🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㊴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آقا کریم ﷺ کی مبارک شانیں
🌹فیضان معراج النبی ﷺ💐
فتاویٰ رضویہ شریف جلد 18
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آقا کریم ﷺ کی مبارک شانیں
🌹فیضان معراج النبی ﷺ💐
فتاویٰ رضویہ شریف جلد 18
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㊵
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
طبقۂ ناریہ اور طبقۂ جمہریریہ
رجب المرجب اور شب معراج
معراج اور عقل ✍مفتی قاسم
شب معراج کیسے گذاریں؟ کامران
شب معراج سے متعلق تین باتیں!
شب معراج کے اعمال | دار الرضا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
طبقۂ ناریہ اور طبقۂ جمہریریہ
رجب المرجب اور شب معراج
معراج اور عقل ✍مفتی قاسم
شب معراج کیسے گذاریں؟ کامران
شب معراج سے متعلق تین باتیں!
شب معراج کے اعمال | دار الرضا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ شادی کی تاریخ مقرر تھی اور لڑکی کو حیض آگیا تو حیض کی حالت میں کیا نکاح ہوسکتا ہے کہ نہیں ؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
سائل : مرسلین خان قادری پلیا کلاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* نکاح کے وقت اگر عورت حالت حیض میں ہو یا مرد جنابت کی حالت میں ہو یا گواہوں میں سے کوئی ناپاکی کی حالت میں ہو اور ناپاکی کپڑوں پر بھی لگی ہو ان تمام صورتوں میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجائے گا ، البتہ جب تک عورت حالت حیض میں رہے گی شوہر کے لئے جماع کرنا جائز نہیں ہوگا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " عن المسور بن مخرمة أن سبیعة الأسلمیة نفست بعد وفاۃ زوجها بلیال ، فجاءت النبى صلى الله تعالى عليه وسلم فاستأذنته أن تنکح ، فأذن لها فنکحت " اھ یعنی مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا " اھ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 5119 ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " و أما نحو الحيض و النفاس و الإحرام و الظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم " اھ ( در المختار مع رد المحتار ج 4 ص 40 : کتاب النکاح ، مطبوعہ زکریا ) اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ سے سوال ہوا : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں : حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر و ثناء ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت ، تو جواز یقینی ہے ۔ کما صرحوا به قاطبة یعنی جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے " اھ ( فتاوی افریقہ ص 143 : مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد کراچی )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ شادی کی تاریخ مقرر تھی اور لڑکی کو حیض آگیا تو حیض کی حالت میں کیا نکاح ہوسکتا ہے کہ نہیں ؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
سائل : مرسلین خان قادری پلیا کلاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* نکاح کے وقت اگر عورت حالت حیض میں ہو یا مرد جنابت کی حالت میں ہو یا گواہوں میں سے کوئی ناپاکی کی حالت میں ہو اور ناپاکی کپڑوں پر بھی لگی ہو ان تمام صورتوں میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجائے گا ، البتہ جب تک عورت حالت حیض میں رہے گی شوہر کے لئے جماع کرنا جائز نہیں ہوگا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " عن المسور بن مخرمة أن سبیعة الأسلمیة نفست بعد وفاۃ زوجها بلیال ، فجاءت النبى صلى الله تعالى عليه وسلم فاستأذنته أن تنکح ، فأذن لها فنکحت " اھ یعنی مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا " اھ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 5119 ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " و أما نحو الحيض و النفاس و الإحرام و الظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم " اھ ( در المختار مع رد المحتار ج 4 ص 40 : کتاب النکاح ، مطبوعہ زکریا ) اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ سے سوال ہوا : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں : حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر و ثناء ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت ، تو جواز یقینی ہے ۔ کما صرحوا به قاطبة یعنی جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے " اھ ( فتاوی افریقہ ص 143 : مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد کراچی )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب قبلہ اس مسئلے میں کہ مسلک شافعی کی عورت سے مسلک حنفی والا نکاح کرسکتا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
