Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
::: الله تعالی کی نظر رحمت سے محروم 7 لوگ !!! :::
حدیث # 1:
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سات شخص ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ہی انھیں ستھرا اور پاک فرمائے گا، اور ان سے فرمائے گا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ!!!
(1) فاعل اور مفعول [لواطت/زنا میں]۔
(2) مشت زنی کرنے والا۔
(3) عورت اور اس کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرنے والا۔
(4) اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا۔
(5) اپنے پڑوسی کو ایذا دینے والا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت بھیجے گا۔
(6) چوپائے کے ساتھ بد فعلی کرنے والا۔
(7) عورتوں کے پیچھے کے مقام میں مجامعت کرنے والا
(شعب الایمان للبیہقی، ص:۳۲۹، ج:۷، تحریم الفروج وما یحب من التعفف عنھا، الرشد ریاض)
حدیث # 2:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"سات لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ہی انھیں ستھرا فرمائے گا، اور نہ ہی انھیں دنیا والوں کے ساتھ جمع فرمائے گا اور انھیں جہنم میں سب سے پہلے داخل فرمائے گا!!!
مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں، مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں، مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں، تو جس نے توبہ کرلی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا-
(1) مشت زنی کرنے والا۔
(2) فاعل [لواطت/زنا میں]۔
(3) مفعول [لواطت/زنا میں]۔
(4) شراب پینے والا۔
(5) اپنے والدین کو مارنے والا یہاں تک کہ وہ فریاد کریں۔
(6) اپنے پڑوسی کو تکلیف دینے والا یہاں تک کہ وہ لعنت بھیجیں۔
(7) اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا-
(شعب الایمان للبیہقی، تحریم الفروج وما یحب من التعفق عنھا، ج:۷، ص:۳۲۹، الرشد ریاض)
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2258143287658179/
حدیث # 1:
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سات شخص ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ہی انھیں ستھرا اور پاک فرمائے گا، اور ان سے فرمائے گا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجاؤ!!!
(1) فاعل اور مفعول [لواطت/زنا میں]۔
(2) مشت زنی کرنے والا۔
(3) عورت اور اس کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرنے والا۔
(4) اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا۔
(5) اپنے پڑوسی کو ایذا دینے والا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس پر لعنت بھیجے گا۔
(6) چوپائے کے ساتھ بد فعلی کرنے والا۔
(7) عورتوں کے پیچھے کے مقام میں مجامعت کرنے والا
(شعب الایمان للبیہقی، ص:۳۲۹، ج:۷، تحریم الفروج وما یحب من التعفف عنھا، الرشد ریاض)
حدیث # 2:
حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"سات لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے روز نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ہی انھیں ستھرا فرمائے گا، اور نہ ہی انھیں دنیا والوں کے ساتھ جمع فرمائے گا اور انھیں جہنم میں سب سے پہلے داخل فرمائے گا!!!
مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں، مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں، مگر یہ کہ وہ توبہ کرلیں، تو جس نے توبہ کرلی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا-
(1) مشت زنی کرنے والا۔
(2) فاعل [لواطت/زنا میں]۔
(3) مفعول [لواطت/زنا میں]۔
(4) شراب پینے والا۔
(5) اپنے والدین کو مارنے والا یہاں تک کہ وہ فریاد کریں۔
(6) اپنے پڑوسی کو تکلیف دینے والا یہاں تک کہ وہ لعنت بھیجیں۔
(7) اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا-
(شعب الایمان للبیہقی، تحریم الفروج وما یحب من التعفق عنھا، ج:۷، ص:۳۲۹، الرشد ریاض)
https://www.facebook.com/100003875890529/posts/2258143287658179/
❤1👍1
سوال:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ کے عربی فارسی اور اُردو دیوان (مجموعہ نعتیہ شاعری) کا نام کیا ہے؟
جواب:
عربی دیوان کا نام " بساتین الغفران " ہے۔ اور فارسی دیوان کا نام " ارمغان رضا " ہے۔ اور اردو دیوان کا نام " حدائق بخشش " (اس کے اندر بعض عربی و فارسی کے اشعار بھی شامل ہیں) ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/1534
حوالہ: امام احمدرضاخان بحیثیت شاعر، مقالہ نگار: ڈاکر جاویدکراچی.
حوالہ: اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سیرت کوئز سوالاً جواباً۔ از: مفتی حکیم محمد عارف محمود خان قادری ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل کراچی سب آفس سمندری فیصل آباد
حوالہ: مولانا احمد رضا کی عربی زبان و ادب میں خدمات ص 202
حوالہ: تاریخ نعت گوئی میں امام احمد رضا کا مقام ص 20
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللّٰه علیہ کے عربی فارسی اور اُردو دیوان (مجموعہ نعتیہ شاعری) کا نام کیا ہے؟
جواب:
عربی دیوان کا نام " بساتین الغفران " ہے۔ اور فارسی دیوان کا نام " ارمغان رضا " ہے۔ اور اردو دیوان کا نام " حدائق بخشش " (اس کے اندر بعض عربی و فارسی کے اشعار بھی شامل ہیں) ہے۔
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/1534
حوالہ: امام احمدرضاخان بحیثیت شاعر، مقالہ نگار: ڈاکر جاویدکراچی.
حوالہ: اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سیرت کوئز سوالاً جواباً۔ از: مفتی حکیم محمد عارف محمود خان قادری ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل کراچی سب آفس سمندری فیصل آباد
حوالہ: مولانا احمد رضا کی عربی زبان و ادب میں خدمات ص 202
حوالہ: تاریخ نعت گوئی میں امام احمد رضا کا مقام ص 20
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
حجاب چھوڑئیے صاحب! یہاں تو پستان چھپانا بھی جرم عظیم تھا۔
{ موج فکر }
آصف جمیل امجدی [انٹیاتھوک، گونڈہ]
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/2003208359861068/
آر یس یس کے زہریلے خمیر سے نکلے والی بی جے پی اپنی شرم ناک حرکتوں کے ذریعہ جب زمام حکومت سنبھالی تھی، اسی وقت ظاہر ہو چکا تھا کہ ہندو مسلم میں نفرتوں کی آبیاری کرنے والی یہ پارٹی مذہبی عداوتوں کی فصل اک دن ضرور کاٹے گی۔ لیکن وہ اس میں اتنی جلد بازی کرے گی اس کا اندازہ ہرگز نہیں تھا۔ مذہب و شریعت میں دخل اندازی کرکے مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کر رکھی ہے۔ شب و روز بے چینی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دی ہے۔ خصوصی طور پر جب اسمبلی انتخابات قریب آتا ہے تو ہندو مسلم کے مابین نفرت کی کوئی نا کوئی بیج ضرور ڈالی جاتی ہے۔ زعفرانی پلے (पिल्ले) ابھی حالیہ اسلامی قانون حجاب کے خلاف واویلا مچاۓ ہوۓ تھے۔ جس پر میری قوم کی غیرت مند ننھی شہزادی "مسکان خان "نے اپنی ہمت و بہادری کا جوہر دکھاتے ہوۓ زعفرانی گیدڑ بھبکیوں کو آن واحد میں ان کی اوقات یاد دلا دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان آتنکیوں کے خانۂ فکر میں مسلسل بھونچال برپا ہے۔ 2022ء کا حجابی سانحہ تاریخ ہند میں جلی حرفوں سے رقم کردیا گیا ہے۔ تاکہ نسل نو یہ جان سکے کہ ظالم حکمراں نے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کیسا جانب رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ کاش آر یس یس کے زہریلے زعفرانی خمیر اسلام پر شب خوں مارنے کی بجائے تاریخ ہند کا مطالعہ کئے ہوتے تو شاید دانتوں تلے انگلی داب لیتے اور ایسی نازیبا حرکتوں سے آئین ہند کو داغ دار نہ کرتے۔ 