حضرت امام جمال الدين ابو زكريا يحيى بن يوسف بن یحیی بن منصور الانصاری الصرصری الحنبلی رحمة الله علیہ متوفٰی ٦۵٦ھ فرماتے ہیں : یہ بھی فضیلت کی دلیل ہے ، کہ میرے عقیدہ کے مطابق ، حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کا ردیفِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہونا بھی باعثِ فضیلت ہے اس کی فضیلت ضائع نہ جائے گی ۔ وہ کاتبِ وحی تھے صاحبِ حلم تھے اور ان کی بہن مصطفےٰ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جاوداں جنت میں ثمرات جنت سے لطف ہو رہی ہیں ۔ ہر صحابی کےلیے فضیلت ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دیدار کیا اور اس کی یہ فضیلت دوسروں پر کامیابی و نعمت کے لحاظ سے ایسی ہے کہ اس کی طمع نہیں کی جاسکتی ۔ اور اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان ہونے والے اختلافات و مشاجرات کی تفتیش کا خواہش مند وہی ہوگا جو نامراد گمراہ اور طعنہ باز ہے ۔ (منظومة فى مدح النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و بيان عقيدة أهل السنة و الجماعة ، لامام ابى زكريا يحيى بن يوسف الأنصاري الصرصري ، ص 61 تا 62 ، نثر : 211 تا 214 ، مطبوعة بيت الأفكار الدولة ، طبع اول ١٤٢٧ه/٢٠٠٦ء)
حضرت امام ابو القاسم محمد بن احمد بن جُزَیّ الكلبى الغرناطی المالکی رحمة الله علیہ متوفٰی ۷٤١ھ فرماتے ہیں : جہاں تک حضرت علی المرتضی و حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما اور دونوں میں سے ہر ایک کا ساتھ دینے والے اصحاب رضی الله عنہم کے درمیان مشاجرت و اختلاف کا تعلق ہے تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس نزاع کے ذکر سے زبان کو روکا جائے اور ان صحابہ کرام رضی الله عنہم کا ذکر کلمات خیر سے کیا جائے اور ان کیلئے عمدہ تاویل تلاش کی جائے کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی تھا اس میں حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی حق پر تھے کیونکہ انہوں نے اجتہاد کیا اور صحیح فیصلے پر پہنچے اور ماجور ہوئے ۔ جہاں تک حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے انہوں نے اجتہاد کیا اور اجتہاد میں خطا کی پس وہ اس میں معذور ٹھہرے ۔ ان کی عزت و توقیر ضروری ہے نیز دیگر تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم کی بھی توقیر و محبت لازم ہے کیونکہ قرآن حکیم میں ان کی مدح و ثناء آئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نشینی اور صحبت کی وجہ سے بھی ان کی تعظیم و توقیر واجب ہے ۔ پس تحقیق رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے معاملہ میں الله سے ڈرو میرے بعد انہیں ہدف تنقید نہ بنانا ، جس نے ان سے محبت کی ، تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی ، اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، جس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، تحقیق اس نے الله تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی ۔ (القوانين الفقهية ، لامام محمد بن احمد بن جُزَيّ الغرناطى المالكى ، تحت " الباب الثامن في الإمامة ، ص 39 تا 40 ، مطبوعة دار ابن حزم ، طبع اول ١٤٣٤ه/٢٠١٣ء)
اس میں روافض کا رد ہے وہ اپنی بدگمانی و بد اعتقادی کے سبب اہل سنت کے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں ۔ یہ اُن کی بد گمانی ہے اہل حق (یعنی اہل سنت و جماعت) تمام صحابہ اور تمام اہل بیت رضی اللہ عنہم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ خوارج کی طرح نہیں ہیں جو اہل بیتِ نبوت کے دشمن ہیں اور روافض کی طرح بھی نہیں جو جمہور صحابہ کرام اور اکابر امت سے عداوت رکھتے ہیں ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، لامام ابى الحسن على بن سلطان محمد القاري الحنفي ، كتاب المناقب ، تحت " باب مناقب القريش و ذكر القبائل ، جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 135 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٢ه/٢٠٠١ء،چشتی)
حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ عادل ، فاضل اور بہترین صحابہ میں سے تھے وہ جنگیں جو ان کے درمیان ہوئیں ان میں سے ہر ایک گروہ شبہہ پر تھا جس کے سبب وہ اپنے آپ کو صواب پر ہونے کا اعتقاد رکھتا تھا ۔ اور یہ تمام اپنی جنگوں میں تاویل کرنے والے تھے اس سبب ان میں سے کوئی عدالت سے خارج نہیں ہوا اس لیے کہ یہ تمام مجتہد تھے ۔ اور انہوں نے مسائل میں اختلاف کیا جیسا کہ ان کے بعد آنے والے مجتہدین نے مسائل میں اختلاف کیا ۔ اور ان میں سے کسی کے حق میں بھی اس سبب سے تنقیص کرنا لازم نہیں آتا ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، لامام ابى الحسن على بن سلطان محمد القاري الحنفي ، كتاب المناقب ، تحت " باب مناقب الصحابة رضي الله عنهم جلد 11 صفحہ 151 مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٢ه/٢٠٠١ء)
بہر حال صحابہ کرام رضی الله عنہم کی ایک جماعت کا حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی مدد نہ کرنا آپ کے ساتھ جنگ پر نکلنے سے رکنا اور ان میں سے ایک گروہ کا آپ رضی الله عنہ کے ساتھ جنگ کرنے کا جو واقعہ پیش آیا ۔ جیسا کہ جنگ جمل و صفین تو یہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی خلافت کی عدم صحت پر دلالت نہیں کرتا
حضرت امام ابو القاسم محمد بن احمد بن جُزَیّ الكلبى الغرناطی المالکی رحمة الله علیہ متوفٰی ۷٤١ھ فرماتے ہیں : جہاں تک حضرت علی المرتضی و حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما اور دونوں میں سے ہر ایک کا ساتھ دینے والے اصحاب رضی الله عنہم کے درمیان مشاجرت و اختلاف کا تعلق ہے تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس نزاع کے ذکر سے زبان کو روکا جائے اور ان صحابہ کرام رضی الله عنہم کا ذکر کلمات خیر سے کیا جائے اور ان کیلئے عمدہ تاویل تلاش کی جائے کیونکہ یہ معاملہ اجتہادی تھا اس میں حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی حق پر تھے کیونکہ انہوں نے اجتہاد کیا اور صحیح فیصلے پر پہنچے اور ماجور ہوئے ۔ جہاں تک حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں کا تعلق ہے انہوں نے اجتہاد کیا اور اجتہاد میں خطا کی پس وہ اس میں معذور ٹھہرے ۔ ان کی عزت و توقیر ضروری ہے نیز دیگر تمام صحابہ کرام رضی الله عنہم کی بھی توقیر و محبت لازم ہے کیونکہ قرآن حکیم میں ان کی مدح و ثناء آئی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نشینی اور صحبت کی وجہ سے بھی ان کی تعظیم و توقیر واجب ہے ۔ پس تحقیق رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے معاملہ میں الله سے ڈرو میرے بعد انہیں ہدف تنقید نہ بنانا ، جس نے ان سے محبت کی ، تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی ، اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، جس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، تحقیق اس نے الله تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی ۔ (القوانين الفقهية ، لامام محمد بن احمد بن جُزَيّ الغرناطى المالكى ، تحت " الباب الثامن في الإمامة ، ص 39 تا 40 ، مطبوعة دار ابن حزم ، طبع اول ١٤٣٤ه/٢٠١٣ء)
اس میں روافض کا رد ہے وہ اپنی بدگمانی و بد اعتقادی کے سبب اہل سنت کے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اہل بیت سے بغض رکھتے ہیں ۔ یہ اُن کی بد گمانی ہے اہل حق (یعنی اہل سنت و جماعت) تمام صحابہ اور تمام اہل بیت رضی اللہ عنہم کی عزت و ناموس کی حفاظت کرتے ہیں ۔ خوارج کی طرح نہیں ہیں جو اہل بیتِ نبوت کے دشمن ہیں اور روافض کی طرح بھی نہیں جو جمہور صحابہ کرام اور اکابر امت سے عداوت رکھتے ہیں ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، لامام ابى الحسن على بن سلطان محمد القاري الحنفي ، كتاب المناقب ، تحت " باب مناقب القريش و ذكر القبائل ، جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 135 ، مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٢ه/٢٠٠١ء،چشتی)
حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ عادل ، فاضل اور بہترین صحابہ میں سے تھے وہ جنگیں جو ان کے درمیان ہوئیں ان میں سے ہر ایک گروہ شبہہ پر تھا جس کے سبب وہ اپنے آپ کو صواب پر ہونے کا اعتقاد رکھتا تھا ۔ اور یہ تمام اپنی جنگوں میں تاویل کرنے والے تھے اس سبب ان میں سے کوئی عدالت سے خارج نہیں ہوا اس لیے کہ یہ تمام مجتہد تھے ۔ اور انہوں نے مسائل میں اختلاف کیا جیسا کہ ان کے بعد آنے والے مجتہدین نے مسائل میں اختلاف کیا ۔ اور ان میں سے کسی کے حق میں بھی اس سبب سے تنقیص کرنا لازم نہیں آتا ۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، لامام ابى الحسن على بن سلطان محمد القاري الحنفي ، كتاب المناقب ، تحت " باب مناقب الصحابة رضي الله عنهم جلد 11 صفحہ 151 مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت ، طبع اول ١٤٢٢ه/٢٠٠١ء)
بہر حال صحابہ کرام رضی الله عنہم کی ایک جماعت کا حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی مدد نہ کرنا آپ کے ساتھ جنگ پر نکلنے سے رکنا اور ان میں سے ایک گروہ کا آپ رضی الله عنہ کے ساتھ جنگ کرنے کا جو واقعہ پیش آیا ۔ جیسا کہ جنگ جمل و صفین تو یہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی خلافت کی عدم صحت پر دلالت نہیں کرتا
اور نہ ہی آپ کی حکومت میں آپ سے مخالفت کرنے والوں کی گمراہی پر دلالت کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ نزاع حقیقتاً حکومت کے لیے نہیں تھا بلکہ ان کے اجتہاد کی وجہ سے تھا جیسا کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لینے پر حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ پر انکار کیا ۔ بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہ گمان کیا کہ آپ رضی الله عنہ قتلِ عثمان کی طرف مائل تھے ۔ اور معتمد قول کے مطابق اجتہاد میں خطا کرنے والے کی نہ تضلیل کی جاتی ہے نہ تسفیق کی جاتی ہے ۔ (منح الروض الازھر فى شرح فقه الاكبر ، للملا علی بن سلطان محمد القاری ، أفضل الناس بعده عليه الصلاة السلام الخلفاء الأربعة على ترتيب خلافتهم صفحہ 191 تا 192 ، مطبوعة دار البشائر الاسلامية ، طبع اول ١٤١٩ه/١٩٩٨ء،چشتی)
ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر ایک صحابی کا ذکر خیر کیساتھ ہی کرتے ہیں ۔ یعنی اگرچہ ان میں سے بعض سے بعض سے وہ کام صادر ہوئے جو صورتا شر ہیں ، کیونکہ یہ امور ان سے اجتہاد کی بنیاد پر صادر ہوئے نہ کہ اصرار و عناد کے سبب فساد کی وجہ سے ۔ ان سے حسن ظن کی بنیاد پر ان تمام کا مقصود بہترین انجام کی طرف تھا ۔ (منح الروض الازھر فى شرح فقه الاكبر ، للملا علی بن سلطان محمد القاری ، أفضل الناس بعده عليه الصلاة السلام الخلفاء الأربعة على ترتيب خلافتهم ، ص 209 ، مطبوعة دار البشائر الاسلامية ، طبع اول ١٤١٩ه/١٩٩٨ء،چشتی)
جو صحابہ کرام رضی الله عنہم میں کسی کو بھی برا کہتے وہ بلاجماع فاسق ، بدعتی ہے جب کہ اس کا اعتقاد یہ ہو کہ برا کہنا مباح ہے ۔ (شم العوارض فى ذم الروافض ، للملا على بن سلطان بن القارى ، تحت " مسألة من اعتقد ان سب الصحابة مباح فهو كافر ، ص 28 ، مطبوعة مركز الفرقان ، طبع اول ١٤٢۵ھ/٢٠٠٤ء)
وہ احادیث بھی جن میں حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ ، حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ اور بنی امیہ کی مزمت اور منصور و سفاح کی تعریف پائی جاتی ہے اور اسی طرح یزید ، ولید اور مروان بن حکم کی مزمت پائی جاتی ہے وہ بھی موضوعات میں سے ہیں ۔ (الاسرار المرفوعة و اخبار الموضوعة ، للملا على بن سلطان بن القارى ، فصول في الأدلة على وضع الحديث ، تحت " أحاديث الفضائل و المثالب صفحہ 455 ، مطبوعة المكتب الاسلامي ، طبع ثانى ١٤٠٦ه/١٩٨٦ء)
حضرت امام ابو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائی الطبری الشافعى رحمة الله علیہ متوفٰی ٤١٨ه فرماتے ہیں : انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ۔ میں نے کہا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کس چیز نے آپ کو ہنسایا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری (جہاز) پر سوار تھے ، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں ، میں نے کہا : الله تعالی سے دعا فرما دیجیے کہ الله تعالی مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے ، آپ نے فرمایا : تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو ، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی ، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ الله تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو ۔ آپ نے فرمایا : تم (سوار ہونے والوں کے) پہلے دستے میں ہو گی ۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے شادی کی اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا ، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور ان کا انتقال ہو گیا) ۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا سعید بن عمرو بن سعید بن عاص کو بیان کرتے سنا کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ پانی کا برتن لے کر رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جایا کرتے تھے ، جب وہ بیمار پڑے تو ان کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اس برتن کو اٹھاتے اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کی طرف دیکھا ، پھر فرمایا : اے معاویہ! اگر تو والئ حکومت بنا تو الله سے ڈرنا اور عدل و انصاف سے کام لینا ۔ فرماتے ہیں کہ میں جان گیا کہ میں آزمایا جاؤں گا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ۔ عبد الله بن بسر سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما سے مشورہ طلب کیا ۔ تو انہوں نے عرض کیا الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ جانتے ہیں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : معاویہ (رضی الله عنہ) کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ اس سے حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما کو خفگی ہوئی ۔ انہوں نے عرض کیا : یہ لوگ رسول صلی
ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر ایک صحابی کا ذکر خیر کیساتھ ہی کرتے ہیں ۔ یعنی اگرچہ ان میں سے بعض سے بعض سے وہ کام صادر ہوئے جو صورتا شر ہیں ، کیونکہ یہ امور ان سے اجتہاد کی بنیاد پر صادر ہوئے نہ کہ اصرار و عناد کے سبب فساد کی وجہ سے ۔ ان سے حسن ظن کی بنیاد پر ان تمام کا مقصود بہترین انجام کی طرف تھا ۔ (منح الروض الازھر فى شرح فقه الاكبر ، للملا علی بن سلطان محمد القاری ، أفضل الناس بعده عليه الصلاة السلام الخلفاء الأربعة على ترتيب خلافتهم ، ص 209 ، مطبوعة دار البشائر الاسلامية ، طبع اول ١٤١٩ه/١٩٩٨ء،چشتی)
جو صحابہ کرام رضی الله عنہم میں کسی کو بھی برا کہتے وہ بلاجماع فاسق ، بدعتی ہے جب کہ اس کا اعتقاد یہ ہو کہ برا کہنا مباح ہے ۔ (شم العوارض فى ذم الروافض ، للملا على بن سلطان بن القارى ، تحت " مسألة من اعتقد ان سب الصحابة مباح فهو كافر ، ص 28 ، مطبوعة مركز الفرقان ، طبع اول ١٤٢۵ھ/٢٠٠٤ء)
وہ احادیث بھی جن میں حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ ، حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ اور بنی امیہ کی مزمت اور منصور و سفاح کی تعریف پائی جاتی ہے اور اسی طرح یزید ، ولید اور مروان بن حکم کی مزمت پائی جاتی ہے وہ بھی موضوعات میں سے ہیں ۔ (الاسرار المرفوعة و اخبار الموضوعة ، للملا على بن سلطان بن القارى ، فصول في الأدلة على وضع الحديث ، تحت " أحاديث الفضائل و المثالب صفحہ 455 ، مطبوعة المكتب الاسلامي ، طبع ثانى ١٤٠٦ه/١٩٨٦ء)
حضرت امام ابو القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائی الطبری الشافعى رحمة الله علیہ متوفٰی ٤١٨ه فرماتے ہیں : انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں آئے اور سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ۔ میں نے کہا : یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کس چیز نے آپ کو ہنسایا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنی امت میں سے ایک جماعت دیکھی جو اس سمندری (جہاز) پر سوار تھے ، ایسے لگ رہے تھے جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں ، میں نے کہا : الله تعالی سے دعا فرما دیجیے کہ الله تعالی مجھے بھی انہیں لوگوں میں سے کر دے ، آپ نے فرمایا : تم اپنے کو انہیں میں سے سمجھو ، پھر آپ سو گئے پھر ہنستے ہوئے اٹھے ، پھر میں نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنی پہلی ہی بات دہرائی ، میں نے پھر دعا کی درخواست کی کہ آپ دعا فرما دیں کہ الله تعالیٰ مجھے انہیں لوگوں میں کر دے تو ۔ آپ نے فرمایا : تم (سوار ہونے والوں کے) پہلے دستے میں ہو گی ۔ پھر ان سے عبادہ بن صامت رضی الله عنہ نے شادی کی اور وہ سمندری جہاد پر نکلے تو وہ بھی انہیں کے ساتھ سمندری سفر پر نکلیں، پھر جب وہ جہاز سے نکلیں تو سواری کے لیے انہیں ایک خچر پیش کیا گیا ، وہ اس پر سوار ہوئیں تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور ان کا انتقال ہو گیا) ۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا سعید بن عمرو بن سعید بن عاص کو بیان کرتے سنا کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ پانی کا برتن لے کر رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساتھ جایا کرتے تھے ، جب وہ بیمار پڑے تو ان کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اس برتن کو اٹھاتے اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کی طرف دیکھا ، پھر فرمایا : اے معاویہ! اگر تو والئ حکومت بنا تو الله سے ڈرنا اور عدل و انصاف سے کام لینا ۔ فرماتے ہیں کہ میں جان گیا کہ میں آزمایا جاؤں گا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے ۔ عبد الله بن بسر سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے گھر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما سے مشورہ طلب کیا ۔ تو انہوں نے عرض کیا الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیادہ جانتے ہیں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : معاویہ (رضی الله عنہ) کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ اس سے حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما کو خفگی ہوئی ۔ انہوں نے عرض کیا : یہ لوگ رسول صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جو حکم پاتے ہیں کیا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور قریش کے ان بزرگوں میں اس کا نمونہ نہیں پاتے ۔ تو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : معاویہ کو بلا لاؤ ۔ چنانچہ جب معاویہ آئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ۔ فرمایا : اپنا معاملہ معاویہ (رضی الله عنہ) کے سپرد کرو کیونکہ وہ قوی اور امین ہے ۔
حضرت حارث بن زیاد رضی الله عنہ جو کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : اے الله! اس کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا ۔
حضرت عبد الرحمن بن ابی عمیرہ المزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے سعید کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : اے الله! اس کو ہادی (یعنی ہدایت والا) اور مہدی (یعنی ہدایت یافتہ بنا) اس کو ہدایت عطا فرما اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔
جبلہ بن سحیم روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہ نے فرمایا : میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ جیسا سردار کوئی نہیں دیکھا ۔
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر اپنے والد گرامی رضی الله عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی الله عنہما حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے عطیے قبول فرماتے تھے ۔
مصعب زبیری سے مروی ہے ۔ دراوردی نے ہم سے بیان کیا کہ جعفر بن محمد رحمة الله علیہ آئے اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سلام پیش کیا پھر تعریف کرنے کرنے کے بعد حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما پر سلام کیا پھر مجھے حالت تعجب میں دیکھ کر فرمایا : مجھے اچھا لگا (یعنی مجھے اس سے خوشی ہوئی) راوی بیان کرتے ہیں پھر فرمایا : بخدا یہ دین ہے جس پر میں عمل پیرا ہوں بخدا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کےلیے بددعا کرتے ہوئے کہوں کہ الله اسے رسوا کرے یا اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے ۔ اور (مجھے اس کے بدلے) دنیا ملے ۔
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم قریش سے محبت کرو بیشک جس نے ان سے محبت رکھی الله تعالی اس سے محبت فرمائے گا ۔
ریاح بن جراح الموصلی سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص کو حضرت معافی بن عمران رحمة الله عليہ سے سوال کرتے ہوئے سنا عرض کیا : اے ابو مسعود! امیر معاویہ رضی الله عنہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة الله عليہ کے مقابلے میں کیسے ہیں؟ اس کی یہ بات سن کر آپ رحمة الله عليہ کو اتنہائی شدید غصہ آیا اور فرمایا : رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی صحابی پر کسی (غیر صحابی) کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ، سسرالی رشتہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب اور وحی الہی پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے امین ہیں بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے اصحاب اور میرے سسرال والوں سے درگزر کرو ۔ جس نے ان میں سے کسی کی بھی بدگوئی کی اس پر الله تعالی اس کے فرشتوں اور تمام دنیا کے انسانوں کی لعنت ہو ۔
عبد الملک بن عبد الحمید المیمونی رحمة الله عليہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمة الله عليہ سے عرض کی کہ : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا : ہر سسرالی و نسبی رشتہ قیامت کے دن منقطع ہو جاۓ گا مگر میرا سسرالی و نسبی رشتہ (منقطع نہیں ہوگا) ؟ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے فرمایا : کیوں نہیں ، ایسا ہی ہے . عبد الملک بن عبد الحمید فرماتے ہیں میں نے عرض کی : کیا یہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ہے ؟ آپ رحمة الله عليہ نے فرمایا : ہاں ، (حضور کے سسرال و نسب کے لیے ہے)
ابو علی الحسین بن خلیل العنزی سے مروی ہے میں لکھاریوں کی ایک جماعت کے پاس بیٹھا تھا ۔ انہوں معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ پر تنقید کی تو میں غصے سے کھڑا ہو گیا جب رات ہوئی تو خواب میں سرکارٍ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ۔ آپ فرما رہے تھے : تم ام حبیبہ! کا مقام میرے ہاں جانتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : ہاں یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ فرمایا : جس نے ام حبیبہ ( رضی الله عنہا ) کو اسکے بھائی کے بارے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔
حضرت حارث بن زیاد رضی الله عنہ جو کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں ان سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : اے الله! اس کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا ۔
حضرت عبد الرحمن بن ابی عمیرہ المزنی رضی الله عنہ سے روایت ہے سعید کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا : اے الله! اس کو ہادی (یعنی ہدایت والا) اور مہدی (یعنی ہدایت یافتہ بنا) اس کو ہدایت عطا فرما اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔
جبلہ بن سحیم روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی الله عنہ نے فرمایا : میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ جیسا سردار کوئی نہیں دیکھا ۔
امام جعفر صادق بن امام محمد باقر اپنے والد گرامی رضی الله عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی الله عنہما حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے عطیے قبول فرماتے تھے ۔
مصعب زبیری سے مروی ہے ۔ دراوردی نے ہم سے بیان کیا کہ جعفر بن محمد رحمة الله علیہ آئے اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سلام پیش کیا پھر تعریف کرنے کرنے کے بعد حضرت ابو بکر و حضرت عمر فاروق رضی الله عنہما پر سلام کیا پھر مجھے حالت تعجب میں دیکھ کر فرمایا : مجھے اچھا لگا (یعنی مجھے اس سے خوشی ہوئی) راوی بیان کرتے ہیں پھر فرمایا : بخدا یہ دین ہے جس پر میں عمل پیرا ہوں بخدا مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میں حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کےلیے بددعا کرتے ہوئے کہوں کہ الله اسے رسوا کرے یا اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے ۔ اور (مجھے اس کے بدلے) دنیا ملے ۔
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم قریش سے محبت کرو بیشک جس نے ان سے محبت رکھی الله تعالی اس سے محبت فرمائے گا ۔
ریاح بن جراح الموصلی سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص کو حضرت معافی بن عمران رحمة الله عليہ سے سوال کرتے ہوئے سنا عرض کیا : اے ابو مسعود! امیر معاویہ رضی الله عنہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة الله عليہ کے مقابلے میں کیسے ہیں؟ اس کی یہ بات سن کر آپ رحمة الله عليہ کو اتنہائی شدید غصہ آیا اور فرمایا : رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی صحابی پر کسی (غیر صحابی) کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ، سسرالی رشتہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب اور وحی الہی پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے امین ہیں بے شک رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے اصحاب اور میرے سسرال والوں سے درگزر کرو ۔ جس نے ان میں سے کسی کی بھی بدگوئی کی اس پر الله تعالی اس کے فرشتوں اور تمام دنیا کے انسانوں کی لعنت ہو ۔
عبد الملک بن عبد الحمید المیمونی رحمة الله عليہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمة الله عليہ سے عرض کی کہ : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا : ہر سسرالی و نسبی رشتہ قیامت کے دن منقطع ہو جاۓ گا مگر میرا سسرالی و نسبی رشتہ (منقطع نہیں ہوگا) ؟ حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ نے فرمایا : کیوں نہیں ، ایسا ہی ہے . عبد الملک بن عبد الحمید فرماتے ہیں میں نے عرض کی : کیا یہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ہے ؟ آپ رحمة الله عليہ نے فرمایا : ہاں ، (حضور کے سسرال و نسب کے لیے ہے)
ابو علی الحسین بن خلیل العنزی سے مروی ہے میں لکھاریوں کی ایک جماعت کے پاس بیٹھا تھا ۔ انہوں معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہ پر تنقید کی تو میں غصے سے کھڑا ہو گیا جب رات ہوئی تو خواب میں سرکارٍ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ۔ آپ فرما رہے تھے : تم ام حبیبہ! کا مقام میرے ہاں جانتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : ہاں یا رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ فرمایا : جس نے ام حبیبہ ( رضی الله عنہا ) کو اسکے بھائی کے بارے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی الله عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کو خط لکھا اور اس میں عرض کرتے ہیں کہ مجھے وصیت کریں اور زیادہ نہ کریں ۔ آپ نے انہیں لکھا کہ تم پر سلام ہو بعد اس کے کہتی ہوں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا : کہ جو الله تعالی کی خوشنودی لوگوں کی ناراضی سے کفایت کرے گا الله اسے لوگوں کی مصیبت سے بچائے گا ۔ اور جو کوئی خوشنودی الله کی ناراضی سے تلاش کرے گا تو الله اسے لوگوں کے حوالے کر دے گا ، و السلام ۔
جعفر بن برقان سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کو دیر کرنے پر عتاب کرتے ہوئے لکھا ۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا : بھلائی کے کام میں غور و فکر سے کام لینا زیادتی اور راست روی کا باعث ہے ۔ دراصل راشد اور راست رو وہی ہے جو عجلت کی بجائے معاملہ فہمی اختیار کرتا ہے اور مضبوطی سے قدم رکھنے والا حق تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔ اور عجلت باز خطا کرتا ہے یا قریب ہے کہ خطا میں مبتلا ہو ۔ جس شخص کو نرمی فائدہ نہ دے اسے بے عقلی نقصان دیتی ہے جسے تجربات فائدہ نہ دیں وہ مقاصد حاصل نہیں کر پاتا ۔ اور نصب العین تک نہیں پہنچتا ۔ یہاں تک کہ اس کی جہالت اس کے علم پر اور اس کی شہوت پر غالب آ جاتی ہے وہ مقاصد تک صرف حلم سے پہنچ سکتا ہے ۔
امام شعبی رحمة الله علیہ کا ارشاد مروی ہے کہ زیرک مدبر چار آدمی ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے اور حلم میں ، حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ مدبر ہونے اور جنگی حکمت عملی میں ۔ حضرت مغیرہ رضی الله عنہ سخت اور پیچیدہ معاملات کے حل میں ۔ (كاشف الغمة فى شرح اعتقاد أهل السنة و الجماعة ، لامام ابى القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائي الطبري ، تحت باب ذكر فضائل ابى عبد الرحمن معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنه ، ص 453 تا 457 ، مطبوعة مكتبة الطبري للنشر و التوزيع ، طبع اول ١٤٣٠ه/٢٠٠٩ء)(شرح اصول اعتقاد اھل السنة و الجماعة ، لامام ابى القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائي الطبري ، تحت " ما روي عن النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم في فضائل ابى عبد الرحمن معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنه ، جلد 8 صفحہ 1524 تا 1534 ، مطبوعة دار الطيبة)
حضرت امام ابو طالب محمد بن علی بن عطیہ المکی الحارثی رحمة الله علیہ متوفٰی ۳٨٦ھ فرماتے ہیں : حضرت امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ کا عبید الله بن موسی عبسی کے ہاں بہت زیادہ آنا جانا تھا پھر آپ کو اس کا بدعتی ہونا معلوم ہوا مثلاً آپ سے عرض کی گئی کہ وہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ سے افضل مانتا ہے اور یہ بھی عرض کیا گیا کہ اس نے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کا تذکرہ غیر موزوں الفاظ میں کیا تو امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ نے اس کے پاس نہ صرف آنا جانا چھوڑ دیا بلکہ اس سے جتنی احادیث حاصل کی تھیں سارہ مسوّدہ چاک کر دیا اور اس سے کوئی حدیث روایت نہ کی ۔ (قوت القلوب فى معاملة المحبوب ، لامام ابى طالب محمد بن على بن عطية المکی الحارثی ، الفصل الحادي و الثلاثون : فيه كتاب العلم و تفضيله ، و أوصاف العلماء ، تحت " ذكر تفصيل العلوم : معروفها و منكرها ، قديمها و محدثها ، جلد 1 صفحہ 463 تا 464 ، مطبوعة مكتبة دار التراث ، طبع اول ١٤٢٢ه/٢٠٠١ء) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299985498904163/
جعفر بن برقان سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی الله عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کو دیر کرنے پر عتاب کرتے ہوئے لکھا ۔ تو حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ نے جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا : بھلائی کے کام میں غور و فکر سے کام لینا زیادتی اور راست روی کا باعث ہے ۔ دراصل راشد اور راست رو وہی ہے جو عجلت کی بجائے معاملہ فہمی اختیار کرتا ہے اور مضبوطی سے قدم رکھنے والا حق تک پہنچ جاتا ہے یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔ اور عجلت باز خطا کرتا ہے یا قریب ہے کہ خطا میں مبتلا ہو ۔ جس شخص کو نرمی فائدہ نہ دے اسے بے عقلی نقصان دیتی ہے جسے تجربات فائدہ نہ دیں وہ مقاصد حاصل نہیں کر پاتا ۔ اور نصب العین تک نہیں پہنچتا ۔ یہاں تک کہ اس کی جہالت اس کے علم پر اور اس کی شہوت پر غالب آ جاتی ہے وہ مقاصد تک صرف حلم سے پہنچ سکتا ہے ۔
امام شعبی رحمة الله علیہ کا ارشاد مروی ہے کہ زیرک مدبر چار آدمی ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے اور حلم میں ، حضرت عمرو بن العاص رضی الله عنہ مدبر ہونے اور جنگی حکمت عملی میں ۔ حضرت مغیرہ رضی الله عنہ سخت اور پیچیدہ معاملات کے حل میں ۔ (كاشف الغمة فى شرح اعتقاد أهل السنة و الجماعة ، لامام ابى القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائي الطبري ، تحت باب ذكر فضائل ابى عبد الرحمن معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنه ، ص 453 تا 457 ، مطبوعة مكتبة الطبري للنشر و التوزيع ، طبع اول ١٤٣٠ه/٢٠٠٩ء)(شرح اصول اعتقاد اھل السنة و الجماعة ، لامام ابى القاسم هبة الله بن الحسن بن منصور اللالكائي الطبري ، تحت " ما روي عن النبي صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم في فضائل ابى عبد الرحمن معاوية بن ابى سفيان رضي الله عنه ، جلد 8 صفحہ 1524 تا 1534 ، مطبوعة دار الطيبة)
حضرت امام ابو طالب محمد بن علی بن عطیہ المکی الحارثی رحمة الله علیہ متوفٰی ۳٨٦ھ فرماتے ہیں : حضرت امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ کا عبید الله بن موسی عبسی کے ہاں بہت زیادہ آنا جانا تھا پھر آپ کو اس کا بدعتی ہونا معلوم ہوا مثلاً آپ سے عرض کی گئی کہ وہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کو حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ سے افضل مانتا ہے اور یہ بھی عرض کیا گیا کہ اس نے حضرت امیر معاويہ رضی الله عنہ کا تذکرہ غیر موزوں الفاظ میں کیا تو امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہ نے اس کے پاس نہ صرف آنا جانا چھوڑ دیا بلکہ اس سے جتنی احادیث حاصل کی تھیں سارہ مسوّدہ چاک کر دیا اور اس سے کوئی حدیث روایت نہ کی ۔ (قوت القلوب فى معاملة المحبوب ، لامام ابى طالب محمد بن على بن عطية المکی الحارثی ، الفصل الحادي و الثلاثون : فيه كتاب العلم و تفضيله ، و أوصاف العلماء ، تحت " ذكر تفصيل العلوم : معروفها و منكرها ، قديمها و محدثها ، جلد 1 صفحہ 463 تا 464 ، مطبوعة مكتبة دار التراث ، طبع اول ١٤٢٢ه/٢٠٠١ء) ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299985498904163/
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/25727
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زندہ باد اکابرینِ اُمّت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299985498904163/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زندہ باد اکابرینِ اُمّت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299985498904163/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
क्या छत फ़ाड़ कर मेराज के लिये सफ़र हुआ?
बहरुल उलूम, हज़रत अल्लामा मुफ़्ती अब्दुल मन्नान आज़मी रहीमहुल्लाहु त'आला से सवाल किया गया कि ज़ैद कहता है कि जब हुज़ूर सल्लल्लाहु त'आला अलैहि वसल्लम को मेराज हुयी तो आप उम्मे हानी के घर में तशरीफ़ फरमा थे और आप छत फ़ाड़ कर अर्शे मुअल्ला पर गये, दरवाज़े से नहीं इसीलिये ज़ंजीर हिलने की कोई ज़रूरत नहीं और ये ज़ंजीर के हिलने वाली बात सहीह नहीं और अल्लाह त'आला से 90 बातें हुयीं जिन में से 60 आपने बयान की और 30 छुपा लीं।
आप जवाब में लिखते हैं कि : हदीस में जिबरीले अमीन के बारे में तो ये है कि जब वो मेराज के लिये आये तो दरवाज़े से नहीं बल्कि छत को फाड़ कर आये लेकिन हुज़ूर इसी फटी हुयी छत से अर्श पे गये ये बात रिवायत में नहीं बल्कि ज़ैद की अटकल पच्छू है।
मुल्ला अली क़ारी ने मिरक़ात में और शैख़ अब्दुल हक़ मुहद्दिस दहेलवी ने लम'आत में लिखा है कि :
रिवायतों में इस मौके पर कई अल्फ़ाज़ आये हैं, किसी में है कि मैं हतीम में सो रहा था और बाज़ में है कि बैतुल्लाह के पास था और बाज़ में है कि मेरे घर की छत खुली और मैं मक्का में था और बाज़ में है कि शैबे अबी तालिब से मेराज हुयी और बाज़ में है उम्मे हानी के घर से, इन सब रिवायतों में तहक़ीक़ ये है कि ये सब जगहें क़रीब ही हैं। आप उम्मे हानी के घर थे, घर की छत खुली और इससे फरिश्ता उतरा फिर वो मुझे बैतुल्लाह शरीफ में ले आया।
देखिये यहाँ साफ तहरीर है कि घर से काबा शरीफ़ के पास लाये तो घर की छत फ़ाड़ के आने की क्या ज़रूरत थी।
ज़ैद किसी रिवायत में ये नहीं दिखा सकता कि हुज़ूर छत फाड़कर अर्शे मुअल्ला के लिये गये।
आज लोग दीनी मज़हब से दूर हो गये हैं, बे पढ़े लिखे लोग दीनी मामलात में दखल देने लगे हैं।
खुद भी गुमराह होते हैं और दूसरों को भी गुमराह करते हैं।
(فتاوی بحر العلوم، ج5، ص181، 182)
अब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
बहरुल उलूम, हज़रत अल्लामा मुफ़्ती अब्दुल मन्नान आज़मी रहीमहुल्लाहु त'आला से सवाल किया गया कि ज़ैद कहता है कि जब हुज़ूर सल्लल्लाहु त'आला अलैहि वसल्लम को मेराज हुयी तो आप उम्मे हानी के घर में तशरीफ़ फरमा थे और आप छत फ़ाड़ कर अर्शे मुअल्ला पर गये, दरवाज़े से नहीं इसीलिये ज़ंजीर हिलने की कोई ज़रूरत नहीं और ये ज़ंजीर के हिलने वाली बात सहीह नहीं और अल्लाह त'आला से 90 बातें हुयीं जिन में से 60 आपने बयान की और 30 छुपा लीं।
आप जवाब में लिखते हैं कि : हदीस में जिबरीले अमीन के बारे में तो ये है कि जब वो मेराज के लिये आये तो दरवाज़े से नहीं बल्कि छत को फाड़ कर आये लेकिन हुज़ूर इसी फटी हुयी छत से अर्श पे गये ये बात रिवायत में नहीं बल्कि ज़ैद की अटकल पच्छू है।
मुल्ला अली क़ारी ने मिरक़ात में और शैख़ अब्दुल हक़ मुहद्दिस दहेलवी ने लम'आत में लिखा है कि :
रिवायतों में इस मौके पर कई अल्फ़ाज़ आये हैं, किसी में है कि मैं हतीम में सो रहा था और बाज़ में है कि बैतुल्लाह के पास था और बाज़ में है कि मेरे घर की छत खुली और मैं मक्का में था और बाज़ में है कि शैबे अबी तालिब से मेराज हुयी और बाज़ में है उम्मे हानी के घर से, इन सब रिवायतों में तहक़ीक़ ये है कि ये सब जगहें क़रीब ही हैं। आप उम्मे हानी के घर थे, घर की छत खुली और इससे फरिश्ता उतरा फिर वो मुझे बैतुल्लाह शरीफ में ले आया।
देखिये यहाँ साफ तहरीर है कि घर से काबा शरीफ़ के पास लाये तो घर की छत फ़ाड़ के आने की क्या ज़रूरत थी।
ज़ैद किसी रिवायत में ये नहीं दिखा सकता कि हुज़ूर छत फाड़कर अर्शे मुअल्ला के लिये गये।
आज लोग दीनी मज़हब से दूर हो गये हैं, बे पढ़े लिखे लोग दीनी मामलात में दखल देने लगे हैं।
खुद भी गुमराह होते हैं और दूसरों को भी गुमराह करते हैं।
(فتاوی بحر العلوم، ج5، ص181، 182)
अब्दे मुस्तफ़ा ऑफिशियल
❤1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
Kya Chhat Phaad Kar Meraj Ke Liye Safar Hua?
Behrul Uloom, Hazrat Allama Mufti Abdul Mannan Aazmi Rahimahullahu Ta'ala Se Sawal Kiya Gaya Ke Zaid Kehta Hai Ke Jab Huzoor Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ko Meraj Huyi To Aap Umme Haani Ke Ghar Mein Tashreef Farma The Aur Aap Chhat Phaad Kar Arshe Mualla Par Gaye, Darwaze Se Nahin Isliye Zanjeer Hilne Ki Koi Zaroorat Nahin Aur Ye Zanjeer Ke Hilne Waali Baat Sahih Nahin Aur Allah Ta'ala Se 90 Baatein Huyi Jin Mein Se 60 Aapne Bayaan Ki Aur 30 Chhupa Li
Aap Jawab Mein Likhte Hain Ke :
Hadees Mein Jibreel -e- Ameen Ke Baare Mein To Ye Hai Ke Jab Wo Meraj Ke Liye Aaye To Darwaze Se Nahin Balki Chhat Ko Phaad Kar Aaye Lekin Huzoor Isi Phati Huyi Chhat Se Arsh Pe Gaye Ye Baat Riwayat Mein Nahin Balki Zaid Ki Atkal Pachhu Hai
Mulla Ali Qaari Ne Mirqaat Mein Aur Shaykh Abdul Haq Muhaddise Dehelvi Ne Lam'aat Mein Likha Hai Ke :
Riwayato Mein Is Mauqe Par Kayi Alfaaz Aaye Hain, Kisi Mein Hai Ke Main Hateem Mein So Raha Tha Aur Baaz Mein Hai Ke Baitullah Ke Paas Tha Aur Baaz Mein Hai Ke Mere Ghar Ki Chhat Khuli Aur Main Makka Mein Tha Aur Baaz Mein Hai Ke Shaibe Abi Talib Se Meraj Huyi Aur Baaz Mein Hai Umme Haani Ke Ghar Se, In Sab Riwayato Mein Tatbeeq Ye Hai Ke Ye Sab Jagahein Qareeb Hi Hain,
Aap Umme Haani Ke Ghar The, Ghar Ki Chhat Khuli Aur Isse Firishta Utra Phir Wo Mujhe Baitullah Shareef Mein Le Aaya
Dekhiye Yahan Saaf Tehreer Hai Ke Ghar Mein Se Kaaba Shareef Ke Paas Laaye To Ghar Ki Chhat Phaad Ke Aane Ki Kya Zarurat Thi
Zaid Kisi Riwayat Mein Ye Nahin Dikha Sakta Ke Huzoor Chhat Phaad Kar Arshe Mualla Ke Liye Gaye
Aaj Log Deeno Mazhab Se Door Ho Gaye Hain, Be Padhe Likhe Log Deeni Mamlaat Mein Dakhal Dene Lage Hain
Khud Bhi Gumraah Hote Hain Aur Dusro Ko Bhi Gumraah Karte Hain
(فتاوی بحر العلوم، ج5، ص181، 182)
Abde Mustafa Official
Behrul Uloom, Hazrat Allama Mufti Abdul Mannan Aazmi Rahimahullahu Ta'ala Se Sawal Kiya Gaya Ke Zaid Kehta Hai Ke Jab Huzoor Sallallaho Ta'ala Alaihi Wasallam Ko Meraj Huyi To Aap Umme Haani Ke Ghar Mein Tashreef Farma The Aur Aap Chhat Phaad Kar Arshe Mualla Par Gaye, Darwaze Se Nahin Isliye Zanjeer Hilne Ki Koi Zaroorat Nahin Aur Ye Zanjeer Ke Hilne Waali Baat Sahih Nahin Aur Allah Ta'ala Se 90 Baatein Huyi Jin Mein Se 60 Aapne Bayaan Ki Aur 30 Chhupa Li
Aap Jawab Mein Likhte Hain Ke :
Hadees Mein Jibreel -e- Ameen Ke Baare Mein To Ye Hai Ke Jab Wo Meraj Ke Liye Aaye To Darwaze Se Nahin Balki Chhat Ko Phaad Kar Aaye Lekin Huzoor Isi Phati Huyi Chhat Se Arsh Pe Gaye Ye Baat Riwayat Mein Nahin Balki Zaid Ki Atkal Pachhu Hai
Mulla Ali Qaari Ne Mirqaat Mein Aur Shaykh Abdul Haq Muhaddise Dehelvi Ne Lam'aat Mein Likha Hai Ke :
Riwayato Mein Is Mauqe Par Kayi Alfaaz Aaye Hain, Kisi Mein Hai Ke Main Hateem Mein So Raha Tha Aur Baaz Mein Hai Ke Baitullah Ke Paas Tha Aur Baaz Mein Hai Ke Mere Ghar Ki Chhat Khuli Aur Main Makka Mein Tha Aur Baaz Mein Hai Ke Shaibe Abi Talib Se Meraj Huyi Aur Baaz Mein Hai Umme Haani Ke Ghar Se, In Sab Riwayato Mein Tatbeeq Ye Hai Ke Ye Sab Jagahein Qareeb Hi Hain,
Aap Umme Haani Ke Ghar The, Ghar Ki Chhat Khuli Aur Isse Firishta Utra Phir Wo Mujhe Baitullah Shareef Mein Le Aaya
Dekhiye Yahan Saaf Tehreer Hai Ke Ghar Mein Se Kaaba Shareef Ke Paas Laaye To Ghar Ki Chhat Phaad Ke Aane Ki Kya Zarurat Thi
Zaid Kisi Riwayat Mein Ye Nahin Dikha Sakta Ke Huzoor Chhat Phaad Kar Arshe Mualla Ke Liye Gaye
Aaj Log Deeno Mazhab Se Door Ho Gaye Hain, Be Padhe Likhe Log Deeni Mamlaat Mein Dakhal Dene Lage Hain
Khud Bhi Gumraah Hote Hain Aur Dusro Ko Bhi Gumraah Karte Hain
(فتاوی بحر العلوم، ج5، ص181، 182)
Abde Mustafa Official
❤1👍1
Forwarded from Abde Mustafa Organisation
کیا چھت پھاڑ کر معراج کے لیے سفر ہوا؟
بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی رحمۃ اللہ سے سوال کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آپ امّ ہانی کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ چھت پھاڑ کر عرش معلیٰ پر گئے دروازے سے نہیں اس لیے زنجیر ہلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ زنجیر کے ہلنے والی بات صحیح نہیں اور اللہ تعالٰی سے 90 باتیں ہوئی جن میں سے 60 آپ نے بیان کی اور 30 چھپا لی۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ:
حدیث میں جبرئیل امین کے بارے میں تو یہ ہے کہ جب وہ معراج کے لئے آئے تو دروازے سے نہیں بلکہ چھت کو پھاڑ کر آئے لیکن حضور اسی پھٹی ہوئی چھت سے عرش پر گئے یہ بات روایت میں نہیں بلکہ زید کی اٹکل پچو ہے۔
ملّا علی قاری نے مرقاۃ میں اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں لکھا ہے کہ روایتوں میں اس موقع پر کئی الفاظ آئے ہیں کسی میں ہے کہ میں حطیم میں سو رہا تھا اور بعض میں ہے کہ بیت اللہ کے پاس تھا اور بعض میں ہے کہ میرے گھر کی چھت کھلی اور میں مکہ میں تھا اور بعض میں ہے کہ شعب ابی طالب سے معراج ہوئی اور بعض میں ہے امّ ہانی کے گھر سے، ان سب روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ سب جگہیں قریب ہی ہیں،
آپ امّ ہانی کے گھر تھے گھر کی چھت کھلی اور اس سے فرشتہ اترا پھر وہ مجھے بیت اللہ شریف میں لے آیا۔
دیکھیے یہاں صاف تحریر ہے کہ گھر میں سے کعبہ شریف کے پاس لائے تو گھر کی چھت پھاڑ کے آنے کی کیا ضرورت تھی زید کسی روایت میں یہ نہیں دکھا سکتا کہ حضور چھت پھاڑ کر عرش معلیٰ کے لیے گئے۔
آج لوگ دین و مذہب سے دور ہو گئے ہیں، بے پڑھے لکھے لوگ دینی معاملات میں دخل دینے لگے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
(فتاویٰ بحر العلوم، ج5، ص181 182)
عبد مصطفیٰ آفیشل
بحرالعلوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی رحمۃ اللہ سے سوال کیا گیا کہ زید کہتا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تو آپ امّ ہانی کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ چھت پھاڑ کر عرش معلیٰ پر گئے دروازے سے نہیں اس لیے زنجیر ہلنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ زنجیر کے ہلنے والی بات صحیح نہیں اور اللہ تعالٰی سے 90 باتیں ہوئی جن میں سے 60 آپ نے بیان کی اور 30 چھپا لی۔
آپ جواب میں لکھتے ہیں کہ:
حدیث میں جبرئیل امین کے بارے میں تو یہ ہے کہ جب وہ معراج کے لئے آئے تو دروازے سے نہیں بلکہ چھت کو پھاڑ کر آئے لیکن حضور اسی پھٹی ہوئی چھت سے عرش پر گئے یہ بات روایت میں نہیں بلکہ زید کی اٹکل پچو ہے۔
ملّا علی قاری نے مرقاۃ میں اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں لکھا ہے کہ روایتوں میں اس موقع پر کئی الفاظ آئے ہیں کسی میں ہے کہ میں حطیم میں سو رہا تھا اور بعض میں ہے کہ بیت اللہ کے پاس تھا اور بعض میں ہے کہ میرے گھر کی چھت کھلی اور میں مکہ میں تھا اور بعض میں ہے کہ شعب ابی طالب سے معراج ہوئی اور بعض میں ہے امّ ہانی کے گھر سے، ان سب روایتوں میں تطبیق یہ ہے کہ یہ سب جگہیں قریب ہی ہیں،
آپ امّ ہانی کے گھر تھے گھر کی چھت کھلی اور اس سے فرشتہ اترا پھر وہ مجھے بیت اللہ شریف میں لے آیا۔
دیکھیے یہاں صاف تحریر ہے کہ گھر میں سے کعبہ شریف کے پاس لائے تو گھر کی چھت پھاڑ کے آنے کی کیا ضرورت تھی زید کسی روایت میں یہ نہیں دکھا سکتا کہ حضور چھت پھاڑ کر عرش معلیٰ کے لیے گئے۔
آج لوگ دین و مذہب سے دور ہو گئے ہیں، بے پڑھے لکھے لوگ دینی معاملات میں دخل دینے لگے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔
(فتاویٰ بحر العلوم، ج5، ص181 182)
عبد مصطفیٰ آفیشل
❤1