🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/
حضرت امیر معاویہ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی نظر میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : آج کل سوشل میڈیا پر سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اپنی جہالت کے ساتھ ساتھ اپنی رافضیت بھی دیکھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر انتہائی گستاخانہ انداز میں کر رہے یہ سب اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت کی آڑ میں کھلے رافضی کرتے چلے آرہے تھے اب چھپے رافضی بھی یہی کچھ کر رہے ہیں فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا اصل اسکن پیش کیے شاید کچھ احباب کو بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر فقیر یہ کیوں لکھ رہا ہے امید ہے اب سمجھ آگئی ہوگی آج کے اس مضمون میں اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آڑ لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کرنے والوں کو اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے اقوال کی روشنی میں جواب دیا جا رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ لوگ گستاخیوں سے باز آجائیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطاء فرمائے آمین ۔ فقیر نے کوشش کی ہے کہ اخلاق کا دامن کہیں نہ چھوٹے پھر بھی اہلِ علم اگر کہیں غلطی پائیں تو ضرور آگاہ فرمائیں ۔

امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں رضی اللہ عنہم کے تاثرات ذکر کرنے سے پہلے ذرا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم فرماتے ہیں : '' اللہم اجعلہ ھادیا مہدیا و اہدبہ'' یعنی اے اللہ ! معاویہ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا بنادے اور معاویہ کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (ترمذی،جلد:2ص: 225)(اس حدیث کی مکمل تحقیق و تخریج ہم پیش کر چکے ہیں)

ایک موقع پر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! معاویہ کو قرآن اور حساب کا علم عطا فرمااور اسے عذاب سے نجات دے۔ (البدایہ، جلد:8، ص:140، کنزل العمال، جلد:7ص: 87)

امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں

جنگ صفین کے بعد کچھ لوگوں نے اہلِ شام اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک گشتی مراسلہ اپنے زیر حکومت علاقہ کے لوگوں کو بھیجا۔ اس مراسلہ کو نہج البلاغہ کے شیعہ مصنف نے صفحہ 151پر درج کیا ہے : ہمارے معاملے کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہمارا اور اور اہل شام (معاویہ ) کا مقابلہ ہوا اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک، ہمارا اور ان کانبی ایک، ہماری اور ان کی دعوت اسلام میں ایک، اللہ پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے میں نہ ہم ان سے زیادہ نہ وہ ہم سے زیادہ، پس معاملہ دونوں کا برابر ہے ۔ صرف خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہم اور ان میں اختلاف ہوا اور ہم اس سے بری ہیں ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے موقع پر پوچھا گیا : جو لوگ آپ کے مقابلے میں آئے کیا وہ مشرک ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ مشر ک نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا: کیا وہ منافق ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ منا فق بھی نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا : پھر آپ کی نگاہوں میں ان کی حیثیت کیا ہے ؟
جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:''ہم اخواننا بغواعلینا''
ترجمہ : وہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف زیادتی کی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد: 4ص: 1013، چشتی)

آپ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتب اٹھائیں اور پڑھیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ جو لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے قیدی بن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان میں سے کسی کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں غسل دیا جائے اور کفن دیا جائے، پھر انہوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :''قتلانا و قتلاہم فی الجنۃ''ہمارے لشکر کے مقتول اور معاویہ کے لشکر کے مقتول سب جنت میں جائیں گے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، جلد:4ص: 1036)
کتنے افسوس کامقام ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کو اپنے جیسا ایماندار اورمسلمان اور ان کے مقتولین کو جنتی بتلائیں اور دشمنانِ صحابہ سبائی انہیں کافر اور منافق قرار دیں۔ اب قارئین خود فیصلہ فرمائیں کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات معتبر سمجھی جائے یا سبائی گروہ کی ۔
👍1
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیئے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کچھ اختلاف کے باوجود ان کا کتنا احترام کرتے تھے اور ان کے بارے میں کس قدر حسنِ ظن رکھتے تھے۔
تاریخِ اسلام کے اوراق میں آپ کو نظر آئے گا کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جنگ جاری ہے۔ منافقین کی شرارتوں، خباثتوں اور کارستانیوں کے نتیجے میں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے کہ اس دوران قیصر روم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاقے پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں اور مجھے اس سے زیادہ مناسب موقع پھر کبھی میسر نہیں آئے گا۔ اس نے سوچا کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اندرونی طور پر سخت مشکل میں ہیں ان کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ٹھنی ہوئی ہے، میرے اس اقدام سے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوں گے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قیصر روم کے خطرناک اور زہریلے عزائم کی اطلاع ملی تو بے حد پریشان ہوئے۔ کیونکہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنا اور دو محاذوں پر جنگ جاری رکھنا ان کے لیے بہت دشوار اور مشکل تھا، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس پریشانی اور اضطراب کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی للکار نے دور کردیا۔
قیصرِ روم کے اس ارادے کی اطلاع جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو وہ بے چین ہوگئے اور اسی وقت ایک خط قیصر روم کے نام تحریر فرمایا جس کے ذریعے انہوں نے قیصر روم کی غلط فہمیوں کو اس خوبصورتی کے ساتھ دور کیا کہ خط لکھنے کا حق ادا کر دیا۔ خط کیا تھا؟ ایک مؤثر ہتھیار تھا، پر مغز ، مؤثر اور جلال سے بھر پور، رعب و دہشت کا مجسمہ جسے پڑھ کر قیصر روم کے حواس اڑ گئے اور اوسان خطا ہوگئے۔ قیصر روم پر ایسی دہشت اور ایسا رعب طاری ہوا کہ ا س کے قدم جہا ں تھے وہیں رک گئے۔ سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خط کامضمون اور طرز تحریر کس قدر ایمان افروز اور کفر سوز ہے یہ ایک الگ حقیقت ہے ، مگر خط کی ا بتداء میں آپ نے جس تیز و تلخ ، رعب دار اور جلال سے بھر پور لہجے میں قیصر روم کو مخاطب کیا ہے وہ انداز اپنی جگہ ''اشداء علی الکفار '' کی عملی تصویر ہے۔
خط کے آغاز میں تحریر فرمایا : الے لعنتی انسان ! مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے شہروں کی طرف واپس پلٹ نہ گیا تو کان کھول کر سن !!!پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی تیرے خلاف صلح کرلیں گے۔پھر تجھے تیرے ملک سے نکال دیں گے اور زمین باوجود وسعت کے تم پر تنگ کردیں گے۔ (البدایہ و النہایہ،جلد: 8ص:119، چشتی)

حضرات مولا علی المرتضیٰ و امیر معاویہ رضی ﷲ عنہما کا باہمی تعلق

حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی ﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا ۔ (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)

حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258)

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا ۔ امارات معاویہ رضی ﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (شرح عقیدہ واسطیہ)

حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے (البدایہ جلد 8 صفحہ 130،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا ۔ (البدایہ‘ ج 8ص 131)

حضرت ابو امامہ رضی ﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے‘ افضل ہونا تو کجا ہے ۔ (الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)

حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ سے رجوع کیا ۔ (موطا امام مالک)

حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا ۔ (تاج العروس صفحہ نمبر 221،چشتی)

حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا۔(بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی نظر میں : حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ بیٹا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت سے نفرت نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے ان کو ضائع کر دیا تو آپس میں کشت و خون دیکھو گے ۔ (تاریخ ابن کثیر، جلد: 8ص: 131، شرح نہج البلاغہ ابن ابی لحدید شیعی جلد: 3ص: 836)
جب سبائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے خلافت ان کے سپر د کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ آپ نیزہ کے زخم کی تکلیف سے کراہ رہے تھے اور فرما رہے تھے: اللہ کی قسم میں معاویہ کو اپنے لیئے ان لوگوں سے بہتر سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو میرا پیروکار کہتے ہیں انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا ، میرا خیمہ لوٹا، میرے مال پر قبضہ کیا ۔ (شیعہ کتب ، جلاء العیون، احتجاج طبرسی، ص:148، چشتی)
زخم مندمل ہوجانے کے فورا بعد امیر المومنین حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلینا ہی بہتر ہے چنانچہ آپ نے ربیع الاول 41 ؁ھ کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر کے خلافت ان کے سپرد کر دی اور یہ صلح ڈر کر یا دب کر نہیں کی بلکہ آپ چاہتے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑ سکتے تھے۔ آپ کے پاس چالیس ہزار فوج مرنے کو تیار تھی مگر آپ نے مسلمانوں کو خونریزی سے بچانے کے لیے اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کا صحیح اہل سمجھ کر صلح کی تھی ۔ (الاستیعاب لابن عبد البر جلد: 3ص: 298)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے صلح کرنے سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی یہ پیشینگوئی پوری ہو گئی جو آپ نے اس وقت فرمائی تھی جب حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بچے تھے کہ میرا یہ بیٹا سردار بیٹا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا ۔ (بخاری، جلد:1ص: 530)
انصاف آپ خود فرمائیں کہ نصف سلطنت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دے دی تھی اور باقی نصف بھی حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کرکے سپر د کردی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے اہل ، صحابی رسول، صاحبِ سیادت و فراست اور مدبر تھے اور اس وقت ان سے بڑھ کر اور کوئی بھی اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کی طاقت نہ رکھتا تھا ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی نظر میں : حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو سبائیوں نے جو صلح کے مخالف تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کوآمادہ کرنا چاہا کہ وہ بیعت ختم کر کے مقابلہ کریں لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا: ہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، عہد کر لیا ہے، اب ہمارا بیعت توڑنا ممکن نہیں ۔ (شیعہ کتب : اخبار الطوال، ص: 234، رجال کشی، ص: 102)
کتب تاریخ و سیر اس پر گواہ ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جایا کرتے تھے وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے، محبت و شفقت سے پیش آتے اور اپنے برابر تخت پر بٹھاتے اور ایک ایک دن میں ان کو دو، دو لاکھ درہم عطا کرتے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے او روظائف او رعطایا حاصل کرتے۔
(البدایہ و النہایہ،جلد: 8ص: 150)
آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بھانجی آمنہ بنت میمونہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ اولیٰ تھیں ، اس لحاظ سے حضرت امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے ۔ (طبری، جلد: 13ص: 19، چشتی)
اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ محترمہ ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں ہوئے ۔

امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ اور امام خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ یہ دونوں امام فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی روفضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا
جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121)

علامہ شہاب خفا جی رحمة ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا: ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔؂ ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان،چشتی)
جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو خلافتِ راشدہ فرماتے ہیں ۔ (المفوظ جلد 3 صفحہ 71)

حضرت پیر نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اختلافی اُمور کے باوجود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دائرہ صحابیت سے خارج کرنا ،کافر،مشرک ثابت کرنا نہ صرف گناہ عظیم بلکہ توہین رسول صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہے اور موجب کفر ہے ۔ (نام و نسب باب نہم صفحہ نمبر 519 حضرت پیر نصیر الدین نصیر رحمۃُ اللہ علیہ)

محترم قارئین کرام : دشمنان صحابہ سبائی ٹولہ نے سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا ہمہ گیر پروپییگنڈہ کیا ہے کہ حقائق خرافات کے انبار میں دب کر رہ گئے ہیں اور مسلمان نسلاً بعد نسل اس شر انگیز پروپیگنڈے سے اس حد تک متاثر ہوتے چلے گئے ہیں کہ مدت سے نہ صرف عامۃ المسلمین بلکہ بہت سے خواص کے احساسات بھی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے عظیم و جلیل القدر اورکاتبِ وحی صحابی کے بارے میں ویسے باقی نہیں رہ گئے جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں عموما پائے جاتے ہیں ۔
شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہی ایسا جذبات انگیز تھا کہ خانوادہ علی سے گہری محبت رکھنے والی امتِ مسلمہ کو اس کی آڑ میں بہت آسانی سے غلط خیالات و آراء میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے، حالانکہ جذباتی و خیا لی بلند پروازیوں سے الگ ہو کر ٹھوس حقیقی بنیادوں پر علمی و عقلی گفتگو کی جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دامن مقدس اسی طرح داغِ طغیان و معصیت سے پاک ہے جس طرح دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ۔

محترم قارئین : چلیے! بقول کسے ایک منٹ کے لیئے تسلیم کرلیتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سیاسی خطا ہوئی مگر کیا ایک جلیل القدر صحابی کو چند سیاسی خطائیں اتنا پست و حقیر بنا سکتی ہیں کہ ہم جیسے حقیر و بے بضاعت اور گھٹیا لوگ بھی اس کی بے ادبی پر اتر آئیں ۔ ان کا احترام ہمارے دلوں سے اٹھ جائے اور ہم بلا تکلف انہیں جنگ و تفرقہ کا بانی ، باغی اور منافق کہہ گزریں ۔ کیا ستارہ سیا ہ بدلی میں آجائے تو اتنا بے نور ہو جاتا ہے کہ تیل کے چراغ اس پر زبانِ طعن دراز کریں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آسمان دنیا پر چمکنے والے روشن ستارے تھے صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لئے ہدایت کا چرغ تھے ۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اگر صحابی تھےاور یقینا تھے اورآخر سانس تک دین اسلام پر ثابت قدم رہے تو ''اصحاب" کے دائرے سے انہیں کون نکال سکتا ہے ؟
ویسے بھی ہمارا اور آپ کا جج بن بیٹھنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عدالتِ خیال میں فریقین بنا کر لانا ایسی ناروا جسارت ہے کہ دُرّوں سے ہماری پیٹھ کُھرچ دینی چاہیے ۔ ہمیں کیا حق ہے کہ تقریبا چودہ سو برس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعض محترم اصحاب میں سے ایک کو بر سرِ حق اور ایک کو مجرم اور غلط ثابت کرنے بیٹھیں اور تاریخی واقعات کو صحیفۂ آسمانی تصور کرلیں ۔ چاہے ان کی بعض تفصیلات سے قرآن کا توثیق فرمودہ کردارِ صحابہ مجروح ہوتا ہے ۔ ہمیں کچھ بھی حق نہیں سوائے اس کے کہ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے لیئے دلوں میں عقیدت او رحسنِ ظن پر ورش کریں اور ان کے ہر فعل و عمل کی اچھی توجہیہ نکالنے میں کوشاں رہیں۔
محترم قارئین : یقین کیجیے کہ ہماری اس تحریر کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دامنِ صحابیّت سے ان چھینٹوں کو دھویا جائے جو دنیا ناحق ان پر ڈالتی ہے ۔ ہماری نظر میں صحابیت عظمتِ پیغمبر کے حِصار کا درجہ رکھتی ہے ۔ نبوت کے قصر کی فصیلیں صحابیّت ہی کے رنگ و روغن سے زینت پاتی ہیں۔ اکرام ِ صحابیت کا طلائی حِصار اگر ٹوٹ جائے تو پیغمبر کی آبرو تک ہاتھ پہنچنا آسان ہوجاتا ہے ۔ پس جو لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں وہ در اصل امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آبرو اور ختم نبوت کے دشمن ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر بددیانتی اور خیانت کا الزام لگا کر اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ پاک پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔

(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25481
حضرت امیر معاویہ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی نظر میں
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296031229299590/
امام حسن و امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و شرائط صلح حصّہ اوّل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی ہے اور آپ کی فضیلت وشرافت احادیث شریفہ میں مذکور ہے ، زبان رسالت سے آپ رضی اللہ عنہ کےلیے ھادی ومھدی ہونے کی دعاء جاری ہوئی چنانچہ جامع ترمذی شریف میں ہے ؛ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔
ترجمہ : اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ (جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213)

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان الفت ومحبت بڑی گہری تھی ، فرمان نبوی کے مطابق خلافتِ نبوت کے 30 سال حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی چھ ماہی خلافت پر تکمیل کو پہنچے ، مسلمانوں کی خون خرابے سے بچانے کیلئے آپ نے دستبرداری حاصل کی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی جس کے نتیجہ میں بہت بڑی جنگ ٹل گئی ، جیسا کہ صحیح بخاری شریف میں حدیث پاک ہے :

