Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
قصیدۂ معراجیہ 📜 حدائق بخشش
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر
✍اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/ashar-k-tashreeh/qaseeda-e-meraj
Qaseeda e Meraj aur Shab e Meraj Ki Manzar Kashi
اللہ پاک نےامامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے قلم کوایسی جامعیّت (comprehensiveness) اور قُوّت عطا فرمائی کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نےجس مسئلہ کی تحقیق (research) میں کوئی کتاب، رسالہ یا فتویٰ تحریر فرمایا تو اُس مسئلے کو اَلَمْ نَشرَح (یعنی خُوب واضح) فرما دیا۔ یونہی جس موضوع پربھی اَشعار لکھے تو اُس کی مَنظر کَشی (visualizing) کا حق ادا فرمادیا،جسے دیکھ کرفنِّ شاعری کے ماہرین حیران ہوجاتے ہیں۔ اس کی زبردست مثال اِنتہائی مختصر سے وقت میں لکھاجانے والا ”قصیدۂ معراجیہ“ ہے، جو کہ 67 اَشعار پرمشتمل ہے۔امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں حَسین تخیُّلات (خوبصورت خیالات imaginations) کے ساتھ ساتھ جابجا آیاتِ قراٰنیّہ اور اَحادیثِ نَبویّہ کی زبردست ترجُمانی فرمائی ہے۔ نیزآپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں سفرِ معراج کے مختلف مرحلوں (stages) کو بڑےفصیح و بلیغ اَلفاظ میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےاِس قصیدے میں اُردو کے اِستعاروں اورمُحاوروں(idioms) کا کثرت سےاستعمال کیا ہے۔اس قصیدے کی ایک خوبی یہ بھی ہےکہ مجدِّدِ اعظم، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واقعۂ معراج کی مناسَبت سے کعبہ و حطیم، مسجدِ اَقصیٰ و نمازِ اَقصیٰ، جِبرَئِیل و بُراق، آسمان و عرشِ اَعظم، سِدرۃُ المنتہیٰ و جنّت اور لامکان و دیدارِ رحمٰن کا تذکرہ بڑے لطیف اَنداز میں فرمایا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگرکسی کو سفرِمعراج کا مختصر بیان اُردو زبان میں پڑھنا ہو تو وہ امامِ اہلِ سنّت، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس مبارَک اور منفرِد (unique) ”قصیدۂ معراجیہ“ کو ملاحَظہ کرلے۔ ذیل میں اِسی قصیدے کے چنداَشعار اور ان میں بیان کئے جانے والے مضامین کا مختصرجائزہ پیش کیا جاتاہے۔
(1)وہ سَروَرِ کِشْورِ رِسالت، جو عَرش پر جَلوہ گَرہوئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں، عَرَب کے مہمان کے لئے تھے
(الفاظ و معانی:سَروَر:بادشاہ۔ کِشْور:مُلک/دیس۔جَلوہ گر:سج دھج کے آنا۔طَرَب کے ساماں:خوشی و مسرَّت کے اسباب)
مذکورہ بالا شعر” قصیدۂ معراجیہ“ کا مَطلع(پہلاشعر)ہے۔اِس کا خلاصہ یہ ہےکہ مُلکِ رسالت کےبادشاہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم معراج کی شب عرشِ اعظم پر جَلوہ فرما ہوئے تھے اور قُدرت کی جانب سے عَرَب کے مہمان،رسولِ ذیشان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خاطر کائنات میں خوشی و شادمانی کےاَسباب کا اہتمام(arrangement)کیا گیاتھا۔
(2)نَمازِ اَقْصیٰ، میں تھا یہی سِرّ، عیاں ہوں مَعنی اَوَّل آخِر
کہ دَسْت بَستہ، ہیں پیچھے حاضِر، جو سَلطَنت آ گے کر گئے تھے
(الفاظ و معانی:سِرّ:راز۔عِیاں:واضح۔دست بستہ:ہاتھ باندھ کر)
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں تمام اَنبیائے کرام علیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کی اِمامت فرمائی تھی، چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:فَجُمِعَ لِیَ الْاَنْبِیَاءُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ فَقَدَّمَنِیْ جِبْرَ ئِیْلُ حَتّٰی اَمَمْتُھُمْ ”یعنی میری خاطر انبیائے کرامعلیہم السَّلام کو (مسجدِ اَقْصیٰ) میں جمع کیاگیا تو جبرئیلعلیہ السَّلام نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے انبیائے کرام علیہم السَّلامکی امامت فرمائی۔“(نسائی، ص81، حدیث:448) مذکورہ بالا شعرمیں امامُ الانبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام نبیوں کی اِمامت کے لئے آگے بڑھائے جانے کی ایک حکمت کوبیان کیاگیا ہے کہ اِس(آگے بڑھائے جانے)کے ذریعے قدرت کا مقصود مخلوق کو اوّل و آخر کا معنیٰ و مفہوم بتلانا تھا، یوں کہ بظاہرسب سےآخر میں تشریف لانے والےرسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مقام و مرتبے میں سب نبیوں سے اوّل(یعنی پہلے)ہیں،چنانچہ تمام انبیائے کرامعلیہم السَّلام معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں رسولِ اعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقتدی بن کر ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے تھے۔
(3)تَھکے تھے رُوحُ الاَمِیں کے بازُو چُھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رِکاب چُھوٹی اُمید ٹُوٹی نِگاہِ حَسرت کے وَلْوَلے تھے
(الفاظ ومعانی:رُوحُ الاَمِیں: حضرت جبرائیل علیہ السَّلام۔رِکاب:گھوڑے پر چڑھنے کا لوہے کا حلقہ۔وَلولے:جوش)
سفرِمعراج میں سِدرۃُ المنتہیٰ پر پہنچ کر جب جبریلِ اَمین علیہ السَّلام رُک گئے تو سُلطانِ اَعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے جبریل! کیا ایسے مقام پر ایک خلیل(یعنی دوست) اپنے خلیل کو چھوڑ دیتاہے؟ تو جبریل علیہ السَّلام نے عرض کی:اِنْ تَجَاوَزْتُہُ اِحْتَرَقْتُ بِالنُّوْر ”یعنی اگرمیں اِس مقام (سدرۃُ المنتھیٰ) سے آگے بڑھا تو نُور کی وجہ سے جَل
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر
✍اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان
محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://www.dawateislami.net/magazine/ur/ashar-k-tashreeh/qaseeda-e-meraj
Qaseeda e Meraj aur Shab e Meraj Ki Manzar Kashi
اللہ پاک نےامامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے قلم کوایسی جامعیّت (comprehensiveness) اور قُوّت عطا فرمائی کہ امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نےجس مسئلہ کی تحقیق (research) میں کوئی کتاب، رسالہ یا فتویٰ تحریر فرمایا تو اُس مسئلے کو اَلَمْ نَشرَح (یعنی خُوب واضح) فرما دیا۔ یونہی جس موضوع پربھی اَشعار لکھے تو اُس کی مَنظر کَشی (visualizing) کا حق ادا فرمادیا،جسے دیکھ کرفنِّ شاعری کے ماہرین حیران ہوجاتے ہیں۔ اس کی زبردست مثال اِنتہائی مختصر سے وقت میں لکھاجانے والا ”قصیدۂ معراجیہ“ ہے، جو کہ 67 اَشعار پرمشتمل ہے۔امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں حَسین تخیُّلات (خوبصورت خیالات imaginations) کے ساتھ ساتھ جابجا آیاتِ قراٰنیّہ اور اَحادیثِ نَبویّہ کی زبردست ترجُمانی فرمائی ہے۔ نیزآپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس قصیدے میں سفرِ معراج کے مختلف مرحلوں (stages) کو بڑےفصیح و بلیغ اَلفاظ میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نےاِس قصیدے میں اُردو کے اِستعاروں اورمُحاوروں(idioms) کا کثرت سےاستعمال کیا ہے۔اس قصیدے کی ایک خوبی یہ بھی ہےکہ مجدِّدِ اعظم، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے واقعۂ معراج کی مناسَبت سے کعبہ و حطیم، مسجدِ اَقصیٰ و نمازِ اَقصیٰ، جِبرَئِیل و بُراق، آسمان و عرشِ اَعظم، سِدرۃُ المنتہیٰ و جنّت اور لامکان و دیدارِ رحمٰن کا تذکرہ بڑے لطیف اَنداز میں فرمایا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگرکسی کو سفرِمعراج کا مختصر بیان اُردو زبان میں پڑھنا ہو تو وہ امامِ اہلِ سنّت، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے اس مبارَک اور منفرِد (unique) ”قصیدۂ معراجیہ“ کو ملاحَظہ کرلے۔ ذیل میں اِسی قصیدے کے چنداَشعار اور ان میں بیان کئے جانے والے مضامین کا مختصرجائزہ پیش کیا جاتاہے۔
(1)وہ سَروَرِ کِشْورِ رِسالت، جو عَرش پر جَلوہ گَرہوئے تھے
نئے نِرالے طَرَب کے ساماں، عَرَب کے مہمان کے لئے تھے
(الفاظ و معانی:سَروَر:بادشاہ۔ کِشْور:مُلک/دیس۔جَلوہ گر:سج دھج کے آنا۔طَرَب کے ساماں:خوشی و مسرَّت کے اسباب)
مذکورہ بالا شعر” قصیدۂ معراجیہ“ کا مَطلع(پہلاشعر)ہے۔اِس کا خلاصہ یہ ہےکہ مُلکِ رسالت کےبادشاہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم معراج کی شب عرشِ اعظم پر جَلوہ فرما ہوئے تھے اور قُدرت کی جانب سے عَرَب کے مہمان،رسولِ ذیشان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خاطر کائنات میں خوشی و شادمانی کےاَسباب کا اہتمام(arrangement)کیا گیاتھا۔
(2)نَمازِ اَقْصیٰ، میں تھا یہی سِرّ، عیاں ہوں مَعنی اَوَّل آخِر
کہ دَسْت بَستہ، ہیں پیچھے حاضِر، جو سَلطَنت آ گے کر گئے تھے
(الفاظ و معانی:سِرّ:راز۔عِیاں:واضح۔دست بستہ:ہاتھ باندھ کر)
سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں تمام اَنبیائے کرام علیہمُ الصّلٰوۃ والسَّلام کی اِمامت فرمائی تھی، چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:فَجُمِعَ لِیَ الْاَنْبِیَاءُ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ فَقَدَّمَنِیْ جِبْرَ ئِیْلُ حَتّٰی اَمَمْتُھُمْ ”یعنی میری خاطر انبیائے کرامعلیہم السَّلام کو (مسجدِ اَقْصیٰ) میں جمع کیاگیا تو جبرئیلعلیہ السَّلام نے مجھے آگے بڑھایا یہاں تک کہ میں نے انبیائے کرام علیہم السَّلامکی امامت فرمائی۔“(نسائی، ص81، حدیث:448) مذکورہ بالا شعرمیں امامُ الانبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تمام نبیوں کی اِمامت کے لئے آگے بڑھائے جانے کی ایک حکمت کوبیان کیاگیا ہے کہ اِس(آگے بڑھائے جانے)کے ذریعے قدرت کا مقصود مخلوق کو اوّل و آخر کا معنیٰ و مفہوم بتلانا تھا، یوں کہ بظاہرسب سےآخر میں تشریف لانے والےرسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مقام و مرتبے میں سب نبیوں سے اوّل(یعنی پہلے)ہیں،چنانچہ تمام انبیائے کرامعلیہم السَّلام معراج کی رات مسجدِ اقصیٰ میں رسولِ اعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مقتدی بن کر ہاتھ باندھے پیچھے کھڑے تھے۔
(3)تَھکے تھے رُوحُ الاَمِیں کے بازُو چُھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رِکاب چُھوٹی اُمید ٹُوٹی نِگاہِ حَسرت کے وَلْوَلے تھے
(الفاظ ومعانی:رُوحُ الاَمِیں: حضرت جبرائیل علیہ السَّلام۔رِکاب:گھوڑے پر چڑھنے کا لوہے کا حلقہ۔وَلولے:جوش)
سفرِمعراج میں سِدرۃُ المنتہیٰ پر پہنچ کر جب جبریلِ اَمین علیہ السَّلام رُک گئے تو سُلطانِ اَعظم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اے جبریل! کیا ایسے مقام پر ایک خلیل(یعنی دوست) اپنے خلیل کو چھوڑ دیتاہے؟ تو جبریل علیہ السَّلام نے عرض کی:اِنْ تَجَاوَزْتُہُ اِحْتَرَقْتُ بِالنُّوْر ”یعنی اگرمیں اِس مقام (سدرۃُ المنتھیٰ) سے آگے بڑھا تو نُور کی وجہ سے جَل
👍1