المستفتی : حضرت مولانا قاری باشاہ رضا امجدی صاحب قبلہ نورانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* شافعیہ بالغہ عورت باپ کے رضا مندی و اجازت کے بغیر اپنا نکاح حنفی لڑکے سے کر سکتی ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " سئل شيخ الاسلام عطاء بن حمزة عن امرأة شافعية بكر بالغة زوجت نفسها من حنفى بغير اذن ابيها و الاب لا يرضى و رده هل يصح هذا النكاح قال : نعم و كذالك لو زوجت نفسها من شافعى كذا فى الظهيرية " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 287 : کتاب النکاح ، الباب الرابع فی الاولیاء ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " شافعیہ ( امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پیروکار ) عورت بالغہ کوآری نے حنفی ( امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا پیروکار ) سے نکاح کیا اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہوگیا ۔ یوہیں اس کا عکس " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 47 : ولی کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب قبلہ اس مسئلے میں کہ مسلک شافعی کی عورت سے مسلک حنفی والا نکاح کرسکتا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
المستفتی : حضرت مولانا قاری باشاہ رضا امجدی صاحب قبلہ نورانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* شافعیہ بالغہ عورت باپ کے رضا مندی و اجازت کے بغیر اپنا نکاح حنفی لڑکے سے کر سکتی ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " سئل شيخ الاسلام عطاء بن حمزة عن امرأة شافعية بكر بالغة زوجت نفسها من حنفى بغير اذن ابيها و الاب لا يرضى و رده هل يصح هذا النكاح قال : نعم و كذالك لو زوجت نفسها من شافعى كذا فى الظهيرية " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 287 : کتاب النکاح ، الباب الرابع فی الاولیاء ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " شافعیہ ( امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پیروکار ) عورت بالغہ کوآری نے حنفی ( امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا پیروکار ) سے نکاح کیا اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہوگیا ۔ یوہیں اس کا عکس " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 47 : ولی کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لینا اور مرد کو اپنا آلۂ مردمی اپنی بیوی کے منہ میں ڈالنا اور ہمبستری سے قبل شوہر اور بیوی کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کو چاٹنا اور چوسنے کا شرعی حکم
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2017/07/blog-post_182.html?m=1
انسان کا چہرہ ودہن محترم و مکرم اعضاء ہیں ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کریم کے حبیب رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا قاتل أحدکم أخاہ فلیتجنب الوجہ فإن اللہ خلق آدم علی صورتہ ۔
ترجمہ : خلق آدم علی صورتہ“ میں چہرہ کی جو تشریف ہے، اہلِِ دانش پر مخفی نہیں۔اور ظاہر ہے کہ دہن بھی چہرہ ہی کا بعض ہے لہذا مکرم ومعظم ٹھہرا۔پس مناسب نہیں کہ دہن کو اور بالخصوص دہنِ مسلم، جو تسبیح وتھلیل ودرود وسلام میں مصروف رہنا چاہیئے، ایسے ذی شرف عضو کو ایسے اعضاء کے ساتھ مس کیا جائے جو ناپاکیوں اور نجاستوں کی گزرگاہیں ہیں ۔ (صحیح مسلم حدیث رقم ۲۱۶۲، مسند احمد حدیث رقم ۴۱۴۷)
اللہ کریم جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے دائیں دستِ اقدس تک کو ان اعضاء سے دور رکھا کرتے تھے ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں : ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ وثیابہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک ۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۲۳)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں : کانت ید رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الیمنی لطہورہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وماکان من اذی۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۳۳، ۴۳)
بلکہ اگر کوئی شخص اپنے آلہ مردمی کو چھو لے توحدیث میں اس کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم استحبابی وارد ہوا ہے۔بسرۃ بنت صفوان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سن ا: من مس ذکرہ فلیتوضأ۔
(سنن ابی داود حدیث رقم ۱۸۱، جامع الترمذی حدیث رقم ۲۸ قال الترمذی:حسن صحیح، سنن النسائی حدیث رقم ۷۴۴)
جمع بین الاحادیث کے لیے وضوء کے معنی ہاتھ دھونے کے کیے گئے جیسا کہ اپنے محل میں مفصل مذکور ہے۔اور علامہ علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : لا ینقضہ مس ذکر لکن یغسل یدہ ندبا ۔ (در مختار ج۱ص۵۰۴)
جب بلا حاجت ہاتھ سے چھونا مناسب نہیں تو چہرہ ودہن تو زیادہ لائق ہیں کہ انہیں مجاری نجاسات سے دور رکھا جائے۔
ہاں اگر یہ بوسہ ایسی حالت میں ہوکہ مذی کا نہ نکلنا یقینی ہے۔ یعنی ایسی حالت میں کہ نہ تو شوہر و بیوی کا اکٹھا ہونا جماع کے ارادے سے ہو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ مصروفِ ملاعبت ہوں بلکہ عمومی حالات میں ہوں یا کم از کم جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جا رہا ہے وہ عام حالت میں ہو، پھر عام ہے کہ بوسہ بلا حائل ہو یا بیچ میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل ہو بشرطیکہ مخرجِِ بول ومجری حیض سے ہٹ کر ہو تو یہ بوسہ محض خلافِ ادب اور مکارمِ اخلاق کے منافی ہے، اسے مکروہ وحرام کہنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ حنابلہ نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے۔ابو الحسن علی بن سلیمان المرداوی الحنبلی ”الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف“ میں لکھتے ہیں:
قال القاضی فی الجامع یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ وذکرہ عن عطاء۔
پھر فرمایا : ولہا لمسہ وتقبیلہ بشہوۃ وجزم بہ فی الرعایۃ وتبعہ فی الفروع وصرح بہ ابن عقیل . (الانصاف فی معررفۃ الراجح من الخلاف ج۸ص۷۲)
اور ظاہر یہ ہے کہ اگر حالت وہ ہو جو ہم نے اوپر ذکر کی تو ہمارے نزدیک بھی حکم ایسا ہی ہے۔
اور اگر بوسہ مخرجِِ بول ومجری حیض سے ہٹ کر ہولیکن جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جارہاہے وہ شہوت کی حالت میں ہے، تو چونکہ ایسی حالت میں مذی کا خروج غالب ہے جو بعض اوقات غیر محسوس بھی ہوتا ہے۔لہذا اب اس فعل سے اجتناب پہلی صورت کی نسبت زیادہ مؤکد ہے، کیونکہ اب دہن کے نجاست سے آلودہ ہونے کا اندیشہ ہے جو کسی صورت مناسب نہیں۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پیشاب کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے آلہئ مردمی کو چھونے سے منع فرمایا ہے۔حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اذا بال احدکم فلایأخذن ذکرہ بیمینہ ولایستنجی بیمینہ ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۴۵۱، ۰۳۶۵، صحیح مسلم حدیث رقم ۶۳۶)
اور بعض روایات میں دائیں ہاتھ سے مس ذکر کی نھی حالتِ بول کی قید سے مطلق ہے، جیسا کہ حضرت ابو قتادۃ ہی سے مروی ہے، فرمایا:
أن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نھی ان یتنفس فی الاناء وأن یمس ذکرہ بیمینہ وأن یستطیب بیمینہ۔(صحیح مسلم حدیث رقم ۸۳۶، جامع الترمذی حدیث رقم ۵۱، سنن النسائی حدیث رقم ۸۴)
اور بعض روایات میں ہے : واذا اتی الخلاء فلا یمس ذکرہ بیمینہ ولایتمسح بیمینہ۔
(صحیح البخاری حدیث رقم ۳۵۱، صحیح مسلم حدیث رقم ۷۳۶)
ان کلماتِ مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے آلہئ مردمی کو چھونے سے منع کیا جا رہا ہے۔نھی کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ عینی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرما ہیں:
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2017/07/blog-post_182.html?m=1
انسان کا چہرہ ودہن محترم و مکرم اعضاء ہیں ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کریم کے حبیب رحیم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا قاتل أحدکم أخاہ فلیتجنب الوجہ فإن اللہ خلق آدم علی صورتہ ۔
ترجمہ : خلق آدم علی صورتہ“ میں چہرہ کی جو تشریف ہے، اہلِِ دانش پر مخفی نہیں۔اور ظاہر ہے کہ دہن بھی چہرہ ہی کا بعض ہے لہذا مکرم ومعظم ٹھہرا۔پس مناسب نہیں کہ دہن کو اور بالخصوص دہنِ مسلم، جو تسبیح وتھلیل ودرود وسلام میں مصروف رہنا چاہیئے، ایسے ذی شرف عضو کو ایسے اعضاء کے ساتھ مس کیا جائے جو ناپاکیوں اور نجاستوں کی گزرگاہیں ہیں ۔ (صحیح مسلم حدیث رقم ۲۱۶۲، مسند احمد حدیث رقم ۴۱۴۷)
اللہ کریم جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے دائیں دستِ اقدس تک کو ان اعضاء سے دور رکھا کرتے تھے ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں : ان النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ وثیابہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک ۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۲۳)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں : کانت ید رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الیمنی لطہورہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وماکان من اذی۔ (سنن ابی داود حدیث رقم ۳۳، ۴۳)
