🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_معراج_النبی_ﷺ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
معراج النبی اور صوفیائے کرام
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
*معراج النبی ﷺ اور مغربی اندازِ فکر*
علمی مطالعہ کی روشنی میں

غلام مصطفٰی رضوی
نوری مشن مالیگاؤں

https://m.facebook.com/107640804524449/posts/377820650839795/

عقل کی پرواز بہت محدود ہے، وحی کی وسعت کا اندازا عقل نہیں لگا سکتی، اسی لیے وحی کے مقابل عقل کو قبلہ بنانا دانش مندی نہیں۔ قرآن مقدس نے اسی لیے عقلاے زمانہ کو چیلنج کیا تھا:
’’اور اگر تمھیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ‘‘ (البقرۃ:۲۳)
یہ اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن کے آگے سب عاجز و ساکت ہیں اور اس کتابِ مقدس کے احکام شک و شبہے سے پاک ہیں،امام احمد رضا قادری (م۱۹۲۱ء) نے خوب فرمایا:

تیرے آگے یوں ہیں دبے لچے فصحا عرب کے بڑے بڑے
کوئی جانے منھ میں زباں نہیں، نہیں بلکہ جسم میں جاں نہیں

    ۱۷؍ویں صدی کے مشینی انقلاب نے مغربی قوتوں کو خود فریبی میں مبتلا کر دیا، وہ گمان میں پڑ گئے کہ اب قرآن مقدس سے دلوں کو دور کرنا آسان ہو گا، لیکن یہ گمان ڈھے گیا، قرآن کی حقانیت ایجادات و اختراعات کے ساتھ ساتھ اور اجاگر ہوتی گئی، سائنس نے جہاں جہاں قرآن سے استفادہ کیا ٹھوس نتائج بر آمد ہوئے، جانسن کے بہ قول: ’’یہی (قرآن مقدس کا) پیغام ایک تعمیری قوت کے طور پر وجود میں آیا اور عیسائی دنیا میں بہ طور نور پھیل گیااور جہالت کی ظلمت کو دور کر گیا۔‘‘ (تبرکات مبلغ اسلام،ص۴۹۳)

    ایمان نام ہے اطاعت و تسلیم کا، ہم ایمان لائے، اللہ و رسول کی اطاعت کا عہد باندھا، قرآن کے احکام کو تسلیم کیا، اب اسے چھوڑ کر عقلِ خام کو قبلہ بنانا منفی طرزِ عمل ہے؛ جو مغرب کا وطیرہ ہے، مغربی قوتوں نے ایمان کم زور کرنے کی غرض سے عقلی تحریک کو آگے بڑھایا، قرآن کریم نے عقل کی نہیں بلکہ اللہ و رسول کی اطاعت کی تعلیم دی:
’’اور حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا‘‘ (سورۃ المآئدۃ:۹۲)

    یوں ہی واقعۂ معراج ہے یعنی رسول کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اللہ نے عالمِ سموات کی سیر کروائی؛ اور سب سے بڑھ کر اپنا قربِ خاص عطا فرمایا۔ واقعۂ معراج کو بعض مغربی تعلیم سے مرعوب مسلمان عقل نا پائیدار کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ اعتراض کرتے ہیں کہ کس طرح کم وقت میں فرش سے عرش گئے، رب کا دیدار کیا؟ اور مشاہدات کیے؟… قرآن نے صاف فرما دیا:
’’پاکی ہے اسے جو راتوں رات اپنے بندے کو لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل:۱/کنزالایمان)

    سوچنے والی بات ہے کہ نبی؛ رب قدیر کے پیغامات پہنچاتے ہیں، انھیں نیابتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے، ’’رب کی عظیم نشانیاں‘‘ ملاحظہ فرما کر انھوں نے انسانیت کو سنوارا، رب نے انھیں اپنی ربوبیت کی پہچان کا ذریعہ بنایا، تو انھیں اپنی عظیم نشانیاں دکھا دے تو جائے تعجب کیا ہے؟ اعتراض کیسا؟ رب نے بتایا اور وہ قدرت والا ہے، اس میں کلام؛ رب کی قدرت پر جسارت ہے… قرآن و حدیث دونوں پر ہمارا ایمان ہے اور دونوں ہی معراجِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر دلیلیں رکھتے ہیں، قرآن مقدس میں مسجد اقصیٰ تک کا بیان تو بالکل واضح ہے اور احادیث میں آگے کی منازل اور رویتِ باری (دیدار الٰہی) کا بیان ہے۔ قادرِ مطلق نے اپنی قدرت سے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا دیدار عطا فرمایا، ہم اس رُخ سے یہاں چند دلائل ذکر کیے دیتے ہیں تا کہ ایمان کو تازگی ملے اور اسلام مخالف قوتوں کو ضرب کاری۔

    سورۃ والنجم میں بہت واضح طور پر معراج کا ذکرفرمایا گیا، جس میں یہ بھی ارشاد ہوا کہ حضور اقدس اپنی خواہش سے نہیں کہتے جو رب کی مرضی ہوتی ہے وہی فرماتے ہیں، ملاحظہ کریں: ’’اس چمکتے تارے (محمد) کی قسم جب یہ معراج سے اترے، تمھارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے، اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو بس وحی ہوتی ہے جو انھیں کی جاتی ہے؛ انھیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقت ور نے، پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارے پر تھا، پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا، پھر خوب اتر آیاتو اس جلوہ اور محبوب میں دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا، پھر وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا، تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو، اور انھوں نے وہ جلوہ دو بار دیکھا سدرۃالمنتہیٰ کے پاس۔‘‘ (سورۃالنجم/کنزالایمان)

    دیدارِ الٰہی کی بابت کفارِ مکہ اور یہودو نصاریٰ کو بہت شاق گزرا اور وہ حسد میں پڑ گئے، اس حقیقت کو جھٹلانے کے لیے بہانے تلاش کرنے لگے، وحی نے ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا، ابتدا سے ہی معراج النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا انکار یہود و نصاریٰ کرتے چلے آئے ہیں۔اسی سبب راقم نے معراج نبوی کے انکار کو مغربی اندازِ فکر سے تعبیر کیا ہے۔
1
Forwarded from Gulam Mustafa Razvi
    علامہ محمد زرقانی کے حوالے سے امام احمد رضا تحریر فرماتے ہیں: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خصائص سے ہے کہ حضور نے اللہ عزوجل کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا، یہی مذہب راجح ہے اور اللہ عزوجل نے حضور سے اس بلند و بالا تر مقام میں کلام فرمایا، جو تمام امکنہ سے اعلیٰ تھا، اور بے شک ابن عساکر نے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا شبِ اسریٰ مجھے میرے رب نے نزدیک کیا کہ مجھ میں اور اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا۔ (دیدار الٰہی،ص۱۱۔۱۲)

    امام نسائی اور امام ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی کی روایت میں ہے: کیا ابراہیم کے لیے دوستی اور موسیٰ کے لیے کلام اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لیے دیدار ہونے میں تمھیں اچنبا ہے، حاکم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے، امام قسطلانی نے فرمایا اس کی سند جید ہے… حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرمایا کرتے بے شک محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دو بار اپنے رب کو دیکھا، ایک بار اس آنکھ سے اور ایک بار دل کی آنکھ سے۔ امام سیوطی و امام قسطلانی و علامہ شامی و علامہ زرقانی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مرجع سابق،ص۳۔۴)

    خطیب بغدادی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: شب اسریٰ مجھے میرے رب عزوجل نے نزدیک کیا یہاں تک کہ مجھ میں اس میں دو کمان بلکہ کم کا فاصلہ رہا۔(ختم نبوت، ص۱۲، امام احمد رضا)…
مجھے یہاں امام شرف الدین بوصیری کا وہ شعر یاد آ رہا ہے جو معراج کی طرف اشارہ کرتا ہے:

وَبِتَّ تَرْقیٰ اِلٰی اَنْ نِلْتَ مَنْزِلَۃً
مِنْ قَابَ قَوْسَیْنِ لَمْ تُدْرَکْ وَلَمْ تُرَمٖ

    ترجمہ: آپ بلندیوں کی جانب بڑھتے رہے، یہاں تک کہ ’’قاب قوسین‘‘ کی وہ منزل پالی جس تک نہ کسی کی رسائی ہوئی نہ ہمت (وہ یہ کہ صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا۔)

    ہمیں ایمان، رب کی معرفت، توحید کی تعلیم، حق کی پہچان سب بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی عطا ہوئے، ان کی رسائی بارگاہِ رب تک اور ہماری رسائی بارگاہِ مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک، اسی لیے امتِ محمدیہ کو جو مقام ملا وہ دوسری امتوں کو نہ ملا۔ ان سب انعامات و امتیازات کے باوجود واقعۂ معراج سے متعلق صہیونی اندازِ فکر کو اہمیت دینا مناسب نہیں، اور یہی مغربی سازش بھی تھی کہ مسلمان اپنے نبی کی عظمت میں شک کرے، مغرب کے ایسے حربوں کو ناکام بنانا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ ایک مسلمان کو لازم ہے کہ وہ اپنے نبی کی عظمتوں کے ترانے گنگنائے، امام شرف الدین بوصیری فرماتے ہیں: ’’ہم مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے کہ عنایت ربانی سے ہمیں ایک ایسا ستون میسر آگیا ہے جو کبھی زمیں بوس نہ ہوگا۔‘‘
٭٭٭

٭[نوری مشن مالیگاؤں]
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
25-07-1443ᴴ 🗓 27-02-2022ᴱ
26-07-1443ᴴ 🗓 28-02-2022ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہزاری اور لکھی روزہ کی حقیقت
نور نامہ پڑھنا کیسا ہے ؟
2
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
معراج النبی ﷺ حصّہ اوّل
ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2022/02/blog-post_26.html?m=1
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے آسمانی معجزات میں سے معراج کا واقعہ بھی بہت زیادہ اہمیت کاحامل اور ہماری مادی دنیا سے بالکل ہی ماوراء اور عقل انسانی کے قیاس و گمان کی سرحدوں سے بہت زیادہ بالاتر ہے ۔ معراج کا دوسرا نام اسراء بھی ہے ۔ اسراء کے معنی رات کو چلانا یا رات کو لے جانا چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے واقعہ معراج کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے اس لیئے معراج کا نام اسراء پڑ گیا اور چونکہ حدیثوں میں معراج کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے عُرِجَ بِیْ (مجھ کو اوپر چڑھایا گیا) کا لفظ ارشاد فرمایا اس لیے اس واقعہ ک انام معراج ہو گیا ۔

احادیث و سیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو بہت کثیر التعداد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بیان کیا ہے ۔ چنانچہ علامہ زرقانی رحمۃ اللہ علیہ نے 45 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نام بنام گنایا ہے جنہوں نے حدیث معراج کو روایت کیا ہے ۔ (المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی ، المقصد الخامس فی تخصیصہ...الخ ،جلد نمبر 8، صفحہ 25 تا 27،چشتی)

معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی علیہ السّلام کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔

وہ سرورِ کِشورِ رِسالت ، جو عرش پر جلوہ گَر ہو ئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں عَرَب کے مہمان کے لیے تھے

لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج 34 مرتبہ ہوئی ۔

معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح 27 رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے ۔ مزید اس بارے میں علماء کرام کے 10 اقوال موجود ہیں ۔
1: ہجرت سے 6ماہ قبل
2: ہجرت سے 8ماہ قبل
3: ہجرت سے11ماہ قبل
4: ہجرت سے 1 سال قبل
5: ہجرت سے ایک سال اور 2ماہ قبل
6: ہجرت سے ایک سال اور 3ماہ قبل
7: ہجرت سے ایک سال 5ماہ قبل
8: ہجرت سے ایک سال 6ماہ قبل
9: ہجرت سے 3 سال قبل
10: ہجرت سے5سال قبل
یہ دس اقوال علماء سیرت کے موجود ہیں لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری شریف میں جو ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت عقبہ سے پہلے معراج ہوئی اگر اس بات کو ترجیح دی جائے تو معراج نبوت کے دسویں سال کے بعد اور گیارہ نبوی میں سفر طائف سے واپسی کے بعد ہوئی ۔

