Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حضرت شیخ سری سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ آپ کے حقیقی ماموں تھے۔ قرآن وحدیث، تفسیر و فقہ اور عربی ادب میں مہارت تامہ رکھتےتھے۔بیس سال کی عمر میں فتویٰ نویسی شروع کردی تھی۔ آپ کا شمار بغداد کےاجلہ علماء میں ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔ تیس برس تک آپ کا معمول رہا کہ نماز عشاء پڑھ کر ایک پاؤں پر کھڑے ہوتے اور صبح تک ذکر اللہ کرتے، اور اسی وضو سے نمازِ فجر ادا فرماتے۔ آپ ابتدائی حالت سے لے کر دور آخر تک تمام جماعتوں کے محمود و مقبول تھےاور تمام لوگ آپ کی امامت پر متفق تھے۔ آپ کا سخن طریقت میں حجت ہےاور تمام زمانوں نے آپ کی تعریف رہی ہے، اور کوئی شخص بھی آپ کے ظاہر وباطن پر انگشت نمائی نہ کرسکا، سوائے اس شخص کے جو بالکل اندھا تھا۔ خواص نے آپ کو ’’لِسان القوم‘‘ کہا ہے اور آپ نے خود کو ’’عبدالمشائخ‘‘ لکھا ہے۔ طبقۂ علماء نے’’ طاؤس العلماء اور ’’سلطان المحققین‘‘ جانا ہے۔ اس لیے کہ آپ شریعت و طریقت میں انتہاء کو پہنچ چکے تھے۔ آپ عشق و زہد میں بے مثل اور طریقت میں مجتہد عصر تھے۔ بہت سے مشائخ آپ کے مذہب پر ہوئے۔ سب سے زیادہ معروف طریقہ طریقت میں اور مشہور تر مذہب مذاہب میں آپ ہی کا ہے۔ آب اپنے وقت میں تمام مشائخ کا مرجع تھے، آپ کی تصانیف بہت ہیں جو تمام ارشادات و معارف میں لکھی ہیں۔ باوجود ان عظیم خوبیوں کے دشمنوں اور آپ کے حاسدوں نے آپ کو زندیق کہا ہے۔
حضرت سرّی سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ کسی مرید کا پیر سے بلند درجہ ہوا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے اور اس کی دلیل ظاہر ہے کہ جنید بغدادی مجھ سے بلند درجہ رکھتے ہیں۔
عادات و صفات: حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ سلوک کے اس عظیم منزل پر فائز ہونے کے ساتھ اخلاقِ حسنہ والی صفت سے مزیّن تھے اور اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کے ساتھ بھی آپ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے، مگر جب کبھی آپ کے برادران طریقت آجاتے تو روزہ افطار کردیتے اور فرماتے کہ اسلامی بھائیوں کی خاطر و مدارات نفل روزوں سے افضل ہے۔ غریبوں یتیموں مسکینوں اور بیواؤں کا سہارا بنتے، امیروں پر فقیروں اور غریبوں کو ترجیح دیتے تھے۔ کبھی کسی امیر و وزیر کی تعظیم نہیں کی۔آپ عالمانہ لباس زیب تن فرماتے تھے، ایک بار لوگوں نے عرض کیایا شیخ! کیا خوب ہو کہ آپ مُرَقَّعْ (گدڑی) پہنیں۔
فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ مرقع پر تصوف و معرفت منحصر ہے تو میں لوہے و آگ سے لباس بناتا اور پہنتا، لیکن ہر گھڑی باطن میں یہ ندا آتی ہے ’’ لیس الاعتبار بالخرقۃ انما الاعتبار بالحرقۃ ‘‘ یعنی معرفت میں خرقہ کا اعتبار نہیں بلکہ (محبتِ الہی میں) جان جلنے کا اعتبار ہے۔
(شریف التواریخ: جلد اول،ص528)
تجارت و عبادت: آپ شیشے کی تجارت کرتے تھے اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلاناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور سامنے پردے کو گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یہاں تک کہ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا۔ پھر آپ نے اپنی دوکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضرت سری سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کردی اور حالتِ مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مُصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے اور اس طرح آپ نے چالیس سال کا عرصہ گزارا۔
آپ خود فرماتے ہیں: کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی، اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا۔
(تذکرہ مشائخِ قادریہ، 192)
مسندِ رشد و ہدایت: حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ جب راہ ِسلوک میں کامل و اکمل ہوگئے اور آپ کی مقبولیت ہر چہار جانب پھیلنے لگی تو حضرت شیخ سِرّی سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کو حکم دیا جنید اب تم وعظ کہا کرو۔ آپ تردّد میں پڑگئے کہ شیخ الوقت کی موجودگی میں کس طرح تقریر کروں؟
کیونکہ یہ خلاف ادب ہے؟ اسی حالت میں رہے کہ ایک رات خواب میں نبی کریمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے تو سرکار دوعالمﷺ نے بھی آپ کو وعظ کہنے کے لیے ارشاد فرمایا۔ آپ جب صبح بیدار ہوئے تو اپنے شیخ طریقت سے خواب کو بیان کرنے کے لیے سوچا یہاں تک کہ آپ سرّی سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے شیخ پہلے ہی آپ کے انتظار میں دروازے پر کھڑے ہیں، جب آپ قریب ہوئے تو آپ سے ارشاد فرمایا: ’’لم تصدقناحتیٰ جاءک الامر من رسول اللہ‘‘ یعنی تم نے (بپاس ادب) ہماری بات نہ مانی؛ اب تو تمہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرما دیا ہے۔ (نفحاتِ منبریۃ، 54)
تعلیمات: حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
حضرت سرّی سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ کسی مرید کا پیر سے بلند درجہ ہوا ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے اور اس کی دلیل ظاہر ہے کہ جنید بغدادی مجھ سے بلند درجہ رکھتے ہیں۔
عادات و صفات: حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ سلوک کے اس عظیم منزل پر فائز ہونے کے ساتھ اخلاقِ حسنہ والی صفت سے مزیّن تھے اور اپنے سے کم درجہ کے لوگوں کے ساتھ بھی آپ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ آپ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے، مگر جب کبھی آپ کے برادران طریقت آجاتے تو روزہ افطار کردیتے اور فرماتے کہ اسلامی بھائیوں کی خاطر و مدارات نفل روزوں سے افضل ہے۔ غریبوں یتیموں مسکینوں اور بیواؤں کا سہارا بنتے، امیروں پر فقیروں اور غریبوں کو ترجیح دیتے تھے۔ کبھی کسی امیر و وزیر کی تعظیم نہیں کی۔آپ عالمانہ لباس زیب تن فرماتے تھے، ایک بار لوگوں نے عرض کیایا شیخ! کیا خوب ہو کہ آپ مُرَقَّعْ (گدڑی) پہنیں۔
فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ مرقع پر تصوف و معرفت منحصر ہے تو میں لوہے و آگ سے لباس بناتا اور پہنتا، لیکن ہر گھڑی باطن میں یہ ندا آتی ہے ’’ لیس الاعتبار بالخرقۃ انما الاعتبار بالحرقۃ ‘‘ یعنی معرفت میں خرقہ کا اعتبار نہیں بلکہ (محبتِ الہی میں) جان جلنے کا اعتبار ہے۔
(شریف التواریخ: جلد اول،ص528)
تجارت و عبادت: آپ شیشے کی تجارت کرتے تھے اور اس وقت آپ کا معمول تھا کہ بلاناغہ اپنی دوکان پر تشریف لے جاتے اور سامنے پردے کو گرا کر چار سو رکعت نماز نفل ادا فرماتے یہاں تک کہ ایک مدت تک آپ نے اس عمل کو جاری رکھا۔ پھر آپ نے اپنی دوکان کو چھوڑ دیا اور اپنے شیخ طریقت کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضرت سری سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مکان کی ایک کوٹھری میں خلوت گزیں ہو کر اپنے دل کی پاسبانی شروع کردی اور حالتِ مراقبہ میں آپ اپنے نیچے سے مُصلیٰ کو بھی نکال ڈالتے تاکہ آپ کے دل پر سوائے اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے خیال کے کوئی دوسرا خیال نہ آئے اور اس طرح آپ نے چالیس سال کا عرصہ گزارا۔
آپ خود فرماتے ہیں: کہ بیس برس تک تکبیر اولیٰ مجھ سے فوت نہیں ہوئی، اور نماز میں اگر دنیا کا خیال آجاتا تو میں اس نماز کو دوبارہ ادا کرتا اور اگر بہشت اور آخرت کا خیال آتا تو میں سجدہ سہو ادا کرتا۔
(تذکرہ مشائخِ قادریہ، 192)
مسندِ رشد و ہدایت: حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ جب راہ ِسلوک میں کامل و اکمل ہوگئے اور آپ کی مقبولیت ہر چہار جانب پھیلنے لگی تو حضرت شیخ سِرّی سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے آپ کو حکم دیا جنید اب تم وعظ کہا کرو۔ آپ تردّد میں پڑگئے کہ شیخ الوقت کی موجودگی میں کس طرح تقریر کروں؟
کیونکہ یہ خلاف ادب ہے؟ اسی حالت میں رہے کہ ایک رات خواب میں نبی کریمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے تو سرکار دوعالمﷺ نے بھی آپ کو وعظ کہنے کے لیے ارشاد فرمایا۔ آپ جب صبح بیدار ہوئے تو اپنے شیخ طریقت سے خواب کو بیان کرنے کے لیے سوچا یہاں تک کہ آپ سرّی سقطی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بارگاہ میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ کے شیخ پہلے ہی آپ کے انتظار میں دروازے پر کھڑے ہیں، جب آپ قریب ہوئے تو آپ سے ارشاد فرمایا: ’’لم تصدقناحتیٰ جاءک الامر من رسول اللہ‘‘ یعنی تم نے (بپاس ادب) ہماری بات نہ مانی؛ اب تو تمہیں رسول اللہﷺ نے حکم فرما دیا ہے۔ (نفحاتِ منبریۃ، 54)
تعلیمات: حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
’’ کہ صوفی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جب پلیدی اس پر ڈالی جاتی ہےتو وہ سرسبز ہوکرنکلتی ہے۔ فرمایا صوفی وہ ہے جس کا دل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح دنیا کی دوستی سے پاک ہو اور فرمان الٰہی بجالانے والا ہو، اس کی تسلیم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی تسلیم کی طرح ہو اور اس کا غم و اندوہ حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح ہو اور اس کا صبر حضرت ایوب علیہ السلام کے مانند ہو اس کا ذوق و شوق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہو اور مناجات میں اس کا اخلاص حضور سرورِ کائناتﷺ کی طرح ہو۔
(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، 197)
خلفاء و تلامذہ: شیخ ابوبکر شبلی، ابو محمد الجریری، ابن الاعرابی احمد بن محمد، علی بن بندارابوالحسن الصیرفی، عبد اللہ بن محمد الشعرانی، محمد بن اسود دینوری۔ علیہم الرحمہ
وصال: بروز جمعۃ المبارک 27 رجب المرجب 297ھ کو واصل بااللہ ہوئے۔ مزار مبارک مقامِ ’’شونیزیہ‘‘ بغدادِ معلیٰ میں مرجعِ خلائق ہے۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
بہر معروف و سری معروف دے بےخود سری
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
(تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ، 197)
خلفاء و تلامذہ: شیخ ابوبکر شبلی، ابو محمد الجریری، ابن الاعرابی احمد بن محمد، علی بن بندارابوالحسن الصیرفی، عبد اللہ بن محمد الشعرانی، محمد بن اسود دینوری۔ علیہم الرحمہ
وصال: بروز جمعۃ المبارک 27 رجب المرجب 297ھ کو واصل بااللہ ہوئے۔ مزار مبارک مقامِ ’’شونیزیہ‘‘ بغدادِ معلیٰ میں مرجعِ خلائق ہے۔
شجرہ شریف میں اس طرح ذکر ہے:
بہر معروف و سری معروف دے بےخود سری
جُنْدِ حق میں گِن جنید باصفا کے واسطے
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللّٰه علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ۔
کنیت: ابو صالح۔
لقب: جنگی دوست۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبداللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبداللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت بروز اتوار، 27/ رجب المرجب 400ھ، کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبداللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ِربانیین میں سے تھے۔
بیعت و خلافت: آپ اپنے والد ِ گرامی سید عبداللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ: "جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللّٰه کو دوست رکھتے تھے۔ "ریاض الحیات" میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء و مساکین کو بلاکر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا:
اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جوکی روٹی اور گرم پانی بہت ہے۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا۔ جب سے آپ کا لقب "جنگی دوست" ہوگیا۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص: عالمِ ربانی، والد غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر الجیلانی حضرت سیدنا ابوصالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے۔ آپکا چہرہ مبارک انوار ربانی کا مرقع تھا۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تو وہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو۔ جب کسی محفل میں حضور سید الا نبیاءﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو، ہر آن پروردگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو۔
وصال: بروز جمعۃ المبارک 11/ ذوالقعدہ 489 ھ، کو آپ کا وصال ہوا۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع: سیرتِ غوث الاعظم۔ تذکرہ قادریہ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
-----------------------------------------------------------
🕯حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللّٰه علیہ🕯
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
اسمِ گرامی: سید موسیٰ۔
کنیت: ابو صالح۔
لقب: جنگی دوست۔
سلسلہ نسب اسطرح ہے: سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست، بن سید ابو عبد اللہ الجیلانی، بن سید یحییٰ زاہد، بن سید محمد، بن سید داؤد، بن سید موسیٰ ثانی، بن سید عبداللہ، بن سید موسیٰ الجون، بن سید عبداللہ المحض، بن سید حسن المثنیٰ، بن سیدنا امام المتقین سیدنا امام حسن، بن امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ الکریم۔ (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت بروز اتوار، 27/ رجب المرجب 400ھ، کو گیلان (عربی میں "جیلان" ایران کے صوبوں میں سے ایک صوبہ ہے) میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: آپ علیہ الرحمہ تمام علوم و فنون میں کامل و اکمل تھے۔ علوم کی تحصیل و تکمیل، اور اسی طرح روحانی تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی سید عبداللہ الجیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ سے ہوئی۔ آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے علماء ِربانیین میں سے تھے۔
بیعت و خلافت: آپ اپنے والد ِ گرامی سید عبداللہ جیلانی کے مرید و خلیفہ تھے۔
جنگی دوست کی وجہ تسمیہ: "جنگی دوست" لقب ہونے کی وجہ "قلائد الجواہر" میں یہ ہے کہ آپ جہاد فی سبیل اللّٰه کو دوست رکھتے تھے۔ "ریاض الحیات" میں اس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہاد فرماتے تھے اور نفس کشی کو تزکیۂ نفس کا مدار سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس مجاہدۂ نفس میں مکمل ایک سال تک قطعی کھانا پینا ترک فرما دیا تھا۔ ایک سال گزر جانے کے بعد جب ذرا کھانے کی خواہش محسوس ہوئی، تو ایک شخص نے عمدہ غذا اور ٹھنڈا پانی لاکر پیش کیا، آپ نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا لیکن فوراً فقراء و مساکین کو بلاکر اسے تقسیم کر دیا اور اپنے نفس کو مخاطب کرکے فرمایا:
اے نفس: تیرے اندر ابھی غذا کی خواہش باقی ہے؟ تیرے واسطے تو جوکی روٹی اور گرم پانی بہت ہے۔ اسی کیفیت میں حضرت خضر علیہ السلام تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آپ پر سلام ہو۔ خدائے قدیر نے آپ کے قلب کو جنگی (نفس و کفار سے لڑنے والا) اور آپکو اپنا دوست بنا لیا ہے، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں۔ حضرت خضر علیہ السلام کے پاس جس قدر کھانا تھا اسی کو دونوں حضرات نے تناول فرمایا۔ جب سے آپ کا لقب "جنگی دوست" ہوگیا۔ (سیرتِ غوث الاعظم)
سیرت و خصائص: عالمِ ربانی، والد غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر الجیلانی حضرت سیدنا ابوصالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ۔
آپ علیہ الرحمہ اپنے وقت کے ولیِ کامل تھے۔ ہر وقت ذکر و اذکار، وعظ و نصیحت، مجاہدۂ نفس، اور دینِ متین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول رہتے تھے۔ آپکا چہرہ مبارک انوار ربانی کا مرقع تھا۔ جسے دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا۔ جس محفل میں آپ رونق افروز ہوتے تو وہ محفل منور ہو جاتی تھی۔ زبان میں بلا کی فصاحت اور شیرنی تھی۔ جب تک آپ وعظ کا سلسلہ جاری رکھتے تھے، حاضرین سوائے انتہائی مجبوری کے مجلس وعظ سے جنبش بھی نہیں کرتے تھے۔
اکثر و بیشتر آپ یہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا بندہ ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو محبوب رکھتا ہوں، رب تبارک و تعالیٰ سے ہمیشہ ڈرتے رہو، خلاف شریعت امور سے احتراز کرو۔ جب کسی محفل میں حضور سید الا نبیاءﷺ کا نام نامی اسم گرامی آجائے تو لازمی درود شریف کا نذرانہ پیش کرو۔ کسی وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو، ہر آن پروردگارِ عالم کو سمیع و بصیر جانو۔
وصال: بروز جمعۃ المبارک 11/ ذوالقعدہ 489 ھ، کو آپ کا وصال ہوا۔ آپ کا مزار "گیلان" (ایران) میں ہے۔
ماخذ و مراجع: سیرتِ غوث الاعظم۔ تذکرہ قادریہ۔ تذکرہ مشائخِ قادریہ۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
المرتب⬅ محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
26-07-1443ᴴ 🗓 28-02-2022ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ہزاری اور لکھی روزہ کی حقیقت نور نامہ پڑھنا کیسا ہے ؟
27-07-1443 ᴴ | 01-03-2022 ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
सलाम का जवाब फ़ौरन वाजिब है!
اللہ نے مجھ پر بیت المقدس
امانت کی حفاظت ، سچائی
معراج کا منکر کافر و گمراہ
मेराज का मुन्किर काफ़िर व गुमराह
ماہ رجب اور ہزاری روزہ
माहे रजब और हज़ारी रोज़ा रोज़ह
Rajab ᴬᵘʳ Hazari Roza ᴿᵒᶻᵃʰ
تاریخ ۲۷ رجب المرجب شریف:
یوم وصال: حضرت جنید بغدادی
ولادت: والدِ سرکارِ غوث الاعظم
حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ
جنگی دوست | رضی اللہ عنهم
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
सलाम का जवाब फ़ौरन वाजिब है!
اللہ نے مجھ پر بیت المقدس
امانت کی حفاظت ، سچائی
معراج کا منکر کافر و گمراہ
मेराज का मुन्किर काफ़िर व गुमराह
ماہ رجب اور ہزاری روزہ
माहे रजब और हज़ारी रोज़ा रोज़ह
Rajab ᴬᵘʳ Hazari Roza ᴿᵒᶻᵃʰ
تاریخ ۲۷ رجب المرجب شریف:
یوم وصال: حضرت جنید بغدادی
ولادت: والدِ سرکارِ غوث الاعظم
حضرت سیدنا ابو صالح موسیٰ
جنگی دوست | رضی اللہ عنهم
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
27-07-1443 ᴴ | 01-03-2022 ᴱ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ सलाम का जवाब फ़ौरन वाजिब है! اللہ نے مجھ پر بیت المقدس امانت کی حفاظت ، سچائی معراج کا منکر کافر و گمراہ मेराज का मुन्किर काफ़िर व गुमराह ماہ رجب اور ہزاری روزہ माहे रजब और हज़ारी रोज़ा रोज़ह Rajab ᴬᵘʳ Hazari Roza ᴿᵒᶻᵃʰ…
مدارس دین کی حفاظت کے قلعے
اللہ پاک مال ہی قبول فرماتا ہے!!!
اللہ حلال کمائی ہی قبول کرتا ہے!
اللہ پاک مال ہی قبول فرماتا ہے!!!
اللہ حلال کمائی ہی قبول کرتا ہے!
❤1