بلکہ اگر کوئی شخص اپنے آلہ مردمی کو چھو لے توحدیث میں اس کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم استحبابی وارد ہوا ہے۔بسرۃ بنت صفوان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سن ا: من مس ذکرہ فلیتوضأ۔
(سنن ابی داود حدیث رقم ۱۸۱، جامع الترمذی حدیث رقم ۲۸ قال الترمذی:حسن صحیح، سنن النسائی حدیث رقم ۷۴۴)
جمع بین الاحادیث کے لیے وضوء کے معنی ہاتھ دھونے کے کیے گئے جیسا کہ اپنے محل میں مفصل مذکور ہے۔اور علامہ علاء الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : لا ینقضہ مس ذکر لکن یغسل یدہ ندبا ۔ (در مختار ج۱ص۵۰۴)
جب بلا حاجت ہاتھ سے چھونا مناسب نہیں تو چہرہ ودہن تو زیادہ لائق ہیں کہ انہیں مجاری نجاسات سے دور رکھا جائے۔
ہاں اگر یہ بوسہ ایسی حالت میں ہوکہ مذی کا نہ نکلنا یقینی ہے۔ یعنی ایسی حالت میں کہ نہ تو شوہر و بیوی کا اکٹھا ہونا جماع کے ارادے سے ہو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ مصروفِ ملاعبت ہوں بلکہ عمومی حالات میں ہوں یا کم از کم جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جا رہا ہے وہ عام حالت میں ہو، پھر عام ہے کہ بوسہ بلا حائل ہو یا بیچ میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل ہو بشرطیکہ مخرجِِ بول ومجری حیض سے ہٹ کر ہو تو یہ بوسہ محض خلافِ ادب اور مکارمِ اخلاق کے منافی ہے، اسے مکروہ وحرام کہنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ بلکہ حنابلہ نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے۔ابو الحسن علی بن سلیمان المرداوی الحنبلی ”الانصاف فی معرفۃ الراجح من الخلاف“ میں لکھتے ہیں:
قال القاضی فی الجامع یجوز تقبیل فرج المرأۃ قبل الجماع ویکرہ بعدہ وذکرہ عن عطاء۔
پھر فرمایا : ولہا لمسہ وتقبیلہ بشہوۃ وجزم بہ فی الرعایۃ وتبعہ فی الفروع وصرح بہ ابن عقیل . (الانصاف فی معررفۃ الراجح من الخلاف ج۸ص۷۲)
اور ظاہر یہ ہے کہ اگر حالت وہ ہو جو ہم نے اوپر ذکر کی تو ہمارے نزدیک بھی حکم ایسا ہی ہے۔
اور اگر بوسہ مخرجِِ بول ومجری حیض سے ہٹ کر ہولیکن جس کی شرمگاہ کا بوسہ لیا جارہاہے وہ شہوت کی حالت میں ہے، تو چونکہ ایسی حالت میں مذی کا خروج غالب ہے جو بعض اوقات غیر محسوس بھی ہوتا ہے۔لہذا اب اس فعل سے اجتناب پہلی صورت کی نسبت زیادہ مؤکد ہے، کیونکہ اب دہن کے نجاست سے آلودہ ہونے کا اندیشہ ہے جو کسی صورت مناسب نہیں۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے پیشاب کرتے ہوئے دائیں ہاتھ سے آلہئ مردمی کو چھونے سے منع فرمایا ہے۔حضرت ابو قتادۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ جل وعلا کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اذا بال احدکم فلایأخذن ذکرہ بیمینہ ولایستنجی بیمینہ ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۴۵۱، ۰۳۶۵، صحیح مسلم حدیث رقم ۶۳۶)
اور بعض روایات میں دائیں ہاتھ سے مس ذکر کی نھی حالتِ بول کی قید سے مطلق ہے، جیسا کہ حضرت ابو قتادۃ ہی سے مروی ہے، فرمایا:
أن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نھی ان یتنفس فی الاناء وأن یمس ذکرہ بیمینہ وأن یستطیب بیمینہ۔(صحیح مسلم حدیث رقم ۸۳۶، جامع الترمذی حدیث رقم ۵۱، سنن النسائی حدیث رقم ۸۴)
اور بعض روایات میں ہے : واذا اتی الخلاء فلا یمس ذکرہ بیمینہ ولایتمسح بیمینہ۔
(صحیح البخاری حدیث رقم ۳۵۱، صحیح مسلم حدیث رقم ۷۳۶)
ان کلماتِ مبارکہ میں دائیں ہاتھ سے آلہئ مردمی کو چھونے سے منع کیا جا رہا ہے۔نھی کا سبب بیان کرتے ہوئے علامہ عینی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرما ہیں:
قولہ فلا یمس ذکرہ بیمینہ النہی فیہ تنزیہ لہا عن مبشارۃ العضو الذی یکون فیہ الأذی والحدث وکان النبی یجعل یمناہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ مصونۃ عن مباشرۃ الثفل ومماسۃ الأعضاء التی ہی مجاری الأثفال والنجاسات ویسراہ لخدمۃ أسافل بدنہ وإماطۃ ما ہناک من القاذورات وتنظیف ما یحدث فیہا من الأدناس ۔ (عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱)
بعد ازاں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ یہ نہی حالتِ بول کے ساتھ مقید ہے یا مطلق، علامہ عینی تحریر فرما ہیں : فإن قلت الحدیث یقتضی النہی عن مس الذکر بالیمین حالۃ البول وکیف الحکم فی غیر ہذہ الحالۃ قلت روی أبو داود بسند صحیح من حدیث عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کانت ید رسول اللہ الیمنی لطہورہ وطعامہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وما کان من أذی وأخرجہ بقیۃ الجماعۃ أیضا وروی أیضا من حدیث حفصۃ زوج النبی علیہ الصلاۃ والسلام قالت کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک وظاہر ہذا یدل علی عموم الحکم علی أنہ قد روی النہی عن مسہ بالیمین مطلقا غیر مقید بحالۃ البول فمن الناس من أخذ بہذا المطلق ومنہم من حملہ علی الخاص بعد أن ینظر فی الروایتین ہل ہما حدیثان أو حدیث واحد فإن کانا حدیثا واحدا مخرجہ واحد واختلفت فیہ الرواۃ فینبغی حمل المطلق علی المقید لأنہا تکون زیادۃ من عدل فی حدیث واحد فتقبل وإن کانا حدیثین فالأمر فی حکم الإطلاق والتقیید علی ما ذکر۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱)
