🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298843219018391/
حضرات علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما بھائی بھائی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے رافضیوں اور تفضیلی رافضیوں نے پوسٹ بنائی کہ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا دشمن کہتے تھے جبکہ انہیں رافضیوں شیعوں اور تفضیلی رافضیوں کا معروف مجتہد و معتبر عالم عبد اللہ بن جعفر الحمیری اپنی معتبر کتاب قرب الاسناد میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے :

عن جعفر عن أبيه أن عليا ( عليه السلام ) كان يقول لاهل حربه : إنا لم نقاتلهم على التكفير لهم ولم نقاتلهم على التكفير لنا ولكنا رأينا أنا على حق ورأوا أنهم على حق ۔
ترجمہ : امام جعفر اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدِمقابل (معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر) کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم انہیں کافر قرار دے کر جنگ نہیں لڑ رہے اور نہ ہی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ ہمیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ہمارے خیال کے مطابق ہم حق پر ہیں اور اُن کے خیال کے مطابق وہ حق پر ہیں ۔ (قرب الاسناد، باب، احادیث متفرقه، صفحہ نمبر 93 رقم 313 مطبوعہ مؤسسة آلِ بیت احیاء التراث بیروت)

جعفر، عن أبيه عليه السلام: أن عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلي الشرك ولا إلي النفاق، ولكنّه كان يقول : هم إخواننا بغوا علينا ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدمقابل (معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہو گئی ۔ (قرب الاسناد باب احادیث متفرقه صفحہ نمبر 94 رقم 318 مطبوعہ مؤسسة آلِ بیت احیاء التراث بیروت،چشتی)

خیال رہے کہ اس حدیث کی سند میں حضرت امام جعفر صادق ، حضرت امام باقر اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنھم اجمعین ہیں ۔ جن کو شیعہ آئمہ معصومین کہتے ہیں اور شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امامِ معصوم ، رسول الله کے برابر ہوتا ہے
چنانچہ شیعہ محدث ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی لکھتا ہے : الآئمة بمنزلة رسول الله ۔ امام رسول اللہ کے برابر ہوتا ہے ۔ (الاصول من الکافي، جلد2، کتاب الحجة، صفحہ270 ، مطبوعہ دار الکتب الاسلامیہ، مرتضٰی آخوندی، بازار سلطانی تہران،چشتی)

شیعہ عالم یعقوب الکلینی آئمہ کے بارے مزید لکھتا ہے کہ ابو جعفر علیہ السلام کہتے ہیں : نحن لسان الله و نحن وجه الله و نحن عین الله فی خلقه ۔
ترجمہ : ہم (آئمہ معصوم) الله کی مخلوق میں ، الله کی زبان ، الله کا چہرہ اور الله کی آنکھ ہیں ۔ (الاصول من الکافي، جلد2، کتاب التوحید، صفحہ145، مطبوعہ دار الکتب الاسلامیہ، مرتضٰی آخوندی، بازار سلطانی تہران)

شیعہ مذھب کا خاتم المحدثین ملّا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ : پس خدا رسول اور اسکے بعد اھلبیت ہی جملہ ماسویٰ الله پر متصرف و غالب حاکم و بادشاہ اور ھادی و حافظ ہیں اور وہ اس لئے کہ معیارِ ولایت ان کو حاصل ہے باقی انبیاء اور ملائکہ یہ منصب نہیں رکھتے تو غیرِ معصوم جماعت کیونکر اس عہدے (معصومیت) کو لے سکتی ہے ؟ ۔ (جلاءالعیون، جلد 2، صفحہ29، مطبوعہ شیعہ بک ایجنسی انصاف پریس لاھور،چشتی)

