🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
حضرت امیر معاویہ رضی اللّہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول ہیں کاتبِ وحی ہیں ان کی مقدس شان میں بکنے والا ، بیہودہ گوئی کرنے والا اِن کی عظمت و شان پر کسی قسم کی حرف گیری (یعنی اعتراض) کرنے والا ، اِن سے بُغض رکھنے والا شخص لعنتی ہے رافضی ہے جہنمی کتا اور جہنمی خنزير ہے نطفہ حرام ہے ولدُ الزِنا ہے قرآن و سُنّت کا مُنکر ہے اہل بیت اَطہار رضی اللہ عنہم کا دشمن ہے اجماعِ اُمِّت کا منکر ہے ۔ اولیائے عظام و آئمہ کرام علیہم الرحمہ کی تعلیمات کا منکر ہے ۔
حضرت امام شعرانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس نے اللّٰہ تعالٰی کے ولی کی توہین کی اس کے دل میں زہر آلود تیر پیوست کردیا جاتا ہے ، اور وہ نہیں مرتا ، حتی کہ اس کا عقیدہ فساد کی نذر ہو جاتا ہے ، اور اس پر برے خاتمے کا خوف ہوتا ہے ۔ (الیواقیت الجواہر،مترجم،ص،٦٧)
اللہ اکبر ! جب اولیاءاللہ کی توہین کا یہ عالم ہے تو جو تمام ولیوں سے افضل ہستیوں یعنی حضراتِ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہم کے گستاخوں اور بے ادبوں کا کیا انجام ہوگا یہ خود ہی اندازہ کرلیں ۔

امام شہاب الدین خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ رحمہ ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا : ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔
ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)۔(نسیم الریاض ،القسم الثانی جلد 3 صفحہ 430 مطبوعہ ملتان)

امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264 ۔ امام اہلسنت اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی روفضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 )(سنیوں کا لبادہ اڑھے جہنمی کتوں کو پہچانیئے)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)

پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔

امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ای للامیر معاویۃ رضی اللہ عنہ اما عند اھل الحق فاستقامۃ الخلافۃ لہ رضی اللہ تعالی عنہ من یوم صلح السید المجتبی صلی اللہ تعالی علی جدہ الکریم وابیہ وعلیہ وعلی امہ واخیہ وسلم ۔
ترجمہ : بہر حال اہل حق کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلیے اس دن سے خلافت مستحکم ہوگئی ، جس دن حضرت امام مجتبیٰ امام حسن صلی اللہ تعالیٰ علی جدہ الکریم وابیہ وعلیہ وعلی امہ واخیہ وسلم نے صلح کی ۔
اس کے بعد آپ رحمہ اللہ تعالیٰ امام حسن اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح والی حدیث بخاری نقل کرکے فرماتے ہیں ”وبہ ظھر ان الطعن علی الامیر معاویۃ طعن علی الامام المجتبی بل علی جدہ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم، بل علی ربہ عزوجل ۔
ترجمہ : اسی سے ظاہر ہوگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنا درحقیقت امام مجتبیٰ پر طعن کرنا ہے ، بلکہ یہ ان کے جد کریم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر طعن کرنا ہے ، بلکہ یہ تو اللہ عزوجل پر طعن کرنا ہے ۔
اس کے بعد اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : کیونکہ مسلمانوں کی باگ ڈور کسی غلط آدمی کے ہاتھ میں دینا اسلام اور مسلمین کے ساتھ خیانت ہے اور اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غلط تھے ، جیسا کہ طعن کرنے والے کہہ رہے ہیں ، تو پھر اس خیانت کے مرتکب معاذ اللہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ ٹھہریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اس خیانت پر رضا لازم آئے گی اور یہ وہ ہستی ہے جس کی شان میں (وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی) وارد ہے ۔ یہ جملے اس شخص کو فائدہ دیں گے جس کے لیے اللہ نے ہدایت کا ارادہ فرمالیا ۔ (المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد صفحہ 192-193 برکاتی پبلشر کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے : سِیَر جن بالائی باتوں کےلیے ہے ، اُس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے ، اُس کی روایات مذکورہ کسی حیض و نفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذاللہ اُن واہیات و معضلات و بے سر و پا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلی آلہٖ وعلیہم افضل الصّلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا ، اعتراض نکالنا ، اُن کی شانِ رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا ، مگر گمراہ بددین ، مخالف ومضاد حق تبیین ۔ (فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 582 رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)

صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں : تمام صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل ، ان کا جب ذکر کیا جائے ، تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بد مذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے ، ایسا شخص رافضی ہے ، اگرچہ چاروں خلفاء کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے ۔ مثلاً :حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہندہ رضی اللہ عنہم ، کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا ۔ صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کے باہم جو واقعات ہوئے ، ان میں پڑنا حرام ، حرام ، سخت حرام ہے ۔ مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں ۔ تمام صحابہ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں) سب جنتی ہیں ، وہ جہنم کی بِھنک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے ، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا ۔ یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے ۔ صحابہ کر ام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم انبیاء نہ تھے ، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں ۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں ، مگر ان کی کسی بات پر گرفت ﷲ و رسول (عزوجل و صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خلاف ہے ۔ ﷲعزوجل نے سورہ حدید میں جہاں صحابہ کی دو قسمیں فرمائیں ۔ مومنین قبلِ فتحِ مکہ اور بعدِ فتحِ مکہ اور اُن کو اِن پر تفضیل دی اور فرما دیا : (وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی) سب سے ﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ۔ ساتھ ہی ارشاد فرما دیا : (وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ) ﷲ خوب جانتا ہے ، جو کچھ تم کرو گے ۔ تو جب اُس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنتِ بے عذاب و کرامت و ثواب کا وعدہ فرما چکے ، تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ اُن کی کسی بات پر طعن کرے ؟ کیا طعن کرنے والا ﷲ (عزوجل) سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ نمبر 252-255 مکتبۃ المدینہ کراچی)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)

پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298859455683434/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯آسمانوں کا تذکرہ اور تخلیق کائنات کی کیفیت🕯*


📬 خالقِ کائنات نے سب سے پہلے اپنی قدرت سے جوہر کو پیدا کیا پھر جب جوہر پر اللہ تعالیٰ نگاہِ ہیبت ڈالی تو وہ پگھل گیا اور خدا کے خوف سے پانی بن گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر نگاہِ رحمت ڈالی تو آدھا پانی جم گیا جس سے عرش بنایا گیا، عرش کانپنے لگا تو اس پر لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ لکھ دیا جس سے وہ ساکن ہوگیا مگر پانی کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا جو قیامت تک موجزن رہے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے: وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ. اللہ کا عرش پانی پر تھا(هود/٧)
تخلیق کائنات: پھر جب پانی میں تلاطم خیز موجیں پیدا ہوئیں جن سے تہ بہ تہ دھوئیں کے بادل اٹھے اور جھاگ پیدا ہوئی تو اس سے زمین و آسمان بناۓ گئے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے پھر ان دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا کیا جس کے دباؤ سے زمین وآسمان کے طبق ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے: ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ.(السجدۃ١١)
اہل حکمت کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو دھوئیں سے اس لئے پیدا فرمایا کہ دھواں باہم پیوست ہوتا ہےاور بلندیوں پر جا کر ٹھہرتا ہے ، بخارات سے اس لئے پیدا نہیں فرمایا کہ وہ واپس لوٹ جاتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کا ادنیٰ کرشمہ ہے، پھر ارشادِ نبوی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پانی کی طرف نظر رحمت کی تو وہ جم گیا۔
آسمانوں کے نام اور ان کے رنگ: زمین سے آسمانِ دنیا کی اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی مسافت پانچ سو سال کے سفر کی دوری کے برابر ہے اور اسی طرح ہر آسمان کا اپنا اپنا حجم ہے کہتے ہیں کہ پہلا آسمان دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے مگر کوہ قاف کی سبزی کی وجہ سے یہ ہرا نظر آتا ہے، اس آسمان کا نام رقیعہ ہے۔دوسرے آسمان کا نام فیدوم یا ماعون ہےاور وہ ایسے لوہے کا ہے جس سے روشنی کی شعائیں پھوٹی پڑتی ہیں. تیسرے آسمان کا نام ملکوت یا ہاریون ہے اور وہ تانبے کا ہے۔ چوتھے آسمان کا نام زاہرہ ہے اور وہ آنکھوں میں خیرگی پیدا کرنے والی سفید چاندی سے بنا ہے۔ پانچویں آسمان کانام مزینہ یا مسہرہ ہے اور وہ سرخ سونے کا ہے۔ چھٹے آسمان کا نام خالصہ ہے اور وہ چمکدار موتیوں سے بنایا گیا ہے۔ ساتویں آسمان کا نام لابیہ یا دامعہ ہے، وہ سرخ یاقوت کا ہے اور اسی میں بیت المعمور ہے۔اور بیت المعمور کے چار ستون ہیں، ایک سرخ یاقوت کا، دوسرا سبز زبرجد کا، تیسرا سفید چاندی کا اور چوتھا سرخ سونے کا ہے، بیت المعمور کی عمارت سرخ عقیق کی ہے ہر روز وہاں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور ایک مرتبہ داخل ہوجاتے ہیں پھر قیامت تک انہیں دوبارہ داخلے کا موقع نہیں ملے گا۔
قولِ معتبر یہ ہے کہ زمین آسمان سے افضل ہے کیونکہ یہ انبیاء کا مولد و مدفن ہے اور زمین کے سب طبقات میں بہتر اوپر والا طبق ہے جس پر خلقِ خدا آباد ہے۔
سات ستارے اور ہر ستارہ کا آسمان: حضرتِ عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آسمانوں میں سب سے زیادہ افضل کرسی ہے جس کی چھت عرشِ الٰہی سے ملی ہوئی ہے، سات ستاروں کے علاوہ تمام فائدہ بخش ستارے اسی آسمان میں ہیں سات ستاروں کی تفصیل یہ ہے "زحل” جو شنبہ کے دن کا ستارہ ہے، ساتویں آسمان میں ہے۔ ” مشتری ” جو پنجشنبہ کا ستارہ ہے، چھٹے آسمان میں ہے۔ سہ شنبہ کا سیارہ "مریخ ” پانچویں آسمان میں ہے۔ یک شنبہ کا سیارہ "شمس ” چوتھے آسمان میں ہے۔ جمعہ کا سیارہ ” زہرہ ” تیسرے آسمان میں ہے ۔ چہار شنبہ کا سیارہ عطارد دوسرے آسمان میں ہے۔ اور دوشنبہ کا سیارہ "قمر ” پہلے آسمان میں ہے۔

ایک لطیف نکتہ: اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ نے آسمان و زمین کی صنعت میں بے انتہا عجائبات ودیعت کیا ہے حالانکہ سارے آسمان دھوئیں سے بنائے گئے ہیں مگر کسی میں ایک دوسرے کی مشابہت نہیں پائی جاتی، آسمان سے پانی برسایا ، اس سے مختلف سبزیاں اور پھل اگاۓ جن کے ذائقے اور رنگ جدا جدا ہیں ، حکمتِ الٰہی کے بموجب وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر لذیذ ہیں، آدم علیہ السلام کی اولاد میں مختلف اقسام بنائیں ، کوئی سفید ہے کوئی سیاہ ، کوئی خوش اور کائی اداس ، کوئی مومن کوئی کافر، کوئی عالم اور کوئی جاہل ہے حالانکہ سب آدم علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ.اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔(البقرۃ ۲۵۵)
کرسی سے کیا مراد ہے؟: کرسی سے مراد علمِ الٰہی ہے یا ملک خداوندی یا پھر مشہور آسمان کا نام ہے۔
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کرسی ایک موتی ہے جس کی لمبائی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے وسیع صحراء میں ایک حلقہ پڑا ہو، مزید فرمایا کہ آسمان کرسی میں ہیں اور کرسی عرشِ الٰہی کے سامنے ہے۔حضرتِ عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،سورج کرسی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے اور عرشِ الٰہی حجاباتِ الٰہی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے۔
مروی ہے کہ عرش اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں کے مابین ستر ہزار نور کے اور ستر ہزار ظلمت کے پردے حائل ہیں، ہر پردہ پانسو سال کا سفر ہے، اگر یہ پردے نہ ہوتے تو حاملینِ کرسی حاملینِ عرش کے نور سے جل جاتے۔ عرش ایک نورانی شَے ہے جو کرسی سے اوپر ہے اور ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے مگر اس قول سے جناب حسن بصری رضی اللہ عنہ کو اختلاف ہے۔
عرشِ الٰہی کی ساخت:عرشِ الٰہی کی بناوٹ کے متعلق مختلف روایتیں ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ یاقوت کا ہے یا سبز موتی کا ہے بعض کی راۓ ہے کہ سفید موتی سے بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی اس کی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔
فلکیات کے ماہرین اسے نواں آسمان ، فلکِ اعلیٰ، فلک الافلاک، اور فلک اطلس کہتے ہیں، اس میں کوئی ستارہ وغیرہ نہیں ہے قدیم ہیئت دانوں کے بقول تمام ستارے آٹھویں آسمان میں ہیں جس کو وہ فلک البروج اور اہلِ شرع کرسی کہتے ہیں۔
عرشِ الٰہی مخلوقات کی چھت ہے، کوئی چیز اس کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی ، وہ بندوں کے علم و ادراک اور مطلوب کی انتہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم قرار دیا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ.پس اگر وہ پھر جائیں تو کہیۓ کہ مجھے اللہ کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔(التوبۃ ١٢٩)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی توریت میں متوکل تھا اور کیوں نہ ہوتا آپ سے بڑھ کر معرفتِ خداوندی کا شناسا اور کون ہے؟ آپ موحدین کے سردار اور عارفینِ کاملین کے رہنما ہیں ، توکل کی حقیقت آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھی۔
[مکاشفۃ القلوب٢٠٩تا٢١٣رضوی کتاب گھردہلی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی 9839171719*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM