🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
(مزید تفصیل کے لئے جلال العیون ص 248، کشف الغمہ ص 215، 222، احتجاج طبرسی ص 205 دیکھیں) ۔ (کشف الغمہ جلد 2 صفحہ 373 شیعہ عالم)

صافی شرح اصول کافی ص 214 پر امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا گیا ہےکہ : ومادرش ام فروہ اسماء دخت قاسم بن محمد بن ابی بکر بود ومادرام فروہ اسماء دختر عبدالرحمٰن بن ابی بکر بود ۔
ترجمہ : حضرت امام جعفر رضی اللہ عنہ کی والدہ ام فروہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پڑ پوتی (پوتے کی بیٹی) تھیں اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی نانی حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پوتی تھیں ۔

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : برئ اللہ ممن تبرأ من أبی بکر و عمر ۔
ترجمہ : اللہ اس شخص سے بَری ہے جو شخص ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) سے بَری ہے ۔ (فضائل صحابۃ امام احمد بن حنبل علیہ الرّحمہ ۱؍۱۶۰ ح ۱۴۳)

امام ابو جعفر محمد بن علی بن حسین باقر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے فرمایا : من جھل فضل أبی بکر و عمر رضی اللہ عنھما فقد جھل السنۃ ۔
ترجمہ : جس شخص کو ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل معلوم نہیں ہیں وہ شخص سنت سے جاہل ہے ۔ (کتاب الشریعۃ للآجری صفحہ نمبر ۸۵۱ حدیث نمبر ۸۰۳،چشتی)

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللھم إنی أحب أبا بکر و عمر و أتو لاھما ، اللھم إن کان لی خلاف ھذا فلا نالتنی شفاعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یوم القیامۃ ۔
ترجمہ : اے اللہ میں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں ، میں انہیں اپنا ولی مانتا ہوں ۔ اے اللہ ۱گر مجھ میں (یعنی میرے دل میں) اس کے خلاف کوئی بات ہو تٍو قیامت کے دن مجھے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی شفاعت نصیب نہ ہو ۔ (السنۃ للالکائی حدیث نمبر ۲۴۶۶)

آپ رضی اللہ عنہ کا وصال 15 رَجَبُ الْمُرَجَّب 148 ہجری کو 68 سال کی عمر میں ہوا اور تدفین جَنَّتُ الْبَقِیْع آپ کے دادا امام زین العابدین اور والد امام محمد باقِر رضی اللہ عنہما کی قبورِ مبارَکہ کے پاس ہوئی ۔

(الثقات لابن حبان جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 251) (وفیات الاعیان جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 168) ۔

(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)
1
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا :

جودوسروں کی پردہ دری کرے گا ، اس کے گھر کے راز بھی فاش ہوجائیں گے ۔

( وفیات الاعیان وابناء ابناءالزمان لابن خلکان ، ترجمۃ جعفرالصادق ، ج1 ، ص435 ، ر 34 ، ط دار صادر بیروت )

امام صادق کا فرمان بلکہ مبنی برصدق ہے ، واقعی دوسروں کی عزتیں نیلام کرنے والوں کی اپنی عزتوں کے بھی جنازے نکل جاتے‌ہیں ۔

اللہ کریم ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں دوسروں کی پردہ پوشی کرنے والا بنائے ۔

لقمان شاہد
17-2-2022 ء

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=3383914878555344&id=100008105947430
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
📚 « مختصــر ســوانح حیــات » 📚
-----------------------------------------------------------
🕯 محدث اعظم ہند حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللّٰه علیہ🕯


اسمِ گرامی: محدثِ اعظم کا اسمِ گرامی سید محمد اور آپ کے والد ماجد کا نام حکیم نذر اشرف تھا۔
(رحمۃ اللّٰه علیہما)

تاریخ و مقامِ ولادت: محدثِ اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ کی ولادت 15 ذو القعدہ 1311ھ کو جائس، ضلع رائے بریلی میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: محدثِ اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی، والدِ ماجد کے بعد جب مختلف اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کرتے کرتے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کی بارگاہ میں پہنچے تو امامِ اہلسنت نے محدثِ اعظم کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا۔

بیعت و خلافت: محدثِ اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ نے اپنے نانا شیخ الاصفیاء، محبوبِ ربانی، قطبِ عالم شاہ علی حسین اشرفی رحمۃ اللّٰه علیہ کے ایماء مبارکہ سے اپنے ماموں ملک العلماء، عارفِ ربانی مولانا شاہ احمد رحمۃ اللّٰه علیہ سے مرید ہوکر تکمیلِ سلوک کیا۔
اس کے بعد اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰه علیہ نے آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت بھی عطا کردی۔

