🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
رجب المرجب کے مہینے میں روزے رکھنا بہت بڑا ثواب ہے ، جیسا کہ اس بارے میں فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے جس نے رجب کا ایک روزہ رکھا اس نے اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا کو واجب کر لیا ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۳)

اِسی طرح ایک اور مقام پہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : رجب شهرعظيم يضاعف الله فيه الحسنات فمن صام يوما من رجب فكانما صام سنة ومن صام منه سبعة أيام غلقت عنه سبعة أبواب جهنم ومن صام منه ثمانية أيام فتحت له ثمانية أبواب الجنة ومن صام منه عشرة أيام لم يسال الله شيئا إلا أعطاه إياه ومن صام منه خمسة عشريوما نادى مناد في السماء قد غفر لك ما مضى فاستانف العمل ومن زاد زاده الله عزوجل ۔
ترجمہ : رجب ایک عظیم الشان مہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کو دگنا کرتا ہے جو آدمی رجب کے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے گویا اس نے سال بھر کے روزے رکھے اور جو شخص رجب کے سات (۷) دن کے روزے رکھے تو اس پر دوزخ کے سات دروازے بند کیے جائیں گے جو اس کے آٹھ (۸) دن کے روزے رکھے تو اس کے لیے جنت کےآٹھ (۸) دروازے کھل جائیں گے اور جو آدمی رجب کے دس دن کے روزے رکھے تواللہ تبارک و تعالیٰ سے جس چیز کا سوال کرے گا وہ اسے دے گا اور جو رجب کے پندرہ دن روزے رکھےتو آسمان سے ایک منادی پکارے گا کہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے پس نئے سرے سے عمل کر اور جو آدمی زیادہ روزے رکھے گا اسے اللہ تبارک و تعالیٰ زیادہ دے گا ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : من صام يوم سبع وعشرين من رجب كتب الله له صيام ستين شهرا ۔
ترجمہ : جو شخص رجب کی ستائیسویں (۲۷) تاریخ کو روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے ساٹھ (۶۰)مہینوں کے روزوں کا ثواب عطا فرمائےگا ۔ (احیاء علوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۹،چشتی)

رجب المرجب شریف کی ستائیسویں (۲۷) شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم علِم بیداری میں اور جسم انور کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے آسمانوں پرآسمانوں سے بھی اوپر سدرۃ المنتہی تک اور پھر سدرۃ المنتہی سے بھی آگے وہاں تشریف لے گئے جہاں کسی کا وہم و گمان بھی نہیں جا سکتا توایسی رات جس کو یہ شرف حاصل ہو کہ اس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معراج ہوئی ہو اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوبِ پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خصائص نعم (نعمتوں) سے نوازا ہو اوراپنے دیدار کی نعمت کبرٰی سے سرفراز کیا ہو وہ رات کتنی افضل و بزرگ ہوگی ! تو اسی شب کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : للعامل في هذه الليلة حسنات مائة سنة ‘‘فمن صلى في هذه الليلة اثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة من القرآن ويتشهد في كل ركعتين ويسلم في آخرهن ثم يقول ’’سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر مائة مرة ثم يستغفر الله مائة مرة ويصلي على النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مائة مرة ويدعو لنفسه بما شاء من أمر دنياه وآخرته ويصبح صائماً فإن الله يستجيب دعاءه كله إلا أن يدعو في معصية ۔
ترجمہ : رجب کی ستائیسویں (۲۷) رات میں عبادت کرنے والوں کو سو (۱۰۰) سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے جواس رات میں بارہ (۱۲) رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتح پڑھ کر قرآن کریم کی کوئی سورۃ پڑھے اور دو رکعت پر تشہد (التحیات للہ آخر تک) پڑھ کر (بعد درود) سلام پھیرے اوربارہ (۱۲) رکعتیں پڑھنے کے بعد سو (۱۰۰) مرتبہ یہ تسبیح پڑھے ’’سبحان اللہ والحمد اللہ ولاالہ الااللہ واللہ اکبر‘‘ ۔ پھر سو (۱۰۰) مرتبہ استغفراللہ اور سو (۱۰۰) مرتبہ درود شریف پڑھے تو دنیا و آخرت کے امور کے متعلق جو چاہے دعا کرے اور صبح میں روزہ رکھے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعاؤں کو قبول فرمائے گا مگر یہ کہ وہ کوئی ایسی دعا نہ کرے جو گناہ میں شمار ہوتی ہو کیونکہ ایسی دعا قبول نہ ہوگی ۔ (احیاءعلوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۸،چشتی)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : وَمَا تَقَرَّبَ إِلَىَّ عَبْدِى بِشَىْءٍ أَحَبَّ إِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِى يَتَقَرَّبُ إِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِى يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِى يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطُشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِى بِهَا ، وَإِنْ سَأَلَنِى لأُعْطِيَنَّهُ ۔
ترجمہ : اور میرا بندہ کسی ایسی عبادت سے میرا قر ب حاصل نہیں کرتا جو مجھے ان عبادات سے زیادہ پسندیدہ ہو جو مَیں نے اس پر فرض کی اور میرا بندہ نوافل کے ساتھ مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ، پس جب میں اس سے محبت کرتا ہوں ، تو میں اس کے وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سُنتاہے ، میں اس کی وہ آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، مَیں اس کے وہ ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، مَیں اس کے وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو مَیں ضرور اسے عطا کرتا ہوں ۔ (صحیح بخاری صفحہ ۱۵۹۷)

حضرت حمید بن عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ : قال صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم افضل الصلاۃ بعد الفریضۃ قیام اللیل ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ فرائض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے ۔ (سنن النسائی جلد ۳ صفحہ ۱۴۵،چشتی)

مزید نوافل کی اہمیت کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اول ما یحاسب بہ العبد یوم القیامۃ صلاتہ فان و جدت تامۃ کتبت تامۃو ان کان انتقص منھا شیئی قال انظر و اھل تجدون لہ من تطوع یکمل لہ ما ضیع من فریضۃ من تطوعۃ ثم سائر الاعمال تجری علی حسب ذلک ۔
ترجمہ : قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے اس کی نمازوں کا حساب لیا جائے گا اگر وہ پوری پائی گئیں تو پوری لکھ لی جائیں گی اور اگر ان میں کچھ کمی پائی گئی تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نوافل بھی ہیں؟چنانچہ فرض نمازوں کی کمی نوافل سے پوری کی جائیگی، اسی طرح سارے اعمال کے بارے میں ہوگا ۔ (سنن نسائی صفحہ ۳۴۶،چشتی)

ابن المنکدر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیاکی صرف تین (۳) لذتیں باقی رہنے والی ہیں : 1 ۔ رات کو جاگنے والے کی لذت ۔ 2 ۔ بھائیوں سے ملاقات کی لذت ۔ 3 باجماعت نماز ادا کرنے کی لذت ۔
بعض عارف باللہ فرماتے ہیں کہ سحر کے وقت اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے قلوب کی طرف توجہ فرماتا ہے جنہوں نے تمام رات عبادت کی اور انہیں نور سے بھر دیتا ہے ۔ پھر ان پاک باز بندوں کا نور غافلوں کے دلوں پر منتقل ہوجاتا ہے ۔ بعض پہلے علماء میں کسی عالم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنقل کیا ہے کہ میرے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں مَیں محبوب رکھتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ میرے مشتاق ہیں مَیں ان کا مشتاق ہوں، وہ میرا ذکر کرتے ہیں اور مَیں ان کا ذکر کرتا ہوں،وہ میری طرف دیکھتے ہیں اور مَیں ان کی طرف دیکھتا ہوں ، اگر تو ان کے طریقے کے مطابق عمل کرے گا تو مَیں تجھ کو دوست رکھوں گا اور اگر تو ان سے انحراف کرے گا تو مَیں تجھ سے ناراض رہوں گا، ان بندوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دن کو اس طرح سایہ پر نظر رکھتے ہیں جس طرح چرواہا اپنی بکریوں پر نظر رکھتا ہے اور غروبِ آفتاب کے بعداس طرح رات کے دامن میں پناہ لیتے ہیں جس طرح پرندے اپنے گھونسلوں میں چھپ جاتے ہیں ۔ پھر جب رات کا اندھیرا چھا جاتا ہے تو حبیب اپنے محبوب کے ساتھ خلوت میں چلے جاتے ہیں تو وہ میرے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں اور میری خاطر اپنے چہرے زمین پر رکھتے ہیں مجھ سے مناجات کرتے ہیں ، میرے انعامات کا تذکرہ کرتے ہیں ، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ، کوئی روتا ہے ، کوئی چیختا ہے ، کوئی آہ بھرتا ہے وہ لوگ جس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں وہ میری نگاہوں کے سامنے ہیں ۔ میری محبت میں وہ جو کچھ شکوے شکایت کرتے ہیں مَیں ان سے واقف ہوں ، میرا ان لوگوں پر سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ مَیں اپنا کچھ نور ان کے دلوں میں ڈال دیتا ہوں ۔
دوسرا انعام یہ کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں، ان نیک بندوں کے مقابلے میں لائی جائیں تو مَیں انہیں (یعنی اپنے بندوں کو ) ترجیح دوں ۔
تیسرا انعام یہ ہے کہ مَیں اپنے چہرے سے ان کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ جن لوگوں کی طرف مَیں اس طرح متوجہ ہوتا ہوں انہیں کیا دینا چاہتا ہوں؟ مالک ابن دینار رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ رات کو اُٹھ کر تہجد پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے قریب آجاتے ہیں ۔ ان قدسی صفت انسانوں کے دلوں میں سوز و گداز اور رقت کی یہ کیفیت اس لیے پیدا ہوتی تھی کہ انہیں باری تعالیٰ کا قرب میسر تھا ۔ (احیاء علوم الدین جلد ۱ صفحہ ۵۰۵)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : إن من الليل ساعة لا يوافقها عبد مسلم يسأل الله خيرا إلا أعطاه إياه ۔
ترجمہ : رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان بندہ اسے پاتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے خیر کی درخواست کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرماتا ہے ۔ (مسلم شریف صفحہ ۳۵۰)
یعنی تمام رات کی عبادت کا مقصد صرف اور صرف اس گھڑی کا پانا ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ تمام دعاؤں کو قبول فرماتا ہے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رات کی اُس گھڑی میں عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/301173802118666/
1
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
شب معراج کے نوافل | عبادات
معراج کی رات کی خاص عبادت
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
‏نور و نکہت سے ہے معمور سما آج کی رات
‏باادب مل کے پڑھیں صلی علیٰ آج کی رات
‏اپنے محبوبﷺ کو بھیجا ہے خدا نے رَف رَف
‏سیر کو نکلے ہیں محبوبِ خدا آج کی رات
✍🏻 انجـــمؔ

‏تمام احباب کرام "تبرکات معراجیہ" کی زیارت سے مستفیض ہوں۔ 👆
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/6599
‏بشکریہ جستجوئے مدینہ ⁧
1