انہیں بھجوا چکے تھے ۔ جب انہیں سادہ کاغذ ملا ، تو انہوں نے اس پر مزید شرائط لکھ کر اپنے پاس رکھ لیں اور بعد میں ان کا مطالبہ کیا لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان بعد میں لکھی گئی شرائط کو پورا نہیں کیا ۔ اگر ایسا ہوا بھی ہو تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ انہی شرائط کو پورا کرنے کے پابند تھے جو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے انہیں بھجوا دی تھیں اور جن پر فریقین کا معاہدہ ہوا تھا ۔ تاہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم ، تدبر ، مروت اور کشادہ دلی کو مدنظر رکھا جائے تو یہ واقعہ بھی بے سروپا نظر آتا ہے ۔
یہ واقعہ جس سند سے روایت ہوا ہے ، سند یہ ہے : حدثني عبد الله بن أحمد المروزي، قال: أخبرني أبي، قال: حدثنا سليمان، قال: حدثني عبد الله، عن يونس، عن الزهري ۔ یہ سند ابن شہاب الزہری (58-124/58-124) سے شروع ہوتی ہے جو اس واقعہ کے سترہ برس بعد پیدا ہوئے ۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس شخص سے یہ بات سنی ۔ عین ممکن ہے کہ وہ نامعلوم شخص باغی تحریک کا رکن رہا ہو ۔ پھر زہری سے اس روایت کو یونس بن یزید ایلی بیان کرتے ہیں جو کہ ناقابل اعتماد ہیں اور زہری سے ایسی باتیں روایت کرتے ہیں جو اور کوئی نہیں کرتا ہے۔
باغیوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے انتقام کیسے لیا ؟
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے اتحاد کر کے چونکہ باغی تحریک کی لٹیا ہی ڈبو دی تھی ، اس وجہ سے ان کے دل میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے لیئے بہت بغض تھا ۔ اس موقع پر انہوں نے آپ کو ’’یا مذل المومنین‘‘ یعنی اے مومنین کو ذلیل کرنے والے کہہ کر پکارا ۔ بعد میں ان کی طرح طرح سے کردار کشی کی گئی اور انہیں معاذ اللہ راسپوٹین جیسا کردار ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ کہا گیا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے سو سے زائد شادیاں کیں ۔ کسی خاتون سے شادی کرتے اور چند دن بعد اسے طلاق دے دیتے اور پھر کسی اور سے نکاح کر لیتے ۔ یہ ایسی گھناؤنی تہمت ہے جسے قرآن مجید کے حکم کے مطابق سنتے ہی مسترد کر دیا جانا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : لَوْلا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْراً وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ . ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب انہوں نے یہ بات سنی تھی، تو مومن مرد و عورت اپنے دل میں اچھا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو کھلی تہمت ہے۔ (النور 24:12)
افسوس کہ روایت پرستی کے سبب بعض لوگ اس تہمت پر یقین کرتے ہیں، اس وجہ سے مناسب ہو گا کہ ان روایات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کثیر النکاح ہونے سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، وہ سب انہی واقدی، ہشام کلبی اور ابن جعدبہ سے مروی ہیں۔( مزید تحقیق کے لیے دیکھیے: علی محمد محمد الصلابی۔ امیر المومنین الحسن بن علی بن ابی طالب: شخصیتہ و عصرہ۔ ص 27-28۔ قاہرہ: دار التوزیع) ۔ یہ روایات بھی حدیث یا تاریخ کی کسی مستند کتاب میں نہیں بلکہ ابن ابی الحدید ، ابو طالب مکی وغیرہ نے نقل کی ہیں۔ عرب عالم ڈاکٹر صلابی نے نہایت تفصیل کے ساتھ ان روایات کا تجزیہ کر کے ان کا ضعف بیان کیا ہے۔ یہاں ہم یہ اسناد درج کر رہے ہیں : روى المدائني عن أبن جعدبة عن ابن أبي مليكة ، عن محمد بن عمر (الواقدي) أنبأنا عبد الرحمن بن أبي الموال ،م عن محمد بن عمر حدثنا عبد الله بن جعفر، عن عبد الله بن حسن قال ، حدثني عباس بن هشام الكلبي عن أبيه عن جده عن أبي صالح
آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ روایتیں بیان کرنے والے کون لوگ ہیں ۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کی ، ویسے ہی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی کردار کشی میں بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ اگر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے سو سے زائد شادیاں کی ہوتیں تو ان کی اولاد کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہونی چاہیئے تھی جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ چند دن کے تعلق میں بھی حمل ٹھہر ہی جاتا ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امامین حسنین رضی اللہ عنہما سے سلوک ، اس معاملے میں باغی راویوں نے کوئی ایسی روایت وضع نہیں کی ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی برا سلوک کیا ہو ۔ اس کے برعکس تاریخی روایات حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات کے روشن رخ سے پر ہیں ۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193) ۔ ابو مخنف لکھتے ہیں: معاویہ ہر سال امام حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے
یہ واقعہ جس سند سے روایت ہوا ہے ، سند یہ ہے : حدثني عبد الله بن أحمد المروزي، قال: أخبرني أبي، قال: حدثنا سليمان، قال: حدثني عبد الله، عن يونس، عن الزهري ۔ یہ سند ابن شہاب الزہری (58-124/58-124) سے شروع ہوتی ہے جو اس واقعہ کے سترہ برس بعد پیدا ہوئے ۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس شخص سے یہ بات سنی ۔ عین ممکن ہے کہ وہ نامعلوم شخص باغی تحریک کا رکن رہا ہو ۔ پھر زہری سے اس روایت کو یونس بن یزید ایلی بیان کرتے ہیں جو کہ ناقابل اعتماد ہیں اور زہری سے ایسی باتیں روایت کرتے ہیں جو اور کوئی نہیں کرتا ہے۔
باغیوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے انتقام کیسے لیا ؟
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے اتحاد کر کے چونکہ باغی تحریک کی لٹیا ہی ڈبو دی تھی ، اس وجہ سے ان کے دل میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے لیئے بہت بغض تھا ۔ اس موقع پر انہوں نے آپ کو ’’یا مذل المومنین‘‘ یعنی اے مومنین کو ذلیل کرنے والے کہہ کر پکارا ۔ بعد میں ان کی طرح طرح سے کردار کشی کی گئی اور انہیں معاذ اللہ راسپوٹین جیسا کردار ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ کہا گیا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے سو سے زائد شادیاں کیں ۔ کسی خاتون سے شادی کرتے اور چند دن بعد اسے طلاق دے دیتے اور پھر کسی اور سے نکاح کر لیتے ۔ یہ ایسی گھناؤنی تہمت ہے جسے قرآن مجید کے حکم کے مطابق سنتے ہی مسترد کر دیا جانا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : لَوْلا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْراً وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ . ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب انہوں نے یہ بات سنی تھی، تو مومن مرد و عورت اپنے دل میں اچھا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو کھلی تہمت ہے۔ (النور 24:12)
افسوس کہ روایت پرستی کے سبب بعض لوگ اس تہمت پر یقین کرتے ہیں، اس وجہ سے مناسب ہو گا کہ ان روایات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کثیر النکاح ہونے سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، وہ سب انہی واقدی، ہشام کلبی اور ابن جعدبہ سے مروی ہیں۔( مزید تحقیق کے لیے دیکھیے: علی محمد محمد الصلابی۔ امیر المومنین الحسن بن علی بن ابی طالب: شخصیتہ و عصرہ۔ ص 27-28۔ قاہرہ: دار التوزیع) ۔ یہ روایات بھی حدیث یا تاریخ کی کسی مستند کتاب میں نہیں بلکہ ابن ابی الحدید ، ابو طالب مکی وغیرہ نے نقل کی ہیں۔ عرب عالم ڈاکٹر صلابی نے نہایت تفصیل کے ساتھ ان روایات کا تجزیہ کر کے ان کا ضعف بیان کیا ہے۔ یہاں ہم یہ اسناد درج کر رہے ہیں : روى المدائني عن أبن جعدبة عن ابن أبي مليكة ، عن محمد بن عمر (الواقدي) أنبأنا عبد الرحمن بن أبي الموال ،م عن محمد بن عمر حدثنا عبد الله بن جعفر، عن عبد الله بن حسن قال ، حدثني عباس بن هشام الكلبي عن أبيه عن جده عن أبي صالح
آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ روایتیں بیان کرنے والے کون لوگ ہیں ۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کی ، ویسے ہی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی کردار کشی میں بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ۔ اگر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے سو سے زائد شادیاں کی ہوتیں تو ان کی اولاد کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہونی چاہیئے تھی جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ چند دن کے تعلق میں بھی حمل ٹھہر ہی جاتا ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امامین حسنین رضی اللہ عنہما سے سلوک ، اس معاملے میں باغی راویوں نے کوئی ایسی روایت وضع نہیں کی ، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی برا سلوک کیا ہو ۔ اس کے برعکس تاریخی روایات حضرت امام حسن ، حضرت امام حسین اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے باہمی تعلقات کے روشن رخ سے پر ہیں ۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے ۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193) ۔ ابو مخنف لکھتے ہیں: معاویہ ہر سال امام حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے
تھے ۔ ( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام۔ قم: مطبعہ امیر ، چشتی)
کیا یہ رقم سیاسی رشوت تھی ؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی رقم بطور عطیہ کیوں دی جاتی تھی ؟ بعض ناقدین اسے "سیاسی رشوت” قرار دیتے ہیں ۔ ہم اللہ تعالی سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیاسی رشوت دینے اور حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم پر سیاسی رشوت لینے کی تہمت لگائی جائے ۔
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ عرب معاشرے میں خاندان کے سائز کی اہمیت غیر معمولی تھی اور اسی سے سماجی رتبے کا تعین ہوتا تھا ۔ بچوں کی شادیاں جلد ہو جاتیں جس کی وجہ سے ایک ایک شخص کے پندرہ بیس بچے ہونا معمولی بات ہوتی تھی۔ 30-35 برس کی عمر میں انسان دادا اور نانا بن جاتا تھا۔ عربوں کی جوانی کی عمر بھی طویل ہوتی تھی ۔ یہ صورتحال عام تھی کہ 70-75 برس کی عمر کے لوگ جسمانی اعتبار سے اتنے فٹ ہوتے تھے کہ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر دور دراز سفر کر کے جنگوں میں قیادت کرتے ۔ ان کے بیٹے پچاس کے پیٹے میں ہوتے، پوتے تیس کے اور پڑپوتے ٹین ایجر ہونے کے دوران ہی صاحب اولاد ہوتے تھے۔ اس طرح سے ایک شخص ہی کی فیملی میں دو اڑھائی سو افراد معمول کی بات تھی۔خاندان صرف انہی افراد تک محدود نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ ڈھیروں کی تعداد میں غلام اور لونڈیاں بھی ہوتے جن کے ساتھ غلاموں والا نہیں بلکہ فیملی ممبر کا سا سلوک ہوتا۔ انہی غلاموں کو جب آزاد کر دیا جاتا تو ان کا سماجی رتبہ بلند کرنے کے لیے انہیں خاندان کا باقاعدہ حصہ قرار دے دیا جاتا۔ یہ لوگ "موالی (واحد مولی)” کہلاتے تھے۔ اس خاندان کے علاوہ معاشرے کے غرباء کی کفالت بھی انہی خاندانی سربراہوں کے ذمہ ہوتی تھی۔ طبقات ابن سعد میں ہر ہر خاندان کے مشہور لوگوں اور ان کے موالی کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔
اتنے بڑے خاندان اور دیگر غرباء کی کفالت کے لیے ظاہر ہے کہ بہت بڑی رقم کی ضرورت پڑتی ہو گی۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ سب لوگ فارغ بیٹھ کر اپنے خاندان کے سربراہ پر بوجھ بنتے تھے بلکہ یہ سب اپنی خاندانی جائیداد پر کام کرنے کے علاوہ تجارت کیا کرتے تھے۔ قومی ضروریات جیسے جنگ وغیرہ کی صورت میں خاندان کے سربراہ کا فرض تھا کہ وہ اپنے خاندان کے تندرست لوگوں کو لے کر سرکاری فوج کا حصہ بنے۔ خلفاء راشدین نے دولت کی تقسیم کا طریقہ یہ نکالا تھا کہ سرکاری آمدنی کو خاندان کے سربراہ کو دے دیا جاتا اور وہ پھر اسے اپنے خاندان کے لوگوں میں تقسیم کرتا۔ اس تقسیم میں اگر کسی کو شکایت ہوتی تو وہ براہ راست گورنر یا خلیفہ کو شکایت کر سکتا تھا۔ اس کے لیے ہر خاندان کے سربراہ کے پاس رجسٹر ہوتے تھے جن میں اہل خاندان کا اندراج ہوتا تھا۔ انہی رجسٹروں کی مدد سے ’’علم الانساب‘‘ کی کتابیں لکھی گئی ہیں۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی تقسیم دولت کے اس نظام کو جاری رکھا۔ آپ کے دور میں چونکہ مسلمانوں کی حکومت اس وقت کی معلوم دنیا کے ساٹھ فیصد رقبے پر پھیل گئی تھی، اس وجہ سے یہ دولت بھی بہت زیادہ ہوتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس دولت کو اکٹھا کرنے میں کسی پر ظلم کیا جاتا تھا۔ اس آمدنی کے بڑے ذرائع دو تھے: جب مسلم افواج نے قیصر و کسری اور دیگر بادشاہوں کے علاقے فتح کیے تو ان لوگوں نے جو دولت کے انبار لگا رکھے تھے، وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ یہ ان ممالک کے سرکاری خزانے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان ممالک کی سرکاری زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں۔ مسلمانوں نے ان ممالک کے باشندوں سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ زمینوں پر کام کریں اور پیداوار کا نصف یا تہائی حصہ بطور خراج سرکاری خزانے میں داخل کریں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ افغانستان سے لے کر مراکش تک کی زمینوں کی آمدنی کتنی ہو گی۔ ہر علاقے کی آمدنی کو اسی علاقے کے لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا اور اس کا ایک حصہ مرکز کو بھیجا جاتا۔ پھر یہی آمدنی مرکز کے مسلمانوں میں تقسیم کر دی جاتی تھی۔
حضرات امامین حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں تو یہ بات معلوم و معروف ہے کہ انہیں جو عطیات ملتے، اس میں سے بہت کم وہ اپنی ذات پر خرچ کرتے اور زیادہ تر رقم عام لوگوں کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے ۔ ان حضرات نے سیاسی معاملات سے کنارہ کشی کر کے خود کو لوگوں کی دینی تربیت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ان علمی خدمات کے انجام دینے کے ساتھ ساتھ جب ضرورت پڑتی تو یہ سیاسی میدان میں بھی اتر آتے۔ چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک بڑی مہم تیار کی جس کا مقصد قیصر روم کے دار الحکومت "قسطنطنیہ” کو فتح کرنا تھا۔ اس لشکر میں حضرت حسین ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر کے ساتھ ساتھ بزرگ صحابی ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے ۔ اگرچہ قسطنطنیہ فتح نہ ہو سکا لیکن اس مہم سے قیصر روم پر مسلمانوں کا زبردست رعب بیٹھ گیا ۔ دوران محاصرہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ان کی وصیت کے مطابق قسطنطنیہ کی فصیل کے باہر دفن کر دیا ۔ یہ مزار آج تک
کیا یہ رقم سیاسی رشوت تھی ؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی رقم بطور عطیہ کیوں دی جاتی تھی ؟ بعض ناقدین اسے "سیاسی رشوت” قرار دیتے ہیں ۔ ہم اللہ تعالی سے اس بات کی پناہ مانگتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر سیاسی رشوت دینے اور حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم پر سیاسی رشوت لینے کی تہمت لگائی جائے ۔