عن الحسن سمع أبا بكرة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة ويقول " ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔
ترجمہ : حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم منبر شریف پر جلوہ افروز تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کبھی آپ کی طرف دیکھتے اور کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سردار ہے اور اللہ تعالی ان کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ (صحیح بخاری شریف ،کتاب فضائل الصحابة ، باب مناقب الحسن والحسين رضي الله عنهما، حدیث نمبر؛ 3536،چشتی)

تاجِ صحابیت نے بڑھائی ہے اُن کی شان
سونپی حَسَن نے اُن کو خلافت کی آن بان
ہوگا نہ کم کسی سے وقارِ معاویہ (رضی اللہ عنہما)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اہل مدینہ نے خلیفہ بنایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سبائیوں اور فسادیوں کے دباؤ کے باوجود جنگ و جدل سے گریز کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے 6 ماہ بعد آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبرداری کا اعلان کر دیا ۔ اللہ کے فضل سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ سچ ثابت ھو گئے ،، ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔

اس طرح حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملت اسلامیہ کے متفقہ خلیفہ بن گئے ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ کی ایک حدیث ہے : عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم انہ قال لمعاویة اللہم اجعلہ ھادیا مھدیا واھدبہ ۔ ترجمہ : اے اللہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو ہدایت دینے والا ، ہدایت یافتہ بنا اور آپ سے لوگوں کو ہدایت عطا فرما ۔ ﴿جامع ترمذی شریف ، باب مناقب معاویة رضی اللہ عنہ ، حدیث نمبر؛ 4213،چشتی﴾

اس صلح کی برکت سے مسلم امہ میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا اور جہاد اور فتوحات کا جو سفررک گیا تھا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے دوبارہ سے شروع کیا ۔ اور برق رفتاری سے جاری رکھا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دو رخلافت میں قلات ، قندھار ، قیقان ، مکران ، سیسان ، سمر قند ، ترمذ ، شمالی افریقہ ، جزیرہ روڈس ، جزیرہ اروڈ ، کابل ، صقلیہ (سسلی) سمیت 22 لاکھ مربع میل سے زائد علاقہ اسلام کے زیر نگیں آگیا ۔

اس صلح میں کئی معاہدے طئے کئے گئے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت امام حسن رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹے گی ۔ لیکن آپ کا وصال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے ہوگیا ۔ جیسا کہ ابو الحسن علی بن اثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : فارسل الی معاویة یبذل لی تسلیم الامر الیہ علی ان تکون لہ الخلافة بعدہ وعلی ان لایطلب احدا من اہل المدینة والحجاز والعراق بشیٴ مما کان ایام ابیہ وغیرذلک من القواعد فاجابہ معاویة الی ما طلب ۔ ﴿اسد الغابہ، الحسن بن علی﴾

امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت اور اس سے دست برداری

حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ۔ چالیس ہزار اہالیان کوفہ نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی ۔ آپ چھ ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے اس کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ آپ کے پاس کوفہ آئے تو مندرجہ ذیل تین شرطوں کے ساتھ آپ نے خلافت ان کے سپرد کرنا منظور
👍1
فرمایا ۔

(1) بر وقت امیر معاویہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفۃ المسلمین ہوں گے ۔

(2) مدینہ شریف اور حجاز و عراق وغیرہ کے لوگوں سے حضرت علی کرم ﷲ وجہہ الکریم کے زمانہ کے متعلق کوئی مواخذہ اور مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔

(3) حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ کے ذمہ جو ہے ان سب کی ادائیگی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کریں گے ۔

ان تمام شرطوں کو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے قبول کیا تو آپ میں صلح ہو گئی اور ﷲ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا وہ معجزہ ظاہر ہوا جو آپ نے فرمایا تھا کہ میر ایہ فرزند ارجمند مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔

حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ نے اس صلح کے بعد تخت خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لئے خالی کر دیا ۔ دستبرداری کا یہ واقعہ ربیع الاول ۔ 41ھ میں ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء)

خلافت سے دستبردار ہونا آپ کے بہت سے ہم نواؤں کو ناگوار ہوا انہوں نے طر ح طرح سے آپ پر ناراضگی کا اظہار کیا یہانتک کہ بعض لوگ آپ کو ’’عار المسلمین ‘‘ کہہ کر پکارتے تو آپ ان سے فرماتے ۔ العار خیر من النار ۔ عارنا ر سے بہتر ہے ۔

امر خلافت حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو سپرد کرنے کے بعد آپ کوفہ سے مدینہ طیبہ چلے گئے اور وہیں قیام پذیر رہے ۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے حضرت امام حسن رضی ﷲ عنہ سے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں آپ پھر خلافت کے خواستگار ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت عربوں کے سر میرے ہاتھوں میں تھے یعنی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے وہ مجھ سے بیعت کر چکے تھے اس زمانہ میں ہم جس سے چاہتے ان کو لڑا دیتے لیکن میں اس وقت محض ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے خلافت سے دستبردار ہو گیا اور امت محمدیہ کا خون نہیں بہنے دیا ۔ تو جس خلافت سے میں صرف ﷲ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دست بردار ہو گیا ہوں اب لوگوں کی خوشی کے لئے میں اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ (تاریخ الخلفاء،چشتی)

کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے شرائطِ صلح سے انحراف کیا تھا ؟

محترم قارئینِ کرام : شیعہ رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد بنا کر اس معاہدے کی مخالفت کی جوان کے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوا تھا ، جس کی ایک شق یہ تھی کہ : حضرت امیرمعاویہ اپنے بعد کسی کو خلافت نہیں سونپیں گے ، بلکہ امت مسلمہ کی طرف یہ معاملہ پھیریں گے ۔

اس بات سے قطع نظر کہ کیا حضرت امیر معاویہ حضرت حسن رضی اللہ عنہما جیسی شخصیت کے ساتھ سر عام ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں ، جنہوں نے رومیوں کے ساتھ عین جہاد کے موقع پر حضرت عمرو بن عبسہ کی زبانی ایک معاہدے کی یاد دہانی پر نہ صرف جنگ روک دی بلکہ مفتوحہ علاقہ بھی دشمن کے حوالے کیا ،نیز اس با ت سے بھی قطع نظر کہ اس وقت کی غالب اکثریت جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے سے متفق ہوگئی ، تو امت کی اکثریت کا اس رائے میں شامل ہونا خلافت کے معاملے کو امت کی طرف پھیرنا نہیں کہلائے گا ، نیز اس بات سے بھی قطع نظر کہ جن چار بنیادی صحابہ نے اس فیصلے پر اپنی اختلافی رائے دی ، انہوں نے کسی بھی موقع پر حتی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ یزید کو ولی عہد بنانا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر معاہدے کی جس شق کو معترض اعتراض کی بنیاد بنا رہے ہیں ، یہ شق تاریخ کی بنیادی مصادر تاریخ میں ہی نہیں ہے ، حالانکہ اس میں معاہدے کی دیگر شقوں کا تذکرہ ہے ، خواہ مسعودی کی مروج الذہب ہو ، امام طبری کی تاریخ طبری ، ابن کثیر کی البدایہ ہو یا ابن اثیر کی الکامل ، ابن خلدون کی تاریخ ابن خلدون ہو یا ابن جوزی کی المنتظم ، ان میں سے کسی میں بھی یہ شق نہیں ہے ۔

یہ شق بلاذری کی انساب الاشراف میں بلا سند ذکر ہے ، اور وہاں سے مصنف الصواعق نے لیا ہے ۔

طرفہ تماشا یہ کہ اس شق کو کچھ معترضین نے متواتر کہا ، جبکہ اس کی ایک بھی صحیح سند نہیں ہے ، بلکہ اساسی مصادر میں سے ایک دو کتب میں نقل ہوئی ہے ۔ یا للعجب ۔

اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ مصادر اور ابن عبد البر کی استیعاب نے ایک اور شق کا ذکر کیا ہے جو معترضین کی ذکر کردہ شق سے صراحتا معارض ہے ، جس میں یہ ذکر ہے کہ اگر جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو خلافت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے گی ۔

طرفہ تماشا یہ کہ یہ شق بھی اسی شق کی طرح اوپر ذکر کردہ کسی اساسی مصدر میں شروط صلح کے ضمن میں مذکور نہیں ہے ۔ جس کا ذکر اور مختصر جواب ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں ۔

تحقیقی بات یہ ہے کہ یہ دونوں متعارض شقیں سنی و شیعہ غالین کی وضع کردہ ہیں ۔ پہلی شق سے اہلسنت مناظرین اہل تشیع کو الزام دیتے ہیں کہ اگر امامت منصوص ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلافت میں شوری کی شرط کیوں لگائی ؟
اگر امامت اہل بیت رضی اللہ عنہم کا حق نہیں ہے اور شوری پر مبنی ہے تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے جناب امیر رضی اللہ عنہ کے بعد اپنے لئے خلافت کو مختص کیوں کیا ؟

اس لئے غالین کی وضع کردہ بلا سند شروط سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاک دامن کو داغدار نہ کیا جائے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم شیعی مورخ ابوحنیفہ الدینوری کی کتاب ” الاخبار الطوال” میں بھی مذکورہ شرائط ندارد ۔
بلکہ انہیں کے بقول سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے ساتھ جو شرائط طے کی تھیں ان میں کوئی کمی نہ کی ۔

کیا معاویہ رضی اللہ عنہ موروثی نظام حکومت کے بانی تھے اور کیا یزید کا استخلاف غیر شورائی تھا ؟

ڈاکٹر حامد محمد الخلیفہ اس ضمن میں لکھتے ہیں : رہے وہ نام نہاد اہل سنت جو اس بات کا پروپیگنڈا کرتے نہیں تھکتے کہ اسلام میں ’’موروثی نظام حکومت‘‘ کے موسئسِ اول سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما تھے تو دراصل ان لوگوں نے حالات و واقعات کا صرف ایک زاویہ نگاہ سے جائزہ لیا ہے ، اسی یک طرفہ جائزے نے انہیں ایک ایسے صحابی رسول پر یہ تہمت لگانے پر ابھارا جن کی سیاست نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ روئے زمین کے سب سے ذہین ترین آدمی تھے اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنھم کے بعد سیاسی تدبر وشعور میں سب سے زیادہ قوت ومہارت اور دسترس رکھتے تھے ۔ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کو امر وراثت گمان کیا ہوتا تو انہیں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور دوسرے لوگوں کو اپنی رائے میں شریک کرنے کی کیا ضرورت تھی اور انہوں نے ان اکابر کے غصہ اور سختی کو کیوں برداشت کیا اور آخر یہ سب سہنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟
پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اکیلے ہی یزید کی نامزدگی کو کیوں کافی نہ سمجھا ؟ اور کیا یہی نظامِ وراثت نہیں ہوتا ؟ کہ والی کسی سے مشورہ یا رائے لیے بغیر اکیلے ہی اپنے ورثاء میں سے کسی کو اپنے بعد کے امر کا وارث قرار دے دیتا ہے ۔
پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس بات کے شدید متمنی کیوں تھے کہ عام قبائل عرب اور امت کے اکابر کو بھی یزید کی بیعت میں شریک کریں ؟
اور انہوں نے ہر خاص وعام ، قریب اور دُور کے آدمی سے اس بارے میں مشاورت کیوں کی ؟
کیا اس بات کو ہوا دیکر دراصل امت مسلمہ کے اکابر کی بابت بدگمانی کے زہر کو عام کرکے اعدائے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں کومضبوط کرنا مقصود ہے ؟
یوں اس شوروغوغا کا بدترین نتیجہ یہ نکلا کہ ہر بے اوقات ، جاہل ، عقل سے عاری اٹھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف محاکمہ کرنے اور ان کے خلاف عدالت قائم کرنے بیٹھ گیا اور اس کی جرأت بیجا اس حد تک جا پہنچی کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے تئیں صحیح بات کی فہمائش کرنے لگا ، حالانکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو ان عظیم ترین ہستیوں میں سے ہیں جن کے اقوال وافعال کو آج تک مشعل راہ بنایا جاتا ہے اور تاقیامت بنایا جاتا رہے گا ۔
پھر ان لوگوں کے لہجوں کی رعونت دیکھ کر یوں گمان ہونے لگتا ہے کہ غزوہ قسطنطینہ کے اصل بہادر اور شہ سوار یہی لوگ ہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مبارک دور خلافت میں لڑی گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اونچے جلیل القدر کردار پر انگلیاں اٹھانے والے اور شوریٰ شوریٰ کا نام لیکر ٹسوے بہانے والے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ غل مچانے والے کہ انہوں نے شوریٰ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا تھا ، خود کو یوں ظاہر اور پیش کرتے ہیں جیسے امت کی شیرازہ بندی کا سہرا انہی کے سر ہے اور جیسے روم کی سرکشی اور خودسری کو کچل کر خاک میں ملانے والے اور خون آشام جنگوں کے شہسوار یہی جغادری ہیں ۔۔۔
افسوس یہ حضرات یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو سب سے زیادہ شوریٰ پر عمل کرنے والے تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت شوریٰ سے ہی تعبیر تھا لیکن کوئی سچ بولنا اور انصاف کا دامن تھامنا بھی چاہے تو تب نا !! کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے انتخاب کی بابت کس کس سے مشورہ نہ کیا ؟ کس کس کے دروازے پر دستک نہ دی ؟ کیا ہر قبیلہ کی طرف وفود نہ بھیجے ؟ کیا لوگوں سے رائے نہ لی گئی اور انہوں نے اپنی آراء پیش نہ کیں ؟ کیا اقالیم و قبائل کے وفود نے آ آ کر اس مسئلہ میں شرکت نہ کی اور اپنی رضا کا اظہار کرکے برکت کی دعائیں نہ دی تھیں ؟ تاریخ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں ۔ ان واقعات کے تناظر میں برملا کہا جا سکتا ہے کہ یزید کا استخلاف شوریٰ سے تھا جس میں اغلبیت کی رائے ثابت ہے گو اجماعِ تام نہیں ملتا ۔۔۔ـ (سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے (مترجِم) تالیف : ڈاکٹر محمد الصلابی ڈاکٹرحامد محمد الخلیفہ ، مترجَم پروفیسر جار اللہ ضیاء صفحہ نمبرز 300 ، 301 ، 312 ، 313 مکتبہ الفرقان خان گڑھ)
نوٹ : اس موضوع پر ہم الگ سے لکھ چکے ہیں جسے اس لنک میں احباب تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید پلید کی ولی عہدی

محترم قارئینِ کرام : ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد کیوں مقرر کردیا تھا ۔

جواب : ہاں بے شک انہوں نے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تھا اس لئے نہیں کہ خلافت ، مملکت اور حکومت کو اپنے خاندان میں بند کردیں ۔ یہ بدگمانی ہم نہیں کرسکتے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابہ کے حق میں مومن کو حسن ظن سے کام لینا چاہئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کا حکم ہے کہ : مومن کے حق میں خیر کا گمان کرو ۔ (مشکوۃ المصابیح)

معاذ اللہ یا تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تم کافر کہو اور اگر مومن کہتے ہو تو قرآن کریم کہتا ہے کہ مومن کے حق میں بدگمانی مت کرو میں کہتا ہوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مومن ہیں لہٰذا ہم ان کے حق میں بدگمانی نہیں کریں گے اور جب بدگمانی نہیں کریں گے تو لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ انہوں نے اپنے خیال میں وہ بہتر سمجھ کرکیا اگرچہ اس کا نتیجہ بہتر نہیں نکلا ۔

