Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-07-1443ᴴ 🗓 27-02-2022ᴱ
26-07-1443ᴴ 🗓 28-02-2022ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہزاری اور لکھی روزہ کی حقیقت
نور نامہ پڑھنا کیسا ہے ؟
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہزاری اور لکھی روزہ کی حقیقت
نور نامہ پڑھنا کیسا ہے ؟
❤2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤2
معراج النبی ﷺ حصّہ اوّل
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آسمانی معجزات میں سے معراج کا واقعہ بھی بہت زیادہ اہمیت کاحامل اور ہماری مادی دنیا سے بالکل ہی ماوراء اور عقل انسانی کے قیاس و گمان کی سرحدوں سے بہت زیادہ بالاتر ہے ۔ معراج کا دوسرا نام اسراء بھی ہے ۔ اسراء کے معنی رات کو چلانا یا رات کو لے جانا چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے واقعہ معراج کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے اس لیئے معراج کا نام اسراء پڑ گیا اور چونکہ حدیثوں میں معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عُرِجَ بِیْ (مجھ کو اوپر چڑھایا گیا) کا لفظ ارشاد فرمایا اس لیے اس واقعہ ک انام معراج ہو گیا ۔
احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے 45 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، المقصد الخامس فی تخصیصہ...الخ ،جلد نمبر 8، صفحہ 25 تا 27،چشتی)
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی علیہ السّلام کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
وہ سرورِ کِشورِ رِسالت ، جو عرش پر جلوہ گَر ہو ئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں عَرَب کے مہمان کے لیے تھے
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج 34 مرتبہ ہوئی ۔
معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح 27 رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے ۔ مزید اس بارے میں علماء کرام کے 10 اقوال موجود ہیں ۔
1: ہجرت سے 6ماہ قبل
2: ہجرت سے 8ماہ قبل
3: ہجرت سے11ماہ قبل
4: ہجرت سے 1 سال قبل
5: ہجرت سے ایک سال اور 2ماہ قبل
6: ہجرت سے ایک سال اور 3ماہ قبل
7: ہجرت سے ایک سال 5ماہ قبل
8: ہجرت سے ایک سال 6ماہ قبل
9: ہجرت سے 3 سال قبل
10: ہجرت سے5سال قبل
یہ دس اقوال علماء سیرت کے موجود ہیں لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں جو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے معراج ہوئی اگر اس بات کو ترجیح دی جائے تو معراج نبوت کے دسویں سال کے بعد اور گیارہ نبوی میں سفر طائف سے واپسی کے بعد ہوئی ۔
معراج کی تاریخ ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری (المتوفی ۲۶۷ ھ) اور ابن عبدالبر (المتوفی ۴۶۳ ھ) اور امام رافعی و امام نووی علیہم الرّحمہ نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا ۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی ہے اور علامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے اور بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے ۔ (زرقانی جلد 1 صفحہ 355 تا 358،چشتی)
واقعہ معراج حق ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جو کچھ بیان کیا حق ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک 27 رجب کو ہوا تھا ۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقصد تاریخ بتانا نہیں بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی قدر و منزلت اور شان بیان کرنا ہے ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ تاریخ کا ذکر حدیث مبارکہ میں ہو ۔ بلکہ جتنے بھی بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں کسی کا ذکر بھی حدیث میں تاریخ کے حوالے سے نہیں ہوا ۔ بلکہ مورخین اور تاریخ دان لوگ بیان کرتے ہیں ۔ اسی طرح قرآن مجید میں بڑے بڑے واقعات ذکر کیئے گئے ہیں لیکن تاریخ نہیں بیان کی
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آسمانی معجزات میں سے معراج کا واقعہ بھی بہت زیادہ اہمیت کاحامل اور ہماری مادی دنیا سے بالکل ہی ماوراء اور عقل انسانی کے قیاس و گمان کی سرحدوں سے بہت زیادہ بالاتر ہے ۔ معراج کا دوسرا نام اسراء بھی ہے ۔ اسراء کے معنی رات کو چلانا یا رات کو لے جانا چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے واقعہ معراج کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے اس لیئے معراج کا نام اسراء پڑ گیا اور چونکہ حدیثوں میں معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عُرِجَ بِیْ (مجھ کو اوپر چڑھایا گیا) کا لفظ ارشاد فرمایا اس لیے اس واقعہ ک انام معراج ہو گیا ۔
احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے 45 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، المقصد الخامس فی تخصیصہ...الخ ،جلد نمبر 8، صفحہ 25 تا 27،چشتی)
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی علیہ السّلام کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
وہ سرورِ کِشورِ رِسالت ، جو عرش پر جلوہ گَر ہو ئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں عَرَب کے مہمان کے لیے تھے
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج 34 مرتبہ ہوئی ۔
معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح 27 رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے ۔ مزید اس بارے میں علماء کرام کے 10 اقوال موجود ہیں ۔
1: ہجرت سے 6ماہ قبل
2: ہجرت سے 8ماہ قبل
3: ہجرت سے11ماہ قبل
4: ہجرت سے 1 سال قبل
5: ہجرت سے ایک سال اور 2ماہ قبل
6: ہجرت سے ایک سال اور 3ماہ قبل
7: ہجرت سے ایک سال 5ماہ قبل
8: ہجرت سے ایک سال 6ماہ قبل
9: ہجرت سے 3 سال قبل
10: ہجرت سے5سال قبل
یہ دس اقوال علماء سیرت کے موجود ہیں لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں جو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے معراج ہوئی اگر اس بات کو ترجیح دی جائے تو معراج نبوت کے دسویں سال کے بعد اور گیارہ نبوی میں سفر طائف سے واپسی کے بعد ہوئی ۔
معراج کی تاریخ ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری (المتوفی ۲۶۷ ھ) اور ابن عبدالبر (المتوفی ۴۶۳ ھ) اور امام رافعی و امام نووی علیہم الرّحمہ نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا ۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی ہے اور علامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے اور بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے ۔ (زرقانی جلد 1 صفحہ 355 تا 358،چشتی)
واقعہ معراج حق ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جو کچھ بیان کیا حق ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک 27 رجب کو ہوا تھا ۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقصد تاریخ بتانا نہیں بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی قدر و منزلت اور شان بیان کرنا ہے ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ تاریخ کا ذکر حدیث مبارکہ میں ہو ۔ بلکہ جتنے بھی بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں کسی کا ذکر بھی حدیث میں تاریخ کے حوالے سے نہیں ہوا ۔ بلکہ مورخین اور تاریخ دان لوگ بیان کرتے ہیں ۔ اسی طرح قرآن مجید میں بڑے بڑے واقعات ذکر کیئے گئے ہیں لیکن تاریخ نہیں بیان کی
