قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّی أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَی عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَی عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَی عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)
جواب : یہ روایت ابو داؤد شریف میں موجود ہے ۔ صاحبِ ابو داود نے یہ روایت نقل کر کے اس پر کوئی کلام نہیں فرمایا جو ان کے نزدیک صحیح ہونے کی علامت ہے ۔ حدیث میں یہ قول حضرت امیر معاویہ کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اہل مجلس میں سے کسی کا ہے ۔ چناں چہ روایت میں ’’فقال له رجل‘‘ کا لفظ ہے ، لہذا حضرت امیر معاویہ کا حضرت امامِ حسن کی وفات کو ہلکا سمجھنا ثابت نہیں ہوا ، اسی لیے حضرت امیر معاویہ پر یہ اعتراض بھی غلط ہےکہ ان کے دل میں حضرت امامِ حسن کا کوئی مقام نہیں تھا ۔ بلکہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ حضرت امیر معاویہ ، حضرت امامِ حسن کا بہت احترام فرماتے تھے ۔ اہل سنت والجماعت کی یہی رائے ہے کہ حضرت امامِ حسن بہت محترم ومکرم صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ دیگر حضرات کی طرح حضرت امیر معاویہ کا ان سے عزت واحترام کا برتاؤ تھا رضی اللہ عنہم ۔
روایت میں ان چیزوں کے گھر میں ہونے کا تو ذکر ہے لیکن خود حضرت امیر معاویہ کے استعمال فرمانے کا ذکر نہیں ہے ، اس لیے اس روایت کی بنیاد پر ان پر حدیث کی مخالفت کا الزام درست نہیں ۔
’’انگارہ‘‘ کہنے پر حضرت معاویہ کی خاموشی کسی حکمت پر مبنی ہو سکتی ہے ، لہٰذا محض خاموشی کی وجہ سے ان پر عدمِ احترام کا الزام درست نہیں معلوم ہوتا ۔ لیکن اس کے برعکس ایسی اور بہت سی روایات ایسی موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات انتہائی عمدہ اور خلوص سے پر تھے، مثلاً : ⬇
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امامِ حسین ، اپنے بھائی حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان،چشتی)
حضرت امامِ حسن بن علی ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امامِ حسن کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امامِ حسن و امامِ حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان)
جب حضرت امامِ حسن کا انتقال ہوا تو حضرت امامِ حسین برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھر پور عزت کرتے ۔ (البداية والنهاية، سنة ستين من الهجرة، قصة الحسين بن علي،چشتی)
حضرت معاویہ کا حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف شیعہ کو بھی اس سے انکار نہیں ہے موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال امامِ حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے ۔ (مقتل الحسین علیہ السلام لابی مخنف قم مطبعہ امیر)
ﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے پیاروں کی شان میں گستاخی سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298257232410323/
جواب : یہ روایت ابو داؤد شریف میں موجود ہے ۔ صاحبِ ابو داود نے یہ روایت نقل کر کے اس پر کوئی کلام نہیں فرمایا جو ان کے نزدیک صحیح ہونے کی علامت ہے ۔ حدیث میں یہ قول حضرت امیر معاویہ کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اہل مجلس میں سے کسی کا ہے ۔ چناں چہ روایت میں ’’فقال له رجل‘‘ کا لفظ ہے ، لہذا حضرت امیر معاویہ کا حضرت امامِ حسن کی وفات کو ہلکا سمجھنا ثابت نہیں ہوا ، اسی لیے حضرت امیر معاویہ پر یہ اعتراض بھی غلط ہےکہ ان کے دل میں حضرت امامِ حسن کا کوئی مقام نہیں تھا ۔ بلکہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ حضرت امیر معاویہ ، حضرت امامِ حسن کا بہت احترام فرماتے تھے ۔ اہل سنت والجماعت کی یہی رائے ہے کہ حضرت امامِ حسن بہت محترم ومکرم صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ دیگر حضرات کی طرح حضرت امیر معاویہ کا ان سے عزت واحترام کا برتاؤ تھا رضی اللہ عنہم ۔
روایت میں ان چیزوں کے گھر میں ہونے کا تو ذکر ہے لیکن خود حضرت امیر معاویہ کے استعمال فرمانے کا ذکر نہیں ہے ، اس لیے اس روایت کی بنیاد پر ان پر حدیث کی مخالفت کا الزام درست نہیں ۔
’’انگارہ‘‘ کہنے پر حضرت معاویہ کی خاموشی کسی حکمت پر مبنی ہو سکتی ہے ، لہٰذا محض خاموشی کی وجہ سے ان پر عدمِ احترام کا الزام درست نہیں معلوم ہوتا ۔ لیکن اس کے برعکس ایسی اور بہت سی روایات ایسی موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات انتہائی عمدہ اور خلوص سے پر تھے، مثلاً : ⬇
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امامِ حسین ، اپنے بھائی حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان،چشتی)
حضرت امامِ حسن بن علی ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امامِ حسن کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امامِ حسن و امامِ حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان)
جب حضرت امامِ حسن کا انتقال ہوا تو حضرت امامِ حسین برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھر پور عزت کرتے ۔ (البداية والنهاية، سنة ستين من الهجرة، قصة الحسين بن علي،چشتی)
حضرت معاویہ کا حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف شیعہ کو بھی اس سے انکار نہیں ہے موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال امامِ حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے ۔ (مقتل الحسین علیہ السلام لابی مخنف قم مطبعہ امیر)
ﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے پیاروں کی شان میں گستاخی سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298257232410323/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25499
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراضات کے جوابات
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298257232410323/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراضات کے جوابات
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298257232410323/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM