Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯مسجد اقصیٰ کو اقصیٰ کیوں کہتے ہیں اور تعمیر کی ابتداء و انتہا🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الســــلام علیــــکم و رحـــمۃ اللہ و بــرکاتہ*
*مسجد اقصیٰ کو اقصیٰ کیوں کہتے ہیں؟ اور اس کی تعمیر سب پہلے شروع کون کیے اور ختم کون کئے؟*
*ســائـــل: ☜محمـــد مـحـــسن رضــــا*
*▼ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ــــــــــــــــــــــــــــــ▼*
*وعلیـــــکم الســــلام ورحــمتہ اللہ و بـــرکاتہ*
*📚اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 16/1 میں لکھا ہے کہ ’’*
*یروشلم کا عام عربی نام القدس ہے جسے قدیم مصنفین عام طور پر بیت المقدس (بعض بیت المقدس) لکھتے ہیں، دراصل اس سے مراد ہیکل (سلیمانی) تھا جو عبرانی بیت ہمدقش کا ترجمہ ہے لیکن بعد میں اس لفظ کا اطلاق تمام شہر پر ہونے لگا- یہ مصنفین ایلیا کا لفظ بھی جو Aelia سے لیا گیا، بکثرت استعمال کرتے ہیں- انہیں اس کا قدیم نام Jerusalem بھی معلوم تھا جسے وہ اور یشلم اور یسلم اور یشلم بھی لکھتے ہیں-‘‘ کتاب مقدس (بائبل سوسائٹی) میں اسے یروشلم لکھا گیا ہے- ’’بیت المقدس‘‘ سے مراد مبارک گھر‘‘ یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے سے گناہوں سے پاک ہوا جانا ہے-*
*👈نام مسجد اقصیٰ : اس لئے کہ مسجد حرام سے دور ہے*
*اقصی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بہت دور کے ہیں- ایک صدی میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا- مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو کلو میٹر ہے- بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے- انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صہیون جس پر مسجد اقصی اور قبة الصخرة واقع ہیں- کوہ صہیون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک صہیونیت قائم کی گئی-*
*سب سے پہلے حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط نے عراق سے برکت والی سرزمین یعنی بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی- مسجد اقصی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے-*
*مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصی یا الحرم القدس الشریف کہتے ہیں- یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے- یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں-*
*حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصی میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے-*
*📖قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:*
*’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات ہی مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لیے کہ ہم نے اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائے یقینا اللہ تعالی ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے-*
*📖(سورہ الاسراء آیت نمبر 6)*
*حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے:*
*’’میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟*
*تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام (بیت اللہ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: مسجد اقصی، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھر جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے-*
*📚(صحیح بخاری حدیث نمبر 3366،*
*📚صحیح مسلم حدیث نمبر 520)*
*حضرت یعقوب نے وحی الہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا- پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان (961 ق م) کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی- اسی لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے تھے-*
*📚اسلامی عہد میں مسجد اقصی کی تعمیر:*
*137ق م میں رومی شہنشہاہ ہیڈرین نے یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا وطن کردیا- چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجے تعمیر کیے- جب نبی کریم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اس وقت یہاں کوئی ہیکل نہ تھا، چنانچہ قرآن میں مسجد کی جگہ ہی کو مسجد اقصی کہا گیا- 2ھ /624 تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا-*