محترم قارئینِ کرام : آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیعہ مجتہدین نے لکھا کہ آئمہ اھلبیت معصوم ہوتے ہیں ، اور رسول اللہ علیہ السّلام کے درجہ کے برابر ہوتے ہیں اور الله کی زبان آنکھ ہوتے ہیں اور انبیاء و ملائکہ سے بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ تو یہی امام مولا علی رضی اللہ عنہ فرما رہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مخلص ساتھی ، مشرک و منافق نہیں ہیں بلکہ ہمارے بھائی ہیں ۔ جن کو مولا علی مخلص مومن اور اپنا بھائی کہیں ہم ان کو مخلص مؤمن اور مولا رضی اللہ عنہ کا بھائی کیوں نہ کہیں ؟ ۔ حُبِ علی رضی اللہ عنہ کا یہی تقاضہ ہے کہ قولِ علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کی جائے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت بھی ہو اور ان کی بات بھی نہ مانی جائے ۔

مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرمائیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ میرا بھائی ہے اور مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا دعوے دار کہے کہ نہیں یا علی سرکار آپ رضی اللہ عنہ سے غلطی ہو گئ معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کا دشمن ہے ۔ (معاذالله)

تو بتاؤ رافضیو اور تفضیلیو ہم مولا علی رضی اللہ عنہ کی مانیں یا تمہاری مانیں ؟

ہم تو علی رضی اللہ عنہ والے ہیں اور علی رضی اللہ عنہ کی مانیں گے ۔

باقی اگر کوئی شیعہ اس روایت سے انکار کرے گا تو خود اپنی نظر میں بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیونکہ وہ اپنے امامِ معصوم علی علیہ السّلام کے قول کو ٹھکرائے گا ۔
تو ہم مولا علی کی بولی بولیں گے کہ علی معاویہ بھائی بھائی رضی اللہ عنہما

خود کو سنی کہنے والے تفضیلی رافضی بھی سن لیں مولا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اہلسنّت کے عظیم محدّث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاد امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کیا ہے :

فرمان ِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں

حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے موقع پر پوچھا گیا :

جو لوگ آپ کے مقابلے میں آئے کیا وہ مشرک ہیں ؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ مشر ک نہیں ہیں ۔

پوچھنے والے نے کہا : کیا وہ منافق ہیں ؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:وہ منا فق بھی نہیں ہیں ۔

پوچھنے والے نے کہا: پھر آپ کی نگاہوں میں ان کی حیثیت کیا ہے ؟

جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم اخواننا بغواعلینا ، وہ لوگ ہمارے بھائی ہیں ، انہوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1013 عربی) ،(مصنف ابی شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 734 مکتبہ رحمانیہ لاہور)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ کا انکے متعلق کیا خیال ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے : قتلانا وقتلاھم فی الجنۃ ۔ ہمارے لشکر کے مقتول اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے مقتول سب جنت میں جائیں گے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1036)

اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب رضی اللہ عنھم اجمعین کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رافضیوں شیعوں اور تفضیلی رافضیوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین ۔ اب رافضی اور تفضیلی رافضی سینہ کوبی کریں یا اپنے امام پر تبرا لعن طعن یا جو کرنا ہے کریں ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298843219018391/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298857089017004/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض پیٹ نہ بھرے کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا دی‘ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بلاٶ ‘ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کھا رہے ہیں تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا بھی قبول ہے اور خلاف دعا بھی چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے خلاف دعا کی ۔

جواب : پہلے مکمل حدیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں وہ یہ ہے : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ : میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، کہا : آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا : جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ ۔ میں نے آپ سے آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا : جاؤ ، معاویہ کو بلا لاؤ ۔ میں نے پھر آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 6628)

اس حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعمی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :

(1) ۔ ظاہر یہ ہے کہ عہد سے مراد دعا ہے اور یہ کلام اخبار نہیں بلکہ انشاء ہے یعنی اے مولیٰ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ تو میری دعا رد نہ فرمائے گا کیونکہ نبی کی دعا رد نہیں ہوتی ان کی دعا مثل عہدِ الٰہی کے ہے جس کے خلاف کا احتمال نہیں مرقات ۔

