🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
اسی طرح یہ بات یاد رکھیں عرب ان الفاظ کو غیر ارادی طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ امام نووی رحمة اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : إِنَّ مَا وَقَعَ مِنْ سَبِّہٖ وَدُعَائِہٖ وَنَحْوِہٖ، لَیْسَ بِمَقْصُودٍ، بَلْ ہُوَ مِمَّا جَرَتْ بِہٖ عَادَۃُ الْعَرَبِ فِي وَصْلِ کَلَامِہَا بِلَا نِیَّۃٍ، کَقَوْلِہٖ : ’تَرِبَتْ یَمِینُکَ‘، ’وعَقْرٰی حَلْقٰی‘، وَفِي ہٰذَا الْحَدِیثِ : ’لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘، وَفِي حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ : ’لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ‘، وَنَحْوِ ذٰلِکَ، لَا یَقْصُدُونَ بِشَيئٍ مِّنْ ذٰلِکَ حَقِیقَۃَ الدُّعَائِ ۔
ترجمہ : بعض احادیث میں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو بددعا وغیرہ منقول ہے ، وہ حقیقت میں بددعا نہیں ، بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جو عرب لوگ بغیر نیت کے بطورِ تکیۂ کلام کے طور پر بول دیتے ہیں ۔ (بعض احادیث میں کسی صحابی کو تعلیم دیتے ہوئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’تَرِبَتْ یَمِینُکَ‘ (تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو) ، (ام لمومنن حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ) ’عَقْرٰی حَلْقٰی‘ (تُو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو) ، ایک حدیث میں یہ فرمان کہ ’لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘ (تیری عمر زیادہ نہ ہو) اور حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کہ ’لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ‘ (اللہ تعالیٰ ان کا پیٹ نہ بھرے) ، یہ ساری باتیں اسی قبیل سے ہیں ۔ ایسی باتوں سے اہل عرب بددعا مراد نہیں لیتے ۔

یعنی یہاں اصل معنی مراد نہیں ہوتا جس کےلیے کئی مثالیں احادیث میں موجود ہیں ۔ ہم دو مثالیں ذکر کرتے ہیں ۔

(1) ۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ يَا أَبَا ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏ابْدُ فِيهَا، ‌‌‌‌‌‏فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، ‌‌‌‌‌‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ أَبُو ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏فَسَكَتُّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، ‌‌‌‌‌‏فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، ‌‌‌‌‌‏فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ، ‌‌‌‌‌‏رواہ ابوداؤد:332
ترجمہ : ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا ، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا ، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا: ابوذر! ، میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری ماں تم پر روئے ، ابوذر ! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی ، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی ، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا ، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے ، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے ، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو ، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔

اس روایت میں جو بد دعا ہے وہ غیر ارادی طور پر ہے ۔ اس طرح کئ ایک مثال کتب احادیث میں موجود ہیں ۔

(2) ۔ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ
قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَهُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا ۔
ترجمہ : ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے حضر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہماری نیت حج کے سوااور کچھ نہ تھی ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو (اور لوگوں نے) بیت اللہ کا طواف کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۔ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہوگئے ۔ (افعال عمرہ کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں ، اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی تھیں س لیے بیت اللہ کا طواف نہ کرسکی (یعنی عمرہ چھوٹ گیا اورحج کرتی چلی گئی) جب محصب کی رات آئی ، میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کرسکی تھی ؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (پھر عمرہ ادا کر) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور صفیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ (لوگوں) کو روکنے کا سبب بن جاوں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عقری حلقی (تو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو) کیا تو نے یوم نحرکا طواف نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر ۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو آپ مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چڑھاٶ کے بعد اتر رہے تھے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر: 1561)

رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی اعتراض یہ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا پھر بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نہیں آئے ۔

جواب

(1) ۔ اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جانے سے جواب دے دیا ہو بلکہ روایت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کھاتے دیکھا اور چلے گئے اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے ہیں ۔

(2) ۔ اگر بالفرض مان لیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہوگا پھر بھی فورا نہیں آئے کیونکہ آپ کھانا کھارہے تھے اور اسلام نے تو یہاں تک اصول بیان کیا ہے کہ انسان اگر بھوکا ہو تو پہلے کھانا کھائے اور فرض نماز بعد میں پڑھے ، ہمیں کیا حق بنتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا حکم لگائیں ۔

رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی صاحبان اگر آپ لوگ اتنے معتدل مزاج انسان ہیں اور اپنے آپ کو بڑے حق پرست تصور کرتے ہیں تو درج ذیل میں ایک حدیث پڑھیں اور نتائج پر غور کریں پھر وہ حکم لگائیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر آپ نے لگایا ہے ؟

حدثنا ابو اليمان , قال: اخبرنا شعيب، عن الزهري , قال: اخبرني علي بن حسين ان حسين بن علي اخبره، ان علي بن ابي طالب اخبره،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طرقه وفاطمة بنت النبي عليه السلام ليلة فقال: الا تصليان؟ , فقلت: يا رسول الله انفسنا بيد الله فإذا شاء ان يبعثنا بعثنا، فانصرف حين قلنا ذلك ولم يرجع إلي شيئا، ثم سمعته وهو مول يضرب فخذه , وهو يقول: وكان الإنسان اكثر شيء جدلا".
ترجمہ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی، اور انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر (سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 1127 ، بَابُ تَحْرِيضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ)

حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال: اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي اخبره، عن علي رضي الله عنه، ان رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طرقه وفاطمة، قال:" الا تصليان؟". رجما بالغيب: لم يستبن، فرطا: يقال ندما، سرادقها: مثل السرادق والحجرة التي تطيف بالفساطيط يحاوره من المحاورة، لكنا هو الله ربي: اي لكن انا هو الله ربي، ثم حذف الالف وادغم إحدى النونين في الاخرى، وفجرنا خلالهما نهرا، يقول: بينهما، زلقا: لا يثبت فيه قدم، هنالك الولاية: مصدر الولي، عقبا: عاقبة، وعقبى وعقبة واحد وهي الآخرة قبلا، وقبلا وقبلا استئنافا، ليدحضوا: ليزيلوا الدحض الزلق ۔
ترجمہ : ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں علی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا۔ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے (آخر حدیث تک)۔ «رجما بالغيب‏» یعنی سنی سنائی اور ان کو خود کچھ علم نہیں۔ «فرطا‏» ندامت، شرمندگی۔ «سرادقها‏» یعنی قناتوں کی طرح سب طرف سے ان کو آگ گھیر لے گی جیسے کوٹھری کو سب طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ «يحاوره‏»، «محاورة» سے نکلا ہے یعنی گفتگو کرنا، تکرار کرنا۔ «لكنا هو الله ربي‏» اصل میں «لكن أنا هو الله ربي» تھا «أنا» کا ہمزہ حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا «لكنا» ہو گیا۔ «خلالهما نهرا» یعنی «بينهما» ان کے بیچ میں۔ «زلقا» چکنا، صاف جس پر پاؤں پھسلے (جمے نہیں)۔ «هنالك الولاية‏»، «ولايت‏»، «ولي» کا مصدر ہے۔ «عقبا‏»، «عاقبت» اسی طرح «عقبى» اور «عقبة» سب کا ایک ہی معنی ہے یعنی آخرت۔ «قبلا» اور «قبلا» اور «قبلا» (تینوں طرح پڑھا ہے) یعنی سامنے آنا۔ «ليدحضوا‏»، «دحض» سے نکلا ہے یعنی پھسلانا (مطلب یہ ہے کہ حق بات کو ناحق کریں) ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر حدیث نمبر 4724)

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري. ح حدثني محمد بن سلام، اخبرنا عتاب بن بشير، عن إسحاق، عن الزهري، اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي رضي الله عنهما اخبره، ان علي بن ابي طالب قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم" طرقه وفاطمة عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهم: الا تصلون؟، فقال علي: فقلت: يا رسول الله، إنما انفسنا بيد الله فإذا شاء ان يبعثنا بعثنا، فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قال له ذلك ولم يرجع إليه شيئا، ثم سمعه وهو مدبر يضرب، فخذه وهو يقول: وكان الإنسان اكثر شيء جدلا سورة الكهف آية 54"، قال ابو عبد الله: يقال ما اتاك ليلا فهو طارق، ويقال الطارق: النجم، والثاقب: المضيء، يقال: اثقب نارك للموقد ۔
ترجمہ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق ابن ابی راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیم السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا۔ جوں ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ”اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے“ اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو «طارق» کہلائے گا اور قرآن میں جو «والطارق» کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور «ثاقب» بمعنی چمکتا ہوا۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے
ہیں «ثقب نارك» یعنی آگ روشن کر۔ اس سے لفظ «ثاقب» ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر حدیث نمبر 7347)

حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري. ح وحدثنا إسماعيل، حدثني اخي عبد الحميد، عن سليمان، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، ان حسين بن علي عليهما السلام اخبره، ان علي بن ابي طالب اخبره، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم" طرقه وفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة، فقال لهم: الا تصلون؟، قال علي: فقلت يا رسول الله، إنما انفسنا بيد الله، فإذا شاء ان يبعثنا بعثنا، فانصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قلت ذلك ولم يرجع إلي شيئا، ثم سمعته وهو مدبر يضرب فخذه، ويقول: وكان الإنسان اكثر شيء جدلا سورة الكهف آية 54 ۔
ترجمہ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی اور نہیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات میں تشریف لائے اور ان سے کہا کیا تم لوگ نماز تہجد نہیں پڑھتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں نے آپ کو واپس جاتے وقت یہ کہتے سنا۔ آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ فرما رہے تھے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» کہ ”انسان بڑا ہی بحث کرنے والا ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر حدیث نمبر 7465)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام لَيْلَةً فَقَالَ : أَلَا تُصَلِّيَانِ ؟ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا ، فَانْصَرَفَ حِينَ قُلْنَا ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُوَلٍّ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَهُوَ يَقُولُ : وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا ۔
ترجمہ : حضرت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات ان کے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے ؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں ، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا ۔ ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر (سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏» ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 1127،چشتی)

مذکورہ حدیث پر غور کریں معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رات کے ٹائم تہجد کے لیے اٹھنے کا حکم دیا لیکن سامنے سے انہوں نے بشری تقاضہ کے مطابق اس بات کو اس وقت قبول کرنےسے کوتاہی کرلی کیونکہ ان کا خیال یہی ہوگا کہ تہجد فرض نہیں لہٰذا اللہ نے جب توفیق دی تو اٹھ کر پڑھیں گے ۔

رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی صاحبان : اگر کوئی ناصبی کھڑا ہو جائے اور کہنے لگ جائے کہ معاذاللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کر دی ؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افسوس میں آیت پڑھ دی ، تو آپ لوگ کیا جواب دینگے ؟

ہم تو اس شخص کو منہ توڑ جواب دیں گے حضرت علی اور حضر فاطمہ رضی اللہ عنہما کی گستاخی مت کر ان جنتی انسانوں کا ارادہ یہی تھا کہ تہجد فرض نہیں ہم بعد میں اٹھ کر لیں گے ۔

رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی صاحبان لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف تو آپ لوگ جگہ جگہ چیخ چیخ کر زبان درازی اور پوسٹر کرتے ہیں اور باطل کو حق بنانے کی ناکام کاوش کرتے ہیں لیکن اس مذکور حدیث پر آپ لوگ خاموش کیوں ؟

آپ لوگوں کی عدل پرستی و حدیث کہاں گئی ؟
فقیر کو پتہ ہے اگر آپ لوگوں نے یہ حدیث اور اس کا وہ باطل مفہوم عوام کے سامنے بیان کر دیا جس طرح کا مفہوم آب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف نکالتے ہیں تو رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی صاحبان لوگ گریباں سے پکڑ کر گھسیٹیں گے ان شاء اللہ ۔ یا اللہ ہمیں رافضی ، نیم رافضی تفضیلی ، ناصبی ، خارجی ، مرزاٸی اور جملہ فتنوں سے محفوظ فرما آمین ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298857089017004/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298859455683434/
جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن و اعتراض کرنا یا آپ سے سوء عقیدت رکھنا بدمذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے ، کیونکہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول ہیں اور تمام صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح اور عادل ہیں ، ان کا جب ذکر کیا جائے، تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تمام صحابہ کا تذکرہ خیر کے ساتھ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے ۔ پھر جن اصحاب کے لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نام لے کر دعائیں فرمائیں ان میں سے ایک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہیں اورحضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےصحابہ پر طعن کرنے سے منع فرمایا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا : وَ مَا لَکُمْ اَلَّا تُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَ لِلہِ مِیۡرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ لَا یَسْتَوِیۡ مِنۡکُمْ مَّنْ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی ؕ وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ۔
ترجمہ : اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے ، تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا،وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنّت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔ (پارہ 27 ، سورۃ الحدید ، آیت10)

تفسیر قرطبی میں اس آیت کے تحت فرمایا : فِيهِ خَمْسُ مَسَائِلَ الخامسة - قوله تعالى : (وكلا وعد اللہ الحسنى) أي المتقدمون المتناهون السابقون، والمتأخرون اللاحقون، وعدهم اللہ جميعا الجنة مع تفاوت الدرجات ۔
ترجمہ : اس میں پانچ مسائل کا ذکر ہے ۔پانچواں مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان : اللہ تعالیٰ نے سب سے حسنیٰ کا وعدہ فرمالیا ہے یعنی سبقت کرنے والے پہلے اور بعد میں شامل ہونے والے متاخرین اللہ تعالیٰ نے ان سب سے درجات کے فرق کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمالیا ہے ۔ (الجامع لاحكام القرآن جزء 17 صفحہ نمبر 205 ،207 مطبوعہ کوئٹہ)

تفسیر مظہری میں ہے : وَكُلًّا ۔۔۔اى كل واحد من الفريقين من الصحابة الذين أنفقوا قبل الفتح والذين أنفقوا بعده وَعَدَ اللہ الْحُسْنى ، لا يحل الطعن فى أحد منهم ولا بد حمل مشاجراتهم على محامل حسنة واغراض صحيحۃ او خطأ فى الاجتهاد ۔۔۔ وَاللہ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ عالم بالبواطن كعلمه بالظواهر فيجازى كلا على حسبه ۔
ترجمہ : اور تمام یعنی وہ صحابہ کرام جنہوں نے قبل فتح مکہ خرچ کیا اور جنہوں نے بعد فتح مکہ خرچ کیا ان دونوں گروہوں میں سے ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعد فرمالیا ۔ان میں سے کسی ایک کے بارے میں طعن کرنا حلال نہیں ہے اور ان کے مشاجرات کو اچھے محامل اور درست اغراض یا اجتہادی خطا پر محمول کرنا ضروری ہےاور جو تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے ۔وہ باطن کو بھی ایسے ہی جانتا ہے جیسے ظاہر کو جانتا ہے،تووہ ہر ایک کو اس کے مطابق بدلہ دے گا ۔ (تفسير مظھری، جلد9،صفحہ192، مطبوعہ کوئٹہ)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : لا تذکروا مساوی اصحابی فتختلف قلوبکم علیھم و اذکروا محاسن اصحابی حتی تاتلف قلوبکم علیھم ۔
ترجمہ : میرے صحابہ کا تذکرہ برائی کے ساتھ مت کرو کہ تمہارے دل ان کے خلاف ہوجائیں ، میرے صحابہ کی اچھائیاں بیان کرو ،یہاں تک کہ تمہارے دل ان کے لیے نرم ہوجائیں ۔ (کنز العمال ،کتاب الفضائل ،الباب الثالث ،الفصل الاول ، جزء 11، صفحہ247،مطبوعہ لاھور،چشتی)

صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’لا تسبوا أصحابي ، فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم، ولا نصيفه‘‘ ۔
ترجمہ : میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو،پس اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرے ، تو وہ ان کے ایک مُد یا آدھا مُد خیرات کرنے کو نہیں پہنچ سکتا ہے ۔ (صحیح بخاری کتاب المناقب جلد 1 صفحہ 518 مطبوعہ کراچی)
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا بعدی ‘‘ ۔
ترجمہ : میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو،میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ،میرے بعد ان کو (اعتراضات کا) نشانہ نہ بنانا ۔ (جامع ترمذی ابواب المناقب باب فی من سب اصحاب النبی جلد 2 صفحہ 706 مطبوعہ لاھور)

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا ”دعہ فانہ قد صحب رسول اللہ “ ۔
ترجمہ : ان کو کچھ نہ کہو یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے صحابی ہیں ۔ (صحیح بخاری کتاب المناقب باب ذکر معاویۃ رضی اللہ عنہ جلد 1 صفحہ531 مطبوعہ کراچی)

سنن ترمذی ، مسند امام احمد اور التاریخ الکبیر للبخاری میں حدیث صحیح منقول ہے (والنظم ھذا للبخاری ) : ” قال ابو مسھرحدثنا سعید بن عبد العزیز عن ربیعۃ بن یزید عن ابن ابی عمیرۃ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اللھم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدہ واھدبہ“ ۔
ترجمہ : حضرت سیدنا ابن ابو عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے دعا فرمائی : اے اللہ ! اسے ہادی ومہدی بنا،اسے ہدایت دے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (التاریخ الکبیر ،عبد الرحمن بن ابی عمیرہ جلد 5 صفحہ 240 دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدر آباد دکن)

امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد (ابن حجر ہیتمی ) شافعی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کو ذکر کرکے لکھتے ہیں : ”فتامل ھذاالدعاء من الصادق المصدوق وان ادعیتہ لامتہ لا سیما اصحابہ مقبولۃ غیر مردودۃ، تعلم ان اللہ سبحانہ استجاب لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھذا الدعاء لمعاویۃ فجعلہ ھادیا للناس مھدیا فی نفسہ ومن جمع اللہ لہ بین ھاتین المرتبتین کیف یتخیل فیہ ماتقولہ علیہ المبطلون ووصمہ بہ المعاندون معاذ اللہ لایدعو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھذاالدعاء الجامع لمعالی الدنیا والاخرۃ المانع لکل نقص نسبتہ الیہ الطائفۃ المارقۃ الفاجرۃ الا لمن علم صلی اللہ علیہ وسلم انہ اھل لذلک حقیق بما ھنالک “ ۔
ترجمہ : پس غورکرو یہ صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بلا شبہ آپ کی امت کے حق میں بالخصوص آپ کے صحابہ کرام کے حق میں مقبول ہے ، رد ہونے والی نہیں ۔ تو جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں قبول فرما کر ان کو ہدایت یافتہ اور لوگوں کےلیے رہنما بنا دیا اور جس شخصیت میں اللہ تعالیٰ یہ دونوں مقام جمع فرمادے اس کے بارے میں وہ سب کچھ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے ، جو باطل پرست ان کے خلاف کہتے ہیں اور جو معاندین ان پر عیب لگاتے ہیں معاذاللہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی دعا کہ جو دنیا وآخرت کے بلند مقامات کی جامع ہے اور ہر اس نقص کی مانع ہے ، جس کی نسبت فاسق وگمراہ فرقہ حضرت امیر معاویہ کی طرف کرتا ہے ، صرف اسی کے حق میں کرسکتے ہیں ، جو حقیقتاً اس دعا کا اہل وحق دار ہو ۔ (تطھیر الجنان الفصل الثانی صفحہ 49 دارالصحابہ للتراث )

