معراج النبی ﷺ حصّہ ششم
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296842722551774/
محترم قارئینِ کرام : مسلمہ امور سے انحراف کر کے اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی روش نے جہاں فکری مغالطوں کو جنم دیا ہے وہاں بعض خود ساختہ دانشوروں نے اپنے قاری کے ذہن کو غبار تشکیک میں لپیٹ کر اعتقادی بے راہروی کی بنیاد بھی رکھی ہے ۔ برصغیر میں برطانوی استعمار نے ہماری اسی مجلسی کمزوری کو دیکھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو بھی مباحثوں اور مناظروں کا موضوع بنا کر جس گھناؤنی سازش کا ارتکاب کیا تھا ہم اس کے منحوس اثرات سے آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے بلکہ یہ غلط روش حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناآسودہ امت کو مختلف خانوں میں بانٹ کر ان کی اجتماعی قوت کو مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے ۔ اَفراط و تفریط کے اِسی موسم ناروا میں فرقہ واریت کا تھوہڑ خوب پنپا ہے ۔
آیہ معراج کی تشریح کرتے ہوئے کچھ علماء تفسیر رؤیت کے بارے میں سخت مغالطے کا شکار ہوئے ہیں ۔ وہ آیہ کریمہ میں دو کمانوں یا اس سے بھی کم باہمی قرب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان قرب سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رؤیت باری تعالیٰ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے اس گمان میں مبتلا ہیں کہ مقام دنی فتدلی اور قاب قوسین او ادنی پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام کا قرب اور اصل صورت میں دیدار نصیب ہوا ۔
قابل غور امر یہ ہے کہ بفرض محال اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو کیا قرب حضرت جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا آئینہ دار ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا عکاس ، جنہیں خالق موجودات نے بطور مہمان خصوصی معراج کےلیے بلوایا تھا ، جبرئیل علیہ السلام ان گنت بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور وہ بارگاہ حریمِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بغیر اجازت داخل نہ ہوتے تھے ۔ اگر معراج میں جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا اظہار مقصود ہوتا تو فی الواقع یہ معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے جبرئیل علیہ السلام کی ہوتی ۔ صحیح بخاری میں آیہ کریمہ مذکورہ کی تفسیر ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔
دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد رقم : 7079چشتی)
اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔
حدیث مبارکہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آیہ کریمہ میں وہ ذات جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئی اس سے مراد رب العزت ہے جو جبار ہے ۔
علماء میں ایک ایسا گروہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باری تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوا۔
انکارِ رؤیت کی دو ممکنہ صورتیں
پہلی صورت : پہلی صورت یہ کہ اللہ کا دیدار سرے سے ممکن ہی نہیں اور انسانی آنکھ کو اتنی تاب کہاں کہ وہ اللہ کا دیدار کر سکے ۔
دوسری صورت : یہ کہ امکان تو موجود ہے لیکن شب معراج ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔
ان دونوں امکانی صورتوں کو جن کی بنا پر رؤیت باری تعالیٰ سے انکار کیا جاتا ہے ہم علماء کی طرف سے پیش کردہ ہر صورت کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیں گے ۔
لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَار کی تشریح
پہلی صورت میں قرآن حکیم کی جس آیہ مقدسہ کو رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ درج ذیل ہے ۔
لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۔ (سورہ الانعام، 6 : 103)
نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔
مذکورہ آیہ مقدسہ کا بالعموم یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ کسی آنکھ کو اتنی قدرت حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکے ۔ اس آیت سے یہ معنی مراد لینا اسے نہ سمجھنے کے مترادف ہے اس لیے کہ اس میں رؤیت کا نہیں بلکہ ادراک، کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ آیت کا معنی یہ ہوا کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ سب آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے اور ادراک دیکھنے کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شئے کے احاطہ کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ دیکھنا اور بات ہے اور کسی چیز کا احاطہ کرنا دوسری بات ہے ۔ مذکورہ آیہ کریمہ میں رب ذوالجلال نے اپنے دیکھے جانے کی نفی نہیں کی بلکہ ارشاد یہ ہوا ہے کہ عالم امکان میں ساری آنکھیں بھی مل کر اس کی ذات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اور صرف اسی کی ذات ہر چیز کا احاطہ کرنے پر قادر ہے لہٰذا ادراک سے دیکھنا مراد لے کر آیت کا یہ معنی نکالنا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی آنکھ کےلیے ممکن ہی نہیں ، چنداں درست نہیں ۔ (مدارج النبوة جلد 1 صفحہ 207)(شرح مسلم جلد 1 صفحہ 97،چشتی)
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296842722551774/
محترم قارئینِ کرام : مسلمہ امور سے انحراف کر کے اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی روش نے جہاں فکری مغالطوں کو جنم دیا ہے وہاں بعض خود ساختہ دانشوروں نے اپنے قاری کے ذہن کو غبار تشکیک میں لپیٹ کر اعتقادی بے راہروی کی بنیاد بھی رکھی ہے ۔ برصغیر میں برطانوی استعمار نے ہماری اسی مجلسی کمزوری کو دیکھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو بھی مباحثوں اور مناظروں کا موضوع بنا کر جس گھناؤنی سازش کا ارتکاب کیا تھا ہم اس کے منحوس اثرات سے آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے بلکہ یہ غلط روش حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناآسودہ امت کو مختلف خانوں میں بانٹ کر ان کی اجتماعی قوت کو مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے ۔ اَفراط و تفریط کے اِسی موسم ناروا میں فرقہ واریت کا تھوہڑ خوب پنپا ہے ۔
آیہ معراج کی تشریح کرتے ہوئے کچھ علماء تفسیر رؤیت کے بارے میں سخت مغالطے کا شکار ہوئے ہیں ۔ وہ آیہ کریمہ میں دو کمانوں یا اس سے بھی کم باہمی قرب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان قرب سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رؤیت باری تعالیٰ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے اس گمان میں مبتلا ہیں کہ مقام دنی فتدلی اور قاب قوسین او ادنی پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام کا قرب اور اصل صورت میں دیدار نصیب ہوا ۔
قابل غور امر یہ ہے کہ بفرض محال اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو کیا قرب حضرت جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا آئینہ دار ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا عکاس ، جنہیں خالق موجودات نے بطور مہمان خصوصی معراج کےلیے بلوایا تھا ، جبرئیل علیہ السلام ان گنت بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور وہ بارگاہ حریمِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بغیر اجازت داخل نہ ہوتے تھے ۔ اگر معراج میں جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا اظہار مقصود ہوتا تو فی الواقع یہ معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے جبرئیل علیہ السلام کی ہوتی ۔ صحیح بخاری میں آیہ کریمہ مذکورہ کی تفسیر ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔
دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد رقم : 7079چشتی)
اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔
حدیث مبارکہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آیہ کریمہ میں وہ ذات جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئی اس سے مراد رب العزت ہے جو جبار ہے ۔
علماء میں ایک ایسا گروہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باری تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوا۔
انکارِ رؤیت کی دو ممکنہ صورتیں
پہلی صورت : پہلی صورت یہ کہ اللہ کا دیدار سرے سے ممکن ہی نہیں اور انسانی آنکھ کو اتنی تاب کہاں کہ وہ اللہ کا دیدار کر سکے ۔
دوسری صورت : یہ کہ امکان تو موجود ہے لیکن شب معراج ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔
ان دونوں امکانی صورتوں کو جن کی بنا پر رؤیت باری تعالیٰ سے انکار کیا جاتا ہے ہم علماء کی طرف سے پیش کردہ ہر صورت کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیں گے ۔
لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَار کی تشریح
پہلی صورت میں قرآن حکیم کی جس آیہ مقدسہ کو رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ درج ذیل ہے ۔
لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۔ (سورہ الانعام، 6 : 103)
نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔
مذکورہ آیہ مقدسہ کا بالعموم یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ کسی آنکھ کو اتنی قدرت حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکے ۔ اس آیت سے یہ معنی مراد لینا اسے نہ سمجھنے کے مترادف ہے اس لیے کہ اس میں رؤیت کا نہیں بلکہ ادراک، کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ آیت کا معنی یہ ہوا کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ سب آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے اور ادراک دیکھنے کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شئے کے احاطہ کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ دیکھنا اور بات ہے اور کسی چیز کا احاطہ کرنا دوسری بات ہے ۔ مذکورہ آیہ کریمہ میں رب ذوالجلال نے اپنے دیکھے جانے کی نفی نہیں کی بلکہ ارشاد یہ ہوا ہے کہ عالم امکان میں ساری آنکھیں بھی مل کر اس کی ذات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اور صرف اسی کی ذات ہر چیز کا احاطہ کرنے پر قادر ہے لہٰذا ادراک سے دیکھنا مراد لے کر آیت کا یہ معنی نکالنا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی آنکھ کےلیے ممکن ہی نہیں ، چنداں درست نہیں ۔ (مدارج النبوة جلد 1 صفحہ 207)(شرح مسلم جلد 1 صفحہ 97،چشتی)
مثال : اس نکتہ کو سمجھنے کےلیے ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے ۔ ایک مقرر جم غفیر سے خطاب کر رہا ہے ۔ مجمع دور تک پھیلا ہوا ہے جسے وہ دیکھ تو سکتا ہے لیکن سب حاضرین جلسہ کا وہ احاطہ نہیں کر سکتا ۔ جو لوگ سامنے اس کے قریب ہیں انہیں وہ دیکھتا ہے لیکن جو لوگ پس دیوار ہیں وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ اس سے یہ نکتہ کھلتا ہے کہ کوئی محدود وجود غیر محدود وجود کو دیکھ تو سکتا ہے مگر اس کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ کسی جزو کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ کل کا احاطہ کر سکے ۔ پس ذات خداوندی جو غیر محدود اور کل ہے اس کا احاطہ سب انسانی آنکھیں جو محدود اور جزو ہیں مل کر بھی نہیں کر سکتیں جبکہ وہ ذات ہر شئے کا احاطہ کرنے پر قادر ہے ۔ اس ساری گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار اور مشاہدہ عین ممکن ہے مگر اس کا ادراک ممکن نہیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف
اس سلسلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برگزیدہ صحابی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جن کی قرآن فہمی مشہور خاص و عام تھی اور جنہیں صاحب قرآن نے ترجمان القرآن کے خطاب سے نوازا تھا ، انہوں نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے جو مذکورہ آیت سے نفی رؤیت کی دلیل لاتے تھے اختلاف کیا اور فرمایا کہ اس آیت میں رؤیت کی نہیں بلکہ ذات باری تعالیٰ کے ادراک کی نفی کی گئی ہے ۔
دوسری آیت کی تشریح
دوسری آیہ کریمہ نفی رؤیت کےلیے جس کا سہارا لیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا ۔ (سورہ الشوریٰ، 42 : 51)
اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے (براہ راست) بات کرے مگر ہاں (اس کی تین صورتیں ہیں یا تو) وحی (کے ذریعے) یا پردے کے پیچھے سے یا (اللہ) کسی فرشتے کو بھیج دے ۔
علماء نے اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ کسی بشر کی مجال نہیں کہ وہ بے حجاب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو سکے اس لیے اس کا دیدار بے حجاب ممکن ہی نہیں ۔ اس دلیل کی بنا پر وہ تسلیم نہیں کرتے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات باری تعالیٰ کا بے حجاب دیدار کیا ۔ اس آیت کو سمجھنے میں ان سے وہی مغالطہ سرزد ہوا جو سابقہ آیت کو سمجھنے میں ہوا تھا۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت کریمہ میں بے حجاب کلام کی نفی کی گئی ہے نہ کہ بے حجاب مشاہدے کی ، جبکہ اس میں دیدار اور مشاہدے کا نہیں بلکہ بے حجاب کلام کا ذکر ہے اور یہ تو نہیں کہا گیا کہ اللہ کو طاقت نہیں کہ وہ اپنا دیدار کسی کو بے حجاب کرا سکے ۔ چونکہ اس آیت میں خدا کی نہیں بلکہ بشر کی طاقت کی نفی کی جا رہی ہے اس لیے اسے شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کی نفی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
سفر معراج رب کائنات کی قدرت کاملہ کا مظہر
ہم نے گذشتہ مضامین میں عرض کیا ہے کہ معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم ، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے ۔ قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ پر اِستعجاب کیسا ؟
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدائے لم یزل کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لیے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ذات کو ہر کمزوری، عیب اور سقم سے پاک قرار دے کر معراج کو اپنی طاقت اور قدرت کاملہ سے منسوب کر رہا ہے لہٰذا یہ بحث کہ رؤیت باری تعالیٰ کس طرح ممکن ہے خود خالقِ مطلق کی قدرت و اختیار کے دائرے کو زیر بحث لانے کے مترادف ہو گا لیکن خدا کی قدرت و طاقت کا اندازہ انسان کے حیطہ ادراک سے باہر ہے۔ اگر واقعہ معراج کی صحت کی کسوٹی انسان کی طاقت و قدرت ہو تو پھر یہ سارا معاملہ انسان کی دسترس اور دائرہ اختیار سے باہر ہے لیکن جہاں خدا کی قدرت اور اختیار کی بات آ جائے تو پھر اس واقعہ کی مختلف جہتوں سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔
قرآن و حدیث کی روایات کی من مانی تاویل سے واقعہ معراج کی عظمت سے روگردانی کا پہلو نکلتا ہے ۔ معجزہ معراج کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے سے ممکن و ناممکن کی لایعنی بحث کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ پھر بیت المقدس کے سفر ، آسمانوں اور عالمِ اُخروی کے مشاہدات کی عقلی توجیہہ ذہن میں ان گنت سوال چھوڑ جاتی ہے ۔ معجزہ تو ہے ہی وہ خرقِ عادت واقعہ جو عقل
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف
اس سلسلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برگزیدہ صحابی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جن کی قرآن فہمی مشہور خاص و عام تھی اور جنہیں صاحب قرآن نے ترجمان القرآن کے خطاب سے نوازا تھا ، انہوں نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے جو مذکورہ آیت سے نفی رؤیت کی دلیل لاتے تھے اختلاف کیا اور فرمایا کہ اس آیت میں رؤیت کی نہیں بلکہ ذات باری تعالیٰ کے ادراک کی نفی کی گئی ہے ۔
دوسری آیت کی تشریح
دوسری آیہ کریمہ نفی رؤیت کےلیے جس کا سہارا لیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا ۔ (سورہ الشوریٰ، 42 : 51)
اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے (براہ راست) بات کرے مگر ہاں (اس کی تین صورتیں ہیں یا تو) وحی (کے ذریعے) یا پردے کے پیچھے سے یا (اللہ) کسی فرشتے کو بھیج دے ۔
علماء نے اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ کسی بشر کی مجال نہیں کہ وہ بے حجاب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو سکے اس لیے اس کا دیدار بے حجاب ممکن ہی نہیں ۔ اس دلیل کی بنا پر وہ تسلیم نہیں کرتے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات باری تعالیٰ کا بے حجاب دیدار کیا ۔ اس آیت کو سمجھنے میں ان سے وہی مغالطہ سرزد ہوا جو سابقہ آیت کو سمجھنے میں ہوا تھا۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت کریمہ میں بے حجاب کلام کی نفی کی گئی ہے نہ کہ بے حجاب مشاہدے کی ، جبکہ اس میں دیدار اور مشاہدے کا نہیں بلکہ بے حجاب کلام کا ذکر ہے اور یہ تو نہیں کہا گیا کہ اللہ کو طاقت نہیں کہ وہ اپنا دیدار کسی کو بے حجاب کرا سکے ۔ چونکہ اس آیت میں خدا کی نہیں بلکہ بشر کی طاقت کی نفی کی جا رہی ہے اس لیے اسے شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کی نفی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
سفر معراج رب کائنات کی قدرت کاملہ کا مظہر
ہم نے گذشتہ مضامین میں عرض کیا ہے کہ معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم ، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے ۔ قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ پر اِستعجاب کیسا ؟
واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدائے لم یزل کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لیے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ذات کو ہر کمزوری، عیب اور سقم سے پاک قرار دے کر معراج کو اپنی طاقت اور قدرت کاملہ سے منسوب کر رہا ہے لہٰذا یہ بحث کہ رؤیت باری تعالیٰ کس طرح ممکن ہے خود خالقِ مطلق کی قدرت و اختیار کے دائرے کو زیر بحث لانے کے مترادف ہو گا لیکن خدا کی قدرت و طاقت کا اندازہ انسان کے حیطہ ادراک سے باہر ہے۔ اگر واقعہ معراج کی صحت کی کسوٹی انسان کی طاقت و قدرت ہو تو پھر یہ سارا معاملہ انسان کی دسترس اور دائرہ اختیار سے باہر ہے لیکن جہاں خدا کی قدرت اور اختیار کی بات آ جائے تو پھر اس واقعہ کی مختلف جہتوں سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔
قرآن و حدیث کی روایات کی من مانی تاویل سے واقعہ معراج کی عظمت سے روگردانی کا پہلو نکلتا ہے ۔ معجزہ معراج کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے سے ممکن و ناممکن کی لایعنی بحث کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ پھر بیت المقدس کے سفر ، آسمانوں اور عالمِ اُخروی کے مشاہدات کی عقلی توجیہہ ذہن میں ان گنت سوال چھوڑ جاتی ہے ۔ معجزہ تو ہے ہی وہ خرقِ عادت واقعہ جو عقل
میں نہ آ سکے ۔ اسے دلیل نبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ بنابریں نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک معجزے کا انکار سارے معجزات کا انکار اور خود رسالت کا انکار سمجھا جائے گا ۔
انکارِ رؤیت کی تیسری دلیل
منکرین رؤیت باری تعالیٰ اِس حدیث کے حوالے سے دیتے ہیں جس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا ۔
نورٌاَنّٰی أَرَاَه ۔
وہ تو نور تھا میں بھلا اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ (الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 291)
اس حدیث مبارکہ کا ترجمہ بالعموم یہی کیا جاتا ہے اور اسی سے وہ نفی رؤیت کا استدال کرتے ہیں ۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی پر غور کریں تو اس کا یہ معنی نہیں جو بادی النظر میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے اگلی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ : رايت نورا ۔ میں نے نور کو دیکھا ۔
(الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 292،چشتی)
اس کی روشنی میں متذکرہ بالا حدیث کا معنی یہ ہوا کہ میں نے جس طرف سے بھی دیکھا اسے نور پایا ۔ یہ معنی نہیں کہ وہ نور تھا میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ رایت نورا کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدار الٰہی کا اثبات کرتے ہوئے اس کی کیفیت بیان کر رہے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو جس طرف سے بھی دیکھا نورٌ علٰی نور پایا ۔
اللہ تعالیٰ خالقِ نور ہے
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نور اپنی ماہیت کے اعتبار سے وہ چیز ہے جس کو دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ اس کی مدد سے اشیاء نظر آتی ہیں لہٰذا اللہ کے نور کا دیدار چہ معنی دارد ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باری تعالیٰ کی ماہیت کو نور قرار دینا اصلاً غلط ہو گا کیونکہ بشر کی طرح نور بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جسے اپنی ذات کے اعتبار سے کسی جہت اور ہیئت میں مقید نہیں کیا جا سکتا اس لیے بعض علماء کے نزدیک اللہ کو نور کہنا کفر کے مترادف ہے ۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ خالق نور ہے کہ وہ بشر اور دیگر مخلوقات کا خالق ہے مگر جب باری تعالیٰ نے اپنا تعارف قرآن پاک میں اس طرح کرایا ہے کہ : اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔ (النور، 24 : 35) ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔
تو مفسرین قرآن اور ائمہ کرام نے اس کا معنی مراد یہ لیا ہے کہ وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والی ہے لہٰذا آیت کریمہ میں مجازاً سمجھانے کےلیے اللہ تعالیٰ کو نور سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد اس کی تجلی ذات ہے نہ کہ اس کی ماہیت ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا تو اس کے جلوہ ذات کی کیفیت کو نور کی مانند پایا جس نے ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ یہی ’’نورانی اراہ‘‘ کا مفہوم ہے اور اس کی کیفیت کو جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج مشاہدہ کیا دیدار الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
اِمکانِ رؤیت باری تعالیٰ
رؤیت باری تعالیٰ کے ضمن میں یہ خیال عام ہے کہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے اور بطور انعام دیدار الٰہی محض آخرت کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کی دو آیات کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہو گا جس سے اس دنیا میں دیدار الٰہی کی اِمکانی صورت واضح ہو جائے گی ۔
قرآن کریم کی پہلی آیت کا محل موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا بارگاہ رب العزت میں دیدار کےلیے خواستگار ہونا ہے ۔ وہ سراپا سوال بن کر باری تعالیٰ کے حضور اِستدعا کرتے نظر آتے ہیں ۔ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں ۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی جنہیں بارہا اپنے رب سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ہے، اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ وہ دیدارِ الٰہی کا مطالبہ کر کے ایسی چیز کا تقاضا کر رہے ہیں جو سرے سے ممکن ہی نہیں ؟ جناب کلیم اللہ کا رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کے بارے میں بے خبر ہونا بعید از فہم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بارہا خدا کے حضور دیدار کا تقاضا کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ علی وجہ البصیرت ان کا اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں عین ممکن ہے ۔ یہی سبب ہے کہ سر طور رب ارنی کی صدا بلند کرتے رہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس التجا کے جواب میں باری تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا وہ بھی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ خدا کی طرف سے اپنے کلیم کو خطاب فرمایا گیا ۔ لَن تَرَانِي ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے ۔
انکارِ رؤیت کی تیسری دلیل
منکرین رؤیت باری تعالیٰ اِس حدیث کے حوالے سے دیتے ہیں جس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا ۔
نورٌاَنّٰی أَرَاَه ۔
وہ تو نور تھا میں بھلا اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ (الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 291)
اس حدیث مبارکہ کا ترجمہ بالعموم یہی کیا جاتا ہے اور اسی سے وہ نفی رؤیت کا استدال کرتے ہیں ۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی پر غور کریں تو اس کا یہ معنی نہیں جو بادی النظر میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے اگلی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ : رايت نورا ۔ میں نے نور کو دیکھا ۔
(الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 292،چشتی)
اس کی روشنی میں متذکرہ بالا حدیث کا معنی یہ ہوا کہ میں نے جس طرف سے بھی دیکھا اسے نور پایا ۔ یہ معنی نہیں کہ وہ نور تھا میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ رایت نورا کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدار الٰہی کا اثبات کرتے ہوئے اس کی کیفیت بیان کر رہے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو جس طرف سے بھی دیکھا نورٌ علٰی نور پایا ۔
اللہ تعالیٰ خالقِ نور ہے
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نور اپنی ماہیت کے اعتبار سے وہ چیز ہے جس کو دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ اس کی مدد سے اشیاء نظر آتی ہیں لہٰذا اللہ کے نور کا دیدار چہ معنی دارد ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باری تعالیٰ کی ماہیت کو نور قرار دینا اصلاً غلط ہو گا کیونکہ بشر کی طرح نور بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جسے اپنی ذات کے اعتبار سے کسی جہت اور ہیئت میں مقید نہیں کیا جا سکتا اس لیے بعض علماء کے نزدیک اللہ کو نور کہنا کفر کے مترادف ہے ۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ خالق نور ہے کہ وہ بشر اور دیگر مخلوقات کا خالق ہے مگر جب باری تعالیٰ نے اپنا تعارف قرآن پاک میں اس طرح کرایا ہے کہ : اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔ (النور، 24 : 35) ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔
تو مفسرین قرآن اور ائمہ کرام نے اس کا معنی مراد یہ لیا ہے کہ وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والی ہے لہٰذا آیت کریمہ میں مجازاً سمجھانے کےلیے اللہ تعالیٰ کو نور سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد اس کی تجلی ذات ہے نہ کہ اس کی ماہیت ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا تو اس کے جلوہ ذات کی کیفیت کو نور کی مانند پایا جس نے ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ یہی ’’نورانی اراہ‘‘ کا مفہوم ہے اور اس کی کیفیت کو جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج مشاہدہ کیا دیدار الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
اِمکانِ رؤیت باری تعالیٰ
رؤیت باری تعالیٰ کے ضمن میں یہ خیال عام ہے کہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے اور بطور انعام دیدار الٰہی محض آخرت کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کی دو آیات کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہو گا جس سے اس دنیا میں دیدار الٰہی کی اِمکانی صورت واضح ہو جائے گی ۔
قرآن کریم کی پہلی آیت کا محل موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا بارگاہ رب العزت میں دیدار کےلیے خواستگار ہونا ہے ۔ وہ سراپا سوال بن کر باری تعالیٰ کے حضور اِستدعا کرتے نظر آتے ہیں ۔ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں ۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی جنہیں بارہا اپنے رب سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ہے، اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ وہ دیدارِ الٰہی کا مطالبہ کر کے ایسی چیز کا تقاضا کر رہے ہیں جو سرے سے ممکن ہی نہیں ؟ جناب کلیم اللہ کا رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کے بارے میں بے خبر ہونا بعید از فہم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بارہا خدا کے حضور دیدار کا تقاضا کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ علی وجہ البصیرت ان کا اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں عین ممکن ہے ۔ یہی سبب ہے کہ سر طور رب ارنی کی صدا بلند کرتے رہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس التجا کے جواب میں باری تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا وہ بھی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ خدا کی طرف سے اپنے کلیم کو خطاب فرمایا گیا ۔ لَن تَرَانِي ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے ۔
جواب کی نوعیت پر غور کریں تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ مجھے دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ! تیری آنکھ مجھے دیکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ یہ نہیں کہا کہ کوئی آنکھ مجھے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتی ۔ اس سے امکانِ رؤیت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس فرمودہ خداوندی میں اس بات کا اثبات مضمر ہے کہ میرے دیدار کا شرف معراج کی شب صرف میرا حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل کرے گا۔ قضا و قدر نے یہ شرف و امتیاز حضور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں رکھا ہے ۔ یہی سبب تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی التجا کو شرف پذیرائی نہ بخشا گیا کیونکہ اس سعادت کےلیے ازل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کو منتخب کیا جا چکا تھا ۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
دوسری آیت میں اہل جنت کے لئے مژدہ ہے کہ انہیں اللہ رب العزت اپنے دیدار سے نوازیں گے ۔ ارشاد ربانی ہے : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ O إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ O ۔ (القيامة، 75 : 22 - 23)
بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و تروتازہ ہوں گے o اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے ۔
بموجب ارشادِ خداوندی اہل خلد کے تروتازہ چہروں پر بشاشت کی لہر دوڑ جائے گی جب انہیں خدا کا دیدارِعام بے حجاب کرایا جائے گا ۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدار سے بڑھ کر اور کوئی نعمت اہل ایمان کے لئے نہ ہو گی ۔
رؤیت باری پر متفق علیہ حدیث
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انکم سترون ربکم عيانا ۔ بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم : 6998)(مسند احمد بن حنبل، 3 : 16)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : انکم سترون ربکم يوم القيامة کما ترون القمر هذا ۔ تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1106، کتاب التوحيد)(سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنة، رقم : 4729چشتی)(سنن ابن ماجه، 1 : 63، رقم : 177)(مسند احمد بن حنبل، 4 : 360)
اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی ۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بفحوائے ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کے لیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا ۔
دولتِ دیدارِ الٰہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے مختص تھی
یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجۂ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت ، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا ۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا ۔
امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى O فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى O ۔ (النجم، 53 : 8 - 9)
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا o پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا) ۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
دوسری آیت میں اہل جنت کے لئے مژدہ ہے کہ انہیں اللہ رب العزت اپنے دیدار سے نوازیں گے ۔ ارشاد ربانی ہے : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ O إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ O ۔ (القيامة، 75 : 22 - 23)
بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و تروتازہ ہوں گے o اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے ۔
بموجب ارشادِ خداوندی اہل خلد کے تروتازہ چہروں پر بشاشت کی لہر دوڑ جائے گی جب انہیں خدا کا دیدارِعام بے حجاب کرایا جائے گا ۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدار سے بڑھ کر اور کوئی نعمت اہل ایمان کے لئے نہ ہو گی ۔
رؤیت باری پر متفق علیہ حدیث
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انکم سترون ربکم عيانا ۔ بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم : 6998)(مسند احمد بن حنبل، 3 : 16)
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : انکم سترون ربکم يوم القيامة کما ترون القمر هذا ۔ تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1106، کتاب التوحيد)(سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنة، رقم : 4729چشتی)(سنن ابن ماجه، 1 : 63، رقم : 177)(مسند احمد بن حنبل، 4 : 360)
اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی ۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بفحوائے ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کے لیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا ۔
دولتِ دیدارِ الٰہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے مختص تھی
یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجۂ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت ، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا ۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا ۔
امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى O فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى O ۔ (النجم، 53 : 8 - 9)
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا o پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا) ۔
ارشاد ربانی میں اس انتہائی درجے کے قرب کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ اور نقطہ منتہی سوائے دیدار الٰہی کے اور کچھ قرین فہم نہیں۔ اس کے بعد فرمایا : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (النجم، 53 : 11)
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی۔
دیدارِ الٰہی کے بارے میں علماءِ امت کی تصریحات
حدیث طبرانی میں ہے کہ : ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے ۔ (المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564،چشتی)(المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757)(المواهب اللدنيه، 2 : 37)(نشر الطيب تھانوی صفحہ 55)
اس حدیث پاک سے رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں اوپر درج کی گئی قرآنی آیات کے مضمون کی بخوبی تائید ہوتی ہے ۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ اصحاب رسول کی صحبت سے فیض یافتہ نامور تابعی ہیں، ان سے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے معراج کی شب ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا ؟ تو انہوں نے تین بار قسم کھا کر اس بات کا اقر ار کیا کہ ہاں انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔
اسی طرح جب امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تین بار یہ الفاظ دہرائے، قد رای ربہ یعنی انہوں نے اپنے رب کودیکھا، یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔
یہ خیالات و معتقدات سب ممتاز اور قابل ذکر صحابہ ، صحابیات ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ کرام رضی اللہ عنہم و علیہم الرحم کے ہیں ۔ قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا : أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 12)
کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا ۔
سرور دوجہاں ، ہادی انس و جاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی ۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 13)
اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)
بارگاہِ خداوندی میں مسلسل حاضری
اس سے پہلے یہ ذکر آ چکا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالق و مالک سے وصال و دیدار کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے بعد سفلی دنیا کی طرف لوٹے تو اللہ جل مجدہ کی طرف سے امت کے لئے پچاس نمازوں اور چھ ماہ کے روزوں کا تحفہ لائے ۔ راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو ان کے استفسار پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صورتحال سے مطلع فرمایا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اصرار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار رب تعالیٰ کے ہاں بھیجتے رہے یہاں تک کہ آپ نے 9 مرتبہ ذات باری تعالیٰ سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے تخفیف فرما کر پانچ نمازیں اور ایک ماہ کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید تخفیف کے بارے میں اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب دسویں مرتبہ رب کے ہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو مرتبہ دیدار اور ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ۔
چشمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الٰہی میں محو تھیں
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مبارک جو دیدارِ الٰہی کے شرف سے مشرف ہوئیں ، کائنات سماوی کا ایک ایک نقش جن میں ثبت ہے ، کتاب زندگی کے سرورق کا وہ جلی عنوان ہے جو ان گنت کائناتی سچائیوں کے انکشاف کا نقیب ہے ، انہیں چشمان مبارک کے تصدق میں کائنات رنگ و بو میں رعنائیوں کے جھرمٹ اترتے ہیں، انہی چشمان مقدس میں موسیٰ علیہ السلام کی آرزو، انوار و تجلیات الہٰیہ کی صورت میں جاگزیں ہے اور یہی چشمان مقدس سدرۃ المنتہیٰ کے جمال کی عینی شاہد ہیں۔
کلام ربانی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنے حوصلے، اعتماد، ہمت اور عزم و یقین کے باعث اس ارشاد ربانی کا مصداق ٹھہریں : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 17)
اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی) ۔
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی۔
دیدارِ الٰہی کے بارے میں علماءِ امت کی تصریحات
حدیث طبرانی میں ہے کہ : ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے ۔ (المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564،چشتی)(المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757)(المواهب اللدنيه، 2 : 37)(نشر الطيب تھانوی صفحہ 55)
اس حدیث پاک سے رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں اوپر درج کی گئی قرآنی آیات کے مضمون کی بخوبی تائید ہوتی ہے ۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ اصحاب رسول کی صحبت سے فیض یافتہ نامور تابعی ہیں، ان سے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے معراج کی شب ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا ؟ تو انہوں نے تین بار قسم کھا کر اس بات کا اقر ار کیا کہ ہاں انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔
اسی طرح جب امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تین بار یہ الفاظ دہرائے، قد رای ربہ یعنی انہوں نے اپنے رب کودیکھا، یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔
یہ خیالات و معتقدات سب ممتاز اور قابل ذکر صحابہ ، صحابیات ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ کرام رضی اللہ عنہم و علیہم الرحم کے ہیں ۔ قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا : أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 12)
کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا ۔
سرور دوجہاں ، ہادی انس و جاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی ۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 13)
اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)
بارگاہِ خداوندی میں مسلسل حاضری
اس سے پہلے یہ ذکر آ چکا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالق و مالک سے وصال و دیدار کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے بعد سفلی دنیا کی طرف لوٹے تو اللہ جل مجدہ کی طرف سے امت کے لئے پچاس نمازوں اور چھ ماہ کے روزوں کا تحفہ لائے ۔ راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو ان کے استفسار پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صورتحال سے مطلع فرمایا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اصرار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار رب تعالیٰ کے ہاں بھیجتے رہے یہاں تک کہ آپ نے 9 مرتبہ ذات باری تعالیٰ سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے تخفیف فرما کر پانچ نمازیں اور ایک ماہ کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید تخفیف کے بارے میں اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب دسویں مرتبہ رب کے ہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو مرتبہ دیدار اور ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ۔
چشمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الٰہی میں محو تھیں
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مبارک جو دیدارِ الٰہی کے شرف سے مشرف ہوئیں ، کائنات سماوی کا ایک ایک نقش جن میں ثبت ہے ، کتاب زندگی کے سرورق کا وہ جلی عنوان ہے جو ان گنت کائناتی سچائیوں کے انکشاف کا نقیب ہے ، انہیں چشمان مبارک کے تصدق میں کائنات رنگ و بو میں رعنائیوں کے جھرمٹ اترتے ہیں، انہی چشمان مقدس میں موسیٰ علیہ السلام کی آرزو، انوار و تجلیات الہٰیہ کی صورت میں جاگزیں ہے اور یہی چشمان مقدس سدرۃ المنتہیٰ کے جمال کی عینی شاہد ہیں۔
کلام ربانی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنے حوصلے، اعتماد، ہمت اور عزم و یقین کے باعث اس ارشاد ربانی کا مصداق ٹھہریں : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 17)
اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی) ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بصارت اس درجہ طاقت و وسعت کی حامل تھی کہ شب معراج مشاہدہ حق کے وقت اس میں نہ صرف اضمحلال واقع نہ ہوا بلکہ وہ کمال ہوش کے ساتھ مشاہدہ جمال میں محو رہی۔
حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ اسی مشاہدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں : شاهد نفسه والی مشاهدتها و انما کان مشاهدا ربه تعالی بشاهد ما يظهر عليه من الصفات التی اوجبت الثبوت فی ذلک المحل ۔ (تفسیر روح المعانی، 27 : 54،چشتی)
اس طرح مستغرق ہوئے کہ سوائے ذات باری اور صفات الہٰیہ کے کسی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تجلی الہٰی کی ایک جھلک بھی برداشت نہ کر سکے اور صفاتی تجلی کی انعکاسی شعاع کے اثر سے آپ علیہ السلام کا خرمن ہوش جل گیا۔
کسی صاحب نظر نے بصارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بصارت موسیٰ علیہ السلام سے کیا خوبصورت موازنہ کیا ہے ۔
موسیٰ ز ہوش رفت بہ یک پر تو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی
قرآن آگے چل کر رؤیت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر بایں الفاظ کرتا ہے : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 18)
بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔
نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مقدس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چشمان مقدس نے اللہ رب العزت کا بے حجاب نظارہ کیا۔ اب اس کے بعد وہ کونسی چیز ہو گی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشم بینا سے پوشیدہ رہی ہو گی۔ یہی چشم بینا کائنات کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ماضی، حال کے علاوہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات اور تغیرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک پر روز روشن کی طرح واضح اور نمایاں تھے ۔
دل نے تجلیاتِ الہٰیہ کی تصدیق کی
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 11)
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
سفرِ مراجعت
معراج سے واپسی کا سفر براق پر طے ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی راہ سے حرم کعبہ میں تشریف لائے۔ رات کی وہی تاریکی تھی جب آپ بستر پر محو استراحت ہوئے۔ وہ ایک لمحہ جو کائنات ارضی و سماوی کی زمانی و مکانی وسعتوں کو محیط تھا اپنے دامن میں معراج کی عظمتوں اور رفعتوں کو سمیٹے ہوئے تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب اور بیداری کے بارے میں حدیث پاک کے الفاظ ملاحظہ ہوں : واستيقظ وهو فی مسجد الحرام ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں تھے ۔ (صحيح البخاری جلد 2 صفحہ 1120 کتاب التوحيد رقم : 7079)
اس حدیث مبارکہ سے کچھ لوگ مغالطے کا شکار ہو گئے اور انہیں واقعہ معراج میں تضاد دکھائی دینے لگا۔ لوگوں پر وارد ہونے والے اشکال کا جواب ائمہ کرام (جن میں امام ترمذی، امام عسقلانی اور امام قسطلانی رحمھم اللہ تعالیٰ کے نام قابل ذکر ہیں) نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیا ہے لیکن وہ جن کی سوچ میں کجی اور عدم مطالعہ کی بنا پر جن کا مبلغ علم محدود ہے انہیں واقعہ معراج میں سوائے تضادات کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔
سفر معراج پر روانہ ہونا بھی عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے اور سفر معراج سے مراجعت یعنی اس کرہ ارضی کی طرف واپسی بھی شوکت حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظہر ہے۔ جن عجائبات کا آپ نے اس سفر میں مشاہدہ کیا وہ بھی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے تھے۔ سفر معراج سے عروج آدم خاکی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ علوم جدیدہ نے جن کائناتی سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے ان میں سفر معراج بھی شامل ہے۔ اگر تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے کہ کائنات کی بے کراں وسعتوں میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مقدسہ کی تلاش ہی جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد ہے۔ دنیا اس حقیقت کا بلاواسطہ اعتراف نہیں کرے گی کہ آج کا انسان اپنی تمام آزاد خیالی کے سفلی اور علاقائی تعصبات سے دامن نہیں چھڑا سکا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی اور انسانی بنیادوں پر جس وسیع معاشرے کی بنیاد رکھی تھی دنیا شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں پر ان اہداف کے حصول کے لئے مصروف عمل ہے۔ اگر سفر معراج کو جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد قرار دیا جائے تو یہ اس عظیم معجزہ کے محض ایک پہلو کا اعتراف ہو گا لیکن جوں جوں سائنس ترقی کرے گی ذہن انسانی میں تحقیق و جستجو کے نئے نئے دروازے کھلیں گے توں توں سفر معراج کے حوالے سے ان گنت کائناتی پیچیدگیاں خودبخود حل ہوتی جائیں گی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ زندہ معجزہ اللہ رب العزت کی قدرت مطلقہ کا مظہر بن کر
حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ اسی مشاہدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں : شاهد نفسه والی مشاهدتها و انما کان مشاهدا ربه تعالی بشاهد ما يظهر عليه من الصفات التی اوجبت الثبوت فی ذلک المحل ۔ (تفسیر روح المعانی، 27 : 54،چشتی)
اس طرح مستغرق ہوئے کہ سوائے ذات باری اور صفات الہٰیہ کے کسی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔
اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تجلی الہٰی کی ایک جھلک بھی برداشت نہ کر سکے اور صفاتی تجلی کی انعکاسی شعاع کے اثر سے آپ علیہ السلام کا خرمن ہوش جل گیا۔
کسی صاحب نظر نے بصارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بصارت موسیٰ علیہ السلام سے کیا خوبصورت موازنہ کیا ہے ۔
موسیٰ ز ہوش رفت بہ یک پر تو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی
قرآن آگے چل کر رؤیت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر بایں الفاظ کرتا ہے : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 18)
بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔
نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مقدس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چشمان مقدس نے اللہ رب العزت کا بے حجاب نظارہ کیا۔ اب اس کے بعد وہ کونسی چیز ہو گی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشم بینا سے پوشیدہ رہی ہو گی۔ یہی چشم بینا کائنات کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ماضی، حال کے علاوہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات اور تغیرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک پر روز روشن کی طرح واضح اور نمایاں تھے ۔
دل نے تجلیاتِ الہٰیہ کی تصدیق کی
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 11)
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔
سفرِ مراجعت
معراج سے واپسی کا سفر براق پر طے ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی راہ سے حرم کعبہ میں تشریف لائے۔ رات کی وہی تاریکی تھی جب آپ بستر پر محو استراحت ہوئے۔ وہ ایک لمحہ جو کائنات ارضی و سماوی کی زمانی و مکانی وسعتوں کو محیط تھا اپنے دامن میں معراج کی عظمتوں اور رفعتوں کو سمیٹے ہوئے تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب اور بیداری کے بارے میں حدیث پاک کے الفاظ ملاحظہ ہوں : واستيقظ وهو فی مسجد الحرام ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں تھے ۔ (صحيح البخاری جلد 2 صفحہ 1120 کتاب التوحيد رقم : 7079)
اس حدیث مبارکہ سے کچھ لوگ مغالطے کا شکار ہو گئے اور انہیں واقعہ معراج میں تضاد دکھائی دینے لگا۔ لوگوں پر وارد ہونے والے اشکال کا جواب ائمہ کرام (جن میں امام ترمذی، امام عسقلانی اور امام قسطلانی رحمھم اللہ تعالیٰ کے نام قابل ذکر ہیں) نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیا ہے لیکن وہ جن کی سوچ میں کجی اور عدم مطالعہ کی بنا پر جن کا مبلغ علم محدود ہے انہیں واقعہ معراج میں سوائے تضادات کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔
سفر معراج پر روانہ ہونا بھی عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے اور سفر معراج سے مراجعت یعنی اس کرہ ارضی کی طرف واپسی بھی شوکت حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظہر ہے۔ جن عجائبات کا آپ نے اس سفر میں مشاہدہ کیا وہ بھی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے تھے۔ سفر معراج سے عروج آدم خاکی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ علوم جدیدہ نے جن کائناتی سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے ان میں سفر معراج بھی شامل ہے۔ اگر تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے کہ کائنات کی بے کراں وسعتوں میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مقدسہ کی تلاش ہی جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد ہے۔ دنیا اس حقیقت کا بلاواسطہ اعتراف نہیں کرے گی کہ آج کا انسان اپنی تمام آزاد خیالی کے سفلی اور علاقائی تعصبات سے دامن نہیں چھڑا سکا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی اور انسانی بنیادوں پر جس وسیع معاشرے کی بنیاد رکھی تھی دنیا شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں پر ان اہداف کے حصول کے لئے مصروف عمل ہے۔ اگر سفر معراج کو جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد قرار دیا جائے تو یہ اس عظیم معجزہ کے محض ایک پہلو کا اعتراف ہو گا لیکن جوں جوں سائنس ترقی کرے گی ذہن انسانی میں تحقیق و جستجو کے نئے نئے دروازے کھلیں گے توں توں سفر معراج کے حوالے سے ان گنت کائناتی پیچیدگیاں خودبخود حل ہوتی جائیں گی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ زندہ معجزہ اللہ رب العزت کی قدرت مطلقہ کا مظہر بن کر
شاہراہ حیات کا وہ سنگ میل ثابت ہو گا کہ جسے بوسہ دیئے بغیر ارتقاء کے سفر پر روانہ ہونے والا انسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے گا ۔ سفر معراج عروج آدم خاکی وہ دروازہ ہے جس میں داخل ہوئے بغیر انسان پتھر اور دھات کے زمانے کی طرف تو لوٹ سکتا ہے ارتقاء کی سیڑھی کے پہلے زینے پر بھی قدم نہیں رکھ سکتا ۔
(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296842722551774/
(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296842722551774/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ ہفتم
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296977802538266/
محترم قارئینِ کرام : ارباب فکر نے سفر معراج کی کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں مگر حقیقت حال اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لے کر عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر واہ ہوتے ہیں ۔ مشہور مُحاوَرہ ہے کہ “ فِعْلُ الْحَکِیْمِ لَایَخْلُو عَنِ الْحِکْمَۃِ “ یعنی حکیم کا کوئی بھی کام حِکمت سے خالی نہیں ہوتا ، اللہ پاک کا ایک صِفاتی نام حکیم بھی ہے ، اس کے ہر کام میں بےشُمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصِر (بے بس) ہوتی ہیں ۔ اللہ پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلانِ نَبُوّت کے گیارھویں سال یعنی ہجرت سے دو سال پہلے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے ستائیسویں رجب پیر کی شب میں معراج کروائی۔ اس معراج میں کئی حکمتیں ہیں جن کا ہمیں مکمل علم نہیں ۔
معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ معاشرتی سطح پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے پاس بلاکر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں اور اپنا دیدار کروایا جائے۔ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف اور مصیبتیں کافور ہوجائیں گی۔ گویا اللہ رب العزت معراج پر بلاکر اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی دلجوئی کرنا چاہتے تھے کہ اگرچہ دنیا میں یہ کافر تمہیں تنگ کرتے ہیں اور مصائب و آلام اور آزمائشیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آتی ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرایا نہ کریں کیونکہ ہماری پیار بھری آنکھیں آپ کو تکتی رہتی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْيُنِنَا ۔ (الطور، 52: 48)
’’اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اِن کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھیے۔ بے شک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں‘‘۔
عرش پر بلاکر اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دیدار کرایا اور امت کی بخشش کی نوید سنائی اور 50 نمازوں کا تحفہ بھی شب معراج کو عطا کیا اور فرمایا: ’’محبوب تیری امت دن میںپانچ نمازیں ادا کرے گی مگر اس کو ثواب پچاس نمازوں کا عطا کروں گا‘‘۔
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز بہت سے واقعات پیش آئے جس کی بشارت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ عیسائی پیشواؤں نے بھی دی جن کا تذکرہ درج ذیل ہے : ⬇
بیت المقدس میں امامت انبیاء علیہم السلام
عیسائی پیشوا جو مسجد اقصیٰ کا بہت بڑا پادری تھا اس نے کہا میری عادت تھی کہ میں ہر روز رات کو سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کردیا کرتا تھا۔ اس رات میں نے تمام دروازے بند کردیے لیکن انتہائی کوشش کے باوجود ایک دروازہ بند نہ ہوسکا۔ میں نے اپنے کارندوں اور تمام حاضرین سے مدد لی۔ سب نے پورا زور لگایا مگر دروازہ نہ ہلا۔ بالآخر میں نے ترکھانوں کو بلایا تو انہوں نے اسے دیکھ کر کہا کہ اوپر کی عمارت نیچے آگئی ہے۔ اب رات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ صبح دیکھیں گے۔ لہذا ہم دروازے کے دونوں کواڑ کھلے چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ صبح ہوتے ہی میں وہاں آیا تو دیکھا کہ دروازہ بالکل ٹھیک ہے۔ مسجد کے پتھر پر سوراخ ہے اور سواری کے جانور باندھنے کا نشان اس میں نظر آرہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میں سمجھا کہ آج رات انتہائی کوشش کے باوجود دروازہ کا بند نہ ہونا اور پتھر میں سوراخ کا پایا جانا اس سوراخ میں جانور باندھنے کا نشان موجود ہونا حکمت سے خالی نہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج رات اس دروازے کا کھلا رہنا صرف نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے تھا یقینا اس نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری اس مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 3 صفحہ 64،چشتی)
سارے مراتب طے کروائےحکیمُ الْاُمَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وہ تمام مُعْجِزَات اور دَرَجات جو انبیائے کرام عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کو علیحدہ علیحدہ عطا فرمائے گئے ، وہ تمام بلکہ اُن سے بڑھ کر (کئی مُعْجِزَات) حُضُورِ پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا ہوئے۔ اس کی بہت سی مِثالیں ہیں : حضرتِ مُوسیٰ علیہ السَّلام کو یہ دَرجہ مِلا کہ وہ کوہِ طُور پر جا کر رَبّ (کریم) سے کَلام
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296977802538266/
محترم قارئینِ کرام : ارباب فکر نے سفر معراج کی کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں مگر حقیقت حال اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لے کر عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر واہ ہوتے ہیں ۔ مشہور مُحاوَرہ ہے کہ “ فِعْلُ الْحَکِیْمِ لَایَخْلُو عَنِ الْحِکْمَۃِ “ یعنی حکیم کا کوئی بھی کام حِکمت سے خالی نہیں ہوتا ، اللہ پاک کا ایک صِفاتی نام حکیم بھی ہے ، اس کے ہر کام میں بےشُمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصِر (بے بس) ہوتی ہیں ۔ اللہ پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلانِ نَبُوّت کے گیارھویں سال یعنی ہجرت سے دو سال پہلے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے ستائیسویں رجب پیر کی شب میں معراج کروائی۔ اس معراج میں کئی حکمتیں ہیں جن کا ہمیں مکمل علم نہیں ۔
معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ معاشرتی سطح پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے پاس بلاکر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں اور اپنا دیدار کروایا جائے۔ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف اور مصیبتیں کافور ہوجائیں گی۔ گویا اللہ رب العزت معراج پر بلاکر اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی دلجوئی کرنا چاہتے تھے کہ اگرچہ دنیا میں یہ کافر تمہیں تنگ کرتے ہیں اور مصائب و آلام اور آزمائشیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آتی ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرایا نہ کریں کیونکہ ہماری پیار بھری آنکھیں آپ کو تکتی رہتی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْيُنِنَا ۔ (الطور، 52: 48)
’’اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اِن کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھیے۔ بے شک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں‘‘۔
عرش پر بلاکر اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دیدار کرایا اور امت کی بخشش کی نوید سنائی اور 50 نمازوں کا تحفہ بھی شب معراج کو عطا کیا اور فرمایا: ’’محبوب تیری امت دن میںپانچ نمازیں ادا کرے گی مگر اس کو ثواب پچاس نمازوں کا عطا کروں گا‘‘۔
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز بہت سے واقعات پیش آئے جس کی بشارت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ عیسائی پیشواؤں نے بھی دی جن کا تذکرہ درج ذیل ہے : ⬇
بیت المقدس میں امامت انبیاء علیہم السلام
عیسائی پیشوا جو مسجد اقصیٰ کا بہت بڑا پادری تھا اس نے کہا میری عادت تھی کہ میں ہر روز رات کو سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کردیا کرتا تھا۔ اس رات میں نے تمام دروازے بند کردیے لیکن انتہائی کوشش کے باوجود ایک دروازہ بند نہ ہوسکا۔ میں نے اپنے کارندوں اور تمام حاضرین سے مدد لی۔ سب نے پورا زور لگایا مگر دروازہ نہ ہلا۔ بالآخر میں نے ترکھانوں کو بلایا تو انہوں نے اسے دیکھ کر کہا کہ اوپر کی عمارت نیچے آگئی ہے۔ اب رات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ صبح دیکھیں گے۔ لہذا ہم دروازے کے دونوں کواڑ کھلے چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ صبح ہوتے ہی میں وہاں آیا تو دیکھا کہ دروازہ بالکل ٹھیک ہے۔ مسجد کے پتھر پر سوراخ ہے اور سواری کے جانور باندھنے کا نشان اس میں نظر آرہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میں سمجھا کہ آج رات انتہائی کوشش کے باوجود دروازہ کا بند نہ ہونا اور پتھر میں سوراخ کا پایا جانا اس سوراخ میں جانور باندھنے کا نشان موجود ہونا حکمت سے خالی نہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج رات اس دروازے کا کھلا رہنا صرف نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے تھا یقینا اس نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری اس مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 3 صفحہ 64،چشتی)
سارے مراتب طے کروائےحکیمُ الْاُمَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وہ تمام مُعْجِزَات اور دَرَجات جو انبیائے کرام عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کو علیحدہ علیحدہ عطا فرمائے گئے ، وہ تمام بلکہ اُن سے بڑھ کر (کئی مُعْجِزَات) حُضُورِ پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا ہوئے۔ اس کی بہت سی مِثالیں ہیں : حضرتِ مُوسیٰ علیہ السَّلام کو یہ دَرجہ مِلا کہ وہ کوہِ طُور پر جا کر رَبّ (کریم) سے کَلام
کرتے تھے ، حضرتِ عیسیٰ علیہ السَّلام چوتھے آسمان پر بُلائے گئے اور حضرتِ اِدْرِیس علیہ السَّلام جنَّت میں بُلائے گئے توحُضُورِانور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مِعْراج کرائی گئی ، جس میں اللہ پاک سےکلام بھی ہوا ، آسمان کی سیر بھی ہوئی ، جنَّت و دوزخ کا مُعَاینہ بھی ہوا ، غرضیکہ وہ سارے مَرَاتِب ایک ہی مِعْرَاج میں طے کرادئیے گئے۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107،چشتی)
ایمان بِالغیب کا مُشاہدہ کیا معراجِ مصطفےٰ کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تمام پیغمبروں نے اللہ (کریم) کی اور جنّت و دوزخ کی گواہی دی اور اپنی اپنی اُمَّتوں سے اَشْہَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھوایا ، مگر اُن حضرات (انبیائے کرام) میں سے کسی کی گواہی نہ تو دیکھی ہوئی تھی اور نہ ہی سُنی ہوئی اور گواہی کی انتہا دیکھنے پر ہوتی ہے ، تو ضرورت تھی کہ ان انبیائے کرام ( عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام ) کی جماعَتِ پاک میں سے کوئی ایسی ہستی بھی ہو کہ جو ان تمام چیزوں کو دیکھ کر گواہی دے ، اُس کی گواہی پر شہادت کی تکمیل ہوجائے۔ یہ شہادت کی تکمیل حُضُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات پر ہوئی۔ (کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمام چیزوں کو اپنی مُبارک آنکھوں سے مُلاحظہ فرمایا) ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107)
مالکِ کونین نے اپنی سلطنت دیکھی اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام خزانوں کا مالک بنایا ہے ، اللہ پاک پارہ نمبر 30 سُوْرَۃُ الْکَوثَر کی آیت نمبر 1 میں اِرشاد فرماتا ہے : (اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ ۔ تَرْجَمَہ : اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں ۔ حضور مالکِ کونین ، شبِ اسریٰ کے دولہا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں ۔ (بخاری ، 2 / 303 ، حدیث : 2977) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : میں (اللہ پاک کے خزانوں کا) خازِن ہوں ۔ (مسلم ، ص512 ، حدیث : 1037) حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی عطا سے اس کی تمام سلطنت کے مالِک ہیں ، اسی لیے جنَّت کے پتّے پتّے پر ، حُوروں کی آنکھوں میں غرضیکہ ہر جگہ لَاۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ لکھا ہوا ہے : یعنی یہ چیزیں اللہ (کریم) کی بنائی ہوئی ہیں اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کو دی ہوئی ہیں۔ (تو معراج کروانے میں) اللہپاک کی مرضی یہ تھی کہ (دوجہانوں کے خزانوں کے) مالِک کو اس کی ملکیت دِکھا دی جائے ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107)
چنانچہ اس لیے معراج کی رات یہ سیر کروائی گئی ۔
سلسلۂ شفاعت میں آسانی کل بروزِ قِیامت نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شفاعت فرمانی ہے ، بلکہ شفاعت کا دروازہ آپ سے کھلنا ہے ، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کائنات کے عجائبات ، جنّت کے درجات اور جہنّم کا مُشاہدہ کرادیا ، اس کے علاوہ اور بھی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں تاکہ قِیامت کے ہولناک دن کی ہیبت آپ پر طاری نہ ہوسکے ، پورے عزم و اِستقلال کے ساتھ شفاعت کر سکیں۔ (معارج النبوۃ ، صفحہ 80،چشتی)
وحی کی تمام اقسام کا شرف وحی کی ایک قسم یہ ہے کہ اللہ پاک بِلاواسطہ کلام فرمائے اور یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے ، معراج کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام اقسامِ وحی سے شرف پائیں ، کُتبِ تفاسیر میں لکھا ہے کہ “ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ “ والی آیات جو کہ سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری 2 آیات ہیں ، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات اللہ پاک سے بِلاواسطہ سُنی ، اسی طرح کچھ سُورَۃُ الضُّحیٰ اور کچھ سُورَۂ اَلَم نَشْرَح معراج کی رات سُنی۔(روح البیان ، پ25 ، الشوریٰ الآیۃ : 51 ، 8 / 345)
معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ہمارے ہاں بالعموم ایک مذہبی نوعیت کا واقعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ عروج آدم خاکی کا شاندار مظہر ہے،تسخیر کائنات کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے ،جدید سائنسی انکشافات اور اکتشافات کا نقطہ اوّل ہے،اور حضرت انسان کے ذہنی و فکری ارتقاء کی روشن دلیل ہے۔تاریخ اسلام میں واقعہ معراج کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ،جن دنوں میں یہ واقعہ پیش آیا وہ ایام اہل اسلام کےلیے سخت ابتلاء اور آزمائش کے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تیرہ برس سرزمین مکہ پر پیغام توحید پہنچانے میں صر ف کئے، طائف سے بھی ہو آئے اگرچہ آپ کا حلقہ اثر پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکا تھامگر اسی حساب سے کفار کے رد عمل میں بھی سختی آتی جا رہی تھی،نظر انداز کر دینے والی پالیسی سے کفار کا رد عمل شروع ہوا تھااب وہ باقاعدہ جسمانی تعذیب تک پہنچ چکا تھا، اس دوران میں طنزو استہزا، کٹ حجتی،الزام تراشی ،غلام اور نادار صحابہ کرام
ایمان بِالغیب کا مُشاہدہ کیا معراجِ مصطفےٰ کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تمام پیغمبروں نے اللہ (کریم) کی اور جنّت و دوزخ کی گواہی دی اور اپنی اپنی اُمَّتوں سے اَشْہَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھوایا ، مگر اُن حضرات (انبیائے کرام) میں سے کسی کی گواہی نہ تو دیکھی ہوئی تھی اور نہ ہی سُنی ہوئی اور گواہی کی انتہا دیکھنے پر ہوتی ہے ، تو ضرورت تھی کہ ان انبیائے کرام ( عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام ) کی جماعَتِ پاک میں سے کوئی ایسی ہستی بھی ہو کہ جو ان تمام چیزوں کو دیکھ کر گواہی دے ، اُس کی گواہی پر شہادت کی تکمیل ہوجائے۔ یہ شہادت کی تکمیل حُضُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات پر ہوئی۔ (کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمام چیزوں کو اپنی مُبارک آنکھوں سے مُلاحظہ فرمایا) ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107)
مالکِ کونین نے اپنی سلطنت دیکھی اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام خزانوں کا مالک بنایا ہے ، اللہ پاک پارہ نمبر 30 سُوْرَۃُ الْکَوثَر کی آیت نمبر 1 میں اِرشاد فرماتا ہے : (اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ ۔ تَرْجَمَہ : اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں ۔ حضور مالکِ کونین ، شبِ اسریٰ کے دولہا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں ۔ (بخاری ، 2 / 303 ، حدیث : 2977) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : میں (اللہ پاک کے خزانوں کا) خازِن ہوں ۔ (مسلم ، ص512 ، حدیث : 1037) حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی عطا سے اس کی تمام سلطنت کے مالِک ہیں ، اسی لیے جنَّت کے پتّے پتّے پر ، حُوروں کی آنکھوں میں غرضیکہ ہر جگہ لَاۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ لکھا ہوا ہے : یعنی یہ چیزیں اللہ (کریم) کی بنائی ہوئی ہیں اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کو دی ہوئی ہیں۔ (تو معراج کروانے میں) اللہپاک کی مرضی یہ تھی کہ (دوجہانوں کے خزانوں کے) مالِک کو اس کی ملکیت دِکھا دی جائے ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107)
چنانچہ اس لیے معراج کی رات یہ سیر کروائی گئی ۔
سلسلۂ شفاعت میں آسانی کل بروزِ قِیامت نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شفاعت فرمانی ہے ، بلکہ شفاعت کا دروازہ آپ سے کھلنا ہے ، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کائنات کے عجائبات ، جنّت کے درجات اور جہنّم کا مُشاہدہ کرادیا ، اس کے علاوہ اور بھی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں تاکہ قِیامت کے ہولناک دن کی ہیبت آپ پر طاری نہ ہوسکے ، پورے عزم و اِستقلال کے ساتھ شفاعت کر سکیں۔ (معارج النبوۃ ، صفحہ 80،چشتی)
وحی کی تمام اقسام کا شرف وحی کی ایک قسم یہ ہے کہ اللہ پاک بِلاواسطہ کلام فرمائے اور یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے ، معراج کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام اقسامِ وحی سے شرف پائیں ، کُتبِ تفاسیر میں لکھا ہے کہ “ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ “ والی آیات جو کہ سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری 2 آیات ہیں ، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات اللہ پاک سے بِلاواسطہ سُنی ، اسی طرح کچھ سُورَۃُ الضُّحیٰ اور کچھ سُورَۂ اَلَم نَشْرَح معراج کی رات سُنی۔(روح البیان ، پ25 ، الشوریٰ الآیۃ : 51 ، 8 / 345)
معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ہمارے ہاں بالعموم ایک مذہبی نوعیت کا واقعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ عروج آدم خاکی کا شاندار مظہر ہے،تسخیر کائنات کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے ،جدید سائنسی انکشافات اور اکتشافات کا نقطہ اوّل ہے،اور حضرت انسان کے ذہنی و فکری ارتقاء کی روشن دلیل ہے۔تاریخ اسلام میں واقعہ معراج کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ،جن دنوں میں یہ واقعہ پیش آیا وہ ایام اہل اسلام کےلیے سخت ابتلاء اور آزمائش کے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تیرہ برس سرزمین مکہ پر پیغام توحید پہنچانے میں صر ف کئے، طائف سے بھی ہو آئے اگرچہ آپ کا حلقہ اثر پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکا تھامگر اسی حساب سے کفار کے رد عمل میں بھی سختی آتی جا رہی تھی،نظر انداز کر دینے والی پالیسی سے کفار کا رد عمل شروع ہوا تھااب وہ باقاعدہ جسمانی تعذیب تک پہنچ چکا تھا، اس دوران میں طنزو استہزا، کٹ حجتی،الزام تراشی ،غلام اور نادار صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم پر تشدد، سماجی مقاطعہ ایسی مشکلات سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور آپ کے رفقاء دوچار رہے اب کھلم کھلا پیغمبر کے قتل کے منصوبے بن اور چرچے ہو رہے تھے ، اس ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سفر معراج اپنے اندر بہت سی حکمتوں کا حاصل معلوم ہوتا ہے ۔
ایک طرف اپنے رفقاء کےلیے حوصلہ افزائی تھی کہ اہل دنیا چا ہے لاکھ مخالفت کریں لیکن اللہ تعالی کی مدد او ر قرب بہرحال ہمیں حاصل ہے دنیا خواہ ہمیں نظر انداز اور فراموش کر دے خداوند عالم کبھی ہمیں نظر انداز اور فراموش نہیں کرے گا،دوسری طرف کفار کے لئے یہ تنبیہہ موجود تھی کہ تم جس قدر چاہو ہم پر اپنی سر زمین تنگ کر دواللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں ہمارے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے ہیں اور یہ ایک طرح کا استعارہ تھاکہ جو خدا اپنے نبی کےلیے خلاف عادت آسمانوں پر جانے کے لئے راستہ کھول سکتا ہے وہ دنیا کی توقع کے برعکس فروغ اسلام کےلیے بھی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے ،چنانچہ یہی ہواکہ سفر معراج سے واپس آتے ہی متصل زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اذن ہجرت ملا،اور سفر ہجرت اسلامی انقلاب کے قیام اور اسلام کی وسعت کا ذریعہ ثابت ہوا ، قیام مکہ کے تیرہ برس میں جو چھوٹی سی جماعت تیار ہوئی تھی وہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی ایک ملت اور امت کی تشکیل کا باعث بن گئی،ہجرت کے بعد یہ پیغام دس برس کے اندر اندر دس لاکھ مربع میل تک پھیل گیااور فتح مکہ جیسا عظیم واقعہ بھی ہوا ۔سفر معراج اپنے اندر یہ معجزانہ شان بھی رکھتا ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے دنیا کے اندازے اور قاعدے ضابطے پلٹ کر رکھ دے ، معراج کے حوالے سے کفار کو یہ حیرت تھی کہ رات کے ایک حصے میں اتنا بڑا سفر کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ وہ لوگ اللہ کی قدرت کو بھلا بیٹھے تھے اس طرح دنیا بھر کو یہ حیرت لاحق رہی کہ مدینے میں قدم رکھتے ہی چند برسوں کے اندر اتنا عظیم الشان انقلاب کیسے برپا ہو گیا ؟واقعہ معراج میںایک حکمت یہ بھی پو شیدہ تھی کہ اس سے منصب نبوت اور اس کا مزاج واضح ہوا ہے، منصب نبوت یہ ہے کہ وہ بندوں اور خدا کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے ، اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بندے جان جاتے ہیں کہ اخلاق الہی کیا ہے ؟
واقعہ معراج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سائنس دان ہو یا فلسفی ،اس کے سارے دعوے اور فلسفے کی بنیاد ظن اور گمان پر ہوتی ہے وہ عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی بات کو حرف آخر قرار دینے کی پو زیشن میں نہیں ہوتا لیکن پیغمبرجو بات بھی کہتا ہے سرا سر مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہے اس لیے سائنس دان کی آخری بات بھی تشنہ ہوتی ہے اور فلسفی کی ہر کلی اور جزئی محتاج صداقت ہوتی ہے جبکہ پیغمبر کی پہلی بات ہی حتمی اور قطعی ہوتی ہے اس لئے کہ اس کا ذریعہ علم قیاسی اور سماعی نہیں ہوتا بلکہ ایقانی اور مشاہداتی ہوتا ہے ۔
سفر معراج کا ایک مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مکہ پرجو کشمکش برپا تھی اس کی بنیاد یہ تھی کہ ڈھیر سارے خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا کو کیسے مان لیا جائے؟ اور فی الواقع ایک خدا ہے تو وہ کس نے دیکھا ہے؟پہلے نبی سے لے کر عیسی ؑ تک ہر ایک نے توحید کی بات کی مگر کسی نے خدا کو دیکھنے کا دعوی نہیں کیا ،حضرت موسی ؑ نے کلام خدا وندی براہ راست سنا لیکن دیکھنے کی خواہش پرانہیں لن ترانی کا جواب ملا،اب چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آخری نبی تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد اللہ تعالی نے براہ راست کسی سے مخاطب نہیں ہونا تھا اس لیے ضروری تھاکہ لوگوں کو اس سوال کا حتمی جواب آنا چاہیے کہ کسی نے خدا کو بھی دیکھا ہے یا نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے (جیسا کہ سابقہ حصّوں میں ہم دلاٸل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں چشتی) دنیا کو بتایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ذمے سوال کا جواب میں مہیا کرتا ہوں کہ ہاں اس خدائے واحد کو میں نے دیکھا ہے، اور سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے اس طرح عقیدہ توحید قیاسی نہیں مشاہداتی بن گیا ، سفر معراج نے وہ آخری دلیل بھی مہیا کردی اور اس عقدے کی گرہ کشائی کر دی جو مشہود خدا کا تصور رکھنے والے ذہنوں میں صدیوں سے موجود چلا آرہا تھا ۔
آج تسخیر آفاق ایک سائنسی مشاہدہ بن گیا ہے مگر اس مشاہدے کو بنیاد سفر معراج نے فراہم کی ،یہ امر ہر ایک جانتا ہے کہ معلوم انسانی تاریخ میں صدیوں تک ستارے ،چاند ،سورج اور آسمان کی پوجا ہوتی رہی اس لئے کہ یہ چیزیں انسانی دسترس سے باہر تھیں ، ان تک انسان پہنچ نہیں پاتا تھا، ستاروں کا جھرمٹ بہت دلفریب لگتا تھا، چاند بہت نظر معلوم ہوتا تھا ، سورج کی تمازت میں ایک طرح کی ہیبت تھی، آسمان کی بلندی کے سامنے انسان خود کو بہت پست تصور کرتا تھا سفر معراج نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا، انسان کو یہ ادراک پہلی بار حاصل ہوا کہ کارخانہ قدرت میں جو کچھ بھی ہے خواہ وہ نظر فریب ہو یا دلنواز ،وسیع ہو یا بسیط ،جلال
ایک طرف اپنے رفقاء کےلیے حوصلہ افزائی تھی کہ اہل دنیا چا ہے لاکھ مخالفت کریں لیکن اللہ تعالی کی مدد او ر قرب بہرحال ہمیں حاصل ہے دنیا خواہ ہمیں نظر انداز اور فراموش کر دے خداوند عالم کبھی ہمیں نظر انداز اور فراموش نہیں کرے گا،دوسری طرف کفار کے لئے یہ تنبیہہ موجود تھی کہ تم جس قدر چاہو ہم پر اپنی سر زمین تنگ کر دواللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں ہمارے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے ہیں اور یہ ایک طرح کا استعارہ تھاکہ جو خدا اپنے نبی کےلیے خلاف عادت آسمانوں پر جانے کے لئے راستہ کھول سکتا ہے وہ دنیا کی توقع کے برعکس فروغ اسلام کےلیے بھی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے ،چنانچہ یہی ہواکہ سفر معراج سے واپس آتے ہی متصل زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اذن ہجرت ملا،اور سفر ہجرت اسلامی انقلاب کے قیام اور اسلام کی وسعت کا ذریعہ ثابت ہوا ، قیام مکہ کے تیرہ برس میں جو چھوٹی سی جماعت تیار ہوئی تھی وہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی ایک ملت اور امت کی تشکیل کا باعث بن گئی،ہجرت کے بعد یہ پیغام دس برس کے اندر اندر دس لاکھ مربع میل تک پھیل گیااور فتح مکہ جیسا عظیم واقعہ بھی ہوا ۔سفر معراج اپنے اندر یہ معجزانہ شان بھی رکھتا ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے دنیا کے اندازے اور قاعدے ضابطے پلٹ کر رکھ دے ، معراج کے حوالے سے کفار کو یہ حیرت تھی کہ رات کے ایک حصے میں اتنا بڑا سفر کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ وہ لوگ اللہ کی قدرت کو بھلا بیٹھے تھے اس طرح دنیا بھر کو یہ حیرت لاحق رہی کہ مدینے میں قدم رکھتے ہی چند برسوں کے اندر اتنا عظیم الشان انقلاب کیسے برپا ہو گیا ؟واقعہ معراج میںایک حکمت یہ بھی پو شیدہ تھی کہ اس سے منصب نبوت اور اس کا مزاج واضح ہوا ہے، منصب نبوت یہ ہے کہ وہ بندوں اور خدا کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے ، اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بندے جان جاتے ہیں کہ اخلاق الہی کیا ہے ؟
واقعہ معراج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سائنس دان ہو یا فلسفی ،اس کے سارے دعوے اور فلسفے کی بنیاد ظن اور گمان پر ہوتی ہے وہ عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی بات کو حرف آخر قرار دینے کی پو زیشن میں نہیں ہوتا لیکن پیغمبرجو بات بھی کہتا ہے سرا سر مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہے اس لیے سائنس دان کی آخری بات بھی تشنہ ہوتی ہے اور فلسفی کی ہر کلی اور جزئی محتاج صداقت ہوتی ہے جبکہ پیغمبر کی پہلی بات ہی حتمی اور قطعی ہوتی ہے اس لئے کہ اس کا ذریعہ علم قیاسی اور سماعی نہیں ہوتا بلکہ ایقانی اور مشاہداتی ہوتا ہے ۔
سفر معراج کا ایک مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مکہ پرجو کشمکش برپا تھی اس کی بنیاد یہ تھی کہ ڈھیر سارے خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا کو کیسے مان لیا جائے؟ اور فی الواقع ایک خدا ہے تو وہ کس نے دیکھا ہے؟پہلے نبی سے لے کر عیسی ؑ تک ہر ایک نے توحید کی بات کی مگر کسی نے خدا کو دیکھنے کا دعوی نہیں کیا ،حضرت موسی ؑ نے کلام خدا وندی براہ راست سنا لیکن دیکھنے کی خواہش پرانہیں لن ترانی کا جواب ملا،اب چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آخری نبی تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد اللہ تعالی نے براہ راست کسی سے مخاطب نہیں ہونا تھا اس لیے ضروری تھاکہ لوگوں کو اس سوال کا حتمی جواب آنا چاہیے کہ کسی نے خدا کو بھی دیکھا ہے یا نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے (جیسا کہ سابقہ حصّوں میں ہم دلاٸل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں چشتی) دنیا کو بتایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ذمے سوال کا جواب میں مہیا کرتا ہوں کہ ہاں اس خدائے واحد کو میں نے دیکھا ہے، اور سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے اس طرح عقیدہ توحید قیاسی نہیں مشاہداتی بن گیا ، سفر معراج نے وہ آخری دلیل بھی مہیا کردی اور اس عقدے کی گرہ کشائی کر دی جو مشہود خدا کا تصور رکھنے والے ذہنوں میں صدیوں سے موجود چلا آرہا تھا ۔
آج تسخیر آفاق ایک سائنسی مشاہدہ بن گیا ہے مگر اس مشاہدے کو بنیاد سفر معراج نے فراہم کی ،یہ امر ہر ایک جانتا ہے کہ معلوم انسانی تاریخ میں صدیوں تک ستارے ،چاند ،سورج اور آسمان کی پوجا ہوتی رہی اس لئے کہ یہ چیزیں انسانی دسترس سے باہر تھیں ، ان تک انسان پہنچ نہیں پاتا تھا، ستاروں کا جھرمٹ بہت دلفریب لگتا تھا، چاند بہت نظر معلوم ہوتا تھا ، سورج کی تمازت میں ایک طرح کی ہیبت تھی، آسمان کی بلندی کے سامنے انسان خود کو بہت پست تصور کرتا تھا سفر معراج نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا، انسان کو یہ ادراک پہلی بار حاصل ہوا کہ کارخانہ قدرت میں جو کچھ بھی ہے خواہ وہ نظر فریب ہو یا دلنواز ،وسیع ہو یا بسیط ،جلال
آمیزہو یا دہشت انگیز ،کچھ بھی ہومقام و مرتبے میں بندہ خاکی سے فروتر ہے اور اپنی تمام تر گہرائیوں ، رعنائیوں ، پہنائیوں اور وسعتوں کے باوجود اس کی گرفت میں ہے ۔
(مزید حصّہ ہشتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296977802538266/
(مزید حصّہ ہشتم میں ان شاء اللہ)
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296977802538266/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ ہشتم
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297257305843649/
محترم قارئینِ کرام : اسراء اور معراج کے واقعہ نے فکرِ انسانی کو ایک نیا موڑ عطا کیا ہے ، تاریخ پر ایسے دوررس اثرات ڈالے ہیں جس کے نتیجے میں فکر و نظر کی رسائی کو بڑی وسعت حاصل ہوئی ہے ۔ چودہ سو سال بعد ذہنِِ انسانی کے ارتقاءنے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے سہارے معراج اور اس سے متعلقہ واقعات کو ایسی حقیقت میں تبدیل کردیا ہے جو ناقابلِ تردید ہے ۔
عقل کی پرواز بہت محدود ہے، وحی کی وسعت کا اندازا عقل نہیں لگا سکتی، اسی لیے وحی کے مقابل عقل کو قبلہ بنانا دانش مندی نہیں۔ قرآن مقدس نے اسی لیے عقلاے زمانہ کو چیلنج کیا تھا:
’’اور اگر تمھیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ ۔ (سورہ البقرۃ:۲۳)
یہ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کے آگے سب عاجز و ساکت ہیں اور اس کتابِ مقدس کے احکام شک و شبہے سے پاک ہیں،امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ (م۱۹۲۱ء) نے خوب فرمایا :
تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منھ میں زباں نہیں ، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
۱۷؍ویں صدی کے مشینی انقلاب نے مغربی قوتوں کو خود فریبی میں مبتلا کر دیا، وہ گمان میں پڑ گئے کہ اب قرآن مقدس سے دلوں کو دور کرنا آسان ہو گا، لیکن یہ گمان ڈھے گیا، قرآن کی حقانیت ایجادات و اختراعات کے ساتھ ساتھ اور اجاگر ہوتی گئی، سائنس نے جہاں جہاں قرآن سے استفادہ کیا ٹھوس نتائج بر آمد ہوئے، جانسن کے بہ قول : ’’یہی (قرآن مقدس کا) پیغام ایک تعمیری قوت کے طور پر وجود میں آیا اور عیسائی دنیا میں بہ طور نور پھیل گیااور جہالت کی ظلمت کو دور کر گیا ۔ (تبرکات مبلغ اسلام صفحہ ۴۹۳)
ایمان نام ہے اطاعت و تسلیم کا، ہم ایمان لائے، اللہ و رسول کی اطاعت کا عہد باندھا، قرآن کے احکام کو تسلیم کیا، اب اسے چھوڑ کر عقلِ خام کو قبلہ بنانا منفی طرزِ عمل ہے؛ جو مغرب کا وطیرہ ہے، مغربی قوتوں نے ایمان کم زور کرنے کی غرض سے عقلی تحریک کو آگے بڑھایا، قرآن کریم نے عقل کی نہیں بلکہ اللہ و رسول کی اطاعت کی تعلیم دی : اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔ (سورۃ المآئدۃ:۹۲)
یوں ہی واقعۂ معراج ہے یعنی رسول کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اللہ نے عالمِ سموات کی سیر کروائی؛ اور سب سے بڑھ کر اپنا قربِ خاص عطا فرمایا۔ واقعۂ معراج کو بعض مغربی تعلیم سے مرعوب مسلمان عقل نا پائیدار کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اعتراض کرتے ہیں کہ کس طرح کم وقت میں فرش سے عرش گئے، رب کا دیدار کیا؟ اور مشاہدات کیے ؟ قرآن نے صاف فرما دیا : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔ (سورۃ بنی اسرائیل : ۱)
سوچنے والی بات ہے کہ نبی ؛ رب قدیر کے پیغامات پہنچاتے ہیں ، انہیں نیابتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے، ’’رب کی عظیم نشانیاں‘‘ ملاحظہ فرما کر انہوں نے انسانیت کو سنوارا، رب نے انہیں اپنی ربوبیت کی پہچان کا ذریعہ بنایا، تو انہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھا دے تو جائے تعجب کیا ہے ؟ اعتراض کیسا ؟ رب نے بتایا اور وہ قدرت والا ہے، اس میں کلام ؛ رب کی قدرت پر جسارت ہے ۔ قرآن و حدیث دونوں پر ہمارا ایمان ہے اور دونوں ہی معراجِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر دلیلیں رکھتے ہیں، قرآن مقدس میں مسجد اقصیٰ تک کا بیان تو بالکل واضح ہے اور احادیث میں آگے کی منازل اور رویتِ باری (دیدار الٰہی) کا بیان ہے ۔ قادرِ مطلق نے اپنی قدرت سے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنا دیدار عطا فرمایا، ہم اس رُخ سے یہاں چند دلائل ذکر کیے دیتے ہیں تا کہ ایمان کو تازگی ملے اور اسلام مخالف قوتوں کو ضرب کاری۔
سورۃ والنجم میں بہت واضح طور پر معراج کا ذکرفرمایا گیا، جس میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ حضور اقدس اپنی خواہش سے نہیں کہتے جو رب کی مرضی ہوتی ہے وہی فرماتے ہیں، ملاحظہ کریں: ’’اس چمکتے تارے (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کی قسم جب یہ معراج سے اترے، تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو بس وحی ہوتی ہے جو انھیں کی جاتی ہے؛ انھیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقت ور نے، پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا، پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا، پھر خوب اتر آیاتو اس جلوہ اور محبوب میں دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا، پھر وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا، تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو، اور انھوں نے وہ جلوہ دو بار دیکھا سدرۃالمنتہیٰ کے پاس ۔ (سورۃالنجم)
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297257305843649/
محترم قارئینِ کرام : اسراء اور معراج کے واقعہ نے فکرِ انسانی کو ایک نیا موڑ عطا کیا ہے ، تاریخ پر ایسے دوررس اثرات ڈالے ہیں جس کے نتیجے میں فکر و نظر کی رسائی کو بڑی وسعت حاصل ہوئی ہے ۔ چودہ سو سال بعد ذہنِِ انسانی کے ارتقاءنے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے سہارے معراج اور اس سے متعلقہ واقعات کو ایسی حقیقت میں تبدیل کردیا ہے جو ناقابلِ تردید ہے ۔
عقل کی پرواز بہت محدود ہے، وحی کی وسعت کا اندازا عقل نہیں لگا سکتی، اسی لیے وحی کے مقابل عقل کو قبلہ بنانا دانش مندی نہیں۔ قرآن مقدس نے اسی لیے عقلاے زمانہ کو چیلنج کیا تھا:
’’اور اگر تمھیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ ۔ (سورہ البقرۃ:۲۳)
یہ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کے آگے سب عاجز و ساکت ہیں اور اس کتابِ مقدس کے احکام شک و شبہے سے پاک ہیں،امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ (م۱۹۲۱ء) نے خوب فرمایا :
تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منھ میں زباں نہیں ، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں
۱۷؍ویں صدی کے مشینی انقلاب نے مغربی قوتوں کو خود فریبی میں مبتلا کر دیا، وہ گمان میں پڑ گئے کہ اب قرآن مقدس سے دلوں کو دور کرنا آسان ہو گا، لیکن یہ گمان ڈھے گیا، قرآن کی حقانیت ایجادات و اختراعات کے ساتھ ساتھ اور اجاگر ہوتی گئی، سائنس نے جہاں جہاں قرآن سے استفادہ کیا ٹھوس نتائج بر آمد ہوئے، جانسن کے بہ قول : ’’یہی (قرآن مقدس کا) پیغام ایک تعمیری قوت کے طور پر وجود میں آیا اور عیسائی دنیا میں بہ طور نور پھیل گیااور جہالت کی ظلمت کو دور کر گیا ۔ (تبرکات مبلغ اسلام صفحہ ۴۹۳)
ایمان نام ہے اطاعت و تسلیم کا، ہم ایمان لائے، اللہ و رسول کی اطاعت کا عہد باندھا، قرآن کے احکام کو تسلیم کیا، اب اسے چھوڑ کر عقلِ خام کو قبلہ بنانا منفی طرزِ عمل ہے؛ جو مغرب کا وطیرہ ہے، مغربی قوتوں نے ایمان کم زور کرنے کی غرض سے عقلی تحریک کو آگے بڑھایا، قرآن کریم نے عقل کی نہیں بلکہ اللہ و رسول کی اطاعت کی تعلیم دی : اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔ (سورۃ المآئدۃ:۹۲)
یوں ہی واقعۂ معراج ہے یعنی رسول کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اللہ نے عالمِ سموات کی سیر کروائی؛ اور سب سے بڑھ کر اپنا قربِ خاص عطا فرمایا۔ واقعۂ معراج کو بعض مغربی تعلیم سے مرعوب مسلمان عقل نا پائیدار کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اعتراض کرتے ہیں کہ کس طرح کم وقت میں فرش سے عرش گئے، رب کا دیدار کیا؟ اور مشاہدات کیے ؟ قرآن نے صاف فرما دیا : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں ۔ (سورۃ بنی اسرائیل : ۱)
سوچنے والی بات ہے کہ نبی ؛ رب قدیر کے پیغامات پہنچاتے ہیں ، انہیں نیابتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے، ’’رب کی عظیم نشانیاں‘‘ ملاحظہ فرما کر انہوں نے انسانیت کو سنوارا، رب نے انہیں اپنی ربوبیت کی پہچان کا ذریعہ بنایا، تو انہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھا دے تو جائے تعجب کیا ہے ؟ اعتراض کیسا ؟ رب نے بتایا اور وہ قدرت والا ہے، اس میں کلام ؛ رب کی قدرت پر جسارت ہے ۔ قرآن و حدیث دونوں پر ہمارا ایمان ہے اور دونوں ہی معراجِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر دلیلیں رکھتے ہیں، قرآن مقدس میں مسجد اقصیٰ تک کا بیان تو بالکل واضح ہے اور احادیث میں آگے کی منازل اور رویتِ باری (دیدار الٰہی) کا بیان ہے ۔ قادرِ مطلق نے اپنی قدرت سے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اپنا دیدار عطا فرمایا، ہم اس رُخ سے یہاں چند دلائل ذکر کیے دیتے ہیں تا کہ ایمان کو تازگی ملے اور اسلام مخالف قوتوں کو ضرب کاری۔
سورۃ والنجم میں بہت واضح طور پر معراج کا ذکرفرمایا گیا، جس میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ حضور اقدس اپنی خواہش سے نہیں کہتے جو رب کی مرضی ہوتی ہے وہی فرماتے ہیں، ملاحظہ کریں: ’’اس چمکتے تارے (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) کی قسم جب یہ معراج سے اترے، تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو بس وحی ہوتی ہے جو انھیں کی جاتی ہے؛ انھیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقت ور نے، پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا، پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا، پھر خوب اتر آیاتو اس جلوہ اور محبوب میں دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا، پھر وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا، تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو، اور انھوں نے وہ جلوہ دو بار دیکھا سدرۃالمنتہیٰ کے پاس ۔ (سورۃالنجم)
دیدارِ الٰہی کی بابت کفارِ مکہ اور یہودو نصاریٰ کو بہت شاق گزرا اور وہ حسد میں پڑ گئے، اس حقیقت کو جھٹلانے کے لیے بہانے تلاش کرنے لگے، وحی نے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا، ابتدا سے ہی معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا انکار یہود و نصاریٰ کرتے چلے آئے ہیں۔اسی سبب راقم نے معراج نبوی کے انکار کو مغربی اندازِ فکر سے تعبیر کیا ہے۔
امام محمد زرقانی کے حوالے سے امام احمد رضا علیہما الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خصائص سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا، یہی مذہب راجح ہے اور اللہ عزوجل نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس بلند و بالا تر مقام میں کلام فرمایا، جو تمام امکنہ سے اعلیٰ تھا، اور بے شک ابن عساکر نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شبِ اسریٰ مجھے میرے رب نے نزدیک کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا ۔ (دیدار الٰہی صفحہ ۱۱۔۱۲)
امام نسائی اور امام ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی علیہم الرحمہ کی روایت میں ہے : کیا ابراہیم کے لیے دوستی اور موسیٰ کےلیے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کےلیے دیدار ہونے میں تمہیں اچنبا ہے، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے، امام قسطلانی نے فرمایا اس کی سند جید ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دو بار اپنے رب کو دیکھا، ایک بار اس آنکھ سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔ امام سیوطی و امام قسطلانی و علامہ شامی و علامہ زرقانی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (دیدار الہی ص۳۔۴)
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں : شب اسریٰ مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیک کیا یہاں تک کہ مجھ میں اس میں دو کمان بلکہ کم کا فاصلہ رہا ۔ (ختم نبوت، ص۱۲، امام احمد رضا)
مجھے یہاں امام شرف الدین بوصیری کا وہ شعر یاد آ رہا ہے جو معراج کی طرف اشارہ کرتا ہے :
وَبِتَّ تَرْقیٰ اِلٰی اَنْ نِلْتَ مَنْزِلَۃً
مِنْ قَابَ قَوْسَیْنِ لَمْ تُدْرَکْ وَلَمْ تُرَمٖ
ترجمہ : آپ بلندیوں کی جانب بڑھتے رہے، یہاں تک کہ ’’قاب قوسین‘‘ کی وہ منزل پالی جس تک نہ کسی کی رسائی ہوئی نہ ہمت (وہ یہ کہ صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا) ۔
ہمیں ایمان، رب کی معرفت، توحید کی تعلیم، حق کی پہچان سب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہی عطا ہوئے، ان کی رسائی بارگاہِ رب تک اور ہماری رسائی بارگاہِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تک، اسی لیے امتِ محمدیہ کو جو مقام ملا وہ دوسری امتوں کو نہ ملا۔ ان سب انعامات و امتیازات کے باوجود واقعۂ معراج سے متعلق صہیونی اندازِ فکر کو اہمیت دینا مناسب نہیں، اور یہی مغربی سازش بھی تھی کہ مسلمان اپنے نبی کی عظمت میں شک کرے، مغرب کے ایسے حربوں کو ناکام بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ایک مسلمان کو لازم ہے کہ وہ اپنے نبی کی عظمتوں کے ترانے گنگنائے، امام شرف الدین بوصیری فرماتے ہیں: ’’ہم مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے کہ عنایت ربانی سے ہمیں ایک ایسا ستون میسر آگیا ہے جو کبھی زمیں بوس نہ ہوگا ۔
عہدِ حاضر کا انسان ان کے ماننے میں جھجک اور پس و پیش کا شکار نہیں۔ یہی باتیں جب مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں قریش کے سامنے ارشاد فرمائیں تو ناقابلِ یقین اور بعید از ممکنات تھیں۔ آج ہم گھر بیٹھے ٹیلی فون کے ذریعے یورپ و امریکہ میں مقیم اُن عزیز واقارب سے باتیں کرتے ہیں جو ہزاروں میل دور بستے ہیں ۔ مواصلاتی سیاروں کے ذریعے دوسرے براعظموں میں ہونے والے کرکٹ اور ہاکی کے میچ ٹیلی وژن پر دیکھتے ہیں۔ نیویارک میں ایک سو دو منزلہ امپائر اسٹیٹ کی فلک بوس عمارت میں لفٹ کے ذریعے منٹوں میں اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔نیل آرمسٹرانگ کے چاند کی سطح پر پہنچ کر بلندیوں سے کرہ ارض کی خوبصورتیوں کے بیان پر کسی شک و شبہ کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی ہمارا یقین متزلزل ہوتا ہے۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کی قیامت خیز ہولناک تباہیوں کو ثابت کرنے کے لیے کسی عینی شاہد کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ آج کا انسانی ذہن ان تمام باتوں سے مانوس ہے۔ بہ اندازِ دیگر یہی باتیں چودہ سو سال پہلے اُمّی لقب، معلم کتاب و حکمت اور مخبر ِ صادق نے سنائیں تو دنیا ماننے کو تیار نہ تھی۔ وحی، براق، اسراء، معراج، قیامت، حساب و کتاب، جزا و سزا، جنت دوزخ وغیرہ وغیرہ تو یہ سب باتیں ناقابلِِ فہم اور ناقابلِِ یقین تھیں۔ اللہ کا وہ آخری نبی جو نذیر و بشیر بن کر اِس دنیا میں آیا اُس کی باتوں کی صداقت، کلام کی بلاغت، ارشاد کی حکمت کی تصدیق کرنے کےلیے کسی بالغ نظر ابوبکرؓ کی ضرورت تھی، یا پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی، کہ زمانہ قرآن اور ارشادات ِ نبوی کی تصدیق کرتا جارہا ہے۔
امام محمد زرقانی کے حوالے سے امام احمد رضا علیہما الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خصائص سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا، یہی مذہب راجح ہے اور اللہ عزوجل نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس بلند و بالا تر مقام میں کلام فرمایا، جو تمام امکنہ سے اعلیٰ تھا، اور بے شک ابن عساکر نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا شبِ اسریٰ مجھے میرے رب نے نزدیک کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا ۔ (دیدار الٰہی صفحہ ۱۱۔۱۲)
امام نسائی اور امام ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی علیہم الرحمہ کی روایت میں ہے : کیا ابراہیم کے لیے دوستی اور موسیٰ کےلیے کلام اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کےلیے دیدار ہونے میں تمہیں اچنبا ہے، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے، امام قسطلانی نے فرمایا اس کی سند جید ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے دو بار اپنے رب کو دیکھا، ایک بار اس آنکھ سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔ امام سیوطی و امام قسطلانی و علامہ شامی و علامہ زرقانی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (دیدار الہی ص۳۔۴)
خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم فرماتے ہیں : شب اسریٰ مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیک کیا یہاں تک کہ مجھ میں اس میں دو کمان بلکہ کم کا فاصلہ رہا ۔ (ختم نبوت، ص۱۲، امام احمد رضا)
مجھے یہاں امام شرف الدین بوصیری کا وہ شعر یاد آ رہا ہے جو معراج کی طرف اشارہ کرتا ہے :
وَبِتَّ تَرْقیٰ اِلٰی اَنْ نِلْتَ مَنْزِلَۃً
مِنْ قَابَ قَوْسَیْنِ لَمْ تُدْرَکْ وَلَمْ تُرَمٖ
ترجمہ : آپ بلندیوں کی جانب بڑھتے رہے، یہاں تک کہ ’’قاب قوسین‘‘ کی وہ منزل پالی جس تک نہ کسی کی رسائی ہوئی نہ ہمت (وہ یہ کہ صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا) ۔
ہمیں ایمان، رب کی معرفت، توحید کی تعلیم، حق کی پہچان سب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہی عطا ہوئے، ان کی رسائی بارگاہِ رب تک اور ہماری رسائی بارگاہِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تک، اسی لیے امتِ محمدیہ کو جو مقام ملا وہ دوسری امتوں کو نہ ملا۔ ان سب انعامات و امتیازات کے باوجود واقعۂ معراج سے متعلق صہیونی اندازِ فکر کو اہمیت دینا مناسب نہیں، اور یہی مغربی سازش بھی تھی کہ مسلمان اپنے نبی کی عظمت میں شک کرے، مغرب کے ایسے حربوں کو ناکام بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ایک مسلمان کو لازم ہے کہ وہ اپنے نبی کی عظمتوں کے ترانے گنگنائے، امام شرف الدین بوصیری فرماتے ہیں: ’’ہم مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے کہ عنایت ربانی سے ہمیں ایک ایسا ستون میسر آگیا ہے جو کبھی زمیں بوس نہ ہوگا ۔
عہدِ حاضر کا انسان ان کے ماننے میں جھجک اور پس و پیش کا شکار نہیں۔ یہی باتیں جب مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں قریش کے سامنے ارشاد فرمائیں تو ناقابلِ یقین اور بعید از ممکنات تھیں۔ آج ہم گھر بیٹھے ٹیلی فون کے ذریعے یورپ و امریکہ میں مقیم اُن عزیز واقارب سے باتیں کرتے ہیں جو ہزاروں میل دور بستے ہیں ۔ مواصلاتی سیاروں کے ذریعے دوسرے براعظموں میں ہونے والے کرکٹ اور ہاکی کے میچ ٹیلی وژن پر دیکھتے ہیں۔ نیویارک میں ایک سو دو منزلہ امپائر اسٹیٹ کی فلک بوس عمارت میں لفٹ کے ذریعے منٹوں میں اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔نیل آرمسٹرانگ کے چاند کی سطح پر پہنچ کر بلندیوں سے کرہ ارض کی خوبصورتیوں کے بیان پر کسی شک و شبہ کا شکار نہیں ہوتے اور نہ ہی ہمارا یقین متزلزل ہوتا ہے۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کی قیامت خیز ہولناک تباہیوں کو ثابت کرنے کے لیے کسی عینی شاہد کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ آج کا انسانی ذہن ان تمام باتوں سے مانوس ہے۔ بہ اندازِ دیگر یہی باتیں چودہ سو سال پہلے اُمّی لقب، معلم کتاب و حکمت اور مخبر ِ صادق نے سنائیں تو دنیا ماننے کو تیار نہ تھی۔ وحی، براق، اسراء، معراج، قیامت، حساب و کتاب، جزا و سزا، جنت دوزخ وغیرہ وغیرہ تو یہ سب باتیں ناقابلِِ فہم اور ناقابلِِ یقین تھیں۔ اللہ کا وہ آخری نبی جو نذیر و بشیر بن کر اِس دنیا میں آیا اُس کی باتوں کی صداقت، کلام کی بلاغت، ارشاد کی حکمت کی تصدیق کرنے کےلیے کسی بالغ نظر ابوبکرؓ کی ضرورت تھی، یا پھر سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی، کہ زمانہ قرآن اور ارشادات ِ نبوی کی تصدیق کرتا جارہا ہے۔
👍1
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی معراج انسانی تاریخ کا اچھوتا اور محیرالعقول واقعہ ہے۔ یہ واقعہ کس مہینے میں ہوا، قطعیت سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ سیرت نگاروں کا عام رجحان یہ ہے کہ ہجرت سے ایک سال یا ڈیڑھ سال پیشتر یہ واقعہ پیش آیا، وہ پیر کا دن اور رجب کی ستائیسویں تاریخ تھی۔ قرآنِ پاک میں تین مقامات پر اس واقعہ کا ذکر ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت ہے : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚإِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔
”پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کوسیر کرائی، مسجد ِ حرام (مکہ) سے مسجد ِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک ، اس کے اطراف کو ہم نے بڑی برکت دی ہے، تاکہ اپنی نشانیاں اسے دکھائیں۔ بلاشبہ وہی ذات ہے سننے والی اور دیکھنے والی ۔
دوسرا اشارہ اسی سورت کی ساٹھویں آیت اور تیسرا سورہ نجم کی آیات میں ہے۔ مفسرین اور محدثین کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا رات کے وقت مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک براق کا سفر ”اسراء“ کہلاتا ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف سدرة المنتہیٰ تک کا عروج فرمانا معراج کہلاتا ہے۔ اس موقع پر عام طور سے ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ معراج بحالت ِ جسم تھی یا بحالت ِ خواب؟ سورہ بنی اسرائیل میں لفظ ”سبحان الذی“ سے ابتداءخود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جو فطرت کے عام قوانین سے ہٹ کر واقع ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی قدرت کا کرشمہ دکھانا مقصود تھا۔ لہٰذا رات کے ایک قلیل حصے میں یہ عظیم الشان سفر پیش آیا۔ اور یہ وقت زمان و مکان کی فطری قیود سے آزاد تھا۔ اس بات کا سمجھنا آج کے انسان کےلیے نسبتاً آسان ہے۔
بیت الحرام (مکہ) سے مسجدِ اقصیٰ (فلسطین) کا زمین کا سفر جسے اسراءکہا جاتا ہے ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے براق پر کیا ۔ براق، برق (بجلی) سے مشتق ہے جس کی سُرعت ِ رفتار سائنس دانوں نے ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ بتائی ہے۔ جب برق کی یہ سرعت ہوسکتی ہے تو بُراق جو اللہ تعالیٰ کا راکٹ تھا اس کی تیز رفتاری اور سبک سری پر کیوں شک کیا جائے؟ غرض سفرِ معراج اللہ جل جلالہ اور خالقِ کائنات کی غیر محدود قوت اور قدرت ِ کاملہ کا مظاہرہ تھا جس نے انسان کو ایک نیا نظریہ دیا اور تاریخ پر اپنا مستقل اثر چھوڑا۔ آج کی خلائی تسخیر، چاند پر اترنے کی کامیاب کوشش سب واقعہ معراج سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس جانب حکیم الامّت علامہ اقبال نے اشارہ کیا ہے :
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
واقعہ معراج اگر خواب ہوتا تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ خواب میں اکثر انسان مافوق الفطرت اور محیرالعقول باتیں دیکھتا ہی ہے۔ خواب کو نہ آج تک کسی نے اس درجہ اہمیت دی اور نہ وہ اس کا مستحق ہے۔ عام روایت کے مطابق حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی چچازاد بہن اُمِّ ہانی کے گھر تھےاور بعض روایات میں حطیم کا ذکر ہے کہ آپ وہاں لیٹے ہوئے تھے۔ صبح آپ نے اپنی چچا زاد بہن سے اس بات کا تذکرہ فرمایا۔ اس نے حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین واقعے کو سن کر آپ کی چادر پکڑ کر روکا اور عرض کیا کہ خدارا اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ فرمائیے، وہ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پُرعزم لہجے میں فرمایا: میں ضرور بیان کروں گا۔ یہ عزم خود اس بات کی دلیل ہے کہ واقعہ معراج بحالت ِ جسم و جاں ہے۔ پیغمبرِ آخر الزماں کے مشاہدات ِ معراج میں وہ واقعات بھی شامل ہیں جن کا فیصلہ روزِ جزا پر منحصر ہے، یعنی دنیوی اعمال کی جزا و سزا۔ قیامت سے پہلے انہیں آپ کو ممثّل کرکے دکھلایا گیا۔ اس سے باری تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ جن چیزوں کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بشیر اور نذیر بناکر بھیجے گئے ہیں ان کے عینی گواہ بن جائیں۔
