🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.85K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
25-07-1443ᴴ 🗓 27-02-2022ᴱ
1👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
قصیدۂ معراجیہ 📜 حدائق بخشش
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/ashar-k-tashreeh/qaseeda-e-meraj

Qaseeda e Meraj aur Shab e Meraj Ki Manzar Kashi

اللہ  پاک نےامامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  کے قلم  کوایسی جامعیّت (comprehensiveness) اور قُوّت عطا فرمائی کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نےجس مسئلہ کی تحقیق (research) میں کوئی کتاب، رسالہ یا فتویٰ تحریر فرمایا تو اُس مسئلے کو اَلَمْ نَشرَح (یعنی خُوب واضح) فرما دیا۔ یونہی جس موضوع پربھی اَشعار لکھے تو اُس کی مَنظر کَشی (visualizing) کا حق ادا فرمادیا،جسے دیکھ کرفنِّ شاعری کے ماہرین حیران ہوجاتے ہیں۔ اس کی زبردست مثال اِنتہائی مختصر سے وقت میں لکھاجانے والا ”قصیدۂ معراجیہ“ ہے، جو کہ 67 اَشعار پرمشتمل ہے۔امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں حَسین تخیُّلات (خوبصورت خیالات imaginations) کے ساتھ ساتھ جابجا آیاتِ قراٰنیّہ اور اَحادیثِ نَبویّہ کی زبردست ترجُمانی فرمائی ہے۔ نیزآپ  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس قصیدے میں سفرِ معراج کے مختلف مرحلوں (stages) کو بڑےفصیح و بلیغ اَلفاظ میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےاِس قصیدے میں اُردو کے اِستعاروں اورمُحاوروں(idioms) کا کثرت سےاستعمال کیا ہے۔اس قصیدے کی ایک خوبی یہ بھی ہےکہ مجدِّدِ اعظم، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ  نے واقعۂ معراج کی مناسَبت سے کعبہ و حطیم، مسجدِ اَقصیٰ و نمازِ اَقصیٰ، جِبرَئِیل و بُراق، آسمان و عرشِ اَعظم، سِدرۃُ المنتہیٰ و جنّت اور لامکان و دیدارِ رحمٰن کا تذکرہ بڑے لطیف  اَنداز میں  فرمایا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگرکسی کو سفرِمعراج کا مختصر بیان اُردو زبان میں پڑھنا ہو تو وہ امامِ اہلِ سنّت، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس مبارَک اور منفرِد (unique) ”قصیدۂ معراجیہ“ کو ملاحَظہ کرلے۔ ذیل میں اِسی قصیدے کے چنداَشعار اور ان میں بیان کئے جانے والے مضامین کا مختصرجائزہ پیش کیا جاتاہے۔

(1)وہ سَروَرِ کِشْورِ رِسالت، جو عَرش پر جَلوہ گَرہوئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں، عَرَب کے مہمان کے لئے تھے
(الفاظ و معانی:سَروَر:بادشاہ۔ کِشْور:مُلک/دیس۔جَلوہ گر:سج دھج کے آنا۔طَرَب کے ساماں:خوشی و مسرَّت کے اسباب)
مذکورہ بالا شعر” قصیدۂ معراجیہ“ کا مَطلع(پہلاشعر)ہے۔اِس کا خلاصہ یہ ہےکہ مُلکِ رسالت کےبادشاہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم معراج کی شب عرشِ اعظم پر جَلوہ فرما ہوئے تھے اور قُدرت کی جانب سے عَرَب کے مہمان،رسولِ ذیشان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خاطر کائنات میں خوشی و شادمانی کےاَسباب کا اہتمام(arrangement)کیا گیاتھا۔

(2)نَمازِ اَقْصیٰ، میں تھا یہی سِرّ، عیاں ہوں مَعنی اَوَّل آخِر
کہ دَسْت بَستہ، ہیں پیچھے حاضِر، جو سَلطَنت آ گے کر گئے تھے
(الفاظ و معانی:سِرّ:راز۔عِیاں:واضح۔دست بستہ:ہاتھ باندھ کر)
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں تمام اَنبیائے کرام علیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کی اِمامت فرمائی تھی، چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:فَجُمِعَ  لِیَ الْاَنْبِیَاءُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ فَقَدَّمَنِیْ جِبْرَ ئِیْلُ حَتّٰی اَمَمْتُھُمْ ”یعنی میری خاطر انبیائے کرامعلیہم السَّلام کو (مسجدِ اَقْصیٰ) میں جمع کیاگیا تو جبرئیلعلیہ السَّلام  نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے انبیائے کرام علیہم السَّلامکی امامت فرمائی۔“(نسائی، ص81، حدیث:448) مذکورہ بالا شعرمیں امامُ الانبیاء   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو تمام نبیوں کی اِمامت کے لئے آگے بڑھائے جانے کی  ایک حکمت  کوبیان  کیاگیا ہے کہ اِس(آگے بڑھائے جانے)کے ذریعے قدرت کا مقصود مخلوق کو اوّل و آخر کا معنیٰ و مفہوم بتلانا تھا، یوں کہ بظاہرسب سےآخر میں تشریف لانے والےرسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مقام و مرتبے میں سب نبیوں سے اوّل(یعنی پہلے)ہیں،چنانچہ تمام انبیائے کرامعلیہم السَّلام معراج  کی رات  مسجدِ اقصیٰ میں رسولِ اعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقتدی بن کر  ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے تھے۔

(3)تَھکے تھے رُوحُ الاَمِیں کے بازُو چُھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رِکاب چُھوٹی اُمید ٹُوٹی نِگاہِ حَسرت کے وَلْوَلے تھے
(الفاظ ومعانی:رُوحُ الاَمِیں: حضرت جبرائیل علیہ السَّلام۔رِکاب:گھوڑے پر چڑھنے کا لوہے کا حلقہ۔وَلولے:جوش)
سفرِمعراج میں سِدرۃُ المنتہیٰ پر پہنچ کر جب جبریلِ اَمین علیہ السَّلام رُک گئے تو سُلطانِ اَعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے جبریل! کیا ایسے مقام پر ایک خلیل(یعنی دوست) اپنے خلیل کو چھوڑ دیتاہے؟ تو جبریل علیہ السَّلام نے عرض کی:اِنْ تَجَاوَزْتُہُ اِحْتَرَقْتُ بِالنُّوْر ”یعنی اگرمیں اِس مقام (سدرۃُ المنتھیٰ) سے آگے بڑھا تو نُور کی وجہ سے جَل
👍1
جاؤں گا۔“(مواھب لدنیہ،ج 2،ص381) ذکرکردَہ شعرمیں اِسی  حالت (condition)کی منظرکَشی کی گئی ہے۔

(4)جُھکا تھا مُجرے کو عرشِ اَعلیٰ گِرے تھے سجدے میں بَزمِ بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مَل رہا تھا وہ گِرد قربان ہورہے تھے
(الفاظ و معانی:مُجرے: آداب/سلامی۔ بزمِ بالا:آسمان کے فرشتے)
صُوفیا نے بیان فرمایاہے:جب نبیِّ پا ک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم (سفرِ معراج میں) عرشِ اَعظم تک پہنچے توعرش نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےدامنِ کرم کوتھام لیا۔(مواھب لدنیہ،ج 2،ص388)اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ نےاس بات کو یوں بیان فرمایا ہےکہ معراج  کی رات گویا عرش ِ اعظم سرکارِعالی وقار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کوسَلامی پیش کرنے کےلئے جھکا، فرشتوں نےربّ  تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدۂ شکرکیا،عرش تو قدَمِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمسےآنکھیں مَل رہا تھااورفرشتے آپ  علیہ السَّلام کے اِردگِرد نِثارہورہےتھے۔

(5)بَڑھ اے محمد! قَریں ہو اَحمد! قریب آ سَروَرِ مُمَجَّد! 
   نِثار جاؤں یہ کیا نِدا تھی یہ کیا سَماں تھا یہ کیا مَزے تھے
(الفاظ و معانی:قریں ہو: پاس آؤ۔ سرور: سردار۔ مُمجّد:بزرگی والے۔ سماں: منظر)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر میں ایک روایت کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ چنانچہ جب رسولِ ذیشان   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  معراج کی رات سفر کرتے ہوئے قُربِ الٰہی  کےخاص مقام میں پہنچے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کونِدا (یعنی آواز) دی گئی:اُدْنُ یَاخَیْرَالْبَرِ یَّۃِ،اُدْنُ یَااَحْمَد،اُدْنُ یَامُحَمَّدقریب ہو اےساری مخلوق سے بہتر محبوب!  قریب آؤ  اےاحمد! آگےبڑھو  اے محمد!(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) (مواھب لدنیہ،ج 2،ص381)

(6)وہ بُرْج بَطحا کا مَاہ پارہ بِہِشْت کی سَیر کو سِدَھارا
چمک پہ تھا خُلد کا سِتارہ کہ اس قَمَر کے قَدَم گئے تھے
(الفاظ و معانی: برج بطحا:مکّہ کی زمین/مکّہ کا گنبد۔ ماہ پارہ: چاند/نہایت حَسین۔بِہِشت:جنّت۔ خُلد: جنّت۔ قمر: چاند)
اس شعر میں قلمِ رضا نے بیان فرمایا کہ مالکِ جنّت  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  شبِ معراج جنّت کی سیر کرنے کیلئے روانہ ہوئے، یوں جنّت کی قسمت کا ستارہ چمک اُٹھا کہ آسمانِ نبوّت کے کامل چاندصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جنّت میں  قدم رنجہ ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے شبِ معراج جنّت میں تشریف لے جانے سے متعلّق ارشاد فرمایا:ثُمَّ اُدْخِلْتُ الْجَنَّۃَ، فَاِذَا فِیْھَا حَبَائِلُ اللُّؤْلُؤِ وَ اِذَا تُرَابُھَا الْمِسْکُ ”یعنی پھر مجھےجنّت میں داخل کیا گیا تو اُس میں موتی کی عمارتیں تھیں اور اُس کی مٹی مُشک تھی۔“ (مسلم، ص89، حدیث:415)

(7)خُدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروروں منزل میں جَلوہ کرکے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نُور کے تڑکے آ لیے تھے
(الفاظ و معانی: کروروں منزل: بہت زیادہ جگہوں۔ نور کےتڑکے: سویرے کی روشنی)
امام ِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر کئی روایات وتَفاسیر کا خُلاصہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنے حبیبِ اَکبر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کو شبِ معراج  صدیوں کا سفر رات کے اِنتہائی معمولی سے وقت میں طے کروا دیا، زنجیرہِل رہی تھی، پانی جاری تھا کہ معراج کے دُولہا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کون ومکاں،آسمان و جِناں(جنّت) اور دیدارِالٰہی کرکے لامکاں سے واپس مکّۂ پاک تشریف لے آئے۔

(8)نَبیِ رَحمت شفیعِ اُمّت! رضؔا پہ لِلّٰہ ہو عِنایَت
اسے بھی ان خِلْعَتوں سے حِصّہ جو خاص رَحمت کے واں بَٹے تھے
(الفاظ و معانی: عِنایت: توجّہ/ نظر/مہربانی۔خلعتوں:تحفے/ عطِیِّات/انعامات۔واں: وہاں)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس مَقطع(تخلُّص پر مشتمل شعر)میں عرض گُزار ہیں کہ اےرحمت والےاوراُمت کی شفاعت فرمانے والےپیارےنبیصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم!خدارا احمدرضا ؔپرعنایت ونوازش فرمائیےاور اِسے بھی اُن خاص رحمت  والےنورانی جوڑوں میں سے اس کاحصّہ عطافرمائیے، جوبارگاہِ الہٰی سےآپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو عطاکئےگئےتھے۔              
___
٭…راشد علی عطاری مدنی   
٭…مدرس جامعۃ المدینہ ،فیضان اولیا،کراچی
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/ashar-k-tashreeh/qaseeda-e-meraj
https://t.me/islaamic_Knowledge/25948
قصیدۂ معراجیہ 📜 حدائق بخشش
قصیدۂ معراج اور شب معراج کی منظر کشی
Qaseeda e Meraj aur Shab e Meraj Ki Manzar Kashi
📜 وہ سرور کشور رسالت
جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/ashar-k-tashreeh/qaseeda-e-meraj
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
قصیدۂ معراجیہ 📜 حدائق بخشش
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے (قصیدہِ معراجیہ)۔ امام احمد رضا خان بریلوی

"نعت کائنات" سے

This is the approved revision of this page, as well as being the most recent.

شاعر : امام احمد رضا خان بریلوی
کتاب : حدائق بخشش 📖

معراج نظم نذر گدابحضور سلطان الانبیا عَلَیہ اَفضلُ الصّلٰوۃ ِ وَالثَّنا در تہنیت شادی اَسرا

وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
ملک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنا دل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
ادھر سے انوار ہنستے آتے ادھر سے نفحات اٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی ان کے رخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھے

نئی دلہن کی پھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے اک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولہا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منہ پہ آنچل تجلی ذات بحت کے تھے

خوشی کے بادل امڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمہٴ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آگئے تھے

یہ جھوما میزاب زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کی حطیم کی گود میں بھرے تھے

دلہن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلاف مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حسن تزیین وہ اونچی چوٹی وہ نازو تمکین
صبا سے سبزہ میں لہریں آئیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آب رواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حباب تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجوم تار نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش باولے تھے

غبار بن کر نثار جائیں کہاں اب اس رہ گزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جان پرغم دکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالم
جب ان کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولہا بنا رہے تھے

اتار کر ان کے رخ کا صدقہ وہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جو بن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لئے تھے

بچا جو تلوؤں کا ان کے دھوون بنا وہ جنت کا رنگ وروغن
جنہوں نے دولہا کا پائی اترن وہ پھول گلزار نور کے تھے

خبر یہ تحویل مہر کی تھی کہ رت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیب تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلی حق کا سہرا سر پر صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاور
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آتے تھے پشت زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزال دم خوردہ سا بھڑکنا
شعاعیں بکے اڑا رہی تھی تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجوم امید ہے گھٹاؤ مرادیں دے کر انہیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لئے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گرد رہ منور وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل امنڈ کے جنگل ابل رہے تھے

ستم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک ان کے رہ گذر کی
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داخ سب دیکھنا مٹے تھے

براق کے نقش سم کے صدقے وہ گل کھلائے کہ سارے رستے
مہکتے گلبن مہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نماز اقصیٰ میں تھا یہی سر عیاں ہوں معنی اول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ ان کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقب الٹے وہ مہر انور جلال رخسار گرمیوں پر
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے تھے

یہ جوشش نور کا اثر تھا کہ آب گوہر کمر کمر تھا
صفائے راہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹے تھے

پڑھا یہ لہرا کے بحر وحدت کہ دھل گیا نام رنگ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے

وہ ظل رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سرو چماں خراماں نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سے اک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولہا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامین کے بازو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اک بھبو کا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دہر دہر پیڑ جل رہے تھے
جلو میں مرغ عقل اڑے تھے عجب برے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ ہی پر رہے تھے تھک کر چڑھا تھا دم تیور آگئے تھے

قوی تھے مرغان وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خون اندیشہ تھوکتے تھے

سنا یہ اتنے میں عرش حق نے کہا مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاج شرف تیرے تھے

یہ سن کے بے خود پکار اٹھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلوؤں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے

جھکا تھا مجرے کو عرش اعلیٰ گرے تھے سجدے میں بزم بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مل رہا تھا وہ گرد قربان ہورہے تھے

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلیں جھلملائیں
حضور خورشید کیا چمکتے چراغ منہ اپنا دیکھتے تھے

یہی سماں تھا کہ پیک رحمت خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

بڑھ اے محمد قریں ہو احمد‘ قریب آ سرور ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے

تبارک اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوش لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے تھے

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے

سراغ این و متی کہاں تھا نشان کیف و الیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگ منزل نہ مرحلے تھے

ادھر سے پیہم تقاضے آنا ادھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت ابھارتے تھے

بڑھے تو لیکن جھجکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قرب انہیں کی روش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقتہً فعل تھا ادھر کا
تنزلوں میں ترقی افزا دنا تدلیٰ کے سلسلے تھے

ہوا یہ آخر کہ ایک بجرا تموج بحر ہو میں ابھرا
دنا کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھادیئے تھے

کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرا کہاں اتارا
بھرا جو مثل نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

اٹھے جو قصر دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جاہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ ہی نہ تھے ارے تھے

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کے باغ پھولے گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوط واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے

زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعف تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑگئے تھے

وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے

کمان امکاں کے جھوٹے نقطو تم اول آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

ادھر سے تھیں نذر شہ نمازیں ادھر سے انعام خسروی میں
سلام ورحمت کے ہار گندہ کر گلوئے پر نور میں پڑے تھے

زبان کو انتظار گفتن تو گوش کو حسرت شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

وہ برج بطحا کا ماہ پارا بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارا کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

سرور مقدم کے روشنی تھی کہ تابشوں سے مہ عرب کی
جناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکئے ادب وہ بندش کہ ہل نہ سکئے
یہ جوش ضدین تھا کہ پودے کشاکش ارہ کے تلے تھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروڑوں منزل میں جلوہ کرکے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آلئے تھے

نبئ رحمت شفیع امت رضؔا پہ للہ ہو عنایت
اسے بھی ان خلعتوں سے حصہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبول سرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا روی تھی کیا کیسے قافیے تھے
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
http://naatkainaat.org/index.php/%D9%88%DB%81_%D8%B3%D8%B1%D9%88%D8%B1%D9%90_%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1%D9%90_%D8%B1%D8%B3%D8%A7%D9%84%D8%AA_%D8%AC%D9%88_%D8%B9%D8%B1%D8%B4_%D9%BE%D8%B1_%D8%AC%D9%84%D9%88%DB%81_%DA%AF%D8%B1_%DB%81%D9%88%D8%A6%DB%92_%D8%AA%DA%BE%DB%92_(%D9%82%D8%B5%DB%8C%D8%AF%DB%81%D9%90_%D9%85%D8%B9%D8%B1%D8%A7%D8%AC%DB%8C%DB%81)%DB%94_%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85_%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF_%D8%B1%D8%B6%D8%A7_%D8%AE%D8%A7%D9%86_%D8%A8%D8%B1%DB%8C%D9%84%D9%88%DB%8C
1