🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1443ᴴ 🗓 18-02-2022ᴱ
17-07-1443ᴴ 🗓 19-02-2022ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت
نہ نقصان دو نہ ہی نقصان اٹھاؤ
کیا کھلا ہوا قرآن شیطان پڑھتا ہے؟
مرد کو کون سی انگوٹھی پہننا...
تاج الفحول شاہ عبد القادر بدایونی
مفتی مالکیہ شیخ عابد بن حسین
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
علم اختلافات اور علما میں حسد
https://www.facebook.com/100024020582996/posts/1138416026969073/
محترم قارئینِ کرام : ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِۚ-فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُۙ-بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ (سورہ الجاثیہ آیت نمبر 17)
ترجمہ : اور ہم نے اُنھیں اس کام کی روشن دلیلیں دیں تو اُنھوں نے اختلاف نہ کیا مگر بعد اس کے کہ علم اُن کے پاس آچکا آپس کے حسد سے بے شک تمہارا رب قیامت کے دن اُن میں فیصلہ کردے گا جس بات میں اختلاف کرتے ہیں ۔

حسَد کے لغوی اور اصطلاحی معنی : حسد کا لغوی معانی کسی کی نعمت کے زول اور خود اپنے لیے اس کے حصول کی تمناکرنا یا آرزو رکھنا ۔ (المنجد حسد(ن،ض)

علامہ ابن منظور محمد بن مکرم بن علی بن احمد الانصاری الافریقی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفیٰ (711ھ) حسد کے بارے میں رقم طراز ہیں : حسدکے معنی چیچڑی (جوں کے مشابہ قدرے لمبا کیڑا) ہے جس طرح چیچڑی انسان کے جسم سے لپٹ کر اس کا خون پیتی رہتی ہے- اسی طرح حسد بھی انسان کے دل سے لپٹ کر گویا اس کا خون چوستا رہتا ہے اس لیے اسے حسد کہتے ہیں ۔ (لسان العرب، باب الحاء، ج: 1، ص:826)

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ حسد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : جس شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں ۔ (المفردات، ص:118)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تورات میں دین اور حلال و حرام کے بیان نیز نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کے معاملے کی روشن دلیلیں دیں لیکن انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جلوہ افروزی کے بعد اپنے منصب اور ریاست ختم ہوجانے کے اندیشے کی وجہ سے آپ کے ساتھ حسد کیا اور دشمنی مول لی اور اپنے پاس علم آجانے کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت پر پہلے سے متفق ہونے کے باوجود آپ کی بعثت کے بارے میں اختلاف کیا حالانکہ علم اختلاف زائل کرنے کا سبب ہوتا ہے اور یہاں ان لوگوں کے لئے اختلاف کا سبب ہوا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصود علم نہ تھا بلکہ اُن کا مقصود منصب و ریاست کی طلب تھی اسی لئے انہوں نے اختلاف کیا ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کا رب قیامت کے دن بنی اسرائیل کے درمیان اس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ ( خازن تحت الآیۃ: ۱۷، ۴ / ۱۱۹،چشتی)(جلالین مع صاوی : ۱۷، ۵ / ۱۹۲۴)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ علم اختلافات کو زائل کرنے والا اور جھگڑے مٹانے والا ہے لیکن جب عالِم میں حسد پیدا ہو جائے تو علم اختلافات کو زائل کرنے اور جھگڑے مٹانے کی بجائے بڑھا دیتا ہے ۔ افسوس ! ہمارے زمانے میں بھی علماء کی ایک تعداد ایسی ہے جو باطنی گناہوں کا یا تو علم ہی نہیں رکھتے اور یا پھر علم رکھنے کے باوجود ایک دوسرے سے اختلافات اور آپس میں انتشار کا شکار ہیں اور ا س کا بنیادی سبب ایک دوسرے سے حسد کرنا ہے ۔علماء کے باہمی حسد کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ایک عالم دوسرے عالم سے تو حسد کرتا ہے لیکن کسی عبادت گزار سے حسد نہیں کرتا اسی طرح ایک عبادت گزار دوسرے عبادت گزار سے تو حسد کرتا ہے لیکن عالم سے حسد نہیں کرتا۔مزید فرماتے ہیں ’’وعظ کرنے والا جتنا کسی دوسرے وعظ کرنے والے سے حسد کرتا ہے اتناکسی فقیہ یا حکیم سے حسد نہیں کرتا کیونکہ ان دونوں کے درمیان ایک مقصد پر جھگڑا ہوتا ہے تو ان حسدوں کی اصل وجہ اور دشمنی کی بنیاد کسی ایک غرض پر اکٹھا ہونا ہے اور ایک غرض پر وہ دو آدمی جمع نہیں ہوتے جو ایک دوسرے سے دور ہوں بلکہ ان کے درمیان کسی قسم کی مناسبت ضروری ہے اسی لئے ان دو آدمیوں کے درمیان حسد ہوتا ہے ۔ (احیاء علوم الدین کتاب ذمّ الغضب والحقد والحسد، القول فی ذمّ الحسد۔۔۔ الخ، بیان السبب فی کثرۃ الحسد۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۴۰،چشتی)

اور حسد کی وجہ سے فی زمانہ علماء کا باہمی حال یہ نظر آتا ہے جس کی نشاندہی اس حدیث پاک میں کی گئی ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : میری امت پر ایک زمانہ ایساآئے گا کہ فقہاء ایک دوسرے سے حسد کریں گے اور ایک دوسرے سے اس طرح لڑائی کیا کریں گے جیسے جنگلی بکرے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ۔ ( تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ عبد الرحمٰن، ۵۴۴۷-عبد الرحمٰن بن ابراہیم بن محمد بن یحی۔۔۔ الخ، ۱۰ / ۳۰۱)

علماء میں حسد اور اس کا نقصان
1