Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
قصیدۂ معراجیہ کے حوالے سے حضرت مولانا قاری لقمان شاہد صاحب قبلہ کی 11 مارچ 2021 ء کی تحریر
https://t.me/islaamic_Knowledge/11936
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آج شبِ معراج ہے ، جو کہ انتہائی عظمت والی رات ہے ۔
اِس رات ہمارے پیارے نبی ﷺ اپنے کرم والے رب ﷻ کے پاس گئے تھے ۔
سرکار معراج پر کس شان سے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
محبت کی زُبان میں اِس کی جو عکاسی سیدی اعلیٰ حضرت نے کر دی ہے ، شاید کوئی کر سکے ۔
آپ نے معراج شریف پر 67 اشعار پہ مشتمل ایک قصیدہ لکھا ہے ، جسے " قصیدہ معراجیہ " کہا جاتا ہے ۔
اگر چہ آپ رحمہ اللہ کی شاعری کو کما حقہ سمجھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ :
تخیل و محاکات کے ساتھ ساتھ ، علمِ بیان سے آگاہ ہو ۔
دلالت لفظی و غیر لفظی جانتا ہو ؛ حقیقت ، مجاز ، کنایہ ، استعارہ ، تشبیہ وغیرہ کی اسے پہچان ہو ۔
اور ان کی قسمیں ( تبعیہ ، اصلیہ ، مطلقہ ، مجردہ ، مرشحہ ۔ ملفوف ، مفروق ، مسلسل ، مشروط ، معکوس وغیرہ ) سمجھتا ہو ۔
اسے علم معانی کی شُد بُد ہو ۔
اور وہ:
مسند ، قصر ، انشا ، ایجاز و اطناب اور وصل و فصل وغیرہ کی معلومات رکھتاہو ۔
نیز بدیع کا علم رکھتا ہو ۔
اُسے:
توسیم ، تصحیف ، تکریر ، تجنیس ، تفریع ، ترصیع ۔ تجرید ، ترسیم ، تلمیح ، تفریق ، تقسیم وغیرہ صنائع لفظی و معنوی کی پہچان ہو ۔
لیکن پھر بھی ہوسکے تو آج یہ قصیدہ ضرور پڑھیں ، اور اللہ توفیق دے تو ہر سال معراج شریف کے موقع پر پڑھنے کی نیت کریں ۔
یہ اتنا بابرکت قصیدہ ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا ۔
آپ کو الفاظ و معانی کی مکمل طور پر سمجھ آئے ، نہ آئے ۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ لطف ضرور آئے گا اور پڑھنے کا اجربھی ملے گا ۔
✍️ لقمان شاہد
11-3-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3108519169428251&id=100008105947430
https://t.me/islaamic_Knowledge/11936
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
آج شبِ معراج ہے ، جو کہ انتہائی عظمت والی رات ہے ۔
اِس رات ہمارے پیارے نبی ﷺ اپنے کرم والے رب ﷻ کے پاس گئے تھے ۔
سرکار معراج پر کس شان سے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
محبت کی زُبان میں اِس کی جو عکاسی سیدی اعلیٰ حضرت نے کر دی ہے ، شاید کوئی کر سکے ۔
آپ نے معراج شریف پر 67 اشعار پہ مشتمل ایک قصیدہ لکھا ہے ، جسے " قصیدہ معراجیہ " کہا جاتا ہے ۔
اگر چہ آپ رحمہ اللہ کی شاعری کو کما حقہ سمجھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ :
تخیل و محاکات کے ساتھ ساتھ ، علمِ بیان سے آگاہ ہو ۔
دلالت لفظی و غیر لفظی جانتا ہو ؛ حقیقت ، مجاز ، کنایہ ، استعارہ ، تشبیہ وغیرہ کی اسے پہچان ہو ۔
اور ان کی قسمیں ( تبعیہ ، اصلیہ ، مطلقہ ، مجردہ ، مرشحہ ۔ ملفوف ، مفروق ، مسلسل ، مشروط ، معکوس وغیرہ ) سمجھتا ہو ۔
اسے علم معانی کی شُد بُد ہو ۔
اور وہ:
مسند ، قصر ، انشا ، ایجاز و اطناب اور وصل و فصل وغیرہ کی معلومات رکھتاہو ۔
نیز بدیع کا علم رکھتا ہو ۔
اُسے:
توسیم ، تصحیف ، تکریر ، تجنیس ، تفریع ، ترصیع ۔ تجرید ، ترسیم ، تلمیح ، تفریق ، تقسیم وغیرہ صنائع لفظی و معنوی کی پہچان ہو ۔
لیکن پھر بھی ہوسکے تو آج یہ قصیدہ ضرور پڑھیں ، اور اللہ توفیق دے تو ہر سال معراج شریف کے موقع پر پڑھنے کی نیت کریں ۔
یہ اتنا بابرکت قصیدہ ہے کہ بیان نہیں کیا جاسکتا ۔
آپ کو الفاظ و معانی کی مکمل طور پر سمجھ آئے ، نہ آئے ۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ لطف ضرور آئے گا اور پڑھنے کا اجربھی ملے گا ۔
✍️ لقمان شاہد
11-3-2021 ء
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3108519169428251&id=100008105947430
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
❤1