🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯تین مقدس راتیں قرآن و حدیث کی روشنی میں🕯*


📬 رجب ، شعبان اور رمضان میں جاگنے کی راتیں آتی ہیں ‘ ان راتوں میں ہم جاگ کر اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں، اس بارے میں میرے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم ان راتوں میں خاص طور پر کیوں جاگتے ہیں ؟ کیا ان راتوں کے بارے میں قرآن وحدیث میں کچھ ذکر آیاہے ؟

تو جب ہم قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور علماء اہل سنت کے دامن سے وابستہ ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سال میں چند ایسی مقدس راتیں آتی ہیں جو اپنے خصائص و فضائل، برکات و رحمتوں میں امتیازی شان رکھتی ہیں اور ہر ایک رات کی جداگانہ خصوصیت ہے اور قرآن شریف میں بطور خاص تین راتوں کا ذکر آیا ہے

۔ (١) ماہ رجب میں شب معراج: جس میں عبد و رب، محب و محبوب کی ملاقات ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رؤیت باری تعالیٰ کا شرف حاصل کیا اور محب و محبوب کے درمیان اسرار و رموز کی باتیں ہوئیں۔ سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کریمہ’’ سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً‘‘میں ’’لیلا‘‘ سے بالاتفاق یہی شب معراج مراد ہے۔رجب المرجب اسلامی تاریخ کا ساتواں مہینہ رجب المرجب ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے۔ ترجیب کے معنی تعظیم کے ہیں۔ اہل عرب اس کو اللہ کا مہینہ کہتے تھے اور اس کی تعظیم بجا لاتے تھے۔

رجب المرجب کے اہم واقعات:
رجب کی پہلی تاریخ کو سیدنا نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے۔ چار تاریخ کو جنگ صفین کا واقعہ پیش آیا۔ ستائیسویں شب کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جسمانی معراج کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ اٹھائیسویں تاریخ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا۔ (عجائب المخلوقات، ص ٤٥)

رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والوں کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے جو اس میں بارہ رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سی ایک سور ت اور ہر دو رکعت پر التحیات پڑھے۔ اور بارہ رکعتیں پوری ہونے پر ١٠٠ مرتبہ سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر، استغفار سو بار، درود شریف سو بار پڑھے اور پھر دنیا و آخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے گا۔ سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لی ے ہو۔ (شعب الايمان، ج٣، ص٣٨٤، حديث ٣٨١٢)

(٢) ماہ رمضان میں شب قدر: جو نزول قرآن کی مقدس شب ہے جس میں فرشتوں کا ورود ہوتاہے اور اس شب میں بندگان حق کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ثواب عطا ہوتا ہے،ارشاد الہی ہے: لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ۔(قدر۔٣) اس آیت کریمہ میں شب قدر کا ذکر ہے۔

شب قدر کا معنی و مفہوم انما سمیت بذلک لعظمها و قدرها و شرفها امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قدر کا معنی مرتبہ کے ہیں ‘چونکہ یہ رات باقی راتوں کے مقابلے میں شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے‘ اس لئے اسے ’’لیلۃ القدر‘‘ کہا جاتا ہے۔ شب قدر کیوں عطا کی گئی؟ اس کے حصول کا سب سے اہم سبب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس امت پر شفقت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غم خواری ہے۔ موطا امام مالک میں ہے کہ ان رسول ﷲ صلی الله علیه وآله وسلم اری اعمار الناس قبله او ماشاء ﷲ من ذلک فکانه تقاصر اعمار امته عن ان لا یبلغوا من العمل‘ مثل الذی بلغ غیرهم فی طول العمر‘فاعطاہ لیلة القدر خیر من الف شهر۔

جب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سابقہ لوگوں کی عمروں پر آگاہ فرمایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمر کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر عمل کیسے کر سکیں گے؟(پس) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیلۃ القدر عطا فرما دی‘ جو ہزار مہینے سے افضل ہے۔ (موطا امام مالک‘ کتاب الصیام‘باب ماجاء فی لیلة القدر‘ )