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ عرب معاشرے میں خاندان کے سائز کی اہمیت غیر معمولی تھی اور اسی سے سماجی رتبے کا تعین ہوتا تھا ۔ بچوں کی شادیاں جلد ہو جاتیں جس کی وجہ سے ایک ایک شخص کے پندرہ بیس بچے ہونا معمولی بات ہوتی تھی۔ 30-35 برس کی عمر میں انسان دادا اور نانا بن جاتا تھا۔ عربوں کی جوانی کی عمر بھی طویل ہوتی تھی ۔ یہ صورتحال عام تھی کہ 70-75 برس کی عمر کے لوگ جسمانی اعتبار سے اتنے فٹ ہوتے تھے کہ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر دور دراز سفر کر کے جنگوں میں قیادت کرتے ۔ ان کے بیٹے پچاس کے پیٹے میں ہوتے، پوتے تیس کے اور پڑپوتے ٹین ایجر ہونے کے دوران ہی صاحب اولاد ہوتے تھے۔ اس طرح سے ایک شخص ہی کی فیملی میں دو اڑھائی سو افراد معمول کی بات تھی۔خاندان صرف انہی افراد تک محدود نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ ڈھیروں کی تعداد میں غلام اور لونڈیاں بھی ہوتے جن کے ساتھ غلاموں والا نہیں بلکہ فیملی ممبر کا سا سلوک ہوتا۔ انہی غلاموں کو جب آزاد کر دیا جاتا تو ان کا سماجی رتبہ بلند کرنے کے لیے انہیں خاندان کا باقاعدہ حصہ قرار دے دیا جاتا۔ یہ لوگ "موالی (واحد مولی)” کہلاتے تھے۔ اس خاندان کے علاوہ معاشرے کے غرباء کی کفالت بھی انہی خاندانی سربراہوں کے ذمہ ہوتی تھی۔ طبقات ابن سعد میں ہر ہر خاندان کے مشہور لوگوں اور ان کے موالی کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔
اتنے بڑے خاندان اور دیگر غرباء کی کفالت کے لیے ظاہر ہے کہ بہت بڑی رقم کی ضرورت پڑتی ہو گی۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ سب لوگ فارغ بیٹھ کر اپنے خاندان کے سربراہ پر بوجھ بنتے تھے بلکہ یہ سب اپنی خاندانی جائیداد پر کام کرنے کے علاوہ تجارت کیا کرتے تھے۔ قومی ضروریات جیسے جنگ وغیرہ کی صورت میں خاندان کے سربراہ کا فرض تھا کہ وہ اپنے خاندان کے تندرست لوگوں کو لے کر سرکاری فوج کا حصہ بنے۔ خلفاء راشدین نے دولت کی تقسیم کا طریقہ یہ نکالا تھا کہ سرکاری آمدنی کو خاندان کے سربراہ کو دے دیا جاتا اور وہ پھر اسے اپنے خاندان کے لوگوں میں تقسیم کرتا۔ اس تقسیم میں اگر کسی کو شکایت ہوتی تو وہ براہ راست گورنر یا خلیفہ کو شکایت کر سکتا تھا۔ اس کے لیے ہر خاندان کے سربراہ کے پاس رجسٹر ہوتے تھے جن میں اہل خاندان کا اندراج ہوتا تھا۔ انہی رجسٹروں کی مدد سے ’’علم الانساب‘‘ کی کتابیں لکھی گئی ہیں۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی تقسیم دولت کے اس نظام کو جاری رکھا۔ آپ کے دور میں چونکہ مسلمانوں کی حکومت اس وقت کی معلوم دنیا کے ساٹھ فیصد رقبے پر پھیل گئی تھی، اس وجہ سے یہ دولت بھی بہت زیادہ ہوتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس دولت کو اکٹھا کرنے میں کسی پر ظلم کیا جاتا تھا۔ اس آمدنی کے بڑے ذرائع دو تھے: جب مسلم افواج نے قیصر و کسری اور دیگر بادشاہوں کے علاقے فتح کیے تو ان لوگوں نے جو دولت کے انبار لگا رکھے تھے، وہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔ یہ ان ممالک کے سرکاری خزانے تھے۔ دوسرے یہ کہ ان ممالک کی سرکاری زمینیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں۔ مسلمانوں نے ان ممالک کے باشندوں سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ زمینوں پر کام کریں اور پیداوار کا نصف یا تہائی حصہ بطور خراج سرکاری خزانے میں داخل کریں۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ افغانستان سے لے کر مراکش تک کی زمینوں کی آمدنی کتنی ہو گی۔ ہر علاقے کی آمدنی کو اسی علاقے کے لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا اور اس کا ایک حصہ مرکز کو بھیجا جاتا۔ پھر یہی آمدنی مرکز کے مسلمانوں میں تقسیم کر دی جاتی تھی۔
حضرات امامین حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے بارے میں تو یہ بات معلوم و معروف ہے کہ انہیں جو عطیات ملتے، اس میں سے بہت کم وہ اپنی ذات پر خرچ کرتے اور زیادہ تر رقم عام لوگوں کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے ۔ ان حضرات نے سیاسی معاملات سے کنارہ کشی کر کے خود کو لوگوں کی دینی تربیت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ان علمی خدمات کے انجام دینے کے ساتھ ساتھ جب ضرورت پڑتی تو یہ سیاسی میدان میں بھی اتر آتے۔ چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ ایک بڑی مہم تیار کی جس کا مقصد قیصر روم کے دار الحکومت "قسطنطنیہ” کو فتح کرنا تھا۔ اس لشکر میں حضرت حسین ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر کے ساتھ ساتھ بزرگ صحابی ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے ۔ اگرچہ قسطنطنیہ فتح نہ ہو سکا لیکن اس مہم سے قیصر روم پر مسلمانوں کا زبردست رعب بیٹھ گیا ۔ دوران محاصرہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ان کی وصیت کے مطابق قسطنطنیہ کی فصیل کے باہر دفن کر دیا ۔ یہ مزار آج تک
استنبول میں موجود ہے ۔
محترم قارئین : اس تفصیل کو مدنظر رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ تمام صحابہ یک جان کئی قالب تھے ۔ ان میں کوئی بغض نہیں پایا جاتا تھا اور سب أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل) کی تصویر تھے۔ غالی راویوں نے بعد میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیئے داستانیں گھڑ کر ان کی طرف منسوب کر دیں جس سے یہ لگتا ہے کہ حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما نے بس مجبوراً حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ورنہ معاذ اللہ ان کے دل ایک دوسرے کے لیے بغض اور کینہ سے بھرے پڑے تھے ۔ یہ تصویر ہرگز حضرات امامین حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے شایان شان نہیں ہے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298118715757508/
محترم قارئین : اس تفصیل کو مدنظر رکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ تمام صحابہ یک جان کئی قالب تھے ۔ ان میں کوئی بغض نہیں پایا جاتا تھا اور سب أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (کفار پر سخت اور آپس میں رحم دل) کی تصویر تھے۔ غالی راویوں نے بعد میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیئے داستانیں گھڑ کر ان کی طرف منسوب کر دیں جس سے یہ لگتا ہے کہ حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما نے بس مجبوراً حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ورنہ معاذ اللہ ان کے دل ایک دوسرے کے لیے بغض اور کینہ سے بھرے پڑے تھے ۔ یہ تصویر ہرگز حضرات امامین حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے شایان شان نہیں ہے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298118715757508/
❤1
https://t.me/islaamic_Knowledge/25459
امیر معاویہ کے حسنین کریمین رضی اللہ عنہم سے تعلقات ، اتحاد و بیعت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298118715757508/
امیر معاویہ کے حسنین کریمین رضی اللہ عنہم سے تعلقات ، اتحاد و بیعت
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298118715757508/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297935229109190/
امیر معاویہ پرالزام امام حسن رضی اللہ عنہما کو زہر دے کر قتل کروایا کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : بہت عرصہ پہلے ہم رافضی شیعوں کے اس بھونڈے اور من گھڑت اعتراض کا مدلّل جواب دے چکے ہیں اب دوبارہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سنیوں کے لبادے میں رافضی جو کہ بُغضِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں مبتلا ہیں نے اس بات کو مختلف کمنٹس اور پوسٹوں کی صورت میں اچھالا اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی مگر یہ مبغضین بغض میں اتنا اندھے ہوگئے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہ پر بدکاری کا الزام لگا دیا کہ اس کے یزید سےناجائز تعلقات تھے استغفر اللہ ۔ ان بد بختوں کو اتتنا بھی حیاء نہ آئی کہ خانوادہ رسول علیہم السّلام کی بہو پر بیہودہ الزام لگا دیا اس سے ان بد بختوں کے اندر چھپی رافضیت و اسلام دشمنی واضح ہوتی ہے آیئے اس کے متعلق نئی ترتیب کے ساتھ مفصل و مسدلّل جواب پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے بد بختوں کو ہدایت عطاء فرمائے آمین۔
محترم قارئین : یہ الزام انتہائی بے بنیاد اور لغو ہے ۔ حتٰی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا ہے ، تو کس طرح دوسروں کو معلوم ہو گیا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے ؟
قال بن سعد أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا بن عون عن عمير بن إسحاق دخلت أنا وصاحب لي على الحسن بن علي فقال لقد لفظت طائفة من كبدي وإني قد سقيت السم مرارا فلم أسق مثل هذا فأتاه الحسين بن علي فسأله من سقاك فأبى أن يخبره رحمه الله تعالى ۔
ترجمہ : عمیر بن اسحق کہتے تھے کہ میں اور میرے ایک ساتھی حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ میرے جگر کے کچھ ٹکڑے گرچکے ہیں اورمجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ؛ لیکن اس مرتبہ کہ ایسا قاتل کبھی نہ تھا اس کے بعد حسین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا کس نے پلایا، لیکن انہوں نے بتانے سے انکار کیا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ج ۲ ص ۷۳،چشتی)
عمیر بن اسحاق کہتے ہیں : دخلت أنا ورجل علی الحسن بن علی نعودہ ، فجعل یقول لذلک الرجل: سلنی قبل أن لا تسألنی ، قال: ما أرید أن أسألک شیئا ، یعافیک اللّٰہ ، قال: فقام فدخل الکنیف ، ثمّ خرج إلینا ، ثمّ قال: ما خرجت إلیکم حتی لفظت طائفۃ من کبدی أقلبہا بہذا العود ، ولقد سقیت السمّ مرارا ، ما شیء أشدّ من ہذہ المرّۃ ، قال: فغدونا علیہ من الغد ، فإذا ہو فی السوق ، قـال : وجاء الحسین فجلس عند رأسہ ، فقال: یا أخی ، من صاحبک ؟ قال : ترید قتلہ ؟ قال: نعم ، قال: لئن کان الذی أظنّ ، للّٰہ أشدّ نقمۃ ، وإن کان بریئا فما أحبّ أن یقتل برئی ۔
ترجمہ : میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پرعیادت کے لیے داخل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہمااس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کرسکنے سے پہلے سوال کرلیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کوعافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہماکھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے ۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، پھرفرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ)پھینک دیاہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کررہاتھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے ، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہماحالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اورکہا : اے بھائی!آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہمانے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اوراگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کوقتل نہیں کرنا چاہتا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۱۵/۹۳،۹۴، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ۱۳۲، المستدرک للحاکم : ۳/۱۷۶، الاستیعاب لابن عبد البر : ۳/۱۱۵، تاریخ ابن عساکر : ۱۳/۲۸۲، وسندہٗ حسنٌ،چشتی)
اسی طرح اہل تشیع کی مشہور کتاب بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے مروج الذہب للمسعودی الشیعی سے مندرجہ زیل روایت نقل کی ہے : عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده علي بن الحسين عليهم السلام قال: دخل الحسين على عمي الحسن حدثان ما سقي السم فقام لحاجة الانسان ثم رجع فقال: سقيت السم عدة مرات، وما سقيت مثل هذه، لقد لفظت طائفة من كبدي ورأيتني أقلبه بعود في يدي، فقال له الحسين عليه السلام: يا أخي ومن سقاك؟ قال: وما تريد بذلك؟ فإن كان الذي أظنه فالله حسيبه، وإن كان غيره فما أحب أن يؤخذ بي برئ، فلم يلبث بعد ذلك إلا ثلاثا حتى توفي
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297935229109190/
امیر معاویہ پرالزام امام حسن رضی اللہ عنہما کو زہر دے کر قتل کروایا کا جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : بہت عرصہ پہلے ہم رافضی شیعوں کے اس بھونڈے اور من گھڑت اعتراض کا مدلّل جواب دے چکے ہیں اب دوبارہ ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سنیوں کے لبادے میں رافضی جو کہ بُغضِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں مبتلا ہیں نے اس بات کو مختلف کمنٹس اور پوسٹوں کی صورت میں اچھالا اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی مگر یہ مبغضین بغض میں اتنا اندھے ہوگئے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہ پر بدکاری کا الزام لگا دیا کہ اس کے یزید سےناجائز تعلقات تھے استغفر اللہ ۔ ان بد بختوں کو اتتنا بھی حیاء نہ آئی کہ خانوادہ رسول علیہم السّلام کی بہو پر بیہودہ الزام لگا دیا اس سے ان بد بختوں کے اندر چھپی رافضیت و اسلام دشمنی واضح ہوتی ہے آیئے اس کے متعلق نئی ترتیب کے ساتھ مفصل و مسدلّل جواب پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے بد بختوں کو ہدایت عطاء فرمائے آمین۔
محترم قارئین : یہ الزام انتہائی بے بنیاد اور لغو ہے ۔ حتٰی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو کس نے قتل کیا ہے ، تو کس طرح دوسروں کو معلوم ہو گیا کہ امام حسن رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ہے ؟
قال بن سعد أخبرنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا بن عون عن عمير بن إسحاق دخلت أنا وصاحب لي على الحسن بن علي فقال لقد لفظت طائفة من كبدي وإني قد سقيت السم مرارا فلم أسق مثل هذا فأتاه الحسين بن علي فسأله من سقاك فأبى أن يخبره رحمه الله تعالى ۔
ترجمہ : عمیر بن اسحق کہتے تھے کہ میں اور میرے ایک ساتھی حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ میرے جگر کے کچھ ٹکڑے گرچکے ہیں اورمجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ؛ لیکن اس مرتبہ کہ ایسا قاتل کبھی نہ تھا اس کے بعد حسین رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور پوچھا کس نے پلایا، لیکن انہوں نے بتانے سے انکار کیا ۔ (الإصابة في تمييز الصحابة ج ۲ ص ۷۳،چشتی)
عمیر بن اسحاق کہتے ہیں : دخلت أنا ورجل علی الحسن بن علی نعودہ ، فجعل یقول لذلک الرجل: سلنی قبل أن لا تسألنی ، قال: ما أرید أن أسألک شیئا ، یعافیک اللّٰہ ، قال: فقام فدخل الکنیف ، ثمّ خرج إلینا ، ثمّ قال: ما خرجت إلیکم حتی لفظت طائفۃ من کبدی أقلبہا بہذا العود ، ولقد سقیت السمّ مرارا ، ما شیء أشدّ من ہذہ المرّۃ ، قال: فغدونا علیہ من الغد ، فإذا ہو فی السوق ، قـال : وجاء الحسین فجلس عند رأسہ ، فقال: یا أخی ، من صاحبک ؟ قال : ترید قتلہ ؟ قال: نعم ، قال: لئن کان الذی أظنّ ، للّٰہ أشدّ نقمۃ ، وإن کان بریئا فما أحبّ أن یقتل برئی ۔
ترجمہ : میں اور ایک آدمی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پرعیادت کے لیے داخل ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہمااس آدمی سے کہنے لگے : مجھ سے سوال نہ کرسکنے سے پہلے سوال کرلیں۔ اس آدمی نے عرض کیا: میں آپ سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔ اللہ تعالیٰ آپ کوعافیت دے۔ آپ رضی اللہ عنہماکھڑے ہوئے اور بیت الخلاء گئے ۔ پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، پھرفرمایا: میں نے تمہارے پاس آنے سے پہلے اپنے جگر کا ایک ٹکڑا (پاخانے کے ذریعہ)پھینک دیاہے۔ میں اس کو اس لکڑی کے ساتھ الٹ پلٹ کررہاتھا۔ میں نے کئی بار زہر پیا ہے ، لیکن اس دفعہ سے سخت کبھی نہیں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم ان کے پاس اگلے دن آئے تو آپ رضی اللہ عنہماحالت ِ نزع میں تھے۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سر مبارک کے پاس بیٹھ گئے اورکہا : اے بھائی!آپ کو زہر دینے والا کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہمانے فرمایا : کیا آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! فرمایا : اگر وہ شخص وہی ہے جو میں سمجھتا ہوں تو اللہ تعالیٰ انتقام لینے میں زیادہ سخت ہے۔ اوراگر وہ بری ہے تو میں ایک بری آدمی کوقتل نہیں کرنا چاہتا ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ : ۱۵/۹۳،۹۴، کتاب المحتضرین لابن ابی الدنیا : ۱۳۲، المستدرک للحاکم : ۳/۱۷۶، الاستیعاب لابن عبد البر : ۳/۱۱۵، تاریخ ابن عساکر : ۱۳/۲۸۲، وسندہٗ حسنٌ،چشتی)
