🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
نے واقعہ معراج کا انکار کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس کی علامات وغیرہ دریافت کیں اور بڑی شدت کے ساتھ جھگڑا اور اختلاف کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ان کو مسکت جوابات دئیے اور مسجد اقصیٰ کی تمام علامتیں اور نشانیاں بتائیں جو کفار قریش نے دریافت کی تھیں بلا کم و کاست بیان فرما دیں اور نہایت خوبی کے ساتھ ان پر حجت قائم فرما دی۔ جس کے بعد ان کے لئے مجال انکار باقی نہ رہی اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اسراء اور معراج کی صداقت پر ایک عظیم الشان دلیل قائم کی گئی۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ مسجد اقصیٰ کا ذکر فرمایا۔ اگر ادنیٰ تامل سے کام لیا جائے تو قرآن کریم میں واقعہ معراج کی صداقت پر لا جواب دلیل قائم کی گئی ہے۔ وہ مسجد اقصیٰ کا ذکر ہے۔ کیونکہ ایک طرف تو مشرکین مکہ کے ذہن میں مسجد اقصیٰ کی تمام علامتیں محفوظ تھیں اور دوسری طرف انہیں اس بات کا یقین تھا کہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے مسجداقصیٰ کبھی نہیں دیکھی۔ جب انہوں نے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد اقصیٰ جانے اور معراج فرمانے کا حال بیان فرما رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اس سے بہتر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تکذیب کا موقع ہاتھ نہیں آ سکتا ۔ آسمان وغیرہ تو ہمارے دیکھے ہوئے نہیں جن کی علامتیں اور نشانیاں ہم ان سے دریافت کریں۔ لیکن مسجد اقصیٰ کا نقشہ تو ہمارے ذہن میں محفوظ ہے۔
چلو اسی کی بابت ان سے سوالات کریں۔ جب ہماری دریافت کی ہوئی نشانیاں وہ نہ بتا سکیں گے تو (معاذ اللہ) ان کا دعویٰ خود بخود جھوٹا ہو جائے گا لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ کفارِ قریش نے مسجد اقصیٰ کی جو نشانیاں پوچھیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے ٹھیک ٹھیک بیان فرما دیں۔ جس کو سن کر اپنے دل میں انہیں قائل ہونا پڑا کہ واقعی یہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ مسجد اقصیٰ تک جانے میں جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سچا ہونا ثابت ہو گیا تو آسمانوں کی معراج بھی سچی ثابت ہو گئی۔ اس لیے کہ جس طرح آسمانوں پر جانا محال ہے بالکل اسی طرح رات کے تھوڑے سے حصہ میں مکہ سے مسجد اقصیٰ جا کر واپس آ جانا بھی محال ہے۔ جب یہ جانا اور آنا محال نہ رہا تو آسمان پر جا کر واپس آنا ان کے لئے کیونکر محال رہ سکتا تھا ؟
اس مختصر بیان سے واضح ہو گیا کہ مسجد اقصیٰ کا ذکر صداقت معراج کی دلیل اس لئے بن گیا کہ منکرین نے مسجد اقصیٰ دیکھی ہوئی تھی۔ اب اگر مسجد اقصیٰ کی طرح آسمانوں کا ذکر بھی تفصیل سے کر دیا جاتا تو وہ اس عظیم الشان خارق عادت واقعہ معراج کی سچائی کے لئے دلیل نہیں بن سکتا تھا۔ کیونکہ منکرین نے کبھی آسمان نہیں دیکھے تھے نہ ان کے ذہن میں وہاں کی کسی چیز کا کوئی تصور تھا۔ اس لئے وہ اگر آسمانوں کی بابت کوئی نشانی دریافت کرتے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم انہیں بتا دیتے تو ان کے خالی الذہن ہونے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا بتانا ان کے حق میں بے فائدہ رہتا اور واقعہ معراج کی تصدیق کے لیے کوئی دلیل قائم نہ ہوتی۔
اس حکمت کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی معراج کا ذکر تفصیل کے ساتھ نہیں فرمایا بلکہ ’’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ میں اجمال کے ساتھ اسے بیان فرما دیا تاکہ مسجد اقصیٰ کی طرف حضور کا لے جانا ان کو آسمانوں پر لے جا کر وہاں کی آیات دکھانے پر دلیل قائم ہو جائے۔ خلاصۃ الکلام یہ کہ آیۂ کریمہ میں اسراء کا بیان مفصل ہے اور معراج کا ذکر مجمل۔ اور مفصل مجمل کی دلیل ہے۔ آیۂ کریمہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اس تمام سفر مبارک کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اس کے تین مرحلے الگ الگ نظر آتے ہیں۔
پہلا مرحلہ مسجد حرام سے شروع ہو کر مسجد اقصیٰ پر ختم ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے کا بیان ’’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘‘ میںوارد ہے اور تیسرے مرحلہ کا بیان ’’اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ‘‘ میں موجود ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام سے چل کر مسجد اقصیٰ پہنچے اور مسجد اقصیٰ سے آسمانوں پر جلوہ گر ہوتے ہوئے عرشِ الٰہی تک تشریف لے گئے۔ پھر عرشِ الٰہی سے ’’اِلٰی حَیْثُ شَائَ اللّٰہُ‘‘ (جہاں تک اللہ نے چاہا) جلوہ فگن ہوئے اور زمان و مکان بلکہ عالم امکان کی قیود سے بالا تر ہو کر اللہ تعالیٰ کے قرب خاص سے مشرف ہوئے اور اپنے رب کا جمال اپنے سر اقدس کی آنکھوں سے بے حجاب دیکھا۔
سُبْحٰنَ الَّذِیْ سے لے کر اَلَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَہٗ تک اسریٰ کا تفصیلی بیان ہے اور لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا میں تمام آسمانی سفر کا اجمالی ذکر ہے اور اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ میں اللہ تعالیٰ کے قرب خاص میں اس کا کلام سننے اور جمال دیکھنے کا بیان ہے۔
مراحل ثلاثہ میں باریک اور لطیف فرق
مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک دنیائے جسمانیات اور عالم شہادت ہے اور مسجد اقصیٰ سے اوپر آسمانوں اور عرش کا عالم روحانی، نورانی اور مجرد لطیف کائنات ہے۔ اس کے بعد فوق العرش اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ قدس ہے۔ جس میں کسی کائن و مخلوق کا شائبہ تک متصور نہیں بلکہ زمان و مکان سے بالا تر، اللہ تعالیٰ کے جلوہ ہائے عظمت و جلال کے ظہور کا وہ عالم ہے جسے عالم کہنا بھی صرف مجاز ہے۔ حقیقت میں وہ عالم و عالمیات سے کہیں اعلیٰ اور برتر ہے کیونکہ زمان و مکان کی حدود میں جمال الوہیت کا ظہور اتم مقید نہیں ہو سکتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ذاتِ گرامی کا تینوں مرحلوں سے تعلق ۔ ان تینوں مرحلوں سے حضور نبی کریم کی ذات گرامی کا ربط اور تعلق یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تین شانیں ہیں
(۱) بشریت : جس کو عالم جسمانیت سے ربط ہے ۔
(۲) ملکیت اور روحانیت : جسے عالم انوار اور حقائق مجردات قدسیہ سے تعلق ہے۔
(۳) محمدیت : یعنی حق تعالیٰ کی ذات و صفات اور حسن و جمال کا مظہر اتم ہونا، جسے بارگاہِ قدس اور حضرت جمال الوہیت سے گہرا تعلق ہے۔
سفر معراج کے تینوں مرحلوں اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تینوں شانوں کا تعلق اور باہمی مناسبت کو ذہن نشین کر لینے کے بعد آیت کریمہ کی روشنی میں فلسفۂ معراج نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتا ہے ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ معراج کا مقصد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا اپنی شایانِ شان بلند اور اونچے مراتب تک پہنچنا ہے۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی یہ مذکورہ شانیں ایسی ہیں کہ تمام کمالاتِ محمدی ان ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہر کمالِ نبوی کا سرچشمہ یہی تین شانیں ہیں ۔ لہٰذا ان میں سے ہر ایک کا اپنے عروج پر پہنچنا تکمیل معراج کے لیے ضروری ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت، نورانیت و مظہریت سب کا عروج ضروری ہوا۔ یہ امر واضح رہے کہ ہر چیز کا عروج اسی عالم میں متصور ہے جس سے اس چیز کا تعلق پایا جاتا ہے۔ اس لئے بشریت کا معراج عالم بشریت میں ہو گااور نورانیت اور روحانیت کا معراج عالم ارواح و عالم انوار میں اور اسی طرح حقیقت محمدیہ یعنی مظہریت حق کا معراج بارگاہِ حق تعالیٰ میں ہو گا۔
آیت کریمہ کے مضمون میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی معراج مبارک بالکل اسی شان سے واقع ہوئی ۔ دیکھیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام سے چل کر مسجد اقصیٰ پہنچے جہاں تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اقتداء کی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سب کے امام بنے ۔ مسجد اقصیٰ عالم اجسام میں ہے اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت مطہرہ کو یہ عروج حاصل ہوا کہ تمام انبیاء علیہم السلام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت مقدسہ کے پیچھے اقتدا کی ۔ بشریت محمدی کا مسجد اقصیٰ میں انبیاء علیہم السلام کا مقتدا ہونا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت کا معراج ہے ۔ اس حیثیت سے کہ عالم بشریت میں انسانیت اور بشریت کا کمال رکھنے والے یعنی حضرات انبیاء علیہم السلام پیچھے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت آگے ہے۔ اس کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد اقصیٰ سے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور ساتوں آسمانوں سے گزر کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے ۔ یہ تو وہ مقام ہے کہ جہاں سے اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے فرشتے بھی آگے نہیں جا سکتے۔ آسمان اول سے لے کر سدرہ تک تمام روحانی اور نورانی افراد یعنی ملائکہ کرام پیچھے رہ گئے۔ حتیٰ کہ جبریل علیہ السلام بھی وہاں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سب کو پیچھے چھوڑ کر سدرۃ المنتہیٰ سے آگے تشریف لے گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سدرہ سے آگے تشریف لے جانا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقت ملکیہ اور آپ کی نورانیت و روحانیت کا چمکتا ہوا معراج تھا۔ اس حیثیت سے کہ عالم ملائکہ میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نورانیت و روحانیت درحقیقت ملکیت کی معراج ہے۔
پھر آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا بلند زمان و مکان کی قیود سے بالا ہو کر فوق العرش پہنچ کر بارگاہِ حق تعالیٰ جل مجدہٗ میں حاضر ہونا اور ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی کے مراتب عالیہ پر فائز ہونا اور سر اقدس کی آنکھوں سے بے حجاب اللہ تعالیٰ کو دیکھنا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی حقیقت محمدیہ اور صورت حقیہ کی معراج ہے۔ اس حیثیت سے کہ وہ عرشِ عظیم جو تجلیات حسن حقیقی کی بلند ترین جلوہ گاہ ہے اسی طرح پیچھے رہ گیا جس طرح مسجد اقصیٰ میں کمال انسانیت رکھنے والے انبیاء علیہم السلام پیچھے رہ گئے اور سدرۃ المنتہیٰ پر کمال ملکیت و نورانیت رکھنے والے ملائکہ مقربین پیچھے رہ گئے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان سے آگے تشریف
لے گئے تھے۔ بالکل اسی طرح حسن الوہیت کی بلند ترین جلوہ گاہ عرشِ عظیم بھی پیچھے رہ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم زمان و مکان اور تحت و فوق کو پیچھے چھوڑ کر ایسے عالم میں جسے عالم کہنا در حقیقت مجاز ہے اپنی حقیقت محمدیہ اور صورت حقیہ کے ساتھ اس عرشِ عظیم کی بلندی سے بلند ہو کر اس ذات والاصفات کے ساتھ واصل ہوئے جس کے حسن ذات و صفات کا مظہر اتم تھے۔ اس کا کلام سنا اور اس کا جمال دیکھا نہ ان کی بات سننے اور انہیں دیکھنے والا رب کے سوا کوئی اور تھا نہ رب کا کلام سننے اور اسے دیکھنے والا ان کے سوا کوئی دوسرا تھا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام رب کے سمیع و بصیر تھے اور رب کریم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا سمیع و بصیر تھا۔(چشتی)
فوائد الفواد ملفوظات حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک حوالہ تو اس سے قبل عرض کر چکا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسجد حرام سے بیت المقدس تک اسراء ہے اور وہاں سے آسمانوں تک معراج اور آسمانوں سے قاب قوسین تک اعراج ہے۔ یہ ملفوظ مبارک بھی فقیرکے بیان سابق پر بلا تاویل واضح اور روشن دلالت کر رہا ہے۔ دوسرے حوالہ کی فارسی عبارت کا اردو خلاصہ حسب ذیل ہے ۔ کسی خادم نے عرض کیا، حضور! لوگ کہتے ہیں کہ قلب کو بھی معراج ہوئی ہو گی اور قالب کو بھی اور روح کو بھی۔ ہر ایک کو کس طرح معراج ہوئی ہو گی؟ حضور خواجہ غریب نواز نے جواب میں یہ مصرع پڑھا ’’تظن خیرا ولا تسئل عن الخیر‘‘یعنی ’’گمان خیر رکھ اور خیر کی بابت تحقیق نہ کر ۔ (فوائد الفواد جلد نمبر ۴ صفحہ نمبر ۲۰۸،چشتی)
مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ اور رسول کے مابین راز ہے جس کو مان لو اور اس کی ماہیت و کیفیت کے پیچھے نہ پڑو۔ اس مضمون سے بھی فقیر کے بیان پر اس طرح روشنی پڑتی ہے کہ قالب بشریت ہے روح ملکیت اور قلب مظہریت حق۔ تینوں کو معراج ہوئی۔ یہ اجمال ہے۔ اس کی تفصیل وہ تھی جو فقیر وضاحت کے ساتھ بیان کر چکا ہے۔
مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت ملکیت اور مظہریت تینوں کو معراج کرائی۔
بشریت اس عالم کی چیز ہے اس کی معراج یہاں یعنی مسجد اقصیٰ میں ہوئی۔ ملکیت و نورانیت عالم سمٰوٰت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی معراج آسمانوں پر ہوئی۔ مظہریت حقیہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات سے متعلق ہے۔ اس لئے اس کی معراج فوق العرش لامکان میں ہوئی۔ جہاں اللہ تعالیٰ کا دیدار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ہوا۔ بشریت کی معراج اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی میں تفصیلاً مذکور ہے اور آسمانی معراج لِنُرِیَہٗ میں اجمالا مذکور ہے اور معراج فوق العرش قرب ایزدی و دیدار الٰہی کا ذکر اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ میں ہے۔
معلوم ہوا کہ سفر معراج کے تین حصے صرف اس لیے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی تین صفتیں ہیں۔ ہر صفت کی معراج کا مستقل ذکر ہے۔ ہمارے اس بیان سے کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشریت کو جب معراج ہوئی تھی تو اس وقت روح مبارک نہ تھی یا جس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت ملکیہ کی معراج آسمانوں پر ہوئی تو اس وقت جسمانیت مطہرہ ساتھ نہ تھی۔ اسی طرح جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مظہریت مطہرہ کو معراج ہوئی تھی تو روح اقدس یا جسم مبارک اس وقت موجود نہ تھا۔ اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ان تمام مراحل میں جسم اقدس اور روح مبارک کے ساتھ جلوہ گر تھے۔ جب مسجد اقصیٰ تشریف لے گئے تو جسم اقدس کے ساتھ روح مبارک بھی تھی اور جب مسجد اقصیٰ سے آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ پر تشریف لے گئے تو اس وقت بھی روح مبارک بدن اقدس میں جلوہ گر تھی۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ اس عالم ناسوت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بشریت مطہرہ بالفعل تھی اور ملکیت مقدسہ بالقوۃ۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام جسم و روح اقدس کے ساتھ عالم ملائکہ میں پہنچے تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بشریت بالقوۃ اور ملکیت بالفعل ہو گئی تھی اور جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مقام ’’دَنٰی فَتَدَلّٰی‘‘ پر جلوہ گر ہوئے تو بشریت و ملکیت دونوں بالقوۃ ہو گئیں اور کمال مظہریت قوت سے فعل کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آدمی جب کسی پر غضب ناک ہوتا ہے تو اس میں رحم کی صفت موجود ہوتی ہے۔ بولنے کے وقت خاموش ہونے کی اور خاموشی کے وقت بولنے کی طاقت انسان میں موجود ہوتی ہے۔ حرکت کے وقت سکون کی اور سکون کے وقت حرکت کی قوت انسان میں پائی جاتی ہے۔
اسی طرح بشریت کے معراج کے وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملکیت و مظہریت موجود تھی اور حقیقت ملکیہ کے وقت بشریت اور مظہریت دونوں صفتیں بحال تھیں۔ پھر حقیقت مظہریت کی معراج ہوئی تو بشریت اور ملکیت دونوں بدستور تھیں۔ ان تینوں میں سے ہر ایک کی معراج کے وقت اسی حقیقت کا غلبہ تھا۔ مسجد اقصیٰ میں بشریت اور آسمانوں میں ملکیت و روحانیت اور عرش پر حقیقت مظہریت کو اللہ تعالیٰ نے غالب
فرما دیا تھا۔ (مقالات کاظمی جلد اوّل).