*📚تاریخی جواب بذریعے نیٹ*
*اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 16/1*
*واللہ اعــــــلم بــــالصــــــواب*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــــرف قلـــــم📝*
*اسیر حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مـحـمـــد شعیب رضـــا نـــوری مہوتری نیپال مقیم حال، قطر*
*+974 5528 0304*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الســــلام علیــــکم و رحـــمۃ اللہ و بــرکاتہ*
*مسجد اقصیٰ کو اقصیٰ کیوں کہتے ہیں؟ اور اس کی تعمیر سب پہلے شروع کون کیے اور ختم کون کئے؟*
*ســائـــل: ☜محمـــد مـحـــسن رضــــا*
*▼ــــــــــــــــــــــــــــ★★★ــــــــــــــــــــــــــــــ▼*
*وعلیـــــکم الســــلام ورحــمتہ اللہ و بـــرکاتہ*
*📚اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 16/1 میں لکھا ہے کہ ’’*
*یروشلم کا عام عربی نام القدس ہے جسے قدیم مصنفین عام طور پر بیت المقدس (بعض بیت المقدس) لکھتے ہیں، دراصل اس سے مراد ہیکل (سلیمانی) تھا جو عبرانی بیت ہمدقش کا ترجمہ ہے لیکن بعد میں اس لفظ کا اطلاق تمام شہر پر ہونے لگا- یہ مصنفین ایلیا کا لفظ بھی جو Aelia سے لیا گیا، بکثرت استعمال کرتے ہیں- انہیں اس کا قدیم نام Jerusalem بھی معلوم تھا جسے وہ اور یشلم اور یسلم اور یشلم بھی لکھتے ہیں-‘‘ کتاب مقدس (بائبل سوسائٹی) میں اسے یروشلم لکھا گیا ہے- ’’بیت المقدس‘‘ سے مراد مبارک گھر‘‘ یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے سے گناہوں سے پاک ہوا جانا ہے-*
*👈نام مسجد اقصیٰ : اس لئے کہ مسجد حرام سے دور ہے*
*اقصی عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بہت دور کے ہیں- ایک صدی میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا- مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو کلو میٹر ہے- بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے- انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صہیون جس پر مسجد اقصی اور قبة الصخرة واقع ہیں- کوہ صہیون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک صہیونیت قائم کی گئی-*
*سب سے پہلے حضرت ابراہیم اور ان کے بھتیجے لوط نے عراق سے برکت والی سرزمین یعنی بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی- مسجد اقصی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے-*
*مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصی یا الحرم القدس الشریف کہتے ہیں- یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے- یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں-*
*حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصی میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے-*
*📖قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:*
*’’پاک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کو راتوں رات ہی مسجد حرام سے مسجد اقصی تک جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لیے کہ ہم نے اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائے یقینا اللہ تعالی ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے-*
*📖(سورہ الاسراء آیت نمبر 6)*
*حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے:*
*’’میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟*
*تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد حرام (بیت اللہ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: مسجد اقصی، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھر جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے-*
*📚(صحیح بخاری حدیث نمبر 3366،*
*📚صحیح مسلم حدیث نمبر 520)*
*حضرت یعقوب نے وحی الہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا- پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان (961 ق م) کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی- اسی لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے تھے-*
*📚اسلامی عہد میں مسجد اقصی کی تعمیر:*