بعض حضرات یزید کی ولی عہدی کے معاملے کو لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی آڑ میں یزید کی ایسی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کوئی ظلم تھا ہی نہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یزید ایسا ہی برا تھا تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس کی برائیاں کیوں نہ دکھائی دیں ، پس ماننا پڑے گا کہ یزید بہت اچھا ہوگا اور اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہوگا ۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یزید کی ولی عہدی کے بعد واقعہ کربلا و حرا وغیرہ رونما ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کا انکار کرنا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے کہ امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان پر یزید اور اس کی حکومت کو ڈسکاؤنٹ دینا بھی جائز نہیں کہ ان معاملات کو طاقت کے یوں اندھا دھن استعمال کے بغیر بھی حل کرنا ممکن تھا ۔ مزید تفصیل اس لنک میں دیئے گئے مکمل مضمون میں پڑھیں : https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/09/blog-post_20.html

آج نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی یہ صلح و فضیلت پسند نہیں ہے یہ نام نہاد محبّانِ اہلبیت علیہم السّلام خود کو حضرت امام حسن علیہ السّلام سے بڑا محقق و مفتی و عالم سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں ہدایت و عقلِ سلیم عطاء فرمائے اور ہمیں صحابہ کرام و اہلبیت اطہار رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی بے ادبی سے بچائے آمین ۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ) ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296031229299590/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25487
امام حسن و امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و شرائط صلح حصّہ اوّل
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296031229299590/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296039482632098/
امام حسن و امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و شرائط صلح حصّہ دوم
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : صلح امام حسن و معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت و مغفرت اور صلح امام حسن اور حضرت معاویہ کے بارے میں امام اہلسنت مجدد دین و ملت محدث ہند فاضل بریلوی الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتویٰ رضویہ میں متعدد مقامات پر تحقیق پیش کی ہے ان میں سے مختلف اقتباسات پیش خدمت ہیں :

مگر فضل صحبت و شرف صحابیت سعادت خدائی دین ہے جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین تنقیص کیسے گوارہ رکھیں اور کیسے سمجھ لیں کہ مولا علی کے مقابلے میں انہوں نے جو کچھ کیا بربنائے نفسانیت تھا صاحب ایمان مسلمان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی ہاں ایک بات کہتے ہیں اور ایمان لگی کہتے ہیں ہم تو بحمد اللہ سرکار اہل بیت کرام علیہم الرضوان کے غلامان زاد ہیں اور موروثی خدمت گار ہیں ہمیں امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا رشتہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جاکریں مگر ہاں اپنی سرکار کی طرفداری اور امر حق میں ان کی حمایت و پاسداری اور ان کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خصوصاً الزام بدگویاں اور دریدہ دہنوں بدزبانوں کی تہمتوں سے بری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادہ اکبر حضرت سبط اکبر حسن مجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسبِ بشارت اپنے جدِ امجد سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اختتام مدت خلافت راشدہ کو منہاج نبوت پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو چھ ماہ مدت خلافت پر ختم ہوئی عین معرکہ جنگ میں ایک فوج جرار کی ہمراہی کے باوجود ہتھیار رکھ دیئے بالمقصد والا اختیار اور ملک اور امور مسلمین کا انتظام و انصرام امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سپرد کردیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت فرما لی اگر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ العیاذباللہ کافر یا فاسق ہوتے یا ظالم جائر ہوتے تو الزام امام حسن پر آتا ہے کیونکہ انہوں نے کاروبار مسلمین و انتظام شرع و دین باختیار خود بلا جبر واحد واکرہ بلا ضرورت شرعیہ باوجود مقصد ایسے شخص کو تفویض فرمایا اور اس کی تحویل میں دے دیا اور خیر خواہی اسلام کو معاذاللہ کام نہ فرمایا اس سے ہاتھ اٹھا لیا گیا اگر مدت خلاقت ختم ہوچکی تھی اور آپ خود بادشاہت منظور نہیں فرماتے تھے تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابل نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو انہیں اختیار کیا اور انہیں کے ہاتھ پر بیعت اطاعت کرلی حاش باللہ بلکہ یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی پیش گوئی میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کما فی صحیح البخاری جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے
صادق و مصدق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا : میرا بیٹا یہ سردار ہے سیادت کا علمبردار ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ عزوجل اس کے باعث دو بڑے گروہ اسلام میں صلح کرادو۔ (صحيح بخاری ج1ص373رقم530،چشتی)
آیت کریمہ کا ارشاد ہے
ونزعنامافی صدورھمہ من غل
اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے ۔ (سورۃ نمبر 7آیت43)
جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتوں میں جو کدورت و کشیدگی تھی اسے رفق و الفت سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ رہی باقی مگر مودت و محبت انتھی ۔ (فتاویٰ رضویہ 29 278)

بے شک امام مجتبٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد فرمائی تھی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا میرا بیٹا سید ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرواے گا ۔ (صحيح بخاری کتاب المناقب الحسن والحسین 1 530)
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہرگز انہیں تفویض نہ فرماتے اور نہ اللہ و رسول اسے جائز رکھتے ۔ (فتاویٰ رضویہ شریف ج29ورقہ337)

حدیث امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اجلہ صحابہ میں سے ہیں صحیح ترمزی شریف میں حدیث پاک موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نے ارشاد فرمایا اے اللہ اے راہ نما راہ یاب کر اور اس کے زریعے سے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب امیر معاویہ اب 225 سفیان امین کمپنی جلد 2 صفحہ 225،چشتی)
(اور یہ حدیث صحیح ہے کئ طرق سے یہ روایت بہت ساری کتابوں میں ملتی ہے)
صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے کسی صحابی کو کافر بے دین نہ کہے گا مگر کافر بے دین یاگمراہ بددین عزیز جبار و واحد قہار جل وعلاہ نے صحابہ کرام کو دو قسم کیا ایک وہ کہ قبل فتح مکہ جنہوں نے راہ خدا میں خرچ و قتال کیا دوسرے وہ جنہوں نے بعد فتح مکہ پھر فرمادیا کہ دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ فرما دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے کاموں کی خوب خبر ہے کہ تم کیا کیا کرنے والے ہو بایں ہمہ اس نے تم سب سے حسنی کا وعدہ فرمایا یہاں قرآن عظیم نے ان دریدہ دہندوں بیباکوں بے ادب ناپاک کے منہ میں پتھر دے دیا جو صحابہ کرام علیہم الرضوان کے افعال سے اُن پر طعن چاہتے ہیں وہ بشریت صحت اللہ عزوجل کو معلوم تھے پھر بھی ان سے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا تو اب جو معترض ہے اللہ واحد قہار پر معترض ہے جنت و مدارج عالیہ اس معترض عالیہ اس معترض کے ہاتھ می نہیں اللہ عزوجل کے ہاتھ ہیں معترض اپنا سر کھاتا رہے گا اور اللہ نے جو حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے ضرور پورا فرمائے گا اور معترض جہنم میں سزا پاۓ گا
وہ آیۃ کریمہ یہ ہے
اے محبوب کے صحابیو تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ و قتال کیا وہ رُتبے میں بعد والوں سے بڑے ہیں اور دنوں فریق سے اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو
(القرآن الکریم 57 10)
اب جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ حسنیٰ لیا ہے ان کا حال بھی قرآن عظیم سے سنیے ۔ بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں سب سے بڑی گھبراہٹ غمگین نہ کرے گی اور فرشتے ان کا استقبال کریں گے کہ یہ تمہارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔(القرآن الکریم 21 102 103)
یہ ہے جمیع صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئیے قرآن کریم کی شہادت امیر المومنین مولی المسلمین علی المرتضیٰ مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم قسم اول میں ہیں جن کو فرمایا اولیک اعظمہ درجۃ ۔ (القرآن الکریم 57 10)
اُن کے مرتبے قسم دوم والوں سے بڑے ہیں اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قسم دوم میں ہیں اور حسنی کا وعدہ اور یہ تمام بشارتیں سب کو شامل و لہزا امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے ابن عساکر کی حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے اصحاب سے لغزش ہوگی جسے اللہ عزوجل معاف فرمائے گا اُس سابقہ کے سبب جو اُن کو میری بارگاہ میں ہے پھر اُن کے بعد کچھ لوگ آئیں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا ۔ (المعجم الاوسط ج4ورقہ142حدیث3243مکتبتہ الریاض)(مجمع الزوائد،چشتی)
یہ ہیں وہ صحابہ کہ صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے
علامہ شہاب خفاجی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی کتاب نسیم الریاض شرح شفا امام قاضی عہاض میں فرمایا : جو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (نسیم الریاض الباب الثالث مرکز اہلسنت گجرات الہند جلد 3 صفحہ 430،چشتی)
اور اللہ تعالیٰ سچ فرماتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے ۔ (فتویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 279)

