Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 امجــــدی مضــــامین 📚*
----------------------------------------------------------------
🕯 *"معراج کے دولہا میرے نبیﷺ"* 🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*شب معراج خالق کائنات کی اپنے محبوب نبیﷺ سے ملاقات*
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡر﴿۱﴾
سورۃ بنی اسرائیل
(ترجمہ) پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے ۔وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔
*؎جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر*
*اُسکی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو*
سدرۃ المنتیٰ سے آگے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر مبارک۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔ معراج کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 51سال 8ماہ اور 20دن تھی یہ وہ زمانہ نبوی تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پہ کفار نے ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر پایہ لغرش استقلال و ہمت سے پیغام توحید کو عام کر رہے تھے ایسے حالات و واقعات اور زمانہ میں آپ ؐ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔اُس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا ذکر اُم ِ ہانی رضی اللہ عنہا سے کیا وہ احتیاطً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکا ذکر ابھی کسی سے نہ کریں لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں ادائیگی نماز فجر کے بعد رات کو پیش آنے والے واقعہ معراج سے آگاہی دی تو کفار یہ سن کر ہنسنے لگے اور تمسخر اُڑانے لگے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو ( نعوذ باللہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہک گئے ہیں۔ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ دیکھو آپ کا رفیق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اتنے طویل سفر پہ گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔اس واقع پر یارِ غار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا وہ تا قیامت مسلم امہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ نبی کریم روف الرحیمؐ ہمیشہ سے سچ بولتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے روزانہ فرشتہ جبرائیل علیہ السلام آتا ہے جو خُدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کا خطاب عطا کیا۔
*معراج جسمانی کے دلائل:*
پہلی دلیل:
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدا کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی
دوسری دلیل :
اسریٰ کا لفظ بھی بیداری کی حالت پر بولا جاتا ہے جیسا کہ
حضرت لوط علیہ السلام کو ارشاد ہوتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾(الحجر 15:65)
” پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ د
----------------------------------------------------------------
🕯 *"معراج کے دولہا میرے نبیﷺ"* 🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*شب معراج خالق کائنات کی اپنے محبوب نبیﷺ سے ملاقات*
سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡر﴿۱﴾
سورۃ بنی اسرائیل
(ترجمہ) پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔
معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے۔
احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ہجرت سے قبل ستائیس رجب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ُام ہانی کے گھر قیام پذیر تھے، حضرت جبرائیل علیہ السلام رات کے وقت براق لے کر آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر مسجد اقصی پہنچے ۔وہاں نماز میں تمام انبیاء علیہ السلام کی امامت کی اور سفر سماوی پر روانہ ہوئے جو معراج کہلایا۔ باری تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں ، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کروایا۔ سدرت المنتہی سے آگے آپ اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہوئے اور اُمت کو پانچ نمازوں کا تحفہ دیا۔
*؎جلتے ہیں جبرائیل کے پر جس مقام پر*
*اُسکی حقیقتوں کے شناسا تم ہی تو ہو*
سدرۃ المنتیٰ سے آگے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر مبارک۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان رسالت کی طرح ایسی عظیم بلندیوں کا سفر تھا جسے انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔ معراج کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 51سال 8ماہ اور 20دن تھی یہ وہ زمانہ نبوی تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پہ کفار نے ظلم و ستم کی انتہا کر رکھی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر پایہ لغرش استقلال و ہمت سے پیغام توحید کو عام کر رہے تھے ایسے حالات و واقعات اور زمانہ میں آپ ؐ کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی۔اُس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکا ذکر اُم ِ ہانی رضی اللہ عنہا سے کیا وہ احتیاطً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسکا ذکر ابھی کسی سے نہ کریں لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ میں ادائیگی نماز فجر کے بعد رات کو پیش آنے والے واقعہ معراج سے آگاہی دی تو کفار یہ سن کر ہنسنے لگے اور تمسخر اُڑانے لگے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو ( نعوذ باللہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہک گئے ہیں۔ کسی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ دیکھو آپ کا رفیق کیا کہہ رہا ہے؟ کیا کوئی بھی عقل ِ سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میں اتنے طویل سفر پہ گئے اور پھر واپس بھی آگئے۔اس واقع پر یارِ غار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا وہ تا قیامت مسلم امہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ نبی کریم روف الرحیمؐ ہمیشہ سے سچ بولتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمان سے روزانہ فرشتہ جبرائیل علیہ السلام آتا ہے جو خُدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدیق اکبر کا خطاب عطا کیا۔
*معراج جسمانی کے دلائل:*
پہلی دلیل:
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدا کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لئے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی
دوسری دلیل :
اسریٰ کا لفظ بھی بیداری کی حالت پر بولا جاتا ہے جیسا کہ
حضرت لوط علیہ السلام کو ارشاد ہوتا ہے
فَاَسۡرِ بِاَہۡلِکَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّیۡلِ وَ اتَّبِعۡ اَدۡبَارَہُمۡ وَ لَا یَلۡتَفِتۡ مِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَّ امۡضُوۡا حَیۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶۵﴾(الحجر 15:65)
” پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر نکل جائیں اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ د
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
یکھے اور پس جہاں تمہیں حکم دیا جاتا ہے چلے جاؤ “
(سورۃ ھود 11:81) میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کو یہی ارشاد ہوتا ہے.
حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوتا ہے
”وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾“ (طه 20:77)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا، پھر ان کے لیے دریا میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہو گا اور نہ غرق ہونے کا ڈر“
”فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾“ (الدخان 44:23)
” حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل پڑو، تمہارا پیچھا کیا جائے گا “
”وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡۤ اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿۵۲﴾“ (الشعراء 26:52)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے “
درج بالا سب مقامات پر اسری کو روح اور جسد کے مجموعے پر بولا گیا ہے.
اور قاضی عیاض فرماتے ہیں لانہ لایقال فی النوم اسریٰ (شفاص 191) کہ یہ واقعہ معراج جسم کے ساتھ ہے کیونکہ اسریٰ کا لفظ خواب پر نہیں بولا جاتا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و حکایات ، مضامین و اقوال کے لیئے آج ہی ہمارا ٹیلیگرام چینل جوائن کریں۔
https://t.me/DarulUloomAmjadiaNagpurIndia
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
(سورۃ ھود 11:81) میں بھی حضرت لوط علیہ السلام کو یہی ارشاد ہوتا ہے.
حضرت موسی علیہ السلام کو اللہ کا حکم ہوتا ہے
”وَ لَقَدۡ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی ۬ ۙ اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡ فَاضۡرِبۡ لَہُمۡ طَرِیۡقًا فِی الۡبَحۡرِ یَبَسًا ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَکًا وَّ لَا تَخۡشٰی ﴿۷۷﴾“ (طه 20:77)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جا، پھر ان کے لیے دریا میں لاٹھی مار کر خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو فرعون کے آپکڑنے کا خوف ہو گا اور نہ غرق ہونے کا ڈر“
”فَاَسۡرِ بِعِبَادِیۡ لَیۡلًا اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾“ (الدخان 44:23)
” حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل پڑو، تمہارا پیچھا کیا جائے گا “
”وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنۡ اَسۡرِ بِعِبَادِیۡۤ اِنَّکُمۡ مُّتَّبَعُوۡنَ ﴿۵۲﴾“ (الشعراء 26:52)
” اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ کہ تمہارا پیچھا کیا جانے والا ہے “
درج بالا سب مقامات پر اسری کو روح اور جسد کے مجموعے پر بولا گیا ہے.