اسی طرح اہل تشیع کی مشہور کتاب بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے مروج الذہب للمسعودی الشیعی سے مندرجہ زیل روایت نقل کی ہے : عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جده علي بن الحسين عليهم السلام قال: دخل الحسين على عمي الحسن حدثان ما سقي السم فقام لحاجة الانسان ثم رجع فقال: سقيت السم عدة مرات، وما سقيت مثل هذه، لقد لفظت طائفة من كبدي ورأيتني أقلبه بعود في يدي، فقال له الحسين عليه السلام: يا أخي ومن سقاك؟ قال: وما تريد بذلك؟ فإن كان الذي أظنه فالله حسيبه، وإن كان غيره فما أحب أن يؤخذ بي برئ، فلم يلبث بعد ذلك إلا ثلاثا حتى توفي
❤1
صلوات الله عليه ۔
ترجمہ : علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (زین العابدین) رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ حسین میرے چچا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے زہر پلانے کے وقت گئے تو حسن رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لئے گئے وہاں سے لوٹ کر کہا کہ مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ، لیکن اس مرتبہ کے ایسا کبھی نہ تھا اس میں میرے جگر کے ٹکڑے باہر آگئے تم مجھے دیکھتے کہ میں ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا ، حسین رضی اللہ عنہ نے پوچھا بھائی صاحب کس نے پلایا ؟ حسن رضی اللہ عنہ نے کہا، اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے ، اگر زہر دینے والا وہی شخص ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو خدا اس کے لئے کافی ہے اور اگر دوسرا ہے تو میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میری وجہ سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے ، اس کے بعد حسن رضی اللہ عنہ زیادہ نہ ٹھہرے اور تین دن کے بعد انتقال کرگئے ۔ (بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٤٤ - الصفحة ١٤٨،چشتی)
پس معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگایا جانے والا یہ الزام کوئی بنیاد نہیں رکھتا ، یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کا اپنا ایجادکردہ الزام ہے ۔
علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں : وما ينقل من ان معاوية دس إليه السم مع زوجه جعدة بنت الاشعث فهو من أحاديث الشيعة وحاشا لمعاوية من ذلك ۔
ترجمہ : اوریہ روایت کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان (امام حسن رضی اللہ عنہ) کی بیوی سے مل کر زہر دلایا شیعوں کی بنائی ہوئی ہے حاشا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات سے اس کاکوئی تعلق نہیں ۔ (ابن خلدون ج ۲ ص ١۸۷،چشتی)
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وأما قوله : إن معاوية سم الحسن ، فهذا مما ذكره بعض الناس ، ولم يثبت ذلك ببينة شرعية ، أو إقرار معتبر ، ولا نقل يجزم به ، وهذا مما لا يمكن العلم به ، فالقول به قول بلا علم ۔ ترجمہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ حسن کو معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا تھا کہ کسی شرعی دلیل اورمعتبر اقرار سے ثابت نہیں ہے اورنہ کوئی قابل وثوق روایت سے اس کی شہادت ملتی ہے اوریہ واقعہ ان واقعوں میں ہے جس کی تہ تک نہیں پہنچا جاسکتا اس لئے اس کے متعلق کچھ کہنا بے علم کی بات کہنا ہے ۔ (منہاج السنہ ج ۴ ص ۴٦۹،چشتی)
علامہ حافظ ابن کثیر اس کے متعلق لکھتے ہیں : وعندي أن هذا ليس بصحيح ، وعدم صحته عن أبيه معاوية بطريق الأولى ۔
ترجمہ : میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں کہ یزید نے سیدنا امام حسن کو زہر دے کر شہید کر دیا ہے۔ اور اس کے والد ماجد سیدنا امیر معاویہ کے متعلق یہ گمان کرنا بطریق اولٰی غلط ہے ۔ (البدایہ والنہایہ ج ۸ ص ۴۳)
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں : قلت : هذا شيء لا يصح فمن الذي اطلع عليه ۔ ترجمہ : میں کہتا ہوں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے، اور اس پر کون مطلع ہو سکا ہے ۔ (تاریخ اسلام ص ۴۰،چشتی)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی تایخ وصال میں مور خین کا اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ سن 49/ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰/ہجری میں ہوا،اور سن ۵۱/ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے۔لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ،جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر آپ کا وصال ہو گیا۔ جب بیماری زیادہ بڑھی تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فر مایا کہ:مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟تو آپ نے فر مایا:یہ سوال کیوں پوچھتے ہو؟کیا تم ان سے جنگ کروگے۔میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی۔یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے۔کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ:میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا۔جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا؟اس لئے ایک ایسے مقدس امام جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ،پھر جنہیں نوجوانا ن جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ان کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک
ترجمہ : علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (زین العابدین) رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ حسین میرے چچا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے زہر پلانے کے وقت گئے تو حسن رضی اللہ عنہ قضائے حاجت کے لئے گئے وہاں سے لوٹ کر کہا کہ مجھے کئی مرتبہ زہر پلایا گیا ، لیکن اس مرتبہ کے ایسا کبھی نہ تھا اس میں میرے جگر کے ٹکڑے باہر آگئے تم مجھے دیکھتے کہ میں ان کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا ، حسین رضی اللہ عنہ نے پوچھا بھائی صاحب کس نے پلایا ؟ حسن رضی اللہ عنہ نے کہا، اس سوال سے تمہارا کیا مقصد ہے ، اگر زہر دینے والا وہی شخص ہے جس کے متعلق میرا گمان ہے تو خدا اس کے لئے کافی ہے اور اگر دوسرا ہے تو میں یہ نہیں پسند کرتا کہ میری وجہ سے کوئی ناکردہ گناہ پکڑا جائے ، اس کے بعد حسن رضی اللہ عنہ زیادہ نہ ٹھہرے اور تین دن کے بعد انتقال کرگئے ۔ (بحار الأنوار - العلامة المجلسي - ج ٤٤ - الصفحة ١٤٨،چشتی)
پس معلوم ہوا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگایا جانے والا یہ الزام کوئی بنیاد نہیں رکھتا ، یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کا اپنا ایجادکردہ الزام ہے ۔
علامہ ابن خلدون رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں : وما ينقل من ان معاوية دس إليه السم مع زوجه جعدة بنت الاشعث فهو من أحاديث الشيعة وحاشا لمعاوية من ذلك ۔
ترجمہ : اوریہ روایت کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان (امام حسن رضی اللہ عنہ) کی بیوی سے مل کر زہر دلایا شیعوں کی بنائی ہوئی ہے حاشا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات سے اس کاکوئی تعلق نہیں ۔ (ابن خلدون ج ۲ ص ١۸۷،چشتی)
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں : وأما قوله : إن معاوية سم الحسن ، فهذا مما ذكره بعض الناس ، ولم يثبت ذلك ببينة شرعية ، أو إقرار معتبر ، ولا نقل يجزم به ، وهذا مما لا يمكن العلم به ، فالقول به قول بلا علم ۔ ترجمہ : بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ حسن کو معاویہ رضی اللہ عنہ نے زہر دیا تھا کہ کسی شرعی دلیل اورمعتبر اقرار سے ثابت نہیں ہے اورنہ کوئی قابل وثوق روایت سے اس کی شہادت ملتی ہے اوریہ واقعہ ان واقعوں میں ہے جس کی تہ تک نہیں پہنچا جاسکتا اس لئے اس کے متعلق کچھ کہنا بے علم کی بات کہنا ہے ۔ (منہاج السنہ ج ۴ ص ۴٦۹،چشتی)
علامہ حافظ ابن کثیر اس کے متعلق لکھتے ہیں : وعندي أن هذا ليس بصحيح ، وعدم صحته عن أبيه معاوية بطريق الأولى ۔
ترجمہ : میرے نزدیک تو یہ بات بھی صحیح نہیں کہ یزید نے سیدنا امام حسن کو زہر دے کر شہید کر دیا ہے۔ اور اس کے والد ماجد سیدنا امیر معاویہ کے متعلق یہ گمان کرنا بطریق اولٰی غلط ہے ۔ (البدایہ والنہایہ ج ۸ ص ۴۳)
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تاریخ میں فرماتے ہیں : قلت : هذا شيء لا يصح فمن الذي اطلع عليه ۔ ترجمہ : میں کہتا ہوں کہ یہ بات صحیح نہیں ہے، اور اس پر کون مطلع ہو سکا ہے ۔ (تاریخ اسلام ص ۴۰،چشتی)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی تایخ وصال میں مور خین کا اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ سن 49/ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔اور ایک قول یہ ہے کہ سن ۵۰/ہجری میں ہوا،اور سن ۵۱/ہجری کا بھی قول کیا گیا ہے۔لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔آپ کی وفات کاسبب یہ ہوا کہ دشمنوں کی سازش سے آپ کو زہر پلا دیا گیا ،جس کی وجہ سے آپ چالیس دن تک بیمار رہے پھر آپ کا وصال ہو گیا۔ جب بیماری زیادہ بڑھی تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے فر مایا کہ:مجھے تین بار زہر دیا گیا لیکن اس بار سب سے زیادہ شدید زہر تھا جس سے میرا جگر کٹ رہا ہے ۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے پو چھا کہ آپ کو کس نے زہر دیا ہے؟تو آپ نے فر مایا:یہ سوال کیوں پوچھتے ہو؟کیا تم ان سے جنگ کروگے۔میں ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
کچھ لوگوں سے یہاں پر سخت غلطی واقع ہو ئی ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیوی “جعدہ بنت الاشعث” کو دشمنوں نے بہلا پھسلا کر اپنی سازش کا حصہ بنا لیا اور وہ دشمنوں کے جھانسے میں آکر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو دھوکے میں زہر پلادی۔یہ بات بالکل جھوٹ اور افترائے محض ہے۔کیو نکہ تمام مور خین نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ جب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے زہر پلانے والے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کسی کا نام نہ بتایا اور صرف اتنا کہا کہ:میں ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔تو جب انہوں نےنام نہیں بتایا یہاں تک کہ کسی کے بارے میں اپنی شک کا اظہار بھی نہ فر مایا۔جس کی وجہ سے اس وقت کسی سے قصاص نہ لیا جا سکا تو پھر دوسروں کو کیسے اس کا علم ہوا؟اس لئے ایک ایسے مقدس امام جن سے اپنا رشتہ جوڑنے پر اس زمانے کی عورتیں ہر دکھ گوارا کرنے کو تیار رہتی تھی ،پھر جنہیں نوجوانا ن جنت کی سردار کی بیوی بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ان کے بارے میں ایسا خیال ر کھنا اپنی تباہی اور بر بادی کو دعوت دینا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور اپنے ان نیک
بندوں کے صدقے دارین کی سر خروئی نصیب فر مائے۔
خلیفہ اعلیٰحضرت صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ سوانح کربلا میں فرماتے ہیں : مؤرخین نے زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنت اشعث ابن قیس کی طرف کی ہے اور اس کو حضرت امام کی زوجہ بتایا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ یہ زہر خورانی باغوائے یزید ہوئی ہے اور یزید نے اس سے نکاح کا وعدہ کیا تھا۔ اس طمع میں آکر اس نے حضرت امام کو زہردیا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲) لیکن اس روایت کی کوئی سندِ صحیح دستیاب نہیں ہوئی اور بغیر کسی سندِ صحیح کے کسی مسلمان پر قتل کا الزام اور ایسے عظیم الشان قتل کا الزام کس طرح جائز ہوسکتا ہے ۔
قطع نظر اس بات کے کہ روایت کے لئے کوئی سند نہیں ہے اور مؤرخین نے بغیر کسی معتبرذریعہ یا معتمدحوالہ کے لکھ دیاہے ۔ یہ خبر واقعات کے لحاظ سے بھی ناقابل اطمینان معلوم ہوتی ہے ۔ واقعات کی تحقیق خود واقعات کے زمانہ میں جیسی ہوسکتی ہے مشکل ہے کہ بعد کو ویسی تحقیق ہو خاص کر جب کہ واقعہ اتنا اہم ہو مگر حیرت ہے کہ اَہل بیتِ اَطہار کے اس امامِ جلیل کا قتل اس قاتل کی خبر غیر کو تو کیا ہوتی خود حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ نہیں ہے یہی تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے برادر ِمعظم سے زہردہندہ کا نام دریافت فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دینے والے کا علم نہ تھا ۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کانام لیتے ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اب حضرت جعدہ رضی اللہ عنہا کو قاتل ہونے کیلئے معین کرنے والا کون ہے۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویاامامین کے صاحبزادوں میں سے کسی صاحب کواپنی آخر حیات تک جعدہ کی زہر خورانی کاکوئی ثبوت نہ پہنچانہ ان میں سے کسی نے اس پر شرعی مواخذہ کیا ۔ ایک اور پہلو اس واقعہ کاخاص طور پر قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو غیر کے ساتھ سازباز کرنے کی شنیع تہمت کے ساتھ متہم کیا جاتا ہے یہ ایک بدترین تبرا ہے۔ عجب نہیں کہ ا س حکایت کی بنیاد خارجیوں کی افتراءات ہوں جب کہ صحیح اور معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر التزوج تھے اور آپ نے سو (۱۰۰) کے قریب نکاح کیئے اور طلاقیں دیں ۔ اکثرایک دو شب ہی کے بعد طلاق دے دیتے تھے اور حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم باربار اعلان فرماتے تھے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت ہے ، یہ طلاق دے دیا کرتے ہیں ، کوئی اپنی لڑکی ان کے ساتھ نہ بیاہے ۔ مگر مسلمان بیبیاں اور ان کے والدین یہ تمنا کرتے تھے کہ کنیز ہونے کا شرف حاصل ہوجائے اسی کا اثر تھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن عورتوں کو طلاق دیدیتے تھے ۔ وہ اپنی باقی زندگی حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں شیدایانہ گزاردیتی تھیں اور ان کی حیات کا لمحہ لمحہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد اور محبت میں گزرتا تھا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب ، ص۱۵۱) ایسی حالت میں یہ بات بہت بعید ہے کہ امام کی بیوی حضرت امام کے فیض صحبت کی قدر نہ کرے اور یزید پلید کی طرف ایک طمعِ فاسد سے اما م جلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل جیسے سخت جرم کا ارتکاب کرے ۔
(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297935229109190/
خلیفہ اعلیٰحضرت صدر الافاضل حضرت علامہ سیّد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ سوانح کربلا میں فرماتے ہیں : مؤرخین نے زہر خورانی کی نسبت جعدہ بنت اشعث ابن قیس کی طرف کی ہے اور اس کو حضرت امام کی زوجہ بتایا ہے اوریہ بھی کہا ہے کہ یہ زہر خورانی باغوائے یزید ہوئی ہے اور یزید نے اس سے نکاح کا وعدہ کیا تھا۔ اس طمع میں آکر اس نے حضرت امام کو زہردیا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب،ص۱۵۲) لیکن اس روایت کی کوئی سندِ صحیح دستیاب نہیں ہوئی اور بغیر کسی سندِ صحیح کے کسی مسلمان پر قتل کا الزام اور ایسے عظیم الشان قتل کا الزام کس طرح جائز ہوسکتا ہے ۔