البنایۃ میں فرمایا : قولہ:لا یمس ذکرہ، ہذا إذا کان فی الخلاء، وعلی الإطلاق ما روی عن عثمان رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أنہ قال:ما تعنیت ولا تمنیت ولا مسست ذکری بیمینی منذ بایعت رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہذا إکرام الیمین وإجلال النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہو من باب الآداب عند الفقہاء۔ (البنایۃ ج۱ص۰۶۷)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ:حالتِ غیرِ بول میں اگرچہ علماء کے مابین اختلاف ہے لیکن حالتِ بول سے متعلق علماء متفق ہیں کہ دائیں ہاتھ کے شرف کے باعث اسے آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے۔
اہلِ فہم پہ مخفی نہیں کہ حالتِ بول کی قید محض اس لیے ہے کہ بول نجاست ہے۔پس کلامِ بالا کے معنی یہ ہوئے کہ نجاست کے خروج کی حالت میں دائیں ہاتھ کو آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے۔
اور جس طرح بول نجاست ہے یوں ہی ”مذی“ بھی نجاست ہے۔حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ نے حضرت مقداد کے توسط سے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مذی سے متعلق پچھوایا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : فیہ الوضوء ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۲۳۱، ۸۷۱)
مذی کے خروج سے وضوء کاجانا مذی کی نجاست کی دلیل بین ہے۔اور محض نجاست نہیں بلکہ بول کی طرح نجاستِ غلیظہ ہے۔البحر الرائق میں ہے:
کل ما یخرج من بدن الإنسان مما یوجب خروجہ الوضوء أو الغسل فہو مغلظ کالغائط والبول والمنی والمذی والودی والقیح والصدید والقیء إذا ملأ الفم۔ (البحر الرائق ج۱ص۲۴۲)
پس کلامِ بالا سے ہمیں دو مقدمے حاصل ہوئے : (1): مذی نجاست ہے۔ (2): نجاست کے آلۂ تناسل سے خروج کے وقت دائیں ہاتھ سے اسے چھونا منع ہے۔
ان دونوں کے ضم سے اس امر کا حصول بدیہی ہے کہ:مذی کے خروج کے وقت آلۂ تناسل کو چھونا منع ہے۔
اور اس نتیجہ سے بطورِ دلالت ثابت کہ مذی کے خروج کے وقت مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کا بوسہ لینا منع ہے۔کیونکہ انسان کا دہن شرف و کرامت میں دائیں ہاتھ کے شرف سے کہیں زیادہ ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم مذکورہ بالا حالت میں مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کے بوسہ کو حرام نہیں کہتے۔کیونکہ حالتِ بول میں آلہئ تناسل کو دائیں ہاتھ سے چھونا جمہور کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اگرچہ اہلِ ظاہر کے ہاں مکروہ تحریمی ہے۔عمدۃ القاری پھر طحطاوی علی المراقی میں ہے:
فإن قلت النہی فیہ تنزیہ أو تحریم قلت للتنزیہ عند الجمہور لأن النہی فیہ لمعنیین أحدہما لرفع قدر الیمین والآخر أنہ لو باشر النجاسۃ بہا یتذکر عند تناولہ الطعام ما باشرت یمینہ من النجاسۃ فینفر طبعہ من ذلک وحملہ اہل الظاہر علی التحریم۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱، حاشیۃ الطحطاوی ص۳۳)
(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
لہٰذا مذکورہ بالا حالت میں بوسہ بھی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہونا چاہیئے۔لیکن چونکہ دہن کا شرف دائیں ہاتھ کے شرف سے زیادہ ہے لہذا اس بوسہ کی کراہت حالتِ بول میں دائیں ہاتھ سے آلہئ تناسل چھونے کی کراہت سے مؤکد ہونی چاہیئے۔
رہی یہ صورت کہ مرد اور عورت شہوت کی حالت میں، جبکہ مذی خارج ہو رہی ہو اور وہ دونوں ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں اور مخرجِِ بول ومجری حیض سے اجتناب نہ کریں تو یہ بوسہ سخت منع ومکروہ تحریمی ہے اوراس فعلِ بد سے بچنا واجب ہے اور اس کی دلیل دوسرے سوال کے جواب کے ضمن میں مذکور ہوگی۔ان شاء اللہ جل وعلا ۔
