🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ اللهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالیٰ عَنۡهٗ ⓭
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
*📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚*
-----------------------------------------------------------
*🕯خطیب اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا حافظ محمد شفیع اوکاڑوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯*


نام و نسب: خطیب ِپاکستان حضرت علامہ حافظ محمد شفیع اوکاڑوی نقشبندی، بن حاجی شیخ کرم الہی، بن شیخ اللّٰه دتا ،بن شیخ امام الدین (رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)۔

تاریخ ِ ولادت: آپ 1929ء کو کھیم کرن (ضلع ترن تارن) مشرقی پنجاب (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔

تحصیلِ علم: آپ نے ابتدآئی تعلیم سے لیکر مڈل تک تعلیم کھیم کرن میں حاصل کی ،اس کے بعد اپنے خاندان سمیت کھیم کرن سے اوکاڑا (پنجاب پاکستان) منتقل ہو گئے۔ یہاں دارالعلوم اشرف المدارس میں شیخ القرآن حضرت علامہ غلام علی اوکاڑوی علیہ الرحمہ سے اور بعد میں مدرسہ عربیہ انوار العلوم ملتان میں غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید شاہ صاحب کاظمی علیہ الرحمہ سے جمیع علوم ِدینیہ کی تکمیل کر کے سندِ فراغ حاصل کی ۔

بیعت و خلافت: آستانہ عالیہ شرق پور شریف (ضلع شیخوپورہ )میں شیخ طریقت ، ولی کامل حضرت میاں غلام اللّٰه صاحب علیہ الرحمہ سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔

سیرت و خصائص: خطیبِ پاکستان، مقررِ شیریں بیان، مصلح امت، محسن اہل سنت، عظیم مفکر و مدبر، مبلغِ اسلام، حضرت علامہ مولانا محمد شفیع اکاڑوی رحمۃ اللّٰه علیہ۔
اللّٰه تعالیٰ نے آپکو حسنِ سیرت و صورت کے ساتھ حسنِ گفتار کا بھی خاص ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو خدمتِ اسلام کے لئے بروئے کار لاتے ہوئے لوگوں کے دلوں کو نورِ ایمان و ایقان اور سرورِ عالمﷺ اور آپکے صحابہ و اہلِ بیت اور اولیاء اللّٰه (علیہم الرحمۃ والرضوان) کے عشق و محبت سے بھر دیا۔تحریک ختمِ نبوت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور تحریک نظامِ مصطفیٰﷺ میں بھر پور کردار ادا کیا۔ مخالفینِ مسلکِ اہلِ سنت نے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر آپ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، لیکن آپ اپنے مشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔ تادمِ زیست زبان قلم سے لادین، ملحدین ،بدعقیدہ و بدمذاہب کے خلاف بھر پور جہاد کرتے رہے۔ گمراہوں کو راہِ حق دکھائی ،اور ایسے دلوں میں شمع ِ ایمان روشن کی جو ظلمت کی گمراہ وادیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے،جو روشنی کی ایک ایک کرن کو ترس رہے تھے،وہی لوگ جو اسلام کے نام سے کانوں پر ہاتھ دھر لیتے تھے وہی آذان کے لیئے ہاتھ اٹھانے لگے۔ آپ کی آواز صاف فصیح و بلیغ، اورانداز منفر د ہوا کرتا تھا۔ جس موضوع پر بات کرتے عقلی و نقلی دلائل سے عام سامع کو بات سمجھانے کا طریقہ بہت دلپزیر ہوا کرتا تھا ۔آپ نے چالیس سال کے عرصہ میں تقریبا اٹھارہ ہزار سے زائد اجتماعات سے خطاب کیا ،جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ اللّٰه تعالیٰ آپ کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطاء فرمائے۔ (آمین)

وصال: بروز منگل 21، رجب المرجب 1404ھ بمطابق 24، اپریل 1984ء میں اذان فجر کے بعد با آواز بلند درود شریف پڑھتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp

*المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443*
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://www.facebook.com/108103104759071/posts/298118715757508/
امیر معاویہ کے حسنین کریمین رضی اللہ عنہم سے تعلقات ، اتحاد و بیعت
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئین : حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ دونوں نے حضرت امیر معاویہ رضی عنہ کی بیعت کی اور شیعوں کے کہنے پر توڑنے سے انکا کر دیا ۔ (تذکرۃُ الاطہار صفحہ 247 شیعہ مذہب کی مستند کتاب)
نوٹ : اس موضوع پر مسلسل لکھنے اور حوالہ جات دینے کا ہمارا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہلبیت اطہار رضی اللہ عنہم میں کوئی دشمنی نہیں تھی جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں وہ دور ہو گئی اور امامین کریمین رضی اللہ عنہما نے بیعت کر کے یہ ثابت فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت حق ہے ورنہ جو باطل کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور سب کچھ قربان کر دیتے ہیں تو اس کا بھی انکار فرما دیتے اللہ تعالیٰ فتنہ ، فساد اور شر ہھیلانے والوں کو ہدایت عطاء فرمائے آمین ۔

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے باہمی مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت علی سے ان کی شہادت سے پہلے پوچھا گیا: ” کیا آپ کے بعد ہم حسن کی بیعت کر لیں ؟ ” آپ نے فرمایا: "میں نہ تو اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں۔”(تاریخ طبری ،چشتی)
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے چھ ماہ کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کر لیا اور خلافت کو ان کے سپرد کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو وصیت ہم نے جو ہم پہلے عرض کر چکے ہیں ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا حکم انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے دیا تھا ۔
اس طرح سے امت مسلمہ پھر اکٹھی ہوگئی اور باغی تحریک کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ حضرت حسن کو دبا کر ان سے اپنی باتیں منوا لیں گے لیکن آپ نے اس کے بالکل برعکس معاملہ کیا۔ باغی راویوں نے اس کا انتقام حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی لیا اور آپ کے متعلق کچھ ایسی روایات وضع کیں جن میں آپ کی کردار کشی کی گئی۔ اس باب میں ہم انہی روایات کا جائزہ لیں گے۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خصوصی حیثیت کیا تھی ؟

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین نواسے ہیں۔ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ کی عمر محض 38 برس تھی۔ باغیوں نے بھی اس امید پر آپ کی بیعت کر لی تھی کہ آپ ناتجربہ کار ہیں، اس طرح وہ آپ سے وہ اپنی بات آسانی سے منوا لیں گے۔ دوسری جانب اہل شام بھی آپ کا احترام کرتے تھے کیونکہ آپ آخری دم تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرتے رہے تھے اور جنگ صفین میں بھی آپ جنگ سے دور رہے تھے۔اس وجہ سے آپ کی شخصیت اتحاد کے اس مشن کے لیے انتہائی موزوں تھی۔ آپ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک پیش گوئی فرمائی تھی جو کہ صحیح بخاری میں بیان ہوئی ہے ۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اتحاد کیوں کیا ؟

یہ بات واضح ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کی قیمت پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد اس لیے کیا تاکہ مخلص مسلمان متحد ہوں اور منافق باغیوں کی سرکوبی کی جا سکے۔ یہ حضرت حسن کے انتہا درجے کے خلوص کی نشانی تھی کہ آپ نے اپنے ذاتی مفاد پر امت مسلمہ کے مفاد کو ترجیح دی۔ باغی راویوں کو آپ کا یہ اتحاد ہضم نہیں ہو سکا اور انہوں نے تاریخی روایتوں میں اپنے جملے داخل کر کے اس اتحاد کو معاذ اللہ آپ کے لالچ ، مفاد پرستی ، بزدلی اور کمزوری سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ بات حقیقت سے بالکل ہی دور ہے ۔ طبری ہی نے بعض ایسی روایات نقل کی ہیں جن سے واقعے کی اصل صورت سامنے آ جاتی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل عراق کا لشکر تیار کیا تھا جو آذر بائیجان اور اصفہان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک خاص لشکر عربوں کا تھا جس میں چالیس ہزار جنگجو تھے اور انہوں نے حضرت علی سے مرنے پر بیعت کی تھی۔ آپ نے ان پر قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کو مقرر کیا تھا اور قیس مہم میں کچھ تاخیر کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں حضرت علی شہید ہوئے اور اہل عراق نے حسن بن علی کو خلیفہ مقرر کیا ۔ اہل عراق نے جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے خلافت کی بیعت کی تو حسن نے ان سے یہ شرط طے کی کہ آپ لوگ میری بات کو سنیں گے اور میری اطاعت کریں گے۔ میں جس سے صلح کروں، آپ اس سے صلح کریں گے اور میں جس سے جنگ کروں، اس سے جنگ کریں گے۔ اس شرط سے اہل عراق (یعنی باغی پارٹی) کے دلوں میں شک آ گیا۔ انہوں نے کہا: "یہ شخص ہمارے کام کا نہیں ، اس کا تو جنگ کا ارادہ لگتا نہیں ہے ۔” حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کو ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ ان پر برچھی کا وار کیا گیا جو اوچھا پڑا۔ اب ان لوگوں کے لیے حسن کے دل میں بغض بڑھ گیا اور وہ ان سے محتاط ہو گئے۔ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے خط
1
و کتابت کی اور اپنی شرائط لکھ بھیجیں کہ اگر آپ انہیں منظور کر لیں تو میں اطاعت کروں گا اور آپ پر اس وعدے کا پورا کرنا لازم ہو گا ۔ (تاریخ طبری ،چشتی)
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے ذاتی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے مفاد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کیا تھا ۔ ایک شخص جس کے ساتھ چالیس ہزار جنگجو ہوں اور وہ بھی ایسے کہ جنہوں نے موت پر بیعت کی ہو، اسے کیا خوف لاحق ہو سکتا تھا۔ واضح ہے کہ حضرت حسن باغی پارٹی سے نفرت کرتے تھے اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے تھے ۔ دوسری طرف باغی پارٹی نے بھی بھانپ لیا تھا کہ آپ ان کے کام کے آدمی نہیں۔ اس وجہ سے انہوں نے آپ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا اور آپ کے خیمے کو لوٹ لیا اور جس قالین پر آپ بیٹھے تھے، اسے بھی کھینچ لیا ۔
اس حملے کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کوفہ سے نکلے اور مدائن کے قریب مقصورۃ البیضاء کے مقام پر جا کر ٹھہرے۔ یہاں بھی آپ پر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ کرنے والا مختار ثقفی تھا جس نے پچیس برس بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے انتقام کے نام پر اپنی تحریک شروع کی اور پھر نبوت کا دعوی بھی کیا۔ روایت یہ ہے:
سعد بن مسعود ، جو مختار کے چچا تھے اور یہ ابھی نوجوان لڑکا تھا، (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے ) مدائن کے گورنر تھے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے بعد مدائن تشریف لائے تو اس نے اپنے چچا کو تجویز پیش کی کہ آپ کو باندھ کر حضرت معاویہ کے حوالے کر دیا جائے اور اس کے صلے میں امان مانگ لی جائے۔ چچا نے اسے جھڑک دیا اور کہا: "اللہ تجھ پر لعنت کرے۔ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر حملہ کر کے انہیں باندھ لوں ۔ کیا برے آدمی ہو تم ؟” حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ ان کے معاملات میں تفرقہ پڑ گیا ہے تو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس صلح کا پیغام بھیجا ۔ معاویہ نے عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہم کو ان کے پاس روانہ کیا۔ دونوں شخص مدائن میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور جو مطالبہ حسن نے کیا، اسے منظو رکر لیا ۔ (تاریخ طبری ۔ 4/1-24،چشتی)

صلح کے معاملے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کردار بھی غیر معمولی ہے

روایت کے مطابق آپ ہی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر جنگ و جدال کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچے گا۔ اس وجہ سے آپ نے صلح کی تحریک شروع کی اور ایک سادہ کاغذ پر دستخط کر کے اس پر مہر لگائی اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا ۔ صحیح بخاری کی روایت ہے : ابو موسی اسرائیل بیان کرتے ہیں کہ ان سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خود بیان کیا کہ جب حسن بن علی ، معاویہ کے مقابلے کے لیے لشکر لے کر چلے تو عمرو بن عاص نے معاویہ سے کہا : "میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس جو لشکر دیکھا ہے ، وہ اس وقت تک واپس جانے والا نہیں ہے جب تک کہ مقابل کی فوج کو بھگا نہ لے ۔” حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : "(اگر یہ جنگ ہو گئی اور فریقین کے بہت سے لوگ مارے گئے تو) مسلمانوں کی اولاد کی پرورش کون کرے گا ؟” عمرو نے کہا : "ہم ان سے مل کر صلح کے لیے بات چیت کریں گے ۔ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے گا(بخاری۔ کتاب الفتن۔ حدیث 6692،چشتی)
اس سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے امت کے لیئے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اپنی انا او روقار کے لیئے جان دینے والے تو بہت ملتے ہیں لیکن اپنے دین اور امت کی بہتری کے لیے اپنی انا کو قربان کرنے والے کم ہی ملتے ہیں ۔ حضرت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی ایسی ہے کہ مسلمانوں کو تا قیامت اس پر خوشی محسوس کرنی چاہیے اور آپ کے اسوہ حسنہ سے سبق سیکھنا چاہیے لیکن چونکہ یہ باغی تحریک کے مفاد کے خلاف تھی، اس وجہ سے انہوں نے اس قسم کی روایتیں مشہور کیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ، معاذ اللہ کمزور آدمی تھے اور انہوں نے دب کر صلح کی تھی۔ اوپر صحیح بخاری کی روایت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ حضرت حسن کس درجے میں طاقتور تھے ۔ اس روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جیسے انتہائی تجربہ کار سپہ سالار کی رائے نقل ہو ئی ہے کہ حضرت حسن کے ساتھ بڑی فوج موجود تھی اور اس کے مورال کا عالم یہ تھا کہ وہ فتح کے بغیر پیچھے ہٹنے والے نہ تھے۔ فو ج کے سالار قیس بن سعد رضی اللہ عنہما جیسے ماہر سیاست اور جنگجو کر رہے تھے۔ طبری کی روایت میں اس فوج کے لیے "پہاڑ جیسی افواج” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد بھی کہا جائے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دب کر صلح کی تو اسے تعصب کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے ۔
حضرت معاویہ نے اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس، قیس بن سعد اور زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم سے بھی صلح کر لی ۔ آپ جنگ سے اس درجے میں بچنا چاہتے تھے کہ کسی طور پر بھی اسے پسند نہ فرماتے تھے ۔ طبری کی روایت ہے : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قیس بن سعد کے پاس قاصد روانہ کیا کہ ان کو خوف خدا دلائے اور پوچھے کہ کس کے حکم سے آپ لوگ لڑنے کو تیار ہیں۔ جن کے تابع حکم تو آپ لوگ تھے، انہوں نے تو میری بیعت کر لی ہے۔ قیس نے معاویہ سے دب جانا گوارا نہ کیا۔ معاویہ نے ایک کاغذ پر مہر لگا کر انہیں بھیج دیا کہ جو آپ کا جی چاہے، اس کاغذ پر لکھ لیجیے، مجھے سب منظور ہے۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا : "قیس کے ساتھ رعایت نہیں کرنا چاہیے۔” معاویہ نے کہا : "ہوش کیجیے! اتنے لوگوں کو ہم اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک کہ اہل شام میں سے بھی اتنے ہی لوگ نہ مارے جائیں اور جن کے بعد زندگی بے لطف ہے ۔ واللہ! جب تک کچھ بھی چارہ کار ممکن ہے ، میں قیس سے نہ لڑوں گا ۔ جب حضرت معاویہ نے وہ مہر شدہ کاغذ بھیجا تو قیس نے اپنے لیے اور حضرت علی کے گروہ کے لیے، امان طلب کی۔ یہ امان اس معاملے میں تھی جو قتل ان کے ہاتھوں ہوئے یا جو مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا (اس کا ان سے انتقام نہ لیا جائے گا۔) اس عہد نامہ میں انہوں نے حضرت معاویہ سے مال کی مطلق خواہش نہ کی اور حضرت معاویہ نے ان کی ہر شرط کو منظور کر لیا۔ ان کے سب ساتھی حضرت معاویہ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہو گئے ۔ اس فتنہ کے زمانے میں پانچ افراد بڑے صائب الرائے اور اہل سیاست میں شمار ہوتے تھے۔ یہ معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، مغیرہ بن شعبہ، قیس بن سعد اور مہاجرین میں عبداللہ بن بدیل خزاعی رضی اللہ عنہم تھے۔ ان میں قیس اور ابن بدیل ، علی کے ساتھ تھے اور مغیرہ و عمرو ، معاویہ کے ساتھ تھے ۔ ( طبری۔ 4/1-27،چشتی)

کیا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اتحاد کی مخالفت کی ؟

باغی راویوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو اس اتحا دکا مخالف ثابت کیا جائے تاکہ ان کی باغیانہ سرگرمیوں کو جواز مل سکے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جیسی ہستی کے بارے میں یہ بات انتہائی بدگمانی پر مبنی ہے کہ آپ مسلمانوں میں نہایت ہی مبارک اتحاد ہوتا دیکھ کر دوبارہ فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائیں ۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے پورے دور میں جو طرز عمل رکھا ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی دل و جان سے قدر کرتے تھے ۔ اس کا اندازہ الاخبار الطوال کی اس روایت سے ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ ’’الاخبار الطوال‘‘کسی نامعلوم شیعہ مصنف کی کتاب ہے اور غلط طور پر ابو حنیفہ الدینوری سے منسوب ہے : (صلح کے بعد) حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ملاقات سب سے پہلے حجر بن عدی سے ہوئی ۔ اس نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو ان کے اس فعل (صلح) پر شرم دلائی اور دعوت دی کہ وہ (حضرت معاویہ سے) دوبارہ جنگ شروع کریں اور کہا : "اے رسول اللہ کے بیٹے! کاش کہ میں یہ واقعہ دیکھنے سے پہلے مرجاتا ۔ آپ نے ہمیں انصاف سے نکال کر ظلم میں مبتلا کر دیا۔ ہم جس حق پر قائم تھے، ہم نے وہ چھوڑ دیا اور جس باطل سے بھاگ رہے تھے، اس میں جا گھسے۔ ہم نے خود ذلت اختیار کر لی اور اس پستی کو قبول کر لیا جو ہمارے لائق نہ تھی ۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو حجر بن عدی کی یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے فرمایا : ’’میں دیکھتا ہوں کہ لوگ صلح کی طرف مائل ہیں اور جنگ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ کیوں اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میں لوگوں پر وہ چیز مسلط کروں جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ میں نے خاص طور پر اپنے شیعوں کی بقا کے لیے یہ صلح کی ہے۔ میری رائے کہ جنگوں کے اس معاملے کو مرتے دم تک ملتوی کر دیا جائے۔ یقیناً اللہ ہر روز نئی شان میں ہوتا ہے ۔ اب حجر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، ان کے ساتھ عبیدہ بن عمرو بھی تھے ۔ یہ دونوں کہنے لگے: "ابو عبداللہ! آپ نے عزت کے بدلے ذلت خرید لی۔ زیادہ کو چھوڑ کر کم کو قبول کر لیا ۔ آج ہماری بات مان لیجیے، پھر عمر بھر نہ مانیے گا ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو ان کی صلح پر چھوڑ دیجیئے اور کوفہ وغیرہ کے باشندوں میں سے اپنے شیعہ کو جمع کر لیجیئے ۔ یہ معاملہ میرے اور میرے ساتھیوں کے سپر د کر دیجیئے ۔ ہند کے بیٹے (معاویہ) کو ہمارا علم اس وقت ہو گا جب ہم تلواروں کے ذریعے اس کے خلاف جنگ کر رہے ہوں گے ۔حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : "ہم بیعت کر چکے اور معاہدہ کر چکے ۔ اب اسے توڑنے کا کوئی راستہ نہیں۔” (الاخبار الطوال۔ ص 233-234،چشتی) ۔ اسی روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی صلح چاہتے تھے۔ بعد میں بھی پورے بیس برس ان کے تعلقات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہت اچھے رہے ۔
(1) جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، اپنے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے ۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے۔ ایک ہی دن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193،چشتی)

(2) حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو چالیس لاکھ درہم دیے ۔ ایک مرتبہ امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے ۔ ( ابن عساکر۔ 59/193)

(3) اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں : معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیئے ۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا ۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیئے جاتے ۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیئے جاتے ۔ (ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ)

(4) جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے ۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477،چشتی)

(5) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرات امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے ۔ موصوف لکھتے ہیں : معاویہ ہر سال حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔( ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام۔ قم: مطبعہ امیر)

(6) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ وہ قیصر روم کو خوفزدہ رکھنے کے لیے ہر سال دو مہمات ترکی کی جانب روانہ کرتے تھے ۔ یہ سردی اور گرمی کی مہمات کہلاتی تھیں اور طبری نے ہر سال کے باب میں ان کی تفصیل بیان کی ہے ۔ آپ نے ایک مہم قیصر کے دار الحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی جانب روانہ کی ۔ اس لشکر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ ( ابن کثیر۔ 11/477) ۔ بزرگ صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی لشکر کا حصہ تھے اور ان کی وفات قسطنطنیہ ہی میں ہوئی جہاں ان کی قبر آج تک موجود ہے ۔ اگر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دل و جان سے جائز حکمران تصور نہ کرتے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ ہر سال ان کے مہمان بنتے اور ان کے دیے گئے تحفوں کو قبول کرتے ۔

یہاں ہم اس روایت کا جائزہ پیش کریں گے جو طبری نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق نقل کی ہے : قال زياد بن عبد الله، عن عوانة؛ وذكر نحو حديث المسروقي، عن عثمان بن عبد الرحمن هذا، وزاد فيه : حسن نے حسین اور عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہم) سے ذکر کیا کہ میں معاویہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ لکھ چکا ہوں اور ان کی دی گئی امان کو تسلیم کر لیا ہے ۔ یہ سن کر حضرت امام حسین رضی اللہ کہنے لگے : ’’میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ معاویہ کی بات کی تصدیق اور علی کی بات کی تکذیب نہ کیجیے ۔‘‘ حسن نے جواب دیا : ’’خاموش رہیئے ، میں آپ سے بہتر اس بات کو جانتا ہوں ۔‘‘( طبری۔ 4/1-25)
سند کو دیکھیئے تو اس میں عوانہ کلبی (d. 147/765)موجود ہیں جو ہشام کلبی کے استاذ ہیں ۔ دوسرے صاحب زیاد بن عبداللہ (d. 183/799) ہیں جو کہ ضعیف تھے۔ تیسرے صاحب عثمان بن عبد الرحمن الحرانی ہیں (d. 203/819) جو کہ خود تو اگرچہ سچے آدمی ہیں مگر ضعیف لوگوں سے بکثرت روایتیں قبول کر لیتے ہیں ۔ ( ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ شخصیت نمبر 2143, 3714, 4372 )۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا راوی نہیں ہے جو حضرت امام حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے اتحاد (41/662) کا عینی شاہد ہو بلکہ یہ سب سو سال بعد کے لوگ ہیں ۔ اس وجہ سے غالب امکان یہی ہے کہ سند کے نامعلوم راویوں میں سے کوئی باغی راوی موجود ہے جس نے اپنی بغاوت کو جسٹی فائی کرنے کے لیئے اپنے الفاظ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔

کیا حضرت معاویہ رضی اللہ نے معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں ؟

حضرت امام حسن و حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح کے معاہدے کو بیان کرتے ہوئے طبری نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق حضرت معاویہ رضٰ اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاہدے کی شرائط کو پورا نہ کیا ۔ روایت کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو ایک سادہ کاغذ پر دستخط کر کے بھجوا دیا اور کہا کہ آپ جو جی چاہے ، لکھ لیجیے ۔ دوسری طرف حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اپنی شرائط پہلے ہی لکھ کر