🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حجاب چھوڑئیے صاحب! یہاں تو پستان چھپانا بھی جرم عظیم تھا۔
{ موج فکر }

آصف جمیل امجدی [انٹیاتھوک، گونڈہ]

https://www.facebook.com/100005157704773/posts/2003208359861068/

آر یس یس کے زہریلے خمیر سے نکلے والی بی جے پی اپنی شرم ناک حرکتوں کے ذریعہ جب زمام حکومت سنبھالی تھی، اسی وقت ظاہر ہو چکا تھا کہ ہندو مسلم میں نفرتوں کی آبیاری کرنے والی یہ پارٹی مذہبی عداوتوں کی فصل اک دن ضرور کاٹے گی۔ لیکن وہ اس میں اتنی جلد بازی کرے گی اس کا اندازہ ہرگز نہیں تھا۔ مذہب و شریعت میں دخل اندازی کرکے مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کر رکھی ہے۔ شب و روز بے چینی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دی ہے۔ خصوصی طور پر جب اسمبلی انتخابات قریب آتا ہے تو ہندو مسلم کے مابین نفرت کی کوئی نا کوئی بیج ضرور ڈالی جاتی ہے۔ زعفرانی پلے (पिल्ले) ابھی حالیہ اسلامی قانون حجاب کے خلاف واویلا مچاۓ ہوۓ تھے۔ جس پر میری قوم کی غیرت مند ننھی شہزادی "مسکان خان "نے اپنی ہمت و بہادری کا جوہر دکھاتے ہوۓ زعفرانی گیدڑ بھبکیوں کو آن واحد میں ان کی اوقات یاد دلا دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان آتنکیوں کے خانۂ فکر میں مسلسل بھونچال برپا ہے۔ 2022؁ء کا حجابی سانحہ تاریخ ہند میں جلی حرفوں سے رقم کردیا گیا ہے۔ تاکہ نسل نو یہ جان سکے کہ ظالم حکمراں نے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کیسا جانب رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ کاش آر یس یس کے زہریلے زعفرانی خمیر اسلام پر شب خوں مارنے کی بجائے تاریخ ہند کا مطالعہ کئے ہوتے تو شاید دانتوں تلے انگلی داب لیتے اور ایسی نازیبا حرکتوں سے آئین ہند کو داغ دار نہ کرتے۔ 1729؁ء کی بات ہے کہ بھارت کے نقشے میں ٹراونکوڑ کی سرزمین پر دل سوز آنکھوں کو نمناک کر دینے والا درد ناک ناقابل بیان سانحہ تاریخ ہند میں بادشاہ وقت مرتھنڈ ورما کے دور حکومت میں ملتا ہے۔ کہ بادشاہ مرتھنڈ ورما زمام حکومت کے ساتھ تخت شاہی پر بیٹھتے ہی قدیم بادشاہوں کی ریت رواج کے مطابق اپنا حکم نامہ نافذ کرتا ہے۔ کہ فلاں فلاں اشیاء پر آپ لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا فہرست ضوابط میں ایک ایسے ٹیکس کا ذکر تھا جسے انسانی کان کبھی سنا تھا اور نہ ہی ذہن انسانی نے اسے بھول کر بھی کبھی سوچا ہوگا۔ "پستان ٹیکس/ بریسٹ ٹیکس" کے حوالے سے قانون لکھا ہوا تھا ، جو نچلی قوم (دلت، او بی سی وغیرہ وغیرہ) کی خواتین پر خصوصی نافذ کیا گیا تھا۔ کہ ان کے لیے اپنا پستان چھپانا سب سے بڑا جرم ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس (تاوان) دینا ہوگا۔ ظلم کی انتہا اسی پر بس نہ ہوئی بل کہ بادشاہ کا حکم نامہ رعایا کو سنایا گیا کہ میری حدود سلطنت میں رہنے والے مرد و عورت کو حیات مستعار گزارنے کےلیے بادشاہ کےقانون پرعمل پیرا ہونا لازم و ضروری ہوگا۔(نچلی قوم اسلامی حکمرانوں کے علاوہ بل کہ ہر دور حکمرانی میں کچلی گئیں ذلیل و رسوا کی گئیں) ظالم بادشاہ مرتھنڈ ورما کا خود ساختہ گھناؤنا قانون یہ تھا کہ نچلی ذات کی خواتین خالص کمر سے لےکر پیر تک کے اعضاء کو چھپا سکتی ہیں۔ پستان کو چھپانے کی انہیں قطعی کوئی اجازت نہیں ہے۔ اسی کھلے سینےکے ساتھ ضرورت پڑنے پر خواتین کوٹ کچہری کا چکر بھی لگاتی تھیں۔ عظیم عہدے دار اور اعلیٰ افسران کی آمد پر عورتوں کو اپنا پستان کھول کر بات کرنی پڑتی تھی‌۔ اس قانون سے باہر نکل کر زندگی گزارنے کا گویا تصور ہی مفقود ہو چکا تھا، کیوں کہ بادشاہ کے ڈر سے عام صورت حال میں بھی اسی طرح عورتیں رہنے لگی تھیں۔ شرم و حیا اس وقت دم بخود ہوکر رہ گئی جب کوئی خاتون غیرت کے مارے اپنا کھلا پستان چھپاتی اور وہ بڑا ہوتا تو اس جرم میں زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ اور اگر پستان چھوٹا ہوتا تو ٹیکس کم دینا پڑتا۔(یہ بادشاہ وقت کا فرمان تھا کہ جس کا پستان بڑا ہوگا اس کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا، باقاعدہ پستان کو ناپا جاتا تھا) ٹیکس افسران (Tex officer)کی ٹیم بلاناغہ ہر ہفتے ناڈر (nadar) و ایزوا (ezhava) قوم کے پاس ٹیکس لینے آتی تھی۔ ٹیکس کو کیلے کے پتے پر رکھ کر دینا ہوتا تھا۔ آخر بادشاہ مرتھنڈا ورما کا یہ ظالمانہ کالا قانون کب تک چلتا ایک نہ ایک دن تو بھسم ہونا ہی تھا 1803؁ء میں ایزوا (ezhava) ذات(ایزوا نیچے ذات کو کہتے ہیں ) میں نانگیلی نامی ایک بہادر خاتون کی تاریخی سوانح حیات ملتی ہے کہ اس خاتون نے تنے تنہا نہایت ڈھٹائی سے بادشاہ وقت کے غلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ نانگیلی اپنے پستان کو ڈھک کر چلنے لگی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اب میں اسی طرح رہوں گی اور بریسٹ ٹیکس بھی نہیں دوں گی ۔سماج میں یہ بات بڑی تیزی سے پھیلنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لمحوں میں یہ بات ٹراونڈ راجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ راجہ یہ سن کر آگ بگولہ ہوجاتا ہے کہ کون ہے میری رعایا میں جس کی اتنی بڑی جرأت ہوئی کہ وہ میرے فرمان کے خلاف من مانی کرنے لگی۔ اور فورا ٹیکس اصولی کرنے والے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے ہدایت کرتا ہے کہ جاؤ اور اس سے ہر حال میں ٹیکس لے کر آؤ۔ دوپہر کے وقت
👍1
ٹیکس افسران ٹراونکوڑ میں نانگیلی کے گھر پہنتے ہیں اور ٹیکس کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن نانگیلی اور ان کے شوہر چرکنڈن دونوں با یک زبان ٹیکس دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ لہذا افسران اور نانگیلی کے بیچ کافی بحث و مباحثہ ہوتا ہے اور نانگیلی کو نچلی ذات ہونے کی وجہ سے افسران نے بہت ٹارچر بھی کیا۔ بلآخر یہ کہہ کر کہ "لا رہی ہوں ٹیکس" نانگیلی گھر کے اندر جاتی ہے اور پھر اپنا "ایک پستان کاٹ کر کیلے کے پتے پر رکھ کر افسران کے سامنے پیش کردیتی"۔ یہ دیکھ کر موجودہ افسران کے ساتھ ٹراونکوڑ کی جنتا حواس باختہ ہوجاتی ہے۔ اور نانگیلی کے جسم سے برابر خون جاری تھا جس سے موقع پر اس کی موت ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد ٹراونکوڑ کے راجہ مرتھنڈ ورما پر جگہ جگہ سے بہت پریشر پڑتا ہے کہ بریسٹ ٹیکس کو ہٹایا جاۓ۔ احتجاج اتنا شدیدتھا کہ بادشاہ کےکنٹرول سے باہر ہو چکا تھا۔ لہذا بادشاہ کو اعلان کرنا پڑا کہ آج سے ایزوا ذات کی خواتین سے بریسٹ ٹیکس ہٹایا جارہا ہے اور اب وہ اپنے بدن کو ڈھک کر رہ سکتی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ 1729؁ء میں مرتھنڈ ورما راجہ نے یہ بریسٹ ٹیکس جیسا کالا قانون لگایا تھا جو کہ 1803؁ء تک چلا۔ اور نانگیلی کی بے مثال قربانی کی وجہ سے ایزوا ذات کی خواتین کو 1803؁ء میں بریسٹ ٹیکس دینے سے نجات ملی۔ اور انہیں پستان ڈھک کر چلنے کی اجازت دے دی گئی۔(آج بھی نانگیلی کی پوجا ٹراونکوڑ میں کی جاتی ہے۔) لیکن ٹراونکوڑ میں ابھی نادر (nadar) کمیونٹی کی خواتین سے بریسٹ ٹیکس کا قانون ہٹایا نہیں گیا تھا۔ ناڈر قوم کی تاریخ بھی بہت تاریک تھی (اختصار سے پیش کر رہاہوں) ناڈرکمیونٹی نے جب دیکھا کہ ایزوا کمیونٹی سے بریسٹ ٹیکس کو ہٹالیا گیا۔ تو پوری ناڈرکمیونٹی نے اپنے حق کے لیے اس کالے قانون کے خلاف ایسا احتجاج کیا جو ایک تاریخی احتجاج بن گیا اور یہ کئی دن تک لگاتار چلتا رہا۔ 1859؁ء میں برٹش حکومت اور ٹراونکوڑ کے راجہ کے بیچ نادر قوم کے احتجاج کو لے کر کافی بات چیت ہوئی۔ اس وقت مدراس کے گورنر "چارلس ٹویلئن" (Charles trevelyan) تھے آپ نے ورتھنڈ ورما پر کافی پریشر ڈالا تو بادشاہ نے ناڈرکمیونٹی سے بھی بریسٹ ٹیکس کو ہٹایا پھر بھی خفیہ طور پر ٹیکس لیا جاتا رہا۔ 1924؁ء میں جب آزادئ ہند کی لڑائی پورے چرم سیما پر تھی تب اس وقت اس کالے قانون (بریسٹ ٹیکس) سے نجات ملی تھی۔

https://t.me/islaamic_Knowledge/25210
👍2
حجاب چھوڑئیے صاحب! یہاں تو پستان (چھاتی) چھپانا بھی جرم عظیم تھا۔
آصف جمیل امجدی گونڈوی
ह़िजाब छोड़िये स़ाह़ब! यहाँ तो पिस्तान (स्तन) छुपाना भी जुर्मे अ़ज़ीम था।
आस़िफ़ जमील अमजदी गोण्डवी
Hijab Chhoriye Saahab! Yahan To Pistan (Breast) Chhupana Bhi Jurme Azeem Tha.
Aasif Jameel Amjadi
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ᴹᵘᵏᵃᵐᵐᵃˡ ᴾᵒˢᵗ Telegram ᴾᵃʳ↯
https://t.me/islaamic_Knowledge/25210
ᴹᵘᵏᵃᵐᵐᵃˡ ᴾᵒˢᵗ FaceBook ᴾᵃʳ↯
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/2003208359861068/
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
2
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
امیر المؤمنین حضرت سیدنا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-muawiya
نام و نسب:
آپ کا نام: معاویہ ،کنیت: ابو عبد الرحمن ہے۔ آپ کا شجرۂ نسب والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پانچویں پشت میں سرورِ عالم ﷺ سے مل جاتا ہے۔

آپ کا قبولِ اسلام: صحیح قول کے مطابق آپ نے خاص صلح حدیبیہ کے دن 7ھ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ مگر مکہ والوں کے خوف سے اپنا اسلام چھپائے رہے، جیسے حضرت عباس رضی اللہ عنہ ۔(حضرت امیرِ معاویہ پر ایک نظر:ص،36)۔ اسی طرح بعض مؤرخین نے آپکو مؤلفۃ القلوب میں شمار کیا ہے یہ صحیح نہیں ہے۔(ایضاً)

مختصر حالات: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ہندہ تھا۔ ظہورِ اسلام سے قبل ابو سفیان کا شمار رؤسائے عرب میں ہوتا تھا۔ جبکہ ابوسفیان اسلام کے بڑے دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جب نبی کریم ﷺ نے عام معافی کا اعلان کیا تو ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ہندہ اور ان کے تمام خاندان نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں شامل تھے۔ پھر قبولِ اسلام کے بعد ساری زندگی اسلام کی ترقی کیلئے کوشاں رہے۔ ہجرت مدینہ سے تقریباًً 8 برس قبل مکہ میں آپ کی پیدائش ہوئی۔ جب اسلام لائے تو زندگی کے پچیسویں برس میں تھے۔ فتح مکہ کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے تالیف قلب کے لیے ابوسفیان کے گھر کو بیت الامن قرار دیا۔ یعنی جو شخص ان کے گھر چلا جائے وہ مامون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کاتبِ وحی مقرر کیا۔ اس کے علاوہ بیرون علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں اور ملاقاتیوں کی مہمان نوازی اور دیکھ بھال کا کام بھی آپ کے سپرد تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے بھائی یزید بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کے محاذ پر بھیجا تو حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ عہد فاروقی میں حضرت یزید بن ابو سفیان کی وفات کے بعد آپ کو ان کی جگہ دمشق کا حاکم مقرر کیا گیا۔

رومیوں کے خلاف جنگوں میں سے قیساریہ کی جنگ آپ کی قیادت میں لڑی گئی جس میں 80 ہزار رومی قتل ہوئے تھے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو دمشق ، اردن ، اور فلسطین تینوں صوبوں کا والی مقرر کیا اور اس پورے علاقہ کو شام کا نام دیا گیا۔ والیِ شام کی حیثیت سے آپ کا سب سے بڑا کارنامہ اسلامی بحری بیڑے کی تشکیل اور قبرص کی فتح ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ پر بہت اعتماد کرتے تھے اور آپ کا شمار عرب کے چار نامور مدبرین میں ہوتا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوارج سے مقابلہ کیا، مصر، کوفہ، مکہ، مدینہ میں باصلاحیت افراد کو عامل و گورنر مقرر کیا۔ آپ کے دور حکومت جوبیس سال کو محیط ہے۔ سجستان، رقہ، سوڈان، افریقہ، طرابلس، الجزائر اور سندھ کے بعض علاقے فتح ہوئے۔ ان کا دورِ حکومت ایک کامیاب دور تھا، ان کے زمانہ میں کوئی علاقہ سلطنت اسلامیہ سے خارج نہیں ہوا، بلکہ اسلامی سلطنت کا رقبہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔

وصال: ایک قول کےمطابق آپ کا وصال 22 رجب المرجب 60 ھ میں ہوا۔

وصیت: آپ نے وصیت فرمائی کہ میر ےپاس رسول اللہ ﷺ کے کچھ ناخن شریف ہیں۔ وہ میری آنکھوں میں رکھ دینا۔ حضور ﷺ کی قمیص اور تہبند میں مجھے لپیٹ دینا۔ اور آپ کے بال شریف میرے منہ اور ناک میں رکھ دینا۔ پھر مجھے ارحم الراحمین کے سپرد کر دینا۔(حضرت امیرِ معاویہ پر ایک نظر، ص:39)

Read more at: https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-ameer-muawiya
Copyright © Zia-e-Taiba
1
#فیضان_حضرت_امیر_معاویہ
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
https://t.me/islaamic_Knowledge/25225
امیر المؤمنین حضرت سیدنا
امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2124217641074192&id=100004579304922
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
جلیل القدر صحابی رسول ﷺ، سلطان اسلام، حضرت سیدنا امیر معاویہ بن ابو سفیان (رضی اللہ تعالی عنہما) بعثت نبوی سے پانچ سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ سیدنا امام حسن مجتبی (رضی اللہ عنہ وارضاہ) کے بعد آپ خلیفۃ المسلمین ہوئے۔ آپ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی، امین اسرار نبوت، صاحب فضائل و مناقب، کاتب وحی، 160 احادیث مبارکہ کے راوی، بہادر سپہ سالار، صاحب فہم و فراست، سخی، ذکی، متقی اور عادل حکمران تھے۔ 22 رجب المرجب 60ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار مبارک باب صغیر، دمشق، شام میں ہے۔ (الاصابہ، تاریخ دمشق، تاریخ طبری)

The Emperor of Islam, Exalted Companion, Sayyiduna Ameer Mu’awiyah bin Abi Sufiyan (RadiyAllahu Anhuma) was born in Makkah Mukarramah five years before the proclamation of the Prophethood of our beloved Prophet ﷺ. He became caliph after Sayyiduna Imam Hasan al-Mujtaba (RadiyAllahu Anhu). He is the brother of Umm al-Mumineen Sayyiduna Umm Habibah (RadiyAllahu Anha), transcriber of revelations, narrator of 160 Hadiths, brave warrior, astute and righteous leader, and a just and generous ruler. He departed from this world on Thursday, 22 Rajab 60 AH at the age of 78 and was laid to rest near Bab Sagheer in Damascus, Syria. [Al-Isabah, Tarikh Dimashq, Tarikh Tabari]

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/993119794744192/
1