قطع نظر اس بات کے کہ روایت کے لئے کوئی سند نہیں ہے اور مؤرخین نے بغیر کسی معتبرذریعہ یا معتمدحوالہ کے لکھ دیاہے ۔ یہ خبر واقعات کے لحاظ سے بھی ناقابل اطمینان معلوم ہوتی ہے ۔ واقعات کی تحقیق خود واقعات کے زمانہ میں جیسی ہوسکتی ہے مشکل ہے کہ بعد کو ویسی تحقیق ہو خاص کر جب کہ واقعہ اتنا اہم ہو مگر حیرت ہے کہ اَہل بیتِ اَطہار کے اس امامِ جلیل کا قتل اس قاتل کی خبر غیر کو تو کیا ہوتی خود حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ نہیں ہے یہی تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنے برادر ِمعظم سے زہردہندہ کا نام دریافت فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زہر دینے والے کا علم نہ تھا ۔ اب رہی یہ بات کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کانام لیتے ۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اب حضرت جعدہ رضی اللہ عنہا کو قاتل ہونے کیلئے معین کرنے والا کون ہے۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویاامامین کے صاحبزادوں میں سے کسی صاحب کواپنی آخر حیات تک جعدہ کی زہر خورانی کاکوئی ثبوت نہ پہنچانہ ان میں سے کسی نے اس پر شرعی مواخذہ کیا ۔ ایک اور پہلو اس واقعہ کاخاص طور پر قابل لحاظ ہے وہ یہ کہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو غیر کے ساتھ سازباز کرنے کی شنیع تہمت کے ساتھ متہم کیا جاتا ہے یہ ایک بدترین تبرا ہے۔ عجب نہیں کہ ا س حکایت کی بنیاد خارجیوں کی افتراءات ہوں جب کہ صحیح اور معتبر ذرائع سے یہ معلوم ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر التزوج تھے اور آپ نے سو (۱۰۰) کے قریب نکاح کیئے اور طلاقیں دیں ۔ اکثرایک دو شب ہی کے بعد طلاق دے دیتے تھے اور حضرت امیر المومنین علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم باربار اعلان فرماتے تھے کہ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت ہے ، یہ طلاق دے دیا کرتے ہیں ، کوئی اپنی لڑکی ان کے ساتھ نہ بیاہے ۔ مگر مسلمان بیبیاں اور ان کے والدین یہ تمنا کرتے تھے کہ کنیز ہونے کا شرف حاصل ہوجائے اسی کا اثر تھا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن عورتوں کو طلاق دیدیتے تھے ۔ وہ اپنی باقی زندگی حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت میں شیدایانہ گزاردیتی تھیں اور ان کی حیات کا لمحہ لمحہ حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یاد اور محبت میں گزرتا تھا ۔ (تاریخ الخلفاء، باب الحسن بن علی بن ابی طالب ، ص۱۵۱) ایسی حالت میں یہ بات بہت بعید ہے کہ امام کی بیوی حضرت امام کے فیض صحبت کی قدر نہ کرے اور یزید پلید کی طرف ایک طمعِ فاسد سے اما م جلیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل جیسے سخت جرم کا ارتکاب کرے ۔
(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297935229109190/
https://t.me/islaamic_Knowledge/25468
امیر معاویہ پرالزام امام حسن رضی اللہ عنہما کو زہر دے کر قتل کروایا کا جواب
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297935229109190/
امیر معاویہ پرالزام امام حسن رضی اللہ عنہما کو زہر دے کر قتل کروایا کا جواب
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297935229109190/
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297865335782846/
اہل بیتِ اطہار اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کا باہمی تعلق
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : دشمنان اسلام لوگوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے ۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت کہلواتے ہیں ، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں ۔ درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف ، ہشام کلبی ، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا ۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی ؟
حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی ﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا ۔ (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258،چشتی)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا ۔ امارات معاویہ رضی ﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (شرح عقیدہ واسطیہ)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے ۔ (البدایہ ج 8 ص 130)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا ۔ (البدایہ‘ ج 8ص 131)
حضرت ابو امامہ رضی ﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ‘ افضل ہونا تو کجا ہے ۔ (الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ سے رجوع کیا ۔ ( موطا امام مالک)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا ۔ (تاج العروس صفحہ 221،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا ۔ (بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)
حضرت علی کے بھائی عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا ۔ ایک بار عقیل ، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا : ’’اے ابو یزید (عقیل) ! میں علی بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں ۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں ۔ علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں ۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا : ’’امیر المومنین ! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی ۔‘‘ ( ابن عساکر۔ 42/416،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک ، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے ۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے ، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا : ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297865335782846/
اہل بیتِ اطہار اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کا باہمی تعلق
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : دشمنان اسلام لوگوں کی پوری کوشش رہی ہے کہ اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معاذ اللہ ایک دوسرے کا دشمن ثابت کیا جائے ۔ کبھی وہ ان کی زبان سے ایک دوسرے پر لعنت کہلواتے ہیں ، کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہلواتے ہیں اور ان کے اسلام میں شک کرواتے ہیں ۔ درحقیقت یہ ان کے اپنے جذبات ہیں جنہیں وہ زبردستی اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی تمام روایات کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سند میں کوئی نہ کوئی جھوٹا راوی جیسے ابو مخنف ، ہشام کلبی ، سیف بن عمر یا واقدی ضرور موجود ہو گا ۔ یہاں ہم چند روایات اور کچھ نکات پیش کر رہے ہیں ، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کی ایک دوسرے کے بارے میں کیا رائے تھی ؟
حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی ﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا ۔ (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258،چشتی)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا ۔ امارات معاویہ رضی ﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (شرح عقیدہ واسطیہ)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے ۔ (البدایہ ج 8 ص 130)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا ۔ (البدایہ‘ ج 8ص 131)
حضرت ابو امامہ رضی ﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ‘ افضل ہونا تو کجا ہے ۔ (الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ سے رجوع کیا ۔ ( موطا امام مالک)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا ۔ (تاج العروس صفحہ 221،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا ۔ (بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)
حضرت علی کے بھائی عقیل اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ کے بھائی زیاد بن ابی سفیان ، حضرت علی کے قریبی ساتھی تھے اور آپ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا ۔ ایک بار عقیل ، معاویہ کے پاس بیٹھے تھے تو معاویہ نے جی کھول کر علی کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا : ’’اے ابو یزید (عقیل) ! میں علی بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں ۔ علی قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں ۔ علی میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں ۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا : ’’امیر المومنین ! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی ۔‘‘ ( ابن عساکر۔ 42/416،چشتی)
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے بعد جو خط شہروں میں بھیجا، اس میں فرمایا: ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک ، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اس معاملے میں نہ وہ ہم سے زیادہ تھے اور نہ ہم ان سے۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے ۔ ( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58)
ایک شخص نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا ۔ آپ نے فرمایا : اس بارے میں علی بن ابی طالب سے پوچھ لیجیے ، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں۔‘‘ اس نے کہا : ’’امیر المومنین! آپ کی رائے، میرے نزدیک علی کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے۔ کیا آپ ان صاحب (علی) کی رائے کو ناپسند
کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم سے عزت بخشی ہے ؟ آپ نے انہیں فرمایا تھا : علی ! آپ میرے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسیٰ کے نزدیک ہارون (علیہما الصلوۃ والسلام) کی تھی ۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (ابن عساکر۔ 42/170)
خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا : “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے ۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا ۔ ” آپ نے فرمایا : “بیان کرو ۔” کہنے لگا : “آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا ۔” آپ نے فرمایا : “کاش ! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے ۔ ( طبری۔ 3/2-357)
جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : “لوگو! آپ لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں ۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے ۔ ( ابن ابی شیبہ المصنف 14/38850)
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ عَلِيٌّ مِنْ صِفِّينَ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ أَبَدًا , فَتَكَلَّمَ بِأَشْيَاءَ كَانَ لَا يَتَكَلَّمُ بِهَا , وَحَدَّثَ بِأَحَادِيثَ كَانَ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا , فَقَالَ : فِيمَا يَقُولُ : ” أَيُّهَا النَّاسُ , لَا تَكْرَهُوا إِمَارَةَ مُعَاوِيَةَ , وَاللَّهِ لَوْ قَدْ فَقَدْتُمُوهُ ! لَقَدْ رَأَيْتُمُ الرُّءُوسَ تَنْزُو مِنْ كَوَاهِلِهَا كَالْحَنْظَلِ ! ” ۔(مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الْجَمَلِ » بَابُ مَا ذُكِرَ فِي صِفِّينَ رقم الحديث 37151)
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا : ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے ۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا ۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا ۔ ( ابن عساکر۔ 59/139)
ان واقعات کو پڑھنے کے بعد کوئی ذی شعور بے سند اور لا یعنی بات نہیں کر سکتا ایک اور بات امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما ہم سے زیادہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ہیں جب انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان سے سالانہ وظائف بهی قبول کرتے رہے تو ہمیں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کا کوئی حق نہیں. کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کسی کافر یا فاسق کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے . اب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید درپردہ سرداران نوجوانان جنت رضی اللہ عنہما پر تنقید ہے ۔
حضرت امیر معاویہ حضرت علی رضی اللہ عنہما کے مقابلہ میں جنگ آزما ہونے کے بعد بھی ان کے تمام فضائل کے معترف تھے اورانہوں نے بارہا اوربرملا ان کا اعتراف کیا ، جنگ صفین کی تیاریوں کے وقت جب ابو مسلم خولانی ان کو سمجھانے کے لئے گئے اور کہا معاویہ میں نے سنا ہے کہ تم علی سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہو، تم کو سبقت اسلام کا شرف حاصل نہیں ہے ، پھر کس برتے پر اٹھو گے تو انہوں نے صاف صاف اعتراف کیا کہ مجھے اس کا دعویٰ نہیں ہے کہ میں فضل میں ان کے مثل ہوں ، میں تو صرف قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو مانگتا ہوں ، اپنی وفات کے کچھ دنوں پہلے انہوں نے مجمع عام میں جو تقریر کی تھی، اس کے الفاظ یہ تھے کہ میرے بعد آنے والا مجھ سے بہتر نہیں ہوگا، جیسا کہ میں اپنے پیش رو سے بہتر نہیں ہوں ۔ (ابن الاثیر:۴/۲،مطبوعہ یورپ،چشتی)
وہ نہ صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ؛ بلکہ خاندانی بنی ہاشم کے شرف و فضیلت کے معترف تھے ، ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ بنی امیہ اشرف ہیں یا بنی ہاشم ، انہوں نے زمانہ جاہلیت کی پوری تاریخ دہرا کر دونوں کی فضیلت کا اعتراف کیا اورآخر میں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد بنی ہاشم کی فضیلت کو کون پہنچ سکتا ہے ۔ (البدایہ والنہایہ:۸/۱۳۸)
حضرت مولاء علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو! معاویہ کی گورنری کو ناپسند نہ کرو۔ واللہ! اگر تم نے انہیں کھو دیا تو تم ضرور دیکھو گے کہ سر ، شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گر رہے ہوں گے جیسا کہ حنظل کا پھل اپنے پودے سے گرتا ہے ۔ (ابن ابی شیبہ المصنف کتاب الجمل باب صفین جلد 14)(38850 ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغۃ 12/40)
خوارج نے حضرت علی ، معاویہ اور عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا : “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے ۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا ۔ ” آپ نے فرمایا : “بیان کرو ۔” کہنے لگا : “آج میرے بھائی نے علی کو قتل کر دیا ہو گا ۔” آپ نے فرمایا : “کاش ! تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے ۔ ( طبری۔ 3/2-357)
جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : “لوگو! آپ لوگ معاویہ رضی اللہ عنہ کی گورنری کو ناپسند مت کریں ۔ اگر آپ نے انہیں کھو دیا تو آپ دیکھو گے کہ سر اپنے شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے جیسے حنظل کا پھل اپنے درخت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتا ہے ۔ ( ابن ابی شیبہ المصنف 14/38850)
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : لَمَّا رَجَعَ عَلِيٌّ مِنْ صِفِّينَ عَلِمَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ أَبَدًا , فَتَكَلَّمَ بِأَشْيَاءَ كَانَ لَا يَتَكَلَّمُ بِهَا , وَحَدَّثَ بِأَحَادِيثَ كَانَ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا , فَقَالَ : فِيمَا يَقُولُ : ” أَيُّهَا النَّاسُ , لَا تَكْرَهُوا إِمَارَةَ مُعَاوِيَةَ , وَاللَّهِ لَوْ قَدْ فَقَدْتُمُوهُ ! لَقَدْ رَأَيْتُمُ الرُّءُوسَ تَنْزُو مِنْ كَوَاهِلِهَا كَالْحَنْظَلِ ! ” ۔(مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الْجَمَلِ » بَابُ مَا ذُكِرَ فِي صِفِّينَ رقم الحديث 37151)
یزید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح ہو گئی تو علی اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا : ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے ۔‘‘ پھر معاویہ کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا: ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ کو معاف کر دیا جائے گا ۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا ۔ ( ابن عساکر۔ 59/139)
ان واقعات کو پڑھنے کے بعد کوئی ذی شعور بے سند اور لا یعنی بات نہیں کر سکتا ایک اور بات امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما ہم سے زیادہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ہیں جب انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان سے سالانہ وظائف بهی قبول کرتے رہے تو ہمیں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید کا کوئی حق نہیں. کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کسی کافر یا فاسق کے ہاتھ پر بیعت نہیں کر سکتے . اب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر تنقید درپردہ سرداران نوجوانان جنت رضی اللہ عنہما پر تنقید ہے ۔
حضرت امیر معاویہ حضرت علی رضی اللہ عنہما کے مقابلہ میں جنگ آزما ہونے کے بعد بھی ان کے تمام فضائل کے معترف تھے اورانہوں نے بارہا اوربرملا ان کا اعتراف کیا ، جنگ صفین کی تیاریوں کے وقت جب ابو مسلم خولانی ان کو سمجھانے کے لئے گئے اور کہا معاویہ میں نے سنا ہے کہ تم علی سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہو، تم کو سبقت اسلام کا شرف حاصل نہیں ہے ، پھر کس برتے پر اٹھو گے تو انہوں نے صاف صاف اعتراف کیا کہ مجھے اس کا دعویٰ نہیں ہے کہ میں فضل میں ان کے مثل ہوں ، میں تو صرف قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ کو مانگتا ہوں ، اپنی وفات کے کچھ دنوں پہلے انہوں نے مجمع عام میں جو تقریر کی تھی، اس کے الفاظ یہ تھے کہ میرے بعد آنے والا مجھ سے بہتر نہیں ہوگا، جیسا کہ میں اپنے پیش رو سے بہتر نہیں ہوں ۔ (ابن الاثیر:۴/۲،مطبوعہ یورپ،چشتی)
وہ نہ صرف حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ؛ بلکہ خاندانی بنی ہاشم کے شرف و فضیلت کے معترف تھے ، ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ بنی امیہ اشرف ہیں یا بنی ہاشم ، انہوں نے زمانہ جاہلیت کی پوری تاریخ دہرا کر دونوں کی فضیلت کا اعتراف کیا اورآخر میں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلّم کی بعثت کے بعد بنی ہاشم کی فضیلت کو کون پہنچ سکتا ہے ۔ (البدایہ والنہایہ:۸/۱۳۸)
حضرت مولاء علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگو! معاویہ کی گورنری کو ناپسند نہ کرو۔ واللہ! اگر تم نے انہیں کھو دیا تو تم ضرور دیکھو گے کہ سر ، شانوں سے اس طرح کٹ کٹ کر گر رہے ہوں گے جیسا کہ حنظل کا پھل اپنے پودے سے گرتا ہے ۔ (ابن ابی شیبہ المصنف کتاب الجمل باب صفین جلد 14)(38850 ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغۃ 12/40)
حضرت مولاء علی مشکل کشاء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : زید بن اصم کہتے ہیں کہ جب علی اور معاویہ کے درمیان صلح ہو گئی تو علی (رضی اللہ عنہ) اپنے مقتولین کی جانب نکلے اور فرمایا : ’’یہ لوگ جنت میں ہوں گے ۔‘‘ پھر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے مقتولین کی طرف چلے اور فرمایا : ’’یہ لوگ بھی جنت میں ہوں گے۔ (روز قیامت) یہ معاملہ میرے اور معاویہ کے درمیان ہو گا۔ فیصلہ میرے حق میں دیا جائے گا اور معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو معاف کر دیا جائے گا۔ مجھے میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بتایا تھا ۔ (ابن عساکر ۔ 59/139)
اہل تشیع کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ایک مراسلہ (Circular) نقل کیا گیا ہے جو آپ نے جنگ صفین کے بارے میں شہروں میں بھیجا۔ اس میں لکھا ہے : حضرت علی علیہ السلام کا خط، جو آپ نے شہروں کی جانب لکھا، اس میں آپ نے اپنے اور اہل صفین کے درمیان ہونے والے واقعے کو بیان فرمایا : ⬇
ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم اہل شام کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے معاملے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے اور نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ہم نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہو سکتا ہے، اس کا وقتی علاج یہ کیا جائے کہ آتش جنگ کو خاموش کر دیا جائے اور لوگوں کو جذبات کو پرسکون ہو لینے دیا جائے۔ اس کے بعد جب حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے گا اور حالات سازگار ہو جائیں گے تو ہم اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ حق (یعنی قصاص) کو اس کے مقام پر رکھ لیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا علاج صرف جنگ ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ نے اپنے پاؤں پھیلا دیے اور جم کر کھڑی ہو گئی۔ شعلے بھڑک اٹھے اور مستقل ہو گئے۔ سب نے دیکھا کہ جنگ نے دونوں فریقوں کو دانت سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے اور میں نے بھی ان کی بات کو مان لیا اور تیزی سے بڑھ کر ان کے مطالبہ صلح کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان پر حجت واضح ہو گئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہو گیا۔ اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا تو گویا اپنے آپ کو ہلاکت سے نکال لے گا ورنہ اسی گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہو گا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ گردش ایام اسی کے سر پر منڈلا رہی ہو گی ۔ (سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58،چشتی)
یہ تحریر وہ خط ہے جو نہج البلاغہ کے مولف شریف رضی کے مطابق مختلف شہروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے بھیجا گیا تاکہ اس جنگ سے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر کو واضح کیا جا سکے ۔ انڈر لائن الفاظ سے واضح ہے کہ آپ ، اہل شام کو عین مسلمان سمجھتے تھے اور ہر حال میں صلح چاہتے تھے ۔ اس سے ابو مخنف کی ان روایات کی بھی تردید ہو جاتی ہے جن کے مطابق حضرت علی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے مجبور کر دینے پر وہ بادل نخواستہ جنگ بندی کے لیئے تیار ہوئے تھے ۔
فرمان مولا علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے بھائی ہیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے بھائی ہیں ان سے خطاء اجتہادی ہوئی ہم سب ساتھ ہونگے ۔ (ازالۃُ الخفاء جلد 4 صفحہ 522)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے حوالے سے بڑے نیک جذبات تھے اور اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے تعلق سے ان کا رویہ ہمیشہ ہم دردانہ اور مشفقانہ رہا ہے آیئے اس سلسلے میں ایک مختصر مضمون پڑھتے ہیں :
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تعلق اتنا ہمدردانہ تھا کہ جب قیصر روم نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مقبوضات پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے قیصر روم کو ایسا تہدید نامہ لکھا جس کو پڑھ کر اس کے ہوش اڑ گئے اور وہ اپنے ارادے سے باز آ گیا خط کا مضمون یہ تھا : اے لعنتی انسان، مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے کہ اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے ملک کی طرف واپس لوٹ نہ گیا تو پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی (حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ) تیرے خلاف صلح کر لیں گے . پھر تجھے تیرے ہی ملک سے نکال بھگائیں گے اور اس زمین کو اس کی وسعتوں کے باوجود تجھ پر تنگ کر دیں گے ۔ (البدایہ و النہایہ، ج:٨،ص:١١٩،چشتی)
اہل تشیع کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کا ایک مراسلہ (Circular) نقل کیا گیا ہے جو آپ نے جنگ صفین کے بارے میں شہروں میں بھیجا۔ اس میں لکھا ہے : حضرت علی علیہ السلام کا خط، جو آپ نے شہروں کی جانب لکھا، اس میں آپ نے اپنے اور اہل صفین کے درمیان ہونے والے واقعے کو بیان فرمایا : ⬇
ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم اہل شام کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے معاملے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے اور نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ہم نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہو سکتا ہے، اس کا وقتی علاج یہ کیا جائے کہ آتش جنگ کو خاموش کر دیا جائے اور لوگوں کو جذبات کو پرسکون ہو لینے دیا جائے۔ اس کے بعد جب حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے گا اور حالات سازگار ہو جائیں گے تو ہم اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ حق (یعنی قصاص) کو اس کے مقام پر رکھ لیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا علاج صرف جنگ ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ نے اپنے پاؤں پھیلا دیے اور جم کر کھڑی ہو گئی۔ شعلے بھڑک اٹھے اور مستقل ہو گئے۔ سب نے دیکھا کہ جنگ نے دونوں فریقوں کو دانت سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے اور میں نے بھی ان کی بات کو مان لیا اور تیزی سے بڑھ کر ان کے مطالبہ صلح کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان پر حجت واضح ہو گئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہو گیا۔ اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا تو گویا اپنے آپ کو ہلاکت سے نکال لے گا ورنہ اسی گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہو گا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ گردش ایام اسی کے سر پر منڈلا رہی ہو گی ۔ (سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خط نمبر 58،چشتی)
یہ تحریر وہ خط ہے جو نہج البلاغہ کے مولف شریف رضی کے مطابق مختلف شہروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے بھیجا گیا تاکہ اس جنگ سے متعلق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقطہ نظر کو واضح کیا جا سکے ۔ انڈر لائن الفاظ سے واضح ہے کہ آپ ، اہل شام کو عین مسلمان سمجھتے تھے اور ہر حال میں صلح چاہتے تھے ۔ اس سے ابو مخنف کی ان روایات کی بھی تردید ہو جاتی ہے جن کے مطابق حضرت علی جنگ جاری رکھنا چاہتے تھے اور اپنے ساتھیوں کے مجبور کر دینے پر وہ بادل نخواستہ جنگ بندی کے لیئے تیار ہوئے تھے ۔
فرمان مولا علی رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے بھائی ہیں
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے بھائی ہیں ان سے خطاء اجتہادی ہوئی ہم سب ساتھ ہونگے ۔ (ازالۃُ الخفاء جلد 4 صفحہ 522)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے حوالے سے بڑے نیک جذبات تھے اور اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے تعلق سے ان کا رویہ ہمیشہ ہم دردانہ اور مشفقانہ رہا ہے آیئے اس سلسلے میں ایک مختصر مضمون پڑھتے ہیں :
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تعلق اتنا ہمدردانہ تھا کہ جب قیصر روم نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے مقبوضات پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے قیصر روم کو ایسا تہدید نامہ لکھا جس کو پڑھ کر اس کے ہوش اڑ گئے اور وہ اپنے ارادے سے باز آ گیا خط کا مضمون یہ تھا : اے لعنتی انسان، مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے کہ اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے ملک کی طرف واپس لوٹ نہ گیا تو پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی (حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ) تیرے خلاف صلح کر لیں گے . پھر تجھے تیرے ہی ملک سے نکال بھگائیں گے اور اس زمین کو اس کی وسعتوں کے باوجود تجھ پر تنگ کر دیں گے ۔ (البدایہ و النہایہ، ج:٨،ص:١١٩،چشتی)
خارج نے حضرت مولا علی ، حضرت امیر معاویہ اور حضرت عمرو رضی اللہ عنہم کو ایک ہی رات میں شہید کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے حملہ آور کو پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا : “میرے پاس ایسی خبر ہے جسے سن کر آپ خوش ہو جائیں گے ۔ اگر میں آپ سے وہ بیان کر دوں تو آپ کو بہت نفع پہنچے گا ۔ ” حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : “بیان کرو ۔” کہنے لگا : ” آج میرے بھائی نے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ہو گا ۔” حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : “کاش تمہارا بھائی ان پر قابو نہ پا سکے ۔ (تاریخ طبری ۔ 3/2-357)
ایک شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس بارے میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ابی طالب سے پوچھ لیجیئے ، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں ۔ اس نے کہا : امیر المومنین آپ کی رائے ، میرے نزدیک علی (رضی اللہ عنہ) کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے ۔ کیا آپ ان صاحب (حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علم سے عزت بخشی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں فرمایا تھا : علی (رضی اللہ عنہ) آپ میرے لیئے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصّلوۃ والسّلام) کی تھی ۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (ابن عساکر۔ 42/170)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عقیل رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ، حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھی تھے اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا ۔ ایک بار حضرت عقیل رضی اللہ عنہ ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جی کھول کر حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا : ’’اے ابو یزید (عقیل) ! میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں ۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا : ’’امیر المومنین ! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی ۔ (ابن عساکر۔ 42/416)
ذرا سوچیں کہ اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہم دردی کے جذبات نہ ہوتے تو وہ قیصر روم کو ایسا تہدید نامہ کبھی نہ لکھتے بلکہ اگر کوئی ذاتی پرخاش ہوتی تو در پردہ یا علانیہ قیصر روم کی مدد بھی کرتے. حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سلوک ان دونوں کے برادرانہ تعلقات کی روشن دلیل ہے ۔
اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی کتنی قدر تھی اس کا اندازہ اس وصیت نامے سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے مرض الموت میں اپنے بیٹے یزید پلید کےلیے لکھوایا تھا ۔ اس وصیت نامے کا ایک خاص اقتباس آپ بھی پڑھیں : البتہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے تم کو (یعنی یزید کو) خطرہ ہے ، اہل عراق انہیں تمہارے مقابلے میں لا کر چھوڑ دیں گے . جب وہ تمہارے مقابلے میں آئیں اور تم کو ان پر قابو حاصل ہو جائے تو درگزر سے کام لینا کہ وہ قرابت دار ، بڑے حق دار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عزیز ہیں ۔ (تاریخ طبری ج:٥،ص:١٩٦،چشتی)
شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی ﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہے ۔ تجھے معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے ۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا ‘ ان کا مرتبہ جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہے اس کو یاد رکھنا ‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ۔ (جلاء العیون جلد دوم صفحہ نمبر 421,422)
ایک شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی دینی سوال کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس بارے میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بن حضرت ابی طالب سے پوچھ لیجیئے ، وہ مجھ سے زیادہ بڑے عالم ہیں ۔ اس نے کہا : امیر المومنین آپ کی رائے ، میرے نزدیک علی (رضی اللہ عنہ) کی رائے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے تو بہت ہی بری بات کی اور آپ کی رائے بہت ہی قابل مذمت ہے ۔ کیا آپ ان صاحب (حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ) کی رائے کو ناپسند کر رہے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے علم سے عزت بخشی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم نے انہیں فرمایا تھا : علی (رضی اللہ عنہ) آپ میرے لیئے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ موسی کے نزدیک ہارون (علیہما الصّلوۃ والسّلام) کی تھی ۔ فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (ابن عساکر۔ 42/170)
حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت عقیل رضی اللہ عنہ اس وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری طرف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ، حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھی تھے اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایران و خراسان کا گورنر مقرر کر رکھا تھا ۔ ایک بار حضرت عقیل رضی اللہ عنہ ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جی کھول کر حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی تعریف کی اور انہیں بہادری اور چستی میں شیر ، خوبصورتی میں موسم بہار ، جود و سخا میں دریائے فرات سے تشبیہ دی اور کہا : ’’اے ابو یزید (عقیل) ! میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب کے بارے میں یہ کیسے نہ کہوں ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ قریش کے سرداروں میں سے ایک ہیں اور وہ نیزہ ہیں جس پر قریش قائم ہیں ۔ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ میں بڑائی کی تمام علامات موجود ہیں ۔‘‘ عقیل نے یہ سن کر کہا : ’’امیر المومنین ! آپ نے فی الواقع صلہ رحمی کی ۔ (ابن عساکر۔ 42/416)
ذرا سوچیں کہ اگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے لیے ہم دردی کے جذبات نہ ہوتے تو وہ قیصر روم کو ایسا تہدید نامہ کبھی نہ لکھتے بلکہ اگر کوئی ذاتی پرخاش ہوتی تو در پردہ یا علانیہ قیصر روم کی مدد بھی کرتے. حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ سلوک ان دونوں کے برادرانہ تعلقات کی روشن دلیل ہے ۔
اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اہل بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی کتنی قدر تھی اس کا اندازہ اس وصیت نامے سے بھی ہوتا ہے جو آپ نے اپنے مرض الموت میں اپنے بیٹے یزید پلید کےلیے لکھوایا تھا ۔ اس وصیت نامے کا ایک خاص اقتباس آپ بھی پڑھیں : البتہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے تم کو (یعنی یزید کو) خطرہ ہے ، اہل عراق انہیں تمہارے مقابلے میں لا کر چھوڑ دیں گے . جب وہ تمہارے مقابلے میں آئیں اور تم کو ان پر قابو حاصل ہو جائے تو درگزر سے کام لینا کہ وہ قرابت دار ، بڑے حق دار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عزیز ہیں ۔ (تاریخ طبری ج:٥،ص:١٩٦،چشتی)
شیعہ مولوی ملا باقر مجلسی کتاب جلاء العیون میں لکھتا ہے : حضرت معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ وصال کے وقت یزید کو یہ وصیت فرماگئے کہ امام حسین رضی ﷲ عنہ پس ان کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہے ۔ تجھے معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بدن کے ٹکڑے ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے گوشت و خون سے انہوں نے پرورش پائی ہے ۔ مجھے معلوم ہے کہ عراق والے ان کو اپنی طرف بلائیں گے اور ان کی مدد نہ کریں گے ۔ تنہا چھوڑ دیں گے اگر ان پر قابو پالے تو ان کے حقوق کو پہچاننا ‘ ان کا مرتبہ جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہے اس کو یاد رکھنا ‘ خبردار ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ دینا ۔ (جلاء العیون جلد دوم صفحہ نمبر 421,422)
ایک اور شیعہ عالم ناسخ التواریخ لکھتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے مزید کو یہ وصیت فرمائی : کہ اے بیٹا! ہوس نہ کرنا اور خبردار جب ﷲ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو تیری گردن میں حسین بن علی رضی ﷲ تعالیٰ عنہما کا خون نہ ہو ۔ ورنہ کبھی آسائش نہ دیکھے گا اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہے گا ۔
محترم قارئینِ کرام : غور کیجئے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ ‘ یزید کو یہ وصیت کر رہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا ۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا کیا قصور ؟
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید ‘ شرابی ‘ ظالم اور امام حسین رضی ﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے ‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے ؟
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193،چشتی)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)
اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں : معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیئے ۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا ۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیئے جاتے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیئے جاتے ۔ (ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ)
جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے ۔ ( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام۔ قم: مطبعہ امیر)
محترم قارئینِ کرام : اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ⬇
فرق مراتب بے شمار
اور حق بدست حیدر کرار
مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن ان پر بھی کار فجار
جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی ہے یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 201 قدیم ایڈیشن)،(فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور،چشتی)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مرتبہ کا فرق شمار سے باھر ہے ۔ اگر کوئی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں حضرت امام المسلمین مولا علی مشکل کُشاء رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت کو گرائے وہ ناصبی یزیدی ہے ۔ اور جو مولا علی شیرِ خُدا رضی اللہ عنہ کی محبت کی آڑ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص کرے وہ زیدی شیعہ ہے ۔ الحمد لله ہمارا اہلسنت کا مسلک مسلکِ اعتدال ہے جو ہر صاحبِ فضل کو بغیر کسی دوسرے کی تنقیص و توہین کے مانتا ہے ۔ آج کے جاہلوں نے محبتِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کیلئے بُغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شرط بنا لیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب کی محبت میں موت عطا فرمائے آمین ۔ ان شواہد سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ پر اہل بیت سے بغض و عناد کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔ اس لیے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے بارے میں سب و شتم سے ہرگز کام نہ لیں اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کریں کہ یہی اسوہ رسول ہے ، اسی میں ملت کی بھلائی ہے اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
محترم قارئینِ کرام : غور کیجئے حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ ‘ یزید کو یہ وصیت کر رہے ہیں کہ ان کی تعظیم کرنا بوقت مصیبت ان کی مدد کرنا ۔ اب اگر یزید پلید اپنے والد کی وصیت پر عمل نہ کرے تو اس میں حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا کیا قصور ؟
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یزید پلید کو کافر لکھا ہے اور اہل سنت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یزید پلید ‘ شرابی ‘ ظالم اور امام حسین رضی ﷲ عنہ کے خون کا ذمہ دار ہے ‘ لیکن اس کے بدلے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو بدنام کرنا یہ کون سی دیانت ہے ؟
جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193،چشتی)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)
اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں : معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیئے ۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا ۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیئے جاتے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیئے جاتے ۔ (ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ)
جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے ۔ ( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام۔ قم: مطبعہ امیر)
محترم قارئینِ کرام : اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ⬇
فرق مراتب بے شمار
اور حق بدست حیدر کرار
مگر معاویہ بھی ہمارے سردار
طعن ان پر بھی کار فجار
جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں عیاذ باﷲ حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کے سبقت و اوّلیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی اور جو حضرت علی اسد ﷲ رضی اللہ عنہ کی محبت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی ہے یہی روش آداب بحمد ﷲ تعالٰی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے ـ (فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 201 قدیم ایڈیشن)،(فتاویٰ رضویہ، جلد10، صفحہ199، مطبوعہ رضا فاؤبڈیشن لاھور،چشتی)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں کہ مولا علی شیر خدا رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان مرتبہ کا فرق شمار سے باھر ہے ۔ اگر کوئی حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حمایت میں حضرت امام المسلمین مولا علی مشکل کُشاء رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت کو گرائے وہ ناصبی یزیدی ہے ۔ اور جو مولا علی شیرِ خُدا رضی اللہ عنہ کی محبت کی آڑ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں تنقیص کرے وہ زیدی شیعہ ہے ۔ الحمد لله ہمارا اہلسنت کا مسلک مسلکِ اعتدال ہے جو ہر صاحبِ فضل کو بغیر کسی دوسرے کی تنقیص و توہین کے مانتا ہے ۔ آج کے جاہلوں نے محبتِ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کیلئے بُغضِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ شرط بنا لیا ہے ۔ اللہ تعالٰی ہمیں آل و اصحاب کی محبت میں موت عطا فرمائے آمین ۔ ان شواہد سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ پر اہل بیت سے بغض و عناد کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے ۔ اس لیے ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے بارے میں سب و شتم سے ہرگز کام نہ لیں اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہی کریں کہ یہی اسوہ رسول ہے ، اسی میں ملت کی بھلائی ہے اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے ۔
(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://t.me/islaamic_Knowledge/25473
اہل بیتِ اطہار اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کا باہمی تعلق
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297865335782846/
اہل بیتِ اطہار اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کا باہمی تعلق
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297865335782846/
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/
حضرت امیر معاویہ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی نظر میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : آج کل سوشل میڈیا پر سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اپنی جہالت کے ساتھ ساتھ اپنی رافضیت بھی دیکھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر انتہائی گستاخانہ انداز میں کر رہے یہ سب اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت کی آڑ میں کھلے رافضی کرتے چلے آرہے تھے اب چھپے رافضی بھی یہی کچھ کر رہے ہیں فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا اصل اسکن پیش کیے شاید کچھ احباب کو بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر فقیر یہ کیوں لکھ رہا ہے امید ہے اب سمجھ آگئی ہوگی آج کے اس مضمون میں اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آڑ لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کرنے والوں کو اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے اقوال کی روشنی میں جواب دیا جا رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ لوگ گستاخیوں سے باز آجائیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطاء فرمائے آمین ۔ فقیر نے کوشش کی ہے کہ اخلاق کا دامن کہیں نہ چھوٹے پھر بھی اہلِ علم اگر کہیں غلطی پائیں تو ضرور آگاہ فرمائیں ۔
امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں رضی اللہ عنہم کے تاثرات ذکر کرنے سے پہلے ذرا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم فرماتے ہیں : '' اللہم اجعلہ ھادیا مہدیا و اہدبہ'' یعنی اے اللہ ! معاویہ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا بنادے اور معاویہ کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (ترمذی،جلد:2ص: 225)(اس حدیث کی مکمل تحقیق و تخریج ہم پیش کر چکے ہیں)
ایک موقع پر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! معاویہ کو قرآن اور حساب کا علم عطا فرمااور اسے عذاب سے نجات دے۔ (البدایہ، جلد:8، ص:140، کنزل العمال، جلد:7ص: 87)
امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں
جنگ صفین کے بعد کچھ لوگوں نے اہلِ شام اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک گشتی مراسلہ اپنے زیر حکومت علاقہ کے لوگوں کو بھیجا۔ اس مراسلہ کو نہج البلاغہ کے شیعہ مصنف نے صفحہ 151پر درج کیا ہے : ہمارے معاملے کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہمارا اور اور اہل شام (معاویہ ) کا مقابلہ ہوا اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک، ہمارا اور ان کانبی ایک، ہماری اور ان کی دعوت اسلام میں ایک، اللہ پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے میں نہ ہم ان سے زیادہ نہ وہ ہم سے زیادہ، پس معاملہ دونوں کا برابر ہے ۔ صرف خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہم اور ان میں اختلاف ہوا اور ہم اس سے بری ہیں ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے موقع پر پوچھا گیا : جو لوگ آپ کے مقابلے میں آئے کیا وہ مشرک ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ مشر ک نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا: کیا وہ منافق ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ منا فق بھی نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا : پھر آپ کی نگاہوں میں ان کی حیثیت کیا ہے ؟
جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:''ہم اخواننا بغواعلینا''
ترجمہ : وہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف زیادتی کی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد: 4ص: 1013، چشتی)
آپ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتب اٹھائیں اور پڑھیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ جو لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے قیدی بن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان میں سے کسی کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں غسل دیا جائے اور کفن دیا جائے، پھر انہوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :''قتلانا و قتلاہم فی الجنۃ''ہمارے لشکر کے مقتول اور معاویہ کے لشکر کے مقتول سب جنت میں جائیں گے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، جلد:4ص: 1036)