(2) ۔ یعنی چونکہ تو نے مجھ میں بشریت بھی ودیعت رکھی ہے اور بشریت کے لیے غصہ بھی لازم ہے اگر میں کسی وقت غصہ میں کسی کو زبانی یا بدنی تکلیف پہنچادوں تو تو میری بددعا یا میری مار کو اس شخص کے لیے رحمت بنادینا میری بددعا کو الٹی کرکے لگانا اس فرمان پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بددعاؤں کو جو کسی امتی کے لیے ہوجائیں خود دعا بنادیا کہ عرض کیا خدایا وہ بددعائیں میری قبول نہ فرما بلکہ ان کے برعکس کر دے ، دوسرے یہ کہ نبی اگر کسی پر بلا وجہ سختی فرمادیں برا کہہ دیں ، مار دیں تو ان پر قصاص نہیں ۔ دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کی داڑھی بھی پکڑ لی اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا بھی مگر قصاص نہیں دیا ۔ تیسرے یہ کہ حضرت امیر معاویہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ﷲ ان کا پیٹ نہ بھرے یہ بددعا یقینًا ان کو دعا ہو کر لگی کہ غریب تھے پھر اتنے بڑے مالدار ہوئے کہ اما حسن و حسین علیہما السلام اور حضرت علی کے بھائی عقیل کو لاکھوں روپے نذرانے دیتے رہتے تھے دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ ۔ خیال رہے کہ ان تمام سے وہ بد دعائیں و سزائیں مراد ہیں جو غیر مستحق کو دی جائیں اور ممکن ہے کہ عام بد دعائیں و سزائیں مراد ہوں ، مستحق کو دی جائیں یا غیر مستحق کو بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں (اشعة المعات) یہاں مرقات نے فرمایا کہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز بہت اصرار سے مانگی اور سرکار کا دامن پیچھے سے پکڑ کر کھینچا کہ مجھے وہ چیز دے کر جائیے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ سے نکلا کہ تمہارے ہاتھ ٹو ٹ جائیں حضرت ام المؤمنین غمگین بیٹھ گئیں ، تب حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعا مانگی بعض سے فرمادیا عقرٰی حلقٰی بعض کو فرمایا رغم انف ابی ذر ۔ (مراة شرح مشکواة جلد نمبر 8 حدیث نمبر 2224)

اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی‘ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والوں کو معاف کر دیتے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کیوں دعا کرتے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ سے یہ کہا بھی نہیں کہ آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا رہے ہیں ۔ صرف دیکھ کر خاموش واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقعہ عرض کیا ۔

تیسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوئی خطا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے خلاف دعا کریں ‘ یہ ناممکن ہے ۔

عرب میں محاورۃ اس قسم کے الفاظ پیار و محبت کے موقع پر بھی بولے جاتے ہیں ان سے بد دعا مقصود نہیں ہوتی ۔

مثلاً : تیرا پیٹ نہ بھرے ‘ تجھے تیری ماں روئے ‘ وغیرہ کلمات غضب کےلیے نہیں بلکہ کرم کےلیے ارشاد ہوئے ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کےلیے یہ کلمات ارشاد فرماۓ تو یہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے حق میں رحمت بنی‘ ﷲ تعالیٰ نے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو اتنا بھرا اور اتنا مال دیا کہ انہوں نے سینکڑوں کا پیٹ بھر دیا ۔ ایک ایک شخص کو بات بات پر لاکھوں لاکھوں انعام دیتے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے عہد لیا تھا کہ اے ﷲ تعالیٰ اگر میں کسی مسلمان کو بلاوجہ لعنت یا اس کے خلاف دعا کروں تو اسے رحمت اجر اور پاکی کا ذریعہ بنا دینا ۔

اس روایت میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں(اللہ اس کے پیٹ کو نہ بھرے) اس سے کچھ ہواء پرست لوگ یہ دلیل لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ الفاظ معاویہ کی مذمت اور ان کے بد دعا ہے ۔ حالانکہ حقیقت پر غور کیا جائے تو یہ الفاظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ امام مسلم رحمة اللہ علیہ بھی اس حدیث سے فضلِ معاویہ سمجھے ہیں تبھی تو اس روایت کو ان احادیث کے ساتھ لائے ہیں جن کے الفاظ ہیں ۔
اللَّهُمَّ إنَّما أنا بَشَرٌ، فأيُّما رَجُلٍ مِنَ المُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ، أوْ لَعَنْتُهُ، أوْ جَلَدْتُهُ، فاجْعَلْها له زَكاةً ورَحْمَةً. وفي روايةٍ: عَنِ النبيِّ ﷺ، مِثْلَهُ، إلّا أنَّ فيه زَكاةً وأَجْرًا ۔ (صحيح مسلم2601)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں انسان ہوں جس بھی مسلمان شخص کومیں نےبرا بھلا بولا ؛ یا اس پر لعنت کی یا اسے سزا دی تو اس کو اس کے لئے گناہوں سے کفارہ اور رحمت بنا دے ایک روایت میں ہے کہ اس کے لیے اجر بنا دے ۔