سیرت و خصائص: محدثِ اعظم، وحید العصر، شمس الافاضل، قدوۃ العلماء الراسخین، حضرت مولانا شاہ سید محمد کچھوچھوی رحمۃ اللّٰه علیہ، علم و عمل کے پیکر، باکرامت ولی، شیخِ کامل اور زہد و تقویٰ کے حامل شخص اور صفاتِ حمیدہ کے جامع تھے۔ آپ نے اپنے فیض سے ایک عالم کو مستفیض کیا، تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، خطابت میں خاص اثر تھا مجمع پر سکوت رہتا، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔ آپ اعلیٰ درجہ کے ناظم و ناثر بھی تھے، مجموعۂ کلام " فرش پر عرش" طبع ہو چکی ہے۔ آپ نے قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی کیا تھا اس ترجمہ کے ابتدائی حصہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد بطورِ تحسین امام اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان نے آپ سے فرمایا:
"شاہزادے اردو میں قرآن لکھ رہے ہو"
تدبر اور اصابتِ رائے وصفِ خاص تھا۔ چھوٹے سے چھوٹے کی اتنی دلجوئی و تعریف کرتے کہ وہ خوش فہمی میں مبتلا ہوجائے۔ علمائے اہلسنت کے درمیان اتحاد کے علمبردار تھے۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے اجلاس بنارس کے موقع پر بالاتفاق صدر عمومی مقرر کئے گئے۔ جماعت رضائے مصطفیٰ بریلی کے تا وقتِ وفات صدرِ اعلیٰ رہے۔ اہلسنت کی نشر اشاعت میں آپ نے اپنے اکابرین کی طرح بہت جد جہد سے کام لیا ،سنیت کا درد ہمیشہ آپ کے مبارک سینے میں موجزن رہتا۔آپ نے ہر طرح باطل کا مقابلہ کیا اور اپنی تقریر وتحریر کے ذریعہ امتِ مسلمہ کے عقائد کو بگاڑ سے بچایا۔

تاریخِ وصال: محدثِ اعظم رحمۃ اللّٰه علیہ کا وصال 17 رجب المرجب 1383ھ/بمطابق دسمبر 1963ء کو بمقام لکھنؤ میں ہوا۔

ماخذ و مراجع: تذکرۂ علماء اہلسنت۔


المرتب محـمد یـوسـف رضـا رضـوی امجـدی نائب مدیر "فیضـانِ دارالعـلوم امجـدیہ ناگپور گروپ" 9604397443
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
شاگرد و خلیفہ اعلی حضرت، محدثِ اعظم ہند، علامہ سید محمد کچھوچھوی عليه الرحمه کی ولادت 15 ذوالقعدہ 1311ھ مطابق 1894ء جائس، ضلع رائے، بریلی میں ہوئی۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا۔ تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔ 16 رجب المرجب 1381ھ بمطابق 25 دسمبر 1961ء کو وصال فرمایا۔ مزار اقدس کچھوچھہ شریف، ہند میں واقع ہے۔

Student and Caliph of AlaHazrat, Muhaddis-e-Azam Hind, Allamah Sayyid Muhammad Kichhauchhawi (Alayhir Rahmah) was born in Jais, Raebareli district on 15th Zul Qa’dah 1311 AH (1894 CE). AlaHazrat (Alayhir Rahmah) made him a shining star of the sky of the sacred knowledge. A huge number of people benefited from him. He has been attributed bringing over 5000 non-believers into the folds of Islam, and spiritually inspiring countless more Muslims. He wrote a number of books and was blessed four times with the Hajj and Ziyarah. He passed away on 16th Rajab al-Murajjab 1381 AH (25th December 1961 CE). His Mazar Sharif is located in Kichhauchha Sharif, U.P., India.

https://www.facebook.com/286386582084187/posts/989079545148217/
1
#فیضان_محدث_اعظم_ہند
https://t.me/islaamic_Knowledge/25097
شاگرد و خلیفہ اعلی حضرت، محدثِ اعظم ہند، علامہ سید محمد کچھوچھوی عليه الرحمه کی ولادت 15 ذوالقعدہ 1311ھ مطابق 1894ء جائس، ضلع رائے، بریلی میں ہوئی۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے آپ کو آسمانِ علم کا ایسا درخشاں ستارہ بنایا کہ جس کی چمک سے کثیر لوگوں نے استفادہ کیا۔ تقریباً پانچ ہزار غیر مسلم آپ کے دستِ مبارکہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے، لاکھوں افراد نے آپ کی بیعت کی، درجنوں کتابیں تالیف کیں، چار بار حج و زیارت سے مشرف ہوئے۔ 16 رجب المرجب 1381ھ بمطابق 25 دسمبر 1961ء کو وصال فرمایا۔ مزار اقدس کچھوچھہ شریف، ہند میں واقع ہے۔
https://www.facebook.com/286386582084187/posts/989079545148217/
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1