جیسے سلس البول، استحاضۃ وغیرہ۔علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرما ہیں:أفتی بعض الشافعیۃ بحرمۃ جماع من تنجس ذکرہ قبل غسلہ إلا إذا کان بہ سلس فیحل کوطء المستحاضۃ مع الجریان ویظہر أنہ عندنا کذلک لما فیہ من التضمخ بالنجاسۃ بلا ضرورۃ لإمکان غسلہ بخلاف وطء المستحاضۃ ووطء السلس تأمل۔ وبقی ما لو کان مستنجیا بغیر الماء ففی فتاوی ابن حجر أن الصواب التفصیل وہو أنہ إذا کان لعدم الماء جاز لہ الوطء للحاجۃ وإلا فلا۔ قال وروی أحمد بسند ضعیف أن رجلا قال یا رسول اللہ الرجل یغیب لا یقدر علی الماء أیجامع أہلہ قال نعم اھـ (رد المحتار ج۱ص۸۹۲)

کلماتِ بالا کا حاصل یہ ہے کہ:اگر مرد کے ذکر پہ نجاست لگی ہو، چاہے صرف اتنا ہی ہوکہ پیشاب کیا اور سرے سے استنجاء نہیں کیا، پھر بھی جب تک اپنے آلہئ تناسل کو دھو کر پاک نہ کر لے اس کا بیوی سے ہمبستری کرنا حلال نہیں ……کیونکہ اگر وہ ایسی ہی حالت میں بیوی کے قریب جاتا ہے تو بلاحاجت بیوی کی شرمگاہ مرد کے آلہئ تناسل پہ لگی نجاست سے لتھڑے گی، اور بیوی کی فرج کی رطوبت سے مل کر وہ نجاست مرد کے آلہئ تناسل کو مزید آلودہ کرے گی، اور چونکہ بلاعذر نجاست سے لتھڑنا جائز نہیں، لہذا ایسی حالت میں مرد کا اپنی بیوی سے ہمبستری کرنا حرام ہے۔

اللہ اکبر۔کہاں عورت کی شرمگاہ جو قریب کہ قذی کی نجاست سے پہلے ہی لتھڑی ہو اور مرد کا ناپاک آلۂ تناسل……اور کہاں انسان بلکہ مسلمان کے ذکر الہی کرنے والے پاک دہن و زبان ۔

(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

جس پاک شریعت کو بلاعذر عورت کی شرمگاہ کا ناپاکی سے لتھڑنا اور مرد کے ناپاک ذَکَر پہ ناپاکی کا پھیلنا پسند نہیں وہ بدن کے ان اکرم اعضاء کو یوں نجاستوں سے آلودہ کرنے کی اجازت دے گی؟؟؟


واللہ ہر گز نہیں ۔ یہ دین دے کر بھیجے جانے والی ذاتِ مقدسہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا رب جل وعلا ان کے بارے میں فرماتا ہے : ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث۔

(الاعراف ۷۵۱)

اس کریم آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خبیث چیزوں کو حرام فرمایا اور اس سے بڑھ کر خبث کیا ہو گا کہ انسان جان بوجھ کر اپنے منہ پہ ناپاکی ملے اور اسے زبان سے چاٹے ۔

اور رہی نجاسات کے کھانے پینے کی حرمت تو وہ محتاجِ بیان نہیں، کیونکہ حکمِِ نجاست میں حکمت ہی یہ ہے کہ ہر حال میں اس چیز سے اجتناب کیا جائے اور یہی وجہ ہے کہ نجس کی حرمت علماء کے بیچ متفقہ ہے۔ابنِ حزم ظاہری نے اس پہ اتفاق ذکر کرتے ہوئے لکھا:واتفقوا علی ان اکل النجاسۃ وشربھا حرام حاشا النبیذ المسکر۔ (مراتب الاجماع ص۹۱)

علامہ ابن عابدین تحریر فرما ہیں: والحرمۃ فرع النجاسۃ۔ (رد المحتار ج۶ص۲۳۷)

پس جب نجاستوں کو کھانا پینا حرام ہے تو اعضاءِ تناسلیہ کو چوسنا اور چاٹنا کیسے حلال ہو سکتا ہے کہ جس فعلِ شنیع میں نجاست کے پیٹ میں چلے جانے کا قوی احتمال، بلکہ مقامِِ وجوبِِ احتیاط میں کالمتحقق اور متحقق کے حکم کا مستحق۔اور کم سے کم نجاست سے لتھڑنا تو یقینی ……تو کیا اثباتِِ حرمت کے لیے یہ برائی کافی نہیں؟؟؟

حق تو یہ ہے کہ ہر طبیعتِ سلیمہ اس فعلِ شنیع کو برا اورخبیث جانتی رہی ہے۔اہلِ عرب گالی دیتے وقت کہا کرتے تھے: امصص بظر امک۔ (عمدۃ القاری ج۰۲ ص۹۹۴، فتح الباری ج۵ص۰۴۳)

سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: اذا سمعتم من یعتزی بعزاء الجاہلیۃ فأعضوہ ولا تکنوا۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث رقم ۱۷۲۱۲، ۲۷۲۱۲، ۳۷۲۱۲)

اور بعض روایات میں ہے:کنا نؤمر اذا الرجل تعزی بعزاء الجاہلیۃ فأعضوبھن ابیہ ولاتکنوا۔ (مسند احمد بن حنبل حدیث رقم ۴۷۲۱۲، ۵۷۲۱۲)

شرح السنۃ میں ہے:قولہ: بھن ابیہ یعنی:ذکرہ، قلت:یرید یقول لہ:اعضض بأیر ابیک۔

(شرح السنۃ للبغوی ج۳۱ص۱۲۱)

غریب الحدیث لابن الجوزی اور النھایۃ فی غریب الاثر میں ہے:فأعضوہ بہن أبیہ ولا تکنوا أی قولوا لہ أعضض بأیر أبیک ولا تکنوا عن الأیر بالہن تنکیلا۔(غریب الحدیث لابن الجوزی ج۲ص۳۰۱، النھایۃ فی غریب الاثر ج۳ص۴۹۴)

”بھن ابیہ“ کے تحت علامہ عبد الرؤف مناوی لکھتے ہیں:ای قولوا لہ:اعضض بھن ابیک او بذکرہ۔(فیض القدیر ج۱ص۹۵۴)

آگے چل کر ”أعضوہ“ کے تحت فرمایا:ای قولوا لہ:اعضض بظر امک۔

(فیض القدیر ج۱ص۹۸۴)

جب عروۃ بن مسعود نے دربار رسالت میں مسلمانوں سے متعلق اپنا یہ تأثر ظاہر کیا کہ یہ لوگ ٹکنے والے نہیں اور آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق کرم اللہ تعالی وجھہ نے فرمایا:امصص ببظر اللات انحن نفر عنہ وندعہ؟
(صحیح البخاری حدیث رقم ۱۳۷۲، ۲۳۷۲، مسند احمد ۰۳۹۸۱، مسند ابی یعلی حدیث رقم ۲۴، السنن الکبری للبیہقی حدیث رقم ۰۸۲۹۱، المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۵۴۴۶۱، دلائل النبوۃ للبیہقی ج۴ص۳۰۱، صحیح ابن حبان حدیث رقم ۲۷۸۴، مصنف ابن ابی شیبۃ حدیث رقم ۰۱۰۸۳، مصنف عبد الرزاق حدیث رقم ۰۲۷۹)

ان کلمات کا سب وشتم ہونا اور مقابل کی مذمت وتخسیس میں ان کا ذکر کیا جانا واضح ثبوت ہے کہ اربابِ عقولِِ سلیمہ واصحابِ طبائع مستقیمہ کے ہاں یہ فعل قباحت وشناعت سے خالی نہیں۔پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا ماں، باپ کے ذکر کے بجائے ”بظر اللات“ کہنا دلیلِ بین ہے کہ مدلولِ جملہ کی شناعت ماں اور باپ کی طرف نسبت پر موقوف نہیں بلکہ مص کی بظر کی طرف نسبت ہی مذمت وتحقیر کے لیے کافی ہے۔

ایک ایسا فعل کہ جسے ہرصاحبِ عقلِ سلیم برا جانے، شریعتِ مطہرہ اسلامیہ اس کو کب جائز ٹھہرائے گی؟، اس کا ارتکاب نہیں کیا مگر کالانعام یہود و نصاری اور ان کے امثال نے، وہ لوگ جو سرِ راہ زنا کو ترقی جانتے اور اپنی ماؤں بہنوں سے زنا کو فکرِ نو مانتے ہیں۔پھر ان انسانیت کے دشمنوں نے ان افعالِِ شنیعہ کی اشاعت کر کے انسانیت دشمنی کا حق اداء کیا، اورپھر مسلمانوں میں سے بعض نے ان کی پیروی کی اور یہ نہ سوچا کہ یہ کام سراسر جانوروں کا ہے اور وہی وہ ہیں جو اپنی مادہ کی فرج کو چاٹتے ہیں۔اور شریعتِ مطہرہ اسلامیہ کو ہر گز پسند نہیں کہ انسانِ مکرم جانوروں کے برے اسالیب اپنائے بھلے وہ قضاءِ شہوت ہی سے متعلق کیوں نہ ہوں۔سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

اذا اتی احدکم اہلہ فلیستتر ولا یتجرد تجرد العیرین۔(سنن ابن ماجہ حدیث رقم ۱۲۹۱ مسند البزار حدیث رقم ۱۰۷۱، السنن الکبری للبیقہی حدیث رقم ۵۷۴۴۱، المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۲۶۷۳۱)

اور فرمایا:فبینما ہم کذلک إذ بعث اللہ ریحا طیبۃ فتأخذہم تحت آباطہم فتقبض روح کل مؤمن وکل مسلم ویبقی شرار الناس یتہارجون فیہا تہارج الحمر فعلیہم تقوم الساعۃ۔

(صحیح مسلم حدیث رقم ۰۶۵۷، سنن ابن ماجہ حدیث رقم ۵۷۰۴، مسند احمد حدیث ۶۶۶۷۱)

(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

اور حضرت عبد اللہ بن عمرو سے موقوفا ہے:فاذا کان ذلک اشتد غضب اللہ علی اہل الارض فاقام الساعۃ۔(مستدرک علی الصحیحین رقم الحدیث ۷۰۴۸)

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ جل مجدہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لایقع احدکم علی اہلہ مثل البہیمۃ علی البہیمۃ۔

(الغرائب الملتقطۃ من مسند الفردوس حدیث رقم ۱۴۳۱)

جب شریعتِ طیبہ اسلامیہ مطہرہ جانوروں کا سا تجرد پسند نہیں کرتی تو کیا جانوروں کا سا ایک دوسرے کی فروج کو چاٹنا جائز ٹھہرائے گی؟؟؟

اس سب سے ہٹ کر اگر اس فعلِ قبیح وشنیع کے انسانی طبیعت پہ برے اثرات دیکھے جائیں تو اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنے والا۔جدید سائنسی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ منہ، گلے وغیرہ کے کینسرز کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب منہ کے ذریعے جنسی عمل کی ادائیگی ہے۔ یعنی مرد کا اپنا ذَکَر عورت کے منہ میں ڈالنا، یا دونوں کا ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کو چوسنا یا چاٹنا ۔

ہماری اس کلام کی تصدیق کے لیے نیٹ پہ شائع ہونے والے لا تعداد مضامین کی طرف رجوع کی جا سکتی ہے، یا کم از کم ڈاکٹرز حضرات سے رجوع کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ اصحابِ فن ہیں اور اس باب میں بہتر جانتے ہیں۔انگلش میگزین New Scientist 09 May 2007 میں ایک مضمون بعنوان ”Oral sex can cause throat cancer“ کے ابتدائی کلمات کچھ یوں ہیں:

People who have had more than five oral-sex partners in their lifetime are 250% more likely to have throat cancer than those who do not have oral sex, a new study suggests.

The researchers believe this is because oral sex may transmit human papillomavirus (HPV), the virus implicated in the majority of cervical cancers.

ویکیپیڈیا پر نشر مضمون بعنوان ”Oral Sex“ میں ہے:

Links have been reported between oral cancer and oral sex with HPV-infected people. In 2005, a research study at the College of Malmo" in Sweden suggested that performing unprotected oral sex on a person infected with HPV might increase the risk of oral cancer. The study found that 36 percent of the cancer patients had HPV compared to only 1 percent of the healthy control group.

Another recent study suggests a correlation between oral sex and head and neck cancer. It is believed that this is due to the transmission of human papillomavirus (HPV), a virus that has been implicated in the majority of cervical cancers and which has been detected in throat cancer tissue in numerous studies.
The New England Journal of Medicine study concluded that people who had one to five oral-sex partners in their lifetime had approximately a doubled risk of throat cancer compared with those who never engaged in this activity and those with more than five oral-sex partners had a 250% increased risk.

جب جدید تحقیقات سے یہ امر ثابت ہوگیا کہ یہ فعلِ شنیع وقبیح امراضِ مہلکہ کے بڑا سبب ہے تو اب شریعتِ مطہرہ کے احکام اور ان کی حِکَم پر مطلع شخص ہرگز اس فعلِ شنیع وقبیح کے شناعت وقباحت میں شک نہ کرے گا۔اس دین میں تو حلال نہیں مگر صرف طیب، رہا خبیث تو اس کی کوئی گنجائش نہیں:ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث۔(الاعراف ۷۵۱)

شریعتِ اسلامیہ اس کام سے روکتی ہے جس میں ضرر ہو۔اللہ کریم جل مجدہ کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:لا ضرر ولاضرار۔(رواہ ابن ماجہ عن عبادۃ ابن الصامت برقم ۰۴۳۲، وعن ابن عباس برقم ۱۴۳۲)اور شریعتِ مطہرہ کے احکام اور ان کی حِکَم پر مطلع جانتا ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے لاتعداد ایسے کاموں سے روک دیا جن میں انسان کو نقصان ہے۔خود رب جل مجدہ نے فرمایا:

شرع لکم من الدین ماوصی بہ نوحا الآیۃ ۔ (الشوری ۳۱)

یہ دین نفعِ عباد کے لیے ہے، اسے عباد کا نقصان پسند نہیں۔اگر عباد کا نقصان پسند ہوتا تو بیوی اور کنیز کے اگلے مقام کو حلال فرمانے کے باوجود پچھلے مقام کو حرام فرمانے اور پھر حیض کے دوران ”ھو اذی“ فرما کر اگلے مقام سے بھی روک دینے کا کوئی قابلِ فہم سبب نظر نہیں آئے گا۔کتبِ فقہ کی طرف توجہ کی جائے تو فقہاء کرام کسی کام سے روکتے ہوئے جابجا فرماتے نظر آتے ہیں:لا ضرر ولاضرار فی الاسلام۔

میں ان احکام کا نہ تو احصاء چاہوں گا اور نہ ہی مثال، کیونکہ احصاء متعذر ہے اور مثال موہمِ انحصار۔بہر حال خلاصۂ کلام یہ ہے کہ:جنسی عمل کی منہ کے ذریعے ادئیگی کی صورت میں ازروئے شرع کثیر خرابیوں کے ساتھ ساتھ منہ، گردن وغیرہ کے کینسر کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے لہذا اس سے اجتناب لازم اور اس کا ارتکاب اخروی بدنصیبی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی نقصان کا باعث۔

(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2017/07/blog-post_182.html?m=1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کو چاٹنا اور چوسنے کا شرعی حکم https://faizahmadchishti.blogspot.com/2017/07/blog-…
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کو چاٹنے اور چوسنے کا شرعی حکم
Telegram: ↴
https://t.me/islaamic_Knowledge/26398
WeSite: ↴
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2017/07/blog-post_182.html?m=1
FaceBook: ↴
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1145402819603727&id=100024020582996
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-07-1443 ᴴ | 01-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ सलाम का जवाब फ़ौरन वाजिब है! اللہ نے مجھ پر بیت المقدس امانت کی حفاظت ، سچائی معراج کا منکر کافر و گمراہ मेराज का मुन्किर काफ़िर व गुमराह ماہ رجب اور ہزاری روزہ माहे रजब और हज़ारी रोज़ा रोज़ह Rajab ᴬᵘʳ Hazari Roza ᴿᵒᶻᵃʰ…
28-07-1443 ᴴ | 02-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
रिश्ते दारों के ह़ुक़ूक़ رشتہ داروں کا حق
رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں
جو کماتا نہیں اور مانگتا ہے ...
مسجد میں نکاح کرنا مستحب ہے
मस्जिद में निकाह़ करना मुस्तह़ब
خطبہ کی اذان کا جواب دینا
ख़ुत़्बा की अज़ान का जवाब
Khutba Ki Azan Ka Jawab
یوم وفات: ۲۸ رجب المرجب :
شاہ عفد الدین صابری امروہی
شیخ محمف بن یوسف سورتی
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت شیخ عماد الدین ابو صالح نصر نبیرۂ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ🕯*


نام و نسب:
کنیت: ابو صالح۔
اسم گرامی: عبد اللہ نصر۔
لقب: عماد الدین۔
سلسلہ نسب: سید ابوعبد اللہ نصر بن سید عبدالرزاق بن غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ کی والدہ ماجدہ کانام ماجدہ تاج النساء ام الکرم بنت فضائل الترکین تھا۔ آپ اعلیٰ درجہ کی خیر وبرکت والی بی بی تھیں علوم حدیث کی عالمہ تھیں۔بغداد شریف میں ہی آ پ کا وصال ہوا اور باب الحرب میں مدفون ہیں۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 24 ربیع الثانی 562ھ، مطابق فروری 1167ء میں بغداد شریف میں ہوئی۔

تحصیل علم: حضرت ابوصالح نصر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد گرامی کی نگرانی میں نشو نما پائی اورانہیں سے تعلیم مکمل فرمائی۔ اپنے والد ماجد کے علاوہ اور بھی بہت سے فضلاء وقت سے علم فقہ وحدیث حاصل فرمایا، آپ نے اپنے عم بزرگوار حضرت شیخ عبدالوہاب رحمہ اللہ سے بھی حدیث سنی اوردرس لیا حدیث شریف بیان کی لکھوائی اس کے علاوہ دیگر علوم کا بھی اکتساب فرمایا۔

سیرت و خصائص:  شیخ طریقت، واقف اسرار حقیقت، پر وردۂ صحبت غوثیت حضرت سیّد عبداللہ ابو صالح نصر اللہ رحمۃ اللہ علیہ آپ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کے انیسویں امام اور شیخ طریقت ہیں۔ آپ اعلیٰ درجہ کے محقق، عارف حدیث میں ثقہ نہایت شیریں کلام اور خوش طبع ومتین تھے۔ فروعی مسائل میں بھی آپ کی معلومات وسیع تھیں۔  حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب طبقات میں بیان کیاہےکہ : آپ قاضی القضاۃ، شیخ الوقت،  فقیہ، مناظر، محدث، عابدوزاہد اور بہترین واعظ تھے، اور اپنے جدامجد سیّدناشیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے مدرسہ کے متولی تھے۔ آپ انتہائی فصیح وبلیغ گفتگو فرماتے ،  آپ کی انشاء پردازی اور فتاویٰ نویسی میں ندرت ہوتی تھی۔ مدینۃ السلام کی تینوں مسجدوں میں آپ کا نام خطبہ میں پڑھا جاتاتھا۔ آپ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کے پیکر تھے، آپ ان لوگوں میں سے تھے جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔ صادق القول ہونے کے ساتھ امور مملکت میں اصلاح کی کوشش بلیغ فرمائی ،روئی کالباس پہنتے اور مقدموں پر غور وخوض کے بعد فیصلہ دیتے، اسلاف کے نقش قدم پر چلتے اور شدت سے حق پر قائم رہتے ۔

بد مذہب سے آپ کی بیزاری : آپ شریعت وطریقت پر بڑی مضبوطی کے ساتھ  قائم رہتے اور خلاف ِ شرع جن امور کو دیکھتے اس کو ختم کرنے  میں تکلیف شاقہ براداشت کرتے۔ مگرشریعت سے سرمو تجاوز نہ ہونے دیتے۔ چنانچہ اپناایک واقعہ خودہی بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں وزیر عثمی کےمکان پر حکومت کے نظم و نسق کے سلسلے میں کچھ تحریر کررہا تھااور وہاں محمد بن مخب محدث ابن زبیر منصف اورابن مروزی بھی موجود تھے اچانک ایک ذی وقار شخص عمدہ لباس پہنے مکان میں داخل ہوا اور پوری جماعت اس کوسلام کرکے اس کی خدمت میں مصروف ہوگئی۔ میں نے بھی یہ تصور کرکے کہ یہ بہت بڑا فقیہ ہے ان لوگوں کا ابتاع کیالیکن جب میں نے لوگوں سے ان کے متعلق معلوم کیاتوا نہوں  نے بتایا کہ یہ توابن کرم یہودی ہے جوٹکسال کاگورنر ہے اور دربار خلافت میں اس کابڑا عمل دخل ہے، جب وہ لوگوں کےپاس سے گزرکرمیرے مقابل چبوترے پر بیٹھ گیاتومیں نے اس سے کہا کہ : اس جگہ سے کھڑے ہوجاؤہلاکت تیرا مقدرہو،  توجب داخل ہواتو میں تجھے ایک مسلمان فقیہ سمجھ کر تعظیما کھڑا ہوگیا تھاحالانکہ فقیہ ہونا تودکنار تو مسلمان بھی نہیں ہے۔ یہ جملہ میں نے اس سے کئی مرتبہ کہا جس کو وہ کھڑا ہوکرسنتارہااور کہنے لگا کہ اللہ تیری حفاظت کرے اور تجھے باقی رکھے۔ پھر میں نے اس سے کہاکہ میرے سامنے سے دفع ہوجاؤ یہ سن کر وہ خاموشی سے چلاگیا ۔ میرا کچھ وظیفہ دربار خلافت سے مقررتھا جس کو مقام بدریہ جاکر وصول کرتاتھا مگرمیں اس مقررہ دن کو امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے مزار شریف پر فاتحہ پڑھنے چلاگیا تھا، واپسی پر دیکھا کہ ہر شخص اپنا وظیفہ وصول کررہا ہے۔ اور جب میں نے وظیفہ وصول کرنا چاہا تومجھ سےکہاگیا کہ : آپ کاوظیفہ توابن کرم یہودی کے پاس ہے وہاں جاکر وصول کرلیں۔لیکن میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ ایک کافر سے اپنا وظیفہ وصول کرنے ہر گز نہیں جاؤں گا اور اس پر آپ مضبوطی کے ساتھ قائم رہےکہ نہ تو آپ اس یہودی کے پاس جاتے اورنہ وہ آپ کے پاس رقم بھیجتا حتٰی کہ وہ ملعون ختم کردیاگیا۔ اس وقت آپ نے خزانہ سے جاکر رقم وصول کی۔
1
عہدۂ قاضی ُ القضاۃ: بتاریخ 622ھ کو الظاہر بامراللہ کی طرف سے آپ قاضی القضاۃ مقرر ہوئے، اور خلیفہ مذکورہ کے انتقال تک آپ منصب قضاپر فائز رہے، اس عظیم منصب پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے اخلاق وعادات اور آپ کی تواضع وانکساری میں مطلقاً کچھ بھی فرق نہیں آیا بلکہ سابقہ دستور کے مطابق آپ ویسے ہی خلیق، تواضع  پسند اور کریم النفس رہے۔ آپ کے اجلاس میں شہادتیں قلم بند کرلی جایاکرتی تھیں۔خلیفہ نے آپ کے پاس دس ہزار دینار صرف اس غرض سے روانہ کیےتھےکہ اس روپیہ سے جتنے بھی مفلس، قرض دار، محبوس ہیں ان کاقرض اداکرکے انہیں رہا کردیاجائے اور خلیفہ موصوف نے آپ ہی کواوقاف عامہ مثلاً مدارس حنفیہ، شافعیہ، جامع السلطان اور جامع ابن المطلب وغیرہ کاناظرونگراں مقررفرمایا، آپ کوان اوقاف میں ہر طرح کی ترمیم وتنسیخ اور ہرطرح کی بحالی وبرطرفی کاپورا پورا اختیار دےدیاتھا اور مدارسہ نظامیہ میں بحالی وبرطرفی بھی آپ ہی کے ذمے ہوگئی تھی۔ آپ آثار سلف صالحین کے قدم  بقدم چلتے اور نہایت سرگرمی واہتمام سےا پنے منصب ِ قضا کو انجام دیتے رہے۔

شان ِ قضاء : آپ کے عہد ولایت کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کے اجلاس ہی میں اذان دی جاتی تھی اور آپ سب کوشریک نماز کرکے جماعت سے نماز پڑھا کرتے تھے، جمعہ کی نماز کے لئے جامع مسجد میں پیادہ پاتشریف لے جایاکرتے تھے۔ یہاں تک کہ خلیفہ کے انتقال کے بعد اس کابیٹا المستنصر باللہ نے اپنے ابتدائی عہد ِ خلافت سے چارماہ بعد 623ھ میں آپ کو منصب ِ قضاسے معزول کردیا۔اس معزولی کی خوشی پر آپ نےایک قصیدہ تحریرفرمایا۔ جس کا ایک شعر یہ ہے :

