ضرورت ہے ۔
دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔
تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑ رہی ہے اور اس حصے میں مار ڈالنے والی سردی ہے کہ جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی ۔
اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطر ناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجود ہیں مثلاً کاسمک ریز Cosmic Rays الٹراوائلٹ ریز Ultra Violet Rays اور ایکس ریز X-Rays ۔ یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم Organism کےلیے نقصان وہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں ۔ (زمین پر رہنے والوں کے لیے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہوجاتی ہے) ۔
ایک اور مشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے اگر چہ تدریجاً بے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلامیں جا پہنچیں تو بے وزنی سے نمٹنا بہت ہی مشکل یا ناممکن ہے ۔
آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دور حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی شخص آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو۔
ہمارا مشاہد ہ ہے کہ روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر زمین پر آنے والے شہابئے ہوا کی رگڑ سے جل جاتے ہیں اور فضاء ہی میں بھسم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیوں کرممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اتنا طویل سفر پلک جھپکنے میں طے کر سکے ۔
مندرجہ بالا اعتراضات کی وجہ سے ہی ان کے دماغوں میں یہ شک پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ معراج خوب میں ہوئی اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غنودگی کی حالت میں تھے اور پھر آنکھ لگ گئی اور یہ تما م واقعات عالم رؤیا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دیکھے یا روحانی سفر درپیش تھا۔جسم کے ساتھ اتنے زیادہ فاصلوں کو لمحوں میں طے کرنا ان کی سمجھ سے باہر ہے ۔اسراء کے معنی خواب کے نہیں جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجانے کےلیے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام ترمشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعے ممکن ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ۔ یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لامحدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کرسکتا ؟
مزید بحث میں پڑنے سے پہلے چند ضروری باتیں واضح کردی جائیں تو مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ آئن سٹائن کے مطابق مادی شے کے سفر کرنے کی آخری حد روشنی کی رفتار ہےجو 186000 (ایک لاکھ چھیاسی ہزار) میل فی سیکنڈ ہے دوسری رفتار قرآن حکیم نے امر کی بتائی ہے جو پلک جھپکنے میں پوری کائنات سےگزر جاتی ہے ۔
چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ ۔ (سورہ القمر: 50)
" اور ہمارا حکم ایسا ہے جیسے ایک پلک جھپک جانا"
سائنسدان جانتے ہیں کہ ایٹم کے بھی 100 چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں (Sub Atomic Particles) ،ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے جو تما م کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گزر جاتا ہے ،مادہ اس کے لیے مزاحمت پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی مادی شے سے رگڑ کھاتا ہے ،وہ بہت چھوٹا ذرہ ہے اور نہ ہی وہ رگڑ سے جلتا ہے کیونکہ رگڑ تو مادے کی اس صورت میں پیدا ہوگی جب کہ وہ کم ازکم ایٹم کی کمیت کا ہوگا۔۔(یادر ہے کہ ابھی حال ہی میں سرن لیبارٹری میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے 23 ستمبر 2011 کو یہ اعلان کیا ہےکہ تجربات سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہے)
ایک اور بات یہ ہے کہ ایٹم (Atom) کے مرکز کے گرد الیکٹرون چکر لگارہے ہوتے ہیں ،ان دونوں کے درمیان مادہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں بھی خلا موجود ہوتا ہے۔ایک اور ذرےکے بارے میں تحقیق ہورہی ہے جس کانام (Tachyon) ہے اسکا کوئی وجود ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا لیکن تھیوری (Theory)میں اس کا ہوناثابت ہے۔یہ ہیں مادے کی مختلف اشکال اور ان کی رفتاریں۔
دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔
تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑ رہی ہے اور اس حصے میں مار ڈالنے والی سردی ہے کہ جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی ۔
اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطر ناک شعاعیں ہیں کہ فضائے زمین سے اوپر موجود ہیں مثلاً کاسمک ریز Cosmic Rays الٹراوائلٹ ریز Ultra Violet Rays اور ایکس ریز X-Rays ۔ یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم Organism کےلیے نقصان وہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں ۔ (زمین پر رہنے والوں کے لیے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہوجاتی ہے) ۔
ایک اور مشکل اس سلسلے میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے اگر چہ تدریجاً بے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلامیں جا پہنچیں تو بے وزنی سے نمٹنا بہت ہی مشکل یا ناممکن ہے ۔
آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دور حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی شخص آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ اس کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہو۔
ہمارا مشاہد ہ ہے کہ روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر زمین پر آنے والے شہابئے ہوا کی رگڑ سے جل جاتے ہیں اور فضاء ہی میں بھسم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیوں کرممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اتنا طویل سفر پلک جھپکنے میں طے کر سکے ۔
مندرجہ بالا اعتراضات کی وجہ سے ہی ان کے دماغوں میں یہ شک پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ معراج خوب میں ہوئی اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم غنودگی کی حالت میں تھے اور پھر آنکھ لگ گئی اور یہ تما م واقعات عالم رؤیا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دیکھے یا روحانی سفر درپیش تھا۔جسم کے ساتھ اتنے زیادہ فاصلوں کو لمحوں میں طے کرنا ان کی سمجھ سے باہر ہے ۔اسراء کے معنی خواب کے نہیں جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لےجانے کےلیے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام ترمشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعے ممکن ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ۔ یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لامحدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کرسکتا ؟
مزید بحث میں پڑنے سے پہلے چند ضروری باتیں واضح کردی جائیں تو مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ آئن سٹائن کے مطابق مادی شے کے سفر کرنے کی آخری حد روشنی کی رفتار ہےجو 186000 (ایک لاکھ چھیاسی ہزار) میل فی سیکنڈ ہے دوسری رفتار قرآن حکیم نے امر کی بتائی ہے جو پلک جھپکنے میں پوری کائنات سےگزر جاتی ہے ۔
چناچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ ۔ (سورہ القمر: 50)
" اور ہمارا حکم ایسا ہے جیسے ایک پلک جھپک جانا"
سائنسدان جانتے ہیں کہ ایٹم کے بھی 100 چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں (Sub Atomic Particles) ،ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے جو تما م کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گزر جاتا ہے ،مادہ اس کے لیے مزاحمت پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی مادی شے سے رگڑ کھاتا ہے ،وہ بہت چھوٹا ذرہ ہے اور نہ ہی وہ رگڑ سے جلتا ہے کیونکہ رگڑ تو مادے کی اس صورت میں پیدا ہوگی جب کہ وہ کم ازکم ایٹم کی کمیت کا ہوگا۔۔(یادر ہے کہ ابھی حال ہی میں سرن لیبارٹری میں تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے 23 ستمبر 2011 کو یہ اعلان کیا ہےکہ تجربات سے یہ ثابت ہوگیاہے کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ ہے)
ایک اور بات یہ ہے کہ ایٹم (Atom) کے مرکز کے گرد الیکٹرون چکر لگارہے ہوتے ہیں ،ان دونوں کے درمیان مادہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں بھی خلا موجود ہوتا ہے۔ایک اور ذرےکے بارے میں تحقیق ہورہی ہے جس کانام (Tachyon) ہے اسکا کوئی وجود ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا لیکن تھیوری (Theory)میں اس کا ہوناثابت ہے۔یہ ہیں مادے کی مختلف اشکال اور ان کی رفتاریں۔
👍1
جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو براق پر سوار کیا ۔براق ،برق سے نکلا ہے ،جس کے معنی بجلی ہیں ،جس کی رفتار 186000 میل فی سیکنڈ ہے ۔اگر کوئی آدمی وقت کے گھوڑے پر سوار ہو جائے تو وقت اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے یعنی اگر آپ 186000 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلیں تو وقت رک جاتا ہے کیونکہ وقت کی رفتار بھی یہی ہے ۔وقت گر جائےگا۔کیونکہ وقت اور فاصلہ مادے کی چوتھی جہت ہےاس لیے جو شخص اس چوتھی جہت پر قابو پالیتا ہے کائنات اس کے لیے ایک نقطہ بن جاتی ہے ۔وقت رک جاتا ہے کیونکہ جس رفتار سے وقت چل رہا ہے وہ آدمی بھی اسی رفتار سے چل رہا ہے ۔حالانکہ وہ آدمی اپنے آپ کو چلتا ہوا محسوس کرے گا لیکن کائنات اس کے لیے وہیں تھم جاتی ہے جب اس نے وقت اور فاصلے کو اپنے قابو میں کر لیا ہو ۔اس کے لیے چاہے سینکڑوں برس اس حالت میں گزر جائیں لیکن وقت رکا رہے گااور جوں ہی وہ وقت کے گھوڑے سے اترے گا وقت کی گھڑی پھر سے ٹک ٹک شروع کردے گی،وہ آدمی چاہے پوری کائنات کی سیر کرکے آجائے ،بستر گرم ہوگا،کنڈی ہل رہی ہوگی اور پانی چل رہا ہوگا۔
بجلی کا ایک بلب ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کے فاصلے پر رکھ دیں ۔سوئچ دبائیں تو ایک سیکنڈ میں وہ بلب جلنے لگے گا۔یہ برقی رو کی تیز رفتاری ہے اور پھر ہوا کی تیز رفتاری بھی اس کی ایک مثال ہوسکتی ہے ۔ اب معراج شریف میں چاہے ہزار برس صرف ہو گئے ہوں یا ایک لاکھ برس،وقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ورنہ یہ شبہ اور اشکا ل پیش آسکتا ہے کہ اتنی طویل و عظیم مسافت ایک رات میں کیسے طے ہوگئی ۔اللہ جلّ جلالہ کی قدرتیں لاانتہاء ہیں ،وہ ہر بات پر قادر ہے کہ رات کو جب تک چاہے روکے رکھے ،اگر وہ روکے تو کوئی اس کی ذات پاک کے سوا نہیں جو دن نکال سکے ۔ قرآن پاک میں فرمایا : قُلْ أَرَأ َيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ﴿ 71﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖأَفَلَا تُبْصِرُونَ ۔ (القصص: 72 تا 71)
"آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ اگر قیامت تک تم پر رات کو مسلط کردے تو اس کے سوا کون روشنی لاسکتا ہے ؟ آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ چاہے تو قیامت تک تم پر دن ہی دن رہنے دے تو کون رات لا سکتا ہے اس کے سوا،جس میں تم آرام پاؤ ۔
تو حق تعالیٰ کو پوری قدرت ہے وہ اگر چاہے تو وقت کو روک سکتا ہے پھر جب انسانی صنعت سے خلائی جہاز چاند ،زہرہ اور مریخ تک پہنچ سکتے ہیں تو خدائی طاقت اور لا انتہاء قدرت رکھنے والے کے حکم سے کیا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شب معراج میں آسمانوں کو طے کرکے سدرۃ المنتہیٰ تک نہیں پہنچ سکتے ؟ہے کوئی سوچنے والا؟پھرایک اور طریقے سے غورکریں کہ جوسواری ،بُراق آپ کے لیے بھیجی گئی تھی ،اس کی تیزرفتاری کا کیا عالم تھا۔روایت میں تصریح کے ساتھ درج ہے کہ اس کا ایک قدم حد نظر تک پڑتا تھاجو روشنی کی رفتار سے ہزارہا درجہ زیادہ ہے ۔ہماری نظروں کی حد نیلگوں خیمہ ہے جو آسمان کے نام سے موسوم ہے تو یہ کہنا پڑے گا کہ بُراق کا پہلاقدم پہلےآسمان پر پڑا اور چونکہ آسمان ازروئے قرآن پاک سات ہیں ،اس لیے سات قدم میں ساتوں آسمان طے ہوگئے ،پھر اس سےآگے کی مسافت بھی چند قدم کی تھی ۔
حاصل کلام یہ کل سفررات کے بارہ گھنٹوں میں سے صرف چندمنٹ میں طے ہوگیا اوراسی طرح واپسی بھی ،تو اب بتائیے کہ اس سرعت سیر کےساتھ ایک ہی رات میں آمد ورفت ممکن ٹھہری یا غیر ممکن ؟اب فرمایا جائےکہ کیا اشکال باقی رہا ؟
علاوہ ازیں ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک گھر میں بیک وقت بلب جل رہے ہیں، پنکھے (سیلنگ فین) سے ہوا صاف ہورہی ہے ، ریڈیو سُنا جارہا ہے ، ٹیلی وژن دیکھا جارہا ہے ، ٹیلی فون پر گفتگو ہورہی ہے ، فریج میں کھانے کی چیزیں محفوظ کی جارہی ہیں، ائیرکنڈیشنڈ سے کمرہ ٹھنڈا ہورہا ہے ، ٹیپ ریکارڈر پر گانے ٹیپ ہورہے ہیں، گرائنڈر میں مسالے پس رہے ہیں، استری سے کپڑوں کی شکنیں دور ہورہی ہیں، سی ڈی پلیئرز پر فلمیں دیکھی جارہی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے بڑھ کر مین سوئچ آف کردیا، پھر کیا تھا لمحوں میں ہر چیز نے کام کرنا بند کردیا۔ معلوم ہوا یہ تمام کرنٹ کی کارفرمائی تھی۔ یہی حال کارخانوں کا ہے۔ کپڑا بُنا جارہا ہے ، جیسے ہی بجلی غائب ہوئی تانے بانے بُننے والی کلیں رُک گئیں، جونہی کرنٹ آیا ہر چیز پھر سے کام کرنے لگی۔ آج کا انسان ان روزمرہ کے مشاہدات کے پیشِ نظر واقعہ معراج کی روایات کی صداقت کا ادراک کرسکتا ہے۔ روایتیں ملتی ہیں کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفرِ معراج سے واپس تشریف لائے تو بستر کی گرمی اسی طرح باقی تھی، وضو کا پانی ہنوز بہہ رہا تھاکنڈی ابھی ہل رہی تھی۔چودہ سو سال پہلے اس پر یقین
بجلی کا ایک بلب ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کے فاصلے پر رکھ دیں ۔سوئچ دبائیں تو ایک سیکنڈ میں وہ بلب جلنے لگے گا۔یہ برقی رو کی تیز رفتاری ہے اور پھر ہوا کی تیز رفتاری بھی اس کی ایک مثال ہوسکتی ہے ۔ اب معراج شریف میں چاہے ہزار برس صرف ہو گئے ہوں یا ایک لاکھ برس،وقت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ورنہ یہ شبہ اور اشکا ل پیش آسکتا ہے کہ اتنی طویل و عظیم مسافت ایک رات میں کیسے طے ہوگئی ۔اللہ جلّ جلالہ کی قدرتیں لاانتہاء ہیں ،وہ ہر بات پر قادر ہے کہ رات کو جب تک چاہے روکے رکھے ،اگر وہ روکے تو کوئی اس کی ذات پاک کے سوا نہیں جو دن نکال سکے ۔ قرآن پاک میں فرمایا : قُلْ أَرَأ َيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ﴿ 71﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖأَفَلَا تُبْصِرُونَ ۔ (القصص: 72 تا 71)
"آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ اگر قیامت تک تم پر رات کو مسلط کردے تو اس کے سوا کون روشنی لاسکتا ہے ؟ آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ چاہے تو قیامت تک تم پر دن ہی دن رہنے دے تو کون رات لا سکتا ہے اس کے سوا،جس میں تم آرام پاؤ ۔
تو حق تعالیٰ کو پوری قدرت ہے وہ اگر چاہے تو وقت کو روک سکتا ہے پھر جب انسانی صنعت سے خلائی جہاز چاند ،زہرہ اور مریخ تک پہنچ سکتے ہیں تو خدائی طاقت اور لا انتہاء قدرت رکھنے والے کے حکم سے کیا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شب معراج میں آسمانوں کو طے کرکے سدرۃ المنتہیٰ تک نہیں پہنچ سکتے ؟ہے کوئی سوچنے والا؟پھرایک اور طریقے سے غورکریں کہ جوسواری ،بُراق آپ کے لیے بھیجی گئی تھی ،اس کی تیزرفتاری کا کیا عالم تھا۔روایت میں تصریح کے ساتھ درج ہے کہ اس کا ایک قدم حد نظر تک پڑتا تھاجو روشنی کی رفتار سے ہزارہا درجہ زیادہ ہے ۔ہماری نظروں کی حد نیلگوں خیمہ ہے جو آسمان کے نام سے موسوم ہے تو یہ کہنا پڑے گا کہ بُراق کا پہلاقدم پہلےآسمان پر پڑا اور چونکہ آسمان ازروئے قرآن پاک سات ہیں ،اس لیے سات قدم میں ساتوں آسمان طے ہوگئے ،پھر اس سےآگے کی مسافت بھی چند قدم کی تھی ۔
حاصل کلام یہ کل سفررات کے بارہ گھنٹوں میں سے صرف چندمنٹ میں طے ہوگیا اوراسی طرح واپسی بھی ،تو اب بتائیے کہ اس سرعت سیر کےساتھ ایک ہی رات میں آمد ورفت ممکن ٹھہری یا غیر ممکن ؟اب فرمایا جائےکہ کیا اشکال باقی رہا ؟
علاوہ ازیں ہمارا روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک گھر میں بیک وقت بلب جل رہے ہیں، پنکھے (سیلنگ فین) سے ہوا صاف ہورہی ہے ، ریڈیو سُنا جارہا ہے ، ٹیلی وژن دیکھا جارہا ہے ، ٹیلی فون پر گفتگو ہورہی ہے ، فریج میں کھانے کی چیزیں محفوظ کی جارہی ہیں، ائیرکنڈیشنڈ سے کمرہ ٹھنڈا ہورہا ہے ، ٹیپ ریکارڈر پر گانے ٹیپ ہورہے ہیں، گرائنڈر میں مسالے پس رہے ہیں، استری سے کپڑوں کی شکنیں دور ہورہی ہیں، سی ڈی پلیئرز پر فلمیں دیکھی جارہی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ کسی نے بڑھ کر مین سوئچ آف کردیا، پھر کیا تھا لمحوں میں ہر چیز نے کام کرنا بند کردیا۔ معلوم ہوا یہ تمام کرنٹ کی کارفرمائی تھی۔ یہی حال کارخانوں کا ہے۔ کپڑا بُنا جارہا ہے ، جیسے ہی بجلی غائب ہوئی تانے بانے بُننے والی کلیں رُک گئیں، جونہی کرنٹ آیا ہر چیز پھر سے کام کرنے لگی۔ آج کا انسان ان روزمرہ کے مشاہدات کے پیشِ نظر واقعہ معراج کی روایات کی صداقت کا ادراک کرسکتا ہے۔ روایتیں ملتی ہیں کہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جب سفرِ معراج سے واپس تشریف لائے تو بستر کی گرمی اسی طرح باقی تھی، وضو کا پانی ہنوز بہہ رہا تھاکنڈی ابھی ہل رہی تھی۔چودہ سو سال پہلے اس پر یقین
لانا ناممکنات میں سے تھا لیکن آج یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ کرنٹ کے کرشمے نے ثابت کردیا کہ لمحوں میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح معراج کی شب نظامِ زمان و مکان معطل ہوگیا تھا، وقت رُک گیا تھا۔ کیا یہ خالقِ کائنات، نظامِ زمان و مکان کے بنانے والے کے لیے کچھ مشکل تھا؟ جب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سفرِ معراج سے واپس ہوئے تو معطل نظام پھر سے روبہ عمل ہوگیا۔ بستر کی گرمی جہاں بند ہوئی تھی پھر سے محسوس ہونے لگی، پانی بہنا جس مقام پر رُک گیا تھا وہاں سے جاری ہوگیاکنڈی جس زاویے پر ہلنے سے تھم گئی تھی اس سے حرکت میں آگئی، جیسے کرنٹ کے آف ہوتے ہی تمام کام رُک گئے تھے اور آن ہوتے ہی حرکت میں آگئے۔
