Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/300000272236019/
کَفِ لسان کا حکم ۔ تفضیلیوں نیم رافضیوں کے فریب کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : کَفِ لسان کا حکم صرف مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہے ، فضائل بیان کرنے میں نہیں ۔ اگر فضائل بیان کرنے میں کَفِ لسان کا حکم ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کرآج تک کوئی بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان نہ کرتا ۔ جب کہ صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین ، فقہا و متکلمین ، مجددین ، صوفیہ و صالحین اور علماے ربانیین نے آپ کے فضائل بیان کیے ۔ آپ کی شان میں مستقل کتابیں لکھیں گئیں ، اورکتب اسلامیہ میں ابواب باندھے گئے ۔ یہ عقیدہ تو اہلسنت کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا. ائمہ متقدمین ومتأخرین نے تو آپ کے فضائل میں کتابیں لکھی ہیں ۔ حافظ ابو بکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ تعالی متوفی ۲۸۱ھ نے حلم معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے کتاب لکھی ۔
امام محدث ابو عمر محمد بن عبد الواحد غلام ثعلب رحمہ اللہ تعالی متوفی ۳۴۵ ھ شیخ القراء ابو بکر النقاش البغدادی متوفی ۳۵۱ نے فضائل معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر کتابیں لکھیں ۔
ابو القاسم السقطی رحمہ اللہ تعالی متوفی ۴۰۶ ھ نے فضائل معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر ایک جزء لکھا ۔
متاخرین میں اہل سنت کے متفقہ امام یعنی امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ تعالی نے پانچ کتب لکھیں : البشرى العاجلة من تحف أجله... الأحاديث الراوية لمدح الأمير معاوية .... عرش الإعزاز والإكرام لأول ملوك الإسلام. ذب الأهواء الواهية في باب الأمير معاوية.. رفع العروش الخاوية من أدب الأمير معاوية ۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی نے فضائل الصحابہ میں اور امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے جامع ترمذی میں مناقب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا باب باندھ کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں حدیثیں ذکر کیں ۔ اسی طرح دیگر محدثین نے اپنی کتب میں آپ کے مناقب پر باب باندھے تراجم یعنی حالات زندگی کی کتب میں آپ کے فضائل ذکر کیے گئے ۔
کتب عقائد میں تو یہ ہے کہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں سکوت کیا جائے گا ۔ یہ تو کسی عقیدے کی کتاب میں نہیں لکھا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل کو بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا ۔ چودہ سو سال کا عقیدہ جو اہلسنت کا ہے وہ تو اوپر کی کتب سے ہر ایک جان سکتا ہے ۔ یہ بالکل نیا عقیدہ بنایا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا ۔
حافظ مہنا رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی سے عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ والی اس حدیث کے بارے میں سوال کیا جو معاویہ بن صالح کی سند سے مروی ہے ، جس میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مبارک ناشتے کی طرف بلایا اور میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ اس کو یعنی معاویہ کو کتاب وحساب کا علم سکھا اور عذاب سے بچا ۔ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہاں یہ حدیث ہے اور یہ حدیث ہمیں عبد الرحمن بن مھدی نے معاویہ بن صالح کے طریق سے بیان کی ہے ، مہنا کہتے ہیں میں نے کہا : اہل کوفہ تو اس حصے : ان (معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ) کو کتاب اور حساب کا علم سکھا کو ذکر نہیں کرتے ، کیا وہ یہ اس میں قطع و برید کرتے ہیں ؟
امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : عبد الرحمن بن مہدی اس حصے کو (ان کے سامنے) بیان ہی نہیں کرتے تھے، وہ اس حصے کو صرف مجھے ہی بیان کیا کرتے تھے ۔ (یعنی یہ فضیلت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اہل کوفہ کے سامنے بیان کرنا ممکن ہی نہیں تھا ، اگر ان کے سامنے کے بیان کرتے تو فتنہ برپا ہوجاتا اس لیے وہ میرے سامنے ہی بیان کرتے تھے ۔ (المنتخب من العلل للخلال للإمام ابن القدامة المقدسي صفحه ٢٣٤ رقم ١٤١ طبع دار الرأية،چشتی)
دشمنانِ دین نے بھی سب سے پہلے اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ان کے مقدس کردار کو داغدار کرنے کے لیئے ہر قسم کے حربے اختیار کیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور امت کے درمیان کا یہ واسطہ کمزور پڑجائے اور یوں بغیر کسی محنت کے اسلام کا یہ دینی سرمایا خود بخود زمین بوس ہوجائے ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے بغض و عناد کے اظہار اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بھی ان دشمنان دین نے اصحاب محمد رضی اللہ عنہم و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ہی ہدف تنقید بنایا ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/300000272236019/
کَفِ لسان کا حکم ۔ تفضیلیوں نیم رافضیوں کے فریب کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : کَفِ لسان کا حکم صرف مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہے ، فضائل بیان کرنے میں نہیں ۔ اگر فضائل بیان کرنے میں کَفِ لسان کا حکم ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کرآج تک کوئی بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان نہ کرتا ۔ جب کہ صحابہ ، تابعین ، تبع تابعین ، فقہا و متکلمین ، مجددین ، صوفیہ و صالحین اور علماے ربانیین نے آپ کے فضائل بیان کیے ۔ آپ کی شان میں مستقل کتابیں لکھیں گئیں ، اورکتب اسلامیہ میں ابواب باندھے گئے ۔ یہ عقیدہ تو اہلسنت کی کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا. ائمہ متقدمین ومتأخرین نے تو آپ کے فضائل میں کتابیں لکھی ہیں ۔ حافظ ابو بکر بن ابی الدنیا رحمہ اللہ تعالی متوفی ۲۸۱ھ نے حلم معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے کتاب لکھی ۔
امام محدث ابو عمر محمد بن عبد الواحد غلام ثعلب رحمہ اللہ تعالی متوفی ۳۴۵ ھ شیخ القراء ابو بکر النقاش البغدادی متوفی ۳۵۱ نے فضائل معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر کتابیں لکھیں ۔
ابو القاسم السقطی رحمہ اللہ تعالی متوفی ۴۰۶ ھ نے فضائل معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر ایک جزء لکھا ۔
متاخرین میں اہل سنت کے متفقہ امام یعنی امام اہل سنت امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ تعالی نے پانچ کتب لکھیں : البشرى العاجلة من تحف أجله... الأحاديث الراوية لمدح الأمير معاوية .... عرش الإعزاز والإكرام لأول ملوك الإسلام. ذب الأهواء الواهية في باب الأمير معاوية.. رفع العروش الخاوية من أدب الأمير معاوية ۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی نے فضائل الصحابہ میں اور امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے جامع ترمذی میں مناقب معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا باب باندھ کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت میں حدیثیں ذکر کیں ۔ اسی طرح دیگر محدثین نے اپنی کتب میں آپ کے مناقب پر باب باندھے تراجم یعنی حالات زندگی کی کتب میں آپ کے فضائل ذکر کیے گئے ۔
کتب عقائد میں تو یہ ہے کہ مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم میں سکوت کیا جائے گا ۔ یہ تو کسی عقیدے کی کتاب میں نہیں لکھا کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل کو بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا ۔ چودہ سو سال کا عقیدہ جو اہلسنت کا ہے وہ تو اوپر کی کتب سے ہر ایک جان سکتا ہے ۔ یہ بالکل نیا عقیدہ بنایا گیا ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل بیان کرنے سے سکوت کیا جائے گا ۔
حافظ مہنا رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں : میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی سے عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ والی اس حدیث کے بارے میں سوال کیا جو معاویہ بن صالح کی سند سے مروی ہے ، جس میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں مبارک ناشتے کی طرف بلایا اور میں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : اے اللہ اس کو یعنی معاویہ کو کتاب وحساب کا علم سکھا اور عذاب سے بچا ۔ امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہاں یہ حدیث ہے اور یہ حدیث ہمیں عبد الرحمن بن مھدی نے معاویہ بن صالح کے طریق سے بیان کی ہے ، مہنا کہتے ہیں میں نے کہا : اہل کوفہ تو اس حصے : ان (معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ) کو کتاب اور حساب کا علم سکھا کو ذکر نہیں کرتے ، کیا وہ یہ اس میں قطع و برید کرتے ہیں ؟
امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا : عبد الرحمن بن مہدی اس حصے کو (ان کے سامنے) بیان ہی نہیں کرتے تھے، وہ اس حصے کو صرف مجھے ہی بیان کیا کرتے تھے ۔ (یعنی یہ فضیلت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اہل کوفہ کے سامنے بیان کرنا ممکن ہی نہیں تھا ، اگر ان کے سامنے کے بیان کرتے تو فتنہ برپا ہوجاتا اس لیے وہ میرے سامنے ہی بیان کرتے تھے ۔ (المنتخب من العلل للخلال للإمام ابن القدامة المقدسي صفحه ٢٣٤ رقم ١٤١ طبع دار الرأية،چشتی)
دشمنانِ دین نے بھی سب سے پہلے اصحاب رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ ان کے مقدس کردار کو داغدار کرنے کے لیئے ہر قسم کے حربے اختیار کیے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اور امت کے درمیان کا یہ واسطہ کمزور پڑجائے اور یوں بغیر کسی محنت کے اسلام کا یہ دینی سرمایا خود بخود زمین بوس ہوجائے ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے بغض و عناد کے اظہار اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بھی ان دشمنان دین نے اصحاب محمد رضی اللہ عنہم و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ہی ہدف تنقید بنایا ۔
❤1
مدینہ طیبہ کے گورنر عبداللہ بن مصعب فرماتے ہیں کہ خلیفہ مہدی نے مجھ سے پوچھا کہ جو لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کرتے ہیں ان کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا : وہ زندیق ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص کرنے کی تو ان میں ہمت نہ تھی انہوں نے اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم و صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص بیان کرنا شروع کردی ۔ گویا وہ یوں کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم برے لوگوں کے ساتھ رہتے تھے ۔ (تعجیل المنفعۃ :ص271) ۔ (خطیب بغدادی (م463ھ) نے یہی واقعہ کچھ تفصیل سے تاریخ بغداد (ج8ص220) میں بیان کیا ہے ۔
اس تفصیل سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بارے میں لب کشائی کا پس منظر واضح ہوجاتا ہے مگر دشمنان اسلام اپنی تمام تدبیروں کے باوجود اس میں کامیاب نہ ہوسکے اور اللہ کے مقرر کردہ اس طبقہ کی عدالت و صداقت کو داغدار نہ کرسکے اور محدثین عظام اور فقہاء کرام نے بیک زبان ”الصحابۃ کلہم عدول“ کی ایسی صدا بلند کی کہ اس کے مقابلے میں تمام کوششیں ہیچ ثابت ہوئیں ۔ اوائل میں اسلام دشمنی کے اس محاذ پر ابن سبا کی ذریت تھی ، رفتہ رفتہ اس میں بعض فرقوں نے بھی حصہ لیا ۔
آخری دور میں مستشرقین اور ان کی معنوی اولاد نے بھی اس میں بھرپور کردار ادا کیا مگر علمائے حق نے ہر دور میں اس فتنہ کا تعاقب کیا اور دفاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حق ادا کیا ۔
مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ائمہ حضرات کی آراء
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (م150ھ) کا موقف : حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی من جملہ تصانیف میں ایک کتاب ”الفقہ الاکبر“بھی ہے ۔ اس کتاب میں آپ فرماتے ہیں : تولاہم جمیعا . ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ایک نسخہ میں آخری الفاظ یوں ہیں : ولا نذکر احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم الابخیر . ہم سب صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے بغیر نہیں کرتے ۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس کے شرح میں رقم طراز ہیں : یعنی وان صدر علی بعضہم بعض ماہو فی الصورۃ شر فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علی وجہ فساد من احرار و عناد بل کان رجوعہم عنہ الی خیر میعاد بناء علی حسن ظن بہم ۔ (شرح الفقہ الاکبر ص153 اردو مکتبہ رحمانیہ لاہور،چشتی)
یعنی گو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صورۃً شر صادر ہوا ہے مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بناء پر ایسا ہوا اور ان کا شر سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ان سے حسن ظن کا بھی یہی تقاضا ہے ۔
الفقہ الاکبر کے ایک اور شارح علامہ ابو المنتہی احمد بن محمد المگنیساوی لکھتے ہیں : اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ والثناء علیہم کما اثنی اللہ ورسولہ علیہم وما جری بین علی و معاویۃ کان مبنیا علی الاجتہاد ۔ (شرح الفقہ الاکبر مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعہ حیدر آباد دکن 1948،چشتی)
اہل سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم و تکریم کی جائے اور ان کی اسی طرح تعریف کی جائے جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے اور جو حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان لڑائی ہوئی وہ اجتہاد کی بناء پر تھی ۔
امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ (م181ھ) کا فرمان : مشہور محدث ، فقیہ ، مجاہد اور زاہد امام عبداللہ بن مبارک اس سلسلے میں کس قدر محتاط تھے ، اس کا اندازہ ان کے حسب ذیل قول سے لگایا جا سکتا ہے ، فرماتے ہیں : السیف الذی وقع بین الصحابۃ فتنۃ ولا اقول لاحد منہم مفتون ۔ (السیر جلد 8 صفحہ 405،چشتی)
ترجمہ : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین چلنے والی تلوار فتنہ تھی مگر میں ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے تھے ۔
امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (اس پاک فرقہ اہل سنّت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور ) اتنا یقین کرلیا کہ سب ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) اچھے اور عدل و ثقہ ، تقی ، نقی ابرار (خاصانِ پروردگار ) ہیں ۔ اوران ( مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہے، نظیر اس کی عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہے کہ اہلِ حق ( اہلِ اسلام ، اہلسنت وجماعت) شاہراہِ عقیدت پر چل کر ( منزل) مقصود کو پہنچے ۔ اور ارباب ( غوایت واہل) باطل تفصیلوں میں خوض ( و ناحق غور) کرکے مغاک ( ضلالت اور) بددینی ( کی گمراہیوں) میں جا پڑے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 58،چشتی)
اس تفصیل سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بارے میں لب کشائی کا پس منظر واضح ہوجاتا ہے مگر دشمنان اسلام اپنی تمام تدبیروں کے باوجود اس میں کامیاب نہ ہوسکے اور اللہ کے مقرر کردہ اس طبقہ کی عدالت و صداقت کو داغدار نہ کرسکے اور محدثین عظام اور فقہاء کرام نے بیک زبان ”الصحابۃ کلہم عدول“ کی ایسی صدا بلند کی کہ اس کے مقابلے میں تمام کوششیں ہیچ ثابت ہوئیں ۔ اوائل میں اسلام دشمنی کے اس محاذ پر ابن سبا کی ذریت تھی ، رفتہ رفتہ اس میں بعض فرقوں نے بھی حصہ لیا ۔
آخری دور میں مستشرقین اور ان کی معنوی اولاد نے بھی اس میں بھرپور کردار ادا کیا مگر علمائے حق نے ہر دور میں اس فتنہ کا تعاقب کیا اور دفاع صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حق ادا کیا ۔
مشاجراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ائمہ حضرات کی آراء
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (م150ھ) کا موقف : حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی من جملہ تصانیف میں ایک کتاب ”الفقہ الاکبر“بھی ہے ۔ اس کتاب میں آپ فرماتے ہیں : تولاہم جمیعا . ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ایک نسخہ میں آخری الفاظ یوں ہیں : ولا نذکر احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم الابخیر . ہم سب صحابہ رضی اللہ عنہم سے محبت کرتے ہیں اور کسی بھی صحابی کا ذکر بھلائی کے بغیر نہیں کرتے ۔
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس کے شرح میں رقم طراز ہیں : یعنی وان صدر علی بعضہم بعض ماہو فی الصورۃ شر فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علی وجہ فساد من احرار و عناد بل کان رجوعہم عنہ الی خیر میعاد بناء علی حسن ظن بہم ۔ (شرح الفقہ الاکبر ص153 اردو مکتبہ رحمانیہ لاہور،چشتی)
یعنی گو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے صورۃً شر صادر ہوا ہے مگر وہ کسی فساد یا عناد کے نتیجہ میں نہ تھا بلکہ اجتہاد کی بناء پر ایسا ہوا اور ان کا شر سے رجوع بہتر انجام کی طرف تھا ان سے حسن ظن کا بھی یہی تقاضا ہے ۔
الفقہ الاکبر کے ایک اور شارح علامہ ابو المنتہی احمد بن محمد المگنیساوی لکھتے ہیں : اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ والثناء علیہم کما اثنی اللہ ورسولہ علیہم وما جری بین علی و معاویۃ کان مبنیا علی الاجتہاد ۔ (شرح الفقہ الاکبر مطبوعہ مجموعۃ الرسائل السبعہ حیدر آباد دکن 1948،چشتی)
اہل سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم و تکریم کی جائے اور ان کی اسی طرح تعریف کی جائے جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کی ہے اور جو حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان لڑائی ہوئی وہ اجتہاد کی بناء پر تھی ۔
امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ (م181ھ) کا فرمان : مشہور محدث ، فقیہ ، مجاہد اور زاہد امام عبداللہ بن مبارک اس سلسلے میں کس قدر محتاط تھے ، اس کا اندازہ ان کے حسب ذیل قول سے لگایا جا سکتا ہے ، فرماتے ہیں : السیف الذی وقع بین الصحابۃ فتنۃ ولا اقول لاحد منہم مفتون ۔ (السیر جلد 8 صفحہ 405،چشتی)
ترجمہ : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین چلنے والی تلوار فتنہ تھی مگر میں ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے تھے ۔
امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (اس پاک فرقہ اہل سنّت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور ) اتنا یقین کرلیا کہ سب ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) اچھے اور عدل و ثقہ ، تقی ، نقی ابرار (خاصانِ پروردگار ) ہیں ۔ اوران ( مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہے، نظیر اس کی عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہے کہ اہلِ حق ( اہلِ اسلام ، اہلسنت وجماعت) شاہراہِ عقیدت پر چل کر ( منزل) مقصود کو پہنچے ۔ اور ارباب ( غوایت واہل) باطل تفصیلوں میں خوض ( و ناحق غور) کرکے مغاک ( ضلالت اور) بددینی ( کی گمراہیوں) میں جا پڑے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 58،چشتی)
❤1
مشاجرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت مرتضوی (امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جنہوں نے مشاجرات و منازعات کیئے ۔ (اور اس حق مآب صائب الرائے کی رائے سے مختلف ہوئے ، اور ان اختلافات کے باعث ان میں جو واقعات رُونما ہوئے کہ ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئے مثلاً جنگ جمل میں حضرت طلحہ وزبیر و صدیقہ عائشہ اور جنگِ صفین میں حضرت امیر معاویہ بمقابلہ مولا علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہم) ہم اہلسنت ان میں حق ، جانب جناب مولٰی علی( مانتے) اور ان سب کو مورد لغزش) بر غلط و خطا اور حضرت اسد اللٰہّی کو بدرجہا ان سے اکمل واعلیٰ جانتے ہیں مگر بایں ہمہ بلحاظ احادیث مذکورہ (کہ ان حضرات کے مناقب و فضائل میں مروی ہیں) زبان طعن و تشنیع ان دوسروں کے حق میں نہیں کھولتے اور انہیں ان کے مراتب پر جوان کےلیے شرع میں ثابت ہوئے رکھتے ہیں ، کسی کو کسی پر اپنی ہوائے نفس سے فضیلت نہیں دیتے ۔ اور ان کے مشاجرات میں دخل اندازی کو حرام جانتے ہیں ، اور ان کے اختلافات کو ابوحنیفہ و شافعی علیہما الرّحمہ جیسا اختلاف سمجھتے ہیں ۔ تو ہم اہلسنت کے نزدیک ان میں سے کسی ادنیٰ صحابی پر بھی طعن جائز نہیں چہ جائیکہ اُمّ المومنین صدیقہ (عائشہ طیبہ طاہرہ) رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی جناب رفیع اوربارگاہِ وقیع) میں طعن کریں ، حاش ! یہ اللہ و رسول کی جناب میں گستاخی ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد نمبر 29 صفحہ نمبر 61،چشتی)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان جو باہمی نزاعات اور مشاجرات ہوئے ہیں ان پر لب کشائی ہم مناسب نہیں سمجھتے ۔ تمام صحابہ کرام اسلام کےلیے مخلص، اور حق گوئی و حق طلبی کے لیے کوشاں تھے ۔ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار سے گریز کرنا ضروری ہے ، کیونکہ اس کا نتیجہ سوائے خود کو شیطان کے حوالے کرنے کے اور کچھ نہیں ہے ، علمائے امت نے بتکرار اس سے خبردار کیا ہے ۔ ہم صحبتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشّرف اور قابلِ صد احترام ہستیوں کو حق اور ناحق کے پلڑوں میں رکھنے کی جرات نہیں کرسکتے ۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ میرے تمام صحابہ عادل ہیں ۔ عدالتِ صحابہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے بشری غلطیاں بالکل سرزد نہیں ہوئیں یا ان سے خطاؤں کا قطعاً وقوع نہیں ہوا ، یہ خاصہ و منصب تو انبیا علیہم السلام کا ہے ، صحابہ کرام کا نہیں ۔ بلکہ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ ان سے بشری غلطیوں کا صدور ہوا ہے ، مگر جب ان کو متنبہ کیا گیا تو فوراً وہ اس سے تائب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کی ضمانت لی ہے ۔ جہاں تک اجتہادی خطاؤں کے صدور کا سوال ہے تو اس کے وقوع سے بھی کسی کو انکار نہیں ۔
امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (المتوفی 676ھ) رحمة اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں رقم طراز ہیں : و مذهب أهل السنة و الحق إحسان الظن بهم و الإمساک عما شجر بينهم و تاويل قتالهم، و إنهم مجتهدون متأولون لم يقصد و امعصية ولا محض الدنيا، بل اعتقد و اکل فريق أنه المحق و مخلافه باغ فوجب قتاله لير جع الی أمر الله، وکان بعضهم مصيباً و بعضهم مخطئاً معذوراً في الخطأ لأنه بإجتهاد و لمجتهد إذاأ خطألا إثم عليه وکان علی رضی الله عنه هو المحق المصيب في ذلک الحروب هذا مذهب أهل السنة و کانت القضايا مشتبة حتی أن جماعة من الصحابة تحيرو ا فيها فاعتزلو االطائفتين ولم يقاتلو اولو تيقنو االصواب لم يتأ خرواعن مساعدته ۔
ترجمہ : اہلِ سنت اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے ۔ ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے ۔ وہ بلا شبہ سب مجتہد اور صاحب رائے تھے معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی، بلکہ ہر فریق یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باغی ہے اور باغی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے تاکہ وہ امر الٰہی کی طرف لوٹ آئے ، اس اجتہاد میں بعض راہ صواب پر تھے اور بعض خطا پر تھے ، مگر خطا کے باوجود وہ معذور تھے کیونکہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجتہد خطا پر بھی گنہگار نہیں ہوتا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اہلِ سنت کا یہی موقف ہے ، یہ معاملات بڑے مشتبہ تھے یہاں تک کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جامعت اس پر حیران و پریشان تھی جس کی بنا پر وہ فریقین سے علیحدہ رہی اور قتال میں انہوں نے حصہ نہیں لیا ، اگر انہیں صحیح بات کا یقین ہو جاتا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معاونت سے پیچھے نہ رہتے ۔ (شرح صحيح مسلم، 2: 390، کتاب الفتن ،چشتی)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان جو باہمی نزاعات اور مشاجرات ہوئے ہیں ان پر لب کشائی ہم مناسب نہیں سمجھتے ۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کےلیے مخلص ، اور حق گوئی و حق طلبی کے لیے کوشاں تھے ۔ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار سے گریز کرنا ضروری ہے ، کیونکہ اس کا نتیجہ سوائے خود کو شیطان کے
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان جو باہمی نزاعات اور مشاجرات ہوئے ہیں ان پر لب کشائی ہم مناسب نہیں سمجھتے ۔ تمام صحابہ کرام اسلام کےلیے مخلص، اور حق گوئی و حق طلبی کے لیے کوشاں تھے ۔ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار سے گریز کرنا ضروری ہے ، کیونکہ اس کا نتیجہ سوائے خود کو شیطان کے حوالے کرنے کے اور کچھ نہیں ہے ، علمائے امت نے بتکرار اس سے خبردار کیا ہے ۔ ہم صحبتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشّرف اور قابلِ صد احترام ہستیوں کو حق اور ناحق کے پلڑوں میں رکھنے کی جرات نہیں کرسکتے ۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ میرے تمام صحابہ عادل ہیں ۔ عدالتِ صحابہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے بشری غلطیاں بالکل سرزد نہیں ہوئیں یا ان سے خطاؤں کا قطعاً وقوع نہیں ہوا ، یہ خاصہ و منصب تو انبیا علیہم السلام کا ہے ، صحابہ کرام کا نہیں ۔ بلکہ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ ان سے بشری غلطیوں کا صدور ہوا ہے ، مگر جب ان کو متنبہ کیا گیا تو فوراً وہ اس سے تائب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کی ضمانت لی ہے ۔ جہاں تک اجتہادی خطاؤں کے صدور کا سوال ہے تو اس کے وقوع سے بھی کسی کو انکار نہیں ۔
امام محی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی (المتوفی 676ھ) رحمة اللہ علیہ شرح صحیح مسلم میں رقم طراز ہیں : و مذهب أهل السنة و الحق إحسان الظن بهم و الإمساک عما شجر بينهم و تاويل قتالهم، و إنهم مجتهدون متأولون لم يقصد و امعصية ولا محض الدنيا، بل اعتقد و اکل فريق أنه المحق و مخلافه باغ فوجب قتاله لير جع الی أمر الله، وکان بعضهم مصيباً و بعضهم مخطئاً معذوراً في الخطأ لأنه بإجتهاد و لمجتهد إذاأ خطألا إثم عليه وکان علی رضی الله عنه هو المحق المصيب في ذلک الحروب هذا مذهب أهل السنة و کانت القضايا مشتبة حتی أن جماعة من الصحابة تحيرو ا فيها فاعتزلو االطائفتين ولم يقاتلو اولو تيقنو االصواب لم يتأ خرواعن مساعدته ۔
ترجمہ : اہلِ سنت اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے ۔ ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے ۔ وہ بلا شبہ سب مجتہد اور صاحب رائے تھے معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی، بلکہ ہر فریق یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باغی ہے اور باغی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے تاکہ وہ امر الٰہی کی طرف لوٹ آئے ، اس اجتہاد میں بعض راہ صواب پر تھے اور بعض خطا پر تھے ، مگر خطا کے باوجود وہ معذور تھے کیونکہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجتہد خطا پر بھی گنہگار نہیں ہوتا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اہلِ سنت کا یہی موقف ہے ، یہ معاملات بڑے مشتبہ تھے یہاں تک کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جامعت اس پر حیران و پریشان تھی جس کی بنا پر وہ فریقین سے علیحدہ رہی اور قتال میں انہوں نے حصہ نہیں لیا ، اگر انہیں صحیح بات کا یقین ہو جاتا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معاونت سے پیچھے نہ رہتے ۔ (شرح صحيح مسلم، 2: 390، کتاب الفتن ،چشتی)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے درمیان جو باہمی نزاعات اور مشاجرات ہوئے ہیں ان پر لب کشائی ہم مناسب نہیں سمجھتے ۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کےلیے مخلص ، اور حق گوئی و حق طلبی کے لیے کوشاں تھے ۔ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار سے گریز کرنا ضروری ہے ، کیونکہ اس کا نتیجہ سوائے خود کو شیطان کے
❤1
حوالے کرنے کے اور کچھ نہیں ہے ، علمائے امت نے بتکرار اس سے خبردار کیا ہے ۔ ہم صحبتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشّرف اور قابلِ صد احترام ہستیوں کو حق اور ناحق کے پلڑوں میں رکھنے کی جرات نہیں کرسکتے ۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ میرے تمام صحابہ عادل ہیں ۔ عدالتِ صحابہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے بشری غلطیاں بالکل سرزد نہیں ہوئیں یا ان سے خطاؤں کا قطعاً وقوع نہیں ہوا ، یہ خاصہ و منصب تو انبیا علیہم السلام کا ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نہیں ۔ بلکہ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ ان سے بشری غلطیوں کا صدور ہوا ہے، مگر جب ان کومتنبہ کیا گیا تو فوراً وہ اس سے تائب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کی ضمانت لی ہے ۔ جہاں تک اجتہادی خطاؤں کے صدور کا سوال ہے تو اس کے وقوع سے بھی کسی کو انکار نہیں ۔
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اور ان لڑائی جھگڑوں کو جو ان کے درمیان واقع ہوئے ہیں ، نیک محمل پر محمول کرنا چاہیے اور ہوا وتعصب سے دور سمجھنا چاہیے ۔ کیونکہ وہ مخالفتیں تاویل واجتہاد پر مبنی تھیں ، نہ کہ ہوا و ہوس پر ۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے ۔(مکتوباتِ امام ربانی، مکتوب: 251، دفترِ اول)
مزید فرماتے ہیں : یہ اکابر (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی تاثیر سے ہوا و ہوس ، کینہ و حرص سے پاک صاف ہوگئے تھے ۔ ان حضرات کے اختلافات کو دوسروں کی مصالحت سے بہتر سمجھنا چاہیے ۔ (مکتوب: 67 دفتر دوم)
اس کے برخلاف بدگوئی وفضول گوئی پھوٹ پیدا کرتی ہے ، جو شیطان کا کام ہے ، وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں غصہ ، نفرت ، عداوت ، کینہ ، حسد ، نفاق کے بیج بوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جملہ صحابہ کرام ، ازواجِ مطہرات اور اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی بے ادبی و بغض سے بچاۓ اور اُن کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/300000272236019/
حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اور ان لڑائی جھگڑوں کو جو ان کے درمیان واقع ہوئے ہیں ، نیک محمل پر محمول کرنا چاہیے اور ہوا وتعصب سے دور سمجھنا چاہیے ۔ کیونکہ وہ مخالفتیں تاویل واجتہاد پر مبنی تھیں ، نہ کہ ہوا و ہوس پر ۔ یہی اہل سنت کا مذہب ہے ۔(مکتوباتِ امام ربانی، مکتوب: 251، دفترِ اول)
مزید فرماتے ہیں : یہ اکابر (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی تاثیر سے ہوا و ہوس ، کینہ و حرص سے پاک صاف ہوگئے تھے ۔ ان حضرات کے اختلافات کو دوسروں کی مصالحت سے بہتر سمجھنا چاہیے ۔ (مکتوب: 67 دفتر دوم)
اس کے برخلاف بدگوئی وفضول گوئی پھوٹ پیدا کرتی ہے ، جو شیطان کا کام ہے ، وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں میں غصہ ، نفرت ، عداوت ، کینہ ، حسد ، نفاق کے بیج بوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جملہ صحابہ کرام ، ازواجِ مطہرات اور اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی بے ادبی و بغض سے بچاۓ اور اُن کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/300000272236019/
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/25686
کَفِ لسان کا حکم ۔ تفضیلیوں نیم رافضیوں کے فریب کا جواب
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/300000272236019/
کَفِ لسان کا حکم ۔ تفضیلیوں نیم رافضیوں کے فریب کا جواب
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/300000272236019/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے معاویہ توں مجھ سے ہے اور میں تم سے ہوں تم مجھے جنت کے دروازے پر ان دو انگلیوں کی طرح ملو گے : امام ابوبکر بن خلال رحمۃ اللہ علیہ السنہ میں حدیث نقل فرماتے ہیں : أَخْبَرَنِي حَرْبٌ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاوِيَةُ، أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، لَتُزَاحِمَنِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) توں مجھ سے ہے اور میں تم سے ہوں تم مجھے جنت کے دروازے پر ان دو انگلیوں کی طرح ملو گے ۔ (السنة لابن خلال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 454 حدیث نمبر 704)،(مسند الفردوس ، باب الیا 5/393حدیث 8530،چشتی)،(الشریعہ جلد 23 کتاب فضائل معاویہ) ، (لسان المیزان 4/379ح5211) ، (تاریخ دمشق 59/98)
اس روایت پر تحقیقی نظر
پهلا راوی
173 - حرب بن إسماعيل الكرماني الفقيه،
اما م احمد بن حنبل كے ساتھی اور امام ابكركے استاد تھے
قال أبو بكر الخلال : كان رجلا جليلا، یہ ایک عظیم مرد تھے ۔
تاریخ اسلام جلد 6 صفحہ 310 ۔ نیزامام ذہبی فرماتے ہیں : وَمَا عَلِمْتُ بِهِ بَأْساً میں اس میں ہرج نہیں دیکھتا ۔سیر اعلام النبلاء جلد 13 صفحہ 245
ہاں ! بعض اجہل کہتے ہیں اس راوی کے والد کا پتا نہیں چلا مجھے ۔۔ بالکل ایسی چول وہی مار سکتا ہے جس کو اپنے نسب میں بھی تشکیک ہو ۔
دوسرا راوی
الاسم : محمد بن مصفى بن بهلول القرشى ، أبو عبد الله الحمصى
رتبته عند ابن حجر : صدوق له أوهام و كان يدلس ، رتبته عند الذهبي : ثقة يغرب
ابو داود ، ابن ماجہ نسائی نے روایت لی ۔صدوق اور ثقہ ہیں لیکن مدلس بھی ہیں۔
تیسرا راوی
عبد العزیز بن عمر بن عبدالعزیز : حافظ ابن حجر کے نزیدک صدوق ہیں ہاں خطا کرتے ہیں ۔ اور امام ذہبی کےنزدیک ثقہ ہیں ۔ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْعُلَمَاءِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ۔ (تاریخ اسلام جلد 3 صفحہ 917،چشتی)
چوتهے راوی
الاسم : إسماعيل بن عياش بن سليم العنسى ، أبو عتبة الحمصى
رتبته عند ابن حجر : صدوق فى روايته عن أهل بلده ، مخلط فى غيرهم
اپنے شہر سے روایت کرنے میں صدوق ہے اس کے علاوہ میں مخلط ہے ۔
رتبته عند الذهبي : عالم الشاميين ، قال يزيد بن هارون ما رأيت أحفظ منه ، و قال دحيم هو فى الشاميين غاية و خلط عن المدنيين ،
امام ذہبی کے نزدیک:شامی عالم ہے ،یزید بن ہارون کہتے اس سے بڑا حافظ نہیں دیکھا ۔دحیم کہتے ہیں شامیوں میں ہو تو ۔حد۔۔بندہ ہے ۔اور مدنیوں میں ہو تو مختلط۔
پانچواں راوی
عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار القرشى العدوى ، المدنى ، مولى عبد الله بن عمر بن الخطاب
رتبته عند الذهبي : قال أبو حاتم : فيه لين
کبار تبع تابعین میں سے ہے امام بخاری ،ابوداود ،ترمذی اور نسائی نے ان سے حدیث لی ۔امام ابن حجر کے نزیدک صدوق ہیں لیکن خطا کرتے ہیں ۔
چھٹے راوی کی بحث کی حا جت نہیں ۔
مذکورہ بالا حدیث اس سند کے اعتبار سے محض ضعیف قرار پائے گی کوئی ایک راوی بھی نہ کذاب ہے اور نہ ہی وضاع پھر بھی اس حدیث کو موضوع کہنے والا منکر حدیث چکڑالوی رافضی ہی ہو سکتا ہے ۔
سند دوم
أخبرنا أبو منصور عبد الرحمن بن محمد بن عبد الواحد أنا أبو بكر الخطيب أنا أبو الحسن بن رزقويه أنا أبو الخير فاتن (1) بن عبد الله مولى أمير المؤمنين المطيع لله أنا أبو مروان عبد الملك بن محمد بن عبد الملك بن سلام ببيت المقدس نا أبو محمد جعفر بن محمد البردعي نا محمد بن عبيد الهاشمي عن عبد العزيز بن بحر نا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يطلع عليكم من هذا الباب رجل من أهل الجنة فطلع معاوية فلما كان من الغد قال مثل ذلك فطلع معاوية فلما كان بعد الغد قال مثل ذلك فطلع معاوية قال رجل هو هذا قال نعم هو هذا ثم قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يا معاوية أنت مني وأنا منك لتزاحمني على باب الجنة كهاتين ۔
قال الخطيب عبد العزيز بن بحر (1) ضعيف ومن دونه مجهولون ۔ (تاریخ ابن عساكر جلد 59 صفحه 99،چشتی)
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے معاویہ توں مجھ سے ہے اور میں تم سے ہوں تم مجھے جنت کے دروازے پر ان دو انگلیوں کی طرح ملو گے : امام ابوبکر بن خلال رحمۃ اللہ علیہ السنہ میں حدیث نقل فرماتے ہیں : أَخْبَرَنِي حَرْبٌ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا مُعَاوِيَةُ، أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ، لَتُزَاحِمَنِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا اے معاویہ (رضی اللہ عنہ) توں مجھ سے ہے اور میں تم سے ہوں تم مجھے جنت کے دروازے پر ان دو انگلیوں کی طرح ملو گے ۔ (السنة لابن خلال جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 454 حدیث نمبر 704)،(مسند الفردوس ، باب الیا 5/393حدیث 8530،چشتی)،(الشریعہ جلد 23 کتاب فضائل معاویہ) ، (لسان المیزان 4/379ح5211) ، (تاریخ دمشق 59/98)
اس روایت پر تحقیقی نظر
پهلا راوی
173 - حرب بن إسماعيل الكرماني الفقيه،
اما م احمد بن حنبل كے ساتھی اور امام ابكركے استاد تھے
قال أبو بكر الخلال : كان رجلا جليلا، یہ ایک عظیم مرد تھے ۔
تاریخ اسلام جلد 6 صفحہ 310 ۔ نیزامام ذہبی فرماتے ہیں : وَمَا عَلِمْتُ بِهِ بَأْساً میں اس میں ہرج نہیں دیکھتا ۔سیر اعلام النبلاء جلد 13 صفحہ 245
ہاں ! بعض اجہل کہتے ہیں اس راوی کے والد کا پتا نہیں چلا مجھے ۔۔ بالکل ایسی چول وہی مار سکتا ہے جس کو اپنے نسب میں بھی تشکیک ہو ۔
دوسرا راوی
الاسم : محمد بن مصفى بن بهلول القرشى ، أبو عبد الله الحمصى
رتبته عند ابن حجر : صدوق له أوهام و كان يدلس ، رتبته عند الذهبي : ثقة يغرب
ابو داود ، ابن ماجہ نسائی نے روایت لی ۔صدوق اور ثقہ ہیں لیکن مدلس بھی ہیں۔
تیسرا راوی
عبد العزیز بن عمر بن عبدالعزیز : حافظ ابن حجر کے نزیدک صدوق ہیں ہاں خطا کرتے ہیں ۔ اور امام ذہبی کےنزدیک ثقہ ہیں ۔ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْعُلَمَاءِ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ۔ (تاریخ اسلام جلد 3 صفحہ 917،چشتی)
چوتهے راوی
الاسم : إسماعيل بن عياش بن سليم العنسى ، أبو عتبة الحمصى
رتبته عند ابن حجر : صدوق فى روايته عن أهل بلده ، مخلط فى غيرهم
اپنے شہر سے روایت کرنے میں صدوق ہے اس کے علاوہ میں مخلط ہے ۔
رتبته عند الذهبي : عالم الشاميين ، قال يزيد بن هارون ما رأيت أحفظ منه ، و قال دحيم هو فى الشاميين غاية و خلط عن المدنيين ،
امام ذہبی کے نزدیک:شامی عالم ہے ،یزید بن ہارون کہتے اس سے بڑا حافظ نہیں دیکھا ۔دحیم کہتے ہیں شامیوں میں ہو تو ۔حد۔۔بندہ ہے ۔اور مدنیوں میں ہو تو مختلط۔
پانچواں راوی
عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار القرشى العدوى ، المدنى ، مولى عبد الله بن عمر بن الخطاب
رتبته عند الذهبي : قال أبو حاتم : فيه لين
کبار تبع تابعین میں سے ہے امام بخاری ،ابوداود ،ترمذی اور نسائی نے ان سے حدیث لی ۔امام ابن حجر کے نزیدک صدوق ہیں لیکن خطا کرتے ہیں ۔
چھٹے راوی کی بحث کی حا جت نہیں ۔
مذکورہ بالا حدیث اس سند کے اعتبار سے محض ضعیف قرار پائے گی کوئی ایک راوی بھی نہ کذاب ہے اور نہ ہی وضاع پھر بھی اس حدیث کو موضوع کہنے والا منکر حدیث چکڑالوی رافضی ہی ہو سکتا ہے ۔
سند دوم
أخبرنا أبو منصور عبد الرحمن بن محمد بن عبد الواحد أنا أبو بكر الخطيب أنا أبو الحسن بن رزقويه أنا أبو الخير فاتن (1) بن عبد الله مولى أمير المؤمنين المطيع لله أنا أبو مروان عبد الملك بن محمد بن عبد الملك بن سلام ببيت المقدس نا أبو محمد جعفر بن محمد البردعي نا محمد بن عبيد الهاشمي عن عبد العزيز بن بحر نا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن عبد الله بن عمر قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يطلع عليكم من هذا الباب رجل من أهل الجنة فطلع معاوية فلما كان من الغد قال مثل ذلك فطلع معاوية فلما كان بعد الغد قال مثل ذلك فطلع معاوية قال رجل هو هذا قال نعم هو هذا ثم قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) يا معاوية أنت مني وأنا منك لتزاحمني على باب الجنة كهاتين ۔
قال الخطيب عبد العزيز بن بحر (1) ضعيف ومن دونه مجهولون ۔ (تاریخ ابن عساكر جلد 59 صفحه 99،چشتی)
👍1
اس پر كلام سے پهلے میں یه عرض كرتا چلوں ۔ علم حدیث كے پاس سے گزر جانے والے بچے كو بھی پتا هے جب علماء محققین كسی بھی حدیث پرصحیح ، ضعیف یا موضوع کا حکم لگاتے ہیں وہ خاص ایک سند پر ہوتا ہے ۔سند اول میں کوئی بھی راوی کذاب و وضاع نہیں جس بنا پر یہ حدیث موضوع قرار دی جائے ۔۔امام ذہبی نے جو اس پر کلام کیا ہے وہ سند دوم سے تعلق رکھتا ہے سند اول میں اس نام کا بندہ ہی موجود نہیں ۔پھر بھی ۔۔موضوع موضوع کی گردان پڑنا ہٹ دھرمی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
اول : یہ سند اسماعیل بن عیاش پر جا کر اول سے مل جاتی ہے۔اس سے کے بعد مصنف، خطیب کا قول نقل کر رہے ہیں
عبد العزیز بن بحر ضعیف ہے اور اس کے علاوہ نچلے راوی مجہول ہیں گویا کہ خطیب نے حکم بھی بتا دیا کہ روایت محض ضعیف ہے ۔
دوم : امام ابن جوزی جیسے موضوع احادیث میں شدت کرنے والوں کے نزدیک بھی یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ صرف اور صرف ضعیف ہے اسی لیے آپ نے اپنی ضعفاء کی کتاب میں اس کو ذکر کیا اگر موضوع ہوتی تو اس میں ذکر کرتے ۔
عبد العزيز بن بحر المروزي .
عن إسماعيل بن عياش بخبر باطل وقد طعن فيه.عباس الدوري، واللفظ له، وعبد الله بن أحمد، وغيرهما ۔
امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ خبر باطل لے کر آیا اور اس میں طعن بھی کیا گیا ہے ۔۔۔۔عباس دوری کہتے ہیں اور عبداللہ بن احمد کہتے ہیں۔ اور یہ الفاظ انھی کہ ہیں (اس کے بعد مذکورہ حدیث ذکر کی) ۔ (میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 623،چشتی)
یہی تفسیقیوں کی کل کائنات بن گئی ۔لیکن امام ذہبی نے دوسری جگہ کیا فرمایا وہ ہپ ہپ کر گئے ۔
امام ذہبی رحمہ اللہ کا تلخیص العل المتناہیہ میں مذکور کلام ملاحظہ کیجیے:
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : فیہ : عبد العزیز بن یحیی المودب ۔۔۔مجھول ۔۔عن اسماعیل بن عیاش عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار عن ابیہ عن ابن عمر ۔۔اخرجہ ابن عدی ۔
اس حدیث میں عبداللہ بن یحیی (بحر ہونا چاہیے کاتب کی غلطی ہے غالباً) المودب ہے جو کہ مجہول راوی ہے ۔جو روایت کرتے ہیں اسماعیل بن عیاش سے اور وہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار سے وہ اپنے والد اور وہ عبد اللہ بن عمر سے ۔ا ابن عدی نے اسے نقل کیا ہے ۔
امام ذہبی فرماتے ہیں : قال عباس دوری حدثنا عبدالعزیز بن بحر المروزی ۔۔مشھور ۔۔۔حدثنا اسماعیل ، فذکرہ وزاد فیہ انت منی و انا منک ۔۔۔الحدیث ۔۔۔
و راوہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل عن عبد العزیز مختصراً (کالاوفی(بلکہ صحیح اولی ہے))و مارایت احد ضعف عبد العزیز بل اسماعیل صاحب عجائب عن الحجازیین ۔۔
(تلخیص اللعل المتانہیہ صفحہ 95۔۔96)
عباس دوری کہتے ہیں ہمیں عبد العزیز بن بحر المروزی ۔۔جوکہ مشھور ہے نے خبر دی ۔۔ہمیں بتایا اسماعیل نے الخ۔۔
(امام ذہبی فرماتے ہیں۔۔۔تفسیقی آنکھیں کھول کر دیکھے) ،اس کو امام احمد کے بیٹے نے عبدالعزیز سے مختصرا بھی روایت کیا ہے(پہلی روایت کی طرح) اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی ایک نے بھی عبد العزیز کو ضعیف کہا ہو ہاں اسماعیل حجاز والوں سے عجیب روایات لے کر آتا ہے ۔
یہی امام ذہبی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں :
257 - عَبْد العزيز بْن بحر الْمَرْوَزِيّ المؤدِّب. [الوفاة: 231 - 240 ه]
نزيل بغداد .
عَنْ: سُلَيْمَان بْن أرقم، وعطّاف بْن خَالِد، وإسماعيل بْن عيّاش.
وَعَنْهُ: عبد الله ابن أبي سعد الوَرَّاق، وابن أبي الدنيا، ومحمد بن سويد الطحان، وآخرون.
لم يضعف .
اس کو ضعیف نہیں کہا گیا ۔۔۔ (تاریخ اسلام جلد 5 صفحہ 872)
یہ ہے تناقض : ایک جگہ فرمایا یہ خبر باطل لے کر آیا ہے ۔
دوسری جگہ فرمایا عبد العزیز بن یحیی(بحر) المودب مجہول ہے ۔
تیسری جگہ فرمایا:عباس دوری کہتے ہیں عبدالعزیز مشہور ہے کسی ایک نے بھی سے ضعیف نہیں کہا ۔
چوتھی جگہ فرمایا : اس کو ضعیف نہیں کہا گیا ۔
نوٹ: امام ذہبی کے اس تناقض کو ابن عراق نے تنزیہیہ الشریعہ میں ذکر کیا ہے جس کو طوالت کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں ۔
اب تفسیقی امام ذهبی كے كس قول كو ترجیح دیں گے اور كیوں !!!
الزامی جواب : امام ذهبی كے متضاد قول میں سے ایك كو تو آپ نے بلا چوں چڑاں مان لیا تو كیا انا مدینه العلم و علی بابھا پر امام ذهبی كے اس قول كو مان لیں گے ؟؟؟
فَقُلْتُ: بَلْ مَوْضُوعٌ، ثُمَّ قَالَ: وَأَبُو الصَّلْتِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، قُلْتُ: كَلا وَاللَّهِ بَلْ رَافِضِيٌّ غَيْرُ ثِقَةٍ،
میں کہتا ہوں یہ روایت موضوع ہے اور حاکم نے کہا ابو الصلت ثقہ مامون ہے میں کہتا ہوں خدا کی قسم وہ رافضی اور غیر ثقہ ہے ۔ (موضوعات المستدرك للذهبي صفحه 4)
لیجیے ۔۔۔ قبول کیجیے قولِ ذہبی ۔ خلاصہ : یا معاویہ انت منی و انامنک حدیث قطعاً موضوع نہیں ہے صرف ضعیف ہے ۔
اول : یہ سند اسماعیل بن عیاش پر جا کر اول سے مل جاتی ہے۔اس سے کے بعد مصنف، خطیب کا قول نقل کر رہے ہیں
عبد العزیز بن بحر ضعیف ہے اور اس کے علاوہ نچلے راوی مجہول ہیں گویا کہ خطیب نے حکم بھی بتا دیا کہ روایت محض ضعیف ہے ۔
دوم : امام ابن جوزی جیسے موضوع احادیث میں شدت کرنے والوں کے نزدیک بھی یہ حدیث موضوع نہیں بلکہ صرف اور صرف ضعیف ہے اسی لیے آپ نے اپنی ضعفاء کی کتاب میں اس کو ذکر کیا اگر موضوع ہوتی تو اس میں ذکر کرتے ۔
عبد العزيز بن بحر المروزي .
عن إسماعيل بن عياش بخبر باطل وقد طعن فيه.عباس الدوري، واللفظ له، وعبد الله بن أحمد، وغيرهما ۔
امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ خبر باطل لے کر آیا اور اس میں طعن بھی کیا گیا ہے ۔۔۔۔عباس دوری کہتے ہیں اور عبداللہ بن احمد کہتے ہیں۔ اور یہ الفاظ انھی کہ ہیں (اس کے بعد مذکورہ حدیث ذکر کی) ۔ (میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 623،چشتی)
یہی تفسیقیوں کی کل کائنات بن گئی ۔لیکن امام ذہبی نے دوسری جگہ کیا فرمایا وہ ہپ ہپ کر گئے ۔
امام ذہبی رحمہ اللہ کا تلخیص العل المتناہیہ میں مذکور کلام ملاحظہ کیجیے:
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : فیہ : عبد العزیز بن یحیی المودب ۔۔۔مجھول ۔۔عن اسماعیل بن عیاش عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار عن ابیہ عن ابن عمر ۔۔اخرجہ ابن عدی ۔
اس حدیث میں عبداللہ بن یحیی (بحر ہونا چاہیے کاتب کی غلطی ہے غالباً) المودب ہے جو کہ مجہول راوی ہے ۔جو روایت کرتے ہیں اسماعیل بن عیاش سے اور وہ عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار سے وہ اپنے والد اور وہ عبد اللہ بن عمر سے ۔ا ابن عدی نے اسے نقل کیا ہے ۔
امام ذہبی فرماتے ہیں : قال عباس دوری حدثنا عبدالعزیز بن بحر المروزی ۔۔مشھور ۔۔۔حدثنا اسماعیل ، فذکرہ وزاد فیہ انت منی و انا منک ۔۔۔الحدیث ۔۔۔
و راوہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل عن عبد العزیز مختصراً (کالاوفی(بلکہ صحیح اولی ہے))و مارایت احد ضعف عبد العزیز بل اسماعیل صاحب عجائب عن الحجازیین ۔۔
(تلخیص اللعل المتانہیہ صفحہ 95۔۔96)
عباس دوری کہتے ہیں ہمیں عبد العزیز بن بحر المروزی ۔۔جوکہ مشھور ہے نے خبر دی ۔۔ہمیں بتایا اسماعیل نے الخ۔۔
(امام ذہبی فرماتے ہیں۔۔۔تفسیقی آنکھیں کھول کر دیکھے) ،اس کو امام احمد کے بیٹے نے عبدالعزیز سے مختصرا بھی روایت کیا ہے(پہلی روایت کی طرح) اور میں نے نہیں دیکھا کہ کسی ایک نے بھی عبد العزیز کو ضعیف کہا ہو ہاں اسماعیل حجاز والوں سے عجیب روایات لے کر آتا ہے ۔
یہی امام ذہبی تاریخ اسلام میں لکھتے ہیں :
257 - عَبْد العزيز بْن بحر الْمَرْوَزِيّ المؤدِّب. [الوفاة: 231 - 240 ه]
نزيل بغداد .
عَنْ: سُلَيْمَان بْن أرقم، وعطّاف بْن خَالِد، وإسماعيل بْن عيّاش.
وَعَنْهُ: عبد الله ابن أبي سعد الوَرَّاق، وابن أبي الدنيا، ومحمد بن سويد الطحان، وآخرون.
لم يضعف .
اس کو ضعیف نہیں کہا گیا ۔۔۔ (تاریخ اسلام جلد 5 صفحہ 872)
یہ ہے تناقض : ایک جگہ فرمایا یہ خبر باطل لے کر آیا ہے ۔
دوسری جگہ فرمایا عبد العزیز بن یحیی(بحر) المودب مجہول ہے ۔
تیسری جگہ فرمایا:عباس دوری کہتے ہیں عبدالعزیز مشہور ہے کسی ایک نے بھی سے ضعیف نہیں کہا ۔
چوتھی جگہ فرمایا : اس کو ضعیف نہیں کہا گیا ۔
نوٹ: امام ذہبی کے اس تناقض کو ابن عراق نے تنزیہیہ الشریعہ میں ذکر کیا ہے جس کو طوالت کی وجہ سے چھوڑ رہے ہیں ۔
اب تفسیقی امام ذهبی كے كس قول كو ترجیح دیں گے اور كیوں !!!
الزامی جواب : امام ذهبی كے متضاد قول میں سے ایك كو تو آپ نے بلا چوں چڑاں مان لیا تو كیا انا مدینه العلم و علی بابھا پر امام ذهبی كے اس قول كو مان لیں گے ؟؟؟
فَقُلْتُ: بَلْ مَوْضُوعٌ، ثُمَّ قَالَ: وَأَبُو الصَّلْتِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، قُلْتُ: كَلا وَاللَّهِ بَلْ رَافِضِيٌّ غَيْرُ ثِقَةٍ،
میں کہتا ہوں یہ روایت موضوع ہے اور حاکم نے کہا ابو الصلت ثقہ مامون ہے میں کہتا ہوں خدا کی قسم وہ رافضی اور غیر ثقہ ہے ۔ (موضوعات المستدرك للذهبي صفحه 4)
لیجیے ۔۔۔ قبول کیجیے قولِ ذہبی ۔ خلاصہ : یا معاویہ انت منی و انامنک حدیث قطعاً موضوع نہیں ہے صرف ضعیف ہے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ : اللہ کے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا : کہ اے معاویہ رضی اللہ عنہ تم مجھ سے ہو اور میں تجھ سے ہوں اور تم جنت کے دروازے پر میرے ساتھ اس طرح ہو گے جس طرح یہ دو انگلیاں ہیں ۔ (کتاب السنہ للخلال جلد 2 حدیث نمبر 704)۔(الشریعہ للآجری جلدسوم حدیث نمبر1983،چشتی)۔(شرح اصول اعتقاداھل السنہ والجماعہ ج8ح2779)۔(موجبات الجنہ لابن فاخرج1ح396)
احوال الروات :
امام ابوبکرالخلال ؛ الامام العلامہ الحافظ الفقیہ ۔ (سیراعلام النبلاء 4/297)
حرب بن اسماعیل ؛ الامام العلامہ الفقیہ ۔ (سیراعلام النبلاء 13/344)
محمدبن مصفی ، قال ابوحاتم صدوق ۔ (تاریخ اسلام ذہبی 5/1246)
عبدالعزیزبن عمر ؛ قال ابن معین ثقہ ۔ (تاریخ ابن معین بروایت الدوری 4/426)
اسماعیل بن عیاش ؛ ثقہ فی الشامیین ۔ عبدالرحمن بن عبداللہ ؛
ذکرروایتہ البخاری فی صحیحہ ۔
(صحیح البخاری رقم:173)
عبداللہ بن دینار ؛ مدنی تابعی ثقہ
۔ (تاریخ الثقات للعجلی 2/26)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ؛
جلیل القدر صحابی ۔
تنبیہ : نوح بن یزیدنے اسماعیل بن عیاش کی متابعت کی ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر 59/100،چشتی)
نوح بن یزید ثقہ راوی ہے ۔ (تاریخ اسلام 5/716)
معلوم ہوا کہ اس کی سند حسن ہے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
احوال الروات :
امام ابوبکرالخلال ؛ الامام العلامہ الحافظ الفقیہ ۔ (سیراعلام النبلاء 4/297)
حرب بن اسماعیل ؛ الامام العلامہ الفقیہ ۔ (سیراعلام النبلاء 13/344)
محمدبن مصفی ، قال ابوحاتم صدوق ۔ (تاریخ اسلام ذہبی 5/1246)
عبدالعزیزبن عمر ؛ قال ابن معین ثقہ ۔ (تاریخ ابن معین بروایت الدوری 4/426)
اسماعیل بن عیاش ؛ ثقہ فی الشامیین ۔ عبدالرحمن بن عبداللہ ؛
ذکرروایتہ البخاری فی صحیحہ ۔
(صحیح البخاری رقم:173)
عبداللہ بن دینار ؛ مدنی تابعی ثقہ
۔ (تاریخ الثقات للعجلی 2/26)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ؛
جلیل القدر صحابی ۔
تنبیہ : نوح بن یزیدنے اسماعیل بن عیاش کی متابعت کی ہے ۔ (تاریخ ابن عساکر 59/100،چشتی)
نوح بن یزید ثقہ راوی ہے ۔ (تاریخ اسلام 5/716)
معلوم ہوا کہ اس کی سند حسن ہے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25704
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے فرمایا معاویہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/299800432256003/
❤1