🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㊴
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آقا کریم ﷺ کی مبارک شانیں
🌹فیضان معراج النبی ﷺ💐
فتاویٰ رضویہ شریف جلد 18
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آقا کریم ﷺ کی مبارک شانیں
🌹فیضان معراج النبی ﷺ💐
فتاویٰ رضویہ شریف جلد 18
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㊵
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
طبقۂ ناریہ اور طبقۂ جمہریریہ
رجب المرجب اور شب معراج
معراج اور عقل ✍مفتی قاسم
شب معراج کیسے گذاریں؟ کامران
شب معراج سے متعلق تین باتیں!
شب معراج کے اعمال | دار الرضا
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
طبقۂ ناریہ اور طبقۂ جمہریریہ
رجب المرجب اور شب معراج
معراج اور عقل ✍مفتی قاسم
شب معراج کیسے گذاریں؟ کامران
شب معراج سے متعلق تین باتیں!
شب معراج کے اعمال | دار الرضا
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ شادی کی تاریخ مقرر تھی اور لڑکی کو حیض آگیا تو حیض کی حالت میں کیا نکاح ہوسکتا ہے کہ نہیں ؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
سائل : مرسلین خان قادری پلیا کلاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* نکاح کے وقت اگر عورت حالت حیض میں ہو یا مرد جنابت کی حالت میں ہو یا گواہوں میں سے کوئی ناپاکی کی حالت میں ہو اور ناپاکی کپڑوں پر بھی لگی ہو ان تمام صورتوں میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجائے گا ، البتہ جب تک عورت حالت حیض میں رہے گی شوہر کے لئے جماع کرنا جائز نہیں ہوگا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " عن المسور بن مخرمة أن سبیعة الأسلمیة نفست بعد وفاۃ زوجها بلیال ، فجاءت النبى صلى الله تعالى عليه وسلم فاستأذنته أن تنکح ، فأذن لها فنکحت " اھ یعنی مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا " اھ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 5119 ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " و أما نحو الحيض و النفاس و الإحرام و الظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم " اھ ( در المختار مع رد المحتار ج 4 ص 40 : کتاب النکاح ، مطبوعہ زکریا ) اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ سے سوال ہوا : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں : حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر و ثناء ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت ، تو جواز یقینی ہے ۔ کما صرحوا به قاطبة یعنی جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے " اھ ( فتاوی افریقہ ص 143 : مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد کراچی )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ شادی کی تاریخ مقرر تھی اور لڑکی کو حیض آگیا تو حیض کی حالت میں کیا نکاح ہوسکتا ہے کہ نہیں ؟ اس کا جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
سائل : مرسلین خان قادری پلیا کلاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* نکاح کے وقت اگر عورت حالت حیض میں ہو یا مرد جنابت کی حالت میں ہو یا گواہوں میں سے کوئی ناپاکی کی حالت میں ہو اور ناپاکی کپڑوں پر بھی لگی ہو ان تمام صورتوں میں گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہوجائے گا ، البتہ جب تک عورت حالت حیض میں رہے گی شوہر کے لئے جماع کرنا جائز نہیں ہوگا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ " عن المسور بن مخرمة أن سبیعة الأسلمیة نفست بعد وفاۃ زوجها بلیال ، فجاءت النبى صلى الله تعالى عليه وسلم فاستأذنته أن تنکح ، فأذن لها فنکحت " اھ یعنی مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا " اھ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : 5119 ) اور در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ " و أما نحو الحيض و النفاس و الإحرام و الظهار قبل التكفير فهو مانع من حل الوطء لا من محلية العقد فافهم " اھ ( در المختار مع رد المحتار ج 4 ص 40 : کتاب النکاح ، مطبوعہ زکریا ) اور امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ سے سوال ہوا : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟ تو آپ جواب ارشاد فرماتے ہیں : حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر و ثناء ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت ، تو جواز یقینی ہے ۔ کما صرحوا به قاطبة یعنی جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے " اھ ( فتاوی افریقہ ص 143 : مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد کراچی )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1
Forwarded from ✰کریم اللہ رضوی استاذ دار العلوم مخدومیہ جوگیشوری ممبئی✰
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب قبلہ اس مسئلے میں کہ مسلک شافعی کی عورت سے مسلک حنفی والا نکاح کرسکتا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
المستفتی : حضرت مولانا قاری باشاہ رضا امجدی صاحب قبلہ نورانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* شافعیہ بالغہ عورت باپ کے رضا مندی و اجازت کے بغیر اپنا نکاح حنفی لڑکے سے کر سکتی ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " سئل شيخ الاسلام عطاء بن حمزة عن امرأة شافعية بكر بالغة زوجت نفسها من حنفى بغير اذن ابيها و الاب لا يرضى و رده هل يصح هذا النكاح قال : نعم و كذالك لو زوجت نفسها من شافعى كذا فى الظهيرية " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 287 : کتاب النکاح ، الباب الرابع فی الاولیاء ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " شافعیہ ( امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پیروکار ) عورت بالغہ کوآری نے حنفی ( امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا پیروکار ) سے نکاح کیا اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہوگیا ۔ یوہیں اس کا عکس " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 47 : ولی کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب قبلہ اس مسئلے میں کہ مسلک شافعی کی عورت سے مسلک حنفی والا نکاح کرسکتا ہے ؟
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ۔
المستفتی : حضرت مولانا قاری باشاہ رضا امجدی صاحب قبلہ نورانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
*جواب* شافعیہ بالغہ عورت باپ کے رضا مندی و اجازت کے بغیر اپنا نکاح حنفی لڑکے سے کر سکتی ہے جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ " سئل شيخ الاسلام عطاء بن حمزة عن امرأة شافعية بكر بالغة زوجت نفسها من حنفى بغير اذن ابيها و الاب لا يرضى و رده هل يصح هذا النكاح قال : نعم و كذالك لو زوجت نفسها من شافعى كذا فى الظهيرية " اھ ( فتاوی عالمگیری ج 1 ص 287 : کتاب النکاح ، الباب الرابع فی الاولیاء ) اور بہار شریعت میں ہے کہ " شافعیہ ( امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی پیروکار ) عورت بالغہ کوآری نے حنفی ( امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا پیروکار ) سے نکاح کیا اور اس کا باپ راضی نہیں تو نکاح صحیح ہوگیا ۔ یوہیں اس کا عکس " اھ ( بہار شریعت ج 2 ص 47 : ولی کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب
کریم اللہ رضوی
خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی موبائل نمبر 7666456313
❤1