معراج کی تاریخ ، دن اور مہینہ میں بہت زیادہ اختلافات ہیں ۔ لیکن اتنی بات پر بلا اختلاف سب کا اتفاق ہے کہ معراج نزول وحی کے بعد اور ہجرت سے پہلے کا واقعہ ہے جو مکہ معظمہ میں پیش آیا اور ابن قتیبہ دینوری (المتوفی ۲۶۷ ھ) اور ابن عبدالبر (المتوفی ۴۶۳ ھ) اور امام رافعی و امام نووی علیہم الرّحمہ نے تحریر فرمایا کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا ۔ اور محدث عبدالغنی مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے رجب کی ستائیسویں بھی متعین کر دی ہے اور علامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کا اسی پر عمل ہے اور بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے ۔ (زرقانی جلد 1 صفحہ 355 تا 358،چشتی)

واقعہ معراج حق ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے جو کچھ بیان کیا حق ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک 27 رجب کو ہوا تھا ۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقصد تاریخ بتانا نہیں بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی قدر و منزلت اور شان بیان کرنا ہے ۔ اس لیے ضروری نہیں کہ تاریخ کا ذکر حدیث مبارکہ میں ہو ۔ بلکہ جتنے بھی بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں کسی کا ذکر بھی حدیث میں تاریخ کے حوالے سے نہیں ہوا ۔ بلکہ مورخین اور تاریخ دان لوگ بیان کرتے ہیں ۔ اسی طرح قرآن مجید میں بڑے بڑے واقعات ذکر کیئے گئے ہیں لیکن تاریخ نہیں بیان کی
گئی ، یہاں تک کہ نزول قرآن یا ابتدائے وحی کی تاریخ بھی قرآن میں نہیں ہے ۔ لہٰذا ایسے سوالات کرنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ اصل مقصد کو جانا چاہیئے ۔

معراج کتنی بار اور کیسے ہوئی

جمہور علماء ملت کا صحیح مذہب یہی ہے کہ معراج بحالت بیداری جسم و روح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی جمہور صحابہ و تابعین اور فقہاء و محدثین نیز صوفیہ کرام کا یہی مذہب ہے ۔ چنانچہ علامہ حضرت ملا احمد جیون رحمۃ ﷲ تعالیٰ علیہ (استاد اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ) نے تحریر فرمایا کہ : وَ الْاَصَحُّ اَنَّهٗ کَانَ فِی الْيَقْظَةِ بِجَسَدِهٖ مَعَ رُوْحِهٖ وَعَلَيِْه اَهْلُ السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ فَمَنْ قَالَ اِنَّهٗ بِالرُّوْحِ فَقَطْ اَوْ فِي النَّوْمِ فَقَطْ فَمُبْتَدِعٌ ضَالٌّ مُضِلٌّ فَاسِقٌ ۔ (تفسيرات احمديه بنی اسرائيل صفحہ 408 ، چشتی)
ترجمہ : اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ معراج بحا لت بیداری جسم و روح کے ساتھ ہوئی یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے ۔ لہٰذا جو شخص یہ کہے کہ معراج فقط روحانی ہوئی یا معراج فقط خواب میں ہوئی وہ شخص بدعتی و گمراہ اور گمراہ کن و فاسق ہے ۔

خبر یہ تحویلِ مہر کی تھی ، کہ رُت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیب تن کی ، یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سراپا معجزہ بن کر اس دنیا میں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے جمالات و کمالات اور روشن ترین معجزات تو بے شمار ہیں ، لیکن معراج وہ فضیلت ہے جو ربِّ کائنات نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے سوا کسی نبی یا رسول علیہ السّلام کو عطا نہیں کی ، یہی وہ موقع تھا جب رب العزت نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو نمازوں کا تحفہ عطا کیا ۔

واقعہ معراج کو اسلامی تاریخ میں انتہائی اہمیت حاصل ہے ، ستائیس رجب المرجب کو انوار وتجلیات کے جلوے سمیٹے حضرت جبرائیل علیہ السلام پچاس ہزار فرشتوں کے ہمراہ جنتی براق لئے آسمان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی چچا زاد ہمشیرہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر حاضر خدمت ہوئےاور عرض کی کہ رب العزت آپ سے ملاقات کا مشتاق ہے ، یہی وہ مقدس شب ہے جب انسانیت معراج سے سرفراز ہوئی اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم زمین سے عرش بریں تک جا پہنچے ۔ فضا درود و سلام سے گونج اٹھی اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے سفر معراج کا آغاز فرمایا ، چاروں طرف نور پھیل گیا ، کائنات کے پورے نظام کو روک دیا گیا ، پہلے آسمان سے ساتویں آسمان تک اوالعزم انبیاء اور ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا استقبال کیا ۔ جنت کی سیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو عرش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا دامن تھام لیا اور تمام حجابات ہٹا دیئے گئے ۔ یہی وہ وقت تھا جب پروردگارعالم نے اپنی محبوب ترین ہستی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اور نماز کا تحفہ عطا کیا ۔ جب تاجدارحرم عرش معلیٰ سے تشریف لائے تو گھر کے دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی ، بستر گرم تھا اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ۔ معراج مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے ہی وقت کوروکا گیا اور پھر اسی محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے لئے وقت کو جاری کیا گیا ۔ (معارج النبوۃ،چشتی)۔(مدارج النبوۃ)،(مواہب الدنیہ)

معراج شریف ایسا عظیم معجزہ اور مرتبہ ہے ، جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو عطا کیا گیا اور کائنات میں آپ کے سواء کسی بھی نبی کو ایسا معجزہ نہیں عطا ہوا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد سے انسان کی خلائی پرواز اور کائینات کی وسعتوں میں جولانی اور ہر نئے دن اس میں ترقی کی مناسبت سے معراج کا معجزہ ، جس کے سامنے ساری طاقتیں عاجز ہیں ، سرفراز کیا گیا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے سیدالاولین والآخرین اور خاتم النبیین ہونے کی صداقت اور دلیل و شہادت ہے ۔
لفظ ’’ معراج ‘‘ عروج کا اسم آلہ ہے ، اس کے معنی سیڑھی ہے ، مگر شریعت میں معراج سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا آسمانوں سے اوپر ، قاب قوسین اور دنیٰ فتدلیٰ میں تعریف لے جانا ہے ، معراج کا مقصد آپ کی شان عظمت کا اظہار ، دیدارِ الہٰی اور آیات خداوندی کا مشاہدہ (لنریہ من آیاتنا) اور آپ کی شان عظمت پر ایمان کا سارے انسانوں سے امتحان ۔ معراج شریف جسم کے ساتھ بیداری میں ایک بار ہوئی اور روحانی معراج ۳۴ مرتبہ ہوئی ۔

معراج کی تاریخ کے بارے میں قول راجح ۲۷؍ رجب المرجب شب دوشنبہ بعثت کے گیارہویں سال ہے جیسا کہ تصیل سے اوپر ہم نے عرض کر دیا ہے ۔ معراج شریف کے مدت سفر کی مقدار بیان نہیں کی گئی ہے اور یہ طی ارض کی صورت میں نہیں تھی ، بلکہ حقیقت میں ساری مسافت طے کی گئی اور نہایت مختصر وقت میں کہ بستر گرم تھا ، زنجیر ہل رہی تھی اور وضو کا پانی بہہ رہا تھا ، جب کہ حضرت جبرئیل امین اور دیگر فرشتے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے خادم ہیں ، وہ ساتوں
آسمانوں سے آن کے آن میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ، تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم تو باعث تخلیق کون و مکاں ہیں اور آپ کے زیرحکم اور خادم مسخر ہیں ، آپ کےلیے کیا استحالہ ہو سکتا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو حظیرہ قدسیہ میں پہنچ کر بھی امت کی فکر تھی ۔ رب العزت کی طرف سے مراحم خسروانہ سے سرفرازی کی گئی کہ نماز کا تحفہ ، سورۂ بقرہ کی آخری آیتوں کے ذریعہ کبائر کی مغفرت کا وعدہ اور بشرت عظمیٰ اور ہمیشہ انابت الی اللہ کی فکر کرنے سے ترقی مدارج اور امت کو معراج کی راہ بتائی گئی ’’ الصلوٰۃ معراج المؤمنین ‘‘ ۔
معراج مبارک کا ثبوت قرآن مجید کے سورہ بنی اسرائیل میں زمینی سیر بیت المقدس تک اور سورہ نجم میں معراج سماوات اور سیر ملکوتی اور مقام دنیٰ و تدلی میں لقاء کا ذکر موجود ہے ، اور احادیث شریفہ میں کئی صحابہ کرام سے معراج شریف کی روایت موجود ہے ۔ بیت المقدس تک سیر کا اگر کوئی انکار کرتا ہے ، تو کافر ہوجائے گا اور آسمانی سفر کا انکار کرنا گمراہی ، بدعت اور بے دینی ہے ۔
معراج شریف کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا اور اس کی انتہاء مقام دنی و تدلی پر ہوئی اور اس پورے سفر میں تین سواریوں کے ذریعہ دس بلندیاں طے کی گئیں ۔ براق پر بیت المقدس تک ، برق کے ساتھ نورانی سیڑھی پر سدرہ تک اور رف رف پر مقام قاب قوسین تک ۔ بعض نے پانچ سواریوں کا ذکر کیا ہے یعنی براق پر بیت المقدس تک ، نورانی سیڑھی سے آسمان دنیا تک ، فرشتوں کے بازوؤں کے ذریعہ ساتویں آسمان تک ، جبرئیل علیہ السلام کے بازو کے ذریعہ سدرہ تک اور رف رف سے مقام قوسین تک ۔ اس سفر میں مراقی عشر یعنی دس بلندیاں طے فرمائیں اور اس سے آگے تشریف لے گئے ۔ ایک تا سات حطیم کعبہ سے ساتویں آسمان تک (۸) سدرۃ المنتہی (۹) مستوی (صریف الاقلام) (۱۰) عرش اعظم ۔ (روح المعانی) سفر کا آغاز حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان سے ہوا ۔ رات میں جب کہ ساری دنیا محو خواب تھی ، حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت کھلی اور حضرات جبرئیل امین ، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام آئے ۔ چھت کے ذریعہ آنے میں یہ اشارہ تھا کہ آپ کو اوپر تشریف لے جانا ہے اور شق صدر ہوگا اور یہ سفر خارق عادات ہے ، مناجات ہے اور فوری روانگی ہے ۔ آپ کو حطیم کعبہ میں لایا گیا اور چاہ زم زم کے پاس آپ کا سینہ انور کو چاک کرکے ، قلب مبارک کو سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھو کر ایمان و حکمت اور نور سے بھر دیا گیا اور پھر سینہ مبارک کو برابر کردیا گیا ۔ آپ کا سینہ مبارک طفولیت سے معراج مبارک تک چار مرتبہ چاک کیا گیا اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ چاک کیا گیا ۔ براق لایا گیا تھا ، اس پر آپ سوار ہوئے ۔ برقا نے شوخی کی اور اس کا شوخی کرنا حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی سواری کے شرف پانے پر ناز اور فخر کی وجہ سے تھا ، قیامت کے دن آپ کے شرف رکوب کا وعدہ حاصل کرنے کی غرض سے اس کی اور بھی وجوہ بیان کی گئی ہیں ۔ براہ مدینہ طیبہ و طور سینا آپ بیت المقدس پہنچے اور براق کو ایک پتھر کے قلابہ سے باندھ دیا گیا ۔ تمام انبیاء علیہم السلام اور فرشتے جمع تھے ، آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سب نے آپ کی اقتداء کی ۔ بعض کہتے ہیں کہ آپ نے بوقت واپسی امامت فرمائی ، اس میں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ بوقت واپسی بھی امامت فرمائی اور یہ فجر کی نماز تھی ۔پھر دودھ اور شراب کے پیالے پیش کیے گئے ، آپ نے دودھ کو اختیار فرمایا ۔ اب بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، بیت المقدس تک کے سفر کو ’’ اسراء ‘‘ کہتے ہیں ، جس کی منجملہ حکمتوں کے یہ ہے کہ وہ محشر ہے سرزمین محشر کو آپ کا قدومِ میمنت لزوم سے شرف بخشنا ۔ بتدریج حظیرہ قدس میں پہنچنا ۔ آپ کے آسمانوں پر عروج کےلیے خصوصی دروازہ بیت المقدس کے محاذی بنایا گیا ، اس لئے بھی بیت المقدس تک تشریف لے گئے ۔ کثرت سے انبیاء علیہم السلام کا مسکن رہا ہے ، آپ کی تشریف آوری سے نزول برکات کی تکمیل کرنا۔ عرب کا بیت المقدس آنا جانا تھا ، اس کی تمام تفصیلات سے وہ واقف تھے ۔ بیت المقدس کی راہ سے اوپر جانا لوگوں کو ایمان لانے کےلیے بطور تمہید و ایقان کےلیے تھا ۔

بیت المقدس سے آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، آپ کےلیے نور کی خصوصی سیڑھی رکھی گئی ، انبیاء علیہم السلام استقبال کے لئے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے آسمانوں پر پہنچ گئے اور انبیاء علیہم السلام کی روانگی محققین کے پاس اپنے اجساد بدنیہ کے ساتھ ہوئی ۔ تمام آسمانوں اور ملاء اعلیٰ پر ہر طر فآپ کی آمد کا اعلان ہو چکا تھا اور سب آپ کے انتظار میں تھے ۔ انبیاء علیہم السلام اور تمام فرشتے اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے استقبال کےلیے مختلف آسمانوں پر کھڑے تھے ۔ ہر آسمان پر آپ کے استقبال کےلیے دروازہ کھولے جانے سے پہلے آداب استقبال کے مطابق دربانوں نے آپ کی تشریف آوری کے بارے میں سوالات کئے اور یہ اس لئے بھی کہ یہ دروازے
صرف حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے لئے تھے ، لیکن آپ کے ہمرکاب حضرت جبرئیل امین تھے اور وہ دروازہ کھلوا رہے تھے ۔

آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام ، آسمان دوم پر حضرت یحیی و عیسی علیہما السلام ، سوم پر حضرت یوسف علیہ السلام ، چہارم پر حضرت ادریس علیہ السلام ، پنجم پر حضرت ہارون علیہ السلام ، ششم پر حضرت موسمی علیہ السلام اور ہفتم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام استقبال کے لئے منتظر تھے ۔ ہر پیغمبر علیہ السلام نے سلام اور تحیت کے بعد مرحبا فرماکر استقبال کیا ۔ حضرت آدم اور ابراہیم علیہا السلام نے مرحبان بابن الصالح اور دیگر تمام پیغمبروں نے مرحبا بالاخ الصالح فرمایا ۔ صالح سے مراد رب کے مظہر اتم اور رویت باری تعالیٰ و نیز شفاعت کبریٰ کی صلاحیت والی عظیم ہستی مراد ہے ۔ بعض پیغمبروں کا ایک زائد آسمانوں پر ہونا معلوم ہوتا ہے ، وہ اس لئے کہ وہ بعد استقبال دوسرے آسمان پر بھی پہنچ گئے تھے اور آپ بیت المعمور تشریف لے گئے ، جس کا ہر روز نئے ستر (۷۰) ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں ، آپ نے وہاں بھی امامت فرمائی ۔ پھر سدرۃ المنتہی تشریف لے گئے ، یہ مقام اس کے اوپر والوں کے لئے اور اس کے نیچے والوں کےلیے حد فاصل ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ اس کے انوار و کیفیات بیان سے باہر ہیں ۔ حضرت جبرئیل امین فرمائے کہ یہاں سے ایک پور بھی میں آگے بڑھوں گا ، تو میرے پر چل جائیں گے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم بہ نفس نفیس اوپر تشریف لے جاتے ہیں، پھر مقام مستوری پہنچے اور تمام عوام کا مشاہدہ فرمایا اور تدبیرات عوالم سارے دکھائے گئے اور عوالم کے تقدیرات لکھنے والے قلموں کی آواز سنی ۔ تمام مراتب اعلیٰ پر عروج پر ترقی کے بعد ، قرب خداوندی کی طرف سفر شروع ہوا ، اس سے اوپر عرش معلیٰ ، مقام قاب و قوسین اور دنی و تدلی تک پہنچے ، جہاں کوئی مقرب فرشتہ بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی اور رویت باری تعالیٰ کا شرف عطا ہوا ، آپ کے سواء کسی کو اس دنیا کی زندگی میں رویت کا شرف حاصل نہیں ہوا ۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روایت باری تعالیٰ کا ثبوت نہیں ہے ، ان کا مطلب احاطہ کا انکار ہوسکتا ہے ، کیونکہ ذات خداوندی کا احاطہ نہیں ہو سکتا ، اس سے روایتوں میں کوئی اشکال باقی نہیں رہتا ۔
بارگاہ احدیت میں پہنچ کر آپ کی نگاہ ہٹی نہیں اور آداب کے زینہ سے تجاوز بھی نہیں کی ۔ آپ نے آداب کا تحیہ پیش کیا اور ’’ التحیات ﷲ والصلوات والطیبات ‘‘ کے ذریعہ حمد و ثناء فرمائی ۔ جواب میں رب العزت کا ارشاد ہوا ’’ السلام علیک ایھا النبی و رحمة ﷲ و برکاتہ ‘‘ ۔ پھر اس پر حضور علیہ السلام نے ’’ السلام علینا وعلی عبادﷲ الصالحین ‘‘ کے ذریعہ ساری امت اور فرشتوں کو اس سلامتی میں شامل فرمایا ، تو فرشتوں نے ’’ اشہدان لا الہ الاﷲ واشہدان محمدا عبدہ و رسولہ ‘‘ کے ذریعہ آپ کی جناب اقدس میں ہدیہ تشکر پیش کیا اور اسی ’’ التحیات ‘‘ کو نماز میں شامل کر دیا گیا ۔ اس میں اب یہ بحث ہے کہ نماز میں تحیہ و سلام بطور حکایت ہے ، یا انشاء درحقیقت یہ انشاء ہے ، اس میں کوئی استحالہ نہیں ہے ۔

رب تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم میں مناجات ہوتی رہی (فاوحی الی عبدہ ما اوحی) اور امت کےلیے ۵۰ نمازوں کا اعلان کیا گیا ۔ اس موقع پر نماز کی فرضیت سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز مسلمانوں کےلیے معراج ہے ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تخفیف کےلیے خواہش کی ، تو آپ نو مرتبہ بہ نفس نفیس تشریف لے گئے ۔ ہر بار پانچ پانچ نمازیں تخفیف ہوتی گئیں اور صرف پانچ نمازیں قائم رہیں ، جن کو پچاس کے برابر قرار دیا گیا۔ اس میں حضرت موسی علیہ السلام دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔ دنیا میں انہوں نے درخواست کی تھی کہ ’’ رب ارنی انظر الیک ‘‘ اور یہ ان کی بڑی تمنا تھی ، لیکن ’’ لن ترانی ‘‘ آپ کو جواب ملا ، وہی موسی علیہ السلام آپ میں دیدار الہٰی کے انوار کا بار بار مشاہدہ کرتے رہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس سفر عروج اور سیر ملکوتی میں آیات کبریٰ اور جنت و دوزخ ، حوض کوثر اور سدرہ سے نکلنے والی چار نہریں جو دنیا میں آرہی ہیں ’’ نیل ، فرات ، سیحان ، جیجان ‘‘ اور تمام عوالم کا مشاہدہ فرمایا ۔ معراج سے واپسی اسی راستے سے ہوئی اور بیت المقدس سے مکہ معظمہ کےلیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں قریش کے قافلے ملے ، جو مکہ معظمہ کو آرہے تھے ، سواری براق جب وہاں سے گذری ، تو اس کی تیز رفتاری سے قافلہ کے اونٹ منتشر ہوگئے اور ایک قافلہ کا اونٹ بدک کر گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی ۔ ایک قافلہ کا اونٹ گم ہوگیا تھا ، تلاش کرکے اس کو لایا گیا ۔ آپ صبح سے پہلے مکہ معظمہ پہنچ گئے اور صبح میں آپ نے اہل مکہ کو اپنے سفر معراج کی خبر دی اور مقام روحاء میں قافلوں کے پاس سے گذرنے اور ان کے واقعات کی خبر دی اور فرمایا کہ یہ قافلے چہارشنبہ کی شام تک پہنچ جائیں گے ۔ اہل مکہ نے اس بات کا مذاق اڑایا ، مگر حضرت
1