بعد ازاں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ یہ نہی حالتِ بول کے ساتھ مقید ہے یا مطلق، علامہ عینی تحریر فرما ہیں : فإن قلت الحدیث یقتضی النہی عن مس الذکر بالیمین حالۃ البول وکیف الحکم فی غیر ہذہ الحالۃ قلت روی أبو داود بسند صحیح من حدیث عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت کانت ید رسول اللہ الیمنی لطہورہ وطعامہ وکانت یدہ الیسری لخلاۂ وما کان من أذی وأخرجہ بقیۃ الجماعۃ أیضا وروی أیضا من حدیث حفصۃ زوج النبی علیہ الصلاۃ والسلام قالت کان یجعل یمینہ لطعامہ وشرابہ ولباسہ ویجعل شمالہ لما سوی ذلک وظاہر ہذا یدل علی عموم الحکم علی أنہ قد روی النہی عن مسہ بالیمین مطلقا غیر مقید بحالۃ البول فمن الناس من أخذ بہذا المطلق ومنہم من حملہ علی الخاص بعد أن ینظر فی الروایتین ہل ہما حدیثان أو حدیث واحد فإن کانا حدیثا واحدا مخرجہ واحد واختلفت فیہ الرواۃ فینبغی حمل المطلق علی المقید لأنہا تکون زیادۃ من عدل فی حدیث واحد فتقبل وإن کانا حدیثین فالأمر فی حکم الإطلاق والتقیید علی ما ذکر۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱)
البنایۃ میں فرمایا : قولہ:لا یمس ذکرہ، ہذا إذا کان فی الخلاء، وعلی الإطلاق ما روی عن عثمان رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أنہ قال:ما تعنیت ولا تمنیت ولا مسست ذکری بیمینی منذ بایعت رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہذا إکرام الیمین وإجلال النبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وہو من باب الآداب عند الفقہاء۔ (البنایۃ ج۱ص۰۶۷)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ:حالتِ غیرِ بول میں اگرچہ علماء کے مابین اختلاف ہے لیکن حالتِ بول سے متعلق علماء متفق ہیں کہ دائیں ہاتھ کے شرف کے باعث اسے آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے۔
اہلِ فہم پہ مخفی نہیں کہ حالتِ بول کی قید محض اس لیے ہے کہ بول نجاست ہے۔پس کلامِ بالا کے معنی یہ ہوئے کہ نجاست کے خروج کی حالت میں دائیں ہاتھ کو آلہئ تناسل سے دور رکھنا چاہیئے۔
اور جس طرح بول نجاست ہے یوں ہی ”مذی“ بھی نجاست ہے۔حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجھہ نے حضرت مقداد کے توسط سے سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے مذی سے متعلق پچھوایا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : فیہ الوضوء ۔ (صحیح البخاری حدیث رقم ۲۳۱، ۸۷۱)
مذی کے خروج سے وضوء کاجانا مذی کی نجاست کی دلیل بین ہے۔اور محض نجاست نہیں بلکہ بول کی طرح نجاستِ غلیظہ ہے۔البحر الرائق میں ہے:
کل ما یخرج من بدن الإنسان مما یوجب خروجہ الوضوء أو الغسل فہو مغلظ کالغائط والبول والمنی والمذی والودی والقیح والصدید والقیء إذا ملأ الفم۔ (البحر الرائق ج۱ص۲۴۲)
پس کلامِ بالا سے ہمیں دو مقدمے حاصل ہوئے : (1): مذی نجاست ہے۔ (2): نجاست کے آلۂ تناسل سے خروج کے وقت دائیں ہاتھ سے اسے چھونا منع ہے۔
ان دونوں کے ضم سے اس امر کا حصول بدیہی ہے کہ:مذی کے خروج کے وقت آلۂ تناسل کو چھونا منع ہے۔
اور اس نتیجہ سے بطورِ دلالت ثابت کہ مذی کے خروج کے وقت مرد اور عورت کا ایک دوسرے کے اعضاءِ تناسلیہ کا بوسہ لینا منع ہے۔کیونکہ انسان کا دہن شرف و کرامت میں دائیں ہاتھ کے شرف سے کہیں زیادہ ہے۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم مذکورہ بالا حالت میں مرد اور عورت کے ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کے بوسہ کو حرام نہیں کہتے۔کیونکہ حالتِ بول میں آلہئ تناسل کو دائیں ہاتھ سے چھونا جمہور کے نزدیک مکروہ تنزیہی ہے اگرچہ اہلِ ظاہر کے ہاں مکروہ تحریمی ہے۔عمدۃ القاری پھر طحطاوی علی المراقی میں ہے:
فإن قلت النہی فیہ تنزیہ أو تحریم قلت للتنزیہ عند الجمہور لأن النہی فیہ لمعنیین أحدہما لرفع قدر الیمین والآخر أنہ لو باشر النجاسۃ بہا یتذکر عند تناولہ الطعام ما باشرت یمینہ من النجاسۃ فینفر طبعہ من ذلک وحملہ اہل الظاہر علی التحریم۔(عمدۃ القاری ج۴ص۷۶۱، حاشیۃ الطحطاوی ص۳۳)
(دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
لہٰذا مذکورہ بالا حالت میں بوسہ بھی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ مکروہ تنزیہی ہونا چاہیئے۔لیکن چونکہ دہن کا شرف دائیں ہاتھ کے شرف سے زیادہ ہے لہذا اس بوسہ کی کراہت حالتِ بول میں دائیں ہاتھ سے آلہئ تناسل چھونے کی کراہت سے مؤکد ہونی چاہیئے۔
رہی یہ صورت کہ مرد اور عورت شہوت کی حالت میں، جبکہ مذی خارج ہو رہی ہو اور وہ دونوں ایک دوسرے کے اعضاء تناسلیہ کا بوسہ لیں اور مخرجِِ بول ومجری حیض سے اجتناب نہ کریں تو یہ بوسہ سخت منع ومکروہ تحریمی ہے اوراس فعلِ بد سے بچنا واجب ہے اور اس کی دلیل دوسرے سوال کے جواب کے ضمن میں مذکور ہوگی۔ان شاء اللہ جل وعلا ۔
اللہ کریم جل مجدہ نے نکاح سے عورت کومرد کے لیے حلال فرمایا ہے اور مرد اپنی عورت کے پاس جیسے چاہے آسکتا ہے جیسا کہ اللہ کریم سبحانہ وتعالی نے فرمایا : نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم ۔
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو تم تمہاری کھیتی کوجیسے چاہو آؤ۔ (البقرۃ۳۲۲)
لیکن یہ اطلاق کیفیتِ اتیان میں ہے یعنی مرد اپنی بیوی کے پاس جیسے چاہے آسکتا ہے، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، آگے کھڑے ہوکر، پیچھے کھڑے ہوکر، وغیرہ وغیرہ۔رہا محلِ اتیان تو اس میں اطلاق نہیں، یعنی مرد کو یہ چھوٹ نہیں کہ عورت کے کسی بھی سوراخ میں اپنا آلہئئ مردمی داخل کرے……بلکہ سوراخوں میں سے ایک ہی سوراخ مرد کے لیے متعین ہے اور وہ ہے عورت کا اگلا مقام۔
اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے اللہ کریم جل مجدہ کے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا، حضرت عبد اللہ بن عباس راوی کہ حبیب رب العالمین نے فرمایا : ائتھا مقبلۃ ومدبرۃ اذا کان ذلک فی الفرج ۔(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۸۰۸۲۱، المعجم الاوسط لہ حدیث رقم ۳۸۲۳، شرح مشکل الآثار للطحاوی حدیث رقم ۸۲۱۶، شرح معانی الآثار حدیث رقم ۱۰۴۴)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : مقبلۃ ومدبرۃ ماکان فی الفرج۔(شرح معانی الآثار حدیث رقم ۲۹۳۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:یأتیھا کیف شاء ما لم یکن یأتیھا فی دبرھا او فی الحیض۔(جامع البیان ج۴ص۸۹۳)
دوسری روایت میں ہے:یأتیھا قائمۃ وقاعدۃ ومن بین یدیھا ومن خلفھا وکیف شاء بعد ان یکون فی المأتی۔(مساویئ الاخلاق حدیث۸۴۴)
حضرت عکرمہ نے فرمایا: یأتیھا کیف شاء قائم وقاعد وعلی کل حال یأتیھا ما لم یکن فی دبرھا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ج۴ص۹۲۲)
اگر اس باب میں مرویات کا احاطہ کیا جائے تو لاتعداد مرفوعات، موقوفات ومقطوعات موجود ہیں جن کا ذکر اس مختصر تحریر کو نہایت درجہ طویل کر دے گا۔اس لیے مذکورہ مرویات پر ہی اکتفاء مناسب ہے۔
بہرحال ان کلمات نے ہمیں بتا دیا کہ اس آیت میں عورت کے پاس جیسے چاہو آنے کی چھوٹ دی جا رہی ہے لیکن جہاں چاہو کی چھوٹ ہر گز نہیں۔
بلکہ ان کلمات شریفہ سے ہٹ کر خود آیہئ مقدسہ کے کلمات مقدسہ کودیکھا جائے تو وہ بھی راہنمائی میں کافی ہیں، کیونکہ فرمایا:فأتوا حرثکم۔اپنی کھیتیوں کو آؤ۔
ظاہر ہے کہ عورت حقیقی کھیتی تو ہے نہیں، بلکہ آیہئ مقدسہ میں کھیتی کے ساتھ تشبیہ ہے جو تقاضا فرما ہے کہ تم اپنی بیوی کے پاس آؤ لیکن اس جگہ سے جو کھیتی کی جگہ ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ کھیتی کا محل عورت کے بدن میں نہ تو اس کا منہ ہے اور نہ ہی پچھلا مقام، توپھر وہ مقامات کیسے حلال ہوسکتے ہیں؟؟؟
اسی بات کو بیان کرتے ہوئے قاضی ابو محمد عبد الحق ابن عطیۃ الاندلسی المحاربی (المتوفی ۲۴۵ ھ) پھر شمس الدین قرطبی رحمہ اللہ تعالی (المتوفی ۱۷۶ ھ)، پھر ابو زید عبد الرحمن بن محمد الثعالبی (المتوفی ۵۷۸ھ) نے فرمایا:
لفظ الحرث یعطی ان الاباحۃ لم تقع الا فی الفرج خاصۃ اذ ھو المزدرع۔(المحرر الوجیز ج۱ ص۰۵۲، الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ج۳ص۳۹، الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن للثعالبی ج۱ص۹۲۱)
مذکورہ بالا آیہ مقدسہ سے پچھلی آیت میں ہے : فاذا تطھرن فأتوھن من حیث امرکم اللہ۔ (البقرۃ ۲۲۲)
جب تمہاری عورتیں پاک ہو جائیں تو اب تم ان کے پاس وہاں سے آؤ جہاں کی اللہ سبحانہ وتعالی نے تمہیں اجازت دی ہے۔
اتیان کی ”من حیث امرکم اللہ“ سے تقیید دال ہے کہ عورت کے پاس آنا صرف اس مقام سے حلال ہے جس کی اللہ سبحانہ وتعالی نے اجازت دی، ورنہ محض ”فاذا تطھرن فأتوھن“ فرما دینا کافی لگتا ہے۔اور جس مقام کی اللہ کریم جل مجدہ نے اجازت دی اس کا ذکر بعد والی آیت میں فرما دیا، یعنی:کھیتی کی جگہ۔پس اس آیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عورت کے پاس صرف اسی مقام سے آیا جا سکتا ہے جو کھیتی کی جگہ ہے اس کے علاوہ……چاہے وہ عورت کا پچھلا مقام ہو یا منہ……اس میں آنا حلال نہیں۔
ایک دوسری آیۂ مبارکہ میں ہے:فالآن باشروھن وابتغوا ماکتب اللہ لکم۔(البقرۃ ۷۸۱)
پس اب تم اپنی بیویوں سے ہمبستری کرو اور اللہ کریم جل مجدہ نے جو کچھ تمہارا مقدر کیا اسے ڈھونڈو۔
آیہ مقدسہ کے دوسرے جملہ میں بیوی سے مباشرت کا مقصد بتایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے مقدر یعنی اولاد کی تلاش۔اور ظاہر سی بات ہے کہ جس طرح عورت کی دبر اولاد کی تلاش کا محل نہیں، عورت کا منہ بھی اس چیز کا محل نہیں، پس دونوں میں سے کسی کے بھی حلال ہونے کا کوئی سبب نہیں۔
بعض اذھان کی فکر یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات محض عورت کے اگلے مقام کی حل کے بیان میں ہیں، رہی اس کے ماسوا کی حرمت تو اس باب میں یہ آیات ساکت ہیں۔
لیکن حق یہ ہے کہ:مذکورہ بالا آیاتِ بینات سے محض عورت کے اگلے مقام کی حلت مستفاد نہیں بلکہ حلت کا اس مقام میں حصر بھی مستفاد ہے جس کے صریح معنی دیگر سوراخوں کی حرمت کے ہیں۔
