🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نمبر:3678‘ ابواب تفسیر القرآن)

امام طبرانی کی معجم اوسط میں ہے: عن الشعبي أن عبد الله بن عباس کان يقول: إن محمدا صلي الله عليه وسلم رأي ربه مرتين۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دو مرتبہ دیدار کیا ۔ (معجم اوسط طبرانی ، باب المیم من اسمہ:محمد ، حدیث نمبر:5922)(مواہب اللدنیہ۔ج8۔صفحہ 248،چشتی)

لقي ابن عباس کعبا بعرفة فسأ له عن شئ فکبرحتي جاوبته الجبال فقال ابن عباس انا بنو هاشم نزعم او نقول أن محمدا قد رأي ربه مرتين ط- فقال کعب أن الله قسم رؤيته وکلامه بين موسي و محمد عليهما السلام فرأي محمد ربه مرتين وکلم موسي مرتين ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت کعب سے مقام عرفہ میں ملاقات کی تو انہوں نے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے اتنا بلند نعرہ لگایا کہ پہاڑ گونجنے لگا اور فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی رؤیت اور کلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا موسی علیہ السلام کے درمیان رکھ دیا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کا کلام سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے رب کا دیدار کیا ۔ (تفسیر ابن کثیر‘ سورۃ النجم 5)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا "میں نے اپنے رب کا دیدار کیا۔"
عن معاذ عن النبي صلي الله عليه وسلم قال "رأيت ربي۔"(کتاب الشفاء ،ج1،196/197)
حضرت امام عبدالرزاق رحمة اللہ علیہ جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاذ ہیں، روایت فرماتے ہیں : کان الحسن يحلف بالله ثلاثة لقد رأي محمد ربه ۔ ترجمہ : حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ اس بات پر تین مرتبہ قسم کھاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار کیا ۔ (تفسیر عبد الرزاق،حدیث نمبر:2940)(المواہب اللدنیہ۔ج8،ص،266)

الروض الانف میں ہے : عن ابن حنبل انه سئل هل راي محمد ربه ؟ فقال : راه راه راه حتي انقطع صوته ۔
ترجمہ : حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالی کا دیدار کیا ؟ آپ نے فرمایا : دیدار کیا ، دیدار کیا ، دیدار کیا ، اتنی دیر تک فرمایا کہ سانس ٹوٹ گیا ۔ (الروض الانف‘ رؤیۃ النبی ربہ) ۔

(مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296382269264486/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ پنجم
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296678502568196/
محترم قارئینِ کرام : اعتراض کیا جاتا ہے کہ : حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث ہے کہ : جو کہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے ۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ اگر صحیح ہے تو اس کا جواب کیا ہو گا ؟

جواب : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے معراج کی رات بیداری کی حالت میں اللہ تبارک وتعالی کا دیدار کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اللہ تبارک وتعالی کا دیدار کرنا مرفوع احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود فرمایا : رأيت ربي تبارك وتعالى ۔
ترجمہ : میں نے اپنے رب تبارک وتعالی کو دیکھا ہے ۔ (مسند امام احمد مسند ابن عباس جلد 4 صفحہ 351 بیروت)

یہی جمہور صحابہ و ائمہ سلف و خلف کا موقف ہے ۔ جبکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ والی روایت مرفوع نہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا قول ہے جو کہ آپ رضی اللہ عنہا نے قرآن پاک کی آیات کے ظاہر سے اخذ کیا ہے ۔ لہذا مرفوع حدیث (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اپنے فرمان ) کے مقابل ،حضرت عائشہ کے اس قول سے دلیل پکڑنا درست نہیں ۔

نیز دیگر کئی صحابہ کرام کا موقف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کے خلاف ہے ۔ اور جب ایک صحابی کوئی قول کرے اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم اس کی مخالفت کریں تو وہ قول حجت نہیں رہتا ۔ لہذا جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول حجت نہ رہا تو اب مرفوع حدیث ہی کی ترجیح ثابت ہوئی ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے فرمان کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو کئی معراجیں ہوئیں ، جسمانی اورروحانی ۔ جسمانی معراج ، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تبارک وتعالی کا دیدار کیا ، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بہت چھوٹی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوئیں تھیں ۔ لہذا یہ ان روحانی معراجوں کی بات کر رہی ہی،ں جو ان کے زمانے میں ہوئیں ۔

فتح الباری میں ہے : فروى الخلال في كتاب السنة عن المروزي قلت لأحمد إنهم يقولون إن عائشة قالت من زعم أن محمدا رأى ربه فقد أعظم على الله الفرية فبأي شيء يدفع قولها قال بقول النبي صلى الله عليه وسلم رأيت ربي قول النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم أكبر من قولها ۔
ترجمہ : خلال نے کتاب السنہ میں مروزی سے نقل کیا (وہ کہتے ہیں کہ ) میں نے امام احمد سے سوال کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جس نے گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے اللہ پر بڑا بہتان باندھا ۔ حضرت عائشہ کے اس قول کا جواب کس طرح ہو گا ؟ تو حضرت امام احمد نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس قول سے کہ میں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے ترجیح رکھتا ہے ۔ (فتح الباری، ج 8 صفحہ 608، بیروت،چشتی)

اسی میں ہے : قال النووي تبعا لغيره لم تنف عائشة وقوع الرؤية بحديث مرفوع ولو كان معها لذكرته وإنما اعتمدت الاستنباط على ما ذكرته من ظاهر الآية وقد خالفها غيرها من الصحابة والصحابي إذا قال قولا وخالفه غيره منهم لم يكن ذلك القول حجة اتفاقا ۔
ترجمہ : امام نووی نے دیگر کی اتباع کرتے ہوئے فرمایا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مرفوع حدیث سے رویت (دیدار) واقع ہونے کی نفی نہیں کی ۔ اگر ان کے پاس مرفوع حدیث ہوتی تو آپ اسے ضرور ذکر فرماتیں ۔ حضرت عائشہ نے جو آیات ذکر کی ہیں ان کے ظاہرسے استدلال کیا ہے ۔ جبکہ دیگر صحابہ کرام نے آپ رضی اللہ عنہم کی مخالفت کی ۔ اور صحابی جب کوئی بات کرے اور دیگر صحابہ اس کی مخالفت کر دیں تو وہ قول بالاتفاق حجت نہیں رہتا ۔ (فتح الباری جلد 8 صفحہ 607 بیروت)

علامہ شہاب الدین خفاجی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں : الاصح الراجح انہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رای ربہ بعین راسہ حین اسری بہ کما ذھب الیہ اکثر الصحابة ۔
ترجمہ : مذہب اصح وراجح یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شبِ معراج اپنے رب کو جاگتی آنکھ سے دیکھا ، جیسا کہ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی مذہب ہے ۔ (نسیم الریاض ،فصل واما رؤیة لربہ جلد 2 صفحہ 303 مرکز اھلسنت برکات رضا گجرات ھند،چشتی)

فتاوی رضویہ میں امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا شبِ معراج تک خدمت اقدس میں حاضر بھی نہ ہوئی تھیں بہت صغیر السن بچی تھیں ۔ وہ جو فرماتی ہیں ، ان روحانی معراجوں کی نسبت فرماتی ہیں جو اُن کے زمانے میں ہوئیں ۔ معراجِ جسمانی ان کی حاضری سے کئی سال پیشتر ہو چکا تھا ۔ (فتاوی رضویہ جلد 29 صفحہ 632 رضا فاونڈیشن لاہور)

حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا یا نہیں ؟
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اللہ جل مجدہ الکریم کا دیدار حاصل ہوا یا نہیں ۔ اس مسئلے میں صحابہ کرام کے زمانے ہی سے اختلاف رہا ہے چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ اس بات کے قائل ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیدار نہیں ہوا ۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس ، دیگر صحابہ ، تابعین اور ان کے ہمنواٶں کی یہ رائے ہے کہ اللہ تعالی نے شب معراج اپنے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دولت دیدار سے شرف یاب فرمایا ۔

اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اس دنیا میں بیداری کی حالت میں اللہ تعالی کا دیدار ممکن ہے محال نہیں ۔ اگر محال ہوتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کا سوال نہ کرتے ، کیونکہ انبیائے کرام کو اس کا علم ہوتا ہے کہ فلاں چیز ممکن ہے اور فلاں چیز محال ۔ اور محال چیز کے بارے میں سوال کرنا درست نہیں ہوتا ۔
مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا سوال کیا اس لیے سب کا ماننا ہے کہ اس دنیا میں بیداری کی حالت میں اللہ تعالی کا دیدار ممکن ہے ۔

جو حضرات شب معراج حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کےلیے دیدارِ الہی نہیں مانتے ان کے دلائل مند رجہ ذیل ہیں ۔

دلیل نمبر 1 : عن ابن مسعود فی قولہ تعالی ’’ وکان قاب قوسین او ادنی ‘‘ و فی قولہ ’ما کذب الفواد مارای‘ وفی قولہ ’لقد رای من اٰیات ربہ الکبری‘ رای جبرئیل علیہ السلام لہ ستمائۃ جناح ۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر،باب فکان قاب قوسین او ادنیٰ حیث الوتر من القوس ،حدیث :۴۸۵۶)(ترمذی ،حدیث :۳۲۷۷)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان آیات کے بارے میں فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے جبرئیل کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔

دلیل نمبر 2 : ما کذب الفواد مارای : قال ابن مسعود رای رسول اللہ جبرئیل فی حلۃ من رفرف قد ملاء مابین السماء والارض۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود نے ’’ ماکذب الفواد مارای‘‘ کی تشریح یوں فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جبرئیل کو ایک ریشمی حلّہ (پوشاک) میں دیکھا کہ آپ نے آسمان و زمین کے مابین خلا کو پُر کر دیا ۔ (جامع ترمذی،کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم، باب ومن سورۃ النجم ، حدیث: ۳۲۸۳ )

دلیل نمبر 3 : حضرت مسروق سے مروی ہے، انہوں نے کہا میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی خدمت میں حاضر تھا ۔ تو آپ نے فرمایا: ائے مسروق! تین چیزیں ہیں جس نے ان میں سے کسی کے ساتھ تکلم کیا اس نے اللہ تعالی پر بہت بڑا بہتان باندھا۔ میں نے پو چھا وہ کیاہیں؟ آپ نے کہا : جو شخص یہ خیال کرے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالی پر بڑا بہتان باندھا ۔ میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا ، اٹھ کر بیٹھ گیا اور عرض کیا : اے ام المومنین! میری طرف دیکھئے جلدی نہ کیجئے ۔ کیا اللہ تعالی نے خود نہیں فرمایا : ولقد راہ بالافق المبین۔ کہ آپ نے اُسے اُفق مبین میں دیکھا اور دوبارہ دیکھا ۔آپ نے جواب دیا : میں پہلی ہوں اس امت میں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : وہ جبرئیل علیہ السلام ہیں ، میں نے ان کو ان کی اصلی شکل میں صرف دو مرتبہ دیکھا ۔ اے مسروق ! کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ ارشاد نہیں سنا : لاتدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر۔ کہ آنکھیں اس کو نہیں پا سکتی ، وہ آنکھوں کو پا لیتا ہے ۔وہ لطیف و خبیر ہے۔ اور کیا تو نے اللہ تعالی کا ارشاد نہیں سنا :وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا۔ کسی انسان کو یہ طاقت نہیں کہ اللہ تعالی اس سے کلام کرے مگر بذریعہ وحی یا پس پردہ یا کوئی فر شتہ بھیجے ۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان ،باب معنی قول اللہ عزوجل ’ ولقد رأہ نزلۃ اخریٰ ‘ وھل رأی النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ربّہ لیلۃ الاسراء ، حدیث:۱۷۷)
ان تمام روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ دونوں اس بات کے قائل تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار نہیں کیا ۔ اور دلیل میں دو آیتیں بھی پیش فرمائیں ۔

جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیدارِ الہی نصیب ہوا ، ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں :

دلیل نمبر 1 : عن ابن عباس ، ماکذب الفواد مارای و لقد راہ نزلۃ اخری‘ قال راہ بفوادہ مرتین ۔ (صحیح مسلم،کتاب الایمان ،باب معنی قول اللہ عزوجل ’ ولقد رأہ نزلۃ اخریٰ ‘ وھل رأی النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ربّہ لیلۃ الاسراء ، حدیث:۱۷۶)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار اپنے دل کی آنکھوں سے دو مرتبہ کیا ۔
دلیل نمبر 2 : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار کیا ۔عکرمہ (آپ کے شاگرد) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ : کیا اللہ تعالی کا یہ ارشاد نہیں ہے’ لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار ‘ کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ۔ آپ نے فرمایا : افسوس تم سمجھے نہیں ۔ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو اس کا نور ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ۔ (جامع ترمذی،کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم،باب ومن سورۃ النجم ، حدیث:۳۲۷۹،چشتی)

دلیل نمبر 3 : حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : نور ُ ُ اِنّی اُراہٗ ۔ وہ سراپا نور ہے بے شک میں نے اسے دیکھا ۔ (صحیح مسلم،کتاب الایمان ،باب فی قولہ علیہ السلام ’ نور انی اراہ ،و فی قولہ :رأیت نوراََ ، حدیث: ۱۷۸ )

دلیل نمبر 4 : حضرت عبد اللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے میں ضرور پوچھتا ۔ انہوں نے کہا تم کس چیز کے بارے میں پوچھتے ؟ کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھتا ، کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اس کے بارے میں پوچھ لیا ہے ۔ قال رأیتُ نوراََ ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : میں نے دیکھا وہ نور ہے ۔ (صحیح مسلم،کتاب الایمان ،باب فی قولہ علیہ السلام ’ نور انی اراہ ،و فی قولہ :رأیت نوراََ ، حدیث: ۱۷۸ )

دلیل نمبر 5 : شعبی کہتے ہیں کہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت کعب سے ملاقات کی اور ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا ، تو کعب نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا یہاں تک پہاڑ گونج اٹھے ، پھر حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں بنو ہاشم ہوں (یعنی آپ میرا سوال نہ ٹالیں) تو حضرت کعب نے فرمایا : اللہ تعالی نے اپنے دیدار اور اپنے کلام کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا ۔ حضرت موسی علیہ السلام نے دو مرتبہ کلام کیا ، اور حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالی کو دو بار دیکھا ۔ (جامع ترمذی کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم،باب ومن سورۃ النجم ، حدیث:۳۲۷۸،چشتی)

دلیل نمبر 6 : حضرت عکرمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ارشاد فرمایا : رایت ربی تبارک وتعالی ، کہ میں نے اپنے رب تبارک و تعالی کو دیکھا ۔ (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۱ صفحہ ۲۹۰ تحت مسند عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، حدیث:۲۶۲۳،۲۶۷۸)

دلیل نمبر 7 : مروزی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ام المومنین یہ کہا کرتی تھیں کہ جس نے یہ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کو دیکھا تو اس نے اللہ پر بڑا بہتان باندھا ،تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کا کیا جواب دیا جائے؟ آپ نے فرمایا حضور کے اس قول سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے خود فرمایا : رأیتُ ربی تبارک وتعالی ۔ میں نے اپنے رب تبارک وتعالی کو دیکھا ۔ (مسند احمد ،حدیث :۲۶۷۸)
اس سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کا جواب دیں گے ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا ارشاد مبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے بہت بڑا ہے ۔ (فتح الباری جلد ۸ صفحہ ۴۹۲)

یہ مختلف دلائل ہیں جو قائلین رویت پیش کرتے ہیں ۔ ان میں فحول صحابہ مثلا ابن عباس، کعب احبار، انس ، ابو ذر رضی اللہ عنھم کے علاوہ کبار تابعین عروہ بن زبیر ،حسن بصری ، عکرمہ وغیرہ ہیں ۔

ہر صاحبِ عقل انسان دونوں طرف کے دلائل پڑھ کر بآسانی فیصلہ کر سکتا ہے ۔ ہم مزید رہنمائی کےلیے علامہ نووی شافعی کا فیصلہ نقل کرتے ہیں ۔ امام نووی اس مسئلہ پر دونوں طرف کے دلائل اور اقوال بیان کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں : حاصل بحث یہ ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک راجح یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شب معراج اللہ تعالی کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ۔ مزید لکھتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن مسعود اور ام المومنین رضی اللہ عنہما نے اپنے موقف کی تائید میں کو ئی مرفوع حدیث نہیں پیش کی محض اپنے قیاس اور اجتہاد سے کام لیا ہے ۔ اس پر علامہ ابن حجر نے کہا : صحیح مسلم جس کی شرح علامہ نووی کر رہے ہیں اسی کے اگلے صفحے پر حدیث مرفوع موجود ہے کہ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ولقد راہ بالافق المبین ، اور ولقد راہ نزلۃ اخری ، کے بارے میں حضور صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : وہ جبرئیل امین تھے ۔ جب مسلم میں یہ حدیث موجود ہے تو حیرت ہے کہ شارح مسلم نے کیسے اس کا انکار کیا ۔
علامہ ابن حجر کے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہ نے ۔ ولقد راہ بالافق المبین ۔ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے پوچھا ۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : وہ جبرئیل ہیں اور یہ بلاشبہ درست ہے ، کیونکہ یہ آیت سورہ تکویر کی ہے اور وہاں حضرت جبرئیل ہی کا تذکرہ ہے ۔ ارشاد ربانی ہے : وانہ لقول رسول کریم ذی قوۃ عند ذی العرش المکین مطاع ثم امین و ما صاحبکم بمجنون و لقد راہ بالافق المبین ۔ یہ سارا ذکر جبرئیل امین کا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے جب ان کو اصلی شکل میں دیکھنے کی خواہش کی تو جبرئیل علیہ السلام آسمان کے افق پر نمودار ہوئے ۔ وہ افق جہاں جبرئیل نمودار ہوئے اسے ’افق مبین ‘ کہا گیا لیکن سورہ نجم میں جس افق کا ذکر ہو رہا ہے : و ھو بالافق الاعلی ، ہے ۔ آسمان اور زمین کے افق کو افق مبین تو کہہ سکتے ہیں لیکن افق اعلی ، وہ ہوگا جو تمام آفاق سے بلند تر ہو یعنی فلک الافلاک کا کنارہ ۔ اس لیے امام نووی کا قول ہی درست ہے کہ شب معراج دیدار کی نفی کے بارے میں کوئی حدیث مرفوع موجود نہیں ہے ۔ جبکہ اثبات کی مرفوع اور صحیح احادیث موجود ہیں ۔ تو اب ہر کوئی بآسانی فیصلہ کر سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے شب معراج اپنے رب کو دیکھا یا نہیں ؟

امام احمد بن حنبل سے جب کوئی پوچھتا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کو دیکھا یا نہیں ؟ تو آپ کہتے : ہاں دیکھا ، ہاں دیکھا ۔ یہ جملہ آپ بار بار دہراتے یہاں تک کہ آپ کی سانس ٹوت جاتی ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات جلد چہارم میں اس کی تحقیق کرتے ہوئے اسی قول کو پسند فرمایا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالی کے دیدار کا شرف حاصل کیا ۔

(مزید حصّہ ششم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دع و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296678502568196/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ ششم
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296842722551774/
محترم قارئینِ کرام : مسلمہ امور سے انحراف کر کے اپنی ذات کو نمایاں کرنے کی روش نے جہاں فکری مغالطوں کو جنم دیا ہے وہاں بعض خود ساختہ دانشوروں نے اپنے قاری کے ذہن کو غبار تشکیک میں لپیٹ کر اعتقادی بے راہروی کی بنیاد بھی رکھی ہے ۔ برصغیر میں برطانوی استعمار نے ہماری اسی مجلسی کمزوری کو دیکھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو بھی مباحثوں اور مناظروں کا موضوع بنا کر جس گھناؤنی سازش کا ارتکاب کیا تھا ہم اس کے منحوس اثرات سے آج تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے بلکہ یہ غلط روش حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناآسودہ امت کو مختلف خانوں میں بانٹ کر ان کی اجتماعی قوت کو مفلوج کرنے کا باعث بنی ہے ۔ اَفراط و تفریط کے اِسی موسم ناروا میں فرقہ واریت کا تھوہڑ خوب پنپا ہے ۔

آیہ معراج کی تشریح کرتے ہوئے کچھ علماء تفسیر رؤیت کے بارے میں سخت مغالطے کا شکار ہوئے ہیں ۔ وہ آیہ کریمہ میں دو کمانوں یا اس سے بھی کم باہمی قرب کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جبرئیل علیہ السلام کے درمیان قرب سے تعبیر کرتے ہیں ۔ رؤیت باری تعالیٰ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے اس گمان میں مبتلا ہیں کہ مقام دنی فتدلی اور قاب قوسین او ادنی پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل علیہ السلام کا قرب اور اصل صورت میں دیدار نصیب ہوا ۔

قابل غور امر یہ ہے کہ بفرض محال اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو کیا قرب حضرت جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا آئینہ دار ہے یا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا عکاس ، جنہیں خالق موجودات نے بطور مہمان خصوصی معراج کےلیے بلوایا تھا ، جبرئیل علیہ السلام ان گنت بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور وہ بارگاہ حریمِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بغیر اجازت داخل نہ ہوتے تھے ۔ اگر معراج میں جبرئیل علیہ السلام کی عظمت کا اظہار مقصود ہوتا تو فی الواقع یہ معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بجائے جبرئیل علیہ السلام کی ہوتی ۔ صحیح بخاری میں آیہ کریمہ مذکورہ کی تفسیر ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔

دنی الجبار رب العزة فتدلی حتی کان منه قاب قوسين او ادنی ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1120، کتاب التوحيد رقم : 7079چشتی)
اللہ رب العزت اتنا قریب ہوا کہ دو کمانوں کے درمیان جتنا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ۔

حدیث مبارکہ سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ آیہ کریمہ میں وہ ذات جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئی اس سے مراد رب العزت ہے جو جبار ہے ۔

علماء میں ایک ایسا گروہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باری تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوا۔

انکارِ رؤیت کی دو ممکنہ صورتیں
پہلی صورت : پہلی صورت یہ کہ اللہ کا دیدار سرے سے ممکن ہی نہیں اور انسانی آنکھ کو اتنی تاب کہاں کہ وہ اللہ کا دیدار کر سکے ۔

دوسری صورت : یہ کہ امکان تو موجود ہے لیکن شب معراج ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ۔

ان دونوں امکانی صورتوں کو جن کی بنا پر رؤیت باری تعالیٰ سے انکار کیا جاتا ہے ہم علماء کی طرف سے پیش کردہ ہر صورت کا قرآن و حدیث کی روشنی میں جائزہ لیں گے ۔

لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَار کی تشریح

پہلی صورت میں قرآن حکیم کی جس آیہ مقدسہ کو رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ درج ذیل ہے ۔

لاَّ تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۔ (سورہ الانعام، 6 : 103)
نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب نگاہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

مذکورہ آیہ مقدسہ کا بالعموم یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ کسی آنکھ کو اتنی قدرت حاصل نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کر سکے ۔ اس آیت سے یہ معنی مراد لینا اسے نہ سمجھنے کے مترادف ہے اس لیے کہ اس میں رؤیت کا نہیں بلکہ ادراک، کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ آیت کا معنی یہ ہوا کہ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ سب آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے اور ادراک دیکھنے کے معنی میں نہیں بلکہ کسی شئے کے احاطہ کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ دیکھنا اور بات ہے اور کسی چیز کا احاطہ کرنا دوسری بات ہے ۔ مذکورہ آیہ کریمہ میں رب ذوالجلال نے اپنے دیکھے جانے کی نفی نہیں کی بلکہ ارشاد یہ ہوا ہے کہ عالم امکان میں ساری آنکھیں بھی مل کر اس کی ذات کا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اور صرف اسی کی ذات ہر چیز کا احاطہ کرنے پر قادر ہے لہٰذا ادراک سے دیکھنا مراد لے کر آیت کا یہ معنی نکالنا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کسی آنکھ کےلیے ممکن ہی نہیں ، چنداں درست نہیں ۔ (مدارج النبوة جلد 1 صفحہ 207)(شرح مسلم جلد 1 صفحہ 97،چشتی)
مثال : اس نکتہ کو سمجھنے کےلیے ایک مثال یوں دی جا سکتی ہے ۔ ایک مقرر جم غفیر سے خطاب کر رہا ہے ۔ مجمع دور تک پھیلا ہوا ہے جسے وہ دیکھ تو سکتا ہے لیکن سب حاضرین جلسہ کا وہ احاطہ نہیں کر سکتا ۔ جو لوگ سامنے اس کے قریب ہیں انہیں وہ دیکھتا ہے لیکن جو لوگ پس دیوار ہیں وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہیں ۔ اس سے یہ نکتہ کھلتا ہے کہ کوئی محدود وجود غیر محدود وجود کو دیکھ تو سکتا ہے مگر اس کا احاطہ نہیں کر سکتا ۔ کسی جزو کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ کل کا احاطہ کر سکے ۔ پس ذات خداوندی جو غیر محدود اور کل ہے اس کا احاطہ سب انسانی آنکھیں جو محدود اور جزو ہیں مل کر بھی نہیں کر سکتیں جبکہ وہ ذات ہر شئے کا احاطہ کرنے پر قادر ہے ۔ اس ساری گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا دیدار اور مشاہدہ عین ممکن ہے مگر اس کا ادراک ممکن نہیں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف

اس سلسلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے برگزیدہ صحابی حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما جن کی قرآن فہمی مشہور خاص و عام تھی اور جنہیں صاحب قرآن نے ترجمان القرآن کے خطاب سے نوازا تھا ، انہوں نے ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے جو مذکورہ آیت سے نفی رؤیت کی دلیل لاتے تھے اختلاف کیا اور فرمایا کہ اس آیت میں رؤیت کی نہیں بلکہ ذات باری تعالیٰ کے ادراک کی نفی کی گئی ہے ۔

دوسری آیت کی تشریح

دوسری آیہ کریمہ نفی رؤیت کےلیے جس کا سہارا لیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔

وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا ۔ (سورہ الشوریٰ، 42 : 51)
اور کسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اللہ اس سے (براہ راست) بات کرے مگر ہاں (اس کی تین صورتیں ہیں یا تو) وحی (کے ذریعے) یا پردے کے پیچھے سے یا (اللہ) کسی فرشتے کو بھیج دے ۔

علماء نے اس آیت کا یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ کسی بشر کی مجال نہیں کہ وہ بے حجاب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو سکے اس لیے اس کا دیدار بے حجاب ممکن ہی نہیں ۔ اس دلیل کی بنا پر وہ تسلیم نہیں کرتے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات باری تعالیٰ کا بے حجاب دیدار کیا ۔ اس آیت کو سمجھنے میں ان سے وہی مغالطہ سرزد ہوا جو سابقہ آیت کو سمجھنے میں ہوا تھا۔ صحیح بات یہ ہے کہ آیت کریمہ میں بے حجاب کلام کی نفی کی گئی ہے نہ کہ بے حجاب مشاہدے کی ، جبکہ اس میں دیدار اور مشاہدے کا نہیں بلکہ بے حجاب کلام کا ذکر ہے اور یہ تو نہیں کہا گیا کہ اللہ کو طاقت نہیں کہ وہ اپنا دیدار کسی کو بے حجاب کرا سکے ۔ چونکہ اس آیت میں خدا کی نہیں بلکہ بشر کی طاقت کی نفی کی جا رہی ہے اس لیے اسے شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کی نفی کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔

سفر معراج رب کائنات کی قدرت کاملہ کا مظہر

ہم نے گذشتہ مضامین میں عرض کیا ہے کہ معجزہ معراج کا انکار اللہ رب العزت کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کیونکہ خدائے رحیم و کریم ، کائنات کا ہر ذرہ جس کے حکم کا پابند ہے نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرئیل امین کے ذریعہ براق بھیج کر بلوایا اور انہیں آسمانوں کی سیر کرائی کہ محبوب تیری چادرِ رحمت کائنات کی ہر شئے پر محیط ہے ۔ قادرِ مطلق کی قدرتِ کاملہ پر اِستعجاب کیسا ؟

واقعہ معراج کو قرآن نے اول تا آخر خدائے لم یزل کی قدرت کاملہ قرار دیا ہے اسی لیے اس قصے کو سبحان الذی سے شروع کیا تاکہ ذہن میں کسی قسم کا خلجان باقی نہ رہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری اس عظیم و برتر ذات پر ہے جو ہر قسم کی کمزوری، نقص اور عیب سے پاک ہے اور بلاشرکتِ غیرے اس بات پر قادر ہے کہ وہ معراج جیسا عظیم و بے مثال سفر کرا سکے۔ اگر دعویٰ کسی فرد بشر کی طرف سے ہوتا کہ میں نے اپنی طاقت اور صلاحیت کے بل بوتے پر معراج کیا تو معاملے کی صورت مختلف ہوتی لیکن یہاں تو بات ہی اور ہے۔ خدا تعالیٰ اپنی ذات کو ہر کمزوری، عیب اور سقم سے پاک قرار دے کر معراج کو اپنی طاقت اور قدرت کاملہ سے منسوب کر رہا ہے لہٰذا یہ بحث کہ رؤیت باری تعالیٰ کس طرح ممکن ہے خود خالقِ مطلق کی قدرت و اختیار کے دائرے کو زیر بحث لانے کے مترادف ہو گا لیکن خدا کی قدرت و طاقت کا اندازہ انسان کے حیطہ ادراک سے باہر ہے۔ اگر واقعہ معراج کی صحت کی کسوٹی انسان کی طاقت و قدرت ہو تو پھر یہ سارا معاملہ انسان کی دسترس اور دائرہ اختیار سے باہر ہے لیکن جہاں خدا کی قدرت اور اختیار کی بات آ جائے تو پھر اس واقعہ کی مختلف جہتوں سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔

قرآن و حدیث کی روایات کی من مانی تاویل سے واقعہ معراج کی عظمت سے روگردانی کا پہلو نکلتا ہے ۔ معجزہ معراج کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے سے ممکن و ناممکن کی لایعنی بحث کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ پھر بیت المقدس کے سفر ، آسمانوں اور عالمِ اُخروی کے مشاہدات کی عقلی توجیہہ ذہن میں ان گنت سوال چھوڑ جاتی ہے ۔ معجزہ تو ہے ہی وہ خرقِ عادت واقعہ جو عقل
میں نہ آ سکے ۔ اسے دلیل نبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ بنابریں نبی کرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک معجزے کا انکار سارے معجزات کا انکار اور خود رسالت کا انکار سمجھا جائے گا ۔

انکارِ رؤیت کی تیسری دلیل
منکرین رؤیت باری تعالیٰ اِس حدیث کے حوالے سے دیتے ہیں جس میں حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان سے معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار الٰہی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا ۔

نورٌاَنّٰی أَرَاَه ۔
وہ تو نور تھا میں بھلا اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ (الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 291)

اس حدیث مبارکہ کا ترجمہ بالعموم یہی کیا جاتا ہے اور اسی سے وہ نفی رؤیت کا استدال کرتے ہیں ۔ اگر ہم گہرائی میں جا کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی پر غور کریں تو اس کا یہ معنی نہیں جو بادی النظر میں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے اگلی حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے کہ : رايت نورا ۔ میں نے نور کو دیکھا ۔
(الصحيح لمسلم، 1 : 99، کتاب الايمان، رقم : 292،چشتی)

اس کی روشنی میں متذکرہ بالا حدیث کا معنی یہ ہوا کہ میں نے جس طرف سے بھی دیکھا اسے نور پایا ۔ یہ معنی نہیں کہ وہ نور تھا میں اسے کیسے دیکھ سکتا تھا ۔ رایت نورا کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدار الٰہی کا اثبات کرتے ہوئے اس کی کیفیت بیان کر رہے ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو جس طرف سے بھی دیکھا نورٌ علٰی نور پایا ۔

اللہ تعالیٰ خالقِ نور ہے

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نور اپنی ماہیت کے اعتبار سے وہ چیز ہے جس کو دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ اس کی مدد سے اشیاء نظر آتی ہیں لہٰذا اللہ کے نور کا دیدار چہ معنی دارد ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باری تعالیٰ کی ماہیت کو نور قرار دینا اصلاً غلط ہو گا کیونکہ بشر کی طرح نور بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جسے اپنی ذات کے اعتبار سے کسی جہت اور ہیئت میں مقید نہیں کیا جا سکتا اس لیے بعض علماء کے نزدیک اللہ کو نور کہنا کفر کے مترادف ہے ۔ بے شک وہ اللہ تعالیٰ خالق نور ہے کہ وہ بشر اور دیگر مخلوقات کا خالق ہے مگر جب باری تعالیٰ نے اپنا تعارف قرآن پاک میں اس طرح کرایا ہے کہ : اللهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔ (النور، 24 : 35) ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔

تو مفسرین قرآن اور ائمہ کرام نے اس کا معنی مراد یہ لیا ہے کہ وہ ذات جو آسمانوں اور زمین کو روشن کرنے والی ہے لہٰذا آیت کریمہ میں مجازاً سمجھانے کےلیے اللہ تعالیٰ کو نور سے تعبیر کیا ہے جس سے مراد اس کی تجلی ذات ہے نہ کہ اس کی ماہیت ۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا دیدار کیا تو اس کے جلوہ ذات کی کیفیت کو نور کی مانند پایا جس نے ہر چیز کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا ۔ یہی ’’نورانی اراہ‘‘ کا مفہوم ہے اور اس کی کیفیت کو جس کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج مشاہدہ کیا دیدار الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

اِمکانِ رؤیت باری تعالیٰ

رؤیت باری تعالیٰ کے ضمن میں یہ خیال عام ہے کہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے اور بطور انعام دیدار الٰہی محض آخرت کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم کی دو آیات کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہو گا جس سے اس دنیا میں دیدار الٰہی کی اِمکانی صورت واضح ہو جائے گی ۔

قرآن کریم کی پہلی آیت کا محل موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا بارگاہ رب العزت میں دیدار کےلیے خواستگار ہونا ہے ۔ وہ سراپا سوال بن کر باری تعالیٰ کے حضور اِستدعا کرتے نظر آتے ہیں ۔ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ اے رب! مجھے (اپنا جلوہ) دکھا کہ میں تیرا دیدار کر لوں ۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی جنہیں بارہا اپنے رب سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ہے، اس بات سے آگاہ نہیں تھے کہ وہ دیدارِ الٰہی کا مطالبہ کر کے ایسی چیز کا تقاضا کر رہے ہیں جو سرے سے ممکن ہی نہیں ؟ جناب کلیم اللہ کا رؤیت باری تعالیٰ کے عدم امکان کے بارے میں بے خبر ہونا بعید از فہم ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا بارہا خدا کے حضور دیدار کا تقاضا کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ علی وجہ البصیرت ان کا اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار اس دنیا میں عین ممکن ہے ۔ یہی سبب ہے کہ سر طور رب ارنی کی صدا بلند کرتے رہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس التجا کے جواب میں باری تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا وہ بھی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ خدا کی طرف سے اپنے کلیم کو خطاب فرمایا گیا ۔ لَن تَرَانِي ۔ (الاعراف، 7 : 143) ۔ تم مجھے (براہِ راست) ہرگز دیکھ نہ سکو گے ۔
جواب کی نوعیت پر غور کریں تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ مجھے دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ ! تیری آنکھ مجھے دیکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ یہ نہیں کہا کہ کوئی آنکھ مجھے دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتی ۔ اس سے امکانِ رؤیت کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس فرمودہ خداوندی میں اس بات کا اثبات مضمر ہے کہ میرے دیدار کا شرف معراج کی شب صرف میرا حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل کرے گا۔ قضا و قدر نے یہ شرف و امتیاز حضور سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصے میں رکھا ہے ۔ یہی سبب تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی التجا کو شرف پذیرائی نہ بخشا گیا کیونکہ اس سعادت کےلیے ازل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کو منتخب کیا جا چکا تھا ۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

دوسری آیت میں اہل جنت کے لئے مژدہ ہے کہ انہیں اللہ رب العزت اپنے دیدار سے نوازیں گے ۔ ارشاد ربانی ہے : وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ O إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ O ۔ (القيامة، 75 : 22 - 23)
بہت سے چہرے اُس دن شگفتہ و تروتازہ ہوں گے o اور (بلا حجاب) اپنے رب (کے حسن و جمال) کو تک رہے ہوں گے ۔

بموجب ارشادِ خداوندی اہل خلد کے تروتازہ چہروں پر بشاشت کی لہر دوڑ جائے گی جب انہیں خدا کا دیدارِعام بے حجاب کرایا جائے گا ۔ رسول عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدار سے بڑھ کر اور کوئی نعمت اہل ایمان کے لئے نہ ہو گی ۔

رؤیت باری پر متفق علیہ حدیث
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انکم سترون ربکم عيانا ۔ بے شک تم اپنے رب کو اعلانیہ دیکھو گے ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1105، کتاب التوحيد، رقم : 6998)(مسند احمد بن حنبل، 3 : 16)

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چودہویں کے چاند کی رات ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : انکم سترون ربکم يوم القيامة کما ترون القمر هذا ۔ تم اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو ۔ (صحيح البخاری، 2 : 1106، کتاب التوحيد)(سنن ابی داؤد، 2 : 302، کتاب السنة، رقم : 4729چشتی)(سنن ابن ماجه، 1 : 63، رقم : 177)(مسند احمد بن حنبل، 4 : 360)

اس سے یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ مندرجہ بالا ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رو سے ذات باری تعالیٰ کے مطلقاً دیدار کی نفی نہیں ہوئی ۔ اب اگر بالفرض اس کے عدم امکان کو تسلیم کر لیا جائے تو منطق کے اصول کے مطابق جو چیز اس جہان میں ناممکن ہے وہ عالم اخروی میں بھی ناممکن ہے لیکن بفحوائے ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر مومن کے لیے آخرت میں سب سے بڑی نعمت دیدار خداوندی ہو گا ۔

دولتِ دیدارِ الٰہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے مختص تھی

یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام اپنے ہر ایمان دار امتی سے بدرجۂ اَتم کہیں بڑھ کر ہے بلکہ حق تو یہ ہے کہ ہر مومن کو ایمان کی دولت ان کے صدقے سے عطا ہوئی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ منفرد امتیاز صرف حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو حاصل ہے کہ انہیں معراج کی شب مشاہدہ و دیدار حق نصیب ہوا جبکہ دوسرے اہل ایمان کو یہ سعادت آخرت میں نصیب ہو گی۔ احادیث میں ہے کہ معراج کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احوال آخرت ، جنت اور دوزخ کا مشاہدہ کرایا گیا جبکہ باقی سب کو ان کا چشم دید مشاہدہ موت کے بعد کرایا جائے گا ۔ بلاشبہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات میں شامل ہے کہ انہیں قیامت تک پیش آنے والے واقعات کی پیشگی مشاہدے کے ذریعے خبر دے دی گئی اور آخرت کے سب احوال ان پر بے نقاب کر دیئے گئے۔ اس بنا پر تسلیم کر لینے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ منجملہ کمالات میں سے یہ کمال صرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہوا کہ دیدار الٰہی کی وہ عظمت عظمیٰ جو مومنوں کو آخرت میں عطا ہو گی وہ آپ کو شب معراج ارزانی فرما دی گئی ۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتا تھا کہ چھوٹی نعمتوں کے باوصف سب سے بڑی نعمت جو دیدار الٰہی ہے اس سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محروم کر دیا جاتا ۔

امکان کی بات سے قطع نظر سورہ نجم کی آیات معراج میں چار مقامات ایسے ہیں جن میں ذات باری تعالیٰ کے حسن مطلق کے دیدار کا ذکر کیا گیا ہے : ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى O فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى O ۔ (النجم، 53 : 8 - 9)
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا o پھر (جلوۂ حق اور حبیبِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہو گیا) ۔
ارشاد ربانی میں اس انتہائی درجے کے قرب کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حتمی نتیجہ اور نقطہ منتہی سوائے دیدار الٰہی کے اور کچھ قرین فہم نہیں۔ اس کے بعد فرمایا : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (النجم، 53 : 11)
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔

قرآن حکیم نے یہ واضح فرما دیا کہ شب معراج حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمال ذات باری تعالیٰ کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے بھی کیا اور سر کی آنکھ سے بھی۔

دیدارِ الٰہی کے بارے میں علماءِ امت کی تصریحات

حدیث طبرانی میں ہے کہ : ان محمدا رای ربه مرتين مرة بعينه و مرة بفواده ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ۔ ایک مرتبہ آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل سے ۔ (المعجم الکبير، 12 : 71، رقم : 12564،چشتی)(المعجم الاوسط، 6 : 356، رقم : 5757)(المواهب اللدنيه، 2 : 37)(نشر الطيب تھانوی صفحہ 55)

اس حدیث پاک سے رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں اوپر درج کی گئی قرآنی آیات کے مضمون کی بخوبی تائید ہوتی ہے ۔

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان رضی اللہ عنہ جیسے برگزیدہ اصحاب رسول کی صحبت سے فیض یافتہ نامور تابعی ہیں، ان سے ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا انہوں نے معراج کی شب ذات باری تعالیٰ کا دیدار کیا ؟ تو انہوں نے تین بار قسم کھا کر اس بات کا اقر ار کیا کہ ہاں انہوں نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔

اسی طرح جب امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رؤیت باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تین بار یہ الفاظ دہرائے، قد رای ربہ یعنی انہوں نے اپنے رب کودیکھا، یہاں تک کہ ان کی سانس پھول گئی ۔

یہ خیالات و معتقدات سب ممتاز اور قابل ذکر صحابہ ، صحابیات ، تابعین ، تبع تابعین اور ائمہ کرام رضی اللہ عنہم و علیہم الرحم کے ہیں ۔ قرآن حکیم نے رؤیت باری کی تائید فرماتے ہوئے شک کرنے والوں سے پوچھا : أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 12)
کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا ۔

سرور دوجہاں ، ہادی انس و جاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری آنکھ کے علاوہ ایک آنکھ باطنی دل کی بھی عطا فرمائی تھی ۔ جب ساعت دیدار آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ظاہری جلوہ اور باطنی جلوہ دونوں نصیب ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 13)
اور بیشک انہوں نے تو اُس (جلوۂ حق) کو دوسری مرتبہ (پھر) دیکھا (اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو)

بارگاہِ خداوندی میں مسلسل حاضری

اس سے پہلے یہ ذکر آ چکا ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خالق و مالک سے وصال و دیدار کی نعمتوں سے مالامال ہونے کے بعد سفلی دنیا کی طرف لوٹے تو اللہ جل مجدہ کی طرف سے امت کے لئے پچاس نمازوں اور چھ ماہ کے روزوں کا تحفہ لائے ۔ راستے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو ان کے استفسار پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صورتحال سے مطلع فرمایا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اصرار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بار بار رب تعالیٰ کے ہاں بھیجتے رہے یہاں تک کہ آپ نے 9 مرتبہ ذات باری تعالیٰ سے ملاقات کی جس کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے تخفیف فرما کر پانچ نمازیں اور ایک ماہ کے روزے امت مسلمہ پر فرض کئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزید تخفیف کے بارے میں اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اب دسویں مرتبہ رب کے ہاں جاتے ہوئے شرم آتی ہے ۔ اس سے مترشح ہوتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو مرتبہ دیدار اور ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا ۔

چشمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیدارِ الٰہی میں محو تھیں

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مبارک جو دیدارِ الٰہی کے شرف سے مشرف ہوئیں ، کائنات سماوی کا ایک ایک نقش جن میں ثبت ہے ، کتاب زندگی کے سرورق کا وہ جلی عنوان ہے جو ان گنت کائناتی سچائیوں کے انکشاف کا نقیب ہے ، انہیں چشمان مبارک کے تصدق میں کائنات رنگ و بو میں رعنائیوں کے جھرمٹ اترتے ہیں، انہی چشمان مقدس میں موسیٰ علیہ السلام کی آرزو، انوار و تجلیات الہٰیہ کی صورت میں جاگزیں ہے اور یہی چشمان مقدس سدرۃ المنتہیٰ کے جمال کی عینی شاہد ہیں۔

کلام ربانی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان مبارک آنکھوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنے حوصلے، اعتماد، ہمت اور عزم و یقین کے باعث اس ارشاد ربانی کا مصداق ٹھہریں : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 17)
اور اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی (جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی) ۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بصارت اس درجہ طاقت و وسعت کی حامل تھی کہ شب معراج مشاہدہ حق کے وقت اس میں نہ صرف اضمحلال واقع نہ ہوا بلکہ وہ کمال ہوش کے ساتھ مشاہدہ جمال میں محو رہی۔

حضرت سہل بن عبداللہ التستری رحمۃ اللہ علیہ اسی مشاہدہ کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں : شاهد نفسه والی مشاهدتها و انما کان مشاهدا ربه تعالی بشاهد ما يظهر عليه من الصفات التی اوجبت الثبوت فی ذلک المحل ۔ (تفسیر روح المعانی، 27 : 54،چشتی)
اس طرح مستغرق ہوئے کہ سوائے ذات باری اور صفات الہٰیہ کے کسی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔

اس کے برعکس حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر تجلی الہٰی کی ایک جھلک بھی برداشت نہ کر سکے اور صفاتی تجلی کی انعکاسی شعاع کے اثر سے آپ علیہ السلام کا خرمن ہوش جل گیا۔

کسی صاحب نظر نے بصارتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بصارت موسیٰ علیہ السلام سے کیا خوبصورت موازنہ کیا ہے ۔

موسیٰ ز ہوش رفت بہ یک پر تو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی

قرآن آگے چل کر رؤیت آیات الہٰیہ کے باب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کا ذکر بایں الفاظ کرتا ہے : لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 18)
بیشک انہوں نے (معراج کی شب) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔

نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مقدس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان چشمان مقدس نے اللہ رب العزت کا بے حجاب نظارہ کیا۔ اب اس کے بعد وہ کونسی چیز ہو گی جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشم بینا سے پوشیدہ رہی ہو گی۔ یہی چشم بینا کائنات کی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ماضی، حال کے علاوہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات اور تغیرات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمان مبارک پر روز روشن کی طرح واضح اور نمایاں تھے ۔

دل نے تجلیاتِ الہٰیہ کی تصدیق کی

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمال بصارت کے ذکر کے بعد قرآن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلب انور کا ذکر بھی کرتا ہے، ارشاد ہوتا ہے : مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ۔ (سورہ النجم، 53 : 11)
(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا ۔

سفرِ مراجعت

معراج سے واپسی کا سفر براق پر طے ہوا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المقدس کی راہ سے حرم کعبہ میں تشریف لائے۔ رات کی وہی تاریکی تھی جب آپ بستر پر محو استراحت ہوئے۔ وہ ایک لمحہ جو کائنات ارضی و سماوی کی زمانی و مکانی وسعتوں کو محیط تھا اپنے دامن میں معراج کی عظمتوں اور رفعتوں کو سمیٹے ہوئے تھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب اور بیداری کے بارے میں حدیث پاک کے الفاظ ملاحظہ ہوں : واستيقظ وهو فی مسجد الحرام ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں تھے ۔ (صحيح البخاری جلد 2 صفحہ 1120 کتاب التوحيد رقم : 7079)

اس حدیث مبارکہ سے کچھ لوگ مغالطے کا شکار ہو گئے اور انہیں واقعہ معراج میں تضاد دکھائی دینے لگا۔ لوگوں پر وارد ہونے والے اشکال کا جواب ائمہ کرام (جن میں امام ترمذی، امام عسقلانی اور امام قسطلانی رحمھم اللہ تعالیٰ کے نام قابل ذکر ہیں) نے اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیا ہے لیکن وہ جن کی سوچ میں کجی اور عدم مطالعہ کی بنا پر جن کا مبلغ علم محدود ہے انہیں واقعہ معراج میں سوائے تضادات کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

سفر معراج پر روانہ ہونا بھی عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دلیل ہے اور سفر معراج سے مراجعت یعنی اس کرہ ارضی کی طرف واپسی بھی شوکت حبیب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مظہر ہے۔ جن عجائبات کا آپ نے اس سفر میں مشاہدہ کیا وہ بھی رسول کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کو دوبالا کرنے کے لئے تھے۔ سفر معراج سے عروج آدم خاکی کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ علوم جدیدہ نے جن کائناتی سچائیوں کو بے نقاب کیا ہے ان میں سفر معراج بھی شامل ہے۔ اگر تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر دیکھا جائے کہ کائنات کی بے کراں وسعتوں میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدوم مقدسہ کی تلاش ہی جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد ہے۔ دنیا اس حقیقت کا بلاواسطہ اعتراف نہیں کرے گی کہ آج کا انسان اپنی تمام آزاد خیالی کے سفلی اور علاقائی تعصبات سے دامن نہیں چھڑا سکا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی اور انسانی بنیادوں پر جس وسیع معاشرے کی بنیاد رکھی تھی دنیا شعوری اور لاشعوری دونوں سطحوں پر ان اہداف کے حصول کے لئے مصروف عمل ہے۔ اگر سفر معراج کو جدید سائنسی انکشافات کی بنیاد قرار دیا جائے تو یہ اس عظیم معجزہ کے محض ایک پہلو کا اعتراف ہو گا لیکن جوں جوں سائنس ترقی کرے گی ذہن انسانی میں تحقیق و جستجو کے نئے نئے دروازے کھلیں گے توں توں سفر معراج کے حوالے سے ان گنت کائناتی پیچیدگیاں خودبخود حل ہوتی جائیں گی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ زندہ معجزہ اللہ رب العزت کی قدرت مطلقہ کا مظہر بن کر
شاہراہ حیات کا وہ سنگ میل ثابت ہو گا کہ جسے بوسہ دیئے بغیر ارتقاء کے سفر پر روانہ ہونے والا انسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے گا ۔ سفر معراج عروج آدم خاکی وہ دروازہ ہے جس میں داخل ہوئے بغیر انسان پتھر اور دھات کے زمانے کی طرف تو لوٹ سکتا ہے ارتقاء کی سیڑھی کے پہلے زینے پر بھی قدم نہیں رکھ سکتا ۔

(مزید حصّہ ہفتم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296842722551774/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ ہفتم
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296977802538266/
محترم قارئینِ کرام : ارباب فکر نے سفر معراج کی کچھ حکمتیں بیان فرمائی ہیں مگر حقیقت حال اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ان حکمتوں سے دلجوئی محبوب سے لے کر عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک منشائے ایزدی کے کئی پہلو انسانی زندگی پر واہ ہوتے ہیں ۔ مشہور مُحاوَرہ ہے کہ “ فِعْلُ الْحَکِیْمِ لَایَخْلُو عَنِ الْحِکْمَۃِ “ یعنی حکیم کا کوئی بھی کام حِکمت سے خالی نہیں ہوتا ، اللہ پاک کا ایک صِفاتی نام حکیم بھی ہے ، اس کے ہر کام میں بےشُمار حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں جنہیں سمجھنے سے ہماری عقلیں قاصِر (بے بس) ہوتی ہیں ۔ اللہ پاک نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اعلانِ نَبُوّت کے گیارھویں سال یعنی ہجرت سے دو سال پہلے حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے ستائیسویں رجب پیر کی شب میں معراج کروائی۔ اس معراج میں کئی حکمتیں ہیں جن کا ہمیں مکمل علم نہیں ۔

معراج کی پہلی حکمت یہ ہے کہ اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے۔ معاشرتی سطح پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کردیا جس کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انتہائی کرب سے گزرنا پڑا۔ بائیکاٹ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خالق حقیقی سے جا ملیں چنانچہ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے پاس بلاکر سارے غم، دکھ اور پریشانیاں دور کردی جائیں اور اپنا دیدار کروایا جائے۔ جب محبوب حقیقی کا چہرہ سامنے ہوگا تو سارے غم و تکالیف اور مصیبتیں کافور ہوجائیں گی۔ گویا اللہ رب العزت معراج پر بلاکر اپنے پیارے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی دلجوئی کرنا چاہتے تھے کہ اگرچہ دنیا میں یہ کافر تمہیں تنگ کرتے ہیں اور مصائب و آلام اور آزمائشیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آتی ہیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرایا نہ کریں کیونکہ ہماری پیار بھری آنکھیں آپ کو تکتی رہتی ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْيُنِنَا ۔ (الطور، 52: 48)
’’اور (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) اِن کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھیے۔ بے شک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں‘‘۔

عرش پر بلاکر اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا دیدار کرایا اور امت کی بخشش کی نوید سنائی اور 50 نمازوں کا تحفہ بھی شب معراج کو عطا کیا اور فرمایا: ’’محبوب تیری امت دن میںپانچ نمازیں ادا کرے گی مگر اس کو ثواب پچاس نمازوں کا عطا کروں گا‘‘۔

معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روز بہت سے واقعات پیش آئے جس کی بشارت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ عیسائی پیشواؤں نے بھی دی جن کا تذکرہ درج ذیل ہے :

بیت المقدس میں امامت انبیاء علیہم السلام

عیسائی پیشوا جو مسجد اقصیٰ کا بہت بڑا پادری تھا اس نے کہا میری عادت تھی کہ میں ہر روز رات کو سونے سے پہلے مسجد کے تمام دروازے بند کردیا کرتا تھا۔ اس رات میں نے تمام دروازے بند کردیے لیکن انتہائی کوشش کے باوجود ایک دروازہ بند نہ ہوسکا۔ میں نے اپنے کارندوں اور تمام حاضرین سے مدد لی۔ سب نے پورا زور لگایا مگر دروازہ نہ ہلا۔ بالآخر میں نے ترکھانوں کو بلایا تو انہوں نے اسے دیکھ کر کہا کہ اوپر کی عمارت نیچے آگئی ہے۔ اب رات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ صبح دیکھیں گے۔ لہذا ہم دروازے کے دونوں کواڑ کھلے چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ صبح ہوتے ہی میں وہاں آیا تو دیکھا کہ دروازہ بالکل ٹھیک ہے۔ مسجد کے پتھر پر سوراخ ہے اور سواری کے جانور باندھنے کا نشان اس میں نظر آرہا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر میں سمجھا کہ آج رات انتہائی کوشش کے باوجود دروازہ کا بند نہ ہونا اور پتھر میں سوراخ کا پایا جانا اس سوراخ میں جانور باندھنے کا نشان موجود ہونا حکمت سے خالی نہیں۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج رات اس دروازے کا کھلا رہنا صرف نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے تھا یقینا اس نبی معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری اس مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھی ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 3 صفحہ 64،چشتی)

سارے مراتب طے کروائےحکیمُ الْاُمَّت مُفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : وہ تمام مُعْجِزَات اور دَرَجات جو انبیائے کرام عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کو علیحدہ علیحدہ عطا فرمائے گئے ، وہ تمام بلکہ اُن سے بڑھ کر (کئی مُعْجِزَات) حُضُورِ پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطا ہوئے۔ اس کی بہت سی مِثالیں ہیں : حضرتِ مُوسیٰ علیہ السَّلام کو یہ دَرجہ مِلا کہ وہ کوہِ طُور پر جا کر رَبّ (کریم) سے کَلام
کرتے تھے ، حضرتِ عیسیٰ علیہ السَّلام چوتھے آسمان پر بُلائے گئے اور حضرتِ اِدْرِیس علیہ السَّلام جنَّت میں بُلائے گئے توحُضُورِانور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مِعْراج کرائی گئی ، جس میں اللہ پاک سےکلام بھی ہوا ، آسمان کی سیر بھی ہوئی ، جنَّت و دوزخ کا مُعَاینہ بھی ہوا ، غرضیکہ وہ سارے مَرَاتِب ایک ہی مِعْرَاج میں طے کرادئیے گئے۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107،چشتی)

ایمان بِالغیب کا مُشاہدہ کیا معراجِ مصطفےٰ کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تمام پیغمبروں نے اللہ (کریم) کی اور جنّت و دوزخ کی گواہی دی اور اپنی اپنی اُمَّتوں سے اَشْہَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھوایا ، مگر اُن حضرات (انبیائے کرام) میں سے کسی کی گواہی نہ تو دیکھی ہوئی تھی اور نہ ہی سُنی ہوئی اور گواہی کی انتہا دیکھنے پر ہوتی ہے ، تو ضرورت تھی کہ ان انبیائے کرام ( عَلیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام ) کی جماعَتِ پاک میں سے کوئی ایسی ہستی بھی ہو کہ جو ان تمام چیزوں کو دیکھ کر گواہی دے ، اُس کی گواہی پر شہادت کی تکمیل ہوجائے۔ یہ شہادت کی تکمیل حُضُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات پر ہوئی۔ (کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمام چیزوں کو اپنی مُبارک آنکھوں سے مُلاحظہ فرمایا) ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107)

مالکِ کونین نے اپنی سلطنت دیکھی اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام خزانوں کا مالک بنایا ہے ، اللہ پاک پارہ نمبر 30 سُوْرَۃُ الْکَوثَر کی آیت نمبر 1 میں اِرشاد فرماتا ہے : (اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ ۔ تَرْجَمَہ : اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں ۔ حضور مالکِ کونین ، شبِ اسریٰ کے دولہا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : میں سورہا تھا کہ زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں لائی گئیں اور میرے دونوں ہاتھوں میں رکھ دی گئیں ۔ (بخاری ، 2 / 303 ، حدیث : 2977) رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا : میں (اللہ پاک کے خزانوں کا) خازِن ہوں ۔ (مسلم ، ص512 ، حدیث : 1037) حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ پاک کی عطا سے اس کی تمام سلطنت کے مالِک ہیں ، اسی لیے جنَّت کے پتّے پتّے پر ، حُوروں کی آنکھوں میں غرضیکہ ہر جگہ لَاۤاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ لکھا ہوا ہے : یعنی یہ چیزیں اللہ (کریم) کی بنائی ہوئی ہیں اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کو دی ہوئی ہیں۔ (تو معراج کروانے میں) اللہپاک کی مرضی یہ تھی کہ (دوجہانوں کے خزانوں کے) مالِک کو اس کی ملکیت دِکھا دی جائے ۔ (شانِ حبیب الرّحمٰن ، صفحہ 107)
چنانچہ اس لیے معراج کی رات یہ سیر کروائی گئی ۔

سلسلۂ شفاعت میں آسانی کل بروزِ قِیامت نبیِّ رحمت ، شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے شفاعت فرمانی ہے ، بلکہ شفاعت کا دروازہ آپ سے کھلنا ہے ، اللہ پاک نے اپنے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کائنات کے عجائبات ، جنّت کے درجات اور جہنّم کا مُشاہدہ کرادیا ، اس کے علاوہ اور بھی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں تاکہ قِیامت کے ہولناک دن کی ہیبت آپ پر طاری نہ ہوسکے ، پورے عزم و اِستقلال کے ساتھ شفاعت کر سکیں۔ (معارج النبوۃ ، صفحہ 80،چشتی)

وحی کی تمام اقسام کا شرف وحی کی ایک قسم یہ ہے کہ اللہ پاک بِلاواسطہ کلام فرمائے اور یہ وحی کی سب سے اعلیٰ قسم ہے ، معراج کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمام اقسامِ وحی سے شرف پائیں ، کُتبِ تفاسیر میں لکھا ہے کہ “ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ “ والی آیات جو کہ سُوْرَۃُ الْبَقَرہ کی آخری 2 آیات ہیں ، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات اللہ پاک سے بِلاواسطہ سُنی ، اسی طرح کچھ سُورَۃُ الضُّحیٰ اور کچھ سُورَۂ اَلَم نَشْرَح معراج کی رات سُنی۔(روح البیان ، پ25 ، الشوریٰ الآیۃ : 51 ، 8 / 345)

معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ہمارے ہاں بالعموم ایک مذہبی نوعیت کا واقعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ عروج آدم خاکی کا شاندار مظہر ہے،تسخیر کائنات کے سفر کا ایک اہم سنگ میل ہے ،جدید سائنسی انکشافات اور اکتشافات کا نقطہ اوّل ہے،اور حضرت انسان کے ذہنی و فکری ارتقاء کی روشن دلیل ہے۔تاریخ اسلام میں واقعہ معراج کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ،جن دنوں میں یہ واقعہ پیش آیا وہ ایام اہل اسلام کےلیے سخت ابتلاء اور آزمائش کے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے تیرہ برس سرزمین مکہ پر پیغام توحید پہنچانے میں صر ف کئے، طائف سے بھی ہو آئے اگرچہ آپ کا حلقہ اثر پہلے کے مقابلے میں بہت بڑھ چکا تھامگر اسی حساب سے کفار کے رد عمل میں بھی سختی آتی جا رہی تھی،نظر انداز کر دینے والی پالیسی سے کفار کا رد عمل شروع ہوا تھااب وہ باقاعدہ جسمانی تعذیب تک پہنچ چکا تھا، اس دوران میں طنزو استہزا، کٹ حجتی،الزام تراشی ،غلام اور نادار صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم پر تشدد، سماجی مقاطعہ ایسی مشکلات سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور آپ کے رفقاء دوچار رہے اب کھلم کھلا پیغمبر کے قتل کے منصوبے بن اور چرچے ہو رہے تھے ، اس ماحول میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سفر معراج اپنے اندر بہت سی حکمتوں کا حاصل معلوم ہوتا ہے ۔

ایک طرف اپنے رفقاء کےلیے حوصلہ افزائی تھی کہ اہل دنیا چا ہے لاکھ مخالفت کریں لیکن اللہ تعالی کی مدد او ر قرب بہرحال ہمیں حاصل ہے دنیا خواہ ہمیں نظر انداز اور فراموش کر دے خداوند عالم کبھی ہمیں نظر انداز اور فراموش نہیں کرے گا،دوسری طرف کفار کے لئے یہ تنبیہہ موجود تھی کہ تم جس قدر چاہو ہم پر اپنی سر زمین تنگ کر دواللہ تعالی نے اس کے مقابلے میں ہمارے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے ہیں اور یہ ایک طرح کا استعارہ تھاکہ جو خدا اپنے نبی کےلیے خلاف عادت آسمانوں پر جانے کے لئے راستہ کھول سکتا ہے وہ دنیا کی توقع کے برعکس فروغ اسلام کےلیے بھی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے ،چنانچہ یہی ہواکہ سفر معراج سے واپس آتے ہی متصل زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو اذن ہجرت ملا،اور سفر ہجرت اسلامی انقلاب کے قیام اور اسلام کی وسعت کا ذریعہ ثابت ہوا ، قیام مکہ کے تیرہ برس میں جو چھوٹی سی جماعت تیار ہوئی تھی وہ مدینہ منورہ پہنچتے ہی ایک ملت اور امت کی تشکیل کا باعث بن گئی،ہجرت کے بعد یہ پیغام دس برس کے اندر اندر دس لاکھ مربع میل تک پھیل گیااور فتح مکہ جیسا عظیم واقعہ بھی ہوا ۔سفر معراج اپنے اندر یہ معجزانہ شان بھی رکھتا ہے کہ اللہ تعالی جب چاہے دنیا کے اندازے اور قاعدے ضابطے پلٹ کر رکھ دے ، معراج کے حوالے سے کفار کو یہ حیرت تھی کہ رات کے ایک حصے میں اتنا بڑا سفر کیسے کیا جا سکتا ہے ؟ وہ لوگ اللہ کی قدرت کو بھلا بیٹھے تھے اس طرح دنیا بھر کو یہ حیرت لاحق رہی کہ مدینے میں قدم رکھتے ہی چند برسوں کے اندر اتنا عظیم الشان انقلاب کیسے برپا ہو گیا ؟واقعہ معراج میںایک حکمت یہ بھی پو شیدہ تھی کہ اس سے منصب نبوت اور اس کا مزاج واضح ہوا ہے، منصب نبوت یہ ہے کہ وہ بندوں اور خدا کے درمیان رابطے کا کام دیتا ہے ، اسوہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے بندے جان جاتے ہیں کہ اخلاق الہی کیا ہے ؟
واقعہ معراج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سائنس دان ہو یا فلسفی ،اس کے سارے دعوے اور فلسفے کی بنیاد ظن اور گمان پر ہوتی ہے وہ عمر کے آخری حصے میں بھی اپنی بات کو حرف آخر قرار دینے کی پو زیشن میں نہیں ہوتا لیکن پیغمبرجو بات بھی کہتا ہے سرا سر مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہے اس لیے سائنس دان کی آخری بات بھی تشنہ ہوتی ہے اور فلسفی کی ہر کلی اور جزئی محتاج صداقت ہوتی ہے جبکہ پیغمبر کی پہلی بات ہی حتمی اور قطعی ہوتی ہے اس لئے کہ اس کا ذریعہ علم قیاسی اور سماعی نہیں ہوتا بلکہ ایقانی اور مشاہداتی ہوتا ہے ۔
سفر معراج کا ایک مقصد یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مکہ پرجو کشمکش برپا تھی اس کی بنیاد یہ تھی کہ ڈھیر سارے خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا کو کیسے مان لیا جائے؟ اور فی الواقع ایک خدا ہے تو وہ کس نے دیکھا ہے؟پہلے نبی سے لے کر عیسی ؑ تک ہر ایک نے توحید کی بات کی مگر کسی نے خدا کو دیکھنے کا دعوی نہیں کیا ،حضرت موسی ؑ نے کلام خدا وندی براہ راست سنا لیکن دیکھنے کی خواہش پرانہیں لن ترانی کا جواب ملا،اب چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آخری نبی تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعد اللہ تعالی نے براہ راست کسی سے مخاطب نہیں ہونا تھا اس لیے ضروری تھاکہ لوگوں کو اس سوال کا حتمی جواب آنا چاہیے کہ کسی نے خدا کو بھی دیکھا ہے یا نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر کے (جیسا کہ سابقہ حصّوں میں ہم دلاٸل کے ساتھ عرض کرچکے ہیں چشتی) دنیا کو بتایا کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے ذمے سوال کا جواب میں مہیا کرتا ہوں کہ ہاں اس خدائے واحد کو میں نے دیکھا ہے، اور سر کی آنکھوں سے دیکھا ہے اس طرح عقیدہ توحید قیاسی نہیں مشاہداتی بن گیا ، سفر معراج نے وہ آخری دلیل بھی مہیا کردی اور اس عقدے کی گرہ کشائی کر دی جو مشہود خدا کا تصور رکھنے والے ذہنوں میں صدیوں سے موجود چلا آرہا تھا ۔
آج تسخیر آفاق ایک سائنسی مشاہدہ بن گیا ہے مگر اس مشاہدے کو بنیاد سفر معراج نے فراہم کی ،یہ امر ہر ایک جانتا ہے کہ معلوم انسانی تاریخ میں صدیوں تک ستارے ،چاند ،سورج اور آسمان کی پوجا ہوتی رہی اس لئے کہ یہ چیزیں انسانی دسترس سے باہر تھیں ، ان تک انسان پہنچ نہیں پاتا تھا، ستاروں کا جھرمٹ بہت دلفریب لگتا تھا، چاند بہت نظر معلوم ہوتا تھا ، سورج کی تمازت میں ایک طرح کی ہیبت تھی، آسمان کی بلندی کے سامنے انسان خود کو بہت پست تصور کرتا تھا سفر معراج نے انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایا، انسان کو یہ ادراک پہلی بار حاصل ہوا کہ کارخانہ قدرت میں جو کچھ بھی ہے خواہ وہ نظر فریب ہو یا دلنواز ،وسیع ہو یا بسیط ،جلال