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں ان کی شان میں گستاخی نہ کرے گا مگر رافضی جس کتاب میں ایسی باتیں ہوں اس کا پڑھنا سننا مسلمانوں پر حرام ہے اسے مسئلہ میں کتابوں کے حوالے کی کیا حاجت اہلسنت کے مسنون عقائد میں تصریح ہے ۔ صحابہ سب کے سب اہل خیرو عدالت ہیں ان کا ذکر نہ کریں گے مگر بھلائی سے ۔ اگر کوئی شخص اہلسنت کی کتابوں کو نہ مانے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو نہ مانے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں
بہت لوگ وہ ہیں کہ اسلام لائے مگر عمرو بن العاص ان میں ہیں جو ایمان لائے ۔ (جامع الترمذی مناقب عمرو بن العاص حدیث 3870دار الفکر بیروت ج
5ص456)
باقی آپ اوپر صحابہ کرام علیہم الرضوان کے متعلق احادیث و قرآن پڑھ آئے ہیں جس سے یہ بات روز عیاں کی طرح روشن ہے کہ تمام صحابہ کرام جنتی ہیں

اہلسنت کے عقیدہ میں تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعظیم فرض ہے اور ان میں سے کسی پر بھی طعن کرنا حرام ہے اور انکے مشاجرات میں خوض ممنوع
حدیث پاک میں ارشاد ہے
اذا ذکر الصحابی فامسکوا
جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے رُک جاؤ ۔ (المعجم الکبیر حدیث 1427)
اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ جب صحابہ کرام علیہم الرضوان کا ذکر آئے تو خیر ہی سے کریں اور ان کے جو آپس میں معملات ہوے ان سے باز رہیں اور ان کا معاملہ اللہ عزوجل پر چھوڑ دیں اسی میں ہماری بھلائی ہے ۔
اللہ عزوجل سورہ حدید میں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی دو قسمیں فرمائیں ایک وہ کہ فتح مکہ سے قبل ایمان لائے ہوئے اور راہ خدا میں مال خرچ کیا دوسرے وہ کہ بعد کے پھر فرمایا
وکلا اللہ وعدہ اللہ حسنا ۔ (القرآن 57 10)
دونوں فریق سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا اور جن سے بھلائی کا ارادہ فرمایا ان کو فرماتا ہے اولیک عنھا مبعدون وہ جہنم سے دور رکھے گئے لا یسمعون حسیسھا اس کی بھنک تک نہ سنیں گے اس کی بھنک تک نہ سنیں گے وَھُمْہ فِی اشْتَھَتْ. اَنْفُسُھُمْہ خَالِدُونَ °لاَ یَحْزُنُھُمُہ الْفَزَعُ. الْاَکْبَرُ اور وہ اپنی من مانتی خواہشوں میں ہمیشہ رہیں گے قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی وَ تَتَلَقَّاھُمُ الْمَلَایِکَةُ اُن کا استقبال کریں گے ھٰذَا یَوْمُکُمُہ الَّزِیکُنْتُمْہ تُوعَدُونَ ۔ (القرآن الکریم 21 101)
یہ کہتے ہیں کہ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے اور ان کے بعض معاملات جن میں اکثر حکایات کا ذبہ ہیں ارشاد الہی کے مقابل پیش کرنا اہل اسلام کا کام نہیں رب عزوجل نے اُسی آیت میں اس کا منہ بھی بند فرما دیا کہ دنوں فریق صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھلائی کا وعدہ کرکے ساتھ ہی ارشاد فرمایا واللہ بما تعلمون خبیر ۔ (قرآن مجید 57 10)
اور اللہ تعالیٰ کو خوب خبر ہے جو کچھ تم کرو گے بااینہیہ میں تم سب بھلائی پر ہو اور تم سے وعدہ فرما چکا ہے ۔
اس کے بعد کوئی بکے اپنا سر کھاے خود جہنم جائے ۔

صحیح ترمزی شریف میں موجود ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ معاویہ راہ نما راہ یاب کر اور اس کے زریعے سے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (جامع الترمذی ابواب المناقب مناقب معاویہ بن ابی سفیان امین کمپنی دہلی جلد 2 صفحہ 225،چشتی)
اس لیے جو بھی کسی صحابی کو کافر و بے دین کہے گا وہ خود گمراہ بے دین گمراہ ہے ۔

روافض کا قول کذب ہے عقائد نامہ میں خطا و منکر بود نہیں ہے بلکہ خطائے منکر وبود اہل سنت کے نزدیک امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خطا خطاء اجتہادی تھی اجتہاد پر طعن جائز نہیں خطاء اجتہادی دو قسم ہے مقرر ومنکر. مقرر وہ جس کے صاحب کو اُس پر برقرار رکھا جائے گا اور اس سے تعرض نہ کیا جائے گا جیسے حنفیہ کے نزدیک شافعی المزہب مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا اور منکر وہ جس پر انکار کیا جائے گا جب کہ اس کے سبب کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے جیسے اجلہ اصحاب جمل رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہ قطعی جنتی ہیں اور ان کی خطاء یقیناً اجتہادی جس میں کسی نام سنیت لینے والے کو محل لب کشائی نہیں بااینہیہ اس پر انکار لازم تھا جیسا امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کیا باقی مشاجرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں مداخلت حرام ہے
حدیث پاک میں موجود ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ذکر آئے تو زبان روکو ۔ (العجم الکبیر حدیث 1427)
دوسری حدیث فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم : قریب ہے کہ میرے صحابہ سے کچھ لغزش ہوگی جسے اللہ بخش دے گا اُس سابقہ کے سبب جو ان کو میری سرکار میں ہے پھر ان کے بعد کچھ لوگ آئیں گے جن کو اللہ جہنم کے بل اوندھا کردے گا یہ وہ ہیں جو اُن لغزشوں کے سبب صحابہ پر طعن کریں گے اللہ عزوجل نے تمام صحابہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن عظیم میں دو قسم کیا ۔
مومنین قبل فتح مکہ و مومنین بعد اول کو دوم پر تفضیل دی اور صاف فرمایا ۔ وکلا وعدہ اللہ الحسنا سورت 57.آیت 10
سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا اور ساتھ ہی ان کے افعال کی تفتیش کرنے والوں کا منہ بند کردیا واللہ بما تعملون خبیر 57 10
اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرنے والے ہو باینہہ وہ تم سے سے بھلائی کا وعدہ فرما چکا ہے پھر دوسرا کون ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر طعن کرے واللہ الہادی واللہ اعلم
بے شک امام حسن رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سپرد فرمائی اور اس سے صلح و بندش جنگ مقصود تھی اور یہ صلح و تفویض خلافت اللہ و رسول کی پسند سے ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کو گود میں لے کر فرمایا تھا
میرا بیٹا یہ سردار ہے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کے سبب سے مسلمانوں کے دو بڑے گرہوں میں صلح کرا دے گا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر خلافت کے اہل نہ ہوتے تو امام مجتبٰی ہرگز انہیں تفویضِ خلافت نہ فرماتے ۔ نہ اللہ و رسول اسے جائز رکھتے ۔ (فتاویٰ رضویہ 29 337)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باب میں یہ یاد رکھنا چاہیے وہ ک حضرات انبیاء علیہم السلام نہ تھے اور نہ ہی فرشتے کہ معصوم ہوں ان سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان کو کسی بات پر گرفت اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہے اللہ عزوجل سورہ حدید میں صحابہ کرام کی دو قسمیں فرمائیں
من انفق من قبل الفتح وقٰتل
الزین انفقوا من بعد وقاتلو 57 آیت 10
یعنی یہ کہ قبل فتح مکہ مشرف بایمان ہوئے راہ خدا میں مال خرچ کیا اور جہاد کیا جب کہ ان کی تعداد بھی کرکے اور اپنی جانوں کو خطروں میں ڈال کر بے دریغ اپنا سرمایہ اسلام کی خدمت کی نزر کردیا یہ حضرات مہاجرین و انصار میں سے سابقین و اولین ہیں ان کے مراتب کیا پوچھنا
دوسرے کہ وہ بعد فتح مکہ ایمان لائے راہ مولا میں خرچ کیا اور جہاد کیا اور جہاد میں حصہ لیا ان اہل ایمان نے اس اخلاص کا ثبوت جہاد مالی و قتال سے دیا جب اسلامی سلطنت کی جڑ مضبوط ہوچکی تھی اور مسلمان کثرت تعداد اور جاہ و مال ہر لحاظ سے بڑھ چکے تھے اجر اُن کا بھی عظیم ہے لیکن ظاہر ہے کہ ان سابقون اولون والوں کے درجہ نہیں ۔
اسی لیے قرآن عظیم نے ان پہلوں کو ان پچھلوں پر تفضیل دی
اور پھر فرمایا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی
ان سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا دیا کہ اپنے اپنے مرتبے کے لحاظ سے اجر ملے گا سب ہی کو محروم کوئی نہ رہے گا اور جن سے بھلائی کا وعدہ کیا ان کے حق میں فرماتا ہے ۔ اولٰیک عنھا مبعدون وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے
لا یسمعون حسیسھا وہ جہنم کی بھنک تک نہ سنیں گے
وھمہ فی مااشتھت انفسھمہ خٰلدون وہ ہمیشہ اپنی من مانتی جی بھاتی مرادوں میں رہیں گے
(القرآن الکریم سورت 21 آیت 101 102)
لا یحزنھمہ الفزع الاکبر قیامت کی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہ کرے گی
تتلقّٰھمہ الملٰئکۃ فرشتے ان کا استقبال کریں گے
ھٰذَا یومکہ الزی کنتمہ توعدون یہ کہتے ہوئے کہ یہ تمھارا وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ تھا
(القرآن الکریم 21 ۔ 103 ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر صحابی کی یہ شان ہے اللہ عزوجل بتاتا ہے تو جو کسی صحابی پر طعن کرے اللہ واحد قہار کو جھٹلاتا ہے ۔