*137ق م میں رومی شہنشہاہ ہیڈرین نے یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا وطن کردیا- چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجے تعمیر کیے- جب نبی کریم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اس وقت یہاں کوئی ہیکل نہ تھا، چنانچہ قرآن میں مسجد کی جگہ ہی کو مسجد اقصی کہا گیا- 2ھ /624 تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا-*
*📚تاریخی جواب بذریعے نیٹ*
*اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 16/1*
*واللہ اعــــــلم بــــالصــــــواب*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*📝شــــــرف قلـــــم📝*
*اسیر حضور تاج الشریعہ حضرت علامہ مولانا مـحـمـــد شعیب رضـــا نـــوری مہوتری نیپال مقیم حال، قطر*
*+974 5528 0304*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯معراج کی رات آسمانوں پر انبیاء سے حضور ﷺ کی ملاقاتیں🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 معراج کی رات حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے
*پہلے آسمان* میں حضرت آدم علیہ السلام سے۔
*دوسرے آسمان* میں حضرت یحیی و حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جو دونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اور کچھ گفتگو بھی ہوئی۔
*تیسرے آسمان* میں حضرت یوسف علیہ السلام ۔
*چوتھے آسمان* میں حضرت ادریس علیہ السلام۔
*پانچویں آسمان* میں حضرت ہارون علیہ السلام ۔
*چھٹے آسمان* میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے ۔
*ساتویں آسمان* پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔
بوقتِ ملاقات ہر پیغمبر نے ''خوش آمدید! اے پیغمبر صالح ''کہہ کر آپ کا استقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ اس کے بعد آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔
اس درخت پر جب انوار الٰہی کا پرتو پڑا تو ایک دم اس کی صورت بدل گئی اور اس میں رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ پھر حضرت حق جل جلالہٗ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خلوت گاہ راز میں ناز و نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی۔
*(سیرتِ مصطفی، ص۷۳۴ملخصا)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجــدی 📱917798520672+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*🕯معراج کی رات آسمانوں پر انبیاء سے حضور ﷺ کی ملاقاتیں🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 معراج کی رات حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کر آسمان پر چڑھے
*پہلے آسمان* میں حضرت آدم علیہ السلام سے۔
*دوسرے آسمان* میں حضرت یحیی و حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جو دونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اور کچھ گفتگو بھی ہوئی۔
*تیسرے آسمان* میں حضرت یوسف علیہ السلام ۔
*چوتھے آسمان* میں حضرت ادریس علیہ السلام۔
*پانچویں آسمان* میں حضرت ہارون علیہ السلام ۔
*چھٹے آسمان* میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے ۔
*ساتویں آسمان* پر پہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔
بوقتِ ملاقات ہر پیغمبر نے ''خوش آمدید! اے پیغمبر صالح ''کہہ کر آپ کا استقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی۔ اس کے بعد آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے۔
اس درخت پر جب انوار الٰہی کا پرتو پڑا تو ایک دم اس کی صورت بدل گئی اور اس میں رنگ برنگ کے انوار کی ایسی تجلی نظر آئی جن کی کیفیتوں کو الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبریل علیہ السلام یہ کہہ کر ٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا۔ پھر حضرت حق جل جلالہٗ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلا کر آپ کو باریاب فرمایا اور خلوت گاہ راز میں ناز و نیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت الفاظ کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتی۔
*(سیرتِ مصطفی، ص۷۳۴ملخصا)*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ قاضـی شعیب رضـا تحسینی امجــدی 📱917798520672+*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚معراج کی شب میں کونسی نماز پڑھی گئی📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*❓علماء کرام رہنمائی فرمائیں حضور صلی اللہ علیہ السلام شب معراج کی رات میں کونسی نماز پڑھائی سارے نبیو نے پڑھی تفسیر کے ساتھ حوالہ عنایت فرمائیں*