حمدت اللہ عزوجل لما
قضیٰ لی بالخلاص من القضاء

ترجمہ: میں خدائےعزوجل کا شکر ادا کرتا ہوں ، جس نے مجھے قضاکے عہدے سےرہائی عطاء کردی۔

درس وتدریس: معزولی کے بعد آپ نے اپنے مدرسہ میں درس وافتاء کاسلسلہ شروع کیا اور بڑی بڑی مجلسیں آپ کے یہاں ہونے لگیں۔ بےشمار لوگوں نے آپ سے علم فقہ وحدیث سیکھا اور فیض حاصل کیا۔ آپ کے تفقہ کااعتراف کرتے ہوئےصرصریؔ شاعر نے آپ کی مدح میں قصیدۂ لامیہ لکھا ۔ پھر دوبارہ مستنصر باللہ نے آپ  کوکلیسائے روم کا (جس کو اس نے خانقاہ میں تبدیل کرکے حکومتی تحویل میں لےلیا تھا) صدر بنادیا۔ وہاں آپ کو بے حد تکریم وتعظیم حاصل ہوئی، عوام الناس بہت بڑی بڑی رقمیں آپ کی خدمت میں اس اختیار کے ساتھ روانہ کرتے کہ آپ جہاں چاہیں اس رقم کو خرچ کرسکتے ہیں۔

تصانیف: افسوس کہ آپ کے علمی، فقہی وتحقیقی خدمات کی کوئی تفصیل مورخین نے نہیں لکھی  میں صرف ایک کتاب کا پتہ لگ سکا ہے جو ’’ارشاد المبتدئین ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور علم فقہ میں اپنی نظیر آپ ہے۔

خلفاء: آپ کے خلفاء کرام کی نیز اولاد امجاد کی کوئی بھی تفصیل کتب تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے صرف حضرت محی الدین ابو نصر محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کاتذکرہ اکثر مورخین نے تحریر فرمایا ہے۔  اور انہیں کو آپ نے اپنی خلافت ونیابت سے نوازا ہے۔

وصال: آپ مطابق شجرۃ قادریہ رضویہ 27رجب المرجب 632ھ کو محبوب حقیقی سے جاملے۔ ’’اِنَّا لِلہ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ مگر بعض لوگوں نے 6 شوال،13/شوال، 16شوّال 633ھ لکھا ہے۔ آپ نے ستر سال کی عمر میں صبح صادق کے وقت وصال فرمایا۔

مزار مبارک: آپ کا مزار مقدس بغداد شریف میں روضۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرجع خلائق ہے۔

ماخوذ از: تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ

شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
نصر ابی صالح کا صدقہ صالح و منصور رکھ
دے حیات دیں محی جاں فزا کے واسطے
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
یعنی جو مسلمان ننانوے اسمائے الہیہ یاد کرے اور ان کا ورد کیا کرے وہ ان شاء اللہ اول ہی سے جنت میں جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق جس نے ان کے ذریعے دعا مانگی تو اللہ تعالی اس کی دعا کو قبول فرمائے گا۔ یاد رہے، علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے الہیہ ننانوے یا…
Urdu: مجھ سے میرے رب عزوجل نے وعدہ فرما لیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو جنت میں بغیر حساب کے داخل فرمائے گا۔

Arabic: وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ ‌أُمَّتِي ‌سَبْعِينَ ‌أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ

Hindi: मुझ से मेरे रब عزوجل ने वा’दा फ़रमा लिया है कि मेरी उम्मत में से सत्तर हज़ार (70,000) को जन्नत में बिग़ैर ह़िसाब के दाख़िल फ़रमायेगा ।

Roman: Mujh se Mere Rabb Azza wa Jal ne wa'dah farma lia hay ke Meri Ummat mein se 70 Hazaar ko Jannat mein bigair hisaab ke dakhil farmaega.

Hawala: سنن ابن ماجه، ‌‌أبواب الزهد، باب صفة أمة محمد ﷺ، الحدیث 4285

https://www.facebook.com/114021443682673/posts/478555610562586/

▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
🔎 #Sacred_Traditions 🔍
Sacred Traditions Official
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1