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_6.html?m=1
https://t.me/islaamic_Knowledge/26047
معراج النبی ﷺ حصّہ دوم
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_6.html?m=1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ سوم
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/295721615997218/
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بیداری کی حالت میں جسمانی معراج نصیب ہوئی ، اس پہ قرآنی آیت و صحیح احادیث دال ہیں ، نیز جمہور صحابۂ کرام ، تابعین ، تبعِ تابعین ، فقہاء ، محدثین اور متکلمین رضی اللہ عنہم وعلیہم الرحمہ کا مذہب اور اہلِ سنّت و جماعت کا یہی عقیدہ ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (سورہ الاسرا)
ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کروائی جس کے اِرد گِرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ، بیشک وہی سننے والا، دیکھنے والا ہے ۔ (پ15، بنی اسرآءیل :1)

اس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازن ، جلالین اور حاشیہ صاوی میں ہے : والحق الذی علیہ اکثر الناس ومعظم السلف و عامۃ الخلف من المتأخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بروحہ وجسدہ صلی اللہ علیہ وسلم، ویدل علیہ قولہ سبحانہ و تعالیٰ : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ و لفظ العبد عبارۃ عن مجموع الروح والجسد، والحدیث الصحیحۃ التی تقدمت تدل علی صحۃ ھذا القول ۔
ترجمہ : حق وہی ہے جس پر کثیر لوگ، اکابر علماء اور متأخرین میں سے عام فقہاء ، محدثین اور متکلمین ہیں کہ حضور علیہ السَّلام نے جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ، اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا ، کیونکہ لفظ عبد روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے ، یونہی (ماقبل) ذکر کردہ حدیث صحیح بھی اس قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے ۔(تفسیر خازن پارہ نمبر 15 الآیۃ:1 ، جلد 3 صفحہ 158)

نسیم الریاض میں ہے : انہ اسراء بالجسد والروح فی القصۃ کلھا ۔ ای فی قصۃ الاسراء الی المسجد الاقصی والسموات ، (وعلیہ تدل الآیۃ) الدالۃ علی شطرھا صریحاً (وصحیح الاخبار) المشھورۃ المستفیضۃ الدالۃ علی عروجہ صلی اللہ علیہ وسلم الی السماء، والاحادیث الاحاد الدالۃ علی دخولہ الجنۃ ووصولہ الی العرش او طرف العالم کما سیاتی وکل ذلک بجسدہ یقظۃ ۔
ترجمہ : نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے واقعۂ معراج میں یعنی مسجدِ اقصی سے آسمانوں تک جسم و روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ، جس کے ایک حصے پہ آیتِ کریمہ واضح طور پہ دلالت کرتی ہے اور آسمانوں تک کی سیر پر حدیثِ مشہور مستفیض دلالت کرتی ہے، نیز جنّت میں داخل ہونے ، عرش پہ جانے یا عالَم کے اس کنارے جانے پہ خبرِ واحد دلالت کرتی ہے ، جیسے کہ آگے آئے گا ، اور یہ سب بیداری میں جسمِ مبارک کے ساتھ تھا ۔ (نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 103،چشتی)

مکتوباتِ امام ربّانی و فتاویٰ رضویہ میں ہے : معراج شریف یقیناً قطعاً اسی جسمِ مبارک کے ساتھ ہوئی نہ کہ فقط روحانی ، جو ان کی عطا سے ان کے غلاموں کو بھی ہوتی ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ (یعنی ) پاکی ہے اسے جو رات میں لے گیا اپنے بندہ کو، یہ نہ فرمایا کہ لے گیا اپنے بندہ کی روح کو ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 15 صفحہ 74 )

مقالاتِ کاظمی میں ہے : جمہور علماء، صحابہ ، تابعین و تبعِ تابعین اور ان کے بعدمحدثین و فقہاء اور متکلمین سب کا مذہب یہ ہے کہ اسراء اور معراج دونوں بحالتِ بیداری اور جسمانی ہیں اور یہی حق ہے ۔ (مقالاتِ کاظمی جلد 1 صفحہ 114)

معراج شریف کا مطلقاً انکار کفر ہے ، کیونکہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک کی معراج قطعی اور کتابُ اللہ سے ثابت ہے، البتہ جو معراج کو تسلیم کرے لیکن فقط روحانی کا قائل ہو تو وہ خطا پر ہے ، اور فی زمانہ اس کا انکار نہیں کرتے مگر بد مذہب و گمراہ لوگ ۔

معراج کا مطلقاً انکار کفر ہے، چنانچہ شرح عقائدِ نسفیہ پھر نِبْراس میں ہے : فالاسراء ھو من المسجد الحرام الی البیت المقدس قطعی ای یقینی ثبت بالکتاب ای القرآن و یکفر منکرہ۔۔ الخ ۔
ترجمہ : مسجدِ حرام سے بیت المقدس تک کی سیر قطعی یقینی اور کتاب اللہ سے ثابت ہے اور اس کا منکر کافر ہے ۔ (النبراس صفحہ نمبر 295)

نسیم الریاض میں ہے : ذھب معظم السلف و المسلمین ۔ عطف للعام علی الخاص، وفیہ اشارۃ الی ان خلافہ لا ینبغی لمسلم اعتقادہ (الی انہ اسراء بالجسد) مع الروح (وفی الیقظۃ) ۔
ترجمہ : (اکابر علماء و مسلمین اس طرف گئے ہیں) یہ عام کا خاص پر عطف ہے اور اکابر علماء و مسلمین کہنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کے خلاف کا اعتقاد رکھنا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا، (کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حالتِ بیداری میں جسم اور روح مبارک کے ساتھ سیر فرمائی ۔ (نسیم الریاض جلد 3 صفحہ 99)

فتاویٰ رضویہ میں ہے : ان عظیم وقائع نے معراج مبارک کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا ، اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تو اس پر تعجب کیا ؟ زید و عمرو خواب میں حرمین شریفین تک ہو آتے ہیں ، اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں ۔ رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور (اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ) نہ دیکھنا صریح خطا ہے ۔ رؤیا بمعنی رویت آتا ہے ۔ اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں ، ولہٰذا ارشاد ہوا : سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا ۔ پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو لے گیا ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 635)

حدیث معراج : (بنظر اختصار صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے)
حضرت انس بن مالک حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے صحابہ کرام سے اس رات کی کیفیت بیان فرمائی جس میں آپ کو معراج ہوئی تھی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ میں حطیم کعبہ میں تھا۔ یکایک میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ یہاں سے لے کر یہاں تک چاک کیا۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے جارود سے پوچھا وہ میرے قریب بیٹھے ہوئے تھے کہ یہاں سے یہاں تک کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے بتایا کہ حلقوم شریف سے لے کر ناف مبارک تک۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ پھر اس آنے والے نے میرا سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا۔ پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا اس کے بعد میرا دل دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہو گیا۔ اس قلب کو سینۂ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک جانور سوار ہونے کے لئے لایا گیا جو خچر سے نیچا اور گدھے سے اونچا تھا۔ (جارود نے حضرت انس سے پوچھا کہ اے ابو حمزہ کیا وہ براق تھا؟ حضرت انس نے فرمایا، ہاں!) وہ اپنا قدم منتہائے نظرپر رکھتا تھا۔ میں اس پر سوار ہوا پھر جبریل مجھے لے کر چلے۔ یہاں تک کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچے (۱) تو جبریل علیہ السلام نے اس کا دروازہ کھلوایا، پوچھا گیا، کون ہے؟ انہوںنے کہا، جبریل۔ پھر آسمان کے فرشتوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ۔ پوچھا گیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں۔ کہا گیا انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں وہاں پہنچا تو آدم علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ یہ آپ کے باپ آدم علیہ السلام ہیں۔ آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو۔ صالح بیٹے اور صالح نبی کو۔ پھر (جبریل علیہ السلام میرے ہمراہ) اوپر چڑھے۔ یہاں تک کہ دوسرے آسمان پر پہنچے اور انہوں نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پھر پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ اس (دوسرے آسمان کے دربان) نے کہا، خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ یہ کہہ کر دروازہ کھول دیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ملے۔ وہ دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ یحییٰ اور عیسیٰ ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ ان دونوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل مجھے تیسرے آسمان پر لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پھر دریافت کیا گیا، کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں۔ اس کے جواب میںکہا گیا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور نہایت مبارک ہے اور دروازہ کھول دیا گیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو یوسف علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ یوسف ہیں، انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ خوش آمدید ہو اخ صالح نبی صالح کو۔ اس کے بعد جبریل علیہ السلام چوتھے آسمان پر مجھے لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا، جبریل۔ پھر دریافت کیا گیا تمہارے ہمراہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پھر پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ چوتھے آسمان کے دربان نے کہا کہ انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور
نہایت مبارک ہے اور دروازہ کھول دیا گیا۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ادریس علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہ ادریس ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ اس کے بعد کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے ساتھ لے کر اوپر چڑھے یہاں تک کہ پانچویں آسمان پر پہنچے اور انہوں نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ پانچویں آسمان کے دربان نے کہا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور مبارک ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ہارون علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ ہارون ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر کہا، خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے اوپر چڑھا لے گئے۔ یہاں تک کہ ہم چھٹے آسمان پر پہنچے۔ جبریل علیہ السلام نے اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون؟ انہوں نے کہا جبریل۔ دریافت کیا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ اس فرشتے نے کہا انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت ہی اچھا اور مبارک ہے۔ میں وہاں پہنچا تو موسیٰ علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ موسیٰ ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا خوش آمدید ہو اخ صالح اور نبی صالح کو۔ پھر جب میں آگے بڑھا تو وہ روئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں روتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا میں اس لئے روتا ہوں کہ میرے بعد ایک مقدس لڑکا مبعوث کیا گیا جس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے ساتویں آسمان پر چڑھا لے گئے اور اس کا دروازہ کھلوایا۔ پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے کہا جبریل۔ پوچھا گیا تمہارے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم۔ پوچھا گیا کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا، ہاں۔ تو اس فرشتے نے کہا، انہیں خوش آمدید ہو۔ ان کا آنا بہت اچھا اور مبارک ہے۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو ابراہیم علیہ السلام ملے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ آپ کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ انہیں سلام کیجئے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا کہ خوش آمدید ہو ابن صالح اور نبی صالح کو۔ پھر میں (۱) سدرۃ المنتہیٰ تک چڑھایا گیا تو اس درخت سدرہ کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا، یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے اور وہاں چار نہریں تھیں۔ دو پوشیدہ اور دو ظاہر۔ میں نے پوچھا، اے جبریل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا، ان میں جو پوشیدہ ہیں، وہ تو جنت کی نہریں ہیں اور جو ظاہر ہیں وہ نیل و فرات ہیں۔ پھر بیت المعمور میرے سامنے ظاہر کیا گیا۔ اس کے بعد مجھے ایک برتن شراب کا اور ایک دودھ کا اور ایک برتن شہد کا دیا گیا۔ میں نے دودھ کو لے لیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا یہی فطرت (دین اسلام) ہے۔ آپ اور آپ کی امت اس پر قائم رہیں گے۔ اس کے بعد مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ جب میں واپس لوٹا تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ کی امت پچاس نمازیں روزانہ نہ پڑھ سکے گی۔ خدا کی قسم! میں آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں اور بنی اسرائیل کے ساتھ میں نے سخت برتاؤ کیا ہے۔ لہٰذا آپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ میں لوٹا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں معاف کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں پھر خدا کے پاس واپس گیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں پھر معاف کر دیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا انہوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں پھر خدا کے پاس واپس گیا تو مجھے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس لوٹ کر آیا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا حکم ملا؟ میں نے کہا روزانہ پانچ نمازوں کا حکم ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی امت پانچ نمازیں بھی نہ پڑھ سکے گی۔ میں نے آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کیا ہے اور بنی اسرائیل سے سخت برتاؤ کر چکا ہوں۔ لہٰذا آپ پھر اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب تعالیٰ سے کئی مرتبہ درخواست کی، مجھے شرم آتی ہے۔ لہٰذا اب میں راضی ہوں اور اپنے رب کے حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں آگے بڑھا۔ ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ میں نے اپنا حکم جاری کر دیا اور اپنے بندوں سے تخفیف فرما دی ۔ (صحیح بخاری جلد اول
صفحہ نمبر ۵۴۸)

بخاری شریف کی ایک دوسری روایت میں سدرۃ المنتہیٰ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ایسا قرب مذکور ہے جسے قاب قوسین او ادنٰی سے تعبیر فرمایا گیا۔ حدیث شریف کے الفاظ حسب ذیل ہیں :

حتی جاء سدرۃ المنتہٰی ودنا الجبار رب العزۃ فتدلّٰی حتّٰی کان منہ قاب قوسین او ادنٰی ۔ (بخاری شریف جلد ثانی ص ۱۱۲۰)
یعنی اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے قریب ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالیٰ سے اس سے بھی زیادہ قرب طلب فرمایا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دو کمانوں کی مقدار یا اس سے بھی زیادہ قریب ہو گیا ۔ (عینی جلد ۲۵ ص ۱۷۰) اور اللہ تعالیٰ کا جمال مبارک سر اقدس کی آنکھوں سے دیکھا ۔ (فتح الباری جلد ۱۳ ص ۴۱۷، عینی نبراس، شرح عقائد)

آسمانی معراج کہاں تک ہوئی؟ اس میں علماء اہل سنت کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ اور جنت الماویٰ تک حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لے گئے۔ بعض نے کہا، عرش تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج ہوئی اور ایک قول ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فوق العرش تشریف لے گئے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم طرف عالم تک تشریف لے گئے یعنی عالم اجسام کی وہ انتہا جس کے پیچھے کچھ نہیں۔ نہ ہوا نہ زمان و مکان، بلکہ عدم محض ہے۔ (شرح عقائد نسفی، نبراس)

اسراء یعنی مسجد حرام سے بیت المقدس تک تشریف لے جانا قطعی اور یقینی ہے جس کا منکر مسلمان نہیں اور زمین سے آسمان کی طرف معراج ہونا احادیث مشہورہ سے ثابت ہے۔ اس کا منکر فاسق اور ضال و مضل ہے۔ پھر آسمانوں سے جنت کی طرف اور عرش یا عرش کے علاوہ فوق العرش تک یا لا مکاں تک اخبار احاد سے ثابت ہے۔ جس کا منکر سخت آثم اور گنہگار ہے۔ (شرح عقائد، نبراس صفحہ ۴۷۴،چشتی)

ولذا اختلف فی الانتہاء فقیل الی الجنۃ وقیل الی العرش وقیل الٰی مافوقہ وہو مقام دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی (شرح فقہ اکبر ص ۱۳۶)
ترجمہ: اسی وجہ سے اختلاف ہوا کہ معراج کہاں تک ہوئی۔ ایک قول ہے جنت تک اور ایک قول ہے عرش تک اور ایک قول میں وارد ہے کہ فوق العرش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تشریف لے گئے اور وہ مقام ہے۔

دنا فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی (وجاوز السبع الطباق) وہی السمٰوٰت (او جاوز سدرۃ المنتہٰی ووصل الٰی محل من القرب سبق بہ الاولین والاٰخرین) اذ لم یصل الیہ نبی مرسل ولا ملک مقرب ۔ (زرقانی جلد ۶، ص ۱۰۱،چشتی)
ترجمہ : حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم شب معراج ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ سے گزر گئے اور ایسے مقام قرب تک پہنچے کہ اولین و آخرین سب پر سبقت لے گئے کیونکہ جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پہنچے وہاں نہ کوئی نبی پہنچا نہ رسول نہ کوئی مقرب فرشتہ۔

(ودنو الرب تبارک وتعالٰی وتدلیہ علٰی مافی حدیث شریک) عن انس (کان فوق العرش لا الی الارض) ۔(زرقانی جلد ۶ ص ۹۹)
اور اللہ تعالیٰ کا (اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے) قریب ہونا اور زیادتی قرب کا طلب فرمانا عرش کے اوپر تھا زمین پر نہیں تھا۔

قائلین معراج منامی کے شبہات اور ان کا جواب

جو لوگ معراج جسمانی کے منکر اور منامی کے قائل ہیں، ان کے شبہات مع جوابات حسب ذیل ہیں

پہلا شبہ : اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے ’’وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِیْ اَرَیْنَاکَ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ‘‘ (بنی اسرائیل: ۶۰) اور نہیں کیا ہم نے اس رؤیا کو جو آپ کو دکھائی (اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم) لیکن آزمائش لوگوں کے لئے۔ بعض مفسرین نے اس آیہ کریمہ کو معراج پر محمول کیا ہے لہٰذا معراج منامی ہو ئی کیونکہ ’’رؤیا‘‘ عربی زبان میں خواب کو کہتے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مفسرین کی ایک جماعت نے حدیبیہ یا بدر کی رؤیا پر حمل فرمایا ہے۔ اس لئے کہ اس کو واقعہ معراج پر محمول کرنا حتمی اور یقینی امر نہ رہا۔ علاوہ ازیں لفظ رؤیا رویت بصری کے معنی میں بھی آتا ہے۔ خصوصاً رات میں جسمانی آنکھ سے دیکھنے کے معنی میں یہ لفظ اکثر استعمال ہوا ہے۔ دیکھئے دیوان متنبی میں ہے

مضی اللیل والفضل الذی لک لایمضی
ورؤیاک احلٰی فی العیون من الغمض

(دیوان متنبی ص ۱۸۸ قافیۃ الضاد)

ترجمہ : رات ختم ہو گئی اور تیرا فضل ختم ہونے والا نہیں۔ اور تیرا دیدار جمال آنکھوں میں نیند سے زیادہ میٹھا ہے۔
اس شعر میں لفظ ’’رؤیا‘‘ رویت بصری کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ علاوہ ازیں اسی آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے
ہی رؤیا عین اریہا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم لیلۃ اسری بہ الٰی بیت المقدس ۔ (بخاری شریف جلد اول صفحہ ۵۵۰،چشتی)
کرمانی نے اس حدیث پر کہا ’’رؤیا عین‘‘ قید بہ للاشعار بان رؤیا بمعنی الرؤیۃ فی الیقظۃ لارؤیا النائم ۔ (کرمانی حاشیہ صفحہ ۵)
ترجمہ : رؤیا کو عین کے ساتھ یہ ظاہر کرنے کے لئے مقید فرمایا کہ لفظ ’’رؤیا‘‘ یہاں بحالت بیداری دیکھنے کے معنی میں ہے۔ سونے والے کی خواب کے معنی میں نہیں۔

دوسرا شبہ: بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث وارد ہے۔ جس میں حضرت انس نے تمام واقعہ معراج بیان کرنے کے بعد فرمایا فاستیقظ وہو فی المسجد الحرام یعنی حضور بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے۔ بعض روایات میں بینا انا نائم وارد ہے۔ بعض احادیث میں وہو نائم فی المسجد الحرام آیا ہے۔ ایک دوسری روایت میں بینا انا عند البیت بین النائم والیقظان ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو بحالت خواب معراج ہوئی۔

اس کا جواب امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور امام بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری میں دیا ہے۔ ہم اسے نقل کئے دیتے ہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی فاستیقظ وہو بالمسجد الحرام کے تحت فرماتے ہیں

واقلہ قولہ فاستیقظ وہو عند المسجد الحرام فان حمل علٰی ظاہرہٖ جاز ان یکون نام بعد ان ہبط من السماء فاستیقظ وہو عند المسجد الحرام وجاز ان یؤول قولہ استیقظ ای افاق مما کان فیہ فانہ کان اذا اوحی الیہ یستغرق فیہ فاذا انتہٰی رجع الٰی حالتہ الاولٰی فکنٰی عنہ بالاستیقاظ انتہٰی ۔ (فتح الباری جلد نمبر ۱۳ صفحہ نمبر ۴۱۰،چشتی)
ترجمہ : اس کا اقل، راوی کا یہ قول ہے کہ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بیدار ہوئے تو آپ مسجد حرام میں تھے۔ اس قول کو ظاہر پر بھی حمل کرنا جائز ہے اور اس کی تاویل بھی کی جا سکتی ہے۔ ظاہر پر عمل کریں تو یہ کہیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم آسمان سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد حرام ہی میں تھے اور اگر تاویل کریں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو جب معراج کے حال سے افاقہ ہوا تو آپ مسجد حرام میں تھے کیونکہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو وحی ہوتی تھی تو آپ اس میں مستغرق ہو جاتے تھے۔ جب وحی ختم ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حالت استغراق سے افاقہ ہو جاتا تھا۔ بالکل یہی کیفیت معراج کے وقت ہوئی کہ جب تک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج میں رہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پر وہ استغراق کا حال طاری رہا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم مسجد حرام میں واپس تشریف لائے تو وہ حالت زائل ہو گئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم پہلی حالت کی طرف لوٹ آئے ۔ راوی نے ’’استیقظ‘‘ کہہ کر اسی سے کنایہ کیا ہے ۔ (فتح الباری جلد ۱۳ صفحہ ۴۱۰،چشتہ)

امام ابن حجر نے آگے چل کر اسی بارے میں امام قرطبی کا قول نقل کیا ہے جس کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ بیدار ہونا اس نیند سے ہے جو معراج سے واپس تشریف لا کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمائی تھی۔ کیونکہ معراج تمام رات نہیں ہوئی وہ تو بہت ہی قلیل ترین وقت میں واقع ہوئی تھی اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام معراج سے واپس تشریف لا کر مسجد حرام میں سو گئے۔ صبح اٹھے تو مسجد حرام ہی میں جلوہ گر تھے۔

نیز احتمال ہے کہ استیقاظ بمعنی افاقہ ہو۔ کیونکہ ملاء اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے مشاہدہ کا حال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایسا غالب تھا کہ بشریت اور عالم اجسام کی طرف سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بالکل غیر متوجہ ہو گئے تھے۔ حتیٰ کہ مسجد حرام میں پہنچنے تک یہی حال رہا۔ جب مسجد حرام میں جلوہ گر ہوئے تو حال بشریت کی طرف رجوع فرمایا اور حالت سابقہ سے افاقہ ہوا۔ اس افاقہ کو راوی نے استیقظ سے تعبیر کیا اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو ملاء اعلیٰ اور آیات کبریٰ کے حال سے افاقہ ہوا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام مسجد حرام میں تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول مبارک کہ میں سویا ہوا تھا تو اس سے شب معراج میں جبریل علیہ السلام کے آنے سے پہلے خواب استراحت فرمانا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم جبریل علیہ السلام کے آنے سے پہلے سو رہے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے آ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جگایا۔ ایک اور روایت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا قول مبارک آیا ہے کہ انا بین النائم والیقظان اتانی الملک میں سونے جاگنے کے درمیان تھا کہ میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معراج کرانے کے لئے جس وقت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے تو اس وقت حضور علیہ السلام کی نیند مبارک ایسی ہلکی اور خفیف تھی کہ جسے سونے اور جاگنے کی درمیانی حالت سے تعبیر کیا جا سکتا تھا۔ جب جبریل علیہ السلام آئے تو انہوں نے اس خفیف نیند سے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بیدار کیا اور اس کے بعد بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم معراج پر تشریف لے گئے۔ (فتح الباری جلد ۱۳ ص ۴۱۷ مطبوعہ مصر،چشتی)(عمدۃ القاری جلد ۲۵ صفحہ ۱۷۳ مطبوعہ مصر طبع جدید)

لہٰذا ثابت ہوا کہ تینوں میں سے ایک روایت بھی معراج منامی کی دلیل نہیں اور منکرین کا شبہ بالکل بے بنیاد ہے ۔ وللّٰہ الحمد

تیسرا شبہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں
ما فقدت جسد رسول اللّٰہ ا لیلۃ المعراج ۔ معراج کی رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا جسم مبارک گم نہیں پایا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج بعثت کے ایک یا ڈیڑھ سال یا پانچ سال بعد اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہوئی ہے۔ ان اقوال کے بموجب معراج مبارک ہجرت سے آٹھ سال یا ساڑھے گیارہ سال یا بارہ سال پہلے ہوئی اور حضرت عائشہ صدیقہ کی شادی مبارک ہجرت کے بعد ہوئی۔ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف 9 برس تھی۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بربنائے بعض اقوال معراج کے وقت حضرت عائشہ صدیقہ پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں اور اگر ان کی پیدائش مان بھی لی جائے تو بہر نوع حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے پاس ان کا پایا جانا ہجرت کے بعد ہی ہے۔ پھر ان کا یہ فرمانا کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسم مبارک معراج کی رات گم نہیں پایا کیونکر متصور ہو سکتا ہے؟ رہا یہ شبہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث ان الفاظ سے بھی مروی ہے : ما فقد جسد رسول اللّٰہ الیلۃ المعراج ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایت بلا شبہ غیر ثابت اور مبنی بر خطا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مافقدت اور فقد دونوں روایتیں ازروئے درایت و روایت صحیح نہیں اس لئے اس سے معارضہ کرنا باطل ہے۔

اور اگر بر تقدیر تسلیم اس حدیث کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا معراج مبارک کی سرعت اور اس کے قلیل ترین وقت میں ہونے کو بیان فرما رہی ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آنا جانا اس قدر تیزی اور سرعت کے ساتھ واقع ہوا کہ گویا جسم مبارک گم ہونے ہی نہیں پایا تو یہ معنی دیگر روایات کے مطابق صحیح قرار پائیں گے۔

چوتھا شبہ: یہ ہے کہ آیت قرآنیہ ’’مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی‘‘ سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ معراج خواب میں ہوئی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا ترجمہ نیند اور خواب کیا جائے۔ آیت کے معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے قلب مبارک نے اس چیز کی تکذیب نہیں کی جسے چشم مبارک نے دیکھا۔ یعنی معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی چشم اقدس سے جو کچھ دیکھا اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کسی قسم کا وہم یا اشتباہ واقع نہیں ہوا اور اس کی دلیل یہ آیت ہے ’’مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی‘‘ (نہ کج ہوئی نگاہ نہ بہکی) لفظ بصر جسمانی نگاہ کے لئے آتا ہے۔ خواب میں دیکھنے کو بصر نہیں کہتے۔ الحمد للّٰہ! قائلین معراج منامی کے تمام شبہات کا ازالہ ہو گیا۔

نیچری اور مسئلہ معراج

معراج کا واقعہ درحقیقت ایمان کے لئے کسوٹی کا حکم رکھتا ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، علم و قدرت، عظمت و حکمت پر کامل ایمان رکھتا ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی نبوت و رسالت، صداقت و کمالات کی دل سے تصدیق کرتا ہے وہ واقعہ معراج یا اسی قسم کے خرق عادات امور کا کبھی انکار نہیں کر سکتا۔ جب کہ قرآن و حدیث میں اس کا صاف اور واضح بیان بھی موجود ہے اور عہد رسالت سے لے کر ہر دور کے جمہور مسلمان اس کو بلا تاویل تسلیم کرتے چلے آئے ہیں۔

رہے وہ شکوک و شبہات جنہیں فلاسفہ کی اتباع میں نیچری پیش کیا کرتے ہیں کہ جسم طبعی مادی مرکب من العناصر کا عناصر کی حدود سے تجاوز کرنا اور آسمانوں پر صعود کرنا محال ہے۔ نیز آسمانوں میں خرق والتیام بھی ناممکن ہے۔ پھر زمان و مکان کے بغیر کسی جسم کا پایا جانا بھی از قبیل محالات ہے۔ نیز رات کے قلیل ترین حصہ میں آسمانوں کی سیر کر کے واپس آنا کسی طرح ممکن نہیں۔اس قسم کے تمام شکوک و شبہات کا جواب یہ ہے کہ ان تمام امور کے محال ہونے سے ان کی مراد محال عقلی ہے یا عادی۔ برتقدیر اول آج تک استحالہ عقلیہ پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکی۔ جس قدر دلائل فلاسفہ کی طرف سے پیش ہوئے ہیں ان سب کا مفاد استحالہ عادیہ ہے اور بس۔ معلوم ہوا کہ یہ جملہ امور متنازعہ فیہا از قبیل محالات عادیہ ہیں اور محال عادی ممکن بالذات ہوتا ہے اور ممکن بالذات حادث تحت قدرت ہے۔ لہٰذا یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت ثابت ہوئیں اور معراج کرانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس لئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عالم عناصر سے آسمانوں پر لے جانا اور رات کے بہت تھوڑے حصے میں واپس لے آنا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت و تصرف کا کرشمہ قرار پایا جس پر فلاسفہ کا کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ’’سُبْحٰنَ
الَّذِیْ اَسْرٰی‘‘ فرمایا اور لے جانے کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی تاکہ اعتراض کی کوئی گنجائش نہ رہے ۔ (مقالات کاظمی جلد اوّل) ۔

(مزید حصّہ چہارم میں ان شاء اللہ)

(طالب دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/295721615997218/
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ چہارم
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296382269264486/
محترم قارئینِ کرام : معراج جسمانی اور دیدار الہی قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔ اللہ تعالی نے مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کےلیے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا ، ہر نبی کو ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق معجزات عطا کیے ، امت جس فن میں کمال رکھتی تھی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بھی اسی صنف سے اس شان کا معجزہ پیش کرتے کہ تمام افراد کی عقلیں دنگ رہ جاتیں ، صبح قیامت تک آنے والی تمام نسل انسانی چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہی کی امت ہے ، اللہ تعالی نے اسی لحاظ سے آپ کو معجزات عطا فرمائے ، آج سائنس و ٹکنالوجی‘ ترقی اور عروج کی منزلیں طئے کرتی ہوئی اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ انسان سورج کی شعاعوں کو گرفتار کر رہا ہے ، خلائی کائنات کا سفر کرتے ہوئے چاند تک پہنچ گیا ہے ، لیکن سائنس اور ماہرین فلکیات اپنی اس حیرت انگیز ترقی کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معجزۂ معراج کی عظمت و رفعت اور بلندیوں کا تصور نہیں کر سکتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ معراج حالتِ بیداری میں اپنے رب عزوجل کا دیدار کیا ، جس پر متعدد آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ نبویہ سے تائید ملتی ہے اور اس پر اقوالِ صحابہ بھی موجود ہیں اور یہ دیدار دنیاوی زندگی کے اندر حالتِ بیداری میں صرف اور صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے ، کسی اور کو نہیں ہو سکتا ۔جو شخص دنیاوی زندگی میں حالتِ بیداری میں رب عزوجل کو دیکھنے کا دعوی کرے ، اس پر علماء نے گمراہی اور کفر کا حکم دیا ہے ، ہاں خواب میں رب عزوجل کا دیدار ممکن ہے ، بلکہ بہت سے اولیائےکرام کو ہوا بھی ہے ، جیسے حضرت سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں سوبار اللہ عزوجل کادیدار کیا ۔