ضروری تنبیہ : اہل سنت کا عقیدہ یہ کہو نکف عن ذکر الصحابہ الابخیر ۔ یعنی صحابہ کرام کا جب ذکر ہو تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے ۔ (شرح عقائد النفسی دارالاشاعت العربیہ قندھار افغانستان صفحہ 116،چشتی)
انہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں جو ایمان و سنت و اسلام حقیقی پر تادم مرگ ثابت قدم رہے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان جمہور کے خلاف اسلامی تعلیمات کے مقابل اپنی خواہشات کے اتباع میں کوئی نئ راہ نکالی اور بدنصیب کہ اس سعادت سے محروم ہوکر اپنی دکان الگ جما بیٹھے اور اہل حق کے مقابل قتال پر آمادہ ہوگئے وہ ہرگز اس کا مصداق نہیں اس لئیے علماء کرام فرماتے ہیں کہ جنگ جمل وصفین میں جو مسلمان ایک دوسرے کے مقابل آئے ان کا حکم خطائے اجتہادی کا ہے لیکن اہل نہروان جو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی تکفیر کرکے بغاوت پر آمادہ ہوے وہ یقیناً فساق فجار طاغی و باغی تھے اور ایک نئے فرقے کے ساعی و ساتھی جو خوارج کے نام سے موسوم ہوا اور امت میں نئے فتنے اب تک اسی کے دم سے پھیل رہے ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 صفحہ 337،چشتی)

اعلیٰ حضرت رحمة اللہ تعالیٰ علیہ نے تحقیق صحابہ پر اینڈ ہی کردیا ایسی وضاحت ایسی کمال کی گفتگو فرمائی ہے اگر بندہ تعصب کی عینک اتار کر پڑھے تو اس کا دل صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نعروں سے گونج اٹھے فقیر کو یقین ہے کہ اعلیٰ حضرت رحمة اللہ علیہ کے ان فتویٰ جات سے بہت سارے فوائد حاصل کیے ہوں گے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اہل بیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ادب و احترام کرنے والا بنادے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296039482632098/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25493
امام حسن و امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح و شرائط صلح حصّہ دوم
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/296039482632098/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298257232410323/
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اعتراضات کے جوابات
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اعلیٰ حضرت امام احمد رضا علیہ الرّحمہ لکھتے ہیں : جو سیدنا معاويہ رضی ﷲ عنہ پر طعن کرے ، وہ جہنمی کتوں میں سے ايک کتا ہے ، ايسے شخص کے پيچھے نماز حرام ہے ۔ (احکام شریعت جلد 1 صفحہ 69,91)

خلیفہ اعلیٰ حضرت مولانا امجدی علی علیہ الرّحمہ لکھتے ہیں : سیدنا معاويہ رضی ﷲ عنہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہندہ رضی ﷲ عنہا کی شان میں گستاخی تبرا ہے ، اس کا قائل رافضی ہے ۔ (بہار شریعت جلد 1 صفحہ 70)

اعتراض : ایک دفعہ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اپنے کندھوں پر یزید کو لے جا رہے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جہنمی پر جہنمی سوار ہے )معاذ ﷲ (معلوم ہوا کہ یزید بھی دوزخی اور امیر معاویہ بھی دوزخی (نعوذ باﷲ) ؟
جواب : ماشاء ﷲ یہ ہے دشمن صحابہ کی تاریخ پر نظر اور یہ ہے ان کی نادانی کا حال ۔ دلیل : یزید کی پیدائش حضرت عثمان غنی رضی ﷲ عنہ کے دور حکومت میں ہوئی ۔ دیکھو کتاب جامع ابن اثیر اور کتاب الناہیہ وغیرہ ۔ آپ نے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں یزید کو پیدا کردیا ‘ کیا یزید عالم ارواح سے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے کندھے پر کود کر آگیا۔ لاحول ولاقوۃ ۔

اعتراض : حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا دی ‘ چنانچہ مسلم شریف کی حدیث لاتے ہیں کہ حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بار مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بلاؤ میں بلانے گیا تو وہ کھانا کھا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یارسول ﷲ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم وہ کھا رہے ہیں تو فرمایا ان کا پیٹ نہ بھرے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا بھی قبول ہے اور خلاف دعا بھی چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے خلاف دعا کی ۔
جواب : اعتراض کرنے والے نے اس حدیث کو سمجھنے میں غلطی کی ‘ کم از کم اتنی ہی بات سمجھ لی ہوتی کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گالیاں دینے والوں کو معاف کردیتے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کیوں دعا کرتے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی ﷲ عنہما نے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ سے یہ کہا بھی نہیں کہ آپ کو سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلا رہے ہیں ۔ صرف دیکھ کر خاموش واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقعہ عرض کیا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کا نہ کوئی قصور تھا نہ کوئی خطا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے خلاف دعا کریں ‘ یہ ناممکن ہے۔ اب اعتراضات کے جوابات پڑھیئے کہ عرب میں محاورۃ اس قسم کے الفاظ پیار و محبت کے موقع پر بھی بولے جاتے ہیں ان سے بددعا مقصود نہیں ہوتی۔ مثلا: تیرا پیٹ نہ بھرے‘ تجھے تیری ماں روئے‘ وغیرہ کلمات غضب کے لئے نہیں بلکہ کرم کے لئے ارشاد ہوئے ہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ سرکار علیہ السلام نے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کے خلاف بددعا کی تو بھی یہ بددعا حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے حق میں رحمت بنی‘ ﷲ تعالیٰ نے حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو اتنا بھرا اور اتنا مال دیا کہ انہوں نے سینکڑوں کا پیٹ بھر دیا ۔ ایک ایک شخص کو بات بات پر لاکھوں لاکھوں انعام دیتے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے عہد لیا تھا کہ اے ﷲ تعالیٰ اگر میں کسی مسلمان کو بلاوجہ لعنت یا اس کے خلاف دعا کروں تو اسے رحمت اجر اور پاکی کا ذریعہ بنا دینا۔ حدیث : حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا ‘ حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ عنہ سے کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ فرمایا‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ اے ﷲ تعالیٰ جس کسی کو برا کہہ دوں تو قیامت میں اس کے لئے اس بد دعا کو قرب کاذریعہ بنا ۔ (بحوالہ مسلم شریف) ۔ اب سمجھ میں آگیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ پر لگائے گئے سارے الزامات بے بنیاد ہیں اور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کاتب وحی‘ عاشق رسو ل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جیّد صحابی ہیں ۔

اعتراض : حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ دشمنِ اہل بیت رضی اللہ عنہم تھے دلیل واقعہ کربلا ۔
جواب : اس سوال کا جواب مسلک اہل سنت کی سینکڑوں کتابوں میں موجود ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اہل بیت سے سچی محبت کرتے تھے لیکن اس کا جواب ہم شیعہ حضرات کی معتبر کتابوں سے دیتے ہیں ۔ شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی ﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے ۔ تجھے
معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا ‘ ان کا مرتبہ جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے اس کو یاد رکھنا ‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ۔ (جلاء العیون جلد دوم ص 421,422،چشتی)

صاحب ناسخ التواریخ شیعہ مٶرخ لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے یزید کو یہ وصیت فرمائی ۔ ’’کہ اے بیٹا ! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب ﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی ﷲ عنہما کا خون نہ ہو ۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا ۔
غور کیجئے ! حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ‘ یزید کو یہ وصیت کر رہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا ۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا کیا قصور ؟ حضرت امام مالک علیہ الرحمہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید‘ شرابی‘ ظالم اور امام حسین رضی ﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے ؟ الحَمْدُ ِلله ! ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ شان حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کتنی بلند ہے۔ ان دلائل سے ان لوگوں کو عقل کے ناخن لینے چاہیے جو علم نہ ہونے کی وجہ سے بکواس کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے بارے میں اپنی زبان کو بند رکھیں ‘ خصوصا واعظین اور خطباء جو جوشِ خطابت میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو باغی کہہ دیتے ہیں اور ذرا بھی ادب و لحاظ نہیں کرتے ۔ ایسے لوگ احتیاط کریں ۔ اگر کوئی حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اور حضرت علی رضی ﷲ عنہ کے مابین جنگ سے متعلق سوال بھی کرے تو حکمت عملی سے یہ کہہ کر عوام اہلسنت کو مطمئن کردیں کہ ہمارے لیے دونوں ہستیاں لائق احترام و تعظیم ہیں لہٰذا ہمیں اپنی زبانوں کو بند رکھنا چاہیے ۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمارا ایک جاہلانہ بول بروز قیامت ہمیں مہنگا نہ پڑ جائے ۔ حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کا فرمان ہمارے لیے کافی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کا ذکر کرو تو خیر سے کرو سادات کرام بھی حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے متعلق احتیاط سے کام لیں اور اپنی نسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کی شان میں گستاخی سے بچیں ۔

شیادت حضرت امامِ حسن اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے متعلق ایک اعتراض کا جواب : سنن ابی داؤد کی درج ذیل روایت میں چند سوالات ہیں : اس روایت اور اس جیسی روایات کیا درجہ صحت کو پہنچتی ہیں ؟

حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال کرنا کہ ’’ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً ؟ ‘‘ کیا آپ ان کی وفات کو مصیبت سمجھتے ہیں اور حضرت مقدام کا سخت جواب دینا اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت معاویہ وفاتِ حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ کو ہلکا لے رہےتھے اور حضرت معاویہ کے دل میں حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہ کا کوئی خاص مقام نہیں تھا ۔

حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کے بقول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں سونا ، ریشم اور درندوں کی کھالیں استعمال میں لائی جاتی تھیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے استعمال سے منع فرمایا ہے ۔

حضرت معاویہ کی موجودگی میں ان کے ساتھی اسدی نے حضرت حسن کے بارے میں یہ کہا کہ ’’انگارہ تھا جو بجھ گیا‘‘ اور حضرت مقدام اس پر غصہ ہوئے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ حضرت معاویہ کے ہوتے ہوئے حضرت حسن رضی اللہ عنہم کی بارے میں اس طرح کی بات کی جائے ۔

سنن ابی داود کی روایت یہ ہے : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَتَرَاهَا مُصِيبَةً؟ قَالَ لَهُ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً، وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: «هَذَا مِنِّي» وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ؟، فَقَالَ الْأَسَدِيُّ: جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
قَالَ: فَقَالَ الْمِقْدَامُ: أَمَّا أَنَا فَلَا أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّی أُغَيِّظَكَ، وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: أَفْعَلُ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَی عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَی عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَی عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ، قَالَ خَالِدٌ: فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لِابْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ، فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَلَمْ يُعْطِ الْأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ، وَأَمَّا الْأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الْإِمْسَاكِ لِشَيْئِهِ۔ (سنن ابی داود، کتاب اللباس، باب في جلود النمور والسباع)

جواب : یہ روایت ابو داؤد شریف میں موجود ہے ۔ صاحبِ ابو داود نے یہ روایت نقل کر کے اس پر کوئی کلام نہیں فرمایا جو ان کے نزدیک صحیح ہونے کی علامت ہے ۔ حدیث میں یہ قول حضرت امیر معاویہ کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اہل مجلس میں سے کسی کا ہے ۔ چناں چہ روایت میں ’’فقال له رجل‘‘ کا لفظ ہے ، لہذا حضرت امیر معاویہ کا حضرت امامِ حسن کی وفات کو ہلکا سمجھنا ثابت نہیں ہوا ، اسی لیے حضرت امیر معاویہ پر یہ اعتراض بھی غلط ہےکہ ان کے دل میں حضرت امامِ حسن کا کوئی مقام نہیں تھا ۔ بلکہ دیگر روایات سے ثابت ہے کہ حضرت امیر معاویہ ، حضرت امامِ حسن کا بہت احترام فرماتے تھے ۔ اہل سنت والجماعت کی یہی رائے ہے کہ حضرت امامِ حسن بہت محترم ومکرم صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ دیگر حضرات کی طرح حضرت امیر معاویہ کا ان سے عزت واحترام کا برتاؤ تھا رضی اللہ عنہم ۔

روایت میں ان چیزوں کے گھر میں ہونے کا تو ذکر ہے لیکن خود حضرت امیر معاویہ کے استعمال فرمانے کا ذکر نہیں ہے ، اس لیے اس روایت کی بنیاد پر ان پر حدیث کی مخالفت کا الزام درست نہیں ۔

’’انگارہ‘‘ کہنے پر حضرت معاویہ کی خاموشی کسی حکمت پر مبنی ہو سکتی ہے ، لہٰذا محض خاموشی کی وجہ سے ان پر عدمِ احترام کا الزام درست نہیں معلوم ہوتا ۔ لیکن اس کے برعکس ایسی اور بہت سی روایات ایسی موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ اور حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات انتہائی عمدہ اور خلوص سے پر تھے، مثلاً :

جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امامِ حسین ، اپنے بھائی حضرت امامِ حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان،چشتی)

حضرت امامِ حسن بن علی ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امامِ حسن کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امامِ حسن و امامِ حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ (تاريخ دمشق لابن عساکر، حرف الميم، معاوية بن صخر أبي سفيان)

جب حضرت امامِ حسن کا انتقال ہوا تو حضرت امامِ حسین برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھر پور عزت کرتے ۔ (البداية والنهاية، سنة ستين من الهجرة، قصة الحسين بن علي،چشتی)

حضرت معاویہ کا حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف شیعہ کو بھی اس سے انکار نہیں ہے موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال امامِ حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے ۔ (مقتل الحسین علیہ السلام لابی مخنف قم مطبعہ امیر)

ﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے پیاروں کی شان میں گستاخی سے محفوظ فرمائے آمین ثم آمین ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298257232410323/