اور قاضی عیاض فرماتے ہیں لانہ لایقال فی النوم اسریٰ (شفاص 191) کہ یہ واقعہ معراج جسم کے ساتھ ہے کیونکہ اسریٰ کا لفظ خواب پر نہیں بولا جاتا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
عمدہ قسم کے دینی و ادبی سبق آموز واقعات و حکایات ، مضامین و اقوال کے لیئے آج ہی ہمارا ٹیلیگرام چینل جوائن کریں۔
https://t.me/DarulUloomAmjadiaNagpurIndia
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯معراج کے تحفے🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 حضور نبیِّ کریم، رءُوف رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلانِ نبوّت کے بارھویں سال،27 رَجَبُ المُرجَّب کی رات سفرِ معراج کی سعادت حاصل ہوئی۔
📗 [خزائن العرفان،پارہ 15،سورہ بنی اسرائیل،تحت الآیہ، 1،ماخوذاً]
سفرِ معراج میں جہاں کئی معجزات ظاہر ہوئے اور شانِ مصطفےٰ کی بلندی آشکار (نمایاں) ہوئی وہیں ربِِّ مصطفےٰ کی طرف سے صاحِبُ التَّاج وَ الْمِعْراج صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تحائف بھی عطا ہوئے *مثلاً دیدارِ باری تعالیٰ، بلا واسِطہ کلام، سورۂ بقَرہ کی آخِری آیات، پنجگانہ نماز کی فرضیّت ۔*
*(1) دیدارِ باری تعالٰی*
علامہ شہابُ الدّین احمد خَفاجی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں صحیح مذہب یہ ہے کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شبِ معراج سَر کی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا جیسا کہ اکثر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مذہب ہے۔
📗 [نسیم الریاض شرح شفا،ج3،ص144]
یاد رہے کہ دنیا میں جاگتی آنکھوں سے پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ کا دیدار صرف سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاخاصّہ ہے۔
📗 [بہارِشریعت،ج1،ص20 ماخوذاً]
*(2)گفتگو کا شرف*
جب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرض کی *اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُ* یعنی *تمام قولی،بدنی اور مالی عبادات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں* اللہ کریم نے ارشاد فرمایا *اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ* یعنی *اے نبیِّ مکرّم! تجھ پر سلام ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں* رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چاہا کہ سلام میں آپ کی اُمّت کا حصّہ بھی ہو جائے لہٰذا عرض کی *اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْن* یعنی *ہم پر اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں پر سلام ہو* حضرتِ سیّدنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام اور تمام آسمانی فرشتوں نے کہا: *اَشْھَدُاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ* یعنی *میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں-*
📗 [تفسير قرطبی،پارہ3،سورہ البقرہ،تحت الایۃ 285،ج2، ص322]
حضرت علّامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شبِ مِعراج اپنے محبوبِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بغیر واسطے کے کلام فرمایا۔
📗 [فتح الباری،ج8،ص185]
*(3) سورۂ بقرہ کی آخری آیات*
معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کی آخِری دو آیتیں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا فرمائیں۔یہ دو آیات جنّت کے خزانوں میں سے ہیں۔
📗 [روح البیان،پارہ 3،سورہ البقرۃ،تحت الآیۃ286،ج1، ص449ملخصاً]
*(4) امّتِ محمّدی کے لئے بخشش کی بشارت*
معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے یہ بشارت اُمَّتِ محمدیہ کو دی گئی کہ جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بخشش فرما دے گا۔
📗 (ایضاً)
*(5) معراج کا خصوصی تحفہ*
حضرتِ سیّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت پر 50 نمازیں فرض فرمائیں، میں یہ لےکر واپس ہوا حتّٰی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السَّلام) کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی اُمّت پر کیا فرض فرمایا؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ان پر 50 نمازیں فرض کیں، موسیٰ علیہ السَّلام نے مجھے کہا آپ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے،آپ کی اُمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ میں واپس رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک حصّہ معاف فرمادیا، فرماتے ہیں کہ میں پھر موسیٰ علیہ السَّلام کی طرف لَوٹا اور انہیں اس کی خبر دی، انہوں نے کہا آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے،آپ کی اُمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا میں اپنے رب کے پاس واپس لوٹا تو رب تعالیٰ نے فرمایا نمازیں پانچ ہیں اور حقیقت میں پچاس ہی ہیں ہمارے ہاں فیصلے میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔
📗 [مسلم،ص89،حدیث415]
مشہور مفسّر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں یہ خاص تحفہ تھا جو اُمّتِ محمدیہ کو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی معرفت دیا گیا۔
📗 [م
-----------------------------------------------------------
*🕯معراج کے تحفے🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📬 حضور نبیِّ کریم، رءُوف رَّحیم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلانِ نبوّت کے بارھویں سال،27 رَجَبُ المُرجَّب کی رات سفرِ معراج کی سعادت حاصل ہوئی۔
📗 [خزائن العرفان،پارہ 15،سورہ بنی اسرائیل،تحت الآیہ، 1،ماخوذاً]
سفرِ معراج میں جہاں کئی معجزات ظاہر ہوئے اور شانِ مصطفےٰ کی بلندی آشکار (نمایاں) ہوئی وہیں ربِِّ مصطفےٰ کی طرف سے صاحِبُ التَّاج وَ الْمِعْراج صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تحائف بھی عطا ہوئے *مثلاً دیدارِ باری تعالیٰ، بلا واسِطہ کلام، سورۂ بقَرہ کی آخِری آیات، پنجگانہ نماز کی فرضیّت ۔*
*(1) دیدارِ باری تعالٰی*
علامہ شہابُ الدّین احمد خَفاجی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فرماتے ہیں صحیح مذہب یہ ہے کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شبِ معراج سَر کی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا جیسا کہ اکثر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مذہب ہے۔
📗 [نسیم الریاض شرح شفا،ج3،ص144]
یاد رہے کہ دنیا میں جاگتی آنکھوں سے پَرْوَرْدَگار عَزَّوَجَلَّ کا دیدار صرف سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاخاصّہ ہے۔
📗 [بہارِشریعت،ج1،ص20 ماخوذاً]
*(2)گفتگو کا شرف*
جب رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرض کی *اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوٰتُ وَالطَّیِّبٰتُ* یعنی *تمام قولی،بدنی اور مالی عبادات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں* اللہ کریم نے ارشاد فرمایا *اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ* یعنی *اے نبیِّ مکرّم! تجھ پر سلام ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں* رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چاہا کہ سلام میں آپ کی اُمّت کا حصّہ بھی ہو جائے لہٰذا عرض کی *اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللہِ الصّٰلِحِیْن* یعنی *ہم پر اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں پر سلام ہو* حضرتِ سیّدنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام اور تمام آسمانی فرشتوں نے کہا: *اَشْھَدُاَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ* یعنی *میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس کے بندے اور رسول ہیں-*
📗 [تفسير قرطبی،پارہ3،سورہ البقرہ،تحت الایۃ 285،ج2، ص322]
حضرت علّامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شبِ مِعراج اپنے محبوبِ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بغیر واسطے کے کلام فرمایا۔
📗 [فتح الباری،ج8،ص185]
*(3) سورۂ بقرہ کی آخری آیات*
معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سورۂ بقرہ کی آخِری دو آیتیں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا فرمائیں۔یہ دو آیات جنّت کے خزانوں میں سے ہیں۔
📗 [روح البیان،پارہ 3،سورہ البقرۃ،تحت الآیۃ286،ج1، ص449ملخصاً]
*(4) امّتِ محمّدی کے لئے بخشش کی بشارت*
معراج کی رات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے یہ بشارت اُمَّتِ محمدیہ کو دی گئی کہ جو شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی بخشش فرما دے گا۔
📗 (ایضاً)
*(5) معراج کا خصوصی تحفہ*
حضرتِ سیّدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری اُمّت پر 50 نمازیں فرض فرمائیں، میں یہ لےکر واپس ہوا حتّٰی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السَّلام) کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پوچھا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی اُمّت پر کیا فرض فرمایا؟ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ان پر 50 نمازیں فرض کیں، موسیٰ علیہ السَّلام نے مجھے کہا آپ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیے،آپ کی اُمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں کہ میں واپس رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک حصّہ معاف فرمادیا، فرماتے ہیں کہ میں پھر موسیٰ علیہ السَّلام کی طرف لَوٹا اور انہیں اس کی خبر دی، انہوں نے کہا آپ اپنے رب کی طرف واپس جائیے،آپ کی اُمّت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔نبیِّ کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا میں اپنے رب کے پاس واپس لوٹا تو رب تعالیٰ نے فرمایا نمازیں پانچ ہیں اور حقیقت میں پچاس ہی ہیں ہمارے ہاں فیصلے میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔
📗 [مسلم،ص89،حدیث415]
مشہور مفسّر حکیم الامت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں یہ خاص تحفہ تھا جو اُمّتِ محمدیہ کو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی معرفت دیا گیا۔
📗 [م