اسی طرح یہ واقعہ بھی مسلم شریف میں اسی ضمن میں موجود ہے : قال حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتْ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتْ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۔ (صحیح مسلم 6627)
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) ام انس بھی کہلاتی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : تو وہی لڑکی ہے ، تو بڑی ہو گئی ہے ! تیری عمر بڑی نہ ہو ۔ وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا : بیٹی ! تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو ، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی ، یا کہا : اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں ، حتی کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ام سلیم ! کیا بات ہے ؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ نے میری (پالی ہوئی) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے ؟ آپ نے پوچھا : یہ کیا بات ہے ؟ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ کہتی ہے : آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو ، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو ، (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسے ، پھر فرمایا : ام سلیم کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے ، میں نے کہا : میں ایک بشر ہی ہوں ، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے ، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں ۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی ، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے ۔

اس حدیث کے حوالے سے امام نووی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا : قد فهم مسلم رحمه الله من هذا الحديث أن معاوية لم يكن مستحقا للدعاء عليه ، فلهذا أدخله في هذا الباب ۔
ترجمہ : امام مسلم رحمة اللہ علیہ اس حدیث سے یہی سمجھے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بد دعا کے کبھی بھی مستحق نہیں تھے تبھی اس روایت کو اس باب کے اندر ذکر فرمایا ہے ۔

علامہ ابن كثير لکھتے ہیں : (وكان من خصائصه أنه إذا سب رجلا ليس بذلك حقيقًا، يُجعلُ سَبُّ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كفارة عنه) ۔
ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ اگر کسی کو (سب) یعنی برا بھلا بولتے ہیں یہ اس کے لئے حقیقی معنی میں مراد نہیں ہوتا بلکہ یہ سب اس کے لیے ( گناہوں کا )کفار ہو جائے گا ۔
(الفصول في سيرة الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 385)

علامہ ابن بطال رحمة اللہ علیہ اس طرح کی ایک عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں : ہِيَ کَلِمَۃٌ لَّا یُرَادُ بِہَا الدُّعَائُ، وَإِنَّمَا تُسْتَعْمَلُ فِي الْمَدْحِ، کَمَا قَالُوا لِلشَّاعِرِ، إِذَا أَجَادَ، : قَاتَلَہُ اللّٰہُ، لَقَدْ أَجَادَ ۔
ترجمہ : یہ ایسا کلمہ ہے کہ اس سے بددعا مراد نہیں ہوتی اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ، جیسا کہ جب کوئی شاعر عمدہ شعر کہے تو عرب لوگ کہتے ہیں : قَاتَلَہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ اسے مارے) ، اس نے عمدہ شعر کہا ہے ۔ (شرح صحیح البخاري : 329/9)

اسی طرح علامہ ابن كثير " البداية والنهاية " میں حضرت معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما کے ترجمے میں بہت ہی خوبصورت ترین بات فرماتے ہیں : وقد انتفع معاوية بهذه الدعوة في دنياه وأخراه ؛ أما في دنياه : فإنه لما صار إلى الشام أميراً، كان يأكل في اليوم سبع مرات يجاء بقصعة فيها لحم كثير وبصل فيأكل منها ، ويأكل في اليوم سبع أكلات بلحم ، ومن الحلوى والفاكهة شيئاً كثيراً ، ويقول : والله ما أشبع وإنما أعيا، وهذه نعمة ومعدة يرغب فيها كل الملوك ۔
ترجمہ : یقیناً معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس دعا سے دنیا اور آخرت میں فائدہ لیا ہے ۔ دنیا میں فائدہ یوں لیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ جب شام کے امیر بنے تھے تو آپ ایک دن میں سات مرتبہ کھاتے تھے ؛ ان کے سامنے ایک بہت بڑا تھال لایا جاتا تھا جس میں بہت زیادہ گوشت اور پیاز ہوتا تھا پھر آپ اس سے کھاتے تھے اور آپ دن میں سات مرتبہ گوشت کھاتے تھے اور بہت زیادہ مٹھائی اور پھل کھاتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم میرا پیٹ نہیں بھرتا میں کھا کھا کے تھک جاتا ہوں اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اس طرح کا معدہ انسان کے پاس ہو جس کے لیے بادشاہ شوق رکھتے اور ترستے ہیں ۔

