❤1
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ ㉚
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نور و نکہت سے ہے معمور سما آج کی رات
باادب مل کے پڑھیں صلی علیٰ آج کی رات
اپنے محبوبﷺ کو بھیجا ہے خدا نے رَف رَف
سیر کو نکلے ہیں محبوبِ خدا آج کی رات
✍🏻 انجـــمؔ
تمام احباب کرام "تبرکات معراجیہ" کی زیارت سے مستفیض ہوں۔ 👆
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6599
بشکریہ جستجوئے مدینہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
نور و نکہت سے ہے معمور سما آج کی رات
باادب مل کے پڑھیں صلی علیٰ آج کی رات
اپنے محبوبﷺ کو بھیجا ہے خدا نے رَف رَف
سیر کو نکلے ہیں محبوبِ خدا آج کی رات
✍🏻 انجـــمؔ
تمام احباب کرام "تبرکات معراجیہ" کی زیارت سے مستفیض ہوں۔ 👆
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6599
بشکریہ جستجوئے مدینہ
❤1
Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
کنیت: ابوالقاسم۔
اسم گرامی: جنید۔
القاب: سید الطائفہ، طاؤس العلماء، سلطان الاولیاء، شیخ الاسلام۔
سلسلۂ نسب: حضرت جنید بغدادی بن شیخ محمد بن جنید علیہم الرحمہ۔
(نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص52)
آپ کے والد شیشہ اور کپڑےکی تجارت کیا کرتے تھے۔ وطنِ اصلی ’’نہاوند‘‘ ایران تھا۔ پھر بغداد کی طرف ہجرت فرمائی اور مستقل سکونت اختیار کرلی۔ (شریف التواریخ، ج 1، ص 522)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت غالباً 216ھ یا 218ھ کو بغداد میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: آپ رحمۃ اللّٰه علیہ ابتدا سے ہی نہایت ذہین و فطین تھے۔ بہت قلیل عرصے میں ہی آپ نےتمام علوم ِعقلیہ و نقلیہ پر مہارتِ تامہ حاصل کرلی تھی۔ اکثر اپنے ماموں حضرت شیخ سری سقطی رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور فیض ِصحبت سے مستفیض ہوا کرتے، اور فقہ مشہور شافعی فقیہ شیخ ابو ثور ابراہیم بن خالد الکلبی(تلمیذ حضرت امام شافعی)سے حاصل کی جو بغداد کے اَجِلَّہ فقہاء و مشاہیر علماء سے تھے۔ ان سے فقہ شافعی میں کمال حاصل کیا، اور ان کی زیر نگرانی فتویٰ جاری کیا۔ اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی۔ جوانی میں ہی آپ کے علم کا چرچا عام ہوگیا تھا۔ حضرت سری سقطی، شیخ ابو ثور ابراہیم، شیخ حارث محاسبی، محمد بن ابراہیم بغدادی، ابو جعفر محمد بن علی قصاب، بشر بن حارث، کے علاوہ آپ نے ایک سو بیس سے زائد علماء و شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا۔
آپ کے تَبَحُّرِ علمی کے بارے میں’’سیراعلام النبلاء‘‘ میں ہے: عن أبي القاسم الكعبي أنه قال مرة : رأيت لكم شيخا ببغداد يقال له الجنيد ، ما رأت عيناي مثله ، كان الكتبة، يعني البلغاء يحضرونه لألفاظه ، والفلاسفة يحضرونه لدقة معانيه ، و المتكلمون لزمام علمه ، وكلامه بائن عن فهمهم وعلمهم۔
(سیر اعلام النبلاء، الطبقۃ السادسۃ عشرۃ، تذکرۃ الجنید)
نیز شیخ ابوبکر کسائی رحمہ اللّٰہ اور آپ کے درمیان ہزار مسئلوں کا مُراسلہ(خط و کتابت) ہوا تھا آپ نے سب کے جواب لکھے، کسائی رحمہ اللّٰہ نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ ان مسئلوں کو میرے ساتھ قبر میں رکھ دینا، میں ان کو ایسا دوست رکھتا ہوں کہ چاہتا ہوں کہ یہ مسئلے مخلوق کے ہاتھ سے چھوئے بھی نہ جائیں۔ (شریف التواریخ،ج1،ص530)
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:
’’ میرے پیر حضرت سری سقطی رحمۃ اللّٰه علیہ نے مجھے دعا دی کہ ﷲتعالیٰ تمہیں حدیث دان بنا کر پھر صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے‘‘۔
اسی طرح فرماتے ہیں: علمنا مضبوط بالكتاب والسنة من لم يحفظ الكتاب ، ويكتب الحديث ، ولم يتفقه لا يقتدى بہ۔ ’’ یعنی جس نے نہ قرآن یاد کیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں طریقت میں اس کی اقتداء نہ کریں اور اسے اپنا پیر نہ بنائیں کیونکہ ہمارا یہ علمِ طریقت بالکل کتاب و سنت کا پابند ہے‘‘۔
نیز فرمایا:
’’ خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول ﷲﷺ کے نشانِ قدم (سنت) کی پیروی کرے‘‘۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص53)
بیعت و خلافت: آپ اپنے حقیقی ماموں حضرت شیخ سری سقطی رحمۃ اللّٰه علیہ سے بیعت ہوئے اور خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص: شیخ الاسلام والمسلمین، سلطان الاولیاء والمتقین، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ اہل سنت وجماعت کےعلماء و اولیاء کے امام ہیں۔ آپ کو گروہِ صوفیاء میں ’’سید الطائفہ‘‘ اور علماء میں ’’طاؤس العلماء‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
-----------------------------------------------------------
*🕯حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
نام و نسب:
کنیت: ابوالقاسم۔
اسم گرامی: جنید۔
القاب: سید الطائفہ، طاؤس العلماء، سلطان الاولیاء، شیخ الاسلام۔
سلسلۂ نسب: حضرت جنید بغدادی بن شیخ محمد بن جنید علیہم الرحمہ۔
(نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص52)
آپ کے والد شیشہ اور کپڑےکی تجارت کیا کرتے تھے۔ وطنِ اصلی ’’نہاوند‘‘ ایران تھا۔ پھر بغداد کی طرف ہجرت فرمائی اور مستقل سکونت اختیار کرلی۔ (شریف التواریخ، ج 1، ص 522)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت غالباً 216ھ یا 218ھ کو بغداد میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: آپ رحمۃ اللّٰه علیہ ابتدا سے ہی نہایت ذہین و فطین تھے۔ بہت قلیل عرصے میں ہی آپ نےتمام علوم ِعقلیہ و نقلیہ پر مہارتِ تامہ حاصل کرلی تھی۔ اکثر اپنے ماموں حضرت شیخ سری سقطی رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور فیض ِصحبت سے مستفیض ہوا کرتے، اور فقہ مشہور شافعی فقیہ شیخ ابو ثور ابراہیم بن خالد الکلبی(تلمیذ حضرت امام شافعی)سے حاصل کی جو بغداد کے اَجِلَّہ فقہاء و مشاہیر علماء سے تھے۔ ان سے فقہ شافعی میں کمال حاصل کیا، اور ان کی زیر نگرانی فتویٰ جاری کیا۔ اس وقت آپ کی عمر بیس سال تھی۔ جوانی میں ہی آپ کے علم کا چرچا عام ہوگیا تھا۔ حضرت سری سقطی، شیخ ابو ثور ابراہیم، شیخ حارث محاسبی، محمد بن ابراہیم بغدادی، ابو جعفر محمد بن علی قصاب، بشر بن حارث، کے علاوہ آپ نے ایک سو بیس سے زائد علماء و شیوخ سے علمی و روحانی استفادہ فرمایا۔
آپ کے تَبَحُّرِ علمی کے بارے میں’’سیراعلام النبلاء‘‘ میں ہے: عن أبي القاسم الكعبي أنه قال مرة : رأيت لكم شيخا ببغداد يقال له الجنيد ، ما رأت عيناي مثله ، كان الكتبة، يعني البلغاء يحضرونه لألفاظه ، والفلاسفة يحضرونه لدقة معانيه ، و المتكلمون لزمام علمه ، وكلامه بائن عن فهمهم وعلمهم۔
(سیر اعلام النبلاء، الطبقۃ السادسۃ عشرۃ، تذکرۃ الجنید)
نیز شیخ ابوبکر کسائی رحمہ اللّٰہ اور آپ کے درمیان ہزار مسئلوں کا مُراسلہ(خط و کتابت) ہوا تھا آپ نے سب کے جواب لکھے، کسائی رحمہ اللّٰہ نے اپنے انتقال کے وقت فرمایا کہ ان مسئلوں کو میرے ساتھ قبر میں رکھ دینا، میں ان کو ایسا دوست رکھتا ہوں کہ چاہتا ہوں کہ یہ مسئلے مخلوق کے ہاتھ سے چھوئے بھی نہ جائیں۔ (شریف التواریخ،ج1،ص530)
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں:
’’ میرے پیر حضرت سری سقطی رحمۃ اللّٰه علیہ نے مجھے دعا دی کہ ﷲتعالیٰ تمہیں حدیث دان بنا کر پھر صوفی بنائے اور حدیث داں ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے‘‘۔
اسی طرح فرماتے ہیں: علمنا مضبوط بالكتاب والسنة من لم يحفظ الكتاب ، ويكتب الحديث ، ولم يتفقه لا يقتدى بہ۔ ’’ یعنی جس نے نہ قرآن یاد کیا نہ حدیث لکھی یعنی جو علم شریعت سے آگاہ نہیں طریقت میں اس کی اقتداء نہ کریں اور اسے اپنا پیر نہ بنائیں کیونکہ ہمارا یہ علمِ طریقت بالکل کتاب و سنت کا پابند ہے‘‘۔
نیز فرمایا:
’’ خلق پر تمام راستے بند ہیں مگر وہ جو رسول ﷲﷺ کے نشانِ قدم (سنت) کی پیروی کرے‘‘۔ (نفحاتِ منبریۃ فی الشخصیات الاسلامیہ ص53)
بیعت و خلافت: آپ اپنے حقیقی ماموں حضرت شیخ سری سقطی رحمۃ اللّٰه علیہ سے بیعت ہوئے اور خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔
سیرت و خصائص: شیخ الاسلام والمسلمین، سلطان الاولیاء والمتقین، سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
آپ اہل سنت وجماعت کےعلماء و اولیاء کے امام ہیں۔ آپ کو گروہِ صوفیاء میں ’’سید الطائفہ‘‘ اور علماء میں ’’طاؤس العلماء‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔
❤1