مسند امام احمد ،مسند بزار،صحیح ابن حبان اور التاریخ الکبیر میں ہے : (والنظم ھذا للبخاری ) ”أبو مسهر عن سعيد بن عبد العزيز عن ربيعة بن يزيد عن عبد الرحمن بن عميرة عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال اللهم علم معاوية الحساب وقه العذاب“ ۔
ترجمہ : حضرت عبد الرحمن بن عمیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ معاویہ کو حساب سکھا اور اسے عذاب سے بچا ۔ (التاریخ الکبیر معاویۃ بن ابی سفیان بن حرب جلد 7 صفحہ 326 رقم 1405 دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدر آباد دکن)

المسامرہ میں ہے : (واعتقاد أھل السنۃ) والجماعۃ (تزکیۃ جمیع الصحابۃ) رضي اللہ عنھم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منھم والکف عن الطعن فیھم ، (والثناء علیھم کما أثنی اللہ سبحانہ وتعالی علیھم) ۔
ترجمہ : اہل سنت کا عقیدہ (یہ ہے کہ) تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی عدالت کو ثابت کرنے کے ساتھ ان کی پاکیزگی بیان کرناواجب ہے اور ان سب کے معاملہ میں طعن سے رکے رہنا واجب ہے اور ان کی تعریف کرنا ہے ، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان کی تعریف کی ہے ۔ (المسامرۃ شرح المسامرہ الرکن الرابع الاصل الثامن صفحہ 259 دارالکتب العلمیہ،چشتی)

نبراس میں ہے : سبہ رجل عند خلیفۃ الراشد عمر بن عبد العزیز فجلدہ ۔
ترجمہ : ایک شخص نے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز کے سامنے حضرت امیر معاویہ کو برا بھلا کہا ، تو آپ نے اسے کوڑے لگوائے ۔ (النبراس شرح شرح العقائد محاربات الصحابۃ واجبۃ التاویل صفحہ 330 مطبوعہ ملتان)

جو حضرت امیر معاویہ پر طعن کرے
حضرت امیر معاویہ رضی اللّہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول ہیں کاتبِ وحی ہیں ان کی مقدس شان میں بکنے والا ، بیہودہ گوئی کرنے والا اِن کی عظمت و شان پر کسی قسم کی حرف گیری (یعنی اعتراض) کرنے والا ، اِن سے بُغض رکھنے والا شخص لعنتی ہے رافضی ہے جہنمی کتا اور جہنمی خنزير ہے نطفہ حرام ہے ولدُ الزِنا ہے قرآن و سُنّت کا مُنکر ہے اہل بیت اَطہار رضی اللہ عنہم کا دشمن ہے اجماعِ اُمِّت کا منکر ہے ۔ اولیائے عظام و آئمہ کرام علیہم الرحمہ کی تعلیمات کا منکر ہے ۔
حضرت امام شعرانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : جس نے اللّٰہ تعالٰی کے ولی کی توہین کی اس کے دل میں زہر آلود تیر پیوست کردیا جاتا ہے ، اور وہ نہیں مرتا ، حتی کہ اس کا عقیدہ فساد کی نذر ہو جاتا ہے ، اور اس پر برے خاتمے کا خوف ہوتا ہے ۔ (الیواقیت الجواہر،مترجم،ص،٦٧)
اللہ اکبر ! جب اولیاءاللہ کی توہین کا یہ عالم ہے تو جو تمام ولیوں سے افضل ہستیوں یعنی حضراتِ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہم کے گستاخوں اور بے ادبوں کا کیا انجام ہوگا یہ خود ہی اندازہ کرلیں ۔

امام شہاب الدین خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ رحمہ ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا : ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔
ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)۔(نسیم الریاض ،القسم الثانی جلد 3 صفحہ 430 مطبوعہ ملتان)

امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264 ۔ امام اہلسنت اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ علیہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُاللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی روفضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 )(سنیوں کا لبادہ اڑھے جہنمی کتوں کو پہچانیئے)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)

پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔

امام احمد رضا خان قادری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : ای للامیر معاویۃ رضی اللہ عنہ اما عند اھل الحق فاستقامۃ الخلافۃ لہ رضی اللہ تعالی عنہ من یوم صلح السید المجتبی صلی اللہ تعالی علی جدہ الکریم وابیہ وعلیہ وعلی امہ واخیہ وسلم ۔
ترجمہ : بہر حال اہل حق کے نزدیک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےلیے اس دن سے خلافت مستحکم ہوگئی ، جس دن حضرت امام مجتبیٰ امام حسن صلی اللہ تعالیٰ علی جدہ الکریم وابیہ وعلیہ وعلی امہ واخیہ وسلم نے صلح کی ۔
اس کے بعد آپ رحمہ اللہ تعالیٰ امام حسن اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح والی حدیث بخاری نقل کرکے فرماتے ہیں ”وبہ ظھر ان الطعن علی الامیر معاویۃ طعن علی الامام المجتبی بل علی جدہ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم، بل علی ربہ عزوجل ۔
ترجمہ : اسی سے ظاہر ہوگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنا درحقیقت امام مجتبیٰ پر طعن کرنا ہے ، بلکہ یہ ان کے جد کریم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر طعن کرنا ہے ، بلکہ یہ تو اللہ عزوجل پر طعن کرنا ہے ۔
اس کے بعد اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : کیونکہ مسلمانوں کی باگ ڈور کسی غلط آدمی کے ہاتھ میں دینا اسلام اور مسلمین کے ساتھ خیانت ہے اور اگر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غلط تھے ، جیسا کہ طعن کرنے والے کہہ رہے ہیں ، تو پھر اس خیانت کے مرتکب معاذ اللہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ ٹھہریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اس خیانت پر رضا لازم آئے گی اور یہ وہ ہستی ہے جس کی شان میں (وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی) وارد ہے ۔ یہ جملے اس شخص کو فائدہ دیں گے جس کے لیے اللہ نے ہدایت کا ارادہ فرمالیا ۔ (المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد صفحہ 192-193 برکاتی پبلشر کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے : سِیَر جن بالائی باتوں کےلیے ہے ، اُس میں حد سے تجاوز نہیں کرسکتے ، اُس کی روایات مذکورہ کسی حیض و نفاس کے مسئلہ میں بھی سننے کی نہیں نہ کہ معاذاللہ اُن واہیات و معضلات و بے سر و پا حکایات سے صحابہ کرام حضور سیدالانام علیہ وعلی آلہٖ وعلیہم افضل الصّلاۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا ، اعتراض نکالنا ، اُن کی شانِ رفیع میں رخنے ڈالنا کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا ، مگر گمراہ بددین ، مخالف ومضاد حق تبیین ۔ (فتاوی رضویہ جلد 5 صفحہ 582 رضا فاؤنڈیشن لاھور،چشتی)

صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں : تمام صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم اہلِ خیر و صلاح ہیں اور عادل ، ان کا جب ذکر کیا جائے ، تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوءِ عقیدت بد مذہبی و گمراہی و استحقاقِ جہنم ہے کہ وہ حضورِ اقدس صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے ، ایسا شخص رافضی ہے ، اگرچہ چاروں خلفاء کو مانے اور اپنے آپ کو سُنّی کہے ۔ مثلاً :حضرت امیرِ معاویہ اور اُن کے والدِ ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہندہ رضی اللہ عنہم ، کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا ۔ صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کے باہم جو واقعات ہوئے ، ان میں پڑنا حرام ، حرام ، سخت حرام ہے ۔ مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں ۔ تمام صحابہ کرام اعلیٰ و ادنیٰ (اور ان میں ادنیٰ کوئی نہیں) سب جنتی ہیں ، وہ جہنم کی بِھنک نہ سنیں گے اور ہمیشہ اپنی من مانتی مرادوں میں رہیں گے ، محشر کی وہ بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی، فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا ۔ یہ سب مضمون قرآنِ عظیم کا ارشاد ہے ۔ صحابہ کر ام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم انبیاء نہ تھے ، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں ۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں ، مگر ان کی کسی بات پر گرفت ﷲ و رسول (عزوجل و صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خلاف ہے ۔ ﷲعزوجل نے سورہ حدید میں جہاں صحابہ کی دو قسمیں فرمائیں ۔ مومنین قبلِ فتحِ مکہ اور بعدِ فتحِ مکہ اور اُن کو اِن پر تفضیل دی اور فرما دیا : (وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی) سب سے ﷲ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ۔ ساتھ ہی ارشاد فرما دیا : (وَ اللہُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ) ﷲ خوب جانتا ہے ، جو کچھ تم کرو گے ۔ تو جب اُس نے اُن کے تمام اعمال جان کر حکم فرما دیا کہ ان سب سے ہم جنتِ بے عذاب و کرامت و ثواب کا وعدہ فرما چکے ، تو دوسرے کو کیا حق رہا کہ اُن کی کسی بات پر طعن کرے ؟ کیا طعن کرنے والا ﷲ (عزوجل) سے جدا اپنی مستقل حکومت قائم کرنا چاہتا ہے ۔ (بہار شریعت جلد 1 حصہ 1 صفحہ نمبر 252-255 مکتبۃ المدینہ کراچی)