*سائل: فرمان خان*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*شب معراج میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی جو امامت فرمائی اس سے متعلق تفسیر خازن میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو جمع فرمایا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی امامت فرمائیں اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام آپ کی عظمت و فضیلت اور آپ کی برتری کو جان لیں-*
*واقعۂ معراج کی تفصیلی روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے، امامت کے بارے میں ارشاد ہے :*
*فحانت الصلوة فاممتهم-*
*ترجمه: نماز کا وقت ہوا تو آپ نے انبیاء کی امامت کی*
*📚- (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب فی ذکر المسیح ابن مریم والمسیح الدجال،*
*حدیث نمبر: 448)*
*اس حدیث پاک کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:*
*و لعل المراد بها صلوة التحية او يراد بها صلوة المعراج علی الخصوصية-*
*ترجمہ: شاید اس نماز سے مراد نمازِتحیة المسجد ہے یا معراج کی خصوصی نماز ہے-*
*📚(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفضائل، باب فی المعراج)*
*واللہ اعلم بالصواب*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏼ازقـــــلــم: حضـــرت علامــــہ ومولانـــا محمـــد اسـماعیــل خــان صـاحــب قبلــــہ مدظلــہ العـالــٰی والنــورانـی، دارالـــعـلـوم شـہـیـــد اعـظـــم دولـھـــاپور ضـلـــــع گـونــــــڈہ یـوپــــی*
*رابطـــہ 📞 ــــــــــ*
*+919918562794*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
*📚معراج کی شب میں کونسی نماز پڑھی گئی📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*❓علماء کرام رہنمائی فرمائیں حضور صلی اللہ علیہ السلام شب معراج کی رات میں کونسی نماز پڑھائی سارے نبیو نے پڑھی تفسیر کے ساتھ حوالہ عنایت فرمائیں*
*سائل: فرمان خان*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*شب معراج میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی جو امامت فرمائی اس سے متعلق تفسیر خازن میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو جمع فرمایا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی امامت فرمائیں اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام آپ کی عظمت و فضیلت اور آپ کی برتری کو جان لیں-*
*واقعۂ معراج کی تفصیلی روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے، امامت کے بارے میں ارشاد ہے :*
*فحانت الصلوة فاممتهم-*
*ترجمه: نماز کا وقت ہوا تو آپ نے انبیاء کی امامت کی*
*📚- (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب فی ذکر المسیح ابن مریم والمسیح الدجال،*
*حدیث نمبر: 448)*
*اس حدیث پاک کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے:*
*و لعل المراد بها صلوة التحية او يراد بها صلوة المعراج علی الخصوصية-*
*ترجمہ: شاید اس نماز سے مراد نمازِتحیة المسجد ہے یا معراج کی خصوصی نماز ہے-*
*📚(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفضائل، باب فی المعراج)*
*واللہ اعلم بالصواب*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*✍🏼ازقـــــلــم: حضـــرت علامــــہ ومولانـــا محمـــد اسـماعیــل خــان صـاحــب قبلــــہ مدظلــہ العـالــٰی والنــورانـی، دارالـــعـلـوم شـہـیـــد اعـظـــم دولـھـــاپور ضـلـــــع گـونــــــڈہ یـوپــــی*
*رابطـــہ 📞 ــــــــــ*
*+919918562794*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚شب معراج نبیﷺ نے کونسی نماز پڑھائی؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*کیا فرماتے ھین علماء دین و مفتیان عظام کہ سرکار جب معراج شریف مین تشریف لیے گئے تو آپ نے سارے نبیون کی امامت فرمائی*
*آپ نے کونسے وقت کی نماز پڑھائی اور وہ نماز کتنے رکعت کی تھی مفصل حوالہ کیساتھ تحریر کریں*
*المستفتی : عبد اللہ صدیقی*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*📝الجواب بعون الملک الوھاب :*
*شب معراج میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی جو امامت فرمائی اس سے متعلق تفسیر خازن میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو جمع فرمایا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی امامت فرمائیں اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام آپ کی عظمت و فضیلت اور آپ کی برتری کو جان لیں-*
*🏷واقعۂ معراج کی تفصیلی روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے،*
*امامت کے بارے میں ارشاد ہے : *
*فحانت الصلوة فاممتهم-*
* ترجمه: نماز کا وقت ہوا تو نے انبیاء کی امامت کی -*
*📕 (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب فی ذکر المسیح ابن مریم و المسیح الدجال ، حدیث نمبر : 448)*
*📿 اس حدیث پاک کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :*
* و لعل المراد بها صلوة التحية او يراد بها صلوة المعراج علی الخصوصية-*
* ترجمہ: اس نماز سے مراد نمازِ تحیة المسجد ہے یا معراج کی خصوصی نماز ہے-*
*📚 (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفضائل، باب فی المعراج)*
*📤اور صاحب تفسیر روح البیان مترجم میں تحریر فرماتے ہیں کہ " حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انبیائے کرام کو جماعت کے ساتھ دو رکعت نفل نماز پڑھائی تھی "*
*تفصیل کے لئے*
*📕 روح البیان مترجم ج 8 ص 30 /29 کامطالعہ کریں*
*واللہ اعلم بالصواب*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*✍شرف قلم: حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی۔*
*📞+917666456313*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
-----------------------------------------------------------
*📚شب معراج نبیﷺ نے کونسی نماز پڑھائی؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*کیا فرماتے ھین علماء دین و مفتیان عظام کہ سرکار جب معراج شریف مین تشریف لیے گئے تو آپ نے سارے نبیون کی امامت فرمائی*
*آپ نے کونسے وقت کی نماز پڑھائی اور وہ نماز کتنے رکعت کی تھی مفصل حوالہ کیساتھ تحریر کریں*
*المستفتی : عبد اللہ صدیقی*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*📝الجواب بعون الملک الوھاب :*
*شب معراج میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیہم السلام کی جو امامت فرمائی اس سے متعلق تفسیر خازن میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو جمع فرمایا تاکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی امامت فرمائیں اور تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام آپ کی عظمت و فضیلت اور آپ کی برتری کو جان لیں-*
*🏷واقعۂ معراج کی تفصیلی روایات صحیح بخاری و صحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے،*
*امامت کے بارے میں ارشاد ہے : *
*فحانت الصلوة فاممتهم-*
* ترجمه: نماز کا وقت ہوا تو نے انبیاء کی امامت کی -*
*📕 (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب فی ذکر المسیح ابن مریم و المسیح الدجال ، حدیث نمبر : 448)*
*📿 اس حدیث پاک کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :*
* و لعل المراد بها صلوة التحية او يراد بها صلوة المعراج علی الخصوصية-*
* ترجمہ: اس نماز سے مراد نمازِ تحیة المسجد ہے یا معراج کی خصوصی نماز ہے-*
*📚 (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الفضائل، باب فی المعراج)*
*📤اور صاحب تفسیر روح البیان مترجم میں تحریر فرماتے ہیں کہ " حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے انبیائے کرام کو جماعت کے ساتھ دو رکعت نفل نماز پڑھائی تھی "*
*تفصیل کے لئے*
*📕 روح البیان مترجم ج 8 ص 30 /29 کامطالعہ کریں*
*واللہ اعلم بالصواب*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
*✍شرف قلم: حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی۔*
*📞+917666456313*
◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*🕯بســــــم اللہ الرحمن الرحیم🕯*
ـ ـ ـ ـ ـ
*الســــــــلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❓ *آج کا سوال نمبر 001 ❓*
*⬅ شبِ معراج، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس پر دو صحیح حدیث، مع عبارت حوالہ جات کے ساتھ بتائیں؟*
*✅آج کے سوال کا درست جواب✅*
*(۱)* عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأیت ربی عزوجل.
ترجمہ: عبداللہ ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو دیکھا۔
(مسند امام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 285.)
(مسند امام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 290 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت 1398)
*(۲)* عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه "قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لی ربی نخلت ابراہیم خلتی وکلمت موسی تکلیما واعطیتک یا محمد کفاحا"
ترجمہ: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: مجھے میرے رب نے فرمایا۔ میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی۔ اور موسیٰ سے کلام فرمایا۔ اور تمہیں اے محمد! مواجہ بخشا کہ بےپردہ و حجاب تم نے میرا جمال پاک دیکھا۔
(تاریخ دمشق الکبیر، دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶
فی مجمع البحار کفاحا ای مواجہۃ لیس بینھما حجاب ولا رسول "مجمع بحار الانوار مکتبہ دار الایمان مدینہ منورہ، ۴ /۴۲۴۔
*(بحوالہ:- رسالہ مُنَبِّهُ الْمُنْیَةِ بِوُصُولِ الْحَبِیْبِ اِلَی الْعَرْشِ وَالرُّؤیَةِ)*
*(مصنفه:- امام احمد رضا خان القادري البريلوي رحمه الله )*
❁◐┈┉═۞═۞═۞═۞══◐═┉┈◐❁
*_آج کے وہ خوش نصیب ممبران جنہوں نے درست جواب دیا۔*
*محبت سے ان کے اسماء دیکھیں👇*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*1⬅محمد صادق الاسلام مصباحی ، تحقیق الفقہ، مرکز تربیت، اوجھا گنج*
نتیجہ جواب : 20 نمبر
*2⬅ مولانا محمد امین اکبری بامنوری باڑمیر راجستھان*
نتیجہ جواب: 14
*3⬅صدام حسین رضوی مالیگاؤں مہاراشٹر*
نتیجہ جواب: 12
*4⬅معراج رضا رضوی امجدی بھاگلپور بہار*
نتیجہ جواب: 8
*5⬅ نور احمد قادری گورکھپور یوپی*
نتیجہ جواب: 8
نوٹ:- کل 25 نمبر کے سوال تھے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*منجانب⬅ شمــس تبــریز نـوری امجــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 📱+966-551830750*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
ـ ـ ـ ـ ـ
*الســــــــلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
❓ *آج کا سوال نمبر 001 ❓*
*⬅ شبِ معراج، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس پر دو صحیح حدیث، مع عبارت حوالہ جات کے ساتھ بتائیں؟*
*✅آج کے سوال کا درست جواب✅*
*(۱)* عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأیت ربی عزوجل.
ترجمہ: عبداللہ ابن عباس رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو دیکھا۔
(مسند امام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 285.)
(مسند امام احمد بن حنبل جلد 1 صفحہ 290 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت 1398)
*(۲)* عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه "قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لی ربی نخلت ابراہیم خلتی وکلمت موسی تکلیما واعطیتک یا محمد کفاحا"
ترجمہ: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: مجھے میرے رب نے فرمایا۔ میں نے ابراہیم کو اپنی دوستی دی۔ اور موسیٰ سے کلام فرمایا۔ اور تمہیں اے محمد! مواجہ بخشا کہ بےپردہ و حجاب تم نے میرا جمال پاک دیکھا۔
(تاریخ دمشق الکبیر، دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ /۲۹۶
فی مجمع البحار کفاحا ای مواجہۃ لیس بینھما حجاب ولا رسول "مجمع بحار الانوار مکتبہ دار الایمان مدینہ منورہ، ۴ /۴۲۴۔
*(بحوالہ:- رسالہ مُنَبِّهُ الْمُنْیَةِ بِوُصُولِ الْحَبِیْبِ اِلَی الْعَرْشِ وَالرُّؤیَةِ)*
*(مصنفه:- امام احمد رضا خان القادري البريلوي رحمه الله )*
❁◐┈┉═۞═۞═۞═۞══◐═┉┈◐❁
*_آج کے وہ خوش نصیب ممبران جنہوں نے درست جواب دیا۔*
*محبت سے ان کے اسماء دیکھیں👇*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*1⬅محمد صادق الاسلام مصباحی ، تحقیق الفقہ، مرکز تربیت، اوجھا گنج*
نتیجہ جواب : 20 نمبر
*2⬅ مولانا محمد امین اکبری بامنوری باڑمیر راجستھان*
نتیجہ جواب: 14
*3⬅صدام حسین رضوی مالیگاؤں مہاراشٹر*
نتیجہ جواب: 12
*4⬅معراج رضا رضوی امجدی بھاگلپور بہار*
نتیجہ جواب: 8
*5⬅ نور احمد قادری گورکھپور یوپی*
نتیجہ جواب: 8
نوٹ:- کل 25 نمبر کے سوال تھے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*منجانب⬅ شمــس تبــریز نـوری امجــدی بانی گروپ فیضـــانِ دارالعـــلوم امجـــدیہ ناگپور 📱+966-551830750*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㊱
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㊲
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
معراج النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے موضوع پر علمی و تحقیقی گفتگو۔۔۔۔
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
معراج النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے موضوع پر علمی و تحقیقی گفتگو۔۔۔۔