اسی طرح معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس دعا سے اخروی فائدہ بھی حاصل کیا علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : وأما في الآخرة : فقد أتبع مسلم هذا الحديث بالحديث الذي رواه البخاري وغيرهما من غير وجه عن جماعة من الصحابة .أن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : اللهم إنما أنا بشر فأيما عبد سببته أو جلدته أو دعوتہ عليه وليس لذلك أهلاً فاجعل ذلك كفارةً وقربة تقربه بها عندك يوم القيامة ۔ یعنی آخرت میں فائدہ اس طرح لیا کہ امام مسلم رحمة اللہ علیہ نے اس حدیث کو اس حدیث کے بعد ذکر کیا ہے جس کو بخاری وغیرہ نے بھی کئی اسناد سے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ میں ایک انسان ہوں جس کو بھی میں نے دنیا میں برا بھلا کہا ہے یا سزا دی ہے یا بد دعا دی ہے اور وہ اس کا اہل نہیں ہے تو اس
بد دعا کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے اور اس کو قیامت کے دن تیرے پاس قریب ہونے کا سبب بنا دینا ۔
اسی طرح یہ بات یاد رکھیں عرب ان الفاظ کو غیر ارادی طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ جیسا کہ امام نووی رحمة اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : إِنَّ مَا وَقَعَ مِنْ سَبِّہٖ وَدُعَائِہٖ وَنَحْوِہٖ، لَیْسَ بِمَقْصُودٍ، بَلْ ہُوَ مِمَّا جَرَتْ بِہٖ عَادَۃُ الْعَرَبِ فِي وَصْلِ کَلَامِہَا بِلَا نِیَّۃٍ، کَقَوْلِہٖ : ’تَرِبَتْ یَمِینُکَ‘، ’وعَقْرٰی حَلْقٰی‘، وَفِي ہٰذَا الْحَدِیثِ : ’لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘، وَفِي حَدِیثِ مُعَاوِیَۃَ : ’لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ‘، وَنَحْوِ ذٰلِکَ، لَا یَقْصُدُونَ بِشَيئٍ مِّنْ ذٰلِکَ حَقِیقَۃَ الدُّعَائِ ۔
ترجمہ : بعض احادیث میں (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو بددعا وغیرہ منقول ہے ، وہ حقیقت میں بددعا نہیں ، بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جو عرب لوگ بغیر نیت کے بطورِ تکیۂ کلام کے طور پر بول دیتے ہیں ۔ (بعض احادیث میں کسی صحابی کو تعلیم دیتے ہوئے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’تَرِبَتْ یَمِینُکَ‘ (تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو) ، (ام لمومنن حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ) ’عَقْرٰی حَلْقٰی‘ (تُو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو) ، ایک حدیث میں یہ فرمان کہ ’لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘ (تیری عمر زیادہ نہ ہو) اور حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان کہ ’لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ‘ (اللہ تعالیٰ ان کا پیٹ نہ بھرے) ، یہ ساری باتیں اسی قبیل سے ہیں ۔ ایسی باتوں سے اہل عرب بددعا مراد نہیں لیتے ۔

یعنی یہاں اصل معنی مراد نہیں ہوتا جس کےلیے کئی مثالیں احادیث میں موجود ہیں ۔ ہم دو مثالیں ذکر کرتے ہیں ۔