شب قدر فقط امت محمدیہ کے لیے:
لیلۃ القدر فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان ﷲ وهب لامتی لیلة القدر لم یعطها من کان قبلهم یہ مقدس رات اللہ تعالی نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا۔

شب قدر کی فضیلت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا من قام لیلة القدر ایماناً و احتساباً غفرله ما تقدم من ذنبه جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی‘ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (صحیح البخاری‘ ١: ٢٧٠‘ کتاب الصیام)

امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیت:
لیلۃ القدر فقط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی خصوصیت ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان ﷲ وهب لامتی لیلة القدر لم یعطها من کان قبلهم یہ مقدس رات اللہ تعالی نے فقط میری امت کو عطا فرمائی ہے سابقہ امتوں میں سے یہ شرف کسی کو بھی نہیں ملا شب قدر کی تعین کے بارے میں تقریباً پچاس اقوال ہیں‘ ان میں سے دو اقوال نہایت ہی قابل توجہ ہیں۔ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے ایک ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تحرو الیلة القدر فی الوتر‘ من العشر الاواخر من رمضان لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔

(٣) ماہ شعبان میں شب براءت آتی ہے یہ برکتوں والی رات ہے جس میں بندگان خدا کو بخشش کامژدۂ جانفزا ملتا ہے۔ اس رات کا ذکر سورۂ دخان کی ابتدائی چار آیات کریمہ میں ہے۔ مفسرین و مشاہیر امت کی ایک جماعت کے پاس’’ لیلۃ مبارکۃ ‘‘سے مرادشعبان کی پندرھویں شب ہے جسے’’ لیلۃ البراءۃ‘‘ (شب براء ت )کہا جاتا ہے۔ترغیب ملتی ہے۔

شب برات کی وجہ تسمیہ:
احادیث مبارکہ میں ’’لیلۃ النصف من شعبان‘‘ یعنی شعبان کی ١٥ ویں رات کو شب برات قرار دیا گیا ہے۔ اس رات کو براۃ سے اس وجہ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ اس رات عبادت کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کو اپنی رحمت سے دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا اور نجات عطا کر دیتا ہے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں خمس ليال لا ترد فيهن الدعاء: ليلة الجمعة، و أول ليلة من رجب، و ليلة النصف من شعبان، و ليلتی العيدين ’’پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتیں: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات، دونوں عیدوں کی راتیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، يَغْفِرُ اﷲُ لعباده إلَّا لِمُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ

جب ماہِ شعبان کی نصف شب (پندرہویں رات) ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے اوربغض رکھنے والے کے سوا اپنے تمام بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔ اُمّ المؤمنین حضرت سیّدتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں:میں نے حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو شعبانُ الْمعظّم سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ رکھتے نہ دیکھا۔(ترمذی،ج٢،ص١٨٢)۔

آپ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید فرماتی ہیں: ایک رات میں نے حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نہ پایا۔ میں آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تلاش میں نکلی تو آپ مجھے جنّتُ البقیع میں مل گئے۔نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں(١٥ویں) رات آسمانِ دنیا پر تجلّی فرماتا ہے۔ پس قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔(ترمذی،ج٢، ص١٨٣) ۔

معلوم ہوا کہ شبِ براءت میں عبادات کرنا، قبرستان جانا سنّت ہے۔(مراٰۃ المناجیح،ج٢،ص٢٩٠) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا أبی بکر رضی الله عنه قال: قال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : إِذَا کَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اﷲُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِلَی سَمَاءِ الدُّنْيَا فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا کَانَ مِنْ مُشْرِکٍ أَوْ مُشَاحِنٍ لِأَخِيْهِ

جب ماہِ شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اﷲ تبارک وتعالی آسمانِ دنیا پر (اپنے حسب حال) نزول فرماتا ہے پس وہ مشرک اور اپنے بھائی سے عداوت رکھنے والے کے سوا اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے

مذکورہ قرآن کی آیتیں اور احادیث مبارکہ کے بیان کا مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے مولا خالقِ کائنات کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کرے جو کہ اس رات اور اس جیسی دیگر روحانی راتوں میں عبادت سے باسہولت میسر ہو سکتا ہے۔
اِن بابرکت راتوں میں رحمتِ الٰہی اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور اپنے گناہ گار بندوں کی بخشش و مغفرت کے لیے بے قرار ہوتی ہے لہٰذا اس رات میں قیام کرنا، کثرت سے تلاوتِ قرآن، ذکر، عبادت اور دعا کرنا مستحب ہے اور یہ اعمال احادیثِ مبارکہ اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہیں۔

اس لیے جو شخص بھی اب اس شب کو یا اس میں عبادت کو بدعتِ ضلالۃ کہتا ہے وہ درحقیقت احادیثِ صحیحہ اور اعمالِ سلف صالحین کا منکر ہے اور فقط ہوائے نفس کی اتباع اور اطاعت میں مشغول ہے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حق کی راہ پر گامزن ہونے اور زیادہ سے زیادہ عبادتیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !۔ واللہ اعلم بالصواب
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯️تین نورانی راتیں اور خوش فہمی🕯️


📬 خوش فہمی میں نہ رہیں، خوش دلی سے فرائض اور واجبات ادا کریں، مولائے رحیم نے انسانوں اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
تر جمہ:اور میں نے جن اور آدمی اس لئے بنائے کہ میر ی بندگی کریں، میں ان سے کچھ ر ز ق نہیں ما نگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں، بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قد رت والا ہے۔
وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُ وُنِِ مَآ اُ رِ یْدُ مِنْھُمْ مِّنْ رِّزْ قٍ وَّمَآ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِِمُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ ا لرََّ زَّ ا قُ ذُوالْقُوَّۃِالْمَتِیْن (القر آن،سورہ الذا ریات 51، آیت58۔56)ترجمہ:انسا نوں اور جنوں کو عبا دت کے لیے ہی پیدا کیا گیا اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ میں نے انسانوں اور جنوں کو اپنی کسی ضرورت کے لیے نہیں پیدا کیا، بلکہ صرف اس لیے کہ میں ان کے فا ئدے کے لیے اپنی عبادت کا حکم دوں وہ خوشی خوشی میرے معبود بر حق ہونے کا اقرار کریں۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھ سے رسولﷺ نے فرمایا اللہ نے اپنے بندوں کو بندگی(عبادت) کے لیے پیدا کیا ہے اب اس کی عبادت یکسو ئی کے ساتھ جو بجا لائے گا،کسی کو اس کا شریک نہ کرے گا اسے پوری جزا عنایت فرمائے گا۔اور جواس کی نافرمانی یعنی عبا دت میں کو تاہی کرے گا وبدترین سزائیں بھگتے گا (ابو دائود، تر مذی)

مسند احمد میں حدیث قدسی ہے کہ اے ابن آدم! میری عبا دت کے لیے فارغ ہو جا ، میں ترا سینہ تونگری اور بے نیا زی سے پر کر دوں گا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو اشغال (کام) سے بھر دوں گااور تیری فقیر ی (تنگد ستی)کو ہرگز بند نہ کروں گا۔( مسنداحمد، تر مذی،ابن ما جہ)

آقا ﷺ نے فر مایا: رحمٰن کی عبادت کرو اور سلام کو عام کرو راوی عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں معقول بن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فر ما یا: فتنوں( کے ) ایام میں عبادت کرنا ایسا ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا (ابن ما جہ،حدیث 3694،ترمذی ،1855،3985،)

یہ فتنوں کا دور ہے ایسے میں ہر مومن کوعبادت الٰہی پر خاص توجہ دینا چا ہئے۔

تین نورانی راتیں اور ان میں عبادت:
عبادت کے لیے کچھ خاص اوقات بھی ہیں جن میں عبادت کرنے کا ثواب بڑھ جاتا ہے جیسے رمضان المبا رک جس کی فضیلت قرآن کریم واحادیث پاک میں آئی ہیں نفل کا ثواب فرض کے برابر ایک نیکی کاثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے اللہ نے ہی تمام دن ورات اور مہینہ بنا ئے ہیں ان میں کچھ دنوں ،مہینوں کو بعض پر فضیلت بخشی ’’ حرمت‘‘ (عزت،بڑائی،عظمت) والے چارمہینے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں اسطرح سے موجود ہے۔
ترجمہ:بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نز دیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اورزمین بنائے ان میں چار چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے ۔ القرآن،سورہ توبہ9،آیت35) کنزا لایمان۔(1)ذوالقعدہ(2)ذوالحجہ ( 3)محرم(4) رجب۔

اسی طرح دنوں میں ’’جمعہ‘‘اور ایام نحر کے دن رات میں رات کا آخری حصہ وغیرہ وغیرہ ’’نماز‘‘ امالعبا دت ہے ہر حال میں فرض ہے کسی حال میں معاف نہیں (جب تک شر عی اجازت نہ ہو)آج کل مسلما نوں کا عبادت کے معاملےمیں انتہائی برا حال ہے مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد دیکھئے تو نماز جیسی عبادت سے مسلمانوں کی بے توجہی معلوم ہو تی ہے۔ ماہ رمضا ن المبا رک میں دیکھیں تو دل باغ باغ ہوجاتا ہے،یہ خاص رحمت الٰہی ہی ہے کہ مسجدیں نمازیوں سے اسی طرح کچھ مخصوص نورانی راتوں میں جیسے شب معراج،شب برات، لیلۃالقدر میں بھی مسجدوں میں کثیر تعداد میں نمازی آتے ہیں یہ اللہ کا کرم ہے ۔ان نورانی راتوں میں عبادت کا ثواب اور راتوں سے زیادہ ہوجاتا ہے یہ اللہ کی رحمت اپنے بندوں کوجس طرح چاہے نوازے۔ ان کی فضیلتوں سے انکار نہیں پریہ بات قابل غور ہے کی کیا ان راتوں کی عبادت و نفل نمازیں زندگی کے باقی اور دنوں میں قضا فرض نمازوں کا نعم البدل ہو جا ئیںگی۔ آج کل نیا رواج پڑ گیاہے ان مخصوص دنوں و راتوں کے لیے لوگ (HANDBILL ) شا ئع کراتے ہیں عجیب عجیب طریقے سے نفل نماز پڑھنے کی تر کیب اور فضائل لکھے رہتے ہیں۔
جیسے آج کی رات چار رکعت نماز نفل ایک سلام کے ساتھ پڑھیں پہلی رکعت الحمد کے بعد قل یاایھا الکفرون ،دوسری رکعت میں قل ھو اللہ احد، تیسری رکعت میں قل اعوذ برب الفلق، چوتھی رکعت میں قل اعوز برب الناس، پڑھیں پچاس سال عبادت کرنے کا ثواب ملے گا۔ پچاس سال کے گناہ معاف ہو جائیں کے وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کے اشتہاری پرچوں میں حدیث کا حوالہ کہیں نہیں ہوتا۔عبادت میں ثواب تو بحر حال ہوتاہے اس طرح کے اشتہار جو بھی شائع کراتے ہیں ضرور کسی عالم دین کی مدد لیتے ہوں گے اور ثواب کی نیت سے بانٹتے ہیں ذمہ دار لوگ غو ر کریں اس طرح عوام الناس میں عبادت کی اہمیت گھٹ رہی ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کم خرچ بالا نشین چلو ایک رات عبادت کر لیے پچاس سال کی عبادت کا ثواب مل گیا اور پچاس سال کے گناہ معاف ہو گئے۔فرض نماز سے غفلت ایسے ہی افسوس ناک ہے اور اس پر اس طرح غیر ذمہ دار اشتہار ات و بیان بہت تشویشناک ہیں۔
آج مسلم معاشرے میں ان گنت برائیاں جڑ پکڑ چکی ہیں ایک دو ہوں تو گنایا جائے دوچار ہوں تو رونا رویا جائے علماء حضرات توجہ فرمائیں عوام میں پھیلی برائیوں کی نشاندہی فرمائیں ورنہ ایسا نہ ہو ان سب کے ساتھ ہم سب کی پکڑ نہ ہو جائے۔
استغفراللہ، اللہ رحم فر مائے۔ نماز فرض ہے امالعبادات ہے کسی حال میں معاف نہیں ہم ڈھٹائی کے ساتھ نماز سے غفلت بر تیں اور فرائض و واجبات کی طرف توجہ نہ دیں اور مخصوص دنوں کی عبادت پر توجہ مرکوز (FOCUS) کر دیں یہ نادانی ہے خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں نماز ہمیشہ فرض ہے جو نمازیں قضا ہوئی ہیں ان کا حساب لگا کر ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ رب العزت کے عتاب سے بچ پائیں ورنہ خوش فہمی میں پڑکر اپنا خسارہ کر یں گے قر آن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ: تم فرماوٗ کیا ہم تمھیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں، ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زند گی میں گم ہوگئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ (القرآن،سورالکھف18،آیت103-104)۔
جو بھی اللہ کی عبادت اس طریقے سے بجا لائے جو طریقہ اللہ کو پسند نہیں وہ تو اپنے اعمال سے خوش ہو رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ میں نے آخرت کا توشہ بہت کچھ جمع کر لیا ہے میرے نیک اعمال اللہ کو پسند ہیں او ر مجھے ان پر اجر و ثواب ملے گا لیکن اس کا یہ گمان غلط ہے فرض نماز کسی حال میں معاف نہیں حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی کتاب غنیۃ الطالبین میں ایک حدیث حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی روایت سے نقل فرماتے ہیں کہ: جو شخص فرائض ،واجبات کو چھوڑ کر سنن و نوافل میں لگاتا ہے اسکی مثال ایسی ہے جیسے ایک حمل والی عورت جو عنقریب بچے کو جننے والی ہے کہ اس کا حمل خراب ہوگیا اور بچہ مر گیا اگر بچہ زندہ رہتا تو اس کا پھل (بچہ) اسے ملتا اس عورت کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا حمل کے دوران عورت کو جو تکلیفیں ہوتی ہیں وہ سب اس نے جھیلیں اور اسے حاصل کچھ نہ ہوا یہی مثال اس شخص کی ہے جس نے سنن و نوا فل میں وقت لگا یااور واجبات و فرائض سے غفلت برتا تو اسکو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
خود حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کی کسی بادشاہ نے اپنی خدمت کے لیے ایک شخص کو بلایا وہ شخص بادشاہ کی خدمت میں جانے اور اس کی خدمت کر نے کے بجائے بادشاہ کے نوکر کی خدمت کرتا رہا تو یہ خدمت بادشاہ کی نہ ہوئی اور بادشاہ کے حکم کی خلاف ورضی ہوئی اور اس کی خدمت نہ اس کو فائدہ پہنچا سکی نہ ہی بادشاہ کو، محنت کی بھی پھر بھی محنت برباد ہو گئی۔ ذمہ دار علماء کو چاہیے کہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں جولوگ عوام کو سراب (دھوکا،فریب)میں مبتلا کر رہے ہیں وہ ذمہ داری سے بچ نہیں پائیں گے۔

تین نورانی راتوں کی فضیلت اور ان کی حقیقت:
ان مخصوص راتوں کی فضیلت سے انکار نہیں جہاں ان کی فضیلت بیان کی جائیں وہیں فرائض اور واجبات کی اہمیت کو ضرور بتائیں خاص کر پانچ وقت کی نمازوں کی فضیلت اور نہ پڑھنے پر شدید عذاب کی جو وعیدیں قرآن کریم و احادیث طیبہ میں موجود ہیں ان کو ضرور بتائیں اللہ رب العزت کے عذاب سے بھی ڈرائیں۔ جو لوگ نماز سے غفلت برتتے ہیں قرآن کریم میں ان کے لیے سخت عذاب کی وعید آئی ہے۔
فَوَ یْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِھِمْ سَا ھُوْن(ا لقرآن،سور ۃا لما عون107،آیت5 ۔4)
ترجمہ:ان نمازیوں کی خرا بی ہے، (اور ویل نا می جہنم کی جگہ) ہے،جواپنی نماز سے بھو لے بیٹھے ہیں۔
خوش فہمی سے بچیں فرائض،واجبات ،سنت کی ادائے گی توجہ مرکوز(FOCUS) کریں اور ساتھ میں سنن و نوافل کا بھی اہتمام کریں تاکہ اللہ کی بارگاہ میں کامیاب ہوں، نیک اعمال کے لیے ایمان شرط ہے وہیں ایمان لا کر بندہ اعمال سے بے نیاز نہیں ہو سکتا ۔ فرائض ہرحال میں ادا کرے ترک نماز میں ہم ڈھیٹ ہو چکے ہیں یہ تشویش ناک بات ہے ایمان کے ساتھ عمل کی سخت ضرورت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَعْدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ مِنْھُمْ مَغْفِرَۃًوَّاَجْرًا عَظِیْمًا (القراٰن سورہ فتح:48، آیت:29)
ترجمہ: اللہ نے وعدہ کیا ہے ان سے جو ان میں ایمان والے ہیں اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش وبڑے ثواب کا۔
قرآن کریم میں بہت سی آیات کریمہ اس کا اعلان کر رہی ہیں کہ ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے سورہ کہف 18، آیت 106،سورہ حشر 59،آیت17,18,19 سورہ عنکبوت 29، آیت7 وغیرہ وغیرہ۔
علم دین سے ناواقف اور مادہ پرست و آرام پسند ماحول میں پلے بڑھے کچھ مسلمان جو تعیش میں زندگی گزار رہے ہیں ان کے دل میں ایمان آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے عبادات کو بوجھ سمجھتے ہیں اور اس میں کچھ بے عمل مولوی حضرات ایسے لوگوں کو سراب (خوش فہمی) میں مبتلا کررہے ہیں یہ بات ذہن نشین رہے نماز امالعبا دات ہے جس کا مقصد صرف اورصرف اللہ کی بند گی اوراس کی رضا حا صل کر نا ہے اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ہی عبا دت کرناہے غور فرمائیں ہزاروں نفل نمازیں ادا کرنا اور چند مخصوص نورانی راتوں میں عبادت کرناکیا ایک فرض نماز چھوڑنے کا کفارہ بن سکتی؟ کیا بیوائوں کی دیکھ بھال پر خرچ کرنے والی رقم جس پر حج فرض ہے اور وہ حج نہ ادا کرے کیا یہ نیک عمل حج نہ کر نے کا کفارہ بن جا ئے گا؟ کیا ہزاروں مریضوں کے علاج خرچ کر نے والی رقم، زکاۃ نہ ادا کر نے والے شخص کے زکاۃ نہ دینے کا کفارہ بن جائے گی؟ ہر گز ہر گز نہیں حالانکہ یہ سب کام بڑے اجرو ثواب کے ہیں اور اسلام میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔اسی طرح اور نیکیاں کرنے و چند راتوں کی عبادت فرض نمازترک کرنے کا کفارہ نہیں بن سکتی ہے ۔ ان عبادتوں کی فضیلت و اہمیت سے انکار نہیں ۔ لیکن فرض نماز کے ترک کر نے والے کا عذاب بھی جان لیں۔
تر جمہ: ان کے بعد کچھ نا خلف پیدا ہوئے جنھوں نے نمازیں ضائع کر دیں اور نفسانی خواہشوں کا اتباع کیا، عنقریب انھیں سخت عذاب طویل وشدید سے ملنا ہوگا عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے۔( القر آن، سورہ مر یم19 ، آیت 59) غی جہنم میں ایک وادی ہے،جس کی گرمی اور گہرا ئی سب سے زیادہ ہے،اس میں ایک کنواں(WELL)ہے،جس کا نام ’’ہبہب‘‘ ہے جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے،اللہ عزوجل اس کوئیں کو کھول دیتاہے، جس سے وہ بدستور بھڑ کنے لگتی ہے ، قر آن میں ہے ۔
کُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰھُمْ سَعِیْرًا(القرآن، سورہ بنی اسرائیل 17، آیت 97)
تر جمہ: جب بجھنے پر آئے گی ہم اسے اور بھڑ کا دیں گے۔ یہ کنواں بے نما زیوں،اور زانیوں، اور شرابیوں، اور سود خوروں، اور ماں باپ کو تکلیف دینے والوں کے لیے ہے۔ نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے سب احکام اپنے نبیﷺ کو زمین پر بھیجے،جب نماز فرض کر نی ہوئی حضورﷺ کو اپنے پاس عرش اعظم پر بلا کر اسے فرض کیااور شب اسریٰ(یعنی معراج کی رات) میں یہ تحفہ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب نے عرض کیا، یا رسو ل اللہ ﷺ اسلام میں سب سے زیادہ اللہ کے نزدیک محبوب کیا چیز ہے؟فرمایا’’ وقت میں نماز پڑھنا اور جس نے نماز چھوڑی اس کا دین نہیں‘‘۔نماز دین کا ستون (PILLAR) ہے۔( مسند،حدیث2612،ج،6 ص133 حدیث490)
مسلما نوں کو چا ہیئے اللہ کا بندہ بن کر رہیں یعنی اطاعت وبندگی کرتے ر ہیں ا ور اطا عت پر گامزن رہیں فرائض واجبات خاص کر نماز جو کسی حال میں معا ف نہیں وقت پر ادا کرتے رہیں اور سنتوں ونوا فل کا بھی اہتمام کریں خواہ نورانی راتیں ہوں یا کبھی بھی خوش فہمی میں نہ رہیں فرائض کی ادائیگی میں کو تاہی نہ کریں ۔اہل علم کی ذمہ داری ہے وہ لوگوں کو سمجھاتے رہیں اللہ کا حکم ہے ۔وَذَکِّرْفَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْن ( القرآن،سورہ الذا ریات 51، آیت55، )
تر جمہ: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔
اللہ رب العز ت سے دعا ہے ہم سب کو دین کے احکام جاننے اور اس پر عمل کر نے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