کتنے افسوس کامقام ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کو اپنے جیسا ایماندار اورمسلمان اور ان کے مقتولین کو جنتی بتلائیں اور دشمنانِ صحابہ سبائی انہیں کافر اور منافق قرار دیں۔ اب قارئین خود فیصلہ فرمائیں کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات معتبر سمجھی جائے یا سبائی گروہ کی ۔
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/
حضرت امیر معاویہ اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی نظر میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : آج کل سوشل میڈیا پر سنیوں کے لبادے میں چھپے رافضی اپنی جہالت کے ساتھ ساتھ اپنی رافضیت بھی دیکھا رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر انتہائی گستاخانہ انداز میں کر رہے یہ سب اہلبیت رضی اللہ عنہم کی محبت کی آڑ میں کھلے رافضی کرتے چلے آرہے تھے اب چھپے رافضی بھی یہی کچھ کر رہے ہیں فقیر ڈاکٹر فیض احمد چشتی نے اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھا اصل اسکن پیش کیے شاید کچھ احباب کو بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر فقیر یہ کیوں لکھ رہا ہے امید ہے اب سمجھ آگئی ہوگی آج کے اس مضمون میں اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کی آڑ لے کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی توہین کرنے والوں کو اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے اقوال کی روشنی میں جواب دیا جا رہا ہے اس امید کے ساتھ کہ شاید یہ لوگ گستاخیوں سے باز آجائیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطاء فرمائے آمین ۔ فقیر نے کوشش کی ہے کہ اخلاق کا دامن کہیں نہ چھوٹے پھر بھی اہلِ علم اگر کہیں غلطی پائیں تو ضرور آگاہ فرمائیں ۔
امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹوں رضی اللہ عنہم کے تاثرات ذکر کرنے سے پہلے ذرا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم فرماتے ہیں : '' اللہم اجعلہ ھادیا مہدیا و اہدبہ'' یعنی اے اللہ ! معاویہ کو ہدایت کرنے والا اور ہدایت پانے والا بنادے اور معاویہ کے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے ۔ (ترمذی،جلد:2ص: 225)(اس حدیث کی مکمل تحقیق و تخریج ہم پیش کر چکے ہیں)
ایک موقع پر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! معاویہ کو قرآن اور حساب کا علم عطا فرمااور اسے عذاب سے نجات دے۔ (البدایہ، جلد:8، ص:140، کنزل العمال، جلد:7ص: 87)
امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نظر میں
جنگ صفین کے بعد کچھ لوگوں نے اہلِ شام اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک گشتی مراسلہ اپنے زیر حکومت علاقہ کے لوگوں کو بھیجا۔ اس مراسلہ کو نہج البلاغہ کے شیعہ مصنف نے صفحہ 151پر درج کیا ہے : ہمارے معاملے کی ابتداء یوں ہوئی کہ ہمارا اور اور اہل شام (معاویہ ) کا مقابلہ ہوا اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک، ہمارا اور ان کانبی ایک، ہماری اور ان کی دعوت اسلام میں ایک، اللہ پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے میں نہ ہم ان سے زیادہ نہ وہ ہم سے زیادہ، پس معاملہ دونوں کا برابر ہے ۔ صرف خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہم اور ان میں اختلاف ہوا اور ہم اس سے بری ہیں ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں ۔
حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے موقع پر پوچھا گیا : جو لوگ آپ کے مقابلے میں آئے کیا وہ مشرک ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ مشر ک نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا: کیا وہ منافق ہیں ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ منا فق بھی نہیں ہیں ۔
پوچھنے والے نے کہا : پھر آپ کی نگاہوں میں ان کی حیثیت کیا ہے ؟
جواب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:''ہم اخواننا بغواعلینا''
ترجمہ : وہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف زیادتی کی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد: 4ص: 1013، چشتی)
آپ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتب اٹھائیں اور پڑھیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی کہ جو لوگ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے قیدی بن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان میں سے کسی کا انتقال ہو گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں غسل دیا جائے اور کفن دیا جائے، پھر انہوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ دونوں لشکروں کے مقتولین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :''قتلانا و قتلاہم فی الجنۃ''ہمارے لشکر کے مقتول اور معاویہ کے لشکر کے مقتول سب جنت میں جائیں گے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، جلد:4ص: 1036)
کتنے افسوس کامقام ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کو اپنے جیسا ایماندار اورمسلمان اور ان کے مقتولین کو جنتی بتلائیں اور دشمنانِ صحابہ سبائی انہیں کافر اور منافق قرار دیں۔ اب قارئین خود فیصلہ فرمائیں کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات معتبر سمجھی جائے یا سبائی گروہ کی ۔
👍1
اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیئے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کچھ اختلاف کے باوجود ان کا کتنا احترام کرتے تھے اور ان کے بارے میں کس قدر حسنِ ظن رکھتے تھے۔
تاریخِ اسلام کے اوراق میں آپ کو نظر آئے گا کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جنگ جاری ہے۔ منافقین کی شرارتوں، خباثتوں اور کارستانیوں کے نتیجے میں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے کہ اس دوران قیصر روم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاقے پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں اور مجھے اس سے زیادہ مناسب موقع پھر کبھی میسر نہیں آئے گا۔ اس نے سوچا کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اندرونی طور پر سخت مشکل میں ہیں ان کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ٹھنی ہوئی ہے، میرے اس اقدام سے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوں گے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قیصر روم کے خطرناک اور زہریلے عزائم کی اطلاع ملی تو بے حد پریشان ہوئے۔ کیونکہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنا اور دو محاذوں پر جنگ جاری رکھنا ان کے لیے بہت دشوار اور مشکل تھا، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس پریشانی اور اضطراب کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی للکار نے دور کردیا۔
قیصرِ روم کے اس ارادے کی اطلاع جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو وہ بے چین ہوگئے اور اسی وقت ایک خط قیصر روم کے نام تحریر فرمایا جس کے ذریعے انہوں نے قیصر روم کی غلط فہمیوں کو اس خوبصورتی کے ساتھ دور کیا کہ خط لکھنے کا حق ادا کر دیا۔ خط کیا تھا؟ ایک مؤثر ہتھیار تھا، پر مغز ، مؤثر اور جلال سے بھر پور، رعب و دہشت کا مجسمہ جسے پڑھ کر قیصر روم کے حواس اڑ گئے اور اوسان خطا ہوگئے۔ قیصر روم پر ایسی دہشت اور ایسا رعب طاری ہوا کہ ا س کے قدم جہا ں تھے وہیں رک گئے۔ سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خط کامضمون اور طرز تحریر کس قدر ایمان افروز اور کفر سوز ہے یہ ایک الگ حقیقت ہے ، مگر خط کی ا بتداء میں آپ نے جس تیز و تلخ ، رعب دار اور جلال سے بھر پور لہجے میں قیصر روم کو مخاطب کیا ہے وہ انداز اپنی جگہ ''اشداء علی الکفار '' کی عملی تصویر ہے۔
خط کے آغاز میں تحریر فرمایا : الے لعنتی انسان ! مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے شہروں کی طرف واپس پلٹ نہ گیا تو کان کھول کر سن !!!پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی تیرے خلاف صلح کرلیں گے۔پھر تجھے تیرے ملک سے نکال دیں گے اور زمین باوجود وسعت کے تم پر تنگ کردیں گے۔ (البدایہ و النہایہ،جلد: 8ص:119، چشتی)
حضرات مولا علی المرتضیٰ و امیر معاویہ رضی ﷲ عنہما کا باہمی تعلق
حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی ﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا ۔ (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا ۔ امارات معاویہ رضی ﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (شرح عقیدہ واسطیہ)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے (البدایہ جلد 8 صفحہ 130،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا ۔ (البدایہ‘ ج 8ص 131)
حضرت ابو امامہ رضی ﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے‘ افضل ہونا تو کجا ہے ۔ (الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ سے رجوع کیا ۔ (موطا امام مالک)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا ۔ (تاج العروس صفحہ نمبر 221،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا۔(بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)
تاریخِ اسلام کے اوراق میں آپ کو نظر آئے گا کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جنگ جاری ہے۔ منافقین کی شرارتوں، خباثتوں اور کارستانیوں کے نتیجے میں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے کہ اس دوران قیصر روم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے علاقے پر قبضہ کرنے کا خطرناک منصوبہ بنایا۔ اس کا خیال تھا کہ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں اور مجھے اس سے زیادہ مناسب موقع پھر کبھی میسر نہیں آئے گا۔ اس نے سوچا کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اندرونی طور پر سخت مشکل میں ہیں ان کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ٹھنی ہوئی ہے، میرے اس اقدام سے حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوں گے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قیصر روم کے خطرناک اور زہریلے عزائم کی اطلاع ملی تو بے حد پریشان ہوئے۔ کیونکہ بیک وقت دو محاذوں پر جنگ لڑنا اور دو محاذوں پر جنگ جاری رکھنا ان کے لیے بہت دشوار اور مشکل تھا، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس پریشانی اور اضطراب کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی للکار نے دور کردیا۔
قیصرِ روم کے اس ارادے کی اطلاع جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو وہ بے چین ہوگئے اور اسی وقت ایک خط قیصر روم کے نام تحریر فرمایا جس کے ذریعے انہوں نے قیصر روم کی غلط فہمیوں کو اس خوبصورتی کے ساتھ دور کیا کہ خط لکھنے کا حق ادا کر دیا۔ خط کیا تھا؟ ایک مؤثر ہتھیار تھا، پر مغز ، مؤثر اور جلال سے بھر پور، رعب و دہشت کا مجسمہ جسے پڑھ کر قیصر روم کے حواس اڑ گئے اور اوسان خطا ہوگئے۔ قیصر روم پر ایسی دہشت اور ایسا رعب طاری ہوا کہ ا س کے قدم جہا ں تھے وہیں رک گئے۔ سیدناامیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خط کامضمون اور طرز تحریر کس قدر ایمان افروز اور کفر سوز ہے یہ ایک الگ حقیقت ہے ، مگر خط کی ا بتداء میں آپ نے جس تیز و تلخ ، رعب دار اور جلال سے بھر پور لہجے میں قیصر روم کو مخاطب کیا ہے وہ انداز اپنی جگہ ''اشداء علی الکفار '' کی عملی تصویر ہے۔
خط کے آغاز میں تحریر فرمایا : الے لعنتی انسان ! مجھے اپنے اللہ کی قسم ہے اگر تو اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اپنے شہروں کی طرف واپس پلٹ نہ گیا تو کان کھول کر سن !!!پھر میں اور میرے چچا زاد بھائی تیرے خلاف صلح کرلیں گے۔پھر تجھے تیرے ملک سے نکال دیں گے اور زمین باوجود وسعت کے تم پر تنگ کردیں گے۔ (البدایہ و النہایہ،جلد: 8ص:119، چشتی)
حضرات مولا علی المرتضیٰ و امیر معاویہ رضی ﷲ عنہما کا باہمی تعلق
حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا میرا حضرت علی رضی ﷲ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ کے قصاص کے مسئلہ میں ہے اور اگر وہ خون عثمان رضی ﷲ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا ۔ (البدایہ و النہایہ ج 7‘ص 259)
حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا۔ میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں ۔ (مجمع الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258)
حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ نے جنگ صفین سے واپسی پر فرمایا ۔ امارات معاویہ رضی ﷲعنہ کو بھی خزانہ سمجھو کیونکہ جس وقت وہ نہ ہوں گے تم سروں کو گردنوں سے اڑتا ہوا دیکھو گے ۔ (شرح عقیدہ واسطیہ)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو جب شہادت حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے (البدایہ جلد 8 صفحہ 130،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کو صاحب فضل کہا ۔ (البدایہ‘ ج 8ص 131)
حضرت ابو امامہ رضی ﷲ عنہ سے سوال کیا گیا حضرت امیر معاویہ و عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے؟ آپ نے فرمایا ہم اصحاب مسجد کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے‘ افضل ہونا تو کجا ہے ۔ (الروضہ الندیہ‘ شرح العقیدہ الواسطیہ ص 406)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے ایک قتل کے مسئلہ پر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ سے رجوع کیا ۔ (موطا امام مالک)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا ۔ (تاج العروس صفحہ نمبر 221،چشتی)
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ’’اے نصرانی کتے اگر حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کا لشکر تیرے خلاف روانہ ہوا تو سب سے پہلے حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے لشکر کا سپاہی بن کر تیری آنکھیں پھوڑ دینے والا معاویہ ہوگا۔(بحوالہ مکتوب امیر معاویہ البدایہ)
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی نظر میں : حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو وصیت کی تھی کہ بیٹا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت سے نفرت نہ کرنا کیونکہ اگر تم نے ان کو ضائع کر دیا تو آپس میں کشت و خون دیکھو گے ۔ (تاریخ ابن کثیر، جلد: 8ص: 131، شرح نہج البلاغہ ابن ابی لحدید شیعی جلد: 3ص: 836)
جب سبائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے خلافت ان کے سپر د کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ آپ نیزہ کے زخم کی تکلیف سے کراہ رہے تھے اور فرما رہے تھے: اللہ کی قسم میں معاویہ کو اپنے لیئے ان لوگوں سے بہتر سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو میرا پیروکار کہتے ہیں انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا ، میرا خیمہ لوٹا، میرے مال پر قبضہ کیا ۔ (شیعہ کتب ، جلاء العیون، احتجاج طبرسی، ص:148، چشتی)
زخم مندمل ہوجانے کے فورا بعد امیر المومنین حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلینا ہی بہتر ہے چنانچہ آپ نے ربیع الاول 41 ھ کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر کے خلافت ان کے سپرد کر دی اور یہ صلح ڈر کر یا دب کر نہیں کی بلکہ آپ چاہتے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑ سکتے تھے۔ آپ کے پاس چالیس ہزار فوج مرنے کو تیار تھی مگر آپ نے مسلمانوں کو خونریزی سے بچانے کے لیے اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کا صحیح اہل سمجھ کر صلح کی تھی ۔ (الاستیعاب لابن عبد البر جلد: 3ص: 298)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے صلح کرنے سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی یہ پیشینگوئی پوری ہو گئی جو آپ نے اس وقت فرمائی تھی جب حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بچے تھے کہ میرا یہ بیٹا سردار بیٹا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا ۔ (بخاری، جلد:1ص: 530)
انصاف آپ خود فرمائیں کہ نصف سلطنت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دے دی تھی اور باقی نصف بھی حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کرکے سپر د کردی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے اہل ، صحابی رسول، صاحبِ سیادت و فراست اور مدبر تھے اور اس وقت ان سے بڑھ کر اور کوئی بھی اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کی طاقت نہ رکھتا تھا ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی نظر میں : حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو سبائیوں نے جو صلح کے مخالف تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کوآمادہ کرنا چاہا کہ وہ بیعت ختم کر کے مقابلہ کریں لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا: ہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، عہد کر لیا ہے، اب ہمارا بیعت توڑنا ممکن نہیں ۔ (شیعہ کتب : اخبار الطوال، ص: 234، رجال کشی، ص: 102)
کتب تاریخ و سیر اس پر گواہ ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جایا کرتے تھے وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے، محبت و شفقت سے پیش آتے اور اپنے برابر تخت پر بٹھاتے اور ایک ایک دن میں ان کو دو، دو لاکھ درہم عطا کرتے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے او روظائف او رعطایا حاصل کرتے۔
(البدایہ و النہایہ،جلد: 8ص: 150)
آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بھانجی آمنہ بنت میمونہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ اولیٰ تھیں ، اس لحاظ سے حضرت امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے ۔ (طبری، جلد: 13ص: 19، چشتی)
اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ محترمہ ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں ہوئے ۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ اور امام خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ یہ دونوں امام فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی روفضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا
جب سبائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے خلافت ان کے سپر د کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ آپ نیزہ کے زخم کی تکلیف سے کراہ رہے تھے اور فرما رہے تھے: اللہ کی قسم میں معاویہ کو اپنے لیئے ان لوگوں سے بہتر سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو میرا پیروکار کہتے ہیں انہوں نے میرے قتل کا ارادہ کیا ، میرا خیمہ لوٹا، میرے مال پر قبضہ کیا ۔ (شیعہ کتب ، جلاء العیون، احتجاج طبرسی، ص:148، چشتی)
زخم مندمل ہوجانے کے فورا بعد امیر المومنین حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلینا ہی بہتر ہے چنانچہ آپ نے ربیع الاول 41 ھ کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر کے خلافت ان کے سپرد کر دی اور یہ صلح ڈر کر یا دب کر نہیں کی بلکہ آپ چاہتے تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے لڑ سکتے تھے۔ آپ کے پاس چالیس ہزار فوج مرنے کو تیار تھی مگر آپ نے مسلمانوں کو خونریزی سے بچانے کے لیے اور حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کا صحیح اہل سمجھ کر صلح کی تھی ۔ (الاستیعاب لابن عبد البر جلد: 3ص: 298)
حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے صلح کرنے سے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی یہ پیشینگوئی پوری ہو گئی جو آپ نے اس وقت فرمائی تھی جب حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بچے تھے کہ میرا یہ بیٹا سردار بیٹا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کروائے گا ۔ (بخاری، جلد:1ص: 530)
انصاف آپ خود فرمائیں کہ نصف سلطنت خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دے دی تھی اور باقی نصف بھی حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کرکے سپر د کردی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے نزدیک سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت کے اہل ، صحابی رسول، صاحبِ سیادت و فراست اور مدبر تھے اور اس وقت ان سے بڑھ کر اور کوئی بھی اس عظیم ذمہ داری کو نبھانے کی طاقت نہ رکھتا تھا ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی نظر میں : حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تو سبائیوں نے جو صلح کے مخالف تھے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کوآمادہ کرنا چاہا کہ وہ بیعت ختم کر کے مقابلہ کریں لیکن آپ نے صاف انکار کر دیا اور فرمایا: ہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی ، عہد کر لیا ہے، اب ہمارا بیعت توڑنا ممکن نہیں ۔ (شیعہ کتب : اخبار الطوال، ص: 234، رجال کشی، ص: 102)
کتب تاریخ و سیر اس پر گواہ ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی اکثر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں جایا کرتے تھے وہ دونوں کی بہت عزت و تکریم کرتے، محبت و شفقت سے پیش آتے اور اپنے برابر تخت پر بٹھاتے اور ایک ایک دن میں ان کو دو، دو لاکھ درہم عطا کرتے۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بدستور ان کی مجلس میں تشریف لے جایا کرتے او روظائف او رعطایا حاصل کرتے۔
(البدایہ و النہایہ،جلد: 8ص: 150)
آپ پڑھ کر حیران ہوں گے کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بھانجی آمنہ بنت میمونہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی زوجہ اولیٰ تھیں ، اس لحاظ سے حضرت امام سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے ۔ (طبری، جلد: 13ص: 19، چشتی)
اسی طرح حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی زوجہ محترمہ ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی ازواج مطہرات مومنوں کی مائیں اس لحاظ سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تمام مومنوں کے ماموں ہوئے ۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ اور امام خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ یہ دونوں امام فرماتے ہیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی روفضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا
جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121)
علامہ شہاب خفا جی رحمة ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا: ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔ ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان،چشتی)
جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو خلافتِ راشدہ فرماتے ہیں ۔ (المفوظ جلد 3 صفحہ 71)
حضرت پیر نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اختلافی اُمور کے باوجود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دائرہ صحابیت سے خارج کرنا ،کافر،مشرک ثابت کرنا نہ صرف گناہ عظیم بلکہ توہین رسول صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہے اور موجب کفر ہے ۔ (نام و نسب باب نہم صفحہ نمبر 519 حضرت پیر نصیر الدین نصیر رحمۃُ اللہ علیہ)
محترم قارئین کرام : دشمنان صحابہ سبائی ٹولہ نے سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا ہمہ گیر پروپییگنڈہ کیا ہے کہ حقائق خرافات کے انبار میں دب کر رہ گئے ہیں اور مسلمان نسلاً بعد نسل اس شر انگیز پروپیگنڈے سے اس حد تک متاثر ہوتے چلے گئے ہیں کہ مدت سے نہ صرف عامۃ المسلمین بلکہ بہت سے خواص کے احساسات بھی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے عظیم و جلیل القدر اورکاتبِ وحی صحابی کے بارے میں ویسے باقی نہیں رہ گئے جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں عموما پائے جاتے ہیں ۔
شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہی ایسا جذبات انگیز تھا کہ خانوادہ علی سے گہری محبت رکھنے والی امتِ مسلمہ کو اس کی آڑ میں بہت آسانی سے غلط خیالات و آراء میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے، حالانکہ جذباتی و خیا لی بلند پروازیوں سے الگ ہو کر ٹھوس حقیقی بنیادوں پر علمی و عقلی گفتگو کی جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دامن مقدس اسی طرح داغِ طغیان و معصیت سے پاک ہے جس طرح دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ۔
محترم قارئین : چلیے! بقول کسے ایک منٹ کے لیئے تسلیم کرلیتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سیاسی خطا ہوئی مگر کیا ایک جلیل القدر صحابی کو چند سیاسی خطائیں اتنا پست و حقیر بنا سکتی ہیں کہ ہم جیسے حقیر و بے بضاعت اور گھٹیا لوگ بھی اس کی بے ادبی پر اتر آئیں ۔ ان کا احترام ہمارے دلوں سے اٹھ جائے اور ہم بلا تکلف انہیں جنگ و تفرقہ کا بانی ، باغی اور منافق کہہ گزریں ۔ کیا ستارہ سیا ہ بدلی میں آجائے تو اتنا بے نور ہو جاتا ہے کہ تیل کے چراغ اس پر زبانِ طعن دراز کریں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آسمان دنیا پر چمکنے والے روشن ستارے تھے صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لئے ہدایت کا چرغ تھے ۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اگر صحابی تھےاور یقینا تھے اورآخر سانس تک دین اسلام پر ثابت قدم رہے تو ''اصحاب" کے دائرے سے انہیں کون نکال سکتا ہے ؟
ویسے بھی ہمارا اور آپ کا جج بن بیٹھنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عدالتِ خیال میں فریقین بنا کر لانا ایسی ناروا جسارت ہے کہ دُرّوں سے ہماری پیٹھ کُھرچ دینی چاہیے ۔ ہمیں کیا حق ہے کہ تقریبا چودہ سو برس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعض محترم اصحاب میں سے ایک کو بر سرِ حق اور ایک کو مجرم اور غلط ثابت کرنے بیٹھیں اور تاریخی واقعات کو صحیفۂ آسمانی تصور کرلیں ۔ چاہے ان کی بعض تفصیلات سے قرآن کا توثیق فرمودہ کردارِ صحابہ مجروح ہوتا ہے ۔ ہمیں کچھ بھی حق نہیں سوائے اس کے کہ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے لیئے دلوں میں عقیدت او رحسنِ ظن پر ورش کریں اور ان کے ہر فعل و عمل کی اچھی توجہیہ نکالنے میں کوشاں رہیں۔
محترم قارئین : یقین کیجیے کہ ہماری اس تحریر کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دامنِ صحابیّت سے ان چھینٹوں کو دھویا جائے جو دنیا ناحق ان پر ڈالتی ہے ۔ ہماری نظر میں صحابیت عظمتِ پیغمبر کے حِصار کا درجہ رکھتی ہے ۔ نبوت کے قصر کی فصیلیں صحابیّت ہی کے رنگ و روغن سے زینت پاتی ہیں۔ اکرام ِ صحابیت کا طلائی حِصار اگر ٹوٹ جائے تو پیغمبر کی آبرو تک ہاتھ پہنچنا آسان ہوجاتا ہے ۔ پس جو لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں وہ در اصل امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آبرو اور ختم نبوت کے دشمن ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر بددیانتی اور خیانت کا الزام لگا کر اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ پاک پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔
(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/
علامہ شہاب خفا جی رحمة ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا: ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔ ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان،چشتی)
جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو خلافتِ راشدہ فرماتے ہیں ۔ (المفوظ جلد 3 صفحہ 71)
حضرت پیر نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اختلافی اُمور کے باوجود حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دائرہ صحابیت سے خارج کرنا ،کافر،مشرک ثابت کرنا نہ صرف گناہ عظیم بلکہ توہین رسول صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم ہے اور موجب کفر ہے ۔ (نام و نسب باب نہم صفحہ نمبر 519 حضرت پیر نصیر الدین نصیر رحمۃُ اللہ علیہ)
محترم قارئین کرام : دشمنان صحابہ سبائی ٹولہ نے سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسا ہمہ گیر پروپییگنڈہ کیا ہے کہ حقائق خرافات کے انبار میں دب کر رہ گئے ہیں اور مسلمان نسلاً بعد نسل اس شر انگیز پروپیگنڈے سے اس حد تک متاثر ہوتے چلے گئے ہیں کہ مدت سے نہ صرف عامۃ المسلمین بلکہ بہت سے خواص کے احساسات بھی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے عظیم و جلیل القدر اورکاتبِ وحی صحابی کے بارے میں ویسے باقی نہیں رہ گئے جیسے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں عموما پائے جاتے ہیں ۔
شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہی ایسا جذبات انگیز تھا کہ خانوادہ علی سے گہری محبت رکھنے والی امتِ مسلمہ کو اس کی آڑ میں بہت آسانی سے غلط خیالات و آراء میں مبتلا کیا جا سکتا ہے اور کیا گیا ہے، حالانکہ جذباتی و خیا لی بلند پروازیوں سے الگ ہو کر ٹھوس حقیقی بنیادوں پر علمی و عقلی گفتگو کی جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دامن مقدس اسی طرح داغِ طغیان و معصیت سے پاک ہے جس طرح دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ۔
محترم قارئین : چلیے! بقول کسے ایک منٹ کے لیئے تسلیم کرلیتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے سیاسی خطا ہوئی مگر کیا ایک جلیل القدر صحابی کو چند سیاسی خطائیں اتنا پست و حقیر بنا سکتی ہیں کہ ہم جیسے حقیر و بے بضاعت اور گھٹیا لوگ بھی اس کی بے ادبی پر اتر آئیں ۔ ان کا احترام ہمارے دلوں سے اٹھ جائے اور ہم بلا تکلف انہیں جنگ و تفرقہ کا بانی ، باغی اور منافق کہہ گزریں ۔ کیا ستارہ سیا ہ بدلی میں آجائے تو اتنا بے نور ہو جاتا ہے کہ تیل کے چراغ اس پر زبانِ طعن دراز کریں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آسمان دنیا پر چمکنے والے روشن ستارے تھے صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لئے ہدایت کا چرغ تھے ۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اگر صحابی تھےاور یقینا تھے اورآخر سانس تک دین اسلام پر ثابت قدم رہے تو ''اصحاب" کے دائرے سے انہیں کون نکال سکتا ہے ؟
ویسے بھی ہمارا اور آپ کا جج بن بیٹھنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عدالتِ خیال میں فریقین بنا کر لانا ایسی ناروا جسارت ہے کہ دُرّوں سے ہماری پیٹھ کُھرچ دینی چاہیے ۔ ہمیں کیا حق ہے کہ تقریبا چودہ سو برس بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے بعض محترم اصحاب میں سے ایک کو بر سرِ حق اور ایک کو مجرم اور غلط ثابت کرنے بیٹھیں اور تاریخی واقعات کو صحیفۂ آسمانی تصور کرلیں ۔ چاہے ان کی بعض تفصیلات سے قرآن کا توثیق فرمودہ کردارِ صحابہ مجروح ہوتا ہے ۔ ہمیں کچھ بھی حق نہیں سوائے اس کے کہ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے لیئے دلوں میں عقیدت او رحسنِ ظن پر ورش کریں اور ان کے ہر فعل و عمل کی اچھی توجہیہ نکالنے میں کوشاں رہیں۔
محترم قارئین : یقین کیجیے کہ ہماری اس تحریر کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دامنِ صحابیّت سے ان چھینٹوں کو دھویا جائے جو دنیا ناحق ان پر ڈالتی ہے ۔ ہماری نظر میں صحابیت عظمتِ پیغمبر کے حِصار کا درجہ رکھتی ہے ۔ نبوت کے قصر کی فصیلیں صحابیّت ہی کے رنگ و روغن سے زینت پاتی ہیں۔ اکرام ِ صحابیت کا طلائی حِصار اگر ٹوٹ جائے تو پیغمبر کی آبرو تک ہاتھ پہنچنا آسان ہوجاتا ہے ۔ پس جو لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں وہ در اصل امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی آبرو اور ختم نبوت کے دشمن ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر بددیانتی اور خیانت کا الزام لگا کر اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآنِ پاک پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔
(طالبِ دعا ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/297846109118102/