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو تم تمہاری کھیتی کوجیسے چاہو آؤ۔ (البقرۃ۳۲۲)
لیکن یہ اطلاق کیفیتِ اتیان میں ہے یعنی مرد اپنی بیوی کے پاس جیسے چاہے آسکتا ہے، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، آگے کھڑے ہوکر، پیچھے کھڑے ہوکر، وغیرہ وغیرہ۔رہا محلِ اتیان تو اس میں اطلاق نہیں، یعنی مرد کو یہ چھوٹ نہیں کہ عورت کے کسی بھی سوراخ میں اپنا آلہئئ مردمی داخل کرے……بلکہ سوراخوں میں سے ایک ہی سوراخ مرد کے لیے متعین ہے اور وہ ہے عورت کا اگلا مقام۔
اسی بات کو بیان فرماتے ہوئے اللہ کریم جل مجدہ کے حبیب کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا، حضرت عبد اللہ بن عباس راوی کہ حبیب رب العالمین نے فرمایا : ائتھا مقبلۃ ومدبرۃ اذا کان ذلک فی الفرج ۔(المعجم الکبیر للطبرانی حدیث رقم ۸۰۸۲۱، المعجم الاوسط لہ حدیث رقم ۳۸۲۳، شرح مشکل الآثار للطحاوی حدیث رقم ۸۲۱۶، شرح معانی الآثار حدیث رقم ۱۰۴۴)
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : مقبلۃ ومدبرۃ ماکان فی الفرج۔(شرح معانی الآثار حدیث رقم ۲۹۳۴)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:یأتیھا کیف شاء ما لم یکن یأتیھا فی دبرھا او فی الحیض۔(جامع البیان ج۴ص۸۹۳)
دوسری روایت میں ہے:یأتیھا قائمۃ وقاعدۃ ومن بین یدیھا ومن خلفھا وکیف شاء بعد ان یکون فی المأتی۔(مساویئ الاخلاق حدیث۸۴۴)
حضرت عکرمہ نے فرمایا: یأتیھا کیف شاء قائم وقاعد وعلی کل حال یأتیھا ما لم یکن فی دبرھا۔(مصنف ابن ابی شیبۃ ج۴ص۹۲۲)
اگر اس باب میں مرویات کا احاطہ کیا جائے تو لاتعداد مرفوعات، موقوفات ومقطوعات موجود ہیں جن کا ذکر اس مختصر تحریر کو نہایت درجہ طویل کر دے گا۔اس لیے مذکورہ مرویات پر ہی اکتفاء مناسب ہے۔
بہرحال ان کلمات نے ہمیں بتا دیا کہ اس آیت میں عورت کے پاس جیسے چاہو آنے کی چھوٹ دی جا رہی ہے لیکن جہاں چاہو کی چھوٹ ہر گز نہیں۔
بلکہ ان کلمات شریفہ سے ہٹ کر خود آیہئ مقدسہ کے کلمات مقدسہ کودیکھا جائے تو وہ بھی راہنمائی میں کافی ہیں، کیونکہ فرمایا:فأتوا حرثکم۔اپنی کھیتیوں کو آؤ۔
ظاہر ہے کہ عورت حقیقی کھیتی تو ہے نہیں، بلکہ آیہئ مقدسہ میں کھیتی کے ساتھ تشبیہ ہے جو تقاضا فرما ہے کہ تم اپنی بیوی کے پاس آؤ لیکن اس جگہ سے جو کھیتی کی جگہ ہے، اور ظاہر سی بات ہے کہ کھیتی کا محل عورت کے بدن میں نہ تو اس کا منہ ہے اور نہ ہی پچھلا مقام، توپھر وہ مقامات کیسے حلال ہوسکتے ہیں؟؟؟
اسی بات کو بیان کرتے ہوئے قاضی ابو محمد عبد الحق ابن عطیۃ الاندلسی المحاربی (المتوفی ۲۴۵ ھ) پھر شمس الدین قرطبی رحمہ اللہ تعالی (المتوفی ۱۷۶ ھ)، پھر ابو زید عبد الرحمن بن محمد الثعالبی (المتوفی ۵۷۸ھ) نے فرمایا:
لفظ الحرث یعطی ان الاباحۃ لم تقع الا فی الفرج خاصۃ اذ ھو المزدرع۔(المحرر الوجیز ج۱ ص۰۵۲، الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ج۳ص۳۹، الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن للثعالبی ج۱ص۹۲۱)
مذکورہ بالا آیہ مقدسہ سے پچھلی آیت میں ہے : فاذا تطھرن فأتوھن من حیث امرکم اللہ۔ (البقرۃ ۲۲۲)
جب تمہاری عورتیں پاک ہو جائیں تو اب تم ان کے پاس وہاں سے آؤ جہاں کی اللہ سبحانہ وتعالی نے تمہیں اجازت دی ہے۔
اتیان کی ”من حیث امرکم اللہ“ سے تقیید دال ہے کہ عورت کے پاس آنا صرف اس مقام سے حلال ہے جس کی اللہ سبحانہ وتعالی نے اجازت دی، ورنہ محض ”فاذا تطھرن فأتوھن“ فرما دینا کافی لگتا ہے۔اور جس مقام کی اللہ کریم جل مجدہ نے اجازت دی اس کا ذکر بعد والی آیت میں فرما دیا، یعنی:کھیتی کی جگہ۔پس اس آیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عورت کے پاس صرف اسی مقام سے آیا جا سکتا ہے جو کھیتی کی جگہ ہے اس کے علاوہ……چاہے وہ عورت کا پچھلا مقام ہو یا منہ……اس میں آنا حلال نہیں۔
ایک دوسری آیۂ مبارکہ میں ہے:فالآن باشروھن وابتغوا ماکتب اللہ لکم۔(البقرۃ ۷۸۱)
پس اب تم اپنی بیویوں سے ہمبستری کرو اور اللہ کریم جل مجدہ نے جو کچھ تمہارا مقدر کیا اسے ڈھونڈو۔
آیہ مقدسہ کے دوسرے جملہ میں بیوی سے مباشرت کا مقصد بتایا جارہا ہے اور وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے مقدر یعنی اولاد کی تلاش۔اور ظاہر سی بات ہے کہ جس طرح عورت کی دبر اولاد کی تلاش کا محل نہیں، عورت کا منہ بھی اس چیز کا محل نہیں، پس دونوں میں سے کسی کے بھی حلال ہونے کا کوئی سبب نہیں۔
بعض اذھان کی فکر یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات محض عورت کے اگلے مقام کی حل کے بیان میں ہیں، رہی اس کے ماسوا کی حرمت تو اس باب میں یہ آیات ساکت ہیں۔
لیکن حق یہ ہے کہ:مذکورہ بالا آیاتِ بینات سے محض عورت کے اگلے مقام کی حلت مستفاد نہیں بلکہ حلت کا اس مقام میں حصر بھی مستفاد ہے جس کے صریح معنی دیگر سوراخوں کی حرمت کے ہیں۔
👍1