🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
2.86K subscribers
69.6K photos
227 videos
257 files
8.82K links
یہاں روزانہ اسلامی تاریخ اور بزرگانِ دین و علمائے ربانیین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات اور دینی باتیں (فوٹو،پوسٹ) تاریخ اور مہینے کی مناسبت سے مع کتابوں کی لِنکس بھیجی جاتی ہیں
طالب دعا 🤲
محمد جمال الدین خان قادری رضوی عفی عنہ
🆔 @Muhammad_Jamaluddin_Khan
Download Telegram
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_امام_جعفر_صادق
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کونڈے کی نیاز کب کی جائے ؟
نیاز اسی گھر میں کھانا ضروری؟
کونڈے کیا ہیں Koonde ᴷʸᵃ ᴴᵃⁱⁿ
صحابہ کرام کا ایصال ثواب کرنا
مختلف کہانیاں پڑھنا کیسا ہے ؟
ماہ رجب اور خرافات = کہانی
Koonde Ki Niyaz 15 Rajab Ko
कूँडे की नियाज़ 15 रजब को करें!
کونڈے کی فاتحہ 🤲 بہار شریعت
کونڈے کی نیاز ۱۵ رجب کو کریں!
1
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
👍1
🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹
Photo
#فیضان_امام_جعفر_صادق
حضرت سیدنا امام جعفر صادق
رَضِیَ الـلّٰـهُ تَبَارَڪَ وَ تَعَالیٰ عَـنۡـهٗ
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
کونڈے کی نیاز ۱۵ رجب کو کریں!
कूँडे की नियाज़ 15 रजब को करें!
1
Forwarded from 🌹 اسلامی معلومات عامہ 🌹 (محمد جمال الدين خان قادری)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
1
حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ
https://www.facebook.com/100024020582996/posts/1137629963714346/
محترم قارئینِ کرام : ماہِ رجب کو کئی بزرگانِ دین سے نِسبت حاصل ہے ، اِنہی میں سے ایک ہستی ایسی بھی ہے جس نے بھٹکے ہوؤں کو راہ دکھائی ، حُسْنِ اَخلاق کی چاشنی سے بداَخْلاقی کی کڑواہٹ دور کی ، عمدہ کِردار کی خوشبو سے پریشان حالوں کی داد رَسی فرمائی اور عِلم کے نور سے جَہالت کی تاریکی کا خاتمہ فرمایاوہ عظیمُ المَرتَبَت شخصیت حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہیں ۔

آپ کا نام ”جعفر“ اور کُنیّت ”ابو عبداللہ“ ہے ۔ آپ کی ولادت 80 ہجری میں ہوئی ، آپ کے دادا شہزاد ۂ امام حسین حضرت سیّدناامام زَیْنُ الْعَابِدِین علی اَوسط اور والد امام محمد باقِر ہیں جبکہ والدہ حضرت سیّدتنا اُمِّ فَرْوَہ بنتِ قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق ہیں رضی اللہ عنہم اَجْمَعِیْن ۔ یوں والد کی جانب سے آپ ”حسینی سَیِّد“ اوروالدہ کی جانب سے”صدیقی“ ہیں ۔ سچ گوئی کی وجہ سےآپ کو ”صادِق کے لقب سے جانا جاتا ہے ۔ (سیر اعلام النبلا جلد 6 صفحہ 438)

حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا نام جعفر ، کنیت ابو عبد اللہ اور لقب صادق تھا ۔ آپ امام محمد باقر رضی اللہ عنہ کے بیٹے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کے پوتے اور شہید کربلا سید الشہداء حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے تھے ۔

آپ کی والدہ ام فروہ محمد ابن ابو بکر کی پوتی تھیں جن کے والد قاسم ابن محمد مدینہ کے سات فقہاء میں سے تھے ۔ آپ خود فرمایا کرتے ولدنی ابوبکر مرتین یعنی میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے دو مرتبہ پیدا ہوا ۔

آپ نےمدینۂ مُنَوَّرہ کی مشکبار عِلمی فضا میں آنکھ کھولی اور اپنے والدِ گرامی حضرت سیّدنا امام ابوجعفر محمد باقِر ، حضرت سیّدنا عُبَيۡد الله بن ابی رافع ، نواسۂ صدیقِ اکبر حضرت سیّدنا عُروہ بن زُبَير ، حضرت سیّدنا عطاء اور حضرت سیّدنا نافع رضی اللہ عنہم کے چَشْمۂ عِلْم سے سیراب ہوئے ۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد 1 صفحہ 126، چشتی)

دو جَلیلُ القدر صحابۂ کِرام حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک اور حضرت سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کی زیارت سے مُشَرَّف ہونے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ تابعی ہیں ۔ (سیر اعلام النبلا جلد 6 صفحہ 438)

کتاب کی تصنیف سے زیادہ مشکل افراد کی علمی ، اَخلاقی اور شخصی تعمیر ہے اور اُستاد کا اِس میں سب سے زیادہ بُنیادی کِردار ہوتا ہے ۔ حضرت سیّدنا امام جعفر صادِق رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رَہ کر کئی تَلامِذہ (شاگرد) اُمّت کےلیے مَنارۂ نور بنے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے عِلمی فیضان سے فیض یاب ہونے والوں میں آپ کے فرزند امام موسیٰ کاظم ، امامِ اعظم ابو حنیفہ ، امام مالک ، حضرت سفیان ثَوری ، حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ رضی اللہ عنہم کے نام سرِفَہرِست ہیں ۔ (تذکرۃ الحفاظ جلد 1 صفحہ 125، چشتی) (سیر اعلام النبلا جلد 6 صفحہ 439)

خوش اَخلاقی آپ رضی اللہ عنہ کی طبیعت کا حصہ تھی جس کی وجہ سے مبارک لبوں پر مسکراہٹ سجی رہتی مگر جب کبھی ذکرِ مصطفےٰ ہوتا تو نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہیبت و تعظیم کے سبب رنگ زَرد ہو جاتا ، کبھی بھی بے وضو حدیث بیان نہ فرماتے ، نماز اور تلاوت میں مشغول رہتے یا خاموش رہتے ، آپ کی گفتگو ”فضول گوئی“ سے پاک ہوتی ۔ (الشفا مع نسیم الریاض جلد 4 صفحہ 488)

آپ رضی اللہ عنہ کے معمولات ِزندگی سے آباء و اجداد کے اَوصاف جھلکتے تھے ، آپ کے رویّے میں نانا جان نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معاف کر دینے والی کریمانہ شان دیکھنے میں آتی ، گُفتار سے صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی حق گوئی کا اظہار ہوتا اور کردار میں شجاعتِ حیدری نظر آتی ۔

ایک مرتبہ غلام نے ہاتھ دُھلوانے کےلیے پانی ڈالا مگر پانی ہاتھ پر گرنے کے بجائے کپڑوں پر گر گیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے اسے نہ تو جھاڑا ، نہ ہی سزا دی بلکہ اسے معاف کیا اور شفقت فرماتے ہوئے اسے آزاد بھی کردیا ۔ (بحر الدموع صفحہ 202،چشتی)

حضر ت سیدنا مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ کا نسب صوری اور نسب معنوی صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس واسطے آپ نے فرمایا ہے کہ علم باطن میں آپ کا انتساب اپنے نانا قاسم بن محمد بن ابوبکر سے ہے ۔ (تذکرہ مشائخ نقشبندیہ)

امام علی زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے دادا ہیں ۔ نیز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تبع تابعین میں سے ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ اکابرین امت اما اعظم ابوحنیفہ ، امام مالک ، حضرت سفیان ثوری، سفیان بن عینیہ رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں ۔
1