سائنسی دنیا جس قدر ترقی کرتی جار ہی ہے اسی قدر حقائق اسلامیہ آشکار ہوتے جا رہے ہیں ، آج کم فہم اور سطحی علم رکھنے والے افراد جو اعتراض کرتے ہیں کہ ’’یہ کیسے ممکن ہیکہ رات کے مختصر سے حصہ میں اتنا طویل سفر کیا گیا ہو‘‘ ان پر بھی واضح ہوگیا کہ انسان کی بنائی ہوئی ’’بجلی‘‘ کی سرعت کا حال یہ ہے کہ وہ ایک سکنڈ میں تین لاکھ کیلومیٹر کا سفرطے کرتی ہے، جب مخلوق کی بنائی ہوئی ’’روشنی‘‘ کی قوتِ سرعت اس شان کی ہے تو قادر مطلق نے جنہیں سراپا نور بنا کر بھیجا ہے اس نورِ کامل کی سرعتِ رفتار اور طاقتِ پرواز کا کون اندازہ کر سکتا ہے ۔

ماہ رجب کی ستائیسویں شب اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حالت بیداری میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس اور بیت المقدس سے ساتوں آسمان‘ جنت و دوزخ اور ساتویں آسمان سے عرش بریں ، ماوراء عرش جہاں تک اس کو منظور تھا سیر کرائی اپنے قرب خاص و دیدار پر انوار کی سعادت سے مشرف فرمایا اور آپ کی وساطت سے امت کو نماز کا عظیم تحفہ عنایت فرمایا ۔ معراج جسمانی قرآن کریم سے ثابت ہے ارشاد الٰہی ہے : سُبْحَانَ الَّذِیْ أَسْرٰی بِعَبْدِه لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَي الَّذِي بَارَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۔ ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندۂ خاص کو رات کے مختصر سے حصہ میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں- بے شک وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل ۔1)

جسمانی معراج کی واضح دلیل آیت معراج میں وارد ’’بعبدہ‘‘ کا لفظ ہے ’’عبد‘‘ کے معنی سے متعلق مفسرین نے فرمایا ہے کہ روح اور جسم کے مجموعہ کا نام ’’عبد‘‘ ہے عبد (بندہ) نہ صرف روح کو کہا جاسکتا ہے اور نہ محض جسم کو۔ لہٰذا لفظ عبد سے معلوم ہوا کہ معراج روح اقدس و جسم اطہر کے ساتھ ہوئی ۔ "و تقرير الدليل أن العبد اسم لمجموع الجسد والروح ، فوجب أن يکون الإسراء حاصلاً لمجموع الجسد والروح" ۔ (تفسیر رازی‘ سورۃ بنی اسرائیل۔ 1)

صحیح احادیث میں براق لائے جانے کا ذکر ملتا ہے ۔ (صحیح مسلم شریف حدیث نمبر 429)(المستدرک علی الصحیحین للحاکم حدیث نمبر 8946)(تہذیب الآثار للطبری، حدیث نمبر 2771)(مستخرج أبی عوانۃ ، حدیث نمبر 259،چشتی)(مسند أبی یعلی الموصلی ، حدیث نمبر 3281)(مشکل الآثار للطحاوی حدیث نمبر 4377)(جامع الأحادیث ، حدیث نمبر553 مسند أحمد ، حدیث نمبر 12841)(مجمع الزوائد و منبع الفوائد ، حدیث نمبر 237)

ظاہر ہے کہ براق جیسے جانور پر روح اطہر نہیں بلکہ جسم منور کی سواری ہوتی ہے ۔

شبِ معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالی کو دیکھنے کے بارے میں قرآن مجید میں ہے : مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَاطَغٰی ۔
ترجمہ : آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی ۔ (القرآن پارہ 27 سورة النجم آیۃ 17)
امام محمد بن احمد مالکی قرطبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ولوکان منامالقال بروح عبدہ ولم یقل بعبدہ ، وقولہ (مازاغ البصر و ما طغی) یدل علی ذلک ، ولوکان مناما لما کانت فیہ آیۃ و لا معجزۃ ، ولما قالت لہ ام ھانی : لاتحدث الناس فیکذبوک،ولافضل ابوبکربالتصدیق،ولماأمکن قریشاالتشنیع والتکذیب،وقدکذبہ قریش فیماأخبربہ حتی ارتدأقوام کانواآمنوا،فلوکان بالرؤیالم یستنکر ۔
ترجمہ : اور اگریہ خواب کا واقعہ ہوتا ، تو اللہ تعالی یوں ارشاد فرماتا : ”بروح عبدہ“ اور ”بعبدہ“ نہ فرماتا ، نیز اللہ تعالی کا فرمان (مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی) بھی اس پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بیداری کا واقعہ تھا ، نیز اگر یہ خواب کا واقعہ ہوتا ، تو اس میں اللہ تعالی کی کوئی نشانی اور معجزہ نہ ہوتا اور آپ سے حضرت ام ہانی یہ نہ کہتیں کہ آپ لوگوں سے یہ واقعہ بیان نہ کریں ، کہ وہ آپ کی تکذیب کریں گے ، اور نہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تصدیق کرنے میں کوئی خاص فضیلت ہوتی اور نہ قریش کے طعن و تشنیع اور تکذیب کی کوئی وجہ ہوتی ، حالانکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی خبردی ، تو قریش نے آپ کی تکذیب کی اور کئی مسلمان مرتد ہو گئے اور اگر یہ خواب ہوتا ، تو کوئی اس کا انکار نہ کرتا ۔ (تفسیر الجامع لاحکام القرآن جلد 10 صفحہ 134 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ)

امام محمد اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ان رؤیة اللہ کانت بعین بصرہ علیہ السلام یقظة بقولہ ”ما زاغ البصر “الخ لان وصف البصر بعدم الزیغ یقتضی ان ذلک یقظة ولو کانت الرؤیة قلبیة لقال ما زاغ قلبہ واما القول بأنہ یجوز ان یکون المراد بالبصر بصر قلبہ فلا بدلہ من القرینة وھی ھھنا معدومة ۔
ترجمہ : (مازاغ البصر) کے فرمان سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اللہ عزوجل کو دیکھنا جاگتے ہوئے ظاہری آنکھوں کے ساتھ تھا ، کیونکہ بصر کو عدمِ زیغ (یعنی آنکھ کے کسی طرف نہ پھرنے) سے موصوف کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ معاملہ جاگتے ہوئے تھا اور اگر رؤیت قلبیہ ہوتی ، تو اللہ تعالی ”مازاغ البصر“ کے بجائے ”مازاغ قلبہ“ فرماتا ، بہرحال یہ کہنا کہ یہاں بصر سے مراد بصر قلبی ہے ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس مراد کےلیے کسی قرینے کا ہونا ضروری ہے اور وہ قرینہ یہاں معدوم ہے ۔ (تفسیر روح البیان پارہ 27 سورة النجم آیۃ 17 جلد 9 صفحہ 228 دارالفکر بیروت،چشتی)

شرح صحیح مسلم للنووی میں ہے : اختلف الناس فی الاسراء برسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقیل انماکان جمیع ذلک فی المنام والحق الذی علیہ اکثرالناس ومعظم المتاخرین من الفقھاء والمحدثین والمتکلمین انہ اسری بجسدہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم والآثارتدل علیہ ۔
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معراج کے متعلق علماء کااختلاف ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ پوری معراج خواب میں ہوئی تھی اورحق وہ ہے جس پر اکثر لوگ اور بڑے بڑے فقہاء ، محدثین اور متکلمین ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جسمانی معراج ہوئی ہے اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں ۔ (شرح مسلم للنووی جلد 1 صفحہ 91 مطبوعہ کراچی )

مجمع الزوائدمیں ہے : عن ابن عباس انہ کان یقول ان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رأی ربہ مرتین مرۃ ببصرہ ومرۃ بفؤادہ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا ۔ ایک مرتبہ سر کی آنکھ سے اور ایک مرتبہ دل کی آنکھ سے ۔ (مجمع الزوائد،باب منہ فی الاسراء جلد 1 صفحہ 79 مطبوعہ مکتبۃ القدسی،چشتی)

امام ابن عساکر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان اللہ اعطی موسی الکلام واعطانی الرؤیة لوجھہ وفضلنی بالمقام المحمود والحوض المورود ۔
ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ہم کلامی بخشی اور مجھے اپنا دیدار عطا فرمایا اور مجھ کو شفاعت کبریٰ و حوض کوثر سے فضیلت بخشی ۔ (کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر حدیث جد 14 صفحہ 447 مؤسسة الرسالة بیروت)

جامع ترمذی ومعجم طبرانی میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے : واللفظ للطبرانی عن ابن عباس قال نظر محمد الی ربہ قال عکرمة فقلت لابن عباس نظر محمد الی ربہ قال نعم جعل الکلام لموسیٰ والخلة لابرٰھیم والنظر لمحمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم زاد الترمذی وقد رأی محمد ربہ مرتین ۔
ترجمہ : طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ حضرت عکرمہ نے کہا : میں نے ابن عباس سے عرض کی : کیا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟فرمایا : ہاں ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کےلیے کلام رکھا اور ابراہیم کےلیے دوستی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے دیدار اور امام ترمذی نے یہ زیادہ کیا کہ بیشک محمد صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دوبار دیکھا ۔ (جامع الترمذی ابواب التفسیر سورة النجم جلد5 صفحہ 248 دار الغرب السلامی بیروت،چشتی)

امام شہاب الدین خفاجی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں : الاصح الراجح انہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رای ربہ بعین راسہ حین اسری بہ کما ذھب الیہ اکثر الصحابة ۔
ترجمہ : مذہب اصح وراجح یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شبِ معراج اپنے رب کوجاگتی آنکھ سےدیکھا ،جیسا کہ جمہور صحابہ کرام کا یہی مذہب ہے۔(نسیم الریاض ،فصل واما رؤیة لربہ،ج2،ص303، مرکز اھلسنت برکات رضا، گجرات ھند )

دنیاکی زندگی میں جاگتی آنکھوں سے اللہ تعالی کا دیدار نا ممکن ہونے کے بارے میں فتاوی حدیثیہ میں ہے : والامام الربانی المترجم بشیخ الکل فی الکل ابو القاسم القشیری رحمہ اللہ تعالیٰ یجزم بانہ لا یجوز وقوعھا فی الدنیا لاحد غیر نبینا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ولا علی وجہ الکرامة ،وادعی ان الامة اجتمعت علی ذلک ۔
ترجمہ : اور امام ربانی جنہیں شیخ الکل فی الکل ابو القاسم قشیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہا جاتا ہے ، نے اس بات پر جزم کیا کہ دنیا میں(جاگتے ہوئے) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی ایک کےلیے بھی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا وقوع جائز نہیں ، نہ ہی کرامت کے طور پر اور انہوں نے اس بات پر امت کے اجماع کا دعویٰ کیا ۔ (فتاوی حدیثیہ مطلب فی رؤیة اللہ تعالی فی الدنیا صفحہ 200 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

بیداری میں دیدارِ الہی کادعوی کرنے والے پر حکمِ کفر ہونے کے بارے میں المعتقد المنتقد میں ہے : کفروا مدعی الرویة کما أن القاری فی ذیل قول القاضی و کذالک من ادعی مجالسة اللہ تعالی والعروج الیہ ومکالمتہ “ قال : وکذامن ادعی رویتہ سبحانہ فی الدنیا بعینہ ۔
ترجمہ : اللہ تعالی کو دیکھنے کا دعوی کرنے والے شخص پر علماء نے کفر کا فتوی دیا ہے جیسا کہ ملا علی قاری نے قاضی عیاض کے اس قول (اسی طرح جواللہ تعالی کے ساتھ ہم نشینی اور عروج کر کے اس تک پہنچنے اور اس سے بات کرنے کامدعی ہو ، یہی حکم ِ کفر ہے ۔ کے تحت کہا ، اور یوں ہی حکمِ کفر ہے اس شخص پر بھی جو اللہ تعالی کو دنیا میں آنکھ سے دیکھنے کادعوی کرے ۔ (المعتقد المنتقد صفحہ 59 مطبوعہ برکاتی پبلیشرز)

حالتِ خواب میں اللہ تعالی کے دیدار کے جائز ہونے کے بارے میں المعتقد المنتقد میں ہے : أمارؤیاہ سبحانہ فی المنام .... جائزة عندالجمھور ، لأنھانوع مشاھدة بالقلب ، ولااستحالة فیہ و واقعة کما حکیت عن کثیر من السلف منھم أبوحنیفة وأحمدبن حنبل رضی اللہ تعالی عنہما ، و ذکرالقاضی الاجماع علی أن رؤیتہ تعالی مناماجائزة ۔
ترجمہ : جمہور علماء کے نزدیک اللہ سبحانہ کو خواب میں دیکھنا جائز ہے ، کیونکہ یہ دل سے حاصل ہونے والے مشاہدے کی ایک قسم ہے اور اس میں کوئی استحالہ نہیں اور خواب میں دیدار واقع بھی ہوا ہے ، جیسا کہ کثیر سلف سے حکایت کیا گیا ہے ، جن میں امام ابوحنیفہ اور امام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہما ہیں اور امام قاضی نے اس بات پر اجماع ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالی کا دیدار خواب میں جائز ہے ۔ (المعتقد المنتقد صفحہ 68 مطبوعہ برکاتی پبلیشرز)

منح الروض الازھرمیں ہے : رؤیة اللہ سبحانہ وتعالی فی المنام ، فالأکثرون علی جوازھا .... فقد نقل أن الامام أباحنیفة قال : رأیت رب العزة فی المنام تسعاوتسعین مرة ، ثم رأہ مرة أخری تمام المائة ۔
ترجمہ : اللہ سبحانہ و تعالی کا دیدار خواب میں ممکن ہے ، اور اکثر علماء اس کے جواز پر ہیں ..... منقول ہے کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : میں نے اللہ رب العزت کو خواب میں ننانوے مرتبہ دیکھا ہے ، پھرانہوں نے ایک مرتبہ اور دیکھا ، سو مکمل کرنے کےلیے ۔ (منح الروض الازھر صفحہ 124 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت،چشتی)

سفر معراج سے متعلق حضرت ملا جیون رحمة اللہ علیہ تفسیرات احمدیہ میں آیت معراج کے تحت فرماتے ہیں : و الأصح أنه کان فی اليقظة و کان بجسده مع روحه و عليه اهل السنة والجماعة فمن قال انه بالروح فقط او في النوم فقط فمبتدع ضال مضل فاسق۔
ترجمہ : صحیح ترین قول یہ ہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو معراج شریف حالت بیداری میں جسم اطہر اور روح مبارک کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے لہٰذا جو شخص کہے کہ معراج صرف جسم کے ساتھ ہوئی یا نیند کی حالت میں ہوئی وہ بدعتی، گمراہ، گمراہ گر اور دائرہ اطاعت سے خارج ہے ۔ (تفسیرات احمدیہ صفحہ 330)

حضرت ملا جیون رحمة اللہ علیہ نے مزید لکھا ہے : و لذا قال اهل السنة باجمعهم ان المعراج الي المسجد الاقصي قطعي ثابت بالکتاب و الي سماء الدنيا ثابت بالخبر المشهور و الی مافوقه من السموات ثابت بالاحاد. فمنکر الاول کافر البتة و منکرالثاني مبتدع مضل ومنکرالثالث فاسق۔
ترجمہ : اسی لیے اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سفر معراج مسجد حرام سے مسجد اقصی تک قطعی طور پر قرآن کریم سے ثابت ہے اور آسمانی دنیا تک کا سفر حدیث مشہور سے ثابت ہے اور ساتوں آسمان سے آگے خبر واحد سے ثابت ہے۔ چنانچہ جو شخص مسجد اقصی تک معراج کا انکار کرے وہ بالیقین کافر ہے جو مسجد اقصی سے آسمانی دنیا تک سفر کا انکار کرے وہ بدعتی گمراہ گر ہے اور آسمانوں کے آگے سفر کا انکار کرنے والا فاسق و فاجر ہے ۔(تفسیرات احمدیہ صفحہ 328)

شب معراج اور دیدار حق تعالیٰ

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عالم بالا کی سیر کرتے ہوئے قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ فرمایا اور اللہ تعالی کے دیدار پر انوار کی نعمت لازوال سے مشرف ہوئے۔ جس کا قرآن کریم و احادیث صحیحہ میں کہیں اشارۃً اور کہیں صراحۃً ذکر موجود ہے چنانچہ واقعہ معراج کے ضمن میں ارشاد خداوندی ہے : مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۔
ترجمہ : آپ نے جو مشاہدہ کیا دل نے اسے نہیں جھٹلایا ۔ (سورۃ النجم:11)
وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً أُخْرَي ۔
ترجمہ: اور یقیناً آپ نے اُسے دو مرتبہ دیکھا۔(سورۃ النجم: 13)
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَي ۔
ترجمہ : نہ نگاہ ادھر اُدھر متوجہ ہوئی اور نہ جلوۂ حق سے متجاوز ہوئی ۔ (سورۃ النجم: 17)
یعنی آپ کی نظر سوائے جمال محبوب کے کسی پرنہ پڑی ۔ لَقَدْ رَاٰي مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَي ۔
ترجمہ: بیشک آپ نے اپنے رب کی نشانیوں میں سب سے بڑی نشانی (جلوۂ حق) کا مشاہدہ کیا ۔ (سورۃ النجم۔ 18)

کتب صحاح و سنن میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے : وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّةِ فَتَدَلَّي حَتّي کَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَي ۔
ترجمہ : اور اللہ رب العزت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرب عطا کیا ، مزید اور قرب عطا کیا یہاں تک کہ آپ اس سے دو کمانوں کے فاصلہ پر رہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہوئے ۔ (صحیح بخاری شریف کتاب التوحید باب قَوْلِہِ (وَکَلَّمَ اللَّہُ مُوسَی تَکْلِیمًا) ۔ حدیث نمبر 7517۔مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان مبتدأ أبواب فی الرد علی الجہمیۃ وبیان أن الجنۃ مخلوقۃ ۔ حدیث نمبر 270 جامع الأصول من أحادیث الرسول کتاب النبوۃ أحکام تخص ذاتہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسمہ ونسبہ، حدیث نمبر 8867،چشتی)

صحیح مسلم‘ صحیح ابن حبان ‘مسند ابو یعلی ‘جامع الاحادیث ‘الجامع الکبیر‘ مجمع الزوائد ‘ کنزل العمال‘ مستخرج ابو عوانہ، میں حدیث پاک ہے: عن عبدالله بن شقيق قال قلت لابي ذر لو رايت رسول الله صلي الله عليه وسلم لسالته فقال عن أي شيء کنت تساله قال کنت أسأله هل رايت ربك؟ قال ابو ذر قد سالت فقال "رايت نورا۔"
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : اگر مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے دیدار کی سعادت حاصل ہوتی تو ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے دریافت کرتا، انہوں نے فرمایا تم کس چیز سے متعلق دریافت کرتے ؟ حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے یہ دریافت کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کا دیدارکیا ہے ؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میں نے دیکھا، وہ نور ہی نور تھا ۔ (صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب فِی قَوْلِہِ عَلَیْہِ السَّلاَمُ نُورٌ أَنَّی أَرَاہ.وَفِی قَوْلِہِ رَأَیْتُ نُورًا.حدیث نمبر:462۔مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان، حدیث نمبر:287۔صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ،ذکر الخبر الدال علی صحۃ ما ذکرناہ ،حدیث نمبر:58۔جامع الأحادیث،حرف الراء ،حدیث نمبر:12640۔جمع الجوامع أو الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الراء ، حدیث نمبر:12788۔مجمع الزوائد،حدیث نمبر:13840،چشتی،مسند أبی یعلی، حدیث نمبر:7163۔کنز العمال،حرف الفاء ،الفصل الثانی فی المعراج، حدیث نمبر:31864)

صحیح مسلم‘ مسند احمد‘ صحیح ابن حبان ‘مسند ابویعلی ‘معجم اوسط طبرانی ‘جامع الاحادیث ‘الجامع الکبیر ‘کنزل العمال‘ مستخرج ابو عوانہ میں حدیث پاک ہے: عن ابي ذر سألت رسول الله صلي الله عليه وسلم هل رأيت ربك؟ قال نور إني أراه۔ ترجمہ: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا؟ فرمایا: وہ نور ہے- بیشک میں اس کا جلوہ دیکھتا ہوں ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب نورانی اراہ ،حدیث نمبر:461،مسند احمد، مسند ابی بکر حدیث نمبر:21351 ! 21429،چشتی)
اس حدیث شریف میں بھی صراحت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حق تعالی کا دیدار کیا‘ صحابہ کرام نے عرض کیا: کیا آپ نے رب کا دیدار کیا؟ جواباً ارشاد فرمایا: "نور إني أراه" وہ نور ہے میں ہی تو اسکو دیکھتا ہوں۔ یہ حدیث شریف کتب احادیث میں مختلف الفاظ سے مذکور ہے (1) نور إني أراه ۔ (صحیح مسلم ،حدیث نمبر:461،مسند احمد ،حدیث نمبر:21351!21429)
(2) فقال نورا إني أراه۔ ترجمہ: میں نے جس شان سے دیکھا وہ نور ہی نور ہے ۔ (مسند احمد ،حدیث نمبر:21567) (3) فقال رايت نورا۔ ترجمہ: میں نے نور دیکھا۔ (صحیح مسلم ،حدیث نمبر: 462،مستخرج أبی عوانۃ،کتاب الإیمان،بیان نزول الرب تبارک وتعالی إلی السماء الدنیا ، حدیث نمبر:287۔صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ،ذکر الخبر الدال علی صحۃ ما ذکرناہ ،حدیث نمبر:58۔طبرانی معجم اوسط،حدیث نمبر:8300،مسند احمد ،حدیث نمبر:21537۔جامع الأحادیث، حرف الراء ،حدیث نمبر:12640۔جمع الجوامع أو الجامع الکبیر للسیوطی، حرف الراء ، حدیث نمبر:12788۔صحیح ابن حبان،کتاب الإسراء ، حدیث نمبر:255۔مجمع الزوائد،حدیث نمبر:13840۔مسند أبی یعلی، حدیث نمبر:7163۔کنز العمال،حرف الفاء ،الفصل الثانی فی المعراج، حدیث نمبر:31864،چشتی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا مفہوم

صحیح بخاری شریف میں روایت ہے: عن مسروق عن عائشة رضي الله عنها قالت: من حدثك أن محمدا صلی الله عليه و سلم رأي ربه فقد کذب و هو يقول (لا تدرکه الأبصار)
ترجمہ : مسروق بیان کرتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو شخص تم کو یہ بتائے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب کو احاطہ کے ساتھ دیکھا ہے تو اس نے جھوٹ کہا- اللہ تعالی کا ارشاد ہے لا تدرکه الابصار۔ آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ (سرہ انعام 103)۔(صحیح بخاری شریف کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ أحدا،حدیث نمبر:7380 )

اس حدیث پاک میں مطلق دیدار الہی کی نفی نہیں ہے بلکہ احاطہ کے ساتھ دیدار کرنے کی نفی ہے اللہ تعالی کا دیدار احاطہ کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالی کی ذات اور اُس کی صفات لامحدود ہیں- ‘اس لیے احاطہ کے ساتھ دیدارِ خداوندی محال ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے بغیر احاطہ کے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔

جامع ترمذی‘مسند احمد‘ مستدرک علی الصحیحین‘ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری‘ ،تفسیر ابن کثیر ‘‘سبل الہدی والرشاد" میں حدیث پاک ہے : عن عکرمة عن ابن عباس قال راي محمد ربه قلت اليس الله يقول لا تدركه الأبصار و هو يدرك الأبصار؟ قال و يحك إذا تجلي بنوره الذي هو نوره و قد راٰي محمد ربه مرتين ۔
ترجمہ : حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے۔ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک واحاطہ کرتا ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر تعجب ہے! جب اللہ تعالیٰ اپنے اُس نور کے ساتھ تجلی فرمائے جو اُس کا غیر متناہی نور ہے اور بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دو مرتبہ دیدار کیا ہے۔
(جامع ترمذی ،ابواب التفسیر ‘باب ومن سورۃ النجم ‘حدیث نمبر:3590۔ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب تفسیر القرآن، سورۃ والنجم،تفسیر ابن کثیر، سورۃ النجم5،ج7،ص442-سبل الہدی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد، جماع أبواب معراجہ صلی اللہ علیہ وسلم،ج3،ص61-مستدرک علی الصحیحین ، کتاب التفسیر ، تفسیرسورۃ الانعام ، حدیث نمبر:3191۔مسند احمد،معجم کبیر،تفسیرابن ابی حاتم ، سورۃ الانعام ، قولہ لاتدرکہ الابصار حدیث نمبر:7767،چشتی)

قال ابن عباس قد راه النبي صلي الله عليه وسلم۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار کیا ہے ۔ (جامع ترمذی شریف ، ج 2، ابواب التفسیر ص 164 ، حدیث نمبر:3202)۔
مسند امام احمد میں یہ الفاظ مذکور ہیں : عن عکرمة عن ابن عباس قال رسول الله صلي الله عليه وسلم رايت ربي تبارك و تعاليٰ ۔ ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : میں نے اپنے رب تبارك و تعالیٰ کا دیدار کیا ۔ یہ حدیث پاک مسند امام احمد میں دو جگہ مذکور ہے ۔ (مسند امام احمد حدیث نمبر :2449-2502،چشتی)

وقال کعب ان الله قسم رؤيته و کلامه بين محمد و موسي فکلم موسی مرتين و راه محمد مرتين۔ ترجمہ: حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی نے رؤیت اور کلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور حضرت موسی علیہ السلام کے درمیان تقسیم فرمایا دوبار حضرت موسی علیہ السلام سے کلام فرمایا اور دو مرتبہ حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رب کا دیدار کیا ۔ (جامع ترمذی ،حدیث
نمبر:3678‘ ابواب تفسیر القرآن)

امام طبرانی کی معجم اوسط میں ہے: عن الشعبي أن عبد الله بن عباس کان يقول: إن محمدا صلي الله عليه وسلم رأي ربه مرتين۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دو مرتبہ دیدار کیا ۔ (معجم اوسط طبرانی ، باب المیم من اسمہ:محمد ، حدیث نمبر:5922)(مواہب اللدنیہ۔ج8۔صفحہ 248،چشتی)

لقي ابن عباس کعبا بعرفة فسأ له عن شئ فکبرحتي جاوبته الجبال فقال ابن عباس انا بنو هاشم نزعم او نقول أن محمدا قد رأي ربه مرتين ط- فقال کعب أن الله قسم رؤيته وکلامه بين موسي و محمد عليهما السلام فرأي محمد ربه مرتين وکلم موسي مرتين ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حضرت کعب سے مقام عرفہ میں ملاقات کی تو انہوں نے ایک چیز کے بارے میں سوال کیا تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے اتنا بلند نعرہ لگایا کہ پہاڑ گونجنے لگا اور فرمایا کہ "اللہ تعالی نے اپنی رؤیت اور کلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور سیدنا موسی علیہ السلام کے درمیان رکھ دیا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کا کلام سنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے رب کا دیدار کیا ۔ (تفسیر ابن کثیر‘ سورۃ النجم 5)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا "میں نے اپنے رب کا دیدار کیا۔"
عن معاذ عن النبي صلي الله عليه وسلم قال "رأيت ربي۔"(کتاب الشفاء ،ج1،196/197)
حضرت امام عبدالرزاق رحمة اللہ علیہ جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاذ ہیں، روایت فرماتے ہیں : کان الحسن يحلف بالله ثلاثة لقد رأي محمد ربه ۔ ترجمہ : حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ اس بات پر تین مرتبہ قسم کھاتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اپنے رب کا دیدار کیا ۔ (تفسیر عبد الرزاق،حدیث نمبر:2940)(المواہب اللدنیہ۔ج8،ص،266)

الروض الانف میں ہے : عن ابن حنبل انه سئل هل راي محمد ربه ؟ فقال : راه راه راه حتي انقطع صوته ۔
ترجمہ : حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اللہ تعالی کا دیدار کیا ؟ آپ نے فرمایا : دیدار کیا ، دیدار کیا ، دیدار کیا ، اتنی دیر تک فرمایا کہ سانس ٹوٹ گیا ۔ (الروض الانف‘ رؤیۃ النبی ربہ) ۔

(مزید حصّہ پنجم میں ان شاء اللہ)

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296382269264486/