از قلم✍️ محمد ہاشم قادری مصباحی، جمشید پور۔
+919279996221
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯اپنے رب کو دیکھا🕯*


📬 اللہ کریم کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : رَاَيْتُ رَبِّي یعنی میں نے اپنے رب کو دیکھا۔
(مسند احمد ، 1 / 622 ، حدیث : 2634)
اس پوری کائنات میں جاگتی آنکھوں سے اللہ پاک کا دیدار صرف ہمارےپیارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہی کیا ، اور کسی نے نہ تو کیا ہے اور نہ ہی کر سکتا ہے ، یہ آپ کا ایک عظیم معجزہ ہے ۔
اور کوئی غیب کیا تم سے نِہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
اللہ پاک نے آپ کو رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد ِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی ، پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جنّت اور دوزخ کوبھی دیکھا ، اپنی جاگتی آنکھوں سےاللہ پاک کادیداربھی کیا۔ اسی رات اللہ پاک نے مسلمانوں کے لئے 5فرض نمازوں کا تحفہ بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوعطافرمایا ۔
یہ واقعہ رجبُ المرجب کے مہینے کی ستائیسویں رات کو پیش آیا۔
اسی لئے اس رات کو شب معراج (یعنی معراج کی رات )کہا جاتا ہے ، 27رجب کو مسلمان مسجدوں میں محفلیں اور اجتماعات کرتے ہیں ، جن میں علمائے کرام ، امام صاحبان نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا واقعۂ معراج ، اس کی حکمتیں اور دیگر فضائل و کمالات بیان کرتے ہیں اوراس رات مساجد میں نوافل ، تلاوتِ قراٰن ، ذِکرودروداور دیگر عبادات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔
اچّھے بچّو ! ہو سکے تو آپ بھی اس رات کےاہتمام کےلئے غسل کریں ، صاف ستھرے کپڑے پہنیں ، اپنے ابو یا کسی سرپرست کے ساتھ مسجد میں جائیں ، جتنا ہو سکے نوافل ، تلاوت اور دیگر ذکر و اذکار میں مصروف رہیں۔ بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اس مبارک رات کی برکتیں بھی نصیب ہوں گی۔ اِن شآءَ اللہ
اللہ پاک ہم سب کواس برکت والی رات میں خوب عبادت کرنے اور اپنے رب کو راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 مولانامحمد جاوید عطاری مدنی۔*
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1