1729ء کی بات ہے کہ بھارت کے نقشے میں ٹراونکوڑ کی سرزمین پر دل سوز آنکھوں کو نمناک کر دینے والا درد ناک ناقابل بیان سانحہ تاریخ ہند میں بادشاہ وقت مرتھنڈ ورما کے دور حکومت میں ملتا ہے۔ کہ بادشاہ مرتھنڈ ورما زمام حکومت کے ساتھ تخت شاہی پر بیٹھتے ہی قدیم بادشاہوں کی ریت رواج کے مطابق اپنا حکم نامہ نافذ کرتا ہے۔ کہ فلاں فلاں اشیاء پر آپ لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا فہرست ضوابط میں ایک ایسے ٹیکس کا ذکر تھا جسے انسانی کان کبھی سنا تھا اور نہ ہی ذہن انسانی نے اسے بھول کر بھی کبھی سوچا ہوگا۔ "پستان ٹیکس/ بریسٹ ٹیکس" کے حوالے سے قانون لکھا ہوا تھا ، جو نچلی قوم (دلت، او بی سی وغیرہ وغیرہ) کی خواتین پر خصوصی نافذ کیا گیا تھا۔ کہ ان کے لیے اپنا پستان چھپانا سب سے بڑا جرم ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس (تاوان) دینا ہوگا۔ ظلم کی انتہا اسی پر بس نہ ہوئی بل کہ بادشاہ کا حکم نامہ رعایا کو سنایا گیا کہ میری حدود سلطنت میں رہنے والے مرد و عورت کو حیات مستعار گزارنے کےلیے بادشاہ کےقانون پرعمل پیرا ہونا لازم و ضروری ہوگا۔(نچلی قوم اسلامی حکمرانوں کے علاوہ بل کہ ہر دور حکمرانی میں کچلی گئیں ذلیل و رسوا کی گئیں) ظالم بادشاہ مرتھنڈ ورما کا خود ساختہ گھناؤنا قانون یہ تھا کہ نچلی ذات کی خواتین خالص کمر سے لےکر پیر تک کے اعضاء کو چھپا سکتی ہیں۔ پستان کو چھپانے کی انہیں قطعی کوئی اجازت نہیں ہے۔ اسی کھلے سینےکے ساتھ ضرورت پڑنے پر خواتین کوٹ کچہری کا چکر بھی لگاتی تھیں۔ عظیم عہدے دار اور اعلیٰ افسران کی آمد پر عورتوں کو اپنا پستان کھول کر بات کرنی پڑتی تھی۔ اس قانون سے باہر نکل کر زندگی گزارنے کا گویا تصور ہی مفقود ہو چکا تھا، کیوں کہ بادشاہ کے ڈر سے عام صورت حال میں بھی اسی طرح عورتیں رہنے لگی تھیں۔ شرم و حیا اس وقت دم بخود ہوکر رہ گئی جب کوئی خاتون غیرت کے مارے اپنا کھلا پستان چھپاتی اور وہ بڑا ہوتا تو اس جرم میں زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ اور اگر پستان چھوٹا ہوتا تو ٹیکس کم دینا پڑتا۔(یہ بادشاہ وقت کا فرمان تھا کہ جس کا پستان بڑا ہوگا اس کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا، باقاعدہ پستان کو ناپا جاتا تھا) ٹیکس افسران (Tex officer)کی ٹیم بلاناغہ ہر ہفتے ناڈر (nadar) و ایزوا (ezhava) قوم کے پاس ٹیکس لینے آتی تھی۔ ٹیکس کو کیلے کے پتے پر رکھ کر دینا ہوتا تھا۔ آخر بادشاہ مرتھنڈا ورما کا یہ ظالمانہ کالا قانون کب تک چلتا ایک نہ ایک دن تو بھسم ہونا ہی تھا 1803ء میں ایزوا (ezhava) ذات(ایزوا نیچے ذات کو کہتے ہیں ) میں نانگیلی نامی ایک بہادر خاتون کی تاریخی سوانح حیات ملتی ہے کہ اس خاتون نے تنے تنہا نہایت ڈھٹائی سے بادشاہ وقت کے غلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ نانگیلی اپنے پستان کو ڈھک کر چلنے لگی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اب میں اسی طرح رہوں گی اور بریسٹ ٹیکس بھی نہیں دوں گی ۔سماج میں یہ بات بڑی تیزی سے پھیلنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لمحوں میں یہ بات ٹراونڈ راجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ راجہ یہ سن کر آگ بگولہ ہوجاتا ہے کہ کون ہے میری رعایا میں جس کی اتنی بڑی جرأت ہوئی کہ وہ میرے فرمان کے خلاف من مانی کرنے لگی۔ اور فورا ٹیکس اصولی کرنے والے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے ہدایت کرتا ہے کہ جاؤ اور اس سے ہر حال میں ٹیکس لے کر آؤ۔ دوپہر کے وقت
{ موج فکر }
آصف جمیل امجدی [انٹیاتھوک، گونڈہ]
https://www.facebook.com/100005157704773/posts/2003208359861068/
آر یس یس کے زہریلے خمیر سے نکلے والی بی جے پی اپنی شرم ناک حرکتوں کے ذریعہ جب زمام حکومت سنبھالی تھی، اسی وقت ظاہر ہو چکا تھا کہ ہندو مسلم میں نفرتوں کی آبیاری کرنے والی یہ پارٹی مذہبی عداوتوں کی فصل اک دن ضرور کاٹے گی۔ لیکن وہ اس میں اتنی جلد بازی کرے گی اس کا اندازہ ہرگز نہیں تھا۔ مذہب و شریعت میں دخل اندازی کرکے مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کر رکھی ہے۔ شب و روز بے چینی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دی ہے۔ خصوصی طور پر جب اسمبلی انتخابات قریب آتا ہے تو ہندو مسلم کے مابین نفرت کی کوئی نا کوئی بیج ضرور ڈالی جاتی ہے۔ زعفرانی پلے (पिल्ले) ابھی حالیہ اسلامی قانون حجاب کے خلاف واویلا مچاۓ ہوۓ تھے۔ جس پر میری قوم کی غیرت مند ننھی شہزادی "مسکان خان "نے اپنی ہمت و بہادری کا جوہر دکھاتے ہوۓ زعفرانی گیدڑ بھبکیوں کو آن واحد میں ان کی اوقات یاد دلا دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان آتنکیوں کے خانۂ فکر میں مسلسل بھونچال برپا ہے۔ 2022ء کا حجابی سانحہ تاریخ ہند میں جلی حرفوں سے رقم کردیا گیا ہے۔ تاکہ نسل نو یہ جان سکے کہ ظالم حکمراں نے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کیسا جانب رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ کاش آر یس یس کے زہریلے زعفرانی خمیر اسلام پر شب خوں مارنے کی بجائے تاریخ ہند کا مطالعہ کئے ہوتے تو شاید دانتوں تلے انگلی داب لیتے اور ایسی نازیبا حرکتوں سے آئین ہند کو داغ دار نہ کرتے۔ 1729ء کی بات ہے کہ بھارت کے نقشے میں ٹراونکوڑ کی سرزمین پر دل سوز آنکھوں کو نمناک کر دینے والا درد ناک ناقابل بیان سانحہ تاریخ ہند میں بادشاہ وقت مرتھنڈ ورما کے دور حکومت میں ملتا ہے۔ کہ بادشاہ مرتھنڈ ورما زمام حکومت کے ساتھ تخت شاہی پر بیٹھتے ہی قدیم بادشاہوں کی ریت رواج کے مطابق اپنا حکم نامہ نافذ کرتا ہے۔ کہ فلاں فلاں اشیاء پر آپ لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا فہرست ضوابط میں ایک ایسے ٹیکس کا ذکر تھا جسے انسانی کان کبھی سنا تھا اور نہ ہی ذہن انسانی نے اسے بھول کر بھی کبھی سوچا ہوگا۔ "پستان ٹیکس/ بریسٹ ٹیکس" کے حوالے سے قانون لکھا ہوا تھا ، جو نچلی قوم (دلت، او بی سی وغیرہ وغیرہ) کی خواتین پر خصوصی نافذ کیا گیا تھا۔ کہ ان کے لیے اپنا پستان چھپانا سب سے بڑا جرم ہوگا، خلاف ورزی کی صورت میں ٹیکس (تاوان) دینا ہوگا۔ ظلم کی انتہا اسی پر بس نہ ہوئی بل کہ بادشاہ کا حکم نامہ رعایا کو سنایا گیا کہ میری حدود سلطنت میں رہنے والے مرد و عورت کو حیات مستعار گزارنے کےلیے بادشاہ کےقانون پرعمل پیرا ہونا لازم و ضروری ہوگا۔(نچلی قوم اسلامی حکمرانوں کے علاوہ بل کہ ہر دور حکمرانی میں کچلی گئیں ذلیل و رسوا کی گئیں) ظالم بادشاہ مرتھنڈ ورما کا خود ساختہ گھناؤنا قانون یہ تھا کہ نچلی ذات کی خواتین خالص کمر سے لےکر پیر تک کے اعضاء کو چھپا سکتی ہیں۔ پستان کو چھپانے کی انہیں قطعی کوئی اجازت نہیں ہے۔ اسی کھلے سینےکے ساتھ ضرورت پڑنے پر خواتین کوٹ کچہری کا چکر بھی لگاتی تھیں۔ عظیم عہدے دار اور اعلیٰ افسران کی آمد پر عورتوں کو اپنا پستان کھول کر بات کرنی پڑتی تھی۔ اس قانون سے باہر نکل کر زندگی گزارنے کا گویا تصور ہی مفقود ہو چکا تھا، کیوں کہ بادشاہ کے ڈر سے عام صورت حال میں بھی اسی طرح عورتیں رہنے لگی تھیں۔ شرم و حیا اس وقت دم بخود ہوکر رہ گئی جب کوئی خاتون غیرت کے مارے اپنا کھلا پستان چھپاتی اور وہ بڑا ہوتا تو اس جرم میں زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا۔ اور اگر پستان چھوٹا ہوتا تو ٹیکس کم دینا پڑتا۔(یہ بادشاہ وقت کا فرمان تھا کہ جس کا پستان بڑا ہوگا اس کو زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا، باقاعدہ پستان کو ناپا جاتا تھا) ٹیکس افسران (Tex officer)کی ٹیم بلاناغہ ہر ہفتے ناڈر (nadar) و ایزوا (ezhava) قوم کے پاس ٹیکس لینے آتی تھی۔ ٹیکس کو کیلے کے پتے پر رکھ کر دینا ہوتا تھا۔ آخر بادشاہ مرتھنڈا ورما کا یہ ظالمانہ کالا قانون کب تک چلتا ایک نہ ایک دن تو بھسم ہونا ہی تھا 1803ء میں ایزوا (ezhava) ذات(ایزوا نیچے ذات کو کہتے ہیں ) میں نانگیلی نامی ایک بہادر خاتون کی تاریخی سوانح حیات ملتی ہے کہ اس خاتون نے تنے تنہا نہایت ڈھٹائی سے بادشاہ وقت کے غلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ نانگیلی اپنے پستان کو ڈھک کر چلنے لگی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ اب میں اسی طرح رہوں گی اور بریسٹ ٹیکس بھی نہیں دوں گی ۔سماج میں یہ بات بڑی تیزی سے پھیلنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ لمحوں میں یہ بات ٹراونڈ راجہ تک پہنچ جاتی ہے۔ راجہ یہ سن کر آگ بگولہ ہوجاتا ہے کہ کون ہے میری رعایا میں جس کی اتنی بڑی جرأت ہوئی کہ وہ میرے فرمان کے خلاف من مانی کرنے لگی۔ اور فورا ٹیکس اصولی کرنے والے اعلیٰ افسران کو طلب کرکے ہدایت کرتا ہے کہ جاؤ اور اس سے ہر حال میں ٹیکس لے کر آؤ۔ دوپہر کے وقت
👍1