(1) ۔ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏قَالَ:‌‌‌‏ اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ يَا أَبَا ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏ابْدُ فِيهَا، ‌‌‌‌‌‏فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ، ‌‌‌‌‌‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ أَبُو ذَرٍّ، ‌‌‌‌‌‏فَسَكَتُّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لِأُمِّكَ الْوَيْلُ، ‌‌‌‌‌‏فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلًا، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ، ‌‌‌‌‌‏فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ، ‌‌‌‌‌‏رواہ ابوداؤد:332
ترجمہ : ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا ، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا ، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا: ابوذر! ، میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری ماں تم پر روئے ، ابوذر ! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی ، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی ، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا ، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے ، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے ، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو ، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔

اس روایت میں جو بد دعا ہے وہ غیر ارادی طور پر ہے ۔ اس طرح کئ ایک مثال کتب احادیث میں موجود ہیں ۔

(2) ۔ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ
قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَهُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا ۔
ترجمہ : ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے حضر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم حج کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہماری نیت حج کے سوااور کچھ نہ تھی ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو (اور لوگوں نے) بیت اللہ کا طواف کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم تھا کہ جو قربانی اپنے ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ۔ چنانچہ جن کے پاس ہدی نہ تھی وہ حلال ہوگئے ۔ (افعال عمرہ کے بعد) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ہدی نہیں لے گئی تھیں ، اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول ڈالے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں حائضہ ہوگئی تھیں س لیے بیت اللہ کا طواف نہ کرسکی (یعنی عمرہ چھوٹ گیا اورحج کرتی چلی گئی) جب محصب کی رات آئی ، میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور لوگ تو حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ جب ہم مکہ آئے تھے تو تم طواف نہ کرسکی تھی ؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم تک چلی جا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ (پھر عمرہ ادا کر) ہم لوگ تمہارا فلاں جگہ انتظار کریں گے اور صفیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے میں بھی آپ (لوگوں) کو روکنے کا سبب بن جاوں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : عقری حلقی (تو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو) کیا تو نے یوم نحرکا طواف نہیں کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں میں تو طواف کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں چل کوچ کر ۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوئی تو آپ مکہ سے جاتے ہوئے اوپر کے حصہ پر چڑھ رہے تھے اور میں نشیب میں اتر رہی تھی یا یہ کہا کہ میں اوپر چڑھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چڑھاٶ کے بعد اتر رہے تھے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر: 1561)

رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی اعتراض یہ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا پھر بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نہیں آئے ۔

جواب

(1) ۔ اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کہا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جانے سے جواب دے دیا ہو بلکہ روایت کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو کھاتے دیکھا اور چلے گئے اور آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے ہیں ۔

(2) ۔ اگر بالفرض مان لیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہوگا پھر بھی فورا نہیں آئے کیونکہ آپ کھانا کھارہے تھے اور اسلام نے تو یہاں تک اصول بیان کیا ہے کہ انسان اگر بھوکا ہو تو پہلے کھانا کھائے اور فرض نماز بعد میں پڑھے ، ہمیں کیا حق بنتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کا حکم لگائیں ۔

رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی صاحبان اگر آپ لوگ اتنے معتدل مزاج انسان ہیں اور اپنے آپ کو بڑے حق پرست تصور کرتے ہیں تو درج ذیل میں ایک حدیث پڑھیں اور نتائج پر غور کریں پھر وہ حکم لگائیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر آپ نے لگایا ہے ؟

حدثنا ابو اليمان , قال: اخبرنا شعيب، عن الزهري , قال: اخبرني علي بن حسين ان حسين بن علي اخبره، ان علي بن ابي طالب اخبره،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طرقه وفاطمة بنت النبي عليه السلام ليلة فقال: الا تصليان؟ , فقلت: يا رسول الله انفسنا بيد الله فإذا شاء ان يبعثنا بعثنا، فانصرف حين قلنا ذلك ولم يرجع إلي شيئا، ثم سمعته وهو مول يضرب فخذه , وهو يقول: وكان الإنسان اكثر شيء جدلا".
ترجمہ : ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی، اور انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے