🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
https://t.me/islaamic_Knowledge/25704
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299770738925639/
سیاست و امارت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : صحابی رسول ، کاتبِ وحی ، خالُ المؤمنین و خلیفۃُ المسلمین حضرتِ سَیِّدُنا امیر ِمُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ (جو کہ اوّل ملوکِ اسلام (پہلے سلطانِ اسلام) بھی ہیں) بعثتِ نبوی سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے ۔ (دلائل النبوۃللبیھقی،ج6، ص243، ملتقطاً۔ تاریخ ابن عساکر،ج3، ص208۔ الاصابۃ،ج6، ص120، بہارشریعت،ج1، ص258)

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ صحابی رسول حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹے اور اُمّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھائی ہیں ۔ آپ کی شان میں کئی احادیث مروی ہیں ۔ حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے بارے میں یوں دعا فرمائی : اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! انہیں (امیر معاویہ کو) ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور اِن کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (ترمذی،ج5، ص455، حدیث: 3868،چشتی)

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چالیس سال تک حکومتی مَنْصَب پر جلوہ اَفروز رہے ۔ جن میں 10 سال امیر المومنین حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جیسے عادل و نَقَّاد خلیفہ کا سنہری دور بھی شامل ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمایا کرتے : تم قیصر و کِسریٰ اور ان کی عقل و دانائی کا تذکرہ کرتے ہو جبکہ معاویہ بن ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ موجود ہیں ۔ (تاریخ طبری،ج3، ص264)

حضرت سَیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانَۂ خلافت میں اِسلامی سلطنت خُراسان سے مغرب میں واقع افریقی شہروں اور قُبْرُص سے یَمَن تک پھیل چکی تھی ۔

حضرت سیدنا مولا علی المرتضیٰ مشکل کشاء رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا : امارت معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (البدایہ والنہایہ عربی صفحہ نمبر 131)

مولا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں امارت معاویہ رضی اللہ عنہ کو نا پسند نہ کرو اگر تم نے انہیں کھو دیا تو سر گردنوں سے گرینگے جیسے حنظل گرتا ہے ۔ (مصنفف ابن ابی شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 765 مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں اتنا اہمیت و قدر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مگر نام نہاد محبانِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بغض حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں مرے جا رہے ہیں اور کھلے و سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی توہین پہ توہین کرتے چلے جا رہے ہیں کیا ذرا سوچو تم لوگ کیا کر رہے ہو فرامین حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو جھٹلا اور ان کی توہین کر رہے ہو ۔ فرمان حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اگر تم نے انہیں کھو دیا پر توجہ فرمائیں ۔

امام حسن رضی اللہ عنہ نے جب خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی ، صلح کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت منھج رسول ، منھج خلفاء راشدین پے رہی الا چند مجتہدات کے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت عادلہ راشدہ کہلائی تو ایسی حکومت زندہ باد کیوں نہ ہو ؟ ایسی سیاست و کردار کا فیضان کیوں نا جاری رہے ؟

وقد كان ينبغي أن تلحق دولة معاوية وأخباره بدول الخلفاء وأخبارهم فهو تاليهم في الفضل والعدالة والصحبة ۔
سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے جب حکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دی انکی بیعت کی ، ان سے صلح کی تو اس کے بعد سیدنا معاویہ کی حکومت خلفاء راشدین کی حکومت کی طرح حکومت عادلہ و راشدہ کہلانی چاہیے اور سیدنا معاویہ کے اقوال و اخبار بھی خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے اقوال و اخبار کی طرح کہلانے چاہیے کیونکہ فضیلت عدالت اور صحابیت میں سیدنا معاویہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے بعد ہیں ۔ (تاریخ ابن خلدون2/650،چشتی)

فأرسل إِلَى معاوية يبذل له تسليم الأمر إليه، عَلَى أن تكون له الخلافة بعده، وعلى أن لا يطلب أحدًا من أهل المدينة والحجاز والعراق بشيء مما كان أيام أبيه، وغير ذلك من القواعد، فأجابه معاوية إِلَى ما طلب، فظهرت المعجزة النبوية في قوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إن ابني هذا سيد يصلح اللَّه به بين فئتين من المسلمين “.ولما بايع الحسن معاوية خطب الناس ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ خلافت و حکومت معاویہ کو دینے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت انہیں ملے گی اور یہ بھی شرط کی کہ اہل مدینہ اہل حجاز اور اہل عراق میں سے کسی سے بھی کوئی مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور اس کے علاوہ بھی کچھ شرائط رکھیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان
👍1
شرائط کو قبول کرلیا تو نبی کریم صلہ اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا وہ معجزہ ظاہر ہوگیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ میرا بیٹا یہ سید ہے اللہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا اور سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ کی بیعت کر لی تو خطبہ بھی دیا ۔ (أسد الغابة ,2/13)

امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کرو ، اطاعت کرو

جمع الحسن رءوس أهل العراق في هذا القصر قصر المدائن- فقال: إنكم قد بايعتموني على أن تسالموا من سالمت وتحاربوا من حاربت، وإني قد بايعت معاوية، فاسمعوا له وأطيعو ۔
ترجمہ : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے مدائن کے ایک محل میں عراق وغیرہ کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ تم لوگوں نے میری بیعت کی تھی اس بات پر کہ تم صلح کر لو گے اس سے جس سے میں صلح کروں اور تم جنگ کرو گے اس سے جس سے میں جنگ کروں تو بے شک میں نے معاویہ کی بیعت کر لی ہے تو تم بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات سنو مانو اور اطاعت کرو ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ,2/65،چشتی)

قَالَ كَعْب الْأَحْبَار لم يملك أحد هَذِه الْأمة مَا ملك مُعَاوِيَة ۔
ترجمہ : سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جیسی (عظیم عادلہ راشدہ) بادشاہت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی ایسی کسی کی بادشاہت نہیں تھی ۔ (صواعق محرقہ2/629)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَسْوَدَ مِنْ مُعَاوِيَةَ ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو کثرت سے کرم نوازی کرنے والا ، حلم و بردباری والا، سخاوت کرنے والا نہیں پایا ۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ,9/357 روایت15921)(السنة لأبي بكر بن الخلال ,2/441)

ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُوْلُ:مَا رَأَيْتُ رَجُلاً كَانَ أَخْلَقَ لِلمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَ ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کے میں نے (رسول کریم اور خلفاء راشدین وغیرہ مستحقین کے بعد) معاویہ سے بڑھ کر حکومت کے لیے بادشاہت کے لیے کسی کو عظیم مستحق ترین , لائق ترین اور عظیم اخلاق والا نہیں پایا ۔ (سير أعلام النبلاء3/153)

عَنِ ابْن عُمَر، قَالَ: مَا رأيت أحدا بعد رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أسود من مُعَاوِيَة. فقيل لَهُ: فأبو بَكْر، وَعُمَر، وعثمان، وعلي! فَقَالَ: كانوا والله خيرا من مُعَاوِيَة، وَكَانَ مُعَاوِيَة أسود منهم ۔
ترجمہ : سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو کثرت سے کرم نوازی کرنے والا ، حلم و بردباری والا، سخاوت کرنے والا نہیں پایا … کسی نے پوچھا کہ ابوبکر عمر عثمان اور علی رضی اللہ عنہم سے بھی زیادہ ۔۔۔؟ فرمایہ کہ یہ سب حضرات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے افضل تھے مگر کثرت کرم نوازی بردباری سخاوت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ زیادہ تھے ۔ (الاستيعاب في معرفة الأصحاب ,3/1418،چشتی)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم

أوصى أن يكفن فِي قميص كَانَ رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قد كساه إياه، وأن يجعل مما يلي جسده، وَكَانَ عنده قلامة أظفار رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأوصى أن تسحق وتجعل فِي عينيه وفمه ۔
ترجمہ : سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں کفن میں وہ قمیض پہنائی جائے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہنائی تھی اور سیدنا معاویہ کے پاس حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے ناخن مبارک کے ٹکڑے تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ وہ ان کی آنکھوں اور منہ پر رکھے جائیں ۔ (أسد الغابة ,5/201)

جہاد و فتوحاتِ اور انقلابی کارنامے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

اسلامی شہروں سازشوں کے ذریعے فتنہ پھیلانے والے خَوارِج کی سرکوبی فرمائی، یہاں تک کہ فتنہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ۔ آپ کے حکم سے تاریخ کی پہلی کتاب کتابُ المُلُوك وَ اَخبَارُ الْمَاضِین لکھی گئی ۔ (التراتیب الاداریہ،ج2،ص322) ، 28 ہجری میں اسلام کی سب سے پہلی بحری فوج کی قیادت فرمائی اور قُبْرُص کو فتح کیا ۔ (شرح ابن بطال ،ج5، ص11، تحت الحدیث: 2924)

بحری جہاز بنانے کے لئے 49ہجری میں کارخانے قائم فرمائے اور ساحل پر ہی تمام کاریگروں کی رہائش وغیر ہ کا انتظام کردیا تاکہ بحری جہاز بنانے کے اہم کام میں خَلل واقع نہ ہو ۔ (فتوح البلدان،ص161)
مکتوبات پر مہر لگانے کا طریقہ رائج فرمایا جس کا سبب یہ بنا کہ آپ نے ایک شخص کیلئے بَیْتُ المال سے ایک لاکھ درہم دینے کا حکم تحریر فرمایا لیکن اس نے تَصَرُّف کرکے اسے ایک کے بجائے دو لاکھ کردیا،آپ کو جب اس خیانت کا عِلْم ہوا تو اُس کا مُحاسَبَہ فرمایا اور اس کے بعد خُطوط پر مہر لگانے کا نِظام نافِذ فرما دیا ۔ (تاریخ الخلفا، صفحہ 160،چشتی)

سرکاری خُطوط کی نقل محفوظ رکھنے کا نظام بنایا ۔ (تاریخ یعقوبی،ج2، ص145)

سب سے پہلے کعبہ شریف میں منبر کی ترکیب بنائی ۔ (تاریخ یعقوبی،ج2، ص131)

اور سب سے پہلے خانہ کعبہ پر دِیبا و حَرِیر (یعنی ریشم) کا قیمتی غلاف چڑھایا اور خدمت کے لیے مُتَعَدِّد غلام مُقَرَّر کیے ۔ (تاریخ یعقوبی، ج2، ص150)

عوام کی خیرخواہی کیلئے شام اور روم کے درمیان میں واقع ایک مَرْعَش نامی غیر آباد علاقے میں فوجی چھاؤنی قائم فرمائی ۔ (فتوح البلدان، ص265)

اَنْطَرطُوس، مَرَقِیَّہ جیسے غیر آباد علاقے بھی دوبارہ آباد فرمائے ۔ (فتوح البلدان، ص182)

نئے آباد ہونے والے علاقوں میں جن جن چیزوں کی ضرورت تھی ،اُن کا انتظام فرمایا مثلاً لوگوں کو پانی فراہم کرنے کے لئے نہری نظام قائم فرمایا ۔ (فتوح البلدان، ص499)

رعایا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے محکمہ بنایا جس کے تحت ہر علاقے میں ایک ایک افسرمقرر تھا تاکہ وہ لوگوں کی معمولی ضرورتیں خودپوری کرے اوربڑی ضرورتوں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو آگاہ کرے نیزان کو کسی بھی گھر میں آنے والے مہمان یا بچے کی ولادت کے بارے میں معلومات رکھنے کا حکم دیا تاکہ ان کے وظائف کی ترکیب بنا سکیں ۔ (البدایہ و النہایہ،ج8،ص134،مراٰۃ المناجیح،ج5،ص374 )

وفي سنة ثلاث وأربعين فتحت الرخج وغيرها من بلاد سجستان، وودان من برقة، وكور من بلاد السودان ۔ وفي سنة خمس وأربعين فتحت القيقان قوهستان ۔
خلاصہ : رخج وغیرہا کئ ممالک سجستان ودان کور سوڈان قعقان قوہستان وغیرہ کئ ممالک سلطنتیں سیدنا معاویہ کے دور میں فتح ہوئے…عرب تا افریقہ تک تقریبا آدھی دنیا پر سیدنا معاویہ کی حکومت تھی ۔ (تاريخ الخلفاء)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہلبیت و امام حسن رضی اللہ عنہم کی تعظیم و خدمت

اس صلح کے وقت واقعہ یہ ہوا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سادہ کاغذ بھیجا اور فرمایا کہ آپ جو شرائط صلح چاہیں لکھ دیں مجھے منظور ہے ،ا مام حسن رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اتنا روپیہ سالانہ بطور وظیفہ ہم کو دیا جایا کرے اور آپ کے بعد پھر خلیفہ ہم ہوں گے، آپ نے کہا مجھے منظور ہے ۔ چنانچہ آپ سالانہ وظیفہ دیتے رہے اس کے علاوہ اکثر عطیہ نذرانے پیش کرتے رہتے تھے ، ایک بار فرمایا کہ آج میں آپ کو وہ نذرانہ دیتا ہوں جو کبھی کسی نے کسی کو نہ دیا ہو۔چنانچہ آپ نے اربعۃ مائۃ الف الف نذرانہ کیے یعنی چالیس کروڑ روپیہ ۔ (مرقات) جب امام حسن رضی اللہ عنہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں اپنی جگہ بٹھاتے خود سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ، کسی نے پوچھا آپ ایسا کیوں کرتے ہیں فرمایا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ ہم شکل مصطفی ہیں صلی الله علیہ وسلم اس مشابہت کا احترام کرتا ہوں ۔ (مراۃ شرح مشکوٰۃ 8/460)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی خدمت

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تحفے تحائف تک بھیجا کرتے تھے جو اس طرف واضح اشارہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول کریم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا خیال رکھا کرتے تھے ۔

أَهْدَى مُعَاوِيَةُ لِعَائِشَةَ ثِيَابًا وَوَرِقًا وَأَشْيَاءَ ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کو کپڑے اور چاندی کے سکے(نقدی) اور دیگر چیزیں تحفے میں بھیجیں ۔(حلية الأولياء 2/48)

أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ ۔
ترجمہ : (رسول کریم نے حسن حسین وغیرہ اہلبیت سے فرمایا) تم جس سے جنگ کرو میری اس سے جنگ ہے،تم جس سے صلح کرو میری اس سے صلح ہے ۔ (صحیح ابن حبان حدیث6977)،(شیعہ کتاب بحار الانوار32/321)

شیعہ ، رافضی ، نیم رافضی سچے مسلمان نہیں ، سچے محب اہلبیت نہیں ….. حسنی حسینی سچا مسلمان اور سچا محبِ اہلبیت وہ ہےجو یزیدیت سے جنگ اور معاویت سے صلح رکھے ، زبان قابو میں رکھے کیونکہ حجرت سیدنا امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنھما نے حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کی اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے جنگ کی …… اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی صلح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلح اور انکی جنگ رسول کریم کی جنگ ہے ۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث و سنت کی اتباع و پیروی اور عوام کی فلاح
أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الْأَزْدِيَّ، أَخْبَرَهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ ،فَقَالَ: مَا أَنْعَمَنَا بِكَ….فَقُلْتُ: حَدِيثًا سَمِعْتُهُ أُخْبِرُكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ، وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمْ، احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ، وَفَقْرِهِ» قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ ۔ (ابوداود حدیث2948بالحذف الیسیر)
ترجمہ : صحابی سیدنا ابو مریم الازدی رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کی تشریف آوری سے ہمارا دل باغ بہار ہوگیا ، فرمائیے کیسے آنا ہوا …….؟؟ صحابی ابو مریم الازدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث پاک سنانے آیا ہوں “رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے اللہ نے مسلمانوں کی حکومت (لیڈری، ذمہ داری، عھدے داری) سے نوازا ہو اور وہ لوگوں پر اپنے دروازے بند کر دے حالانکہ لوگ تنگ دستی میں ہوں حاجات والے ہوں اور فقر و فاقہ مفلسی والے ہوں تو اللہ قیامت کے دن ایسے (نا اہل) حکمران و ذمہ دار پر (رحمت کے ، جنت کے) دروازے بند کر دے گا حالانکہ وہ تنگ دست ہوگا حاجت مند ہوگا مفلس و ضرورت مند ہوگا …” صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حدیث پاک سنتے ہی فورا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی حاجات و مسائل کے سننے ، حل کرنے ، مدد کرنے کے لیے ایک شخص کو مقرر کر دیا ۔ (ابوداود حدیث2948بالحذف الیسیر)

سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ نے جب حکومت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سپرد کردی اور بیعت کی اور ان کی بیعت کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دے دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ متبع سنت تھے عادل و راشد تھے عاشق رسول تھے صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم وغیرہ کا احترام و خدمت کرتے تھے اور اپنی حکومت منھج سنت و منھج ِ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم پر چلائی الا بعض اجتہادی مسائل کے اور بخاری میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فقیہ یعنی مجتہد تھے تو ثابت ہوا کہ ان کی حکومت اچھی عادلہ راشدہ تھی اس لیے ان کی سیاست زندہ باد کہنا اور فیضان معاویہ رضی اللہ عنہ جاری رہے گا کا نعرہ لگانا بے جا نہیں برحق و سچ ہے … ہاں یزید ملعون کی سیاست و حکومت یزیدت مردہ باد لیکن والد کی وفات کے بعد بیٹے کے کرتوت ہوں تو اس کی وجہ سے باپ پر کوئی الزام حرف نہیں آتا ۔

آپ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں فتوحات کا سلسلہ انتہائی برق رفتاری سے جاری رہا اور قلات ، قندھار، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ،شمالی افریقہ ،جزیرہ روڈس ،جزیرہ اروڈ ،کابل ،صقلیہ (سسلی ) سمیت مشرق ومغرب ،شمال وجنوب کا 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔ ان فتوحات میں غزوہ قسطنطنیہ ایک اہم مقام رکھتاہے ۔ یہ مسلمانوں کی قسطنطنیہ پر پہلی فوج کشی تھی ، مسلمانوں کا بحری بیڑہ سفیان ازدی رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روم سے گزر کر قسطنطنیہ پہنچا اور قلعے کا محاصرہ کرلیا ۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب شام پر لشکر کشی ہوئی تو حضرت ابو سفیان کے دونوں بیٹے یزید اور معاویہ رضی اللہ عنہم اس فوج کے آفیسر تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے وہاں غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت یزید بن ابی سفیان کو شام کا گورنر مقرر کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کو ان کا نائب بنایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ان عہدوں پر بحال رکھا۔ 19/640 میں حضرت معاویہ نے رومیوں کی مشہور فوجی چھاؤنی “قیساریہ” کو فتح کر لیا۔ اگلے برس ان کے بھائی یزید نے طاعون کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ حضرت معاویہ کو مقرر کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب روم، قیصر کے قبضے سے نکل رہا تھا۔ حضرت معاویہ نے رومن ایمپائر کی افواج کو پے در پے شکستیں دے کر پورے شام کو فتح کر لیا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گورنروں سے کم ہی مطمئن ہوتے تھے اور ان کا تبادلہ کرتے رہتے تھے۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی پرفارمنس تھی، جس کی وجہ سے حضرت عمر نے اتنے غیر معمولی اور حساس صوبے پر آپ کو گورنر مقرر کیے رکھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہدے پر بحال رکھا اور ان کے حسن انتظام کی وجہ سے دیگر علاقے بھی انہی کی گورنری میں دے دیے۔ حضرت معاویہ نے حضرت عثمان کے زمانے میں موجودہ ترکی کا تیس فیصد حصہ فتح کر لیا اور ماضی کی عظیم ایسٹرن رومن ایمپائر جو کئی صدیوں سے ایشیا اور افریقہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے تھی، کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کے پے در پے حملوں کے نتیجے میں قیصر روم، جو کبھی تین براعظموں پر حکومت کرتا تھا، اب محض موجودہ ترکی کے تھوڑے سے حصے تک محدود
ہو کر رہ گیا۔

یہی وجہ ہے کہ مشہور مغربی مصنف مائیکل ہارٹ نے جب تاریخ انسانی کی موثر ترین 200 شخصیات کی فہرست تیار کی، تو مسلمانوں میں سے اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر کے بعد تیسرے نمبر پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو رکھا ۔
(Hart, Micheal H. The 100. A Ranking of the Most Influential Persons in History. P. 510. New York: Carol Publishing Group Edition (1993).

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تاریخ اسلامی کی پہلی بحری فوج تیار کی جس نے بحیرہ روم پر قیصر کے قبضے کو ختم کر دیا۔ آپ نے بحیرہ روم کے ساحلوں پر جہاز سازی کی عظیم صنعت قائم کی جس نے ابتدائی سالوں ہی میں عالم اسلام کو 1700 جنگی جہازوں سے مسلح کر دیا۔ اس سے دنیا کے اہم ترین سمندروں پر مسلمانوں کے غلبے کا جو آغاز ہوا، وہ گیارہ سو برس تک قائم رہا۔ آپ نے جزیرہ قبرص (Cyprus)، روڈس (Rhodes) بعد میں سسلی کو بھی فتح کر لیا جو موجودہ اٹلی کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس طرح یورپ میں مسلمانوں کے قدم پہلی مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے ذریعے پہنچے۔ ان تمام علاقوں کا حسن انتظام ایسا تھا کہ جس کی مثال عالم اسلام کے دیگر مفتوحہ علاقوں میں نہیں ملتی ہے۔ آپ کے علاقوں میں بغاوتیں نہ ہونے کے برابر رہی ہیں جبکہ اس کے برعکس عراق، ایران، خراسان، مصر وغیرہ میں آئے دن بغاوتیں ہوتی رہی ہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یہ وہ خوبیاں ہیں، جن کا اعتراف مخالف و موافق سبھی کرتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک خود مختار حکمران کے طور پر رہے لیکن آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضل اور کمالات کے معترف تھے ۔ آپ کا اختلاف صرف یہ تھا کہ باغی تحریک کو قرار واقعی سزا دی جائے یا پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ان کے خلاف کاروائی میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے راستے میں حائل نہ ہوں ۔ یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے امام حسن رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر کے امت مسلمہ کو متحد کیا ۔

جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے رومن ایمپائر سے جہاد کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ۔ اس وقت صورتحال یہ تھی کہ قیصر روم اپنی ترکی کی چھوٹی سی حکومت پر قانع نہ تھا اور ایشیا اور افریقہ میں اپنا اقتدار دوبارہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ وہ کئی مرتبہ شام پر لشکر کشی کر چکا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے مقابلے کے لیے دو افواج تیار کیں جو سردی اور گرمی کی افواج کہلائیں۔ اگر آپ تاریخ طبری میں حضرت معاویہ کے دور کا مطالعہ کریں تو ہر سال کے آغاز میں طبری لکھتے ہیں کہ اس سال فلاں نے سردیوں کا جہاد کیا اور فلاں نے گرمیوں کا۔ حضرت معاویہ کی یلغاریں نہ صرف مغرب بلکہ مشرق میں بھی جاری رہیں ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جنگی مہمات

27-28ھ/ع648-649
فتح قبرص (Cyprus)

32ھ/ع653
قسطنطنیہ (استنبول)

33ھ/ع653
افطرنطیہ،ملطیہ اور روم کے بعض علاقوں کو فتح

35ھ/ع655
ذی خشب کی مہم

42ھ/ع662
سجستان (موجودہ افغانستان اور پاکستان میں مشترک علاقہ) کی مہم

43ھ/ع663
فتح سوڈان

44ھ/ع664
فتح کابل

45ھ/ع665
لیبیا اور الجزائر کے بعض علاقوں کی فتح

46ھ/ع666
صقلیہ یا سسلی پر پہلا حملہ

50-51ھ/ع670-671
قسطنطنیہ کی پہلی مہم

54ھ/ع674
فتح بخارا

54ھ/ع674
قسطنطنیہ کی دوسری مہم

56ھ/ع676
فتح سمر قند

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صرف جنگی پلاننگ اور کاروائیوں ہی میں ماہر نہ تھے بلکہ آپ انتظامی اور علمی امور میں ایک غیر معمولی دماغ رکھتے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو ڈاک کا نظام قائم کیا تھا ، اسے غیر معمولی ترقی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حاصل ہوئی ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ اس دور کا ایک مواصلاتی انقلاب (Communication Revolution) تھا ۔ اس نظام کی تفصیل یہ ہے کہ مختلف شہروں کے مابین ڈاک کی چوکیوں کا نیٹ ورک بنا دیا گیا ۔ ایک پوسٹ مین تیز رفتار گھوڑے پر ڈاک لے کر دوڑتا ۔ گھوڑے پر ایک گھنٹی لگی ہوتی تھی جو اس کے دوڑنے سے بجتی تھی ۔ اس کی آواز سن کر لوگ گھوڑے کو راستہ دے دیتے اور اسی آواز کو سن کر اگلی چوکی کا پوسٹ مین تیار رہتا۔ جیسے ہی پہلا پوسٹ مین وہاں پہنچتا، تو اگلا پوسٹ مین اس سے ڈاک لے کر گھوڑے کو دوڑا دیتا ۔ یہی سلسلہ تیسری ، چوتھی اور اگلی چوکیوں پر جاری رہتا ۔ اس طرح بہت کم وقت میں ایک شہر سے ڈاک دوسرے شہر پہنچ جاتی ۔ ڈاک ہی سے متعلق ایک اور محکمہ کی ایجاد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کارنامہ ہے اور وہ تھا خطوط کے لیے مہریں تیار کرنے اور ان پر لگانے کا محکمہ ۔ آج کے دور میں یہ بڑا غیر اہم لگتا ہے لیکن اسی کی بدولت نہایت اہم سرکاری خطوط اور دستاویزات میں جعل سازی کا خاتمہ ہوا ۔ (تاریخ طبری۔ 4/1-133)

اس سے یقینی طور پر باغی تحریک کو بڑا نقصان ہوا ہو گا کیونکہ وہ جعل سازی کے فن میں ید طولی رکھتے تھے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سلطنت کے استحکام میں اس کمیونی کیشن کے نظام سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ آپ پڑھ چکے ہیں کہ گورنر زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے انٹیلی جنس نظام کا یہ عالم تھا کہ افغانستان میں کسی کی رسی بھی چوری ہوتی تو انہیں بصرہ میں اس کا علم ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پورے بیس برس میں باغی تحریک کو سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا اور جب انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد کچھ سر اٹھایا تو اسے بڑی آسانی سے کچل دیا گیا۔ اس کسمپرسی کے سبب باغیوں میں جو فرسٹریشن پیدا ہوئی، اسے انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پراپیگنڈا کی شکل دے دی ۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف سیاسی بلکہ علمی میدان میں بھی غیر معمولی پراجیکٹ شروع کیے ۔ آپ کو سائنس سے خاص دلچسپی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اہل یونان کی سائنس کی کتب کا خاص طور پر ترجمہ کروایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کے اپنے خاندان میں ایک اتنا بڑا سائنسدان پیدا ہوا جس کی صلاحیت کا لوہا اہل مغرب نے بھی مانا۔ آپ کے پوتے خالد بن یزید بن معاویہ کو کیمسٹری اور میڈیسن (گویا بائیو کیمسٹری) سے غیر معمولی شغف حاصل تھا اور انہیں مسلم دنیا کا پہلا کیمیائی سائنسدان قرار دیا گیا ہے ۔

ان کے متعلق چند اہل علم کی آراء ہم یہاں درج کر رہے ہیں ۔

ابن خلکان لکھتے ہیں : ابو ہاشم خالد بن یزید بن معاویہ بن ابی سفیان اموی رضی اللہ عنہما ۔ قریش میں فنی علوم میں سب سے مشہور تھے اور کیمسٹری اور طب کی صنعتوں میں ان کا کلام موجود ہے ۔ وہ ان علوم میں بہت بڑے ماہر تھے اور ان کے علم اور ذہانت کا ثبوت ان کے رسائل ہیں ۔ انہوں نے یہ علوم ایک راہب، مریانس راہب رومی سے حاصل کیے۔ ان کے تین رسائل ہیں جن میں سے ایک میں مریانس راہب کے ساتھ ان کا معاملہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اس سے یہ علوم کیسے سیکھے ۔ (ابن خلکان (608-681/1212-1282)۔ وفیات الاعیان۔ شخصیت نمبر 212۔ 2/224۔ بیروت: دار الصادر،چشتی)

مشہور برطانوی ماہر طب ایڈورڈ براؤن لکھتے ہیں : دمشق کا جان (John of Damascus)، جن کا لقب کرسوروس اور عربی نام منصور ہے، پر پہلے اموی خلیفہ معاویہ نے بہت سے احسانات کیے۔ عربوں میں یونانی دانش کے علم کی خواہش سب سے پہلے اموی شہزادے، خالد بن یزید بن معاویہ کے ہاں پیدا ہوئی جنہیں کیمسٹری (Alchemy) کا جنون تھا۔ فہرست (ابن الندیم کی مشہور کتاب جس میں اس دور تک کی ہزاروں کتب کا تعارف موجود ہے) کے مطابق، جو اس بارے میں ہماری معلومات کا سب سے قدیم اور سب سے بہتر ذریعہ ہم تک پہنچا ہے، خالد نے یونانی فلسفیوں کو ملک مصر میں اکٹھا کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس مضمون کی یونانی اور مصری تصانیف کو عربی زبان میں ترجمہ کریں۔ فہرست کے مصنف کا کہنا ہے کہ اسلامی (تاریخ) میں یہ وہ پہلی کتابیں تھیں جو ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ ہو کر آئیں۔ اسی شہزادے کے ساتھ مشہور کیمیا دان جابر بن حیان بھی کام کرتے تھے جو کہ قرون وسطی کے یورپ میں Geber کے نام سے مشہور ہیں ۔
( Browne, Edward G. MB, FRCP. Arabian Medicine. P. 15. London: Cambride University Press (1921)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مفتوحہ اقوام کے علوم کو سیکھنے کی تحریک نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تیزی اختیار کی ۔ پھر انہی علوم کی بدولت اس دور کے مسلمانوں نے وہ بنیاد رکھی، جس پر بنو امیہ، بنو عباس اور پھر سلطنت عثمانیہ کی عالیشان عمارت 1200 سال تک کھڑی رہی ۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے محبت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جو محبت تھی، اس کا اندازہ اس بات سےکیا جا سکتا ہے کہ حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “میں نے نماز پڑھنے کے انداز میں کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے اتنا مشابہ نہیں دیکھا ، جتنا کہ معاویہ تھے ۔ (ہیثمی۔ مجمع الزوائد ۔ کتاب المناقب ، ما جاء فی معاویہ بن ابی سفیان۔ حدیث 19520)

اُم علقمہ (مرجانہ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) مدینہ تشریف لائے تو (سیدہ) عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی چادر اور بال مانگا۔ پھر انہوں نے چادر اوڑھ لی اور بال پانی میں ڈبو کر وہ پانی پیا اور اپنے جسم پر بھی ڈالا ۔ (تاریخ دمشق ۱۰۶/۶۲ و سندہ حسن، مرجانہ و ثقھا العجلی وابن حبان،چشتی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ ایک قمیص پہننے کے لیے دی تھی ۔ یہ قمیص آپ کے پاس محفوظ تھی ۔ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تراشے ہوئے ناخن ایک شیشی میں محفوظ کر لیے تھے۔ جب حضرت معاویہ کی جب وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی کہ اسی قمیص میں مجھے کفن دیا جائے اور مبارک ناخنوں کو رگڑکر میری آنکھوں اور منہ پر چھڑک دیا جائے۔ اپنے ذاتی مال کے بارے میں
انہوں نے وصیت کی کہ اس کا آدھا حصہ بیت المال میں جمع کروا دیا جائے ۔ (تاریخ طبری۔ 4/1-131)۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299770738925639/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25713
سیاست و امارت امیر معاویہ
رضی ﷲ تعالیٰ عنہ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299770738925639/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299521205617259/
حُبِّ مولا علی کی آڑ میں امیر معاویہ (رضی اللہ عنہما) کی توہین کرنے والوں کے نام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کو حضرت مولا علی مشکل کُشا شیر خُدا خیبر شکن رضی اللہ عنہ سے افضل یا برابر جانتے ہیں ہرگز نہیں ، اللہ عزوجل مولائے کائنات سیدنا علی المرتضی فداہ روحی کرم اللہ تعالی وجھہ کے صدقے ہمارے ایمان و سنیت کی حفاظت فرمائے فتنوں سے محفوظ فرمائے آمین ۔

کتب عقائد اہلسنت میں اس بات کی دو ٹوک صراحت ہے کہ مشاجرات صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سکوت کیا جائے گا ۔ اس معاملے میں ہمارا وہی عقیدہ ہے جو اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا کہ : امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ تو ان کا درجہ ان سب (عشرہ مبشرہ وغیرہ) کے بعد ہے ۔ اور حضرت مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقام رفیع (مراتب بلند وبالا) و شان منیع (عظمت ومنزلت) تک تو ان سے وہ دور دراز منزلیں ہیں جن ہزاروں ہزار رہوار برق کردار (ایسے کشادہ فراخ قدم گھوڑے جیسے بجلی کا کوندا) صبا رفتار ( ہوا سے بات کرنے والے ، تیز رو، تیز گام ) تھک رہیں اور قطع (مسافت) نہ کرسکیں ۔ مگر فضل صحبت (و شرف صحابیت وفضل) و شرف سعادت خدائی دین ہے ۔ ( جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین تنقیص کیسے گوارا رکھیں ۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 29، صفحہ 370، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ حضرت مولا علی مشکل کُشا شیر خُدا خیبر شکن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کے درمیان بجلی کی رفتار کا گھوڑا ہزروں سال دوڑتا رہے دوڑتا رہے تو بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتے ـ کیونکہ اس دور میں رافضی لوگ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام لیکر تبرا و بکواسات کرتے ہیں تو ہم پر بھی لازم ہے کہ حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا تخصیص کیساتھ دفاع کریں بلکہ جس صحابی کی بھی ناموس پر حملہ ہو اسی صحابی کی تخیصیص کیساتھ شان و عظمت بیان کی جائے ۔ ان کے مقام ومرتبہ میں فرق وہی جس کو اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے انداز میں بیان فرمایا کہ :

فرق مراتب بے شمار
اور حق بدست حیدر کرار

مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن ان پر بھی کار فجار

جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور،چشتی)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مرتبہ کا فرق شمار سے باھر ہے ۔ اگر کوئی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں حضرت امام المسلمین مولا علی مشکل کُشاء رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت کو گرائے وہ ناصبی یزیدی ہے ۔ اور جو مولا علی شیرِ خُدا رضی اللہ عنہ کی محبت کی آڑ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص کرے وہ زیدی شیعہ ہے ۔ الحمد لله ہمارا اھلسنت کا مسلک مسلکِ اعتدال ہے جو ہر صاحبِ فضل کو بغیر کسی دوسرے کی تنقیص و توھین کے مانتا ہے ۔ آج کے جاھلوں نے محبتِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کیلئے بُغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شرط بنا لیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب کی محبت میں موت عطا فرمائے آمین ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد تھے ۔ صحابہ کا آپسی اختلاف اجتہاد پر مبنی تھا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کےدرمیان ہونے والے اختلاف میں زبان بند رکھی جائے ۔ اور ان کے فضائل بیان کیے جائیں ۔ ناکہ جیسا کہ بعض جاہلوں نے سمجھ لیا کہ فضائل کے بارے میں کف لسان کیا جائے ۔ اللہ ان سب سے راضی ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے آئمہ اہلسنّت علیہم الرّحمہ کیا فرماتے ہیں آیئے پڑھتے ہیں :

اما م اہلسنت ابو الحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ (324ھجری) فرماتے ہیں : جو جنگ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زبیرو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی یہ تاویل اور اجتہاد کی بنیاد پر تھی ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ہی امام تھے اور یہ تمام کے تمام مجتہدین تھے اور ان کے لیئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ
وسلّم نے جنت کی گواہی دی ہے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم کی گواہی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اپنے اجتہاد میں حق پر تھے ، اسی طرح جو جنگ حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین ہوئی اس کا بھی یہی حال ہے ، یہ بھی تاویل واجتہاد کی بنیاد پر ہوئی ، اور تمام صحابہ پیشوا ہیں ، مامون ہیں ، دین میں ان پر کوئی تہمت نہیں ہے ، اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام کی تعریف کی ہے ، ہم پر لازم ہے کہ ہم ان تمام کی تعظیم و توقیر کریں ، ان سے محبت کریں اور جو ان کی شان میں کمی لائے اس سے براءت اختیار کریں ۔ (الابانہ عن اصول الدیانہ صفحہ نمبر 624 ۔ 625 ۔626،چشتی)

قاضی ابو بکر الباقلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 304ھجری) فرماتے ہیں : واجب ہے کہ ہم جان لیں : جو امور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مابین واقع ہوئے اس سے ہم کف لسان کرے ، اور ان تمام کے لیئے رحمت کی دعا کریں ، تمام کی تعریف کریں ، اور اللہ تعالی سے ان کے لیئے رضا ، امان، کامیابی اور جنتوں کی دعا کرتے ہیں ، اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان امور میں اصابت پر تھے ، اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے لیئے ان معاملات میں دو اجر ہیں ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے جو صادر ہوا وہ ان کے اجتہاد کی بنیاد پر تھا ان کے لیئے ایک اجر ہے ، نہ ان کو فاسق قرار دیا جائے گا اور نہ ہی بدعتی ۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ ان کے لیئے اللہ تعالی نے فرمایا : اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ۔ اور یہ ارشاد فرمایا : بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انھیں جلد آنیوالی فتح کا انعام دیا ‘ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے جب حاکم اجتہاد کرے اور اس میں اصابت پر ہو تو اس کے لیئے دو اجر ہیں ، اور جو اجتہاد کرے اور اس میں خطا کرے ، تو اس کے لیئے اجر ہے ۔ جب ہمارے وقت میں حاکم کے لیئے اس کے اجتہاد پر دو اجر ہیں تو پھر ان کے اجتہاد پر تمہارا کیا گمان ہے جن کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا : رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ ۔ (الانصاف فی ما یجب اعتقاده صفحہ نمبر 64،چشتی)

حضور سیدنا غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 561ھجری) فرماتے ہیں : اہل سنت صحابہ علیہم الرضوان کے آپس کے معاملات میں کف لسان ، ان کی خطاؤں کے بیان سے رکنے اور ان کے فضائل ومحاسن کا اظہار کرنے پر اور جو معاملہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرات طلحہ وعائشہ ومعاویہ رضی اللہ تعالی عنہم کے مابین اختلاف ہوا اس کو اللہ تعالی کے سپرد کرنے پر متفق ہیں جیسا کہ ہم ماقبل میں بیان کرچکے ہیں اور ان میں ہر فضل والے کو اس کا فضل دینے پر متفق ہیں ۔ (الغنية لطالبي طريق الحق عز وجل صفحہ نمبر 163)

مسلمانانِ اہلسنّت سے گزاراش ہے آپ کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کی محبت آپ کی تعریف بیان کرنا ہی اہلسنت کا عقیدہ ہے ۔ یہی عقیدہ متکلمین ، فقہا اور صوفیہ کے اکابر آئمہ علیہم الرّحمہ کا رہا ہے ۔ اسی پر گامزن رہیں ۔

کفِ لسان کے فریب کا جواب
کف لسان کا حکم صرف مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہے نہ کہ فضائل بیان کرنے میں نہیں ! اگر فضائل بیان کرنے میں کف لسان کا حکم ہوتا تو صحابہ کرام علیھم الرضوان سے لے کرآج تک کوئی بھی آپ کے فضائل بیان نہ کرتا ۔ جب کہ صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین ، فقہا و متکلمین ، مجددین ، صوفیہ و صالحین اور علمائے ربانیین علیہم الرّحمہ نے آپ کے فضائل بیان کیئے ۔ آپ کی شان میں مستقل کتابیں لکھیں گئیں ، اورکتب اسلامیہ میں ابواب باندھے گئے ۔
ادارہ منہاج القرآن کے عظیم مفتی جناب مفتی عبد القیوم خان قادری صاحب لکھتے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے جلیل القدر صحابی ، کاتب وحی اور اس امت کے ماموں ہیں ان کی شان میں کوئی مسلمان گستاخی نہیں کر سکتا ناصبی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اور رافضی حضرت امیر معاویہ و دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں دونوں غلط ہیں ۔ (ماہنامہ منہاج القرآن جنوری 2013 ،چشتی) منہاج کے پردے میں چھپے بعض سنی نما رافضیوں کےلیئے مفتی منہاج القرآن کا فتویٰ قابل غور ہے ۔
وہ کون سا سُنی ہے جو حضرت سیدنا مولا علی کرّم اللہ وجھہ الکریم کے مقام رفیع سے آگاہ نہ ہو ……….. ، بات صرف اتنی ہے کہ بعض لوگ سنیوں کو مولا علی پاک علیہ السّلام کے نام پر بلیک میل کرنا چاہتے ہیں ، جیسے کہ بعض لوگ اپنے دھرنے میں امام حسین علیہ السّلام اور یزید ملعون کے نام پر لوگوں کو بلیک میل کرتے رہے ۔ ان کا مقصد صرف ذکر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روکنا اور صحاح کی اس حدیث : لاتذکروا معاویۃ الا بخیر ”
کی مخالفت کرنا ہے ؛ چاہے انہیں کرنا پڑے ۔
معترضین سے گزارش ہے کہ امام نبھانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب اسالیب البدیعہ پڑھیں ، تاکہ ان کا زاویہ نظر درست ہوسکے ، اور یہ جان سکیں کہ علمائے امت نے صرف تکفیر وتفسیق سے ہی منع نہیں کیا ، کچھ اور بھی کہا ہے ۔
منہاج القرآن کے شیخُ الاِسلام جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب فرماتے ہیں کہ : صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے ذکر پر جس کی پیشانی پر بَل پڑ جائیں تو یہ بھٹکے ہو ئے لوگوں کی پہچان ہے جو راہ اعتدال چھوڑ چکے ہیں ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 263 ، ڈاکٹر محمد طاہر القادری شیخ الاسلام منہاج القرآن،چشتی)
منہاج القرآن کے شیخُ الاِسلام جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب مزید بیان فرماتے ہیں کہ : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف کفر منسوب کرنے والا ان کو گالی دینے والا اشارہ یا کنایہ سےتو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 270 ) ۔
منہاج القرآن کے شیخُ الاِسلام جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب مزید بیان فرماتے ہیں کہ : فرمان حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہوشیار میرے حق میں دو گروہ ہلاک ہونگے ایک محبت میں میرا مرتبہ بڑھانے والے دوسرے بغض رکھنے والے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 262 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب) ۔
منہاج القرآن کے شیخُ الاِسلام جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب مزید بیان فرماتے ہیں کہ : ہمارا مطالبہ ہے گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم اور گستاخِ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کو پھانسی دی جائے ایسے شیطان کو جینے کا حق نہیں ہے ۔ (فلسفہ شہادت صفحہ نمبر 271 ، شیخ الاسلام منہاج القرآن )
جنابِ من آج منہاج القرآن کے شیخُ الاِسلام جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کے بیانات کی روشنی میں ہمارا بھی یہی مطالبہ ہے کہ صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کو پھانسیاں دی جائیں کیا فرماتے ہیں آپ جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب اور آپ کے فلاورز اس سلسلہ میں ؟ یاد رہے آپ خود اور آپ کے ادارہ کے مفتی صاحب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جلیل القدر صحابی مانتے ہیں ؟ ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299521205617259/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25722
حُبِّ مولا علی کی آڑ میں امیر معاویہ (رضی اللہ عنہما) کی توہین کرنے والوں کے نام
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299521205617259/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299985498904163/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زندہ باد اکابرینِ اُمّت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت پیر سید محمد مقصود علی شاہ بخاری رحمة الله علیہ متوفٰی ١٩٨٨ء کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب " جمال مقصود " میں درج ہے کہ : ایک مرتبہ آپ رحمة الله علیہ کی مجلس عالیہ میں جنگ جمل کا تذکرہ ہوا آپ نے فرمایا : کہ میرا گزر اس میدان سے ہوا جہاں یہ جنگ لڑی گئی ۔ دوسرے لوگوں کی طرح میرے دل میں بھی خیال آیا کہ یہ جنگ کیوں اور کیسے لڑی گئی؟ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک بڑی گرج دار آواز مجھے سنائی دی کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے " خبر دار اس بارے میں دوبارہ نہ سوچنا ورنہ ایمان کی دولت سے محروم ہو جاؤ گے ۔ (جمال مقصود ، صاحںزادہ سید محمد عبد الرزاق شاہ بخاری ، باب چھارم ، تحت " جنگ جمل ، ص 237 ، مطبوعة دار الکتب مقصودیہ غوثیہ ، کوٹ گلہ شریف تلہ گنگ ضلع چکوال ، طبع اول ۱٤٣٧ه‍/٢٠١٦ء)

حضرت امام ابو اسحاق ابراھیم بن علی بن یوسف بن عبد الله فیروز آبادی الشیرازی رحمة الله علیہ متوفٰی٤٧٦ه‍ ایک سوال کا جواب دیتے ہوۓ لکھتے ہیں :

سوال : اگر کہا جائے کہ حضرت علی المرتضی اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما کے درمیان جو اختلاف و نزاع ہوا اس میں حق ان کے ساتھ تھا جو ان دونوں سے تعلق رکھتے تھے ؟

جواب : ان کو جواب دیا جائے گا کہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے ۔ پس کچھ کہتے ہیں کہ حق حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کے ساتھ تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : علی حق پر ہیں اور حق علی کے ساتھ جہاں پھریں ۔ کچھ علماء فرماتے ہیں : کہ ان دونوں میں سے ہر ایک مجتہد مصیب تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہر مجتہد مصیب ہے ۔ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما کا اختلاف اصول میں نہ تھا ۔ بلکہ ان کا اختلاف فروع میں تھا ۔جیسے امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہما الله کا اختلاف تھا ۔ لوگ اس مسئلہ میں دو قول پر ہیں ۔ کچھ کہتے ہیں کہ حق ایک جہت میں تھا ۔ اور اس جہت میں مخالف مخطئ تھا جس کیلئے ایک اجر تھا مگر اس کی خطا اسے کفرو فسق تک نہ لے جانے والی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص (کسی مسئلہ میں) اجتہاد کرے اور صحیح فیصلہ تک پہنچ جائے تو اس کیلئے دو اجر ہیں اور جو اجتہاد کرے اور صحیح فیصلے تک نہ پہنچے چوک جائے تو اس کیلئے ایک اجر ہے ان ائمہ میں سے بعض کہتے ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک خیر پر ہونے کے باعث مصیب تھا انہوں نے حضرت علی المرتضی اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہما کے معاملہ کو اس پر محمول کیا اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ خلیفہ تھے اور وہ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے چچا زاد تھے ۔ انہیں ظلم سے قتل کیا گیا ان کے بعد خلافت کی زمام کار حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم کے ہاتھ آئی پس حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ان کے پاس خون عثمان کا مطالبہ لے کر آئے ۔ تو حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ نے پوچھا کس نے عثمان کو قتل کیا ۔ تو پیچھے رہ جانے والے تمام لوگ اٹھ کھڑے ہوئے پس ان کا اجتہاد اس وقت قاتلین کو اس وقت ترک کرنے (یعنی کچھ نہ کہنے) کا ہوا کیونکہ ان سب سے لڑنا ممکن نہ تھا حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کو خدشہ ہوا کہ خود انہیں نہ قتل کر دیں ۔جیسے انہوں نے عثمان کو قتل کیا ۔ پس جب ان سے تعرض نہ کیا تو حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں نے گمان کیا کہ حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ اور ان کے ساتھیوں نے امامت کی شرطوں میں سے ایک شرط ترک کی ۔ کیونکہ امامت کی شرط اہل حق کیلے حقوق کا کامل حصول ہے ۔ پھر جب حقوق پورے نہ لئے تو شروط امامت میں سے ایک شرط ترک کر دی اور امامت باطل ہو گئی ۔ جب کہ فی الوقت امام و حاکم کا ہونا ضروری ہے پس اس اجتہاد سے انہوں نے معاویہ کو حاکم بنایا ۔ پس ان میں سے ہر ایک مجتہد اپنے اجتہاد میں مصیب تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کے درمیان ایسا معاملہ نہ ہوا جو کفر و فسق پر منتج ہو ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنہ جب کافروں سے قتال فرماتے تو خوشی مسرت کا اظہار فرماتے ۔ جب کہ معاویہ کے ساتھ پیکار میں دکھ اورغم کا ظہور ہوا یہاں تک کہ جاں بلب ہو گئے ۔ ابو الحسن علی المرتضی رضی الله عنہ فرماتے ہیں : یہ سب ہمارے درمیان ہوا میں اپنے دکھ اور پریشانی کا شکوہ بارگاہ خداوندی میں کرتا ہوں کاش میں بیس سال پہلے جام موت پی لیتا ۔ آپ اپنے ساتھیوں سے فرماتے : پیٹھ دینے والے کا تعاقب نہ کیا جائے زخمی کو قتل نہ کیا جائے ۔ اگر محاربین سے کوئی بات کفر و فسق تک پہنچانے والی بات پاتے تو اپنے ساتھیوں کو اس کا حکم نہ دیتے ۔ ہمارے اصحاب فرماتے ہیں : حضرت علی المرتضی
1
رضی الله عنہ مجتہد مصیب تھے ان کیلئے دو اجر ہیں جب کہ حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ مجتہد مخطئ تھے ان کیلئے ایک اجر ہے ۔ اس مسئلہ میں واجب یہ ہے کہ ان کے درمیان وقوع پذیر اختلافات میں زبان روکی جائے اور ان کےمحاسن یعنی خوبیوں کا ذکر کیا جائے ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : عنقریب میرے اصحاب کے درمیان خرابی پیدا ہوگی ۔ جسے الله تعالی ان کی سابقہ نیکیوں کے سبب معاف فرما دے گا ۔ پس تم ان کے اختلافات میں نہ پڑو ۔ بخدا تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا راہ خدا میں خرچ کرے تو ان کے ایک یا نصف مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ۔ (الإشارة الى مذهب اهل الحق لامام ابى اسحاق الشيرازى تحت " ترتیب الصحابة فی الفضل صفحہ 184 تا 188 ، مطبوعة المجلس الاعلى للشئون الاسلامية وزارة الاوقاف،چشتی)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمة الله علیہ متوفی ۱۰۵۲ھ فرماتے ہیں : تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قطعی طور پر جنتی ہیں اس (یعنی ان کو جہنمی کہنے) سے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان لازم آتی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پوری انسانیت کی طرف مبعوث فرمایا گیا ان کی راہنمائی فرمانا اور انہیں کفر و ضلالت سے نکالنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا مقصد ہے ، اس سے یہ لازم آئے گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام میں چھ یا سات کے علاوہ سب کے سب ہدایت نہ پا سکے اور نہ ان کا ایمان ہے خاتمہ ہوا ، ایسے کلمات ادا کرنے سے ہم الله تعالی کی پناہ مانگتے ہیں ۔ اس لیے اہل سنت و جماعت کا اجماع ہے کہ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ تمام صحابہ کرام کا تزکیہ کرے ان کو عادل قرار دے ، ان کو برا بھلا کہنے اور ان پر طعن کرنے سے باز رہے اور ان کی مدح و ستائش کرے ، کیونکہ الله تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو عادل قرار دیا ہے ان کا تزکیہ کیا اور ان کی تعریف بیان فرمائی ۔ اور اسی کی مثل حضرت شہاب الدین عمر سہروردی رحمة الله علیہ نے اپنی کتاب " اعلام الہدی " میں فرمایا : اے خواہش نفس اور تعصب سے پاک لوگو! یہ بات ذہن نشین رکھو کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم پاکیزہ نفسی اور صاف دلی کے باوجود انسان تھے ۔ ان کے بھی نفس تھے اور نفسوں کی کچھ صفات ایسی ہیں جو ظاہر ہوتی ہیں ۔ اس لیے اگر ان کے نفسوں سے کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی جو دلوں کےلیے ناگوار ہوتی تو وہ دلوں کی طرف رجوع کر کے ان کا فیصلہ مانتے اور نفسانی خواہشات سے کنارہ کشی کرتے ۔ (لمعات التنقیح فى شرح مشكاة المصابيح ، العلامة المحدث عبد الحق الده‍لوى ، کتاب المناقب ، تحت " باب مناقب الصحابة ، ، جلد 9 صفحہ 579 ، مطبوعة دار النوادر ، طبع اول ١٤٣۵ھ/۲٠١٤ء)

حضرت امام اكمل الدين محمد بن محمد البابرتى رحمة الله عليہ متوفٰی۷۸٦ھ فرماتے ہیں : ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور ان میں کسی ایک کی محبت میں افراط نہیں کرتے ، نہ ہی ان میں کسی سے بیزاری کرتے ہیں ۔ ہم ان سے بغض رکھتے ہیں جو ان سے بغض رکھے اور ان کے بارے میں برا ذکر کرے ۔ ہم ان کا ذکر صرف خیر کے ساتھ کرتے ہیں ۔ ان کی محبت دین ہے ، ایمان ہے اور احسان ہے اور ان کے ساتھ بغض کفر ہے نفاق ہے اور سرکشی ہے ۔ ہم ان سے محبت اس لیے کرتے ہیں کہ الله ان سے راضی وہ الله سے راضی ہیں ۔ اور ان کی شان تورات ، انجیل اور قرآن مجید میں اس طرح بیان فرمائی : محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الله کے رسول ہیں ، جو ان کے اصحاب ہیں ، کفار پر بہت سخت ہیں ، آپس میں نرم دل ہیں (اے مخاطب) تو ان کو رکوع کرتے ہوئے ، سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے ، وہ الله کا فضل اور اس کی رضا طلب کرتے ہیں ، سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر نشانی ہے ، ان کی یہ صفات تورات میں ہیں ۔ صحابہ کرام نے غلبہ دین اور اعلائے کلمة الله کےلیے پوری کوششیں کیں محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں وطن چھوڑے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ٹھکانہ دیا آپ کی نصرت و حمایت کی اور آپ کے سامنے جانبازی کی پس ان کی محبت واجب ہوئی ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے معاملہ میں الله سے ڈرو میرے بعد انہیں ہدف تنقید نہ بنانا ، جس نے ان سے محبت کی ، تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے ساتھ بعض کی بنا پر ان سے بغض رکھا اور جس نے ان ایذاء پہنچائی ، اس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، جس نے مجھے ایذاء پہنچائی ، گویا اس نے الله تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی اور جس نے الله تعالی کو ایذاء پہنچائی تو وہ دوزخ کا زیادہ حق دار ہے ۔ یہ کہ ہم اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے کسی کی محبت میں افراط و غلو نہیں کرتے ۔ کیونکہ کسی چیز میں افراط فساد اور دوسروں کیلئے بغض و عداوت کا موجب ہوتا ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ روافض نے سیدنا علی رضی الله عنہ کی محبت میں افراط و غلو کیا تو
حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی الله عنہم کی تنقیص و عداوت میں پڑ گئے الله تعالی ہمیں اس سے پناہ عطا فرمائے ۔ ان روافض نے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی شان میں الوہیت و نبوت کا دعویٰ کیا ۔ جیسا کہ غالی روافض کا عقیدہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ سے فرمایا : تیری وجہ سے دو جماعتیں ہلاک ہوں گی ایک وہ جو بغض میں افراط سے کام لے گی دوسری جو تیری محبت میں غلو کرے گی ۔ اور جیسا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھی فرمان ہے بیشک خوارج آپ کے بغض میں افراط سے کام لے کر ہلاک ہوں گے جیسا کہ روافض آپ کی محبت میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔ جہاں تک ان سے برآت یعنی بیزاری کا تعلق ہے تو یہ کجروی اور گمراہی ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی الله عنہم منہج قویم اور دین مستقیم (پختہ اور سیدھے راستے اور دین) پر تھے ہدایت ان کی اقتداء سے وابستہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سلسلہ میں فرمایا : میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے ۔ لہذا ان سے تبری اور بیزاری عدم اھتداء ہے اور یہی گمراہی ہے ہم ان بدبختوں سے عداوت رکھتے ہیں جو ان سے کینہ اور بغض رکھتے ہیں ۔ دراصل صحابہ کرام سے بغض ان کے دین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو الله تعالی نے ان کیلئے پسند فرمایا اور منتخب کیا ہے ۔ الله تعالی نے فرمایا : اور میں نے اسلام بطور دین تمہارے لئے پسند فرمایا ۔ صحابہ کرام سے بغض ، خبث عقیدہ کی دلیل ہے اور نفاق و فساد کا نتیجہ ہے پس ان لوگوں سے عداوت رکھنا اور برائی سے ان کا ذکر کرنا واجب ہے جو صحابہ کرام سے عداوت رکھتے ہیں ۔ ہم صحابہ کرام رضی الله عنہم کے باہمی اختلافات و مشاجرات میں نہیں پڑتے ان اختلافات کو ہم اجتہاد ہر محمول کرتے ہیں اور ان کاذکر صرف بھلائی سے کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ دین کے اصول یعنی جڑیں ہیں ۔ پس ان میں طعن دراصل دین میں طعن ہے اور ان کی محبت دین ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض اور کینہ کفر نفاق اور طغیان ہے اور یہ سب ضروریات شرع سے ظاہر ہے ۔ (شرح عقيدة اهل السنة و الجماعة ، لامام اكمل الدين محمد بن محمد البابرتى ، تحت " القول في حب أصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، صفحہ نمبر 141 تا 142 ، مطبوعة وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية سلسلة الرسائل التراثية ، طبع اول ١٤٠٩ه‍/١٩٨٩ء،چشتی)

حضرت امام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی رحمة الله علیہ متوفی ۷٤٨ه‍ فرماتے : صحیحین میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : الله تعالی فرماتا ہے : جو شخص میرے کسی دوست سے دشمنی کرتا ہے میں اسے لڑائی کا چیلنج کرتا ہوں ۔ اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو ان میں سے ایک مد اور اس کے نصف کو نہیں پہنچ سکتا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میرے صحابہ کے بارے میں الله تعالی سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بنانا پس جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، اور جس نے ان کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ، اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے الله تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی جس نے الله تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی عنقریب اس کی گرفت فرمائے گا ۔ اس حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث میں ان لوگوں کی حالت بیان کی گئی ہے جنہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کو نشانہ بنایا ان کو گالیاں دی ان پر جھوٹ باندھا ، ان کو عیب لگایا ان کو خلافت قرار دیا اور ان پر جرأت کا مظاہرہ کیا ۔ کلمہ " الله الله " ڈرانے کے لیے جس طرح اس شخص کو ڈرایا جاتا ہے کہا جاتا ہے " السار " یعنی آگ سے بچو اور ڈرو ۔ لا تتخذوهم غرضاً بعدي " تک یہ عبارت صحابہ کرام کے فضائل مناقب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ صحابہ کرام سے محبت کی بنیاد یہ ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ ہیں ۔ انہوں نے آپ کی مدد کی ، آپ پر ایمان لائے ، آپ کی تعظیم کی اور جان و مال کے ذریعے آپ کی غمخواری کی ۔ پس جس نے ان سے محبت کی اس نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کی تو صحابہ کرام کی محبت ، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا عنوان ہے اور ان سے بغض رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض کا عنوان ہے صحیح حدیث میں ہے : انصار سے محبت ایمان ہے اور ان سے بغض منافقت سے ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایمان میں سبقت کی اور رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے الله تعالی کے دشمنوں سے جہاد کیا ۔ اسی طرح حضرت علی المرتضی رضی الله عنہ کی محبت ایمان اور ان سے بغض منافقت کی علامت ہے ۔ صحابہ کرام کے