مختصراً تفصیلات ِ معراج میں ایک اہم واقعہ جملہ انبیاءکی جماعت کی امامت کا ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ میں یہ نماز پڑھائی گئی۔ بعض روایتیں ہیں کہ یہ معراج (آسمانی سفر) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، اس گھر کے متولی رسول ہوتے ہیں۔ لہٰذا تمام انبیاء علیہم السلام نے (حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک) مسجد ِ اقصیٰ میں جمع ہوکر رسولِ آخریں کا استقبال کیا۔ تمام پیغمبروں نے مل کر اس لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پذیرائی فرمائی کہ اب آپ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کےلیے تشریف لے جارہے تھے۔ جنہوں نے لکھا ہے کہ انبیاءکی امامت کا شرف آپ کو معراج سے واپسی کے بعد پیش آیا، ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات نے آپ کا شرف اتنا بلند کردیا کہ امام الانبیاءبنادیا ۔ معراج کے سفر میں سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام رفیق سفر تھے۔ ہر آسمان میں وہاں کے فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور ہر آسمان میں ان انبیاء علیہم
”پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کوسیر کرائی، مسجد ِ حرام (مکہ) سے مسجد ِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک ، اس کے اطراف کو ہم نے بڑی برکت دی ہے، تاکہ اپنی نشانیاں اسے دکھائیں۔ بلاشبہ وہی ذات ہے سننے والی اور دیکھنے والی ۔
دوسرا اشارہ اسی سورت کی ساٹھویں آیت اور تیسرا سورہ نجم کی آیات میں ہے۔ مفسرین اور محدثین کے نزدیک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا رات کے وقت مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک براق کا سفر ”اسراء“ کہلاتا ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف سدرة المنتہیٰ تک کا عروج فرمانا معراج کہلاتا ہے۔ اس موقع پر عام طور سے ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ معراج بحالت ِ جسم تھی یا بحالت ِ خواب؟ سورہ بنی اسرائیل میں لفظ ”سبحان الذی“ سے ابتداءخود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جو فطرت کے عام قوانین سے ہٹ کر واقع ہوا۔ اللہ تعالیٰ کو اپنی قدرت کا کرشمہ دکھانا مقصود تھا۔ لہٰذا رات کے ایک قلیل حصے میں یہ عظیم الشان سفر پیش آیا۔ اور یہ وقت زمان و مکان کی فطری قیود سے آزاد تھا۔ اس بات کا سمجھنا آج کے انسان کےلیے نسبتاً آسان ہے۔
بیت الحرام (مکہ) سے مسجدِ اقصیٰ (فلسطین) کا زمین کا سفر جسے اسراءکہا جاتا ہے ، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے براق پر کیا ۔ براق، برق (بجلی) سے مشتق ہے جس کی سُرعت ِ رفتار سائنس دانوں نے ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ بتائی ہے۔ جب برق کی یہ سرعت ہوسکتی ہے تو بُراق جو اللہ تعالیٰ کا راکٹ تھا اس کی تیز رفتاری اور سبک سری پر کیوں شک کیا جائے؟ غرض سفرِ معراج اللہ جل جلالہ اور خالقِ کائنات کی غیر محدود قوت اور قدرت ِ کاملہ کا مظاہرہ تھا جس نے انسان کو ایک نیا نظریہ دیا اور تاریخ پر اپنا مستقل اثر چھوڑا۔ آج کی خلائی تسخیر، چاند پر اترنے کی کامیاب کوشش سب واقعہ معراج سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس جانب حکیم الامّت علامہ اقبال نے اشارہ کیا ہے :
سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفی سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں
واقعہ معراج اگر خواب ہوتا تو اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ خواب میں اکثر انسان مافوق الفطرت اور محیرالعقول باتیں دیکھتا ہی ہے۔ خواب کو نہ آج تک کسی نے اس درجہ اہمیت دی اور نہ وہ اس کا مستحق ہے۔ عام روایت کے مطابق حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اپنی چچازاد بہن اُمِّ ہانی کے گھر تھےاور بعض روایات میں حطیم کا ذکر ہے کہ آپ وہاں لیٹے ہوئے تھے۔ صبح آپ نے اپنی چچا زاد بہن سے اس بات کا تذکرہ فرمایا۔ اس نے حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین واقعے کو سن کر آپ کی چادر پکڑ کر روکا اور عرض کیا کہ خدارا اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ فرمائیے، وہ اس کا مذاق اڑائیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے پُرعزم لہجے میں فرمایا: میں ضرور بیان کروں گا۔ یہ عزم خود اس بات کی دلیل ہے کہ واقعہ معراج بحالت ِ جسم و جاں ہے۔ پیغمبرِ آخر الزماں کے مشاہدات ِ معراج میں وہ واقعات بھی شامل ہیں جن کا فیصلہ روزِ جزا پر منحصر ہے، یعنی دنیوی اعمال کی جزا و سزا۔ قیامت سے پہلے انہیں آپ کو ممثّل کرکے دکھلایا گیا۔ اس سے باری تعالیٰ کا مقصود یہ ہے کہ جن چیزوں کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بشیر اور نذیر بناکر بھیجے گئے ہیں ان کے عینی گواہ بن جائیں۔
مختصراً تفصیلات ِ معراج میں ایک اہم واقعہ جملہ انبیاءکی جماعت کی امامت کا ہے۔ مسجد ِ اقصیٰ میں یہ نماز پڑھائی گئی۔ بعض روایتیں ہیں کہ یہ معراج (آسمانی سفر) سے پہلے کا واقعہ ہے۔ مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، اس گھر کے متولی رسول ہوتے ہیں۔ لہٰذا تمام انبیاء علیہم السلام نے (حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک) مسجد ِ اقصیٰ میں جمع ہوکر رسولِ آخریں کا استقبال کیا۔ تمام پیغمبروں نے مل کر اس لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی پذیرائی فرمائی کہ اب آپ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کےلیے تشریف لے جارہے تھے۔ جنہوں نے لکھا ہے کہ انبیاءکی امامت کا شرف آپ کو معراج سے واپسی کے بعد پیش آیا، ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات نے آپ کا شرف اتنا بلند کردیا کہ امام الانبیاءبنادیا ۔ معراج کے سفر میں سید الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام رفیق سفر تھے۔ ہر آسمان میں وہاں کے فرشتوں نے آپ کا استقبال کیا اور ہر آسمان میں ان انبیاء علیہم
السلام سے ملاقات ہوئی جن کا مقام کسی معین آسمان میں ہے ۔چھٹے آسمان کی سیر کرواتے ہوئے جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو اس آسمان کے عجائبات ہی کچھ اور تھے۔ یہاں فرشتوں کا کعبہ بیت المعمور ہے جو کعبة اللہ کے عین اوپر واقع ہے۔ ایک وقت میں ستّر ستّر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں اور ان کی دوبارہ طواف کی باری نہیں آتی ۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ سیدالملائکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ان سے تعارف آپ کے جدامجد کہہ کر کروایا۔ یہاں سے آپ بلند ہوئے تو سدرة المنتہیٰ پر آئے جو ایک بیری کا درخت ہے، اس کی جڑ ساتویں آسمان پر ہے اور یہ بہت بلند ہے۔ سدرة المنتہیٰ عالمِ خلق اور رب السموٰت والارض کے درمیان حدِّفاصل ہے۔ اس مقام پر تمام خلائق کا علم ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے آگے جو کچھ ہے وہ عالم الغیب ہے جس کی خبر نہ مقرب فرشتے کو ہے اور نہ کسی پیغمبر کو۔ نیچے سے جو کچھ آتا ہے یہاں وصول کیا جاتا ہے۔ اور اوپر سے جو کچھ صادر ہوتا ہے وہ بھی یہاں وصول کرلیا جاتا ہے۔ اسی مقام پر جنت الماویٰ ہے جس کا سورہ نجم میں ذکر ہے۔ صاحب المعراج کو جنت الماویٰ کا مشاہدہ کروایا گیا۔ اس میں وہ تمام نعمتیں تھیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا۔اسی طرح دوزخ کا بھی مشاہدہ کرایا گیا۔اسی جگہ آپ نے حضرت جبرئل کو ان کی اپنی اصلی شکل میں دیکھا اور 50 نمازیں بھی فرض ہوئیں ۔ یہ خوشخبری بھی ملی کہ شرک کے سوا تمام گناہوں کی بخشش کا امکان ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم براق پر سوار مکۃ المکرمہ تشریف لائے، اس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس کا ذکر ام ہانی رضی اللہ عنہ سے کیا، احتیاطاً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب واقعہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ ورنہ کفار تمسخر اڑائیں گے، لیکن خانہ کعبہ میں نماز کے بعد وہی ہادی برحق، صادق و امین سردار انبیاء اٹھا اور رات کو پیش آنے والے اس واقعہ کا اعلان کر دیا۔ کفار یہ سن کر ہنسنے لگے، تمسخر اڑانے اور تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو (نعوذ باللہ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہک گئے ہیں، نعوذ باللہ کافروں کی ان باتوں کا کچھ اثر بعض کم عقل مسلمانوں پر بھی ہوا اور کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بہکایا اور بولا دیکھو تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے کیا کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا یہ مان سکتا ہے کہ وہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گئے اور واپس بھی آگئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس آسمانوں سے ہر روز ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔ معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔
یہ واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ایک اجمالی تعارف تھا، لیکن یہ بحث صدیوں سے اب تک چل رہی ہے کہ معراج جسمانی تھا یا کہ ایک خواب تھا کیا یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا روحانی سفر تھا، پختہ ایمان والوں کےلیے اس میں کوئی الجھن نہیں رہی اور وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ مشکل ان حضرات کی ہے جو اس واقعہ کو اپنی ناقص عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ کس قدر عالم، سائنس دان یا عقلمند ہیں ۔
موجودہ صدی میں یوں تو بہت سے سائنسی نظریات پیش ہوئے مگر ان میں سب سے زیادہ معروف نظریہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کہلاتا ہے ۔اس نظریے کی آمد نے کائنات اور قوانین کائنات کے بارے میں ہمارے اندازِ نظر کو ایک نیا زاویہ بہم پہنچایا اور ہمارے ذہن کو وسعت دی۔
جب کبھی وقعہ معراج کا تذکرہ ہوتاہے تو ہمارے یہاں سائنسی حلقوں سے لے کر علمائے کرام تک اسی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا معراج پر جانا اور ایک طویل مدت گزار کر واپس آنا،مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی غیر موجودگی میں زمین پر وقت کا نہ گزرنا نظریہ اضافیت سے ثابت ہوتا ہے۔مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ۔ اس کی ٹھوس دلیل چند سطور کے بعد پیش کروں گا۔تاہم پہلے نظریہ اضافیت سے کما حقہ تعارف حاصل
اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم براق پر سوار مکۃ المکرمہ تشریف لائے، اس وقت ابھی صبح نہیں ہوئی تھی، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس کا ذکر ام ہانی رضی اللہ عنہ سے کیا، احتیاطاً کہنے لگیں کہ یہ اس قدر عجیب واقعہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اس کا ذکر کسی سے نہ کریں۔ ورنہ کفار تمسخر اڑائیں گے، لیکن خانہ کعبہ میں نماز کے بعد وہی ہادی برحق، صادق و امین سردار انبیاء اٹھا اور رات کو پیش آنے والے اس واقعہ کا اعلان کر دیا۔ کفار یہ سن کر ہنسنے لگے، تمسخر اڑانے اور تنگ کرنے کا ایک اور بہانہ مل گیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پیچھے پیچھے آوازیں کستے اور کہتے وہ دیکھو (نعوذ باللہ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہک گئے ہیں، نعوذ باللہ کافروں کی ان باتوں کا کچھ اثر بعض کم عقل مسلمانوں پر بھی ہوا اور کسی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بہکایا اور بولا دیکھو تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے کیا کوئی بھی عقل سلیم رکھنے والا یہ مان سکتا ہے کہ وہ ایک رات میں اتنے لمبے سفر پر گئے اور واپس بھی آگئے۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا وہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس میں تو کوئی عجیب بات نہیں میں تو اس سے بھی عجیب بات مانتا ہوں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس آسمانوں سے ہر روز ایک فرشتہ آتا ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام اور وحی بھی لاتا ہے۔ معراج پاک کی تصدیق کرنے پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے آپ رضی اللہ عنہ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔
یہ واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ایک اجمالی تعارف تھا، لیکن یہ بحث صدیوں سے اب تک چل رہی ہے کہ معراج جسمانی تھا یا کہ ایک خواب تھا کیا یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا روحانی سفر تھا، پختہ ایمان والوں کےلیے اس میں کوئی الجھن نہیں رہی اور وہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے ہوئے واقعہ معراج کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا شعور کی حالت میں جسمانی سفر مانتے ہیں اور واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ مشکل ان حضرات کی ہے جو اس واقعہ کو اپنی ناقص عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاتے کہ وہ کس قدر عالم، سائنس دان یا عقلمند ہیں ۔
موجودہ صدی میں یوں تو بہت سے سائنسی نظریات پیش ہوئے مگر ان میں سب سے زیادہ معروف نظریہ آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کہلاتا ہے ۔اس نظریے کی آمد نے کائنات اور قوانین کائنات کے بارے میں ہمارے اندازِ نظر کو ایک نیا زاویہ بہم پہنچایا اور ہمارے ذہن کو وسعت دی۔
جب کبھی وقعہ معراج کا تذکرہ ہوتاہے تو ہمارے یہاں سائنسی حلقوں سے لے کر علمائے کرام تک اسی نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا معراج پر جانا اور ایک طویل مدت گزار کر واپس آنا،مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی غیر موجودگی میں زمین پر وقت کا نہ گزرنا نظریہ اضافیت سے ثابت ہوتا ہے۔مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا ۔ اس کی ٹھوس دلیل چند سطور کے بعد پیش کروں گا۔تاہم پہلے نظریہ اضافیت سے کما حقہ تعارف حاصل
کرلیا جائے تاکہ طبیعات سے تعلق رکھنے والوں کے ذہن میں نظریہ اضافیت کے نکات تازہ ہوجائیں اور ایک عام قاری کے لیے نظریہ اضافیت کو سمجھنا آسان ہوجائے۔
کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائنس انسانی شعور کے ارتقاء کا عروج ہے لیکن سائنس دان اور دانشور یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ انسان قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیتوں کا ابھی تک صرف پانچ فیصد حصہ استعمال کرسکا ہے ۔قدرت کی عطا کردہ بقیہ پچانوے فیصد صلاحیتیں انسان سے پوشیدہ ہیں ۔ وہ علم جو سو فیصد صلاحیتوں کا احاطہ کرتا ہو،اُسے پانچ فیصد ی محدود ذہن سے سمجھنا ناممکن امر ہے۔واقعہ معراج ایک ایسی ہی مسلمہ حقیقت ہے اور علم ہے جو سائنسی توجیہ کا محتاج نہیں ہے۔
یہ نظریہ دو حصوں پر مبنی ہے ۔ ایک حصہ " نظریہ اضافیت خصوصی"(Special Theory of Relativity) کہلاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ " نظریہ اضافیت عمومی " (General Theory of Relativity) کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ خصوصی نظریہ اضافیت کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال کا سہارا لیں گے۔
فرض کیجئے کہ ایک ایسا راکٹ بنا لیا گیا ہے جو روشنی کی رفتار (یعنی تین لاکھ کلومیٹر فی سکینڈ) سے ذرا کم رفتار پر سفر کرسکتا ہے ۔ا س راکٹ پر خلاء بازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے ۔راکٹ کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ زمین پر موجود تمام لوگ اس کے مقابلے میں بے حس وحرکت نظر آتے ہیں ۔ راکٹ کا عملہ مسلسل ایک سال تک اسی رفتار سے خلاء میں سفر کرنےکے بعد زمین کی طرف پلٹتا ہے اوراسی تیزی سے واپسی کا سفر بھی کرتا ہے مگر جب وہ زمین پر پہنچتے ہیں تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہاں تو ان کی غیر موجودگی میں ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔اپنے جن دوستوں کو وہ لانچنگ پیڈ پر خدا حافظ کہہ کر گئے تھے ،انہیں مرے ہوئے بھی پچاس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور جن بچوں کو وہ غاؤں غاؤں کرتا ہوا چھوڑ گئے تھے وہ سن رسیدہ بوڑھوں کی حیثیت سے ان کا استقبال کررہے ہیں ۔وہ شدید طور پر حیران ہوتے ہیں کہ انہوں نے تو سفر میں دو سال گزارے لیکن زمین پر اتنے برس کس طرح گزر گئے ۔اضافیت میں اسے " جڑواں تقاقضہ" (Twins Paradox) کہا جاتا ہے اور اس تقاقضے کا جواب خصوصی نظریہ اضافیت "وقت میں تاخیر" (Time Dilation) کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔ جب کسی چیز کی رفتار بے انتہاء بڑھ جائے اور روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنےلگے تو وقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑنا شروع ہوجاتا ہے ،یعنی یہ ممکن ہے کہ جب ہماری مثال کے خلائی مسافروں کے لئے ایک سکینڈ گزرا ہو تو زمینی باشندوں پر اسی دوران میں کئی گھنٹے گزر گئے ہوں۔
اسی مثال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہےکہ وقت صرف متحرک شے کے لئے آہستہ ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر کوئی ساکن فرد مذکورہ راکٹ میں سوار اپنے کسی دوست کا منتظر ہے تو ا س کے لیے انتظار کے لمحے طویل ہوتے چلے جائیں گے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں آکر ہم نظریہ اضافیت کے ذریعے واقعہ معراج کی توجیہ میں غلطی کرجاتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج کے سفر سے واپس آئے تو حجرہ مبارک کے دروازے پرلٹکی ہوئی کنڈی اسی طرح ہل رہی تھی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ کر گئے تھے۔گویا اتنے طویل عرصے میں زمین پر ایک لمحہ بھی نہیں گزرا ۔ اگر خصوصی نظریہ اضافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کی حقانیت جاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہو گا کہ اصلاً زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی غیر موجودگی میں کئی برس گزر جانے چاہئیں تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
نظریہ اضافیت ہی کا دوسرا حصہ یعنی "عمومی نظریہ اضافیت " ہمارے سوا ل کا تسلی بخش جواب دیتا ہے ۔عمومی نظریہ اضافیت میں آئن سٹائن نے وقت (زمان)اور خلاء (مکان)کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے زمان ومکان (Time and Space)کی مخلوط شکل میں پیش کیا ہے اور کائنات کی اسی انداز سے منظر کشی کی ہے ۔کائنات میں تین جہتیں مکانی (Spatial Dimensions) ہیں جنہیں ہم لمبائی ،چوڑائی اور اونچائی (یاموٹائی ) سے تعبیر کرتے ہیں ، جب کہ ایک جہت زمانی ہے جسے ہم وقت کہتے ہیں ۔ اس طرح عمومی اضافیت نے کائنات کو زمان ومکان کی ایک چادر (Sheet) کے طور پر پیش کیا ہے ۔
تمام کہکشائیں ، جھرمٹ ، ستارے ، سیارے ، سیارچے اور شہابئے وغیرہ کائنات کی اسی زمانی چادر پر منحصر ہیں اور قدرت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہیں ۔ انسان چونکہ اسی کائنات مظاہر کا باشندہ ہے لہٰذا اس کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں ۔آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے تحت کائنات کےکسی بھی حصے کو زمان ومکان کی اس چادر میں ایک نقطے کی حیثیت سے بیان کیا جاسکتا ہے ۔اس نظریے نے انسان کو احساس دلایا ہےکہ وہ کتنا بے وقعت اور کس قدر محدود ہے ۔
یہاں آکر ہم ایک نقطہ اٹھائیں گے اوروہ یہ کہ کیا کائنات صرف وہی ہے جو طبعی طو ر پر قابلِ مشاہدہ ہے ؟ایسی دیگر کائناتیں ممکن نہیں جو ایک دوسرے سے قریب ،متوازی اور جداگانہ انداز میں پہلو بہ پہلو وجود رکھتی ہوں ؟
کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائنس انسانی شعور کے ارتقاء کا عروج ہے لیکن سائنس دان اور دانشور یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ انسان قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیتوں کا ابھی تک صرف پانچ فیصد حصہ استعمال کرسکا ہے ۔قدرت کی عطا کردہ بقیہ پچانوے فیصد صلاحیتیں انسان سے پوشیدہ ہیں ۔ وہ علم جو سو فیصد صلاحیتوں کا احاطہ کرتا ہو،اُسے پانچ فیصد ی محدود ذہن سے سمجھنا ناممکن امر ہے۔واقعہ معراج ایک ایسی ہی مسلمہ حقیقت ہے اور علم ہے جو سائنسی توجیہ کا محتاج نہیں ہے۔
یہ نظریہ دو حصوں پر مبنی ہے ۔ ایک حصہ " نظریہ اضافیت خصوصی"(Special Theory of Relativity) کہلاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ " نظریہ اضافیت عمومی " (General Theory of Relativity) کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔ خصوصی نظریہ اضافیت کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال کا سہارا لیں گے۔
فرض کیجئے کہ ایک ایسا راکٹ بنا لیا گیا ہے جو روشنی کی رفتار (یعنی تین لاکھ کلومیٹر فی سکینڈ) سے ذرا کم رفتار پر سفر کرسکتا ہے ۔ا س راکٹ پر خلاء بازوں کی ایک ٹیم روانہ کی جاتی ہے ۔راکٹ کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ زمین پر موجود تمام لوگ اس کے مقابلے میں بے حس وحرکت نظر آتے ہیں ۔ راکٹ کا عملہ مسلسل ایک سال تک اسی رفتار سے خلاء میں سفر کرنےکے بعد زمین کی طرف پلٹتا ہے اوراسی تیزی سے واپسی کا سفر بھی کرتا ہے مگر جب وہ زمین پر پہنچتے ہیں تو انہیں علم ہوتا ہے کہ یہاں تو ان کی غیر موجودگی میں ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔اپنے جن دوستوں کو وہ لانچنگ پیڈ پر خدا حافظ کہہ کر گئے تھے ،انہیں مرے ہوئے بھی پچاس برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے اور جن بچوں کو وہ غاؤں غاؤں کرتا ہوا چھوڑ گئے تھے وہ سن رسیدہ بوڑھوں کی حیثیت سے ان کا استقبال کررہے ہیں ۔وہ شدید طور پر حیران ہوتے ہیں کہ انہوں نے تو سفر میں دو سال گزارے لیکن زمین پر اتنے برس کس طرح گزر گئے ۔اضافیت میں اسے " جڑواں تقاقضہ" (Twins Paradox) کہا جاتا ہے اور اس تقاقضے کا جواب خصوصی نظریہ اضافیت "وقت میں تاخیر" (Time Dilation) کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔ جب کسی چیز کی رفتار بے انتہاء بڑھ جائے اور روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنےلگے تو وقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑنا شروع ہوجاتا ہے ،یعنی یہ ممکن ہے کہ جب ہماری مثال کے خلائی مسافروں کے لئے ایک سکینڈ گزرا ہو تو زمینی باشندوں پر اسی دوران میں کئی گھنٹے گزر گئے ہوں۔
اسی مثال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہےکہ وقت صرف متحرک شے کے لئے آہستہ ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر کوئی ساکن فرد مذکورہ راکٹ میں سوار اپنے کسی دوست کا منتظر ہے تو ا س کے لیے انتظار کے لمحے طویل ہوتے چلے جائیں گے ۔یہی وہ مقام ہے جہاں آکر ہم نظریہ اضافیت کے ذریعے واقعہ معراج کی توجیہ میں غلطی کرجاتے ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج کے سفر سے واپس آئے تو حجرہ مبارک کے دروازے پرلٹکی ہوئی کنڈی اسی طرح ہل رہی تھی جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم چھوڑ کر گئے تھے۔گویا اتنے طویل عرصے میں زمین پر ایک لمحہ بھی نہیں گزرا ۔ اگر خصوصی نظریہ اضافیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس واقعے کی حقانیت جاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہو گا کہ اصلاً زمین پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی غیر موجودگی میں کئی برس گزر جانے چاہئیں تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
نظریہ اضافیت ہی کا دوسرا حصہ یعنی "عمومی نظریہ اضافیت " ہمارے سوا ل کا تسلی بخش جواب دیتا ہے ۔عمومی نظریہ اضافیت میں آئن سٹائن نے وقت (زمان)اور خلاء (مکان)کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے زمان ومکان (Time and Space)کی مخلوط شکل میں پیش کیا ہے اور کائنات کی اسی انداز سے منظر کشی کی ہے ۔کائنات میں تین جہتیں مکانی (Spatial Dimensions) ہیں جنہیں ہم لمبائی ،چوڑائی اور اونچائی (یاموٹائی ) سے تعبیر کرتے ہیں ، جب کہ ایک جہت زمانی ہے جسے ہم وقت کہتے ہیں ۔ اس طرح عمومی اضافیت نے کائنات کو زمان ومکان کی ایک چادر (Sheet) کے طور پر پیش کیا ہے ۔
تمام کہکشائیں ، جھرمٹ ، ستارے ، سیارے ، سیارچے اور شہابئے وغیرہ کائنات کی اسی زمانی چادر پر منحصر ہیں اور قدرت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہیں ۔ انسان چونکہ اسی کائنات مظاہر کا باشندہ ہے لہٰذا اس کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں ۔آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے تحت کائنات کےکسی بھی حصے کو زمان ومکان کی اس چادر میں ایک نقطے کی حیثیت سے بیان کیا جاسکتا ہے ۔اس نظریے نے انسان کو احساس دلایا ہےکہ وہ کتنا بے وقعت اور کس قدر محدود ہے ۔
یہاں آکر ہم ایک نقطہ اٹھائیں گے اوروہ یہ کہ کیا کائنات صرف وہی ہے جو طبعی طو ر پر قابلِ مشاہدہ ہے ؟ایسی دیگر کائناتیں ممکن نہیں جو ایک دوسرے سے قریب ،متوازی اور جداگانہ انداز میں پہلو بہ پہلو وجود رکھتی ہوں ؟
اس کاجواب ہے " ہاں"
لیکن اگر ایسا ممکن ہے تو پھر ہم ایسی دیگر کائناتوں کا مشاہدہ کیوں نہیں کر پاتے ؟اس بات کی وضاحت ذرا سی پیچیدہ اور توجہ طلب ہے ۔اس لیے یہاں ہم ایک اور مثال کا سہارا لیں گے جس سے ہمیں اپنی محدود یت کا صحیح اندازہ ہو گا۔
کارل ساگان (Carl Sagan) جو ایک مشہورامریکی ماہر فلکیات ہے ، اپنی کتاب کائنات (Cosmos) میں ایک فرضی مخلوق کا تصور پیش کرتا ہے جو صرف دو جہتی (Two Dimensional) ہے۔ وہ میز کی سطح پر پڑنے والے سائے کی مانندہیں ۔ انہیں صرف دو مکانی جہتیں ہی معلوم ہیں ۔ جن میں وہ خود وجود رکھتے ہیں یعنی لمبائی اور چوڑائی ۔چونکہ وہ ان ہی دو جہتوں میں محدود ہیں لہٰذا وہ نہ تو موٹائی یا اونچائی کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے یہاں موٹائی یا اونچائی کا کوئی تصور ہے ۔وہ صرف ایک سطح (Surface) پرہی رہتے ہیں ۔ایسی ہی کسی مخلوق سے انسان جیسی سہ جہتی (Three Dimensional) مخلوق کی ملاقات ہو جاتی ہے ۔راہ ورسم بڑھانے کے لئے سہ جہتی مخلوق ،اس دو جہتی مخلوق کو آواز دے کر پکارتی ہے ۔اس پر دوجہتی مخلوق ڈر جاتی اور سمجھتی ہے کہ یہ آواز اس کے اپنے اندر سے آئی ہے۔
سہ جہتی مخلوق ،دوجہتی سطح میں داخل ہوجاتی ہے تاکہ اپنا دیدار کرا سکے مگر دو جہتی مخلوق کی تمام تر حسیات صرف دو جہتوں تک ہی محدود ہیں ۔اس لیے وہ سہ جہتی مخلوق کے جسم کا وہی حصہ دیکھ پاتی ہے جواس سطح پر ہے ۔وہ مزید خوف زدہ ہو جاتی ہے ۔اس کا خوف دور کرنے کے لیے سہ جہتی مخلوق ،دو جہتی مخلوق کو اونچائی کی سمت اٹھا لیتی ہے اور وہ اپنی دینا والوں کی نظر میں "غائب " ہوجاتا ہے جبکہ وہ اپنے اصل مقام سے ذرا سا اوپر جاتا ہے ۔سہ جہتی مخلوق اسے اونچائی اور موٹائی والی چیزیں دکھاتی ہے اور بتاتی ہےکہ یہ ایک اور جہت ہے جس کا مشاہدہ وہ اپنی دو جہتی دنیا میں رہتے ہوئے نہیں کرسکتا تھا۔آخرکار دو جہتی مخلوق کو اس کی دنیا میں چھوڑ کر سہ جہتی مخلوق رخصت ہو جاتی ہے ۔اس انوکھے تجربے کے بارے میں جب یہ دوجہتی مخلوق اپنے دوستوں کو بتاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے ایک نئی جہت کا سفر کیا ہے جسے اونچائی کہتے ہیں ،مگر اپنی دنیا کی محدودیت کے باعث وہ اپنے دوستوں کو یہ سمجھانے سے قاصر ہے کہ اونچائی والی جہت کس طرف ہے ۔اس کے دوست اس سے کہتے ہیں کہ آرام کرو اور ذہن پر دباؤ نہ ڈالو کیونکہ ان کے خیال میں اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔
ہم انسانوں کی کیفیت بھی دوجہتی سطح پر محدود اس مخلوق کی مانند ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری طبعی قفس (Physical Prison) چہار جہتی ہے اور اسے ہم وسیع و عریض کائنات کے طو پر جانتے ہیں ۔ہماری طرح کائنات میں روبہ عمل طبعی قوانین بھی ان ہی چہار جہتوں پر چلنے کے پابند ہیں اور ان سے باہر نہیں جا سکتے ۔یہی وجہ ہے کہ عالم بالا کی کائنات کی تفہیم ہمارے لیے ناممکن ہے او ر اس جہاں دیگر کے مظاہر ہمارے مشاہدات سےبالاتر ہیں ۔
اب ہم واپس آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف ۔عالم دنیا یعنی قابل مشاہدہ کائنات اور عالم بالا یعنی ہمارے مشاہدے و ادراک سے ماوراء کائنات دو الگ زمانی و مکانی چادریں ہیں ۔یہ ایک دوسرے کے قریب توہو سکتی ہیں لیکن بے انتہاء قربت کے باوجود ایک کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا دوسری کائنات میں ہونے والے عمل پر نہ اثر پڑے گا اور نہ اسے وہاں محسوس کیا جائے گا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان ومکان کی کائناتی چادر کے ایک نقطے پر سے دوسری زمانی ومکانی چادر پر پہنچے اور معراج کے مشاہدات کے بعد (خواہ اس کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ رہی ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان ومکان کی کائناتی چادر کے بالکل اسی نقطے پر واپس پہنچ گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج سے قبل تھے۔ او ریہ وہی نقطہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دروازے کی کنڈی اسی طرح ہلتی ہوئی ملی جیسی کہ وہ چھوڑ کر گئے تھے۔گویا معراج کے واقعے میں وقت کی تاخیر کی بجائے زمان ومکان میں سفر والا نظریہ زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔
فقیر کی ناقص رائے میں واقعہ معراج کی دلیل کے طور پر " روشنی کی رفتار سے سفر"کے بجائے مختلف زمان ومکان کے مابین سفر والا تصور زیادہ صحیح ،اور سائنسی ابہام سے پاک ہے جس کی مدد سے خصوصی نظریہ اضافیت کے تحت پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جاسکتا ہے ۔
واقعہ معراج بعض لوگوں کی سمجھ میں اس لیےنہیں آتا کہ وہ کہتے ہیں کہ : ایک انسان کس طرح کھربوں میلوں کا فاصلہ یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک او رپھر زمین سے آسمانوں تک ، اور پھرسدرۃ المنتہیٰ تک چشم میں زدن میں طے کرکے واپس آجائے اور بستر بھی گرم ہو اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی ہو اور وضو کا پانی بھی چل رہا ہو ۔ ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی
لیکن اگر ایسا ممکن ہے تو پھر ہم ایسی دیگر کائناتوں کا مشاہدہ کیوں نہیں کر پاتے ؟اس بات کی وضاحت ذرا سی پیچیدہ اور توجہ طلب ہے ۔اس لیے یہاں ہم ایک اور مثال کا سہارا لیں گے جس سے ہمیں اپنی محدود یت کا صحیح اندازہ ہو گا۔
کارل ساگان (Carl Sagan) جو ایک مشہورامریکی ماہر فلکیات ہے ، اپنی کتاب کائنات (Cosmos) میں ایک فرضی مخلوق کا تصور پیش کرتا ہے جو صرف دو جہتی (Two Dimensional) ہے۔ وہ میز کی سطح پر پڑنے والے سائے کی مانندہیں ۔ انہیں صرف دو مکانی جہتیں ہی معلوم ہیں ۔ جن میں وہ خود وجود رکھتے ہیں یعنی لمبائی اور چوڑائی ۔چونکہ وہ ان ہی دو جہتوں میں محدود ہیں لہٰذا وہ نہ تو موٹائی یا اونچائی کا ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے یہاں موٹائی یا اونچائی کا کوئی تصور ہے ۔وہ صرف ایک سطح (Surface) پرہی رہتے ہیں ۔ایسی ہی کسی مخلوق سے انسان جیسی سہ جہتی (Three Dimensional) مخلوق کی ملاقات ہو جاتی ہے ۔راہ ورسم بڑھانے کے لئے سہ جہتی مخلوق ،اس دو جہتی مخلوق کو آواز دے کر پکارتی ہے ۔اس پر دوجہتی مخلوق ڈر جاتی اور سمجھتی ہے کہ یہ آواز اس کے اپنے اندر سے آئی ہے۔
سہ جہتی مخلوق ،دوجہتی سطح میں داخل ہوجاتی ہے تاکہ اپنا دیدار کرا سکے مگر دو جہتی مخلوق کی تمام تر حسیات صرف دو جہتوں تک ہی محدود ہیں ۔اس لیے وہ سہ جہتی مخلوق کے جسم کا وہی حصہ دیکھ پاتی ہے جواس سطح پر ہے ۔وہ مزید خوف زدہ ہو جاتی ہے ۔اس کا خوف دور کرنے کے لیے سہ جہتی مخلوق ،دو جہتی مخلوق کو اونچائی کی سمت اٹھا لیتی ہے اور وہ اپنی دینا والوں کی نظر میں "غائب " ہوجاتا ہے جبکہ وہ اپنے اصل مقام سے ذرا سا اوپر جاتا ہے ۔سہ جہتی مخلوق اسے اونچائی اور موٹائی والی چیزیں دکھاتی ہے اور بتاتی ہےکہ یہ ایک اور جہت ہے جس کا مشاہدہ وہ اپنی دو جہتی دنیا میں رہتے ہوئے نہیں کرسکتا تھا۔آخرکار دو جہتی مخلوق کو اس کی دنیا میں چھوڑ کر سہ جہتی مخلوق رخصت ہو جاتی ہے ۔اس انوکھے تجربے کے بارے میں جب یہ دوجہتی مخلوق اپنے دوستوں کو بتاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے ایک نئی جہت کا سفر کیا ہے جسے اونچائی کہتے ہیں ،مگر اپنی دنیا کی محدودیت کے باعث وہ اپنے دوستوں کو یہ سمجھانے سے قاصر ہے کہ اونچائی والی جہت کس طرف ہے ۔اس کے دوست اس سے کہتے ہیں کہ آرام کرو اور ذہن پر دباؤ نہ ڈالو کیونکہ ان کے خیال میں اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔
ہم انسانوں کی کیفیت بھی دوجہتی سطح پر محدود اس مخلوق کی مانند ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری طبعی قفس (Physical Prison) چہار جہتی ہے اور اسے ہم وسیع و عریض کائنات کے طو پر جانتے ہیں ۔ہماری طرح کائنات میں روبہ عمل طبعی قوانین بھی ان ہی چہار جہتوں پر چلنے کے پابند ہیں اور ان سے باہر نہیں جا سکتے ۔یہی وجہ ہے کہ عالم بالا کی کائنات کی تفہیم ہمارے لیے ناممکن ہے او ر اس جہاں دیگر کے مظاہر ہمارے مشاہدات سےبالاتر ہیں ۔
اب ہم واپس آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف ۔عالم دنیا یعنی قابل مشاہدہ کائنات اور عالم بالا یعنی ہمارے مشاہدے و ادراک سے ماوراء کائنات دو الگ زمانی و مکانی چادریں ہیں ۔یہ ایک دوسرے کے قریب توہو سکتی ہیں لیکن بے انتہاء قربت کے باوجود ایک کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا دوسری کائنات میں ہونے والے عمل پر نہ اثر پڑے گا اور نہ اسے وہاں محسوس کیا جائے گا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان ومکان کی کائناتی چادر کے ایک نقطے پر سے دوسری زمانی ومکانی چادر پر پہنچے اور معراج کے مشاہدات کے بعد (خواہ اس کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ رہی ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان ومکان کی کائناتی چادر کے بالکل اسی نقطے پر واپس پہنچ گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج سے قبل تھے۔ او ریہ وہی نقطہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دروازے کی کنڈی اسی طرح ہلتی ہوئی ملی جیسی کہ وہ چھوڑ کر گئے تھے۔گویا معراج کے واقعے میں وقت کی تاخیر کی بجائے زمان ومکان میں سفر والا نظریہ زیادہ صحیح محسوس ہوتا ہے۔
فقیر کی ناقص رائے میں واقعہ معراج کی دلیل کے طور پر " روشنی کی رفتار سے سفر"کے بجائے مختلف زمان ومکان کے مابین سفر والا تصور زیادہ صحیح ،اور سائنسی ابہام سے پاک ہے جس کی مدد سے خصوصی نظریہ اضافیت کے تحت پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جاسکتا ہے ۔
واقعہ معراج بعض لوگوں کی سمجھ میں اس لیےنہیں آتا کہ وہ کہتے ہیں کہ : ایک انسان کس طرح کھربوں میلوں کا فاصلہ یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک او رپھر زمین سے آسمانوں تک ، اور پھرسدرۃ المنتہیٰ تک چشم میں زدن میں طے کرکے واپس آجائے اور بستر بھی گرم ہو اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی ہو اور وضو کا پانی بھی چل رہا ہو ۔ ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لیے کم از کم چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی