🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
امیر المؤمنین حضرت سیدنا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-muawiya
نام و نسب:
آپ کا نام: معاویہ ،کنیت: ابو عبد الرحمن ہے۔ آپ کا شجرۂ نسب والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پانچویں پشت میں سرورِ عالم ﷺ سے مل جاتا ہے۔

آپ کا قبولِ اسلام: صحیح قول کے مطابق آپ نے خاص صلح حدیبیہ کے دن 7ھ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ مگر مکہ والوں کے خوف سے اپنا اسلام چھپائے رہے، جیسے حضرت عباس رضی اللہ عنہ ۔(حضرت امیرِ معاویہ پر ایک نظر:ص،36)۔ اسی طرح بعض مؤرخین نے آپکو مؤلفۃ القلوب میں شمار کیا ہے یہ صحیح نہیں ہے۔(ایضاً)

مختصر حالات: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ہندہ تھا۔ ظہورِ اسلام سے قبل ابو سفیان کا شمار رؤسائے عرب میں ہوتا تھا۔ جبکہ ابوسفیان اسلام کے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا تو ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ہندہ اور ان کے تمام خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں شامل تھے۔ پھر قبولِ اسلام کے بعد ساری زندگی اسلام کی ترقی کیلئے کوشاں رہے۔ ہجرت مدینہ سے تقریباًً 8 برس قبل مکہ میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ جب اسلام لائے تو زندگی کے پچیسویں برس میں تھے۔ فتح مکہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے تالیف قلب کے لیے ابوسفیان کے گھر کو بیت الامن قرار دیا۔ یعنی جو شخص ان کے گھر چلا جائے وہ مامون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کاتبِ وحی مقرر کیا۔ اس کے علاوہ بیرون علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور ملاقاتیوں کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کا کام بھی آپ کے سپرد تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے بھائی یزید بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کے محاذ پر بھیجا تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ عہد فاروقی میں حضرت یزید بن ابو سفیان کی وفات کے بعد آپ کو ان کی جگہ دمشق کا حاکم مقرر کیا گیا۔

رومیوں کے خلاف جنگوں میں سے قیساریہ کی جنگ آپ کی قیادت میں لڑی گئی جس میں 80 ہزار رومی قتل ہوئے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو دمشق ، اردن ، اور فلسطین تینوں صوبوں کا والی مقرر کیا اور اس پورے علاقہ کو شام کا نام دیا گیا۔ والیِ شام کی حیثیت سے آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اسلامی بحری بیڑے کی تشکیل اور قبرص کی فتح ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور آپ کا شمار عرب کے چار نامور مدبرین میں ہوتا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوارج سے مقابلہ کیا، مصر، کوفہ، مکہ، مدینہ میں باصلاحیت افراد کو عامل و گورنر مقرر کیا۔ آپ کے دور حکومت جوبیس سال کو محیط ہے۔ سجستان، رقہ، سوڈان، افریقہ، طرابلس، الجزائر اور سندھ کے بعض علاقے فتح ہوئے۔ ان کا دورِ حکومت ایک کامیاب دور تھا، ان کے زمانہ میں کوئی علاقہ سلطنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا، بلکہ اسلامی سلطنت کا رقبہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

وصال: ایک قول کےمطابق آپ کا وصال 22 رجب المرجب 60 ھ میں ہوا۔

وصیت: آپ نے وصیت فرمائی کہ میر ےپاس رسول اللہ ﷺ کے کچھ ناخن شریف ہیں۔ وہ میری آنکھوں میں رکھ دینا۔ حضور ﷺ کی قمیص اور تہبند میں مجھے لپیٹ دینا۔ اور آپ کے بال شریف میرے منہ اور ناک میں رکھ دینا۔ پھر مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کر دینا۔(حضرت امیرِ معاویہ پر ایک نظر، ص:39)

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-muawiya
Copyright © Zia-e-Taiba
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25225
امیر المؤمنین حضرت سیدنا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2124217641074192&id=100004579304922
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
جلیل القدر صحابی رسول ﷺ، سلطان اسلام، حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابو سفیان (رضی اللہ تعالی عنہما) بعثت نبوی سے پانچ سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ سیدنا امام حسن مجتبی (رضی اللہ عنہ وارضاہ) کے بعد آپ خلیفۃ المسلمین ہوئے۔ آپ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی، امین اسرار نبوت، صاحب فضائل و مناقب، کاتب وحی، 160 احادیث مبارکہ کے راوی، بہادر سپہ سالار، صاحب فہم و فراست، سخی، ذکی، متقی اور عادل حکمران تھے۔ 22 رجب المرجب 60ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک باب صغیر، دمشق، شام میں ہے۔ (الاصابہ، تاریخ دمشق، تاریخ طبری)

The Emperor of Islam, Exalted Companion, Sayyiduna Ameer Mu’awiyah bin Abi Sufiyan (RadiyAllahu Anhuma) was born in Makkah Mukarramah five years before the proclamation of the Prophethood of our beloved Prophet ﷺ. He became caliph after Sayyiduna Imam Hasan al-Mujtaba (RadiyAllahu Anhu). He is the brother of Umm al-Mumineen Sayyiduna Umm Habibah (RadiyAllahu Anha), transcriber of revelations, narrator of 160 Hadiths, brave warrior, astute and righteous leader, and a just and generous ruler. He departed from this world on Thursday, 22 Rajab 60 AH at the age of 78 and was laid to rest near Bab Sagheer in Damascus, Syria. [Al-Isabah, Tarikh Dimashq, Tarikh Tabari]

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/993119794744192/
1
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25231?single
حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی
اللہ عنہ پر اعتراض کرنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی
ہر صحابئ نبی ... جنتی جنتی
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2126030337559589&id=100004579304922
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2126374964191793&id=100004579304922
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
فضائل و مناقب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

✍️ ڈاکٹر فیض احمد چشتی

https://faizahmadchishti.blogspot.com/2018/04/blog-post_59.html?m=1

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی دعا : ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﻣﺴﻬﺮ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻌﺰﻳﺰ ﻋﻦ ﺭﺑﯿﻌﮧ ﺑﻦ ﺯﯾﺪ ﻋﻦ ﺍﺑﯽ ﻋﻤﯿﺮﮦ، ﻗﺎﻝ : ﻗﺎﻝ ﺍﻟﻨﺒﯽ ‏(ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ) : ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺍﺟﻌﻠﻪ ﻫﺎﺩﻳﺎ ﻣﻬﺪﻳﺎ ﻭﺍﻫﺪﻩ ﻭﺍﻫﺪﺑﻪ

ترجمہ : ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻮﻻ ﺍﺳﮯ ‏( ﯾﻌﻨﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ‏) ﮐﻮ ﮨﺎﺩﯼ ﻭ ﻣﮩﺪﯼ ﺑﻨﺎ، ﺍﺳﮯ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ ۔

(ﺃﺧﺮﺟﻪ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﺘﺎﺭﻳﺦ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ، 640/5 ﺍﻟﺮﻗﻢ 791/)

ﻣﺴﺘﺠﺎﺏ ﺍﻟﺪﻋﻮﺍﺕ ﻏﻼﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﻗﺎ ﻭ ﻣﻮﻟﯽ ﺣﻀﻮﺭ ﺳﯿﺪ ﺍﻟﻤﺮﺳﻠﯿﻦ ﺟﻨﺎﺏ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﺠﺘﺒﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﻤﺮﺗﺒﺖ ﻣﺤﺪﺛﯿﻦ، ﻓﻘﻬﺎ، ﻣﺘﮑﻠﻤﯿﻦ، ﻣﺆﺭﺧﯿﻦ، ﻣﻔﺴﺮﯾﻦ، ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﺑﺰﺭﮔﺎﻥ ﺩﯾﻦ ﻭ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ، ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ، ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺝ ﮐﯿﺎ، ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺣﺼﻮﻝ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﻮ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﮐﺴﯽ ﺭﺍﻓﻀﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﮯ :

(ﺍﺑﻦ ﺳﻌﺪ، ﺍﻟﻄﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، 292/7 ﺍﻟﺮﻗﻢ 3746/) (ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺣﻨﺒﻞ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، 426/29 ﺍﻟﺮﻗﻢ 1789/) (ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﺧﺜﯿﻤﮧ، ﺍﻟﺘﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ، 349/1) (ﺗﺮﻣﺬﯼ، ﺍﻟﺠﺎﻣﻊ ﺍﻟﺼﺤﯿﺢ، 687/5 ﺍﻟﺮﻗﻢ 3842/) (ﺍﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻋﺎﺻﻢ، ﺍﻵﺣﺎﺩ ﻭﺍﻟﻤﺜﺎﻧﯽ، 358/2 ﺍﻟﺮﻗﻢ 1129/) (ﺍﺑﻦ ﺧﻼﻝ، ﺍﻟﺴﻨﺔ، 450/2 ﺍﻟﺮﻗﻢ 699_697/) (ﺑﻐﻮﯼ، ﻣﻌﺠﻢ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﮧ، 146/2) (ﻃﺒﺮﺍﻧﯽ، ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻷﻭﺳﻂ، 205/1 ﺍﻟﺮﻗﻢ 656/) (ﻃﺒﺮﺍﻧﯽ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ﺍﻟﺸﺎﻣﯿﯿﻦ، 181/1 ﺍﻟﺮﻗﻢ 311/) (ﺁﺟﺮﯼ، ﺍﻟﺸﺮﯾﻌﮧ، 2436/5 ﺍﻟﺮﻗﻢ 1915/، چشتی) (ﺷﯿﺦ ﺍﺻﺒﯿﮩﺎﻧﯽ، ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﻤﺤﺪﺛﯿﻦ، 343/3) (ﺩﻗﺎﻕ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ، ﺍﻟﻔﻮﺍﺋﺪ، 211/ ﺍﻟﺮﻗﻢ 452/) (ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﺻﺒﮩﺎﻥ، 221/1915) (ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ، ﺍﻟﻤﻌﺮﻓﺔ ﺍﻟﺼﺤﺎﺑﮧ، 1836/4 ﺍﻟﺮﻗﻢ 4634/) (ﺃﺑﻮ ﻧﻌﻴﻢ، ﺣﻠﯿﺔ ﺍﻻﻭﻟﯿﺎﺀ، 358/8) (ﺧﻄﯿﺐ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺑﻐﺪﺍﺩ، _407 408/1) (ﺧﻄﯿﺐ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ، ﺗﻠﺨﯿﺺ ﺍﻟﻤﺘﺸﺎﺑﮧ، _405 406/1) (ﺧﻄﯿﺐ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ، ﺗﺎﻟﯽ ﺗﻠﺨﯿﺺ ﺍﻟﻤﺘﺸﺎﺑﮧ، 539/2 ﺍﻟﺮﻗﻢ 328/) (ﻗﺮﺷﯽ، ﺍﻟﺤﺠﺔ، 404/2 ﺍﻟﺮﻗﻢ 379/) (ﺍﺑﻦ ﻋﺴﺎﮐﺮ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺩﻣﺸﻖ ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺑﺘﺎﺭﯾﺦ ﺍﺑﻦ ﻋﺴﺎﮐﺮ، _80 83/59) (ﺍﺑﻦ ﺧﺮﺍﻁ، ﺍﻻﺣﮑﺎﻡ ﺍﻟﺸﺮﻋﻴﺔ ﺍﻟﮑﺒﺮﯼ، 428/4) (ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ، ﺟﺎﻣﻊ ﺍﻷﺻﻮﻝ، 107/9) (ﺍﺑﻦ ﺍﺛﯿﺮ، ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻐﺎﺑﮧ، 155/4 ﺍﻟﺮﻗﻢ 4985/) (ﻧﻮﻭﯼ، ﺗﻬﺬﻳﺐ ﺍﻻﺳﻤﺎﺀ ﻭﺍﻟﻠﻐﺎﺕ، 104/2) (ﺧﻄﯿﺐ ﺗﺒﺮﯾﺰﯼ، ﺍﻟﻤﺸﻜﺎﺓ ﺍﻟﻤﺼﺎﺑﯿﺢ، 1748/3 ﺍﻟﺮﻗﻢ 6244/) (ﻣﺰﯼ، ﺗﻬﺬﻳﺐ ﺍﻟﻜﻤﺎﻝ، 327/17) (ﺫﻫﺒﯽ، ﺳﯿﺮ ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻨﺒﻼﺀ، _125 126/3) (ﺫﻫﺒﯽ، ﻣﻌﺠﻢ ﺍﻟﺸﯿﻮﺥ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ، 155/1) (ﺫﻫﺒﯽ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻹﺳﻼﻡ، 301/4) (ﺫﻫﺒﯽ، ﺗﻠﺨﯿﺺ ﺍﻟﻌﻠﻞ ﺍﻟﻤﺘﻨﺎﮨﯿﮧ ﻟﻼﺑﻦ ﺟﻮﺯﯼ، 93/ ﺍﻟﺮﻗﻢ 225/) (ﺻﻔﺪﯼ، ﺍﻟﻮﺍﻓﯽ ﺑﺎﻟﻮﻓﻴﺎﺕ، 124/18) (ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ، ﺟﺎﻣﻊ ﺍﻟﻤﺴﺎﻧﯿﺪ، 536/5) (ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ، ﺍﻟﺒﺪﺍﯾﮧ ﻭﺍﻟﻨﮩﺎﯾﮧ، 129/8) (ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ، ﺇﺗﺤﺎﻑ ﺍﻟﻤﻬﺮﺓ، 625/10 ﺍﻟﺮﻗﻢ 13513/

ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻋﺴﻘﻼﻧﯽ، ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ ﺍﻟﻤﻌﺘﻠﯽ، 268/4 ﺍﻟﺮﻗﻢ 5869/) ( ﺳﯿﻮﻃﯽ، ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺍﻟﺨﻠﻔﺎﺀ، 152/) (ﺳﯿﻮﻃﯽ، ﺗﻄﮩﯿﺮ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ، 388/) (ﻻﻟﮑﺎﺉ، ﺷﺮﺡ ﺍﻷﺻﻮﻝ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﺍﮨﻠﺴﻨﺔ، 1441/8 ﺍﻟﺮﻗﻢ 6778/) (ﺍﺑﻦ ﺟﻮﺯﯼ، ﺍﻟﻌﻠﻞ ﺍﻟﻤﺘﻨﺎﮨﯿﮧ، 674/ ﺍﻟﺮﻗﻢ 446/) (ﺟﻮﺭﻗﺎﻧﯽ، ﺍﻷﺑﺎﻃﻴﻞ، 193/1) (ﺍﺑﻦ ﺣﺠﺮ ﻫﯿﺘﻤﯽ، ﺍﻟﺼﻮﺍﻋﻖ ﺍﻟﻤﺤﺮﻗﮧ، 310/) (ﮐﻨﺎﻧﯽ، ﺗﻨﺰﯾﮧ ﺍﻟﺸﺮﯾﻌﺔ ﺍﻟﻤﺮﻓﻮﻋﺔ، 8/2 ﺗﺤﺖ ﺍﻟﺮﻗﻢ 12/) (ﻋﺼﺎﻣﯽ، ﺳﻤﻂ ﺍﻟﻨﺠﻮﻡ، 155/3) (ﻃﯿﺒﯽ، ﺷﺮﺡ ﻋﻠﯽ ﻣﺸﮑﻮﺓ، 3948/12 ﺍﻟﺮﻗﻢ 6244/) (ﻣﻼ ﻋﻠﯽ ﻗﺎﺭﯼ، ﻣﺮﻗﺎﺓ ﺍﻟﻤﻔﺎﺗﯿﺢ، 4022/9 ﺍﻟﺮﻗﻢ 6244/) (ﭘﺮﮨﺎﺭﻭﯼ، ﺍﻟﻨﺎﻫﯿﺔ ﻋﻦ ﻃﻌﻦ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻣﻌﺎﻭﯾﺔ، 15/) (ﺣﻠﺒﯽ، ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﻟﻌﯿﻮﻥ ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺳﯿﺮﺕ ﺣﻠﺒﯿﮧ، 136/3) ( ﺷﺎﮦ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ، ﺇﺯﺍﻟﺔ ﺍﻟﺨﻔﺎﺀ، _571 572/1) (ﻣﺠﺪﺩ ﺍﻟﻒ ﺛﺎﻧﯽ، ﻣﮑﺘﻮﺑﺎﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺑﺎﻧﯽ، ﺩﻓﺘﺮ 1/ ﺣﺼﮧ 4/ ﺟﻠﺪ 1/ ﺻﻔﺤﮧ 58/ ﻣﮑﺘﻮﺏ 215/، چشتی)

ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ لئے ﮨﺪﺍﯾﺖ کی ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﯾﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ؟ ﻧﺒﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ - ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺟﺎﮨﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻮ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر ﻟﻌﻦ ﻃﻌﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺭﻭﺵ ﺧﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻌﺎﻭﯾﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻔاﻖ ﻭ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﻏﻼﻇﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﮯ ﺭﮐﮭﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺳﮯ ﺑﻬﭩﮏ ﻧﮧ ﺟﺎنا ۔

امام ربّانی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں : امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی محبت اہلسنت و جماعت کی شرط ہے اور جو شخص یہ محبت نہیں رکھتا اہلسنت سے خارج ہے، اس کا نام خارجی ہے اور جس شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی محبت میں افراط کی طرف کو اختیار کیا اور جس قدر کہ محبت مناسب ہے،اس سے زیادہ اس سے وقوع میں آتی ہے، اور محبت میں غلو کرتا ہے اور حضرت خیر البشر علیہ الصلاۃ و السلام کے اصحاب کو سب و طعن کرتا ہے اور صحابہ و تابعین اور سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریق کے برخلاف چلتا ہے وہ رافضی ہے (مکتوبات امام ربانی اردو ترجمہ/دفتر ٢ صفحہ ٩٤)
1