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گستاخ جہنمی کتا ہے ، اگر کوئی چورہ شریف سے تعلق رکھ کر حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہم گدی نشین ہونے کی حیثیت سے اسے تنبیہ کرتے ہیں انسان بن جاؤ ۔ (الدرّۃ الحیدریہ علیٰ کلب الھاویہ عدوّ معاویہ صفحہ نمبر 8 مطبوعہ کرمانوالہ بک شاپ لاہور،چشتی)

پاکستان کے نقشبندی مجددی آستانوں کے مرکزی آستانہ عالیہ چورہ شریف کا واضح حکم آ جانے کے بعد بھی اگر چورہ شریف کا کوئی مرید حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کے گھناؤنے فعل میں ملوث ہے تو وہ باز آ جائے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے ۔ اور یہ بات کبھی نہ بھولے کہ ایک صحیح العقیدہ آستانے کے مرید نہ تو خارجیوں کے عقیدہ کے داعی ہیں اور نہ ہی رافضیوں کے عقیدہ کے داعی ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298859455683434/
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
*📚 « امجــــدی مضــــامین » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯آسمانوں کا تذکرہ اور تخلیق کائنات کی کیفیت🕯*


📬 خالقِ کائنات نے سب سے پہلے اپنی قدرت سے جوہر کو پیدا کیا پھر جب جوہر پر اللہ تعالیٰ نگاہِ ہیبت ڈالی تو وہ پگھل گیا اور خدا کے خوف سے پانی بن گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر نگاہِ رحمت ڈالی تو آدھا پانی جم گیا جس سے عرش بنایا گیا، عرش کانپنے لگا تو اس پر لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ لکھ دیا جس سے وہ ساکن ہوگیا مگر پانی کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا جو قیامت تک موجزن رہے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے: وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ. اللہ کا عرش پانی پر تھا(هود/٧)
تخلیق کائنات: پھر جب پانی میں تلاطم خیز موجیں پیدا ہوئیں جن سے تہ بہ تہ دھوئیں کے بادل اٹھے اور جھاگ پیدا ہوئی تو اس سے زمین و آسمان بناۓ گئے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے پھر ان دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے ہوا کو پیدا کیا جس کے دباؤ سے زمین وآسمان کے طبق ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے: ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ.(السجدۃ١١)
اہل حکمت کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو دھوئیں سے اس لئے پیدا فرمایا کہ دھواں باہم پیوست ہوتا ہےاور بلندیوں پر جا کر ٹھہرتا ہے ، بخارات سے اس لئے پیدا نہیں فرمایا کہ وہ واپس لوٹ جاتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کا ادنیٰ کرشمہ ہے، پھر ارشادِ نبوی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پانی کی طرف نظر رحمت کی تو وہ جم گیا۔
آسمانوں کے نام اور ان کے رنگ: زمین سے آسمانِ دنیا کی اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی مسافت پانچ سو سال کے سفر کی دوری کے برابر ہے اور اسی طرح ہر آسمان کا اپنا اپنا حجم ہے کہتے ہیں کہ پہلا آسمان دودھ سے بھی زیادہ سفید ہے مگر کوہ قاف کی سبزی کی وجہ سے یہ ہرا نظر آتا ہے، اس آسمان کا نام رقیعہ ہے۔دوسرے آسمان کا نام فیدوم یا ماعون ہےاور وہ ایسے لوہے کا ہے جس سے روشنی کی شعائیں پھوٹی پڑتی ہیں. تیسرے آسمان کا نام ملکوت یا ہاریون ہے اور وہ تانبے کا ہے۔ چوتھے آسمان کا نام زاہرہ ہے اور وہ آنکھوں میں خیرگی پیدا کرنے والی سفید چاندی سے بنا ہے۔ پانچویں آسمان کانام مزینہ یا مسہرہ ہے اور وہ سرخ سونے کا ہے۔ چھٹے آسمان کا نام خالصہ ہے اور وہ چمکدار موتیوں سے بنایا گیا ہے۔ ساتویں آسمان کا نام لابیہ یا دامعہ ہے، وہ سرخ یاقوت کا ہے اور اسی میں بیت المعمور ہے۔اور بیت المعمور کے چار ستون ہیں، ایک سرخ یاقوت کا، دوسرا سبز زبرجد کا، تیسرا سفید چاندی کا اور چوتھا سرخ سونے کا ہے، بیت المعمور کی عمارت سرخ عقیق کی ہے ہر روز وہاں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور ایک مرتبہ داخل ہوجاتے ہیں پھر قیامت تک انہیں دوبارہ داخلے کا موقع نہیں ملے گا۔
قولِ معتبر یہ ہے کہ زمین آسمان سے افضل ہے کیونکہ یہ انبیاء کا مولد و مدفن ہے اور زمین کے سب طبقات میں بہتر اوپر والا طبق ہے جس پر خلقِ خدا آباد ہے۔
سات ستارے اور ہر ستارہ کا آسمان: حضرتِ عبداللہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آسمانوں میں سب سے زیادہ افضل کرسی ہے جس کی چھت عرشِ الٰہی سے ملی ہوئی ہے، سات ستاروں کے علاوہ تمام فائدہ بخش ستارے اسی آسمان میں ہیں سات ستاروں کی تفصیل یہ ہے "زحل” جو شنبہ کے دن کا ستارہ ہے، ساتویں آسمان میں ہے۔ ” مشتری ” جو پنجشنبہ کا ستارہ ہے، چھٹے آسمان میں ہے۔ سہ شنبہ کا سیارہ "مریخ ” پانچویں آسمان میں ہے۔ یک شنبہ کا سیارہ "شمس ” چوتھے آسمان میں ہے۔ جمعہ کا سیارہ ” زہرہ ” تیسرے آسمان میں ہے ۔ چہار شنبہ کا سیارہ عطارد دوسرے آسمان میں ہے۔ اور دوشنبہ کا سیارہ "قمر ” پہلے آسمان میں ہے۔

