🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25244
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانوادۂ حضرت علی رضی اللہ عنہم کی نظر میں 📜
✍️ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2126385867524036&id=100004579304922
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25244
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانوادۂ حضرت علی رضی اللہ عنہم کی نظر میں 📜
✍️ ڈاکٹر فیض احمد چشتی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2126385867524036&id=100004579304922
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/04/blog-post_30.html?m=1
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے

حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں ہونے والے اختلاف اور معافی ، کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے دے دی تھی ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے ۔ (تفسیر در منثور جلد 1 صفحہ 831 مترجم اردو)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے دی بر حق ہے ۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ امت کے دو گروہوں میں صلح کروائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے خبر دی حق ہے ۔

اسی طرح دیگر صحابہ و اہلبیت رضی اللہ عنہم کے متعلق خبریں بر حق ہیں ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہونے والی رنجش و اختلاف اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی کی خبر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم نے دی اس فرمان کے بعد اس پر کیچڑ اچھالنے والے ، توہین کرنے والے اور اعتراضات کرنے والے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کی ذات اقدس اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و صحبہ وسلّم کے فرمان اقدس کی توہین نہیں کر رہے ؟

اے اہل ایمان سوچیئے اور فیصلہ کیجیئے اللہ ہمیں اہلبیت اطہار اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور بے ادبی سے بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25266
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مولا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے تھے
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2126401887522434&id=100004579304922
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/04/blog-post_89.html?m=1

حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اکابرین اسلام علیہم الرّحمہ کی نظر میں

حضرت امام مالک رضی ﷲ عنہ نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو برا کہنا اتنا بڑا جرم ہے جتنا بڑا جرم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی ﷲ عنہما کو برا کہنا ہے ۔ (صواعق محرقہ ص 102)

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ کے ساتھ اگر جنگ میں ابتدا کی تو صلح میں بھی ابتدا کی ۔ (صواعق محرقہ ص 105)

حضرت امام شافعی رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اسلامی حکومت کے بہت بڑے سردار ہیں ۔ (صواعق محرقہ ص 105)

امام احمد بن حنبل رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں تم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے کردار کو دیکھتے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے بے شک یہی مہدی ہیں ۔

( صواعق محرقہ ص 106)

حضرت امام اعمش رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم معاویہ رضی ﷲ عنہ کا زمانہ دیکھ لیتے تو تم کو معلوم ہوتا کہ حکمرانی اور انصاف کیا چیز ہے‘ لوگوں نے پوچھا کیا آپ ان کے حلم کی بات کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا نہیں ! خدا کی قسم ان کے عدل کی بات کہہ رہاہوں ۔ (العواصم ص 333‘ اور المتقی ص 233)

حضرت عوف بن مالک مسجد میں قیلولہ فرما رہے تھے کہ خواب میں ایک شیر کی زبانی آواز آئی جو منجانب ﷲ تھی کہ حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کو جنتی ہونے کی بشارت دے دی جائے ۔ (بحوالہ طبرانی)

حضرت مجاہد نے کہا کہ اگر تم حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کو دیکھتے تو کہتے یہ مہدی ہیں ۔ (البدایہ والنہایہ)

قاضی عیاض رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی‘ برادر نسبتی‘ اور کاتب وحی ہیں جو آپ کو برا کہے اس پر لعنت ہو ۔ (البدایہ والنہایہ)

امام ابن خلدون نے فرمایا کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے حالات زندگی کو خلفائے اربعہ کی ساتھ ذکر کرنا ہی مناسب ہے کیونکہ آپ بھی خلیفہ راشد ہیں ۔

( تاریخ ابن خلدون ج:2، ص:1141)

حضرت ملا علی قاری رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ مسلمانوں کے امام برحق ہیں ان کی برائی میں جو روایتیں لکھی گئی ہیں سب کی سب جعلی اور بے بنیاد ہیں ۔ (موضوعات کبیر ص 129،چشتی)

امام ربیع بن نافع فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اصحاب رسول کے درمیان پردہ ہیں جو یہ پردہ چاک کرے گا وہ تمام صحابہ رضی ﷲ عنہم پر طعن کی جرات کرسکے گا ۔ (البدایہ ج 8‘ ص 139)

علامہ خطیب بغدادی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی ﷲ عنہ مرتبے میں حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ سے افضل ہیں لیکن دونوں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے صحابی ہیں بلکہ مملکت اسلامیہ کے دوستوں میں سے ہیں ان کے باہمی اختلافات کے فتنہ کا تمام گناہ سبائی فرقہ پر ہے ۔ (البدایہ والنہایہ)

علاّمہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ آپ کی سیرت نہایت عمدہ تھی اور آپ بہترین عفو کرنے والے تھے اور آپ سب سے بہتر درگزر کرنے والے تھے اور آپ بہت زیادہ پردہ پوشی کرنے والے تھے ۔ (البدایہ ج 8‘ ص 126،چشتی)

حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے خود اس شخص کو کوڑے مارے تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ پر سب و شتم کیا کرتا تھا ۔ (الصارم المسلول)

حضرت معانی بن عمران سے سوال کیا گیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ ﷲ علیہ ؟ انہوں نے کہا کیا تم ایک تابعی کا صحابی سے مقابلہ کرتے ہو ۔ (البدایہ)

حضرت ابن عمران نے کہا کہ جو حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کو برا بھلا کہے اس پر ﷲ تعالیٰ کے فرشتوں کی لعنت ہو اور اس پر تمام مخلوقات کی لعنت ہو ۔ (البدایہ)

حضرت قیصہ بن جابر اسدی فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے بڑھ کر محبوب دوست اور ظاہر اور باطن کو یکساں رکھنے والا کسی کو نہیں دیکھا ۔ (تاریخ طبریٰ مترجم ج 5ص 175)

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ ﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حقوق ﷲ اور حقوق العباد کے پورا کرنے میں خلیفہ عادل ہیں ۔ (مکتوبات دفتر اول ص 441)

حضرت شاہ ولی ﷲ علیہ الرحمہ نے لکھا حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کے حق میں کبھی بدظنی نہ کرنا اسی طرح حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ کی بدگوئی کرکے ضلالت کا ورطہ نہ لینا ۔ (ازالۃ الخفاء)

امام شہاب الدین خفاجی رحمۃُ اللہ علیہ رحمہ ﷲ تعالٰی علیہ نے نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ میں فرمایا: ومن یکون یطعن فی معٰویۃ فذالک کلب میں کلاب الہاویۃ ۔

ترجمہ جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتّوں سے ایک کُتا ہے ۔ (نسیم الریاض جز رابع صفحہ 525 مطبوعہ دارالکتب علمیہ بیروت لبنان)
1
امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد29 صفحہ 264 ۔ امام اہلسنت اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن کرنے والا جہنّمی کتوں میں سے ایک کتا ہے اور بد تر خبیث تبرائی رافضی ہے ایسے شخص کو امام بنانا جائز نہیں ہے ۔ (احکام شریعت صفحہ نمبر 120 ، 121 ) ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/04/blog-post_89.html?m=1
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25269
حضرت امیر معاویہ رضی ﷲ عنہ اکابرین اسلام علیہم الرّحمہ کی نظر میں
https://faizahmadchishti.blogspot.com/2019/04/blog-post_89.html?m=1
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ

https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/2393888877492907/

حضرت عمّار کو باغی گروہ قتل کرے گا روایت بخاری کی آڑ میں حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہما) کی توہین کرنے والے رافضیوں اور تفضیلیوں کو جواب
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : رافضیوں اور سنیوں کے لبادے میں چھپے تفضیلی رافضیوں کا سب سے بڑا اعتراض معاویہ اور اس کے ساتھ جہنمی و باغی ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نےعکرمہ اور علی بن عبداللہ سے فرمایا کہ تم دونوں ابوسعید خدری کے پاس جاو اور ان سے حدیث کا سماع کرو پس ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ باغ کو پانی دے رہے تھے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو ہمارے پاس تشریف لے آئے اور اختیار کی حالت میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جب مسجد نبوی کی تعمیر ہورہی تھی تو ہم ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے لیکن عمار رضی اللہ عنہ دو اینٹ لاتے تھے ، جب نبی کریم ص ان کے پاس گزرے تو ان کے سر کا غبار جھاڑتے ہوئے فرمایا عمار رضی اللہ عنہ کی اس حالت پر افسوس ہے کہ ان کو باغیوں کا ایک گروہ قتل کرے گا، یہ انہیں اللہ کی طرف بلائیں گے اور وہ ان کو جہنم کی طرف ۔
نتیجہ روایت : بہت ہی واضح الفاظ میں نبی ص نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کی پہچان اور حقیقت بتادی ہے کہ جو ان کو قتل کریں گے وہ باغی بھی ہوں گے اور جہنمی بھی۔ اب بخاری کی یہ روایت پڑھنے کے بعد صاحبان نظر انصاف سے تاریخی کتابیں پڑھ کر دیکھ لیں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والے کون تھے؟ اس میں کوئی تاریخ اختلاف نہیں ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں حضرت علی ع کی طرف سے جہاد کررہے تھے ان کا حضرت علی ع کی طرف ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حق مولا علی ع کی طرف تھا، دوسری طرف عمار رضی اللہ عنہ نے جن سے جہاد کیا وہ کوئی اور نہیں بلکہ معاویہ ابن ابو سفیان اور اس کے ساتھی تھے، بخاری پر یقین کرنے والے کم سے کم معاویہ کا جہنمی ہونا تسلیم کریں یا بخاری کو جھوٹا کہیں ۔

اس اعتراض کا مدلّل جواب : رافضی اور سنیوں کے لبادے میں چھپے تفضیلی رافضی اکثر حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) پر یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس حدیث کے مطابق حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) باغی اور جہنمی ٹہرے ۔

اس حدیث میں جس باغی گروہ کی بات کی گئی ہے وہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لشکر میں موجود خارجی گروہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عمار بن یاسر (رضی اللہ تعالی عنہ) کو قتل کیا اس سے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) بالکل مراد نہیں اور نہ ان کا نام موجود ہے اسی طرح کے خارجی لوگ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لشکر میں بھی موجود تھے جب ایک شخص حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے پاس آیا اور کہنے لگا آپ کو خوشخبری ہو میں نے حضرت زبیر (رضی اللہ تعالی عنہ) (جو حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لشکر میں موجود تھے) کو قتل کردیا ہے تو اس کے جواب میں حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) نے کہا میں تجھے جہنمی ہونے کی خوشخبری دیتا ہوں کیوں کہ حضرت زبیر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے بارے میں تو حدیث رسول تھی کہ جو ان کو قتل کرے گا وہ جہنمی ہوگا۔ اب جس طرح حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) پر کوئی الزام نہیں جہنمی ہونے کا (کیوں کہ وہ شخص حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے لشکر میں سے تھا) اسی طرح حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) پر بھی باغی ہونے کا کوئی الزام نہیں لگ سکتا۔

حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کا مقصد محض اپنی خلافت قائم کرنا نہ تھا بلکہ وہ تو حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کو اپنے سے افضل اور خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتے تھے تاریخ الاسلام میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ : وحدثني يعلى بن عبيد: ثنا أبي قال: قال أبو مسلم الخولاني وجماعة لمعاوية: أنت تنازع عليا هل أنت مثله فقال: لا والله إني لأعلم أن عليا أفضل مني وأحق بالأمر، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، وإنما أطلب بدمه، فأتوا عليا فقولوا له: فليدفع إلي قتلة عثمان وأسلم له، فأتوا عليا فكلموه بذلك، فلم يدفعهم إليه ۔
ترجمہ : حضرت ابومسلم خولانی حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے پاس گئے اور فرمایا :آپ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) سے خلافت کے بارے میں تنازع کیوں کرتے ہیں؟ کیا آپ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) جیسے ہیں؟ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا نہیں الله کی قسم میں جانتا ہوں کہ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن تم نہیں جانتے کہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کو ظلما قتل کردیا گیا؟ اور میں ان کا چچا زاد بھائ ہوں اور ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہا ہوں تم حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ
1
وہ قاتلین عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کو میرے حوالے کردیں اور میں یہاں کا نظام ان کے سپرد کر دوں گا ۔ (کتاب تاريخ الإسلام - الذهبي - ج ٣ - الصفحة ٥٤٠،چشتی)

اس سے پتہ چلا کہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کو محض خلافت سے کوئ غرض نہیں تھا ان کا مطالبہ صرف قتل عثمان کا قصاص لینا تھا اور یہی بات مولا علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے مکتوب میں بھی موجود ہے : وكان بدء أمرنا أنا التقينا والقوم من أهل الشام. والظاهر أن ربنا واحد ونبينا واحد، ودعوتنا في الاسلام واحدة. لا نستزيدهم في الإيمان بالله والتصديق برسوله صلى الله عليه وآله ولا يستزيدوننا. الأمر واحد إلا ما اختلفنا فيه من دم عثمان ۔
ترجمہ : ہمارے معاملے کی ابتدا یہ ہے کہ ہم شام کے لشکر کے ساتھ ایک میدان میں جمع ہوے جب بظاہر دونوں کا خدا ایک تھا رسول ایک تھا پیغام ایک تھا نہ ہم اپنے ایمان و تصدیق میں اضافہ کے طلبگار تھے نہ وہ اپنے ایمان کو بڑھانا چاہتے تھے معاملہ بالکل ایک تھا صرف اختلاف خون عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کے بارے میں تھا ۔ (کتاب نهج البلاغة - خطب الإمام علي (ع) - مکتوب ٥٨ - الصفحة ٤٤٨،چشتی)

دوسری بات یہ کہ فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ الفاظ کہ امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائیں گے ایسے الفاظ ہیں کہ جن سے امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) والے گروہ کی بھی اور حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) والے گروہ کے ایمان اور مسلمان ہونے کی خود زبان نبوت نے تصدیق فرما دی اور صلح اور بیعت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کر کے امام حسن و حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) نے اس کی تائید مزید فرما دی ۔

یہ حدیث شیعہ کتاب كشف الغمة میں بھی موجود ہے : روى عن أبي بكرة قال بينما رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يخطب إذ صعد إليه الحسن فضمه إليه وقال إن ابني هذا سيد وان الله عله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين عظمتين ۔
ترجمہ : ابی بکرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ ارشاد فرمانے کے دوران یکا یک امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) منبر پر چڑھ گئے تو آپ نے انہیں سینے سے لگایا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور الله اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۔ (كشف الغمة - ابن أبي الفتح الإربلي - ج ٢ - الصفحة ٣٢٠،چشتی)

تیسری بات یہ کہ اگر بلفرض اس حدیث کے مطابق حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) باغی ٹہرے تو پھر امام حسن و امام حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے کیوں کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) سے نہ صرف بیعت کی بلکہ انہیں مسلمانوں کا امیر بھی بنا دیا کیا امام حسن و حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) ایک باغی جہنمی کی بیعت کر سکتے ہیں اور انہیں سلطنت دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ کیا یہ حدیث امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) کو معلوم نہ تھی جو ان کی بیعت کرلی اور کیا اس حدیث کا مفہوم آج کل کے شیعہ زیادہ بہتر سمجھتے ہیں یا امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ)؟ امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) اور امام حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کی بیعت حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) پر دلائل اور بھی ہیں لیکن اختصار کے طور پر ایک حوالہ رجال کشی کا دے دیتے ہیں ۔

امام جعفر صادق (رضی اللہ تعالی عنہ) سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے امام حسن و حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کو مع ساتھیوں کے شام بلایا جب یہ سب آگئے تو : وأعد لهم الخطباء، فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع، ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع، ثم قال قم يا قيس فبايع فالتفت إلى الحسين عليه السلام ينظر ما يأمره، فقال يا قيس انه امامي يعني الحسن عليه السلام ۔
ترجمہ : ان کے لیے خطیب مقرر کیے گئے پھر کہا اے حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) اٹھیے اور بیعت کیجیے وہ اٹھے اور بیعت کی پھر امام حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کو کہا آپ اٹھیے اور بیعت کیجیے تو انہوں نے بھی اٹھ کر بیعت کی پھر قیس کو فرمایا اٹھ کر بیعت کرو اس نے امام حسین (رضی اللہ تعالی عنہ) کی طرف نظر کی تاکہ مرضی معلوم کر سکے آپ نے فرمایا اے قیس امام حسن (رضی اللہ تعالی عنہ) میرے امام ہیں ۔ (اختيار معرفة الرجال (رجال الكشي) - الشيخ الطوسي - ج ٢ - الصفحة ١٠٤،چشتی)

چوتھی بات یہ کہ جس کو خود حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) باغی اور منافق نہ کہیں انہیں آج کل کہ شیعہ کس منہ سے کہتے ہیں حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) نے تو انہیں اپنا بھائی کہا ہے ۔
شیعوں کے معروف و معتبر عالم عبداللہ بن جعفر الحمیری اپنی معتبر کتاب "قرب الاسناد" میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے اس سند کے دو راوی جو حضرت علی عليه السلام سے روایت کر رہے ہیں خود آئمہ معصومین ہیں اور باقی تین راوی معتبر اور ثقہ شیعہ راوی ہیں جن کو جمہور شیعہ علماء نے ثقہ اور صحیح کہا ہے : جعفر، عن أبيه: أن عليا عليه السلام كان يقول لأهل حربه إنا لم
1👍1
نقاتلهم على التكفير لهم، ولم نقاتلهم على التكفير لنا، ولكنا رأينا أنا على حق، ورأوا أنهم على حق ۔
ترجمہ : امام جعفر عليه السلام اپنے والد امام باقر عليه السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام اپنے مدِمقابل (حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) اور ان کی لشکر) کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ان سے لڑائی اس لئے نہیں کی کہ وہ ہمیں یا ہم ان کو کافر سمجھتے تھے لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے اپنے آپ کو اور ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا ۔ (قرب الاسناد - الحميري القمي - الصفحة ٩٣)

جعفر، عن أبيه عليه السلام: أن عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق، ولكنه كان يقول: " هم إخواننا بغوا علينا ۔
ترجمہ : امام جعفر صادق عليه السلام اپنے والد امام باقر عليه السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام اپنے مدمقابل (حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہو گئی ۔ (قرب الاسناد - الحميري القمي - الصفحة ٩٤)۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/2393888877492907/
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25273
حضرت عمّار کو باغی گروہ قتل کرے گا روایت بخاری کی آڑ میں حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہما) کی توہین کرنے والے رافضیوں اور تفضیلیوں کو جواب
https://www.facebook.com/1960113650870434/posts/2393888877492907/
1