🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ #مولانا_بلال_رضا_قادری
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓰
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
✍ #مولانا_بلال_رضا_قادری
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298843219018391/
حضرات علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما بھائی بھائی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے رافضیوں اور تفضیلی رافضیوں نے پوسٹ بنائی کہ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا دشمن کہتے تھے جبکہ انہیں رافضیوں شیعوں اور تفضیلی رافضیوں کا معروف مجتہد و معتبر عالم عبد اللہ بن جعفر الحمیری اپنی معتبر کتاب قرب الاسناد میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے :
عن جعفر عن أبيه أن عليا ( عليه السلام ) كان يقول لاهل حربه : إنا لم نقاتلهم على التكفير لهم ولم نقاتلهم على التكفير لنا ولكنا رأينا أنا على حق ورأوا أنهم على حق ۔
ترجمہ : امام جعفر اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدِمقابل (معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر) کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم انہیں کافر قرار دے کر جنگ نہیں لڑ رہے اور نہ ہی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ ہمیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ہمارے خیال کے مطابق ہم حق پر ہیں اور اُن کے خیال کے مطابق وہ حق پر ہیں ۔ (قرب الاسناد، باب، احادیث متفرقه، صفحہ نمبر 93 رقم 313 مطبوعہ مؤسسة آلِ بیت احیاء التراث بیروت)
جعفر، عن أبيه عليه السلام: أن عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلي الشرك ولا إلي النفاق، ولكنّه كان يقول : هم إخواننا بغوا علينا ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدمقابل (معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہو گئی ۔ (قرب الاسناد باب احادیث متفرقه صفحہ نمبر 94 رقم 318 مطبوعہ مؤسسة آلِ بیت احیاء التراث بیروت،چشتی)
خیال رہے کہ اس حدیث کی سند میں حضرت امام جعفر صادق ، حضرت امام باقر اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنھم اجمعین ہیں ۔ جن کو شیعہ آئمہ معصومین کہتے ہیں اور شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امامِ معصوم ، رسول الله کے برابر ہوتا ہے
چنانچہ شیعہ محدث ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی لکھتا ہے : الآئمة بمنزلة رسول الله ۔ امام رسول اللہ کے برابر ہوتا ہے ۔ (الاصول من الکافي، جلد2، کتاب الحجة، صفحہ270 ، مطبوعہ دار الکتب الاسلامیہ، مرتضٰی آخوندی، بازار سلطانی تہران،چشتی)
شیعہ عالم یعقوب الکلینی آئمہ کے بارے مزید لکھتا ہے کہ ابو جعفر علیہ السلام کہتے ہیں : نحن لسان الله و نحن وجه الله و نحن عین الله فی خلقه ۔
ترجمہ : ہم (آئمہ معصوم) الله کی مخلوق میں ، الله کی زبان ، الله کا چہرہ اور الله کی آنکھ ہیں ۔ (الاصول من الکافي، جلد2، کتاب التوحید، صفحہ145، مطبوعہ دار الکتب الاسلامیہ، مرتضٰی آخوندی، بازار سلطانی تہران)
شیعہ مذھب کا خاتم المحدثین ملّا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ : پس خدا رسول اور اسکے بعد اھلبیت ہی جملہ ماسویٰ الله پر متصرف و غالب حاکم و بادشاہ اور ھادی و حافظ ہیں اور وہ اس لئے کہ معیارِ ولایت ان کو حاصل ہے باقی انبیاء اور ملائکہ یہ منصب نہیں رکھتے تو غیرِ معصوم جماعت کیونکر اس عہدے (معصومیت) کو لے سکتی ہے ؟ ۔ (جلاءالعیون، جلد 2، صفحہ29، مطبوعہ شیعہ بک ایجنسی انصاف پریس لاھور،چشتی)
محترم قارئینِ کرام : آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیعہ مجتہدین نے لکھا کہ آئمہ اھلبیت معصوم ہوتے ہیں ، اور رسول اللہ علیہ السّلام کے درجہ کے برابر ہوتے ہیں اور الله کی زبان آنکھ ہوتے ہیں اور انبیاء و ملائکہ سے بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ تو یہی امام مولا علی رضی اللہ عنہ فرما رہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مخلص ساتھی ، مشرک و منافق نہیں ہیں بلکہ ہمارے بھائی ہیں ۔ جن کو مولا علی مخلص مومن اور اپنا بھائی کہیں ہم ان کو مخلص مؤمن اور مولا رضی اللہ عنہ کا بھائی کیوں نہ کہیں ؟ ۔ حُبِ علی رضی اللہ عنہ کا یہی تقاضہ ہے کہ قولِ علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کی جائے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت بھی ہو اور ان کی بات بھی نہ مانی جائے ۔
مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرمائیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ میرا بھائی ہے اور مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا دعوے دار کہے کہ نہیں یا علی سرکار آپ رضی اللہ عنہ سے غلطی ہو گئ معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کا دشمن ہے ۔ (معاذالله)
تو بتاؤ رافضیو اور تفضیلیو ہم مولا علی رضی اللہ عنہ کی مانیں یا تمہاری مانیں ؟
ہم تو علی رضی اللہ عنہ والے ہیں اور علی رضی اللہ عنہ کی مانیں گے ۔
باقی اگر کوئی شیعہ اس روایت سے انکار کرے گا تو خود اپنی نظر میں بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیونکہ وہ اپنے امامِ معصوم علی علیہ السّلام کے قول کو ٹھکرائے گا ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298843219018391/
حضرات علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما بھائی بھائی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے رافضیوں اور تفضیلی رافضیوں نے پوسٹ بنائی کہ معاذ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا دشمن کہتے تھے جبکہ انہیں رافضیوں شیعوں اور تفضیلی رافضیوں کا معروف مجتہد و معتبر عالم عبد اللہ بن جعفر الحمیری اپنی معتبر کتاب قرب الاسناد میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے :
عن جعفر عن أبيه أن عليا ( عليه السلام ) كان يقول لاهل حربه : إنا لم نقاتلهم على التكفير لهم ولم نقاتلهم على التكفير لنا ولكنا رأينا أنا على حق ورأوا أنهم على حق ۔
ترجمہ : امام جعفر اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدِمقابل (معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر) کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم انہیں کافر قرار دے کر جنگ نہیں لڑ رہے اور نہ ہی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ ہمیں کافر قرار دیتے ہیں بلکہ ہمارے خیال کے مطابق ہم حق پر ہیں اور اُن کے خیال کے مطابق وہ حق پر ہیں ۔ (قرب الاسناد، باب، احادیث متفرقه، صفحہ نمبر 93 رقم 313 مطبوعہ مؤسسة آلِ بیت احیاء التراث بیروت)
جعفر، عن أبيه عليه السلام: أن عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلي الشرك ولا إلي النفاق، ولكنّه كان يقول : هم إخواننا بغوا علينا ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق اپنے والد امام باقر سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے مدمقابل (معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہو گئی ۔ (قرب الاسناد باب احادیث متفرقه صفحہ نمبر 94 رقم 318 مطبوعہ مؤسسة آلِ بیت احیاء التراث بیروت،چشتی)
خیال رہے کہ اس حدیث کی سند میں حضرت امام جعفر صادق ، حضرت امام باقر اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنھم اجمعین ہیں ۔ جن کو شیعہ آئمہ معصومین کہتے ہیں اور شیعہ کا عقیدہ ہے کہ امامِ معصوم ، رسول الله کے برابر ہوتا ہے
چنانچہ شیعہ محدث ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحاق الکلینی لکھتا ہے : الآئمة بمنزلة رسول الله ۔ امام رسول اللہ کے برابر ہوتا ہے ۔ (الاصول من الکافي، جلد2، کتاب الحجة، صفحہ270 ، مطبوعہ دار الکتب الاسلامیہ، مرتضٰی آخوندی، بازار سلطانی تہران،چشتی)
شیعہ عالم یعقوب الکلینی آئمہ کے بارے مزید لکھتا ہے کہ ابو جعفر علیہ السلام کہتے ہیں : نحن لسان الله و نحن وجه الله و نحن عین الله فی خلقه ۔
ترجمہ : ہم (آئمہ معصوم) الله کی مخلوق میں ، الله کی زبان ، الله کا چہرہ اور الله کی آنکھ ہیں ۔ (الاصول من الکافي، جلد2، کتاب التوحید، صفحہ145، مطبوعہ دار الکتب الاسلامیہ، مرتضٰی آخوندی، بازار سلطانی تہران)
شیعہ مذھب کا خاتم المحدثین ملّا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ : پس خدا رسول اور اسکے بعد اھلبیت ہی جملہ ماسویٰ الله پر متصرف و غالب حاکم و بادشاہ اور ھادی و حافظ ہیں اور وہ اس لئے کہ معیارِ ولایت ان کو حاصل ہے باقی انبیاء اور ملائکہ یہ منصب نہیں رکھتے تو غیرِ معصوم جماعت کیونکر اس عہدے (معصومیت) کو لے سکتی ہے ؟ ۔ (جلاءالعیون، جلد 2، صفحہ29، مطبوعہ شیعہ بک ایجنسی انصاف پریس لاھور،چشتی)
محترم قارئینِ کرام : آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیعہ مجتہدین نے لکھا کہ آئمہ اھلبیت معصوم ہوتے ہیں ، اور رسول اللہ علیہ السّلام کے درجہ کے برابر ہوتے ہیں اور الله کی زبان آنکھ ہوتے ہیں اور انبیاء و ملائکہ سے بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ تو یہی امام مولا علی رضی اللہ عنہ فرما رہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مخلص ساتھی ، مشرک و منافق نہیں ہیں بلکہ ہمارے بھائی ہیں ۔ جن کو مولا علی مخلص مومن اور اپنا بھائی کہیں ہم ان کو مخلص مؤمن اور مولا رضی اللہ عنہ کا بھائی کیوں نہ کہیں ؟ ۔ حُبِ علی رضی اللہ عنہ کا یہی تقاضہ ہے کہ قولِ علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کی جائے ۔ یہ کیا بات ہوئی کہ مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت بھی ہو اور ان کی بات بھی نہ مانی جائے ۔
مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ فرمائیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ میرا بھائی ہے اور مولا علی رضی اللہ عنہ کی محبت کا دعوے دار کہے کہ نہیں یا علی سرکار آپ رضی اللہ عنہ سے غلطی ہو گئ معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کا دشمن ہے ۔ (معاذالله)
تو بتاؤ رافضیو اور تفضیلیو ہم مولا علی رضی اللہ عنہ کی مانیں یا تمہاری مانیں ؟
ہم تو علی رضی اللہ عنہ والے ہیں اور علی رضی اللہ عنہ کی مانیں گے ۔
باقی اگر کوئی شیعہ اس روایت سے انکار کرے گا تو خود اپنی نظر میں بھی ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیونکہ وہ اپنے امامِ معصوم علی علیہ السّلام کے قول کو ٹھکرائے گا ۔
تو ہم مولا علی کی بولی بولیں گے کہ علی معاویہ بھائی بھائی رضی اللہ عنہما
خود کو سنی کہنے والے تفضیلی رافضی بھی سن لیں مولا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اہلسنّت کے عظیم محدّث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاد امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کیا ہے :
فرمان ِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے موقع پر پوچھا گیا :
جو لوگ آپ کے مقابلے میں آئے کیا وہ مشرک ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ مشر ک نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا : کیا وہ منافق ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:وہ منا فق بھی نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا: پھر آپ کی نگاہوں میں ان کی حیثیت کیا ہے ؟
جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم اخواننا بغواعلینا ، وہ لوگ ہمارے بھائی ہیں ، انہوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1013 عربی) ،(مصنف ابی شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 734 مکتبہ رحمانیہ لاہور)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ کا انکے متعلق کیا خیال ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے : قتلانا وقتلاھم فی الجنۃ ۔ ہمارے لشکر کے مقتول اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے مقتول سب جنت میں جائیں گے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1036)
اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب رضی اللہ عنھم اجمعین کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رافضیوں شیعوں اور تفضیلی رافضیوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین ۔ اب رافضی اور تفضیلی رافضی سینہ کوبی کریں یا اپنے امام پر تبرا لعن طعن یا جو کرنا ہے کریں ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298843219018391/
خود کو سنی کہنے والے تفضیلی رافضی بھی سن لیں مولا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان اہلسنّت کے عظیم محدّث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا استاد امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کیا ہے :
فرمان ِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے موقع پر پوچھا گیا :
جو لوگ آپ کے مقابلے میں آئے کیا وہ مشرک ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ مشر ک نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا : کیا وہ منافق ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:وہ منا فق بھی نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا: پھر آپ کی نگاہوں میں ان کی حیثیت کیا ہے ؟
جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم اخواننا بغواعلینا ، وہ لوگ ہمارے بھائی ہیں ، انہوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1013 عربی) ،(مصنف ابی شیبہ مترجم اردو جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 734 مکتبہ رحمانیہ لاہور)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ کا انکے متعلق کیا خیال ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے : قتلانا وقتلاھم فی الجنۃ ۔ ہمارے لشکر کے مقتول اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے مقتول سب جنت میں جائیں گے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 1036)
اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب رضی اللہ عنھم اجمعین کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور رافضیوں شیعوں اور تفضیلی رافضیوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین ۔ اب رافضی اور تفضیلی رافضی سینہ کوبی کریں یا اپنے امام پر تبرا لعن طعن یا جو کرنا ہے کریں ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298843219018391/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298857089017004/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض پیٹ نہ بھرے کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا دی‘ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بلاٶ ‘ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کھا رہے ہیں تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا بھی قبول ہے اور خلاف دعا بھی چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے خلاف دعا کی ۔
جواب : پہلے مکمل حدیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں وہ یہ ہے : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ : میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، کہا : آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا : جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ ۔ میں نے آپ سے آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا : جاؤ ، معاویہ کو بلا لاؤ ۔ میں نے پھر آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 6628)
اس حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعمی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
(1) ۔ ظاہر یہ ہے کہ عہد سے مراد دعا ہے اور یہ کلام اخبار نہیں بلکہ انشاء ہے یعنی اے مولیٰ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ تو میری دعا رد نہ فرمائے گا کیونکہ نبی کی دعا رد نہیں ہوتی ان کی دعا مثل عہدِ الٰہی کے ہے جس کے خلاف کا احتمال نہیں مرقات ۔
(2) ۔ یعنی چونکہ تو نے مجھ میں بشریت بھی ودیعت رکھی ہے اور بشریت کے لیے غصہ بھی لازم ہے اگر میں کسی وقت غصہ میں کسی کو زبانی یا بدنی تکلیف پہنچادوں تو تو میری بددعا یا میری مار کو اس شخص کے لیے رحمت بنادینا میری بددعا کو الٹی کرکے لگانا اس فرمان پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بددعاؤں کو جو کسی امتی کے لیے ہوجائیں خود دعا بنادیا کہ عرض کیا خدایا وہ بددعائیں میری قبول نہ فرما بلکہ ان کے برعکس کر دے ، دوسرے یہ کہ نبی اگر کسی پر بلا وجہ سختی فرمادیں برا کہہ دیں ، مار دیں تو ان پر قصاص نہیں ۔ دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کی داڑھی بھی پکڑ لی اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا بھی مگر قصاص نہیں دیا ۔ تیسرے یہ کہ حضرت امیر معاویہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ﷲ ان کا پیٹ نہ بھرے یہ بددعا یقینًا ان کو دعا ہو کر لگی کہ غریب تھے پھر اتنے بڑے مالدار ہوئے کہ اما حسن و حسین علیہما السلام اور حضرت علی کے بھائی عقیل کو لاکھوں روپے نذرانے دیتے رہتے تھے دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ ۔ خیال رہے کہ ان تمام سے وہ بد دعائیں و سزائیں مراد ہیں جو غیر مستحق کو دی جائیں اور ممکن ہے کہ عام بد دعائیں و سزائیں مراد ہوں ، مستحق کو دی جائیں یا غیر مستحق کو بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں (اشعة المعات) یہاں مرقات نے فرمایا کہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز بہت اصرار سے مانگی اور سرکار کا دامن پیچھے سے پکڑ کر کھینچا کہ مجھے وہ چیز دے کر جائیے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ سے نکلا کہ تمہارے ہاتھ ٹو ٹ جائیں حضرت ام المؤمنین غمگین بیٹھ گئیں ، تب حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعا مانگی بعض سے فرمادیا عقرٰی حلقٰی بعض کو فرمایا رغم انف ابی ذر ۔ (مراة شرح مشکواة جلد نمبر 8 حدیث نمبر 2224)
اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی‘ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والوں کو معاف کر دیتے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کیوں دعا کرتے ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298857089017004/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض پیٹ نہ بھرے کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : رافضی ، ان کے ہمنوا نیم رافضی اور مرزا جہلمی اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا دی‘ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بلاٶ ‘ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کھا رہے ہیں تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا بھی قبول ہے اور خلاف دعا بھی چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے خلاف دعا کی ۔
جواب : پہلے مکمل حدیثِ مبارکہ پڑھتے ہیں وہ یہ ہے : عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ ۔
ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ : میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، کہا : آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا : جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ ۔ میں نے آپ سے آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا : جاؤ ، معاویہ کو بلا لاؤ ۔ میں نے پھر آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 6628)
اس حدیث کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعمی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
(1) ۔ ظاہر یہ ہے کہ عہد سے مراد دعا ہے اور یہ کلام اخبار نہیں بلکہ انشاء ہے یعنی اے مولیٰ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ تو میری دعا رد نہ فرمائے گا کیونکہ نبی کی دعا رد نہیں ہوتی ان کی دعا مثل عہدِ الٰہی کے ہے جس کے خلاف کا احتمال نہیں مرقات ۔
(2) ۔ یعنی چونکہ تو نے مجھ میں بشریت بھی ودیعت رکھی ہے اور بشریت کے لیے غصہ بھی لازم ہے اگر میں کسی وقت غصہ میں کسی کو زبانی یا بدنی تکلیف پہنچادوں تو تو میری بددعا یا میری مار کو اس شخص کے لیے رحمت بنادینا میری بددعا کو الٹی کرکے لگانا اس فرمان پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بددعاؤں کو جو کسی امتی کے لیے ہوجائیں خود دعا بنادیا کہ عرض کیا خدایا وہ بددعائیں میری قبول نہ فرما بلکہ ان کے برعکس کر دے ، دوسرے یہ کہ نبی اگر کسی پر بلا وجہ سختی فرمادیں برا کہہ دیں ، مار دیں تو ان پر قصاص نہیں ۔ دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کی داڑھی بھی پکڑ لی اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا بھی مگر قصاص نہیں دیا ۔ تیسرے یہ کہ حضرت امیر معاویہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ﷲ ان کا پیٹ نہ بھرے یہ بددعا یقینًا ان کو دعا ہو کر لگی کہ غریب تھے پھر اتنے بڑے مالدار ہوئے کہ اما حسن و حسین علیہما السلام اور حضرت علی کے بھائی عقیل کو لاکھوں روپے نذرانے دیتے رہتے تھے دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ ۔ خیال رہے کہ ان تمام سے وہ بد دعائیں و سزائیں مراد ہیں جو غیر مستحق کو دی جائیں اور ممکن ہے کہ عام بد دعائیں و سزائیں مراد ہوں ، مستحق کو دی جائیں یا غیر مستحق کو بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں (اشعة المعات) یہاں مرقات نے فرمایا کہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی چیز بہت اصرار سے مانگی اور سرکار کا دامن پیچھے سے پکڑ کر کھینچا کہ مجھے وہ چیز دے کر جائیے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ سے نکلا کہ تمہارے ہاتھ ٹو ٹ جائیں حضرت ام المؤمنین غمگین بیٹھ گئیں ، تب حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعا مانگی بعض سے فرمادیا عقرٰی حلقٰی بعض کو فرمایا رغم انف ابی ذر ۔ (مراة شرح مشکواة جلد نمبر 8 حدیث نمبر 2224)
اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی‘ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والوں کو معاف کر دیتے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کیوں دعا کرتے ۔