Forwarded from فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کرسی ایک موتی ہے جس کی لمبائی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے وسیع صحراء میں ایک حلقہ پڑا ہو، مزید فرمایا کہ آسمان کرسی میں ہیں اور کرسی عرشِ الٰہی کے سامنے ہے۔حضرتِ عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،سورج کرسی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے اور عرشِ الٰہی حجاباتِ الٰہی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے۔
مروی ہے کہ عرش اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں کے مابین ستر ہزار نور کے اور ستر ہزار ظلمت کے پردے حائل ہیں، ہر پردہ پانسو سال کا سفر ہے، اگر یہ پردے نہ ہوتے تو حاملینِ کرسی حاملینِ عرش کے نور سے جل جاتے۔ عرش ایک نورانی شَے ہے جو کرسی سے اوپر ہے اور ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے مگر اس قول سے جناب حسن بصری رضی اللہ عنہ کو اختلاف ہے۔
عرشِ الٰہی کی ساخت:عرشِ الٰہی کی بناوٹ کے متعلق مختلف روایتیں ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ یاقوت کا ہے یا سبز موتی کا ہے بعض کی راۓ ہے کہ سفید موتی سے بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی اس کی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔
فلکیات کے ماہرین اسے نواں آسمان ، فلکِ اعلیٰ، فلک الافلاک، اور فلک اطلس کہتے ہیں، اس میں کوئی ستارہ وغیرہ نہیں ہے قدیم ہیئت دانوں کے بقول تمام ستارے آٹھویں آسمان میں ہیں جس کو وہ فلک البروج اور اہلِ شرع کرسی کہتے ہیں۔
عرشِ الٰہی مخلوقات کی چھت ہے، کوئی چیز اس کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی ، وہ بندوں کے علم و ادراک اور مطلوب کی انتہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم قرار دیا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ.پس اگر وہ پھر جائیں تو کہیۓ کہ مجھے اللہ کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔(التوبۃ ١٢٩)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی توریت میں متوکل تھا اور کیوں نہ ہوتا آپ سے بڑھ کر معرفتِ خداوندی کا شناسا اور کون ہے؟ آپ موحدین کے سردار اور عارفینِ کاملین کے رہنما ہیں ، توکل کی حقیقت آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھی۔
[مکاشفۃ القلوب٢٠٩تا٢١٣رضوی کتاب گھردہلی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی 9839171719*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
مروی ہے کہ عرش اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں کے مابین ستر ہزار نور کے اور ستر ہزار ظلمت کے پردے حائل ہیں، ہر پردہ پانسو سال کا سفر ہے، اگر یہ پردے نہ ہوتے تو حاملینِ کرسی حاملینِ عرش کے نور سے جل جاتے۔ عرش ایک نورانی شَے ہے جو کرسی سے اوپر ہے اور ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے مگر اس قول سے جناب حسن بصری رضی اللہ عنہ کو اختلاف ہے۔
عرشِ الٰہی کی ساخت:عرشِ الٰہی کی بناوٹ کے متعلق مختلف روایتیں ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ یاقوت کا ہے یا سبز موتی کا ہے بعض کی راۓ ہے کہ سفید موتی سے بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی اس کی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔
فلکیات کے ماہرین اسے نواں آسمان ، فلکِ اعلیٰ، فلک الافلاک، اور فلک اطلس کہتے ہیں، اس میں کوئی ستارہ وغیرہ نہیں ہے قدیم ہیئت دانوں کے بقول تمام ستارے آٹھویں آسمان میں ہیں جس کو وہ فلک البروج اور اہلِ شرع کرسی کہتے ہیں۔
عرشِ الٰہی مخلوقات کی چھت ہے، کوئی چیز اس کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی ، وہ بندوں کے علم و ادراک اور مطلوب کی انتہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم قرار دیا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ.پس اگر وہ پھر جائیں تو کہیۓ کہ مجھے اللہ کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔(التوبۃ ١٢٩)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی توریت میں متوکل تھا اور کیوں نہ ہوتا آپ سے بڑھ کر معرفتِ خداوندی کا شناسا اور کون ہے؟ آپ موحدین کے سردار اور عارفینِ کاملین کے رہنما ہیں ، توکل کی حقیقت آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھی۔
[مکاشفۃ القلوب٢٠٩تا٢١٣رضوی کتاب گھردہلی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*از قلم✍🏻 محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی 9839171719*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
Telegram
فیضـان دارالعــلوم امجـدیہ ناگپور
اہلسنت و جماعت مسلک اعلیٰ حضرت کا ترجمان، وسط ہند کی عظیم درسگاہ " دارالعلوم امجدیہ ناگپور مہاراشٹرا" کے نام سے منسوب گروپ
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1