گئی ، یہاں تک کہ نزول قرآن یا ابتدائے وحی کی تاریخ بھی قرآن میں نہیں ہے ۔ لہٰذا ایسے سوالات کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ اصل مقصد کو جانا چاہیئے ۔
معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی
جمہور علماء ملت کا صحیح مذہب یہی ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین نیز صوفیہ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ چنانچہ علامہ حضرت ملا احمد جیون رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ (استاد اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ) نے تحریر فرمایا کہ : وَ الْاَصَحُّ اَنَّهٗ کَانَ فِی الْيَقْظَةِ بِجَسَدِهٖ مَعَ رُوْحِهٖ وَعَلَيِْه اَهْلُ السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ فَمَنْ قَالَ اِنَّهٗ بِالرُّوْحِ فَقَطْ اَوْ فِي النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ فَاسِقٌ ۔ (تفسيرات احمديه بنی اسرائيل صفحہ 408 ، چشتی)
ترجمہ : اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ معراج بحا لت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے ۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ معراج فقط روحانی ہوئی یا معراج فقط خواب میں ہوئی وہ شخص بدعتی و گمراہ اور گمراہ کن و فاسق ہے ۔
خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی ، کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیب تن کی ، یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سراپا معجزہ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے جمالات و کمالات اور روشن ترین معجزات تو بے شمار ہیں ، لیکن معراج وہ فضیلت ہے جو ربِّ کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے سوا کسی نبی یا رسول علیہ السّلام کو عطا نہیں کی ، یہی وہ موقع تھا جب رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو نمازوں کا تحفہ عطا کیا ۔
واقعہ معراج کو اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت حاصل ہے ، ستائیس رجب المرجب کو انوار وتجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام پچاس ہزار فرشتوں کے ہمراہ جنتی براق لئے آسمان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی چچا زاد ہمشیرہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر حاضر خدمت ہوئےاور عرض کی کہ رب العزت آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، یہی وہ مقدس شب ہے جب انسانیت معراج سے سرفراز ہوئی اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم زمین سے عرش بریں تک جا پہنچے ۔ فضا درود و سلام سے گونج اٹھی اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے سفر معراج کا آغاز فرمایا ، چاروں طرف نور پھیل گیا ، کائنات کے پورے نظام کو روک دیا گیا ، پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک اوالعزم انبیاء اور ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا استقبال کیا ۔ جنت کی سیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو عرش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا دامن تھام لیا اور تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ۔ یہی وہ وقت تھا جب پروردگارعالم نے اپنی محبوب ترین ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اور نماز کا تحفہ عطا کیا ۔ جب تاجدارحرم عرش معلیٰ سے تشریف لائے تو گھر کے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی ، بستر گرم تھا اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ۔ معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ہی وقت کوروکا گیا اور پھر اسی محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے وقت کو جاری کیا گیا ۔ (معارج النبوۃ،چشتی)۔(مدارج النبوۃ)،(مواہب الدنیہ)
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج ۳۴ مرتبہ ہوئی ۔
معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح ۲۷؍ رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے جیسا کہ تصیل سے اوپر ہم نے عرض کر دیا ہے ۔ معراج شریف کے مدت سفر کی مقدار بیان نہیں کی گئی ہے اور یہ طی ارض کی صورت میں نہیں تھی ، بلکہ حقیقت میں ساری مسافت طے کی گئی اور نہایت مختصر وقت میں کہ بستر گرم تھا ، زنجیر ہل رہی تھی اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ، جب کہ حضرت جبرئیل امین اور دیگر فرشتے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خادم ہیں ، وہ ساتوں
معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی
جمہور علماء ملت کا صحیح مذہب یہی ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین نیز صوفیہ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ چنانچہ علامہ حضرت ملا احمد جیون رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ (استاد اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ) نے تحریر فرمایا کہ : وَ الْاَصَحُّ اَنَّهٗ کَانَ فِی الْيَقْظَةِ بِجَسَدِهٖ مَعَ رُوْحِهٖ وَعَلَيِْه اَهْلُ السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ فَمَنْ قَالَ اِنَّهٗ بِالرُّوْحِ فَقَطْ اَوْ فِي النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ فَاسِقٌ ۔ (تفسيرات احمديه بنی اسرائيل صفحہ 408 ، چشتی)
ترجمہ : اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ معراج بحا لت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے ۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ معراج فقط روحانی ہوئی یا معراج فقط خواب میں ہوئی وہ شخص بدعتی و گمراہ اور گمراہ کن و فاسق ہے ۔
خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی ، کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیب تن کی ، یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سراپا معجزہ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے جمالات و کمالات اور روشن ترین معجزات تو بے شمار ہیں ، لیکن معراج وہ فضیلت ہے جو ربِّ کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے سوا کسی نبی یا رسول علیہ السّلام کو عطا نہیں کی ، یہی وہ موقع تھا جب رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو نمازوں کا تحفہ عطا کیا ۔
واقعہ معراج کو اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت حاصل ہے ، ستائیس رجب المرجب کو انوار وتجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام پچاس ہزار فرشتوں کے ہمراہ جنتی براق لئے آسمان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی چچا زاد ہمشیرہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر حاضر خدمت ہوئےاور عرض کی کہ رب العزت آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، یہی وہ مقدس شب ہے جب انسانیت معراج سے سرفراز ہوئی اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم زمین سے عرش بریں تک جا پہنچے ۔ فضا درود و سلام سے گونج اٹھی اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے سفر معراج کا آغاز فرمایا ، چاروں طرف نور پھیل گیا ، کائنات کے پورے نظام کو روک دیا گیا ، پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک اوالعزم انبیاء اور ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا استقبال کیا ۔ جنت کی سیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو عرش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا دامن تھام لیا اور تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ۔ یہی وہ وقت تھا جب پروردگارعالم نے اپنی محبوب ترین ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اور نماز کا تحفہ عطا کیا ۔ جب تاجدارحرم عرش معلیٰ سے تشریف لائے تو گھر کے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی ، بستر گرم تھا اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ۔ معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ہی وقت کوروکا گیا اور پھر اسی محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے وقت کو جاری کیا گیا ۔ (معارج النبوۃ،چشتی)۔(مدارج النبوۃ)،(مواہب الدنیہ)
معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج ۳۴ مرتبہ ہوئی ۔
معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح ۲۷؍ رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے جیسا کہ تصیل سے اوپر ہم نے عرض کر دیا ہے ۔ معراج شریف کے مدت سفر کی مقدار بیان نہیں کی گئی ہے اور یہ طی ارض کی صورت میں نہیں تھی ، بلکہ حقیقت میں ساری مسافت طے کی گئی اور نہایت مختصر وقت میں کہ بستر گرم تھا ، زنجیر ہل رہی تھی اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ، جب کہ حضرت جبرئیل امین اور دیگر فرشتے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خادم ہیں ، وہ ساتوں
آسمانوں سے آن کے آن میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ، تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تو باعث تخلیق کون و مکاں ہیں اور آپ کے زیرحکم اور خادم مسخر ہیں ، آپ کےلیے کیا استحالہ ہو سکتا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حظیرہ قدسیہ میں پہنچ کر بھی امت کی فکر تھی ۔ رب العزت کی طرف سے مراحم خسروانہ سے سرفرازی کی گئی کہ نماز کا تحفہ ، سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کے ذریعہ کبائر کی مغفرت کا وعدہ اور بشرت عظمیٰ اور ہمیشہ انابت الی اللہ کی فکر کرنے سے ترقی مدارج اور امت کو معراج کی راہ بتائی گئی ’’ الصلوٰۃ معراج المؤمنین ‘‘ ۔
معراج مبارک کا ثبوت قرآن مجید کے سورہ بنی اسرائیل میں زمینی سیر بیت المقدس تک اور سورہ نجم میں معراج سماوات اور سیر ملکوتی اور مقام دنیٰ و تدلی میں لقاء کا ذکر موجود ہے ، اور احادیث شریفہ میں کئی صحابہ کرام سے معراج شریف کی روایت موجود ہے ۔ بیت المقدس تک سیر کا اگر کوئی انکار کرتا ہے ، تو کافر ہوجائے گا اور آسمانی سفر کا انکار کرنا گمراہی ، بدعت اور بے دینی ہے ۔
معراج شریف کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا اور اس کی انتہاء مقام دنی و تدلی پر ہوئی اور اس پورے سفر میں تین سواریوں کے ذریعہ دس بلندیاں طے کی گئیں ۔ براق پر بیت المقدس تک ، برق کے ساتھ نورانی سیڑھی پر سدرہ تک اور رف رف پر مقام قاب قوسین تک ۔ بعض نے پانچ سواریوں کا ذکر کیا ہے یعنی براق پر بیت المقدس تک ، نورانی سیڑھی سے آسمان دنیا تک ، فرشتوں کے بازوؤں کے ذریعہ ساتویں آسمان تک ، جبرئیل علیہ السلام کے بازو کے ذریعہ سدرہ تک اور رف رف سے مقام قوسین تک ۔ اس سفر میں مراقی عشر یعنی دس بلندیاں طے فرمائیں اور اس سے آگے تشریف لے گئے ۔ ایک تا سات حطیم کعبہ سے ساتویں آسمان تک (۸) سدرۃ المنتہی (۹) مستوی (صریف الاقلام) (۱۰) عرش اعظم ۔ (روح المعانی) سفر کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا ۔ رات میں جب کہ ساری دنیا محو خواب تھی ، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت کھلی اور حضرات جبرئیل امین ، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام آئے ۔ چھت کے ذریعہ آنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ کو اوپر تشریف لے جانا ہے اور شق صدر ہوگا اور یہ سفر خارق عادات ہے ، مناجات ہے اور فوری روانگی ہے ۔ آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور چاہ زم زم کے پاس آپ کا سینہ انور کو چاک کرکے ، قلب مبارک کو سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت اور نور سے بھر دیا گیا اور پھر سینہ مبارک کو برابر کردیا گیا ۔ آپ کا سینہ مبارک طفولیت سے معراج مبارک تک چار مرتبہ چاک کیا گیا اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ چاک کیا گیا ۔ براق لایا گیا تھا ، اس پر آپ سوار ہوئے ۔ برقا نے شوخی کی اور اس کا شوخی کرنا حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سواری کے شرف پانے پر ناز اور فخر کی وجہ سے تھا ، قیامت کے دن آپ کے شرف رکوب کا وعدہ حاصل کرنے کی غرض سے اس کی اور بھی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ براہ مدینہ طیبہ و طور سینا آپ بیت المقدس پہنچے اور براق کو ایک پتھر کے قلابہ سے باندھ دیا گیا ۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور فرشتے جمع تھے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سب نے آپ کی اقتداء کی ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ نے بوقت واپسی امامت فرمائی ، اس میں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ بوقت واپسی بھی امامت فرمائی اور یہ فجر کی نماز تھی ۔پھر دودھ اور شراب کے پیالے پیش کیے گئے ، آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا ۔ اب بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، بیت المقدس تک کے سفر کو ’’ اسراء ‘‘ کہتے ہیں ، جس کی منجملہ حکمتوں کے یہ ہے کہ وہ محشر ہے سرزمین محشر کو آپ کا قدومِ میمنت لزوم سے شرف بخشنا ۔ بتدریج حظیرہ قدس میں پہنچنا ۔ آپ کے آسمانوں پر عروج کےلیے خصوصی دروازہ بیت المقدس کے محاذی بنایا گیا ، اس لئے بھی بیت المقدس تک تشریف لے گئے ۔ کثرت سے انبیاء علیہم السلام کا مسکن رہا ہے ، آپ کی تشریف آوری سے نزول برکات کی تکمیل کرنا۔ عرب کا بیت المقدس آنا جانا تھا ، اس کی تمام تفصیلات سے وہ واقف تھے ۔ بیت المقدس کی راہ سے اوپر جانا لوگوں کو ایمان لانے کےلیے بطور تمہید و ایقان کےلیے تھا ۔
بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، آپ کےلیے نور کی خصوصی سیڑھی رکھی گئی ، انبیاء علیہم السلام استقبال کے لئے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے آسمانوں پر پہنچ گئے اور انبیاء علیہم السلام کی روانگی محققین کے پاس اپنے اجساد بدنیہ کے ساتھ ہوئی ۔ تمام آسمانوں اور ملاء اعلیٰ پر ہر طر فآپ کی آمد کا اعلان ہو چکا تھا اور سب آپ کے انتظار میں تھے ۔ انبیاء علیہم السلام اور تمام فرشتے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے استقبال کےلیے مختلف آسمانوں پر کھڑے تھے ۔ ہر آسمان پر آپ کے استقبال کےلیے دروازہ کھولے جانے سے پہلے آداب استقبال کے مطابق دربانوں نے آپ کی تشریف آوری کے بارے میں سوالات کئے اور یہ اس لئے بھی کہ یہ دروازے
معراج مبارک کا ثبوت قرآن مجید کے سورہ بنی اسرائیل میں زمینی سیر بیت المقدس تک اور سورہ نجم میں معراج سماوات اور سیر ملکوتی اور مقام دنیٰ و تدلی میں لقاء کا ذکر موجود ہے ، اور احادیث شریفہ میں کئی صحابہ کرام سے معراج شریف کی روایت موجود ہے ۔ بیت المقدس تک سیر کا اگر کوئی انکار کرتا ہے ، تو کافر ہوجائے گا اور آسمانی سفر کا انکار کرنا گمراہی ، بدعت اور بے دینی ہے ۔
معراج شریف کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا اور اس کی انتہاء مقام دنی و تدلی پر ہوئی اور اس پورے سفر میں تین سواریوں کے ذریعہ دس بلندیاں طے کی گئیں ۔ براق پر بیت المقدس تک ، برق کے ساتھ نورانی سیڑھی پر سدرہ تک اور رف رف پر مقام قاب قوسین تک ۔ بعض نے پانچ سواریوں کا ذکر کیا ہے یعنی براق پر بیت المقدس تک ، نورانی سیڑھی سے آسمان دنیا تک ، فرشتوں کے بازوؤں کے ذریعہ ساتویں آسمان تک ، جبرئیل علیہ السلام کے بازو کے ذریعہ سدرہ تک اور رف رف سے مقام قوسین تک ۔ اس سفر میں مراقی عشر یعنی دس بلندیاں طے فرمائیں اور اس سے آگے تشریف لے گئے ۔ ایک تا سات حطیم کعبہ سے ساتویں آسمان تک (۸) سدرۃ المنتہی (۹) مستوی (صریف الاقلام) (۱۰) عرش اعظم ۔ (روح المعانی) سفر کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا ۔ رات میں جب کہ ساری دنیا محو خواب تھی ، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت کھلی اور حضرات جبرئیل امین ، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام آئے ۔ چھت کے ذریعہ آنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ کو اوپر تشریف لے جانا ہے اور شق صدر ہوگا اور یہ سفر خارق عادات ہے ، مناجات ہے اور فوری روانگی ہے ۔ آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور چاہ زم زم کے پاس آپ کا سینہ انور کو چاک کرکے ، قلب مبارک کو سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت اور نور سے بھر دیا گیا اور پھر سینہ مبارک کو برابر کردیا گیا ۔ آپ کا سینہ مبارک طفولیت سے معراج مبارک تک چار مرتبہ چاک کیا گیا اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ چاک کیا گیا ۔ براق لایا گیا تھا ، اس پر آپ سوار ہوئے ۔ برقا نے شوخی کی اور اس کا شوخی کرنا حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سواری کے شرف پانے پر ناز اور فخر کی وجہ سے تھا ، قیامت کے دن آپ کے شرف رکوب کا وعدہ حاصل کرنے کی غرض سے اس کی اور بھی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ براہ مدینہ طیبہ و طور سینا آپ بیت المقدس پہنچے اور براق کو ایک پتھر کے قلابہ سے باندھ دیا گیا ۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور فرشتے جمع تھے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سب نے آپ کی اقتداء کی ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ نے بوقت واپسی امامت فرمائی ، اس میں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ بوقت واپسی بھی امامت فرمائی اور یہ فجر کی نماز تھی ۔پھر دودھ اور شراب کے پیالے پیش کیے گئے ، آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا ۔ اب بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، بیت المقدس تک کے سفر کو ’’ اسراء ‘‘ کہتے ہیں ، جس کی منجملہ حکمتوں کے یہ ہے کہ وہ محشر ہے سرزمین محشر کو آپ کا قدومِ میمنت لزوم سے شرف بخشنا ۔ بتدریج حظیرہ قدس میں پہنچنا ۔ آپ کے آسمانوں پر عروج کےلیے خصوصی دروازہ بیت المقدس کے محاذی بنایا گیا ، اس لئے بھی بیت المقدس تک تشریف لے گئے ۔ کثرت سے انبیاء علیہم السلام کا مسکن رہا ہے ، آپ کی تشریف آوری سے نزول برکات کی تکمیل کرنا۔ عرب کا بیت المقدس آنا جانا تھا ، اس کی تمام تفصیلات سے وہ واقف تھے ۔ بیت المقدس کی راہ سے اوپر جانا لوگوں کو ایمان لانے کےلیے بطور تمہید و ایقان کےلیے تھا ۔
بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، آپ کےلیے نور کی خصوصی سیڑھی رکھی گئی ، انبیاء علیہم السلام استقبال کے لئے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے آسمانوں پر پہنچ گئے اور انبیاء علیہم السلام کی روانگی محققین کے پاس اپنے اجساد بدنیہ کے ساتھ ہوئی ۔ تمام آسمانوں اور ملاء اعلیٰ پر ہر طر فآپ کی آمد کا اعلان ہو چکا تھا اور سب آپ کے انتظار میں تھے ۔ انبیاء علیہم السلام اور تمام فرشتے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے استقبال کےلیے مختلف آسمانوں پر کھڑے تھے ۔ ہر آسمان پر آپ کے استقبال کےلیے دروازہ کھولے جانے سے پہلے آداب استقبال کے مطابق دربانوں نے آپ کی تشریف آوری کے بارے میں سوالات کئے اور یہ اس لئے بھی کہ یہ دروازے
صرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لئے تھے ، لیکن آپ کے ہمرکاب حضرت جبرئیل امین تھے اور وہ دروازہ کھلوا رہے تھے ۔
آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام ، آسمان دوم پر حضرت یحیی و عیسی علیہما السلام ، سوم پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چہارم پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پنجم پر حضرت ہارون علیہ السلام ، ششم پر حضرت موسمی علیہ السلام اور ہفتم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام استقبال کے لئے منتظر تھے ۔ ہر پیغمبر علیہ السلام نے سلام اور تحیت کے بعد مرحبا فرماکر استقبال کیا ۔ حضرت آدم اور ابراہیم علیہا السلام نے مرحبان بابن الصالح اور دیگر تمام پیغمبروں نے مرحبا بالاخ الصالح فرمایا ۔ صالح سے مراد رب کے مظہر اتم اور رویت باری تعالیٰ و نیز شفاعت کبریٰ کی صلاحیت والی عظیم ہستی مراد ہے ۔ بعض پیغمبروں کا ایک زائد آسمانوں پر ہونا معلوم ہوتا ہے ، وہ اس لئے کہ وہ بعد استقبال دوسرے آسمان پر بھی پہنچ گئے تھے اور آپ بیت المعمور تشریف لے گئے ، جس کا ہر روز نئے ستر (۷۰) ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں ، آپ نے وہاں بھی امامت فرمائی ۔ پھر سدرۃ المنتہی تشریف لے گئے ، یہ مقام اس کے اوپر والوں کے لئے اور اس کے نیچے والوں کےلیے حد فاصل ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ اس کے انوار و کیفیات بیان سے باہر ہیں ۔ حضرت جبرئیل امین فرمائے کہ یہاں سے ایک پور بھی میں آگے بڑھوں گا ، تو میرے پر چل جائیں گے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہ نفس نفیس اوپر تشریف لے جاتے ہیں، پھر مقام مستوری پہنچے اور تمام عوام کا مشاہدہ فرمایا اور تدبیرات عوالم سارے دکھائے گئے اور عوالم کے تقدیرات لکھنے والے قلموں کی آواز سنی ۔ تمام مراتب اعلیٰ پر عروج پر ترقی کے بعد ، قرب خداوندی کی طرف سفر شروع ہوا ، اس سے اوپر عرش معلیٰ ، مقام قاب و قوسین اور دنی و تدلی تک پہنچے ، جہاں کوئی مقرب فرشتہ بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی اور رویت باری تعالیٰ کا شرف عطا ہوا ، آپ کے سواء کسی کو اس دنیا کی زندگی میں رویت کا شرف حاصل نہیں ہوا ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روایت باری تعالیٰ کا ثبوت نہیں ہے ، ان کا مطلب احاطہ کا انکار ہوسکتا ہے ، کیونکہ ذات خداوندی کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، اس سے روایتوں میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
بارگاہ احدیت میں پہنچ کر آپ کی نگاہ ہٹی نہیں اور آداب کے زینہ سے تجاوز بھی نہیں کی ۔ آپ نے آداب کا تحیہ پیش کیا اور ’’ التحیات ﷲ والصلوات والطیبات ‘‘ کے ذریعہ حمد و ثناء فرمائی ۔ جواب میں رب العزت کا ارشاد ہوا ’’ السلام علیک ایھا النبی و رحمة ﷲ و برکاتہ ‘‘ ۔ پھر اس پر حضور علیہ السلام نے ’’ السلام علینا وعلی عبادﷲ الصالحین ‘‘ کے ذریعہ ساری امت اور فرشتوں کو اس سلامتی میں شامل فرمایا ، تو فرشتوں نے ’’ اشہدان لا الہ الاﷲ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ کے ذریعہ آپ کی جناب اقدس میں ہدیہ تشکر پیش کیا اور اسی ’’ التحیات ‘‘ کو نماز میں شامل کر دیا گیا ۔ اس میں اب یہ بحث ہے کہ نماز میں تحیہ و سلام بطور حکایت ہے ، یا انشاء درحقیقت یہ انشاء ہے ، اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔
رب تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں مناجات ہوتی رہی (فاوحی الی عبدہ ما اوحی) اور امت کےلیے ۵۰ نمازوں کا اعلان کیا گیا ۔ اس موقع پر نماز کی فرضیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز مسلمانوں کےلیے معراج ہے ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تخفیف کےلیے خواہش کی ، تو آپ نو مرتبہ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے ۔ ہر بار پانچ پانچ نمازیں تخفیف ہوتی گئیں اور صرف پانچ نمازیں قائم رہیں ، جن کو پچاس کے برابر قرار دیا گیا۔ اس میں حضرت موسی علیہ السلام دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔ دنیا میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ ’’ رب ارنی انظر الیک ‘‘ اور یہ ان کی بڑی تمنا تھی ، لیکن ’’ لن ترانی ‘‘ آپ کو جواب ملا ، وہی موسی علیہ السلام آپ میں دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس سفر عروج اور سیر ملکوتی میں آیات کبریٰ اور جنت و دوزخ ، حوض کوثر اور سدرہ سے نکلنے والی چار نہریں جو دنیا میں آرہی ہیں ’’ نیل ، فرات ، سیحان ، جیجان ‘‘ اور تمام عوالم کا مشاہدہ فرمایا ۔ معراج سے واپسی اسی راستے سے ہوئی اور بیت المقدس سے مکہ معظمہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں قریش کے قافلے ملے ، جو مکہ معظمہ کو آرہے تھے ، سواری براق جب وہاں سے گذری ، تو اس کی تیز رفتاری سے قافلہ کے اونٹ منتشر ہوگئے اور ایک قافلہ کا اونٹ بدک کر گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی ۔ ایک قافلہ کا اونٹ گم ہوگیا تھا ، تلاش کرکے اس کو لایا گیا ۔ آپ صبح سے پہلے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور صبح میں آپ نے اہل مکہ کو اپنے سفر معراج کی خبر دی اور مقام روحاء میں قافلوں کے پاس سے گذرنے اور ان کے واقعات کی خبر دی اور فرمایا کہ یہ قافلے چہارشنبہ کی شام تک پہنچ جائیں گے ۔ اہل مکہ نے اس بات کا مذاق اڑایا ، مگر حضرت
آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام ، آسمان دوم پر حضرت یحیی و عیسی علیہما السلام ، سوم پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چہارم پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پنجم پر حضرت ہارون علیہ السلام ، ششم پر حضرت موسمی علیہ السلام اور ہفتم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام استقبال کے لئے منتظر تھے ۔ ہر پیغمبر علیہ السلام نے سلام اور تحیت کے بعد مرحبا فرماکر استقبال کیا ۔ حضرت آدم اور ابراہیم علیہا السلام نے مرحبان بابن الصالح اور دیگر تمام پیغمبروں نے مرحبا بالاخ الصالح فرمایا ۔ صالح سے مراد رب کے مظہر اتم اور رویت باری تعالیٰ و نیز شفاعت کبریٰ کی صلاحیت والی عظیم ہستی مراد ہے ۔ بعض پیغمبروں کا ایک زائد آسمانوں پر ہونا معلوم ہوتا ہے ، وہ اس لئے کہ وہ بعد استقبال دوسرے آسمان پر بھی پہنچ گئے تھے اور آپ بیت المعمور تشریف لے گئے ، جس کا ہر روز نئے ستر (۷۰) ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں ، آپ نے وہاں بھی امامت فرمائی ۔ پھر سدرۃ المنتہی تشریف لے گئے ، یہ مقام اس کے اوپر والوں کے لئے اور اس کے نیچے والوں کےلیے حد فاصل ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ اس کے انوار و کیفیات بیان سے باہر ہیں ۔ حضرت جبرئیل امین فرمائے کہ یہاں سے ایک پور بھی میں آگے بڑھوں گا ، تو میرے پر چل جائیں گے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہ نفس نفیس اوپر تشریف لے جاتے ہیں، پھر مقام مستوری پہنچے اور تمام عوام کا مشاہدہ فرمایا اور تدبیرات عوالم سارے دکھائے گئے اور عوالم کے تقدیرات لکھنے والے قلموں کی آواز سنی ۔ تمام مراتب اعلیٰ پر عروج پر ترقی کے بعد ، قرب خداوندی کی طرف سفر شروع ہوا ، اس سے اوپر عرش معلیٰ ، مقام قاب و قوسین اور دنی و تدلی تک پہنچے ، جہاں کوئی مقرب فرشتہ بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی اور رویت باری تعالیٰ کا شرف عطا ہوا ، آپ کے سواء کسی کو اس دنیا کی زندگی میں رویت کا شرف حاصل نہیں ہوا ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روایت باری تعالیٰ کا ثبوت نہیں ہے ، ان کا مطلب احاطہ کا انکار ہوسکتا ہے ، کیونکہ ذات خداوندی کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، اس سے روایتوں میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
بارگاہ احدیت میں پہنچ کر آپ کی نگاہ ہٹی نہیں اور آداب کے زینہ سے تجاوز بھی نہیں کی ۔ آپ نے آداب کا تحیہ پیش کیا اور ’’ التحیات ﷲ والصلوات والطیبات ‘‘ کے ذریعہ حمد و ثناء فرمائی ۔ جواب میں رب العزت کا ارشاد ہوا ’’ السلام علیک ایھا النبی و رحمة ﷲ و برکاتہ ‘‘ ۔ پھر اس پر حضور علیہ السلام نے ’’ السلام علینا وعلی عبادﷲ الصالحین ‘‘ کے ذریعہ ساری امت اور فرشتوں کو اس سلامتی میں شامل فرمایا ، تو فرشتوں نے ’’ اشہدان لا الہ الاﷲ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ کے ذریعہ آپ کی جناب اقدس میں ہدیہ تشکر پیش کیا اور اسی ’’ التحیات ‘‘ کو نماز میں شامل کر دیا گیا ۔ اس میں اب یہ بحث ہے کہ نماز میں تحیہ و سلام بطور حکایت ہے ، یا انشاء درحقیقت یہ انشاء ہے ، اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔
رب تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں مناجات ہوتی رہی (فاوحی الی عبدہ ما اوحی) اور امت کےلیے ۵۰ نمازوں کا اعلان کیا گیا ۔ اس موقع پر نماز کی فرضیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز مسلمانوں کےلیے معراج ہے ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تخفیف کےلیے خواہش کی ، تو آپ نو مرتبہ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے ۔ ہر بار پانچ پانچ نمازیں تخفیف ہوتی گئیں اور صرف پانچ نمازیں قائم رہیں ، جن کو پچاس کے برابر قرار دیا گیا۔ اس میں حضرت موسی علیہ السلام دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔ دنیا میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ ’’ رب ارنی انظر الیک ‘‘ اور یہ ان کی بڑی تمنا تھی ، لیکن ’’ لن ترانی ‘‘ آپ کو جواب ملا ، وہی موسی علیہ السلام آپ میں دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس سفر عروج اور سیر ملکوتی میں آیات کبریٰ اور جنت و دوزخ ، حوض کوثر اور سدرہ سے نکلنے والی چار نہریں جو دنیا میں آرہی ہیں ’’ نیل ، فرات ، سیحان ، جیجان ‘‘ اور تمام عوالم کا مشاہدہ فرمایا ۔ معراج سے واپسی اسی راستے سے ہوئی اور بیت المقدس سے مکہ معظمہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں قریش کے قافلے ملے ، جو مکہ معظمہ کو آرہے تھے ، سواری براق جب وہاں سے گذری ، تو اس کی تیز رفتاری سے قافلہ کے اونٹ منتشر ہوگئے اور ایک قافلہ کا اونٹ بدک کر گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی ۔ ایک قافلہ کا اونٹ گم ہوگیا تھا ، تلاش کرکے اس کو لایا گیا ۔ آپ صبح سے پہلے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور صبح میں آپ نے اہل مکہ کو اپنے سفر معراج کی خبر دی اور مقام روحاء میں قافلوں کے پاس سے گذرنے اور ان کے واقعات کی خبر دی اور فرمایا کہ یہ قافلے چہارشنبہ کی شام تک پہنچ جائیں گے ۔ اہل مکہ نے اس بات کا مذاق اڑایا ، مگر حضرت
❤1
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً تصدیق کی اور تمام مسلمانوں نے بھی تصدیق کی ۔ کفار اس واقعہ کی صداقت جاننے کی غرض سے بیت المقدس کے حالات اور اس کے ستون دریافت کرتے گئے اور آپ نے تمام سوالوں کے جوابات پوری تفصیل سے بیان کردیئے ۔ چہارشنبہ کا دن گذر رہا تھا ، مگر قافلے ابھی تک نہیں پہنچے تھے ، آپ نے سورج کو رک جانے کا حکم دیا ، جس کو ’’ حبس شمس ‘‘ کہتے ہیں اور مغرب سے پہلے پہلے قافلے پہنچ گئے اور ہر بات آپ کی صحیح ثابت ہوئی ۔
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
(مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
https://t.me/islaamic_Knowledge/26040
معراج النبی ﷺ حصّہ اوّل
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
معراج النبی ﷺ حصّہ اوّل
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
معراج النبی ﷺ حصّہ دوم
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_6.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سےے ۔ چشم زدن میں عالم بالا کا نقشہ بدل گیا ۔ حکم ربی ہوا : اے جبرائیل ! اپنے ساتھ ستر ہزار فرشتے لے جاؤ۔ حکم الہٰی سن کر جبریل امین علیہ السلام سواری لینے جنت میں جاتے ہیں اور آپ نے ایسی سواری کا انتخاب کیا جو آج تک کسی شہنشاہ کو بھی میسر نہ ہوئی ہوگی۔ میسر ہونا تو دور کی بات ہے دیکھی تک نہ ہوگی۔ اس سواری کا نام براق ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے براق پر کوئی سوار نہیں ہوا۔
ماہ رجب کی ستائیسویں شب کس قدر پرکیف رات ہے مطلع بالکل صاف ہے فضاؤں میں عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ رات آہستہ آہستہ کیف و نشاط کی مستی میں مست ہوتی جارہی ہے۔ ستارے پوری آب و تاب کے ساتھ جھلملا رہے ہیں۔ پوری دنیا پر سکوت و خاموشی کا عالم طاری ہے۔ نصف شب گزرنے کو ہے کہ یکا یک آسمانی دنیا کا دروازہ کھلتا ہے۔ انوار و تجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام نورانی مخلوق کے جھرمٹ میں جنتی براق لئے آسمان کی بلندیوں سے اتر کر حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے ہیں۔ جہاں ماہ نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم محو خواب ہیں۔ آنکھیں بند کئے، دل بیدار لئے آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت جبرائیل امین ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اگر آواز دے کر جگایا گیا تو بے ادبی ہوجائے گی۔ فکر مند ہیں کہ معراج کے دولہا کو کیسے بیدار کیا جائے؟ اسی وقت حکم ربی ہوتا ہے یاجبریل قبل قدمیہ اے جبریل! میرے محبوب کے قدموں کو چوم لے تاکہ تیرے لبوں کی ٹھنڈک سے میرے محبوب کی آنکھ کھل جائے۔ اسی دن کے واسطے میں نے تجھے کافور سے پیدا کیا تھا۔ حکم سنتے ہی جبرائیل امین علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنے کافوری ہونٹ محبوب دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائے ناز سے مس کردیئے۔
یہ منظر بھی کس قدر حسین ہوگا جب جبریل امین علیہ السلام نے فخر کائنات حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کو بوسہ دیا۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ہونٹوں کی ٹھنڈک پاکر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں اے جبرائیل! کیسے آنا ہوا؟ عرض کرتے ہیں: یارسول اللہ! ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ان الله اشتاق الی لقائک يارسول الله.یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے‘‘۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلئے زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری گزر گاہوں پر مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے ۔ (معارج النبوۃ)
چنانچہ آپ نے سفر کی تیاری شروع کی۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آپ کا سینہ مبارک چاک کیا اور دل کو دھویا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ چاک کیا۔ سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا۔ اس کے بعد میرے دل کو دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہوگیا۔ اس قلب کو سینہ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔(بخاری شريف جلد اول صفحہ نمبر 568،چشتتی)
مسلم شریف میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سینہ چاک کرنے کے بعد قلب مبارک کو زم زم کے پانی سے دھویا اور سینہ مبارک میں رکھ کر سینہ بند کردیا۔(مسلم شربف جلد اول صفحة: 92)
حضرت جبرائیل علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قلب ہر قسم کی کجی سے پاک اور بے عیب ہے اور اس میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سنتے ہیں۔(فتح الباری جلد: 13: صفحة: 610)
سینہ اقدس کے شق کئے جانے میں کئی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ قلب اطہر میں ایسی قوت قدسیہ شامل ہوجائے جس سے آسمانوں پر تشریف لے جانے اور عالم سماوات کا مشاہدہ کرنے بالخصوص دیدار الہٰی کرنے میں کوئی دقت اور دشواری پیش نہ آئے۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر انور پر عمامہ باندھا گیا۔ علامہ کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شب معراج حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عمامہ شریف پہنایا گیا وہ عمامہ مبارک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے سات ہزار سال پہلے کا تیار کیا ہوا تھا۔ چالیس ہزار ملائکہ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اس کے اردگرد کھڑے تھے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نور کی ایک چادر پہنائی۔ زمرد کی نعلین مبارک پاؤں میں زیب تن فرمائی، یاقوت کا کمر بند باندھا۔(معارج النبوة، صفحة: 601،چشتی)
✍ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_6.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : واقعہ معراج اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سےے ۔ چشم زدن میں عالم بالا کا نقشہ بدل گیا ۔ حکم ربی ہوا : اے جبرائیل ! اپنے ساتھ ستر ہزار فرشتے لے جاؤ۔ حکم الہٰی سن کر جبریل امین علیہ السلام سواری لینے جنت میں جاتے ہیں اور آپ نے ایسی سواری کا انتخاب کیا جو آج تک کسی شہنشاہ کو بھی میسر نہ ہوئی ہوگی۔ میسر ہونا تو دور کی بات ہے دیکھی تک نہ ہوگی۔ اس سواری کا نام براق ہے۔ تفسیر روح البیان میں ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے براق پر کوئی سوار نہیں ہوا۔
ماہ رجب کی ستائیسویں شب کس قدر پرکیف رات ہے مطلع بالکل صاف ہے فضاؤں میں عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ رات آہستہ آہستہ کیف و نشاط کی مستی میں مست ہوتی جارہی ہے۔ ستارے پوری آب و تاب کے ساتھ جھلملا رہے ہیں۔ پوری دنیا پر سکوت و خاموشی کا عالم طاری ہے۔ نصف شب گزرنے کو ہے کہ یکا یک آسمانی دنیا کا دروازہ کھلتا ہے۔ انوار و تجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام نورانی مخلوق کے جھرمٹ میں جنتی براق لئے آسمان کی بلندیوں سے اتر کر حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے ہیں۔ جہاں ماہ نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم محو خواب ہیں۔ آنکھیں بند کئے، دل بیدار لئے آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت جبرائیل امین ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ اگر آواز دے کر جگایا گیا تو بے ادبی ہوجائے گی۔ فکر مند ہیں کہ معراج کے دولہا کو کیسے بیدار کیا جائے؟ اسی وقت حکم ربی ہوتا ہے یاجبریل قبل قدمیہ اے جبریل! میرے محبوب کے قدموں کو چوم لے تاکہ تیرے لبوں کی ٹھنڈک سے میرے محبوب کی آنکھ کھل جائے۔ اسی دن کے واسطے میں نے تجھے کافور سے پیدا کیا تھا۔ حکم سنتے ہی جبرائیل امین علیہ السلام آگے بڑھے اور اپنے کافوری ہونٹ محبوب دو عالم حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پائے ناز سے مس کردیئے۔
یہ منظر بھی کس قدر حسین ہوگا جب جبریل امین علیہ السلام نے فخر کائنات حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کو بوسہ دیا۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ہونٹوں کی ٹھنڈک پاکر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں اے جبرائیل! کیسے آنا ہوا؟ عرض کرتے ہیں: یارسول اللہ! ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے بلاوے کا پروانہ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ان الله اشتاق الی لقائک يارسول الله.یارسول اللہ (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اللہ تعالیٰ آپ کی ملاقات کا مشتاق ہے‘‘۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلئے زمین سے لے کر آسمانوں تک ساری گزر گاہوں پر مشتاق دید کا ہجوم ہاتھ باندھے کھڑا ہے ۔ (معارج النبوۃ)
چنانچہ آپ نے سفر کی تیاری شروع کی۔ اس موقع پر حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے آپ کا سینہ مبارک چاک کیا اور دل کو دھویا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے میرا سینہ چاک کیا۔ سینہ چاک کرنے کے بعد میرا دل نکالا پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان و حکمت سے لبریز تھا۔ اس کے بعد میرے دل کو دھویا گیا پھر وہ ایمان و حکمت سے لبریز ہوگیا۔ اس قلب کو سینہ اقدس میں اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا۔(بخاری شريف جلد اول صفحہ نمبر 568،چشتتی)
مسلم شریف میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سینہ چاک کرنے کے بعد قلب مبارک کو زم زم کے پانی سے دھویا اور سینہ مبارک میں رکھ کر سینہ بند کردیا۔(مسلم شربف جلد اول صفحة: 92)
حضرت جبرائیل علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قلب ہر قسم کی کجی سے پاک اور بے عیب ہے اور اس میں دو آنکھیں ہیں جو دیکھتی ہیں اور دو کان ہیں جو سنتے ہیں۔(فتح الباری جلد: 13: صفحة: 610)
سینہ اقدس کے شق کئے جانے میں کئی حکمتیں ہیں۔ جن میں ایک حکمت یہ ہے کہ قلب اطہر میں ایسی قوت قدسیہ شامل ہوجائے جس سے آسمانوں پر تشریف لے جانے اور عالم سماوات کا مشاہدہ کرنے بالخصوص دیدار الہٰی کرنے میں کوئی دقت اور دشواری پیش نہ آئے۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر انور پر عمامہ باندھا گیا۔ علامہ کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شب معراج حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو عمامہ شریف پہنایا گیا وہ عمامہ مبارک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے سات ہزار سال پہلے کا تیار کیا ہوا تھا۔ چالیس ہزار ملائکہ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اس کے اردگرد کھڑے تھے۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نور کی ایک چادر پہنائی۔ زمرد کی نعلین مبارک پاؤں میں زیب تن فرمائی، یاقوت کا کمر بند باندھا۔(معارج النبوة، صفحة: 601،چشتی)
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براق کا حلیہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: سینہ سرخ یاقوت کی مانند چمک رہا تھا، اس کی پشت پر بجلی کوندتی تھی، ٹانگیں سبز زمرد، دُم مرجان، سر اور اس کی گردن یاقوت سے بنائی گئی تھی۔ بہشتی زین اس پر کسی ہوئی تھی جس کے ساتھ سرخ یاقوت کے دور کاب آویزاں تھے۔ اس کی پیشانی پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔
چند لمحوں کے بعد وہ وقت بھی آگیا کہ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر تشریف فرما ہوگئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رکاب تھام لی۔ حضرت میکائیل علیہ السلام نے لگام پکڑی۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام نے زین کو سنبھالا۔ حضرت امام کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات اسی ہزار فرشتے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف اور اسی ہزار بائیں طرف تھے۔(معارج النبوة صفحہ 606)
فضا فرشتوں کی درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی اور آقائے نامدار حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم درود و سلام کی گونج میں سفر معراج کا آغاز فرماتے ہیں۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيٰـتِنَا.
ترجمہ : وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں ۔ (بنی اسرائيل،17: 1)
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت شان و شوکت سے ملائکہ کے جلوس میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ گھڑی کس قدر دلنواز تھی کہ جب مکاں سے لامکاں تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا، سواری بھی نور تو سوار بھی نور، باراتی بھی نور تو دولہا بھی نور، میزبان بھی نور تو مہمان بھی نور، نوریوں کی یہ نوری بارات فلک بوس پہاڑیوں، بے آب و گیاہ ریگستانوں، گھنے جنگلوں، چٹیل میدانوں، سرسبز و شاداب وادیوں، پرخطر ویرانوں پر سے سفر کرتی ہوئی وادی بطحا میں پہنچی جہاں کھجور کے بیشمار درخت ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ حضور یہاں اتر کر دو رکعت نفل ادا کیجئے یہ آپ کی ہجرت گاہ مدینہ طیبہ ہے۔ نفل کی ادائیگی کے بعد پھر سفر شروع ہوتا ہے۔ راستے میں ایک سرخ ٹیلا آتا ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ معراج کی رات میں سرخ ٹیلے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ وہاں موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بیت المقدس بھی آگیا جہاں قدسیوں کا جم غفیر سلامی کے لئے موجود ہے۔ حوروغلماں خوش آمدید کہنے کے لئے اور تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین استقبال کے لئے بے چین و بے قرار کھڑے تھے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر تشریف فرماہوئے جسے باب محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا جاتا ہے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام ایک پتھر کے پاس آئے جو اس جگہ موجود تھا ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس پتھر میں اپنی انگلی مار کر اس میں سوراخ کردیا اور براق کو اس میں باندھ دیا۔(تفسير ابن کثير جلد3، ص7،چشتی)
آفتاب نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں۔ صحن حرم سے فلک تک نور ہی نور چھایا ہوا ہے۔ ستارے ماند پڑچکے ہیں، قدسی سلامی دے رہے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام اذان دے رہے ہیں، تمام انبیاء و رسل صف در صف کھڑے ہورہے ہیں۔ جب صفیں بن چکیں تو امام الانبیاء فخر دوجہاں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت فرمانے تشریف لاتے ہیں۔ تمام انبیاء و رسل امام الانبیاء کی اقتداء میں دو رکعت نماز ادا کرکے اپنی نیاز مندی کا اعلان کرتے ہیں۔ ملائکہ اور انبیاء کرام سب کے سب سرتسلیم خم کیے ہوئے کھڑے ہیں۔ بیت المقدس نے آج تک ایسا دلنواز منظر اور روح پرور سماں نہیں دیکھا ہوگا۔ وہاں سے فارغ ہی عظمت و رفعت کے پرچم پھر بلند ہونے شروع ہوتے ہیں۔ درود و سلام سے فضا ایک مرتبہ پھر گونج اٹھتی ہے۔ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نوری مخلوق کے جھرمٹ میں آسمان کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ثم عرج بی پھر مجھے اوپر لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ جہاں نگاہ کی انتہاء ہوتی وہاں براق پہلا قدم رکھتا۔ فوراً ہی پہلا آسمان آگیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا جبرائیل ! دربان نے پوچھا، من معک تمہارے ساتھ کون ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا حضرت محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دربان نے کہا: مرحبا دروازے انہی کے لیے کھولے جائیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ آسمان اول پر
چند لمحوں کے بعد وہ وقت بھی آگیا کہ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم براق پر تشریف فرما ہوگئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رکاب تھام لی۔ حضرت میکائیل علیہ السلام نے لگام پکڑی۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام نے زین کو سنبھالا۔ حضرت امام کاشفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات اسی ہزار فرشتے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف اور اسی ہزار بائیں طرف تھے۔(معارج النبوة صفحہ 606)
فضا فرشتوں کی درود و سلام کی صداؤں سے گونج اٹھی اور آقائے نامدار حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم درود و سلام کی گونج میں سفر معراج کا آغاز فرماتے ہیں۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰـرَکْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ اٰيٰـتِنَا.
ترجمہ : وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہِ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں ۔ (بنی اسرائيل،17: 1)
آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نہایت شان و شوکت سے ملائکہ کے جلوس میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ گھڑی کس قدر دلنواز تھی کہ جب مکاں سے لامکاں تک نور ہی نور پھیلا ہوا تھا، سواری بھی نور تو سوار بھی نور، باراتی بھی نور تو دولہا بھی نور، میزبان بھی نور تو مہمان بھی نور، نوریوں کی یہ نوری بارات فلک بوس پہاڑیوں، بے آب و گیاہ ریگستانوں، گھنے جنگلوں، چٹیل میدانوں، سرسبز و شاداب وادیوں، پرخطر ویرانوں پر سے سفر کرتی ہوئی وادی بطحا میں پہنچی جہاں کھجور کے بیشمار درخت ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام عرض کرتے ہیں کہ حضور یہاں اتر کر دو رکعت نفل ادا کیجئے یہ آپ کی ہجرت گاہ مدینہ طیبہ ہے۔ نفل کی ادائیگی کے بعد پھر سفر شروع ہوتا ہے۔ راستے میں ایک سرخ ٹیلا آتا ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ معراج کی رات میں سرخ ٹیلے سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ وہاں موسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور وہ اپنی قبر میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہے ہیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بیت المقدس بھی آگیا جہاں قدسیوں کا جم غفیر سلامی کے لئے موجود ہے۔ حوروغلماں خوش آمدید کہنے کے لئے اور تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و مرسلین استقبال کے لئے بے چین و بے قرار کھڑے تھے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام پر تشریف فرماہوئے جسے باب محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا جاتا ہے ۔ حضرت جبریل علیہ السلام ایک پتھر کے پاس آئے جو اس جگہ موجود تھا ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس پتھر میں اپنی انگلی مار کر اس میں سوراخ کردیا اور براق کو اس میں باندھ دیا۔(تفسير ابن کثير جلد3، ص7،چشتی)
آفتاب نبوت حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد اقصیٰ میں داخل ہوتے ہیں۔ صحن حرم سے فلک تک نور ہی نور چھایا ہوا ہے۔ ستارے ماند پڑچکے ہیں، قدسی سلامی دے رہے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام اذان دے رہے ہیں، تمام انبیاء و رسل صف در صف کھڑے ہورہے ہیں۔ جب صفیں بن چکیں تو امام الانبیاء فخر دوجہاں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت فرمانے تشریف لاتے ہیں۔ تمام انبیاء و رسل امام الانبیاء کی اقتداء میں دو رکعت نماز ادا کرکے اپنی نیاز مندی کا اعلان کرتے ہیں۔ ملائکہ اور انبیاء کرام سب کے سب سرتسلیم خم کیے ہوئے کھڑے ہیں۔ بیت المقدس نے آج تک ایسا دلنواز منظر اور روح پرور سماں نہیں دیکھا ہوگا۔ وہاں سے فارغ ہی عظمت و رفعت کے پرچم پھر بلند ہونے شروع ہوتے ہیں۔ درود و سلام سے فضا ایک مرتبہ پھر گونج اٹھتی ہے۔ سرور کونین حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نوری مخلوق کے جھرمٹ میں آسمان کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔
حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : ثم عرج بی پھر مجھے اوپر لے جایا گیا۔ براق کی رفتار کا عالم یہ تھا کہ جہاں نگاہ کی انتہاء ہوتی وہاں براق پہلا قدم رکھتا۔ فوراً ہی پہلا آسمان آگیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ دربان نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا جبرائیل ! دربان نے پوچھا، من معک تمہارے ساتھ کون ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا حضرت محمد (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دربان نے کہا: مرحبا دروازے انہی کے لیے کھولے جائیں گے۔ چنانچہ دروازہ کھول دیا گیا۔ آسمان اول پر