ایک لطیف نکتہ: اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ نے آسمان و زمین کی صنعت میں بے انتہا عجائبات ودیعت کیا ہے حالانکہ سارے آسمان دھوئیں سے بنائے گئے ہیں مگر کسی میں ایک دوسرے کی مشابہت نہیں پائی جاتی، آسمان سے پانی برسایا ، اس سے مختلف سبزیاں اور پھل اگاۓ جن کے ذائقے اور رنگ جدا جدا ہیں ، حکمتِ الٰہی کے بموجب وہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر لذیذ ہیں، آدم علیہ السلام کی اولاد میں مختلف اقسام بنائیں ، کوئی سفید ہے کوئی سیاہ ، کوئی خوش اور کائی اداس ، کوئی مومن کوئی کافر، کوئی عالم اور کوئی جاہل ہے حالانکہ سب آدم علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ.اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔(البقرۃ ۲۵۵)
کرسی سے کیا مراد ہے؟: کرسی سے مراد علمِ الٰہی ہے یا ملک خداوندی یا پھر مشہور آسمان کا نام ہے۔
حضرتِ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کرسی ایک موتی ہے جس کی لمبائی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے وسیع صحراء میں ایک حلقہ پڑا ہو، مزید فرمایا کہ آسمان کرسی میں ہیں اور کرسی عرشِ الٰہی کے سامنے ہے۔حضرتِ عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،سورج کرسی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے اور عرشِ الٰہی حجاباتِ الٰہی کے نور کا ستّرواں حصہ ہے۔
مروی ہے کہ عرش اور کرسی کے اٹھانے والے فرشتوں کے مابین ستر ہزار نور کے اور ستر ہزار ظلمت کے پردے حائل ہیں، ہر پردہ پانسو سال کا سفر ہے، اگر یہ پردے نہ ہوتے تو حاملینِ کرسی حاملینِ عرش کے نور سے جل جاتے۔ عرش ایک نورانی شَے ہے جو کرسی سے اوپر ہے اور ایک علیحدہ وجود رکھتا ہے مگر اس قول سے جناب حسن بصری رضی اللہ عنہ کو اختلاف ہے۔
عرشِ الٰہی کی ساخت:عرشِ الٰہی کی بناوٹ کے متعلق مختلف روایتیں ہیں، بعض کہتے ہیں سرخ یاقوت کا ہے یا سبز موتی کا ہے بعض کی راۓ ہے کہ سفید موتی سے بنایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ ہی اس کی حقیقت کو بہتر جانتا ہے۔
فلکیات کے ماہرین اسے نواں آسمان ، فلکِ اعلیٰ، فلک الافلاک، اور فلک اطلس کہتے ہیں، اس میں کوئی ستارہ وغیرہ نہیں ہے قدیم ہیئت دانوں کے بقول تمام ستارے آٹھویں آسمان میں ہیں جس کو وہ فلک البروج اور اہلِ شرع کرسی کہتے ہیں۔
عرشِ الٰہی مخلوقات کی چھت ہے، کوئی چیز اس کے دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی ، وہ بندوں کے علم و ادراک اور مطلوب کی انتہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے عظیم قرار دیا ہے چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ.پس اگر وہ پھر جائیں تو کہیۓ کہ مجھے اللہ کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے۔(التوبۃ ١٢٩)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ نامی توریت میں متوکل تھا اور کیوں نہ ہوتا آپ سے بڑھ کر معرفتِ خداوندی کا شناسا اور کون ہے؟ آپ موحدین کے سردار اور عارفینِ کاملین کے رہنما ہیں ، توکل کی حقیقت آپ پر روزِ روشن کی طرح عیاں تھی۔
[مکاشفۃ القلوب٢٠٩تا٢١٣رضوی کتاب گھردہلی]
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*از قلم✍🏻 محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یوپی 9839171719*
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM