This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
شب معراج کے اعمال و عبادات
✍️ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/301173802118666/
محترم قارئینِ کرام : اس متبرک رات امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کو نماز کا تحفہ دیا گیا ‘ لہذا یہ عمل نہایت موزوں ہے کہ اہل اسلام اس رات قضاء عمری ‘صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا اہتمام کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں ۔ اللہ رب العزت نے سال کے بارہ (12) مہینوں میں مختلف دنوں اور راتوں کی خاص اہمیت و فضیلت بیان کر کے ان کی خاص برکات و خصوصیات بیان فرمائی ہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۔ (سورہ التوبہ:۳۶)
ترجمہ : بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کےنزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں ۔
ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ رجب ہے جس کے بارے میں امام محمد غزالی رحمة اللہ علیہ ’’مکاشفۃ القلوب‘‘میں فرماتے ہیں کہ ’’رجب‘‘ دراصل ترجیب سے نکلا ہے جس کے معنیٰ ہے تعظیم کرنا ۔ اسے ’’الاحسب‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں تیز بہاؤ ، اس لیے کہ اس ماہ مبارک میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہاؤتیز ہو جاتا ہے اور عبادت گزاروں پرانوار قبولیت کا فیضان ہوتا ہے ۔ اس بنا پر اسے ’’اصم ‘‘ بھی کہتے ہیں چونکہ اس مہینہ میں جنگ وقتال کی آواز نہیں سنی جاتی ۔ اس لیے اس مہینہ کو ’’اصب‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و مغفرت اُنڈیلتا ہے اس میں عبادتیں مقبول اور دعائیں مستجاب ہوتیں ہیں اسے رجب کہتے ہیں- رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید،شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ، اس کا پانی اُس کا مقدر ہوگا جو رجب میں روزے رکھے گا ۔ اسی مہینہ کی یکم تاریخ کو سیدنا حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے ، اسی ماہ کی چار (۴) تاریخ کو جنگِ صفین کا واقعہ پیش آیا ، اسی ماہ کی ستائیسویں (۲۷) کی رات کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معراج شریف کی ہے جس میں آسمانی سیر اور جنت و دوزخ کا ملاحظہ کرنا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونا تھا ۔ صوفیائے کرام علیہم الرحمہ کا فرمان ہے کہ رجب میں تین (۳) حروف ہیں : ’’ر‘‘،’’ج‘‘ اور ’’ب‘‘ ۔
’’ر‘‘ سے مراد اللہ کی رحمت ہے ۔
’’ج‘‘ سے مراد بندے کا جرم ہے ۔
’’ب‘‘ سے مراد اللہ کی بَر یعنی بھلائی مراد ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی یعنی بخشش کے درمیان کردو ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۲)
اس لیے کہ اس ماہ کی نسبت بھی اللہ پاک کی طرف ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رجب شھر اللہ وشعبان شھری و رمضان شھر امتی ۔
ترجمہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹،چشتی)
ایک اور حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فضل شهر رجب على الشهور كفضل القرآن على سائر الكلام ۔
ترجمہ : رجب کی فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسی قرآن پاک کی فضیلت باقی تمام کلاموں(صحیفوں) پر ہے ۔ (مقاصد الحسنہ صفحہ ۳۰۶،چشتی)
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں اپنی سند کے ساتھ احادیث شریفہ روایت کی ہیں : عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه و آلہ وسلم قال من صام يوم السابع و العشرين من رجب کتب له ثواب صيام ستين شهرا ۔
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ستائیسویں رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ(60) مہینے روزہ رکھنے کا ثواب ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182)
عن ابي هريرة و سلمان رضي الله عنهما قالا قال رسول الله صلي الله عليه و آلہ وسلم إن في رجب يوما و ليلة من صام ذلک اليوم و قام تلک الليلة کان له من الأجر کمن صام مائة سنة و قام لياليها ۔
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ و سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب میں ایک ایسا دن اور ایسی رات ہے جو شخص اس دن روزہ رکھتا ہے اور اس رات قیام (نماز کا اہتمام) کرتا ہے اس کےلیے اس شخص کے برابر ثواب ہے جس نے سو سال روزہ رکھا اور سو سال کی راتیں عبادت میں گزاری ۔ پھر آپ نے اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : وهي لثلاثة يبقين من رجب ۔ ترجمہ : وہ رجب کی ستائیسویں تاریخ ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182,183،چشتی)
✍️ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/301173802118666/
محترم قارئینِ کرام : اس متبرک رات امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ والسلام کو نماز کا تحفہ دیا گیا ‘ لہذا یہ عمل نہایت موزوں ہے کہ اہل اسلام اس رات قضاء عمری ‘صلوٰۃ التسبیح اور دیگر نوافل کا اہتمام کریں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور کثرت سے درود شریف پڑھیں ۔ اللہ رب العزت نے سال کے بارہ (12) مہینوں میں مختلف دنوں اور راتوں کی خاص اہمیت و فضیلت بیان کر کے ان کی خاص برکات و خصوصیات بیان فرمائی ہیں جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۔ (سورہ التوبہ:۳۶)
ترجمہ : بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کےنزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں ۔
ان چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ رجب ہے جس کے بارے میں امام محمد غزالی رحمة اللہ علیہ ’’مکاشفۃ القلوب‘‘میں فرماتے ہیں کہ ’’رجب‘‘ دراصل ترجیب سے نکلا ہے جس کے معنیٰ ہے تعظیم کرنا ۔ اسے ’’الاحسب‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں تیز بہاؤ ، اس لیے کہ اس ماہ مبارک میں توبہ کرنے والوں پر رحمت کا بہاؤتیز ہو جاتا ہے اور عبادت گزاروں پرانوار قبولیت کا فیضان ہوتا ہے ۔ اس بنا پر اسے ’’اصم ‘‘ بھی کہتے ہیں چونکہ اس مہینہ میں جنگ وقتال کی آواز نہیں سنی جاتی ۔ اس لیے اس مہینہ کو ’’اصب‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و مغفرت اُنڈیلتا ہے اس میں عبادتیں مقبول اور دعائیں مستجاب ہوتیں ہیں اسے رجب کہتے ہیں- رجب جنت میں ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید،شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ، اس کا پانی اُس کا مقدر ہوگا جو رجب میں روزے رکھے گا ۔ اسی مہینہ کی یکم تاریخ کو سیدنا حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے ، اسی ماہ کی چار (۴) تاریخ کو جنگِ صفین کا واقعہ پیش آیا ، اسی ماہ کی ستائیسویں (۲۷) کی رات کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معراج شریف کی ہے جس میں آسمانی سیر اور جنت و دوزخ کا ملاحظہ کرنا اور دیدار الٰہی سے مشرف ہونا تھا ۔ صوفیائے کرام علیہم الرحمہ کا فرمان ہے کہ رجب میں تین (۳) حروف ہیں : ’’ر‘‘،’’ج‘‘ اور ’’ب‘‘ ۔
’’ر‘‘ سے مراد اللہ کی رحمت ہے ۔
’’ج‘‘ سے مراد بندے کا جرم ہے ۔
’’ب‘‘ سے مراد اللہ کی بَر یعنی بھلائی مراد ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے جرم کو میری رحمت اور بھلائی یعنی بخشش کے درمیان کردو ۔ (مکاشفۃ القلوب صفحہ ۶۰۲)
اس لیے کہ اس ماہ کی نسبت بھی اللہ پاک کی طرف ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رجب شھر اللہ وشعبان شھری و رمضان شھر امتی ۔
ترجمہ : رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (جامع الاحادیث جلد ۴ صفحہ ۴۰۹،چشتی)
ایک اور حدیث پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فضل شهر رجب على الشهور كفضل القرآن على سائر الكلام ۔
ترجمہ : رجب کی فضیلت باقی مہینوں پر ایسی ہے جیسی قرآن پاک کی فضیلت باقی تمام کلاموں(صحیفوں) پر ہے ۔ (مقاصد الحسنہ صفحہ ۳۰۶،چشتی)
حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں اپنی سند کے ساتھ احادیث شریفہ روایت کی ہیں : عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه و آلہ وسلم قال من صام يوم السابع و العشرين من رجب کتب له ثواب صيام ستين شهرا ۔
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ستائیسویں رجب کا روزہ رکھا اس کے لئے ساٹھ(60) مہینے روزہ رکھنے کا ثواب ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182)
عن ابي هريرة و سلمان رضي الله عنهما قالا قال رسول الله صلي الله عليه و آلہ وسلم إن في رجب يوما و ليلة من صام ذلک اليوم و قام تلک الليلة کان له من الأجر کمن صام مائة سنة و قام لياليها ۔
ترجمہ : سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ و سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رجب میں ایک ایسا دن اور ایسی رات ہے جو شخص اس دن روزہ رکھتا ہے اور اس رات قیام (نماز کا اہتمام) کرتا ہے اس کےلیے اس شخص کے برابر ثواب ہے جس نے سو سال روزہ رکھا اور سو سال کی راتیں عبادت میں گزاری ۔ پھر آپ نے اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا : وهي لثلاثة يبقين من رجب ۔ ترجمہ : وہ رجب کی ستائیسویں تاریخ ہے ۔ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق جلد 1 صفحہ 182,183،چشتی)