🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
جمعہ مبارک
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہمیں ۳ چیزوں کے ذریعے فضیلت
شب جمعہ کا درود حضرت معاویہ
جمعہ مبارک | مفتی عسجد رضا
خوش نصیب ہے جو جمعہ کا خیال
جمعہ مبارک | ارشادات امام جعفر
اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر
بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب
رزق کے ¹⁰ حصے | ¹حصہ تاجر کو
نبی کے عشق کو سب کچھ ...
علماء کرام کے انتشار کی وجہ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
ہمیں ۳ چیزوں کے ذریعے فضیلت
شب جمعہ کا درود حضرت معاویہ
جمعہ مبارک | مفتی عسجد رضا
خوش نصیب ہے جو جمعہ کا خیال
جمعہ مبارک | ارشادات امام جعفر
اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر
بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب
رزق کے ¹⁰ حصے | ¹حصہ تاجر کو
نبی کے عشق کو سب کچھ ...
علماء کرام کے انتشار کی وجہ
❤1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
❤1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
#فیضان_محدث_اعظم_ہند https://t.me/islaamic_Knowledge/25097 شاگرد و خلیفہ اعلی حضرت، محدثِ اعظم ہند، علامہ سید محمد کچھوچھوی عليه الرحمه کی ولادت 15 ذوالقعدہ 1311ھ مطابق 1894ء جائس، ضلع رائے، بریلی میں ہوئی۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو آسمانِ علم کا ایسا…
شاگرد و خلیفہ اعلیٰ حضرت
حضور محدثِاعظمہند، حضرت
عـلامـہ سید محمد کچھوچھوی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یوم ولادت ¹⁵ ذوالقعدہ 1311ھ
وصال ¹⁶رجب المرجب 1381ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تصنیفات محدث اعظم ہند 📚
Books of Muhaddise Aazam
❶ مسئلہ قیام و سلام اور محفل میلاد
✍ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12683
❷ روداد مناظرہ گھوسی
مناظرہ سنی و وہابیہ 1351 ھ
✍مناظر اہلسنت محدث اعظم ہند
📝 غلام محمد محی الدین بلیاوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12686
❸ نماز جنازہ کے بعد دعا کا حکم
✍ حضور محدث اعظم ہند
📝 مولانا طفیل احمد مصباحی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12690
❹ تجلیات محدث اعظم ہند
✍ سید محمد کچھوچھوی
📇 ڈاکٹر سید مظاہر اشرف
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12694
❺ نماز جنازہ کے بعد دعا کا حکم
✍ حضور محدث اعظم ہند
📝 مولانا طفیل احمد مصباحی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12690
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوانح حیات محدث اعظم ہند
Hayate Muhaddise Aazam
❶ حیات محدث اعظم ہند
✍ ڈاکٹر سید مظاہر اشرف
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12677
❷ حیات محدث اعظم ہند 📖
✍ مولانا ذاکر حسین صاحب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12679
❸ قصیدۂ معراج ایک جائزہ 📖
✍ ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12688
❹محدث اعظم ہند کچھوچھوی
اور تحریک پاکستان
✍ محمد اعظم نورانی صاحب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12692
حضور محدثِاعظمہند، حضرت
عـلامـہ سید محمد کچھوچھوی
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
یوم ولادت ¹⁵ ذوالقعدہ 1311ھ
وصال ¹⁶رجب المرجب 1381ھ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
تصنیفات محدث اعظم ہند 📚
Books of Muhaddise Aazam
❶ مسئلہ قیام و سلام اور محفل میلاد
✍ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھہ
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12683
❷ روداد مناظرہ گھوسی
مناظرہ سنی و وہابیہ 1351 ھ
✍مناظر اہلسنت محدث اعظم ہند
📝 غلام محمد محی الدین بلیاوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12686
❸ نماز جنازہ کے بعد دعا کا حکم
✍ حضور محدث اعظم ہند
📝 مولانا طفیل احمد مصباحی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12690
❹ تجلیات محدث اعظم ہند
✍ سید محمد کچھوچھوی
📇 ڈاکٹر سید مظاہر اشرف
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12694
❺ نماز جنازہ کے بعد دعا کا حکم
✍ حضور محدث اعظم ہند
📝 مولانا طفیل احمد مصباحی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12690
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
سوانح حیات محدث اعظم ہند
Hayate Muhaddise Aazam
❶ حیات محدث اعظم ہند
✍ ڈاکٹر سید مظاہر اشرف
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12677
❷ حیات محدث اعظم ہند 📖
✍ مولانا ذاکر حسین صاحب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12679
❸ قصیدۂ معراج ایک جائزہ 📖
✍ ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12688
❹محدث اعظم ہند کچھوچھوی
اور تحریک پاکستان
✍ محمد اعظم نورانی صاحب
https://t.me/Maslake_Aalaa_Hazrat/12692
❤1
محدث اعظم ہند
حضرت مولانا شاہ
*سید محمد کچھوچھوی*
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
✒️ اسمِ گرامی:
محدثِ اعظم کا اسم ِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
📆 تاریخ ومقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذوالقعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے، بریلی میں ہوئی۔
🎓 تحصیلِ علم:
محدث ِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم وفنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نےاستفادہ کیا۔
📿 بیعت وخلافت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہوکر تکمیلِ سلوک کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کردی۔
🪔 سیرت وخصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد وتقوی ٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے۔آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا،
تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے،
لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی،
خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا،
درجنوں کتابیں تالیف کیں،
چار بار حج وزیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم وناثر بھی تھے،
مجموعۂ کلام" فرش پر عرش" طبع ہوچکی ہے۔
آپ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: "شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو"
تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا۔
چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی وتعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہوجا۔
علمائے اہلسنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے۔
آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے۔
جماعت رضا ئےمصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے۔
اہلسنت کی نشراشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد جہد سے کام لیا ،سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا۔
آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر وتحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا۔
🪦تاریخِ وصال:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ/بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا۔
📚ماخذ ومراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
Copyright © Zia-e-Taiba
*ایصال ثواب کا اہتمام کیجئے*
حضرت مولانا شاہ
*سید محمد کچھوچھوی*
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
✒️ اسمِ گرامی:
محدثِ اعظم کا اسم ِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا۔ (رحمۃ اللہ علیہما)
📆 تاریخ ومقامِ ولادت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 15 ذوالقعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے، بریلی میں ہوئی۔
🎓 تحصیلِ علم:
محدث ِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم وفنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نےاستفادہ کیا۔
📿 بیعت وخلافت:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللہ علیہ سے مرید ہوکر تکمیلِ سلوک کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کردی۔
🪔 سیرت وخصائص:
محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ علم و عمل کے پیکر ، باکرامت ولی ، شیخِ کامل اور زہد وتقوی ٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے۔آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا،
تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے،
لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی،
خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا،
درجنوں کتابیں تالیف کیں،
چار بار حج وزیارت سے مشرف ہوئے ۔
آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم وناثر بھی تھے،
مجموعۂ کلام" فرش پر عرش" طبع ہوچکی ہے۔
آپ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا: "شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو"
تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا۔
چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی وتعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہوجا۔
علمائے اہلسنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے۔
آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے۔
جماعت رضا ئےمصطفیٰ بریلی کے تاوقتِ وفات صدرِ اعلی رہے۔
اہلسنت کی نشراشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد جہد سے کام لیا ،سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا۔
آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر وتحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا۔
🪦تاریخِ وصال:
محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383 ھ/بمطابق دسمبر 1963 ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا۔
📚ماخذ ومراجع:
تذکرۂ علماء اہلسنت
Read more at:
https://scholars.pk/ur/scholar/hazrat-muhaddith-e-azam-syed-muhammad-kachochavi
Copyright © Zia-e-Taiba
*ایصال ثواب کا اہتمام کیجئے*
❤1
عورت کا بائک، موٹر سائیکل
چلانا عند الشرع کیسا ہے؟
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں عورتوں کا بائک چلانا جائز ہے؟ کیا ان صورتوں میں اگر شوہر گھر پہ نہ ہو تو عورت بائک سے اپنے بچوں کو اسکول سے گھر لاسکتی ہے؟ اور گھر کی دوسری ضروری چیزوں کے لیے بھی بحوالہ جواب عنایت فرمائے۔
سـائل : محمد اسامہ رضا واسطی نیپال
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
جواب:
صورت مسئولہ میں یہ جواب ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا، اور زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق بے پردگی کے ساتھ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور گھومنے پھرنے سے منع کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے۔‘‘اس لیے عام حالات میں بلا ضرورت عورت کا گھر سے نکلنا اور گاڑی چلانا درست نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ ماحول میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے اور گاڑی چلانے میں بہت سے مفاسد وخرابیاں اور احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، فقہائے کرام نے شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیے (جب کہ ضرورت ایسی ہو کہ بغیر باہر نکلے مصیبت ٹلنے یا کام پورا ہونے کی کوئی سبیل نہ ہو) عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن وہ بھی اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ عورت مکمل پردہ وبرقع کی حالت میں ہو، اور برقع بھی ایسا ہو جو پورے بدن کو چھپاتا ہو، دیدہ زیب ونقش ونگار والا، زرق برق، نظروں کو خِیرہ کردینے والا نہ ہو۔
🎗نیز جس طرح مردوں کو حکم ہے کہ وہ عورتوں اور غیر محرم پر نظر نہ ڈالیں، اسی طرح عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ غیر محرم مردوں پر نظر نہ ڈالیں، جب کہ گاڑی چلاتے وقت ہر طرح کے (یعنی جوان اور بڑی عمر کے) مردوں پر نظر پڑنا لازمی امر ہے، اس سے بچنا ممکن نہیں ہے اور یہ فتنہ کا باعث ہو سکتا ہے، نیز جب کوئی عورت اور نوجوان لڑکی گاڑی چلاتی ہے، تو مردوں کی نگاہیں اس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں، اور یہ بھی فتنہ کا باعث ہے، اس لیے بلا ضرورت عورتوں کا شوقیہ گاڑی چلانا جائز نہیں ہے۔
🎗خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لیے شدید ضرورت کی بنا پر اور کوئی شرعی محذور نہ پائے جانے کی صورت میں پردہ کے پورے اہتمام کے ساتھ یعنی برقعہ پہن کر چہرہ چھپا کر تو گاڑی چلانے کی اجازت ہے، لیکن بلاضرورت یا بے پردگی کے ساتھ نہ تو باہر نکلنا جائز ہوگا اور نہ ہی گاڑی چلانا جائز ہوگا۔
📖قرآن کریم میں ہے:👇🏻
🎗{ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 33]
🎗اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکاۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔ (بیان القرآن)
🎗’’ أحکام القرآن للفقیہ المفسر العلامۃ محمد شفیع رحمہ اللّٰہ ‘‘ میں ہے:
"قال تعالی : {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی} [الأحزاب :۳۳]فدلت الآیة علی أن الأصل في حقھن الحجاب بالبیوت والقرار بھا ، ولکن یستثنی منہ مواضع الضرورتہ فیکتفی فیھا الحجاب بالبراقع والجلابیت ــــــ فعلم أن حکم الآیتہ قرارھن فی البیوت الا لمواضع الضرورتہ الدینیتہ کالحج والعمرتہ بالنص ، أو الدنیویتہ کعیادتہ قرابتھا وزیارتہم أو احتیاج الی النفقتہ وأًمثالھا بالقیاس ، نعم! لاتخرج عند الضرورتہ أیضاً متبرجتہ بزینتہ تبرج الجاھلیتہ الأ ولی ، بل فی ثیاب بذلتہ متسترتہ بالبرقع أو الجلباب ، غیر متعطرتہ ولا متزا حمتہ فی جموع الرجال، فلا یجوز لھن الخروج من بیوتھن الا عند الضرورتہ بقدر الضرورتہ مع اھتمام التستر والا حتجاب کل الا ھتمام ـ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع "ـ (۳/۳۱۷ ـ ۳۱۹)
📑حدیث شریف میں ہے۔👇🏻
عن أبی أحوص عن عبد اللہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال: " المرأتہ عورتہ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان "
( سنن الترمذی [۱/۲۲۱]، رقم الحدیث: ۱۱۷۳)
📑حدیث شریف میں ہے:👇
(صحیح مسلم (۱۰۲۱/۲)
ان المرأتہ تقبل فی صورتہ شیطان ، وتدبر فی صورتہ شیطان، فاذا أبصر أحدکم امرأتہ فلیأت أھلہ فان ذلک یرد مافی نفسہ ـ
کنز العمال " میں ہے:👇🏻
عن ابن عمرمرفوعا لیس للنساء نصیب فی الخروج الا مضطرتہ "ـ
(📙👈 ۱۶/۳۹۱، الفصل الأول فی الترھیبات)
(📚👈 الدرالمختار وحاشیتہ ابن عابدین (ردالمختار) (۱۴۶/۳)
🗂وحیث أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینتہ فی الکل ، وتغییر الھیئتہ الی مالا یکون داعیتہ الی نظر الرجال واستمالتھم "-
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/4474
واللہ تعالیٰ اعلم ﷻ
✍🏻مولانا مشاہد رضا قادری رضوی
رابطہ📱نمبر +917311172696
چلانا عند الشرع کیسا ہے؟
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں عورتوں کا بائک چلانا جائز ہے؟ کیا ان صورتوں میں اگر شوہر گھر پہ نہ ہو تو عورت بائک سے اپنے بچوں کو اسکول سے گھر لاسکتی ہے؟ اور گھر کی دوسری ضروری چیزوں کے لیے بھی بحوالہ جواب عنایت فرمائے۔
سـائل : محمد اسامہ رضا واسطی نیپال
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
جواب:
صورت مسئولہ میں یہ جواب ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا، اور زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق بے پردگی کے ساتھ اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے اور گھومنے پھرنے سے منع کیا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تانک جھانک میں لگ جاتا ہے۔‘‘اس لیے عام حالات میں بلا ضرورت عورت کا گھر سے نکلنا اور گاڑی چلانا درست نہیں ہے، خاص طور پر موجودہ ماحول میں عورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے اور گاڑی چلانے میں بہت سے مفاسد وخرابیاں اور احکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی لازم آتی ہے، فقہائے کرام نے شرعی وطبعی ضرورتوں کے لیے (جب کہ ضرورت ایسی ہو کہ بغیر باہر نکلے مصیبت ٹلنے یا کام پورا ہونے کی کوئی سبیل نہ ہو) عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے، لیکن وہ بھی اس شرط کے ساتھ مقید ہے کہ عورت مکمل پردہ وبرقع کی حالت میں ہو، اور برقع بھی ایسا ہو جو پورے بدن کو چھپاتا ہو، دیدہ زیب ونقش ونگار والا، زرق برق، نظروں کو خِیرہ کردینے والا نہ ہو۔
🎗نیز جس طرح مردوں کو حکم ہے کہ وہ عورتوں اور غیر محرم پر نظر نہ ڈالیں، اسی طرح عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ غیر محرم مردوں پر نظر نہ ڈالیں، جب کہ گاڑی چلاتے وقت ہر طرح کے (یعنی جوان اور بڑی عمر کے) مردوں پر نظر پڑنا لازمی امر ہے، اس سے بچنا ممکن نہیں ہے اور یہ فتنہ کا باعث ہو سکتا ہے، نیز جب کوئی عورت اور نوجوان لڑکی گاڑی چلاتی ہے، تو مردوں کی نگاہیں اس کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہیں، اور یہ بھی فتنہ کا باعث ہے، اس لیے بلا ضرورت عورتوں کا شوقیہ گاڑی چلانا جائز نہیں ہے۔
🎗خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کے لیے شدید ضرورت کی بنا پر اور کوئی شرعی محذور نہ پائے جانے کی صورت میں پردہ کے پورے اہتمام کے ساتھ یعنی برقعہ پہن کر چہرہ چھپا کر تو گاڑی چلانے کی اجازت ہے، لیکن بلاضرورت یا بے پردگی کے ساتھ نہ تو باہر نکلنا جائز ہوگا اور نہ ہی گاڑی چلانا جائز ہوگا۔
📖قرآن کریم میں ہے:👇🏻
🎗{ وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} [الأحزاب: 33]
🎗اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانہ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکاۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسول (علیہ السلام) کا کہنا مانو ۔ (بیان القرآن)
🎗’’ أحکام القرآن للفقیہ المفسر العلامۃ محمد شفیع رحمہ اللّٰہ ‘‘ میں ہے:
"قال تعالی : {وقرن في بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولی} [الأحزاب :۳۳]فدلت الآیة علی أن الأصل في حقھن الحجاب بالبیوت والقرار بھا ، ولکن یستثنی منہ مواضع الضرورتہ فیکتفی فیھا الحجاب بالبراقع والجلابیت ــــــ فعلم أن حکم الآیتہ قرارھن فی البیوت الا لمواضع الضرورتہ الدینیتہ کالحج والعمرتہ بالنص ، أو الدنیویتہ کعیادتہ قرابتھا وزیارتہم أو احتیاج الی النفقتہ وأًمثالھا بالقیاس ، نعم! لاتخرج عند الضرورتہ أیضاً متبرجتہ بزینتہ تبرج الجاھلیتہ الأ ولی ، بل فی ثیاب بذلتہ متسترتہ بالبرقع أو الجلباب ، غیر متعطرتہ ولا متزا حمتہ فی جموع الرجال، فلا یجوز لھن الخروج من بیوتھن الا عند الضرورتہ بقدر الضرورتہ مع اھتمام التستر والا حتجاب کل الا ھتمام ـ وما سوی ذلک فمحظور ممنوع "ـ (۳/۳۱۷ ـ ۳۱۹)
📑حدیث شریف میں ہے۔👇🏻
عن أبی أحوص عن عبد اللہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال: " المرأتہ عورتہ فاذا خرجت استشرفھا الشیطان "
( سنن الترمذی [۱/۲۲۱]، رقم الحدیث: ۱۱۷۳)
📑حدیث شریف میں ہے:👇
(صحیح مسلم (۱۰۲۱/۲)
ان المرأتہ تقبل فی صورتہ شیطان ، وتدبر فی صورتہ شیطان، فاذا أبصر أحدکم امرأتہ فلیأت أھلہ فان ذلک یرد مافی نفسہ ـ
کنز العمال " میں ہے:👇🏻
عن ابن عمرمرفوعا لیس للنساء نصیب فی الخروج الا مضطرتہ "ـ
(📙👈 ۱۶/۳۹۱، الفصل الأول فی الترھیبات)
(📚👈 الدرالمختار وحاشیتہ ابن عابدین (ردالمختار) (۱۴۶/۳)
🗂وحیث أبحنا لھا الخروج فبشرط عدم الزینتہ فی الکل ، وتغییر الھیئتہ الی مالا یکون داعیتہ الی نظر الرجال واستمالتھم "-
https://t.me/Faizan_E_DarulUloom_Amjadia_Ngp/4474
واللہ تعالیٰ اعلم ﷻ
✍🏻مولانا مشاہد رضا قادری رضوی
رابطہ📱نمبر +917311172696
❤2
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
16-07-1443ᴴ 🗓 18-02-2022ᴱ
17-07-1443ᴴ 🗓 19-02-2022ᴱ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت
نہ نقصان دو نہ ہی نقصان اٹھاؤ
کیا کھلا ہوا قرآن شیطان پڑھتا ہے؟
مرد کو کون سی انگوٹھی پہننا...
تاج الفحول شاہ عبد القادر بدایونی
مفتی مالکیہ شیخ عابد بن حسین
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
پہلوان وہ ہے جو غصے کی حالت
نہ نقصان دو نہ ہی نقصان اٹھاؤ
کیا کھلا ہوا قرآن شیطان پڑھتا ہے؟
مرد کو کون سی انگوٹھی پہننا...
تاج الفحول شاہ عبد القادر بدایونی
مفتی مالکیہ شیخ عابد بن حسین
❤1