جسم وروح کے ساتھ معراج کا حاصل ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا خصوصی شرف ہے،یہ مرتبہ کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہوا،اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے نبی و رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عظمت و برگزیدگی کا ظاہر کرنےکےلیے یہ خارقِ عادت قدرت ظاہر فرمائی ۔یہ مسئلہ خالص یقین واعتقاد کا ہے ،بس اس پر ایمان لانا اور اس کی حقیقت وکیفیت کو علم ِ الہٰی کے سپر د کردینا ہی عین عبادت ہےاور ویسے بھی نبوت ،وحی اور معجزوں کے تمام معاملات احاطہ عقل وقیاس سے باہر کی چیزیں ہیں جو شخص ان چیزوں کو قیاس کے تابع اور اپنی عقل وفہم پر موقوف رکھے اورکہے کہ یہ چیز جب تک عقل میں نہ آئے میں ا س کو نہیں مانوں گا ،توسمجھنا چاہیے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم رہا۔ اللہ رب العزت ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین ۔
کچھ دوست یہ سوچ رہے ہونگے کہ ان معاملات کو سائنس کے ساتھ بیان کرنے اور جوڑنے کی آخر کیا ضرورت ہے ۔ کیا اسلام کی سچائی کےلیے سائنس کی تصدیق ضروری ہے ۔ تو گزارش ہے کہ
یقیناً دین اسلام ، سائنس کی تصدیق کا محتاج نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اللہ او ر اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بات پر ہی ایمان و یقین رکھے ، چاہے سائنسی نظریات اس کے الٹ ہی کیوں نہ ہوں ۔ جیسے ڈارون کانظریہ ارتقاء وغیرہ ۔
سائنسی نظریات کو سچے مسلمانوں کےلیے اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید ، کثیر مقامات پر کائنات کی نشانیوں پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے ۔یا در ہے کہ " غوروفکر" نہ کہ سرسری نظر سے دیکھنا ۔ اور بدقسمتی سے یہ کام مسلمانوں کی بجائے غیر مسلم سرانجام دے رہے ہیں حالانکہ ان کا مقصد صرف مادی تحقیق ہے ۔ تو جب ہم ان کی تحقیقات کو جو کہ اللہ کی عظیم والشان طاقت و ٹیکنالوجی کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں ،پڑھتے ہیں تو ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً اسی واقعہ معراج کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زمین سے باہر سماوٰت میں کچھ اور ہی طرح کےقوانین قدرت روبعمل ہیں جن کو آج کا انسان کسی قدر سمجھنے کی کوشش کررہا ہے مگر قربان جائیے اس قدرتِ خداوندی پر کہ جس نے تقریباً 1500 سال پہلے اس شان سے اپنے محبوب بندے کو زمین و آسمان کی سیر کرائی کہ آج بھی عقل وعلم اس کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
علاوہ ازیں ان سائنسی معلومات کو بیان کرنے کی غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ نام نہاد مسلمان او ر غیر مسلم جو کہ سائنس کو ہی حرف آخر مانتے ہیں ، سمجھایا جائے کہ آج جن باتوں یا معلومات تک سائنسدان پہنچے ہیں اگروہی قرآن و حدیث سے بھی ملتی ہوں او ر جو تقریباً (1500) پندرہ سو سال پرانی باتیں ہیں ، تو پھر سچا کون ہے اور ایڈوانس کون ؟ علاوہ ازیں یہ قرآن مجید کے الہامی ہونے کی بھی تصدیق کرتی ہیں کہ اگرچہ یہ معلومات صدیوں سے قرآن میں موجود تھیں مگر سائنس کی ترقی سے پہلے کبھی کسی مفسر نے ببانگ دہل ان کا ذکر نہیں کیا تھا ، چناچہ اگر یہ کسی انسان کا لکھا ہوتا تو ہمیں ان معلومات کا علم بھی ہوتا ؟ ۔
(مزید حصّہ نہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297257305843649/
جسم وروح کے ساتھ معراج کا حاصل ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا خصوصی شرف ہے،یہ مرتبہ کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہوا،اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے نبی و رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی عظمت و برگزیدگی کا ظاہر کرنےکےلیے یہ خارقِ عادت قدرت ظاہر فرمائی ۔یہ مسئلہ خالص یقین واعتقاد کا ہے ،بس اس پر ایمان لانا اور اس کی حقیقت وکیفیت کو علم ِ الہٰی کے سپر د کردینا ہی عین عبادت ہےاور ویسے بھی نبوت ،وحی اور معجزوں کے تمام معاملات احاطہ عقل وقیاس سے باہر کی چیزیں ہیں جو شخص ان چیزوں کو قیاس کے تابع اور اپنی عقل وفہم پر موقوف رکھے اورکہے کہ یہ چیز جب تک عقل میں نہ آئے میں ا س کو نہیں مانوں گا ،توسمجھنا چاہیے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم رہا۔ اللہ رب العزت ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین ۔
کچھ دوست یہ سوچ رہے ہونگے کہ ان معاملات کو سائنس کے ساتھ بیان کرنے اور جوڑنے کی آخر کیا ضرورت ہے ۔ کیا اسلام کی سچائی کےلیے سائنس کی تصدیق ضروری ہے ۔ تو گزارش ہے کہ
یقیناً دین اسلام ، سائنس کی تصدیق کا محتاج نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اللہ او ر اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بات پر ہی ایمان و یقین رکھے ، چاہے سائنسی نظریات اس کے الٹ ہی کیوں نہ ہوں ۔ جیسے ڈارون کانظریہ ارتقاء وغیرہ ۔
سائنسی نظریات کو سچے مسلمانوں کےلیے اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید ، کثیر مقامات پر کائنات کی نشانیوں پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے ۔یا در ہے کہ " غوروفکر" نہ کہ سرسری نظر سے دیکھنا ۔ اور بدقسمتی سے یہ کام مسلمانوں کی بجائے غیر مسلم سرانجام دے رہے ہیں حالانکہ ان کا مقصد صرف مادی تحقیق ہے ۔ تو جب ہم ان کی تحقیقات کو جو کہ اللہ کی عظیم والشان طاقت و ٹیکنالوجی کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں ،پڑھتے ہیں تو ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثلاً اسی واقعہ معراج کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زمین سے باہر سماوٰت میں کچھ اور ہی طرح کےقوانین قدرت روبعمل ہیں جن کو آج کا انسان کسی قدر سمجھنے کی کوشش کررہا ہے مگر قربان جائیے اس قدرتِ خداوندی پر کہ جس نے تقریباً 1500 سال پہلے اس شان سے اپنے محبوب بندے کو زمین و آسمان کی سیر کرائی کہ آج بھی عقل وعلم اس کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔
علاوہ ازیں ان سائنسی معلومات کو بیان کرنے کی غرض یہ بھی ہوتی ہے کہ نام نہاد مسلمان او ر غیر مسلم جو کہ سائنس کو ہی حرف آخر مانتے ہیں ، سمجھایا جائے کہ آج جن باتوں یا معلومات تک سائنسدان پہنچے ہیں اگروہی قرآن و حدیث سے بھی ملتی ہوں او ر جو تقریباً (1500) پندرہ سو سال پرانی باتیں ہیں ، تو پھر سچا کون ہے اور ایڈوانس کون ؟ علاوہ ازیں یہ قرآن مجید کے الہامی ہونے کی بھی تصدیق کرتی ہیں کہ اگرچہ یہ معلومات صدیوں سے قرآن میں موجود تھیں مگر سائنس کی ترقی سے پہلے کبھی کسی مفسر نے ببانگ دہل ان کا ذکر نہیں کیا تھا ، چناچہ اگر یہ کسی انسان کا لکھا ہوتا تو ہمیں ان معلومات کا علم بھی ہوتا ؟ ۔
